واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > توحید



توحید توحید


اے جاہلو، کیا تم مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا حکم دیتے ہو؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-05-09, 12:28 AM  
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اے جاہلو، کیا تم مجھے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کا حکم دیتے ہو؟

قُلْ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُن مِّنَ الشَّاكِرِينَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورۃ الزمر آیت 64 تا 67

"کہہ دو کہ اے جاہلو! کیا تم مجھے الله کے سوا کسی اور کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہو؟‌ اور بے شک آپ کی طرف اور ان کی طرف وحی کیا جا چکا ہے جو آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں کہ اگرتم نے شرک کیا تو ضرور تمہارے عمل برباد ہو جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔ نہیں، بلکہ تُو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔ اور انھوں نے الله کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور یہ زمین قیامت کے دن سب اسی کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئےہوں گے وہ پاک اور برتر ہے اس سے جو وہ شریک ٹھیراتے ہیں"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
21 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
Arabian (26-06-09), sahj (16-02-10), فیصل ناصر (27-06-09), فرحان دانش (25-02-10), کنعان (16-02-10), ھارون اعظم (17-02-10), چیتا چالباز (05-05-09), نورالدین (23-02-10), مباح (24-02-10), محمدمبشرعلی (19-02-10), محمدخلیل (05-05-09), مسٹر شیف (21-02-10), yashaka (05-05-09), ام غزل (04-05-09), امتیاز احمد (27-06-09), ابو عمار (24-02-10), ابن آدم (04-05-09), احمد بلال (17-02-10), حضرت بنگش (04-05-09), سحر (26-02-10), عبداللہ آدم (17-02-10)
پرانا 16-02-10, 02:31 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs up محمد بن عبدالوہاب کی علمی خدما

محمد بن عبدالوہاب کی علمی خدمات سے کوئی مسلمان تو انکار کر ہی نہیں سکتا

کوئی مانے یا نہ مانے اس مضمون کی ایک یاک بات درست ہے ، جناب محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ جو کہ حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے کی اصلاحی تحریک نے اُس دور کی استعماری، مشرک اور لادین قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، حالانکہ مصر ، ترکی اور ہندوستان وغیرہ میں نام نہاد اسلامی حکومتیں قائم تھیں لیکن حقیقت میں انہوں نے صرف اسلام کا لیبل استعمال کیا ہوا تھا اور عملاً اسلام سے رتی برابر تعلق نہ تھا، آج کے ناقدین کی طرح وہ بھی دین میں نئی نئی ایجادات کرنے والے تھے۔ ہندوستان کے بدنام زمانہ عیاش صوفی حکمران اکبر بادشاہ کی لادینیت کے قصے اور دین اسلام کے نام پر لادینت کو داخل کرنے کی کوشش کے طور پر لکھی جانے والی "دینِ الٰہی " نامی کتاب سے کون واقف نہیں ۔ اسلام کے یہ دعویدار اگر حقیقتا اہل ایمان میں سے ہوتے تو یہ وسیع عریض ملک کہ جہاں آج مزارات تو انگنت ہیں لیکن اسلامی حکوتیں نہیں اور مسلمان قسم پرسی کی زندگی گزار رہیں صورتحال یکسر مخلتف ہوتی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ترکی کی سلطنت عثمانیہ سے ہندوستان تک یہی قبر پرست صوفی حاکم تھے جنہوں نے اسلام کو بالائے طاق رکھ کر شرک اور عیاشی کو اپنا شیار بنایا ، تاج محل محل اور مینار تو کئی بنا لیئے لیکن اسلام سے کوسوں دور رہے اور پھر دنیا اور آخرت میں ذلیل خوار ہوئے ۔ آج بھی قرآن و سنت کے ماننے والوں کو یہ قبر پرسٹ ٹولا برا بھلا کہتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا وہ خود تو علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی مثال بنے بیٹھے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا

