|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تحریر کے پہلے حصے میں ہم نے ان چار معاملات کا ذکر کیا تھا جن میں مسلمانوں کے ہاں شرکیہ رسوم و آداب در آئے ہیں:
· اللہ تعالی کی بجائے کسی اور سے عبد و معبود کا تعلق · ختم نبوت کی عملی تردید · دیومالا کی تخلیق · مراسم عبودیت کی تخلیق ان کی تفصیل یہ ہے۔ اللہ تعالی کی بجائے کسی اور سے عبد و معبود کا تعلق ہمارے ہاں اللہ تعالی سے محبت، اس سے تعلق، اس کے آگے گڑگڑانا، اسی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہنا اور اسی سے مدد مانگنے کا سلسلہ اب اس قدر مضبوط نہیں رہا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔ بعض لوگ اللہ تعالی کی بجائے کچھ اور ہستیوں کی محبت کو عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالی سے محبت کی ایک محفل منعقد کی جاتی ہے تو دیگر ہستیوں سے محبت اور تعلق پیدا کرنے کی دس محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالی کے آگے رونے، گڑگڑانے اور اپنے گناہوں کی معافی چاہنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن بعض لوگ اس سلسلے کو دیگر ہستیوں کے ساتھ بھی شروع کر چکے ہیں۔ اللہ تعالی سے مدد مانگنے کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ہستیوں کو خدا کا برگزیدہ مان کر ان میں مافوق الفطرت قوتیں تسلیم کر لی جاتی ہیں اور پھر ان سے مدد مانگنے اور دعا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ اگر یہ عمل درست ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر دم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مافوق الفطرت طریقے سے مدد مانگا کرتے لیکن حدیث میں ایسا کچھ بھی ہمیں دستیاب نہیں ہے۔ بسا اوقات یہ تصور عام کیا جاتا ہے کہ جیسے بادشاہوں سے عرض و معروض کرنے کے لئے اس کے مصاحبین اور عہدے داروں کے ذریعے سفارش کروائی جاتی ہے، ویسے ہی اللہ تعالی کے حضور بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ یہ مثال بالکل ہی غلط ہے۔ بادشاہ تو محض ایک معمولی سا انسان ہی ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک ہی وقت بھی سینکڑوں لوگوں کی فریاد سن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں عہدے دار مقرر کئے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی کو تو معاذ اللہ یہ کمزوری لاحق نہیں ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ بیک وقت اپنی تمام مخلوق کی فریاد سن سکے۔ اگر اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے یہ معاملہ کرنا دین اسلام کا حصہ ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم خود اس کی تلقین فرمایا کرتے، لیکن ایسی ایک بھی حدیث ہمیں دستیاب نہیں ہے۔ مراسم عبودیت کی تخلیق جس طرح کسی بھی مذہب میں اللہ تعالی یا کسی جھوٹے معبود کی عبادت کرنے کے کچھ مراسم و آداب مقرر ہیں، بالکل اسی طرح ہمارے ہاں اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ تعلق عبودیت کے رسوم و آداب کی پوری شریعت تخلیق کر دی گئی ہے۔ بزرگوں کے مزار پر جانے اور ان سے تعلق قائم کرنے کے آداب، تذکرے کی محافل کے آداب، ان کی خدمت میں نذر و نیاز اور قربانی پیش کرنے کے آداب غرض ایک پوری شریعت ہے، جو خدائی شریعت کے بالکل متوازی (Parallel) تخلیق کر لی گئی ہے۔ دیومالا (Mythology) کی تخلیق ہمارے ہاں بھی دیومالائی داستانوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جس میں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے ساتھ عجیب و غریب اور محیر العقول واقعات منسوب کئے گئے ہیں۔ اگر اس دیومالا کا تقابلی جائزہ یونان اور ہندوستان کی دیومالائی داستانوں سے کیا جائے تو دونوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دیومالا کی تخلیق ایک ہی طرز کے انسانوں نے کی ہے۔ اللہ تعالی کے کسی نیک بندے سے کبھی کوئی محیر العقول واقعہ سرزد ہو سکتا ہے لیکن ایسا تبھی ہوتا ہے جب اللہ چاہے، بندے کے بس کی بات یہ نہیں ہوتی کہ وہ بٹن دبا کر کوئی کرامت دکھا دے لیکن ان واقعات میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ختم نبوت کی عملی تردید اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لئے وحی اپنے مخصوص بندوں پر نازل کی ہے، جنہیں انبیاء کرام کہا جاتا ہے۔ یہ ایک خاص سلسلہ تھا جو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔ اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے 'الہام' کا تصور تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ وحی کا دوسرا ہی نام ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے وحی اور الہام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وحی وہ پیغام ہے جو اللہ تعالی اپنے نبیوں پر نازل کرتا ہے اور الہام وہ پیغام ہے جو غیر نبی نیک بندوں پر نازل کرتا ہے۔ پیروی دونوں کی کرنا لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نظریے کو تسلیم کر لینے کے بعد ختم نبوت کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ نبوت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے، پھر بھی اللہ تعالی کے پیغامات تو اس کے نیک بندوں پر نازل ہو رہے ہیں اور اس نیک بندے کے پیروکار پر ان نیک بندوں کی اطاعت بھی اسی طرح واجب ہے جیسا کہ انبیاء کرام کی ہوا کرتی ہے۔ یہی وہ مرض ہے جس کی طرف قرآن مجید میں سابقہ امتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله (توبہ 9:31) انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اپنا رب بنا لیا تھا اللہ کو چھوڑ کر یہی وہ ذہنی غلامی تھی جس کے نتیجے میں علماء و مشائخ کو خدا کے پیغمبر کا اور پیغمبر کو خود خدا کا درجہ دے دیا گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام شرکیہ تصورات اور افعال سے بچتے ہوئے توحید خالص کو اختیار کریں کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں نجات کا دارومدار توحید خالص پر ہے۔ یہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کرام کی۔ یہی وہ دین ہے جس پر حضور کے صحابہ اور امت کے صالحین نے عمل کیا ہے۔ مبشر نذیر کی ویب سائٹسے لیا گیا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (02-03-10), نورالدین (01-03-10), مسٹر شیف (02-03-10), عبداللہ آدم (01-03-10), عبداللہ حیدر (01-03-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
السلام و علیکم
اللہ مبشر نذیر اور آپ کو دونوں کو جزائے خیر دے مبشر نذیر صاحب جنہوں نے یہ تحقیقی کاوش سر انجام دی اور سمجھنے والوں کے لیے ایک بہترین تحریر تخلیق کی۔۔ اور اللہ آپ کے بھی درجات بلند فرمائے جو اس محنت کوہم تک پہنچانے کی محنت کر رہے ہیں۔ جزاک اللہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا۔ آپ نے توحید کے بنیادی عقیدے پر بہت اچھا مضمون شیئر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور نافع بنائے۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
((((((((دیومالا (Mythology) کی تخلیق
ہمارے ہاں بھی دیومالائی داستانوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جس میں اللہ تعالی کے نیک بندوں کے ساتھ عجیب و غریب اور محیر العقول واقعات منسوب کئے گئے ہیں۔ اگر اس دیومالا کا تقابلی جائزہ یونان اور ہندوستان کی دیومالائی داستانوں سے کیا جائے تو دونوں میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دیومالا کی تخلیق ایک ہی طرز کے انسانوں نے کی ہے۔ اللہ تعالی کے کسی نیک بندے سے کبھی کوئی محیر العقول واقعہ سرزد ہو سکتا ہے لیکن ایسا تبھی ہوتا ہے جب اللہ چاہے، بندے کے بس کی بات یہ نہیں ہوتی کہ وہ بٹن دبا کر کوئی کرامت دکھا دے لیکن ان واقعات میں ایسا ہی ہوتا ہے۔)))))))))) لیکن بھائی جان میری ناقص معلومات کے مطابق ہی تو شرک میں شامل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ وضاحت کریں کہ آپ نے کس زاویے سے اسے یہاں شمار کیا ہے؟؟؟؟ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,790
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,004 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ آدم بھائی میں آپ کی بات سمجھ نہیں پایا
لیکن پھر بھی عرض ہے کے کسی مخلوق کو اگر مافوق الفطرت بنا کر پیش کیا جائے یا اس کے متعلق وہ دعوی کیا جائے جو جو صرف اللہ ہی سے ممکن ہو تو آپ اس کو کیا کہیں گے ؟ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم۔
میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی واقعہ منسوب کر بھی دیا جائے اور بھلے وہ من گھڑت ہی ہو پھر بھی اس کے شرک ہونے کا انحصار اس میں ((چھوڑی گئی)) بات پر ہی ہو گا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مثلا اگر میں یہ کھتا ہوں کہ فلاں بزرگ ہوا میں پرواز کر لیتے تھے یا پانی پر چلتے تھے تو بے شک میں نے دیو مالائی بات کی لیکن یہ شرک نہیں ھو گا۔۔۔۔ میری نظر میں تو نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ سمجھتے ہیں تو دلیل دیں۔ اور ہاں یہ دیو مالا کے صحیح معنی بھی اگر ہو سکے تو بیان کر دیں۔شاید اصل کنفیوژن اس کی وجہ سے ا رہا ھے۔ جزاک اللہ |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (04-03-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, ویب, واقعات, قرآن, لوگ, ممکن, مجید, اللہ, انسان, اسلام, توحید, تحریر, تعلیم, حدیث, ختم نبوت, خدا, دعا, عبادت, غریب, صوفیاء, صلیب, صالحین, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تابوت۔ ۔ ۔ ۔ توبہ توبہ توبہ۔ ۔ ۔ ۔ | پیاسا | دلچسپ اور عجیب | 7 | 10-05-11 05:49 PM |
| شمشی توانائی سے چلنے والا پہلا طیارہ | جاویداسد | سیاسی تصاویر اور ویڈیوز | 7 | 09-07-10 04:16 PM |
| توبہ کا تکلف کون کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | *Hala* | شاعری اور مصوری | 5 | 01-06-09 08:30 PM |