|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ نہیں ہے خُدا
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدْہ، وَ نَستَعِینْہ، وَ نَستَغفِرْہ، وَ نَعَوْذْ بَاللَّہِ مِن شْرْورِ انفْسِنَا وَ مَن سِیَّااتِ اعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہْ فَلا مْضِلَّ لَہْ وَ مَن یْضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہْ ، وَ اشھَدْ ان لا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہْ وَحدَہْ لا شَرِیکَ لَہْ وَ اشھَدْ ان مْحمَداً عَبدہ، وَ رَسْو لْہ، ۔ بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُسکی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُسکا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُسکے رسول ہیں : اللہ کی توحید یعنی واحدانیت میں سے ایک اُسکے ناموں اور صفات کی واحدانیت ہے ، جِسے ''' توحید فی الاسماءِ و الصفات ''' یعنی ''' ناموں اور صفات کی توحید ''' کہا جاتا ہے ، اِس مضمون میں ''' توحید فی الاسماءِ و الصفات ''' یعنی ''' ناموں اور صفات کی توحید ''' کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک گھناؤنی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہ رہا ہوں جِس کا شکار اُردو اور فارسی بولنے والے مسلمان ہو چکے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو کِسی تعصب کاشکار ہوئے بغیر صحیح بات سمجھنے قُبُول کرنے اوراُس پر عمل کرتے ہوئے اُسے نشر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں کے بارے میں حُکم دیتے اور تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا و لِلَّہِ الاسماءَ الحُسنیٰ فادعُوُہُ بھا وَ ذَروا الَّذین یُلحِدُونَ فی اَسمائِہِ سَیجزُونَ مَا کانُوا یَعمَلُونَ "اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں لہذا اللہ کو اُن ناموں سے پکارو اور جو اللہ کے ناموں میں الحاد ( یعنی کج روی ) کرتے ہیں اُنہیں ( اُنکے حال پر) چھوڑ دو ( کیونکہ ) بہت جلد یہ اپنے کئیے (ہوئے اِس الحاد )کی سزا پائیں گے" سورت الاعراف / آیت180 ، اور فرمایا ( رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرضِ وَمَا بَینَہُمَا فَاعبُدہُ وَاصطَبِر لِعِبَادَتِہِ ہَل تَعلَمُ لَہُ سَمِیّاً ) ( آسمانوں کا اور زمیں کا اور جو کچھ اِن کے درمیان میں ہے سب کا پالنے والا ( اللہ ہی ہے ) لہذا تُم (صِرف ) اُس کی ہی عِبادت کرواور اُس کی عِبادت کے لیے صبر اختیار کیئے رہو ، کیا تُم جانتے ہو کہ کوئی اُس کا ہم نام ہے؟ ) سورت مریم / آیت ٦٥ ، یعنی اللہ تعالیٰ کا کوئی ہم نام نہیں ، اور اِسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی ایسا نام نہیں جو اللہ نے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ بتایا ہو ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اللہ کے ناموں کو یاد کرنے اور اُنکے معنیٰ اور مفہوم کو جاننے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ( اِنَّ لِلَّہِ تِسعَ و تِسعُونَ اِئسماً مائۃً اِلَّا واحدۃ مَن احصَاھَا دَخَل الجنَّۃَ ) ( بے شک اللہ کے ننانوے نام ہیں ، ایک کم سو جِس نے ان ناموں کا احاطہ کر لیا ( یعنی اِنکو سمجھ کر یاد کر لیا اور اِن کے مُطابق عمل کیا ) وہ جنّت میں داخل ہو گیا ) صحیح البُخاری حدیث / 2736 ، 7392، اللہ تعالیٰ اپنے اچھے اچھے نام ہونے کی خبر دِی ہے اور اُن ناموں سے پکارنے کا حُکم دیا ہے ، اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے ناموں کوگِن گِن کر بتایا ہے کہیں بھی کوئی عددی (numerical) نام نہیں ہے ، کوئی ''' خُدا '''' نہیں ، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ ''' محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے ''' خُدا ''' ختم کر دئیے ۔ جی ہاں ، ''' خُدا ''' فارسیوں کا باطل معبود تھا ، جیسے ہندوؤں کا بھگوان ، اور فارسیوں میں بھی ہندوؤں کے بہت سے بھگوانوں کی طرح ایک نہیں تین ''' خُدا ''' تھے ، ایک کو وہ ''' خدائے یزداں اور خدائے نُور''' کہا کرتے تھے اور اِس جھوٹے مَن گھڑت معبود کو وہ نیکی کا خُدا مانتے تھے ، دوسرے کو وہ ''' خدائے اہرمن اور خدائے ظُلمات ''' اور اِس جھوٹے مَن گھڑت معبود کو وہ بدی کا خُدامانتے تھے ، اور تیسرے کو ''' خدائے خدایان ''' یعنی دونوں خُداؤں کا خُدا مانتے تھے ۔ آجکل ہمارےادیب اور شاعر حضرات ،بلکہ وہ لوگ جو دینی عالم کہلاتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو علماء کی صفوف میں ہوتے ہیں ، اُنکی تقریروں اور تحریروں میں اللہ کی بجائے ''' خُدا ''' کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ، اور اِس سے زیادہ بڑی غلطی یہ کہ معاملات کا ہونا نہ ہونا ، مرنا جینا ''' مشیتِ اللہ ''' کی بجائے ''' مشیتِ یزداں ''' اور ''' مشیتِ ایزدی ''' کے سپرد کر دیا جاتا ہے ، اور ''' بارگاہِ اللہ ''' کی بجائے ''' بارگاہِ ایزدی ''' میں فریاد کرنے کی تلقین و درس ہوتا ہے، ایک صاحب کی دینی کتاب میں تو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ''' یزداں ''' کی بارگاہ میں دُعا گو دِکھایا گیا ہے ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارتے وقت یا اس کا ذکر کرتے وقت ان ناموں سے یاد کریں جو اس نے قرآن و حدیث میں بتائے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ کے نام کا ترجمہ ہے ''' خُدا ''' تو اُس سے پوچھنا چاہیئے مسلمانوں میں کون ایسا ہو گا جو اللہ کو اللہ کے نام سے نہیں جانتا ، اگر کوئی ہے بھی تو اُسے اللہ کی ذات کی پہچان کروانے کے لیے اُس کے ماحول و معاشرے میں پائے جانے والے معبود کے نام کے ذریعے اللہ کی پہچان کروانی چاہئیے یا اللہ کے نام سے ؟؟؟ اِس فلسفے کے مطابق تو ، ہندوستان کے مسلمانوں کو اجازت ہونا چاہیئے کہ اللہ کو بھگوان کہیں ، اور انگریزی بولنے والے مسلمانوں کو اجازت ہونا چاہیئے کہ وہ اللہ کو (God)کہیں ، اور یہ خُدا سے بھی بڑی مصیبت ہے کیونکہ خُدا کی تو مؤنث نہیں لیکن (God) اور بھگوان کی مؤنث بھی ہوتی ہے ، اگر ترجمے والا فلسفہ درست مانا جائے تو پھر ہر علاقے کے مسلمان کو اپنے علاقے اور زبان میں اُس ہستی کا نام اللہ کے لیے استعمال کرنا درست ہو جائے گا جو اُس کے ہاں معبود یا سب سے بڑے معبود کے طور پر معروف ہے ، پھر اُس مسلمان کا اپنے اکیلے حقیقی اور سچے معبود اللہ کے ساتھ کیا ربط اور تعلق رہا ، اُس کی عبادات اور دُعائیں کہاں جائیں گی ؟؟؟ فاء عتبروا یا اولیٰ الابصار ::: پس عِبرت پکڑو اے عقل والو -------------------------------------- اللہ تو معبودِ حق ہے نہیں ہے وہ خُدا ::: پھر اِسی پر ہی نہیں کِیا اُس قوم نے اِکتفاء اِک اہرمن ، خدائے ظُلمات یعنی خُدا شر والا ::: اللہ ہی خالق ہے خیر اور شر کا اکیلا و تنہا جو کچھ بھی ہوتا ہے ، ہوتا ہے بِمشیتِ اللہ ::: اللہ کو چھوڑ کر گر پُکارا جائے در بارگاہِ یزداں سُن ! بات کِسی اور کی نہیں فرماتا ہے خود اللہ ::: گر پُکارا کِسی اور نام سے تو اللہ نے دِیا حُکم الحاد کا خُدا تو معبودِ باطل تھا اِک قوم کا گَھڑا ہوا ::: اِس اِک کے ساتھ دو اور بھی رکھے تھے بَنا دُوجا خُدائے نُور ، خُدا نیکی کا ، کہتے تھے اُسے یزداں ::: ہے ہر کام اُسکا خیر والا نہیں کرتا کام شر کا کیا ہو گی مشیتِ ایزدی ، جب کہ باطل ہے یزداں ::: کہاں جائے گی ؟ اور کیا قُبُول ہو گی وہ دُعا ہیں اُسکے لیئے نام پیارے پیارے ، الاسما ءَ الحُسنیٰ ::: پس اِنہی ناموں سے عادِل تُو رہ اللہ کو پُکارتا اچھی رنگین واضح نستعلیق لکھائی میں پی ڈی ایف فائل """ یہاں """ سے اتاری جا سکتی ہے ، طلباگارَ دُعا ، عادَل سُہیل ظفر Last edited by عادل سہیل; 02-03-10 at 12:12 AM. |
|
|
|
| 20 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rabab (16-05-10), sahj (03-03-10), فیصل ناصر (02-03-10), فاروق سرورخان (18-10-08), ھارون اعظم (02-03-10), یاسر عمران مرزا (05-05-10), ڈاکٹرنور (02-06-10), نورالدین (10-05-10), محمد عاصم (01-05-10), مسلم بھائی (27-05-10), ام طلحہ (03-03-10), ابن آدم (03-03-10), ابرارحسین (09-05-10), احمد بلال (02-06-10), حیدر Rehan (02-03-10), راجہ صاحب (21-04-09), ضِرار Derar (02-05-10), عامرشہزاد (03-03-10), عبداللہ آدم (02-03-10), عبداللہ حیدر (02-03-10) |
| کمائي نے عادل سہیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 22-04-09 | رضی | شکریہ والا بٹن کیوں نہیں آ رہا آپ کی پوسٹ پر | 50 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہاںتو کوئی ڈاؤنلوڈ ربط نہیں ہے
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
ماشاء اللہ عادل بھائی
آپ تو پرانے راہی ہیں اس راہ ِپاک نیٹ کے ۔۔ اللہ آپ کو مزید بہتر بنانے اور بہتری پھیلانے کی توفیق د ے۔ ولسلام
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عربی زبان سے پہلے اللہ کو کیا کہتے تھے؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (02-03-10), حیدر Rehan (03-03-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
غالباً عربی ہی دنیا کی پہلی زبان ہے۔۔
جنت میں بھی یہی زبان بولی جاتی تھی جب بابا آدم اور اماں حوا وہاں تھے اور یوم محشر بھی اسی زبان میں حساب کتاب ہوگا۔۔ اگر میں غلط ہوں کوئی بھائی تصحیح کر دے ۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-03-10), عبداللہ آدم (02-03-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
-
تفرقہ بازی کی کوشش۔ اپ کو اس پر بین بھی کیا جا سکتا ہے۔ والسلام Last edited by منتظمین; 02-03-10 at 03:58 PM. |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عربی ، عبرانی اور سریانی زبان سے مل کر بنی ہے اور اس کی تاریخ بہت زیادہ قدیم نہیں ہے۔ عربی سے قدیم زبانیں پاکستان میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