میں کٹھکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح اور تو فقط اللہ ہو اللہ ہو
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 16-02-10, 02:48 PM   #17
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
محمد بن عبدالوہاب کی علمی خدمات سے کوئی مسلمان تو انکار کر ہی نہیں سکتا
سوال :- کیا یہ حضرت جن کا اپنے نام لکھا ہے ۔ وہ امام کے درجے پر تھے ۔؟ ان کا شجرہ کیا تھا ۔ کہاں سے آئے تھے ۔ قرآن کی کس آیت کے تحت ہم ان کا کہا مانیں ؟ کیا وہ آل محمد (ص) میں سے تھے ؟کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ کسی کی بات نہ مانوں جب تک تحقیق نہ کرلو کہ وہ کون ہے ۔
وَلاَ تُؤْمِنُواْ إِلاَّ لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللّهِ أَن يُؤْتَى أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَآجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور کسی کی بات نہ مانو سوائے اس شخص کے جو تمہارے دین کا پیرو ہو، فرما دیں کہ بیشک ہدایت تو ہدایتِ الٰہی ہے کہ جیسی کتاب تمہیں دیا گیا اس جیسا کسی اور کو بھی دیا جائے گا یا یہ کہ کوئی تمہارے رب کے پاس تمہارے خلاف حجت لا سکے گا، فرما دیں: بیشک فضل تو اﷲ کے ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اﷲ وسعت والا بڑے علم والا ہے۔

اور مولا علی (ع) کا قول ہے :- (نہج الاسرار)
امام کلمۃ اللہ، حجتہ اللہ، وجہہ اللہ، نور اللہ، احجاب اللہ، اور ایت اللہ ہوتا ہے۔ اس کو خدا منتخب کرتا ہے۔ اور جو کچھ (اوصاف و کمالات) چاہتا ہے اس کو عطا کرتا ہے۔ اور تمام مخلوق پر اس کی اطاعت کو واجب کرتا ہے۔ پس وہ تمام آسمانوں اور زمین پر اس کا ولی ہے۔ خدا نے اس بات پر اپنے تمام بندوں سے عہد لیا ہے۔ پس جس نے امام پر سبقت کرنے کی کوشش کی اس نے خدائے عرش سے کفر کیا۔ پس امام جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ جب ہی کرتا ہے جب کہ خدا کسی بات کو چاہے۔ اس کے بازو پر "وتمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا" یعنی مکمل ہوا کلمہ، رب جو صدق اور عدل ہے، " لکھا رہتا ہے۔ بس وہی صدق اور عدل ہے۔

قرآن میں ہے کہ :-
انا نحن نحیی الموتى ونکتب ما قدموا واثارهم وکل شیء احصیناه فی امام مبین O
بیشک ہم ہی تو مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو وہ اگے بھیج چکے ہیں، اور ان کے اثرات، اور ہر چیز کو ہم نے ''امام مبین'' میں احاطہ کر رکھا ہےo
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 05:23 PM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ مضمون کا لب لباب کچھ اور تھا اور آپ کچھ اور گفتگو لے کر بیٹھ گئے بہر حال اس مضمون کو اس جگہ نقل کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ مزارات کے شرک کا قلع قمع کرنے والے ہر دور میں کوئی نہ کوئی رہے ہیں۔ محمد بن عبدالوہاب تو صرف اللہ کا ایک بندہ تھا ۔ جس نے محض ایک مجاہد کی طرح ایک اصلاحی تحریک کا آغاز کیا تھا وہ نہ امام ہونے کا دعوے دار تھا اور نہ ہی خود نمائش پسند ۔۔
اب آخر میں آپ کی لکھی ہوئی چند باتیں اماموں سے متعلق ہیں تو ان کے متعلق صرف اتنا ہی کہوں گا کہ یہ باتیں شیعہ فرقوں کی ہیں اور امت مسلمہ کے جید علماء ان کے من گھڑت ہونے پر تحقیق کر چکے ہیں۔ ضرورت پڑی تو اس کی بھی اسکین کاپی یہاں اپ لوڈ کر دوں گا ۔
ان فرضی روایات اور دیو مالائی کہانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
اسلام تو وہیں مکمل ہو گیاتھا جب حجۃ الوداع کے موقع پر آیت اتری تھی سورہ مائدہ
الیوم اکملت لکم دینکم
ہمارے لیے ہمارا اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہی کافی ہیں ۔ برائے مہربانی ان باتوں کو یہاں نہ بیان کریں جن کا تعلق اسلام کے فتنے کے دور میں ایجاد ہونے والے فرقے سے ہو ۔۔
اس سلسلسے میں بہت کچھ کہنا چاہوں گا۔
جیسے جیسے وقت اور مواد ملا ۔۔
باقی آپ لوگوں کی آراء کا منتظر رہوں گا۔۔
نورالدین
-----------------
سچ کا متلاشی
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
پرانا 16-02-10, 11:09 PM   #19
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,084
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,380 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
سب سے پہلے تو یہ بتا دوں کہ مضمون کا لب لباب کچھ اور تھا اور آپ کچھ اور گفتگو لے کر بیٹھ گئے
السلام علیکم محترم نورالدین

ایک مرتبہ پھر معذرت کے ساتھ پہلے کسی مراسلے میں آپ نے خود ہی لکھا تھا کہ قرآن اور حدیث سے بات کریں باہر کی مثال کا استعمال نہ کریں جبکہ آپ نے بھی وہاں پر ایک مثال کا سہارا لیا، اب اس دھاگہ میں آپ یہ فرما رہے ہیں کہ مضمون کا لب لباب کچھ اور تھا، تو میرے بھائی پہلے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں یہاں اس دھاگہ میں آپ نے موضوع پر غور نہیں کیا بھئی وہ قرآن مجید کی آیت سے اخذ کیا گیا ھے۔ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اس پر قرآن اور حدیث سے اپنا موقف بیان کرتے مگر آپ نے اس پر ایک الگ مضمون تشکیل دے دیا، اگر ایسا مضمون جو دھاگہ کے معیار کے مطابق نہ ہو تو اس کے لئے الگ دھاگہ بنایا جاتا ھے تاکہ آپ کے اس دھاگہ پر سب اس پر اپنے ویوز پیش کریں۔



اقتباس:
یہ باتیں شیعہ فرقوں کی ہیں
ضرورت پڑی تو اس کی بھی اسکین کاپی یہاں اپ لوڈ کر دوں گا
جن کا تعلق اسلام کے فتنے کے دور میں ایجاد ہونے والے فرقے سے ہو ۔۔

باقی آپ لوگوں کی آراء کا منتظر رہوں گا۔۔
نورالدین
ایک مرتبہ پھر معذرت کے ساتھ اگر وقت ملے تو یہاں اسلامی سیکشن کا ایک مرتبہ مطالعہ ضرور کر لیجئے تاکہ آپ کے علم میں مزید اضافہ ہو اور اسلامی سیکشن کا قانون پر بھی نظر ثانی فرما لیں تاکہ کوئی غلطیوں سے اجتناب برتا جا سکے۔

آپ کسی فرقہ/فقہ کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔ جو بھی گفتگو ھے وہ نیوٹرل ہو کر سامنے والے سے کریں جتنا آپ کو اس پر علم ھے،
جب آپ کسی پر کوئی بات لکھیں گے تو آپ کے پاس ان کے سوالوں کے جوابات بھی موجود ہونے چاہیں اور کوشش کریں کہ اسلامی سیکشن میں جو بھی مضمون لکھیں ان کے حوالہ جات بھی ساتھ دینے بہت ضروری ہوتے ہیں۔

کسی بھی فرقہ پر اعتراضات کا میٹیریل سکین کر کے اٹیچ کریں گے تو اتنا تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس سے کوئی بھی نہیں بچا ہوا۔ سب کے خلاف سکین کاپیز اور ویڈیو کلپس میں بہت سے میٹیریل موجود ہیں مگر میری ایک گزارش ھے کہ دعوت تبلیغ ایسی ہونی چاہئے کہ جس سے کسی کو نقصان نہ ہو۔ فرقوں والی تبلیغ سے اگر پرہیز کیا جائے تو رزلٹ بھی اچھا نکلتا ھے۔