عربی سے قدیم زبان عبرانی ہے۔ اور بھی زبانیں ہوسکتی ہیں، لیکن جہاں تک "اللٰہ" اور خدا بولنے کا تعلق ہے، میرے خیال میں اللٰہ ہی بولنا چاہیئے کیونکہ اللٰہ اسمِ ذات ہے، اور اسم ذات کا کسی زبان میں ترجمہ نہیںہوتا۔انسانوں میں ہی دیکھ لیجئے، کسی کا نام انگریزی یا دوسری زبان میں ترجمہ کرکے نہیں لکھا جاتا۔ اللٰہ کے باقی نام اسمائے صفات ہیں، جیسے رحمان، رحیم۔ ان کا ترجمہ ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ خدا کا مطلب، میری سمجھ کے مطابق، "خود آنے والا" ہے، جو کہ اللٰہ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ یہ میری ناقص فہم کے مطابق ہے۔ کوئی صاحب علم تصحیح کرے تو مشکور ہونگا۔ |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
عربی سے قدیم زبان عبرانی ہے۔ اور بھی زبانیں ہوسکتی ہیں، لیکن جہاں تک "اللٰہ" اور خدا بولنے کا تعلق ہے، میرے خیال میں اللٰہ ہی بولنا چاہیئے کیونکہ اللٰہ اسمِ ذات ہے، اور اسم ذات کا کسی زبان میں ترجمہ نہیںہوتا۔انسانوں میں ہی دیکھ لیجئے، کسی کا نام انگریزی یا دوسری زبان میں ترجمہ کرکے نہیں لکھا جاتا۔ اللٰہ کے باقی نام اسمائے صفات ہیں، جیسے رحمان، رحیم۔ ان کا ترجمہ ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ خدا کا مطلب، میری سمجھ کے مطابق، "خود آنے والا" ہے، جو کہ اللٰہ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ یہ میری ناقص فہم کے مطابق ہے۔ کوئی صاحب علم تصحیح کرے تو مشکور ہونگا۔ |
|
|
|
| ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (03-03-10) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جو کچھ بھی کہا جاتا رہا ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کیونکہ ہمیں اس پر عمل کرنا ہے جو ہماری شریعت میں ہے۔ درج ذیل دھاگے کا مطالعہ مفید ہو گا ان شاء اللہ۔
سابقہ نازل شدہ کتابوں اور شریعتوں کی اسلامی حیثیت - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی ، بھتیجے عبداللہ حیدر نے ایک بہت اچھا جواب ہیش کیا ہے اس پر غور فرمایے ، اور اس میں دیے ہوٕے ربط پر موجود معلومات کا مطالعہ فرمایے ، اس کے علاوہ اگر آپ صرف تاریخی طور پر یہ جاننا چاہیں کہ عربی زبان سے پہلے """ اللہ """ کو کیا کہتے تھے ؟ تو بھائی یہ تو واضح کیجیے کہ کونسی زبان کے بارے میں آپ یہ سوال کر رہے ہیں ؟ ہمیں قران پاک میں بنی اسرإئیل میں سب سے زیادہ نبیوں کے بھیجے جانے کی خبر ملتی ہے ، اور عرب کے علاقے میں یہ قوم با کثرت آباد تھی ، ان کی زبان """ عبرانی """ تھی ، اور عبرانی میں اللہ کو """ ایل """ کہا جاتا تھا ، اسی سے """ اسرائیل """ یعنی """ عبداللہ """ یعنی """ اللہ کا بندہ """ہے ، جو کہ یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے ،اور انہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا گیا ، اورکہا جاتا ہے ، اسی طرح معروف فرشتے علیھم السلام جن کے ناموں کا قران میں ذکر ہوا ہے ان پر غور فرمایے ،،، جبرئیل یعنی عبد اللہ ، میکائیل یعنی عبید اللہ ، اسی لفظ """ ایل """ کا ایک دوسرا تلفظ """ الاِل """ ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے جو عربی میں """ اللہ """ کہلایا ، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ """ اللہ """ """ ال ، اور الہ """ کا ادغام ہے ، لفظ """ اللہ """ کی تاریخ کچھ بھی رہی ہو ، اس کا مصدر کچھ بھی رہا ہو، اللہ تبارک و تعالٰی نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ذریعے قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے اپنی ذات پاک کو اس نام سے متعارف کروایا ہے ، پس ہمیں یا کسی کو بھی کوئی قدیم یا جدید نام اللہ کو دینے کی اجازت نہیں ، اگر سابقہ ناموں میں سے کوئی نام اختیار کرنا ہوتا تو اللہخود ہی کر لیتا ، اسے پتہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد میں نے کسی پر وحی نازل نہیں کرنی ، اور اسے یہ بھی پتہ تھا کہ میرا یہ قران قیامت تک کونسے کونسے لوگوں تک پہنچنا ہے اور وہ کون کون سی زبان بولتے ہوں گے ، اور اپنی اپنی زبان میں """ الہ """ کو کیا کیا کہتے ہوں گے ، پھر بھی اللہ نے خود کو اللہ ہی کہا ، پس بہت سیدہی سادہی صاف ستھری سی بات ہے جسے اگر کوٕی کوشش کرے تو ان شاء اللہ تھوڑی سے توجہ سے سمجھا جا سکتا ہے، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (03-03-10), فیصل ناصر (03-03-10), ھارون اعظم (04-03-10), نورالدین (03-03-10), محمد عاصم (01-05-10), حیدر Rehan (03-03-10), عبداللہ حیدر (03-03-10) |
|
|
#14 | ||
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اقتباس:
آپ کا رویہ ٹھیک نہیں برائے مہربانی میرے مراسلہ کو واپس لگا دیں |
||
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ عادل سہیل بھائی
اسم اللہ ایک منفرد اسم ہے۔ اس کی نہ کوئی جمع ہے نا کوئی مونث۔ اس کا متبادل واقعی کوئی لفظ نہیں بن سکتا۔اس کو زبان سے ادا کرنے میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے، جس کی کوئی توجہیہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ دوست اس کا عملی تجربہ کر سکتے ہیں۔ کسی اور لفظ سے بعینہ وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔ عبرانی زبان میں ایل کا لفظ استعمال ہوتا تھا،جس کی تبدیل شدہ صورت میں لفط اللہ عربی میں استعمال ہوا ہے۔’’اٰلہ یالہ الہ‘‘ سے کا مطلب چیخنا یا چلا کر اپنی تکالیف و ضروریات بیان کرناہے۔ الہ سے ایسی ہستی مراد ہوتی ہے جس کے آگے لوگ چیخ چیخ کر اپنی ٍضروریات اور تکالیف بیان کریں۔دنیا کی سب سے قدیم زبان کے بارے میں بہت سے اندازے لوگ لگاتے ہیں۔ قرآن میں ہم نے تخلیق آدم کے واقعے میں یہ الفاظ پڑھے ہیں: وعلم اٰدم الاسماء کلھا۔(اللہ نے آدم کو سب نام سکھا دیے۔) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زبان کی تعلیم اللہ ہی نے انسان کو سکھائی ہے۔ اور وہ زبان یقینا وہی ہوگی یا اس سے ملتی جلتی ہو گی ،جس سے اللہ نے اپنے انبیاء سے کلام کیا ہے۔جدید تحقیقات سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تمام زبانوں کی ماں یا اصل ایک ہی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً ﴿البقرة: ٢١٣﴾ ’’ (ابتداء میں) سب لوگ ایک ہی جماعت تھے۔‘‘ اسی طرح ارشاد ہے: وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ﴿يونس: ١٩﴾ ’’ اور سارے لوگ (ابتداء) میں ایک ہی جماعت تھے پھر(باہم اختلاف کر کے) جدا جدا ہو گئے،‘‘
__________________
عابد |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| allah, color, com, god, پہچان, پیارے, قرآن, لوگ, نستعلیق, موجودہ, اللہ, بھائی, توحید, جلد, حال, حدیث, حضرات, خبر, دُعا, عقل, عالم, عربی, صفات, صبر, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|