آپ نے رائے مانگی اور میں نے اس میں حصہ لیا، آپ کو میں خوش آمدید کہتا ہوں میں نے مناسب سمجھا کہ آپ نئے ہیں‌ اس لئے آپ کو فارم لائین کے کچھ اصولوں سے آگاہ کروں اب آپ اپنی مرضی سے جونسا طریقہ اپنانا چاہیں اپنا سکتے ہیں میرا آپ کے ساتھ یہاں تک کا ہی ساتھ تھا۔ اللہ سب مسلمانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (16-02-10), ھارون اعظم (17-02-10), نورالدین (17-02-10), محمدمبشرعلی (19-02-10), حیدر Rehan (17-02-10), عبداللہ حیدر (17-02-10)
پرانا 17-02-10, 12:46 PM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs down شکوۂ جانبداری

اقتباس:
اور مولا علی (ع) کا قول ہے :- (نہج الاسرار)
امام کلمۃ اللہ، حجتہ اللہ، وجہہ اللہ، نور اللہ، احجاب اللہ، اور ایت اللہ ہوتا ہے۔ اس کو خدا منتخب کرتا ہے۔ اور جو کچھ (اوصاف و کمالات) چاہتا ہے اس کو عطا کرتا ہے۔ اور تمام مخلوق پر اس کی اطاعت کو واجب کرتا ہے۔ پس وہ تمام آسمانوں اور زمین پر اس کا ولی ہے۔ خدا نے اس بات پر اپنے تمام بندوں سے عہد لیا ہے۔ پس جس نے امام پر سبقت کرنے کی کوشش کی اس نے خدائے عرش سے کفر کیا۔ پس امام جو چاہتا ہے کرتا ہے اور وہ جب ہی کرتا ہے جب کہ خدا کسی بات کو چاہے۔ اس کے بازو پر "وتمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا" یعنی مکمل ہوا کلمہ، رب جو صدق اور عدل ہے، " لکھا رہتا ہے۔ بس وہی صدق اور عدل ہے۔
میرے بھائی
آپ نے مجھے تو نصیحت کر دی کہ میں کسی فرقے کی تبلیغ نہ کروں مگر حیدرRehan صاحب پر کوئی نظر نہیں ڈالی جو واضح طور پر شیعہ فرقے کے عقیدے کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے فرقے کا نام نہیں لے رہے مگر بھولے بھالے سادہ لوح مسلمانوں کو قرآن و حدیث سے ہٹا کر ایک نئی شخصیت پرستی پر لگا رہے ہیں یعنی امام اور ان کے متعلق ایسی باتیں جو ہم نے افضل الانبیا ء اور اس امت کے سب سے بڑے ولی یار غار صدیق اکبر اور دیگر عشرہ مبشرہ سے متعلق بھی نہیں دیکھیں
مثلاًً
خدا نے اس بات پر اپنے تمام بندوں سے عہد لیا ہے
امام جو چاہتا ہے کرتا ہے
اس کے بازو پر "وتمت کلمۃ ربک صدقا وعدلا" یعنی مکمل ہوا کلمہ، رب جو صدق اور عدل ہے، " لکھا رہتا ہے
وغیرہ وغیرہ
ا
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-02-10, 05:01 PM   #21
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نہج الااسرار خطبہ مولا علی (ع)
پس یہی (امام) صاحب عصمت و ولایت اور سلطنت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ضرور بہ ضرور دین کی تکمیل کرنے والا ہے۔(یعنی جس کی وجہ سے دین کی تکمیل ہوئ ۔حجتہ الودع کے دن) اور بندوں کی اعمال کی کسوٹی ہے۔
امام خدا کا قصد رکھنے والوں کے لئے دلیل راہ ہے۔ اور ہدایت پانے والوں کے لئے مینارہ نور اور سائلین کے لئے سبیل راہ ہے۔
اور عارفین کے قلوب میں چمکنے والا افتاب ہے۔ اس کی ولایت سببِ نجات ہے۔ اس کی اطاعت زندگی میں فرض گردانی گئی ہے اور مرنے کے بعد وہی توشہ آخرت ہے۔
وہ مومنین کے لئے باعث عزت اور گناگاروں کے لئے باعث شفاعت اور دوستوں کے لئے باعث نجات ہے۔ اور تابعین کیلئے فوز عظیم ہے۔
کیونکہ وہی راس اسلام اور کمال ایمان اور معرفت حدود و احکام اور حلال و حرام کا بیان کرنے والا ہے۔ پس یہ وہ مرتبہ ہے جس پر سوائے اس کے جس کو اللہ خود منتخب کرے اور سب پر مقدم و حاکم و والی بنائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
پس امام ضلالت کی تاریکیوں میں درخشاں چراغ ہے۔ اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور سیراب کرنے والا پانی اور موجزن سمندر ہے۔ وہی روشن چاند اور علوم معارف سے بھرا ہوا تالاب ہے۔ وہی صراط الہٰی ہے جس کے راستے واضع ہیں اور وہ دلیل و رہنما ہے۔ ضلالت کے مہلک راستوں میں وہ رحمت الہی کا برسنے والا بادل اور باران کثیر ہے۔ وہ ہدایت کا بدر کامل ، رہنمائے فاضل ، سب پر سایہ رکھنے والا آسمان اور اس کی نعمت جلیل ہے۔ وہ ایک سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا
اور وہ ایک ایسا شرف ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ وہ ایک چشمہ فیض اور نعمات الہی اک سر سبز باغ اور مہکتا ہوا چمن رسالت کا پھول اور امامت کا درخشاں آفتاب ہوتا ہے۔
وہ ایک پاکیزہ خوشبودار مجسم عمل صالح ہے۔ وہ فائدہ بخش مال تجارت اور سبیل واضع ہے۔ جس سے کوئی نہیں بھٹک سکتا۔
اس میں کسی کا نام نہی ہے بس امام کی خصوصیات ہیں ۔۔۔۔۔خطبہ جاری ہے ۔۔۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-02-10, 05:10 PM   #22
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,084
شکریہ: 12,550
4,512 مراسلہ میں 15,380 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
یہ باتیں شیعہ فرقوں کی ہیں
ضرورت پڑی تو اس کی بھی اسکین کاپی یہاں اپ لوڈ کر دوں گا
جن کا تعلق اسلام کے فتنے کے دور میں ایجاد ہونے والے فرقے سے ہو

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
آپ کسی فرقہ/فقہ کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔ جو بھی گفتگو ھے وہ نیوٹرل ہو کر سامنے والے سے کریں جتنا آپ کو اس پر علم ھے،


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
میرے بھائی
آپ نے مجھے تو نصیحت کر دی کہ میں کسی فرقے کی تبلیغ نہ کروں مگر حیدرRehan صاحب پر کوئی نظر نہیں ڈالی جو واضح طور پر شیعہ فرقے کے عقیدے کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے فرقے کا نام نہیں لے رہے مگر بھولے بھالے سادہ لوح مسلمانوں کو قرآن و حدیث سے ہٹا کر ایک نئی شخصیت پرستی پر لگا رہے ہیں

السلام علیکم محترم نورالدین

میں بھی آپکی طرح ایک ممبر ہوں اس فارم میں،
میں نے آپ کو یہ نصیحت نہیں کی کہ اپ فرقوں پر تبلیغ نہ کرو بھائی آپ کا جو مسلک ھے آپ اس پر جتنی چاہیے تبلیغ کریں، بس اس بات سے منع کیا ھے کہ کسی فرقے کا نام استعمال نہیں کریں بھلہ وہ آپ کا ھے یا دوسرے کا نیوٹرل ہو کر گفتگو کریں، آپ کے پاس جواب دینے کا پورا حق ھے مگر انہیں بہتر طریقے سے قرآن اور حدیث یا پھر عقلی دلیل سے مگر سامنے والی کی ذات اور کسی دوسرے فرقے پر لکھنے سے پرہیز کریں۔ اس سے پھر صورت حال بہت عجیب سی ہو جاتی ھے۔ یہاں پر کوئی بھولا بھالا سادہ لوح نہیں سب میچیور ہیں۔

یہاں پر ایک معتبر ممبر جو عادل سہیل کے نام سے جانے جاتے ہیں ذرا ایک نظر ان کے مراسلوں پر ڈال لیں شائد آپ کو سمجھنے میں‌ کچھ آسانی ہو۔ ان کے مراسلوں میں آپ کو قرآن اور حدیث کے سواہ کوئی ثبوت نہیں ملے گا انہیں میں نے کبھی عقلی دلیل استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی اقلیت کا نام۔

یہاں پر کسی بھی اقلیت پر کوئی پابندی نہیں ھے۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں جو بھی آپ کو کہہ رہا ہوں وہ غلط ھے تو میرے بھائی یہاں پر ایک سیکشن "تھانہ" کے نام سے ھے وہاں پر آپ میرے متعلق اپنی رپورٹ درج کروا سکتے ہیں۔ آپ کے ساتھ پورا تعاون کیا جائے گا۔

صرف آپ سے یہی التجا کی ھے کہ خالص تبلیغ کریں دوسرں سے الجھیں گے تو اثر ختم ہو جائے گا۔ آپ یہاں پر خوبصورت دھاگے بنائیں جس سے کچھ سیکھنے کو ملے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
محمدمبشرعلی (19-02-10), حیدر Rehan (18-02-10), عبداللہ حیدر (17-02-10)
پرانا 18-02-10, 11:27 AM   #23
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
نہج الااسرار خطبہ مولا علی (ع)
پس یہی (امام) صاحب عصمت و ولایت اور سلطنت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ضرور بہ ضرور دین کی تکمیل کرنے والا ہے۔(یعنی جس کی وجہ سے دین کی تکمیل ہوئ ۔حجتہ الودع کے دن) اور بندوں کی اعمال کی کسوٹی ہے۔
امام خدا کا قصد رکھنے والوں کے لئے دلیل راہ ہے۔ اور ہدایت پانے والوں کے لئے مینارہ نور اور سائلین کے لئے سبیل راہ ہے۔
اور عارفین کے قلوب میں چمکنے والا افتاب ہے۔ اس کی ولایت سببِ نجات ہے۔ اس کی اطاعت زندگی میں فرض گردانی گئی ہے اور مرنے کے بعد وہی توشہ آخرت ہے۔
وہ مومنین کے لئے باعث عزت اور گناگاروں کے لئے باعث شفاعت اور دوستوں کے لئے باعث نجات ہے۔ اور تابعین کیلئے فوز عظیم ہے۔
کیونکہ وہی راس اسلام اور کمال ایمان اور معرفت حدود و احکام اور حلال و حرام کا بیان کرنے والا ہے۔ پس یہ وہ مرتبہ ہے جس پر سوائے اس کے جس کو اللہ خود منتخب کرے اور سب پر مقدم و حاکم و والی بنائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
پس امام ضلالت کی تاریکیوں میں درخشاں چراغ ہے۔ اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور سیراب کرنے والا پانی اور موجزن سمندر ہے۔ وہی روشن چاند اور علوم معارف سے بھرا ہوا تالاب ہے۔ وہی صراط الہٰی ہے جس کے راستے واضع ہیں اور وہ دلیل و رہنما ہے۔ ضلالت کے مہلک راستوں میں وہ رحمت الہی کا برسنے والا بادل اور باران کثیر ہے۔ وہ ہدایت کا بدر کامل ، رہنمائے فاضل ، سب پر سایہ رکھنے والا آسمان اور اس کی نعمت جلیل ہے۔ وہ ایک سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا
اور وہ ایک ایسا شرف ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ وہ ایک چشمہ فیض اور نعمات الہی اک سر سبز باغ اور مہکتا ہوا چمن رسالت کا پھول اور امامت کا درخشاں آفتاب ہوتا ہے۔
وہ ایک پاکیزہ خوشبودار مجسم عمل صالح ہے۔ وہ فائدہ بخش مال تجارت اور سبیل واضع ہے۔ جس سے کوئی نہیں بھٹک سکتا۔
اس میں کسی کا نام نہی ہے بس امام کی خصوصیات ہیں ۔۔۔۔۔خطبہ جاری ہے ۔۔۔

السلام علیکم برادران!
حیدر ریحان صاحب پہیلیاں کیوں بُجھوا رہے ہو صاف صاف سیدھی بات کیوں نہیں کرتے؟؟ آج بھی حسب سابق وہی طریقہ جو آپ کے مراسلوں کا خاصہ ہے اور یہ خطبہ کس کو ارشاد فرما رہے ہیں آپ ذرا وضاحت کریں گے؟؟؟
__________________
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
(اقبال)
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مباح کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (19-02-10)
پرانا 18-02-10, 04:01 PM   #24
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مباح بھائی ۔۔۔۔۔یہ جملے میرے نہی ہیں۔ یہ خطبہ ہے مولا علی کا اپ نے شاید نہی پڑھا ہو تو کچھ حصہ لکھ دیا ہے باقی بعد میں لکھتا رہوں گا ۔
یہ جواب دیا تھا جناب نورلدین بھائی کا جنھونے کسی مجاہد کا نام لے کرکہا تھا کہ انھونے مزارات کے خلاف تحریک شروع کی اور ہمیں ان کے کہے پر چلنا چاہیے
تو میں نے آیت بھی دی اور مولا علی کا خطبہ بھی کہ آخری نبی صلی علیہ والہ وسلم کے بعد اگر کسی کی بات مانو تو اس شخص کا امام ہونا (من جانب اللہ) اور ان صفات کو حامل ہونا چاہیے۔
ورنہ کسی کی بات نہ مانو جو قرآن میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اخادیث میں ہے (جو قرآن کے خلاف نہ ہوں) مان لو اس کے بعد بھی یہ احتیاط لازم ہے کہ کسی اور کو مجبور نہی کر سکتے کیونکہ جو نتیجہ اپ نے آخذ کیا ہے وہ اپ کے زہن ، فکر کی حد ہے نہ کہ شریعت کی حد اور یہ بھی آپ کے لیے شاید حجت نہ ہو ۔
لیکن اگر کسی بھی ہستی کا عمل دخل تمھارے اور قرآن کے درمیان ہو تو وہ امام (منجانب اللہ ) ہی ہونا چاہئے ۔ کیونکہ وہ اللہ کی حجت ہوگا تو سہی اور غلط ، حلال و حرام کا ضامن ہوگا ۔
اگر ایسا امام اب تک نہی ملا تو یاد رکھیں اللہ کی زمین حجت سے خالی نہی رہتی کسی بھی دور میں دعا کریں کہ وہ 12 امام یعنی آخری امام مہدی علیہ سلام آئیں گے اس کا انتظار کریں اللہ کو گواہ بنا کر اور اسی کو اپنا امام تصور کریں ۔

ایک حدیث بھی یاد آئی ہے بہت مشہور ہے ۔

جس نے اپنے وقت کے امام /خلیفہ کو نہ پہچانا وہ جہالت کی موت مرا (اور جو جہالت کی موت مرا وہ دوزخ میں ٹھکانہ بنائے گا) ۔ ( یہی ترجمہ ہے نا )

یہ حدیث کسی عام شخص کے لیے تو ہو نہی سکتی کہ اگراس شخص کو نہ پہچانا تو دوزخ میں جائیں گئے ۔۔۔ کوئی خاص ہستی ہی ہوگی۔

Last edited by حیدر Rehan; 18-02-10 at 04:07 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
مباح (18-02-10)
پرانا 19-02-10, 03:36 AM   #25
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
یاد رکھیں اللہ کی زمین حجت سے خالی نہی رہتی ۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے دو چیزیں نازل کیں اور الحمدللہ وہ دونوں موجود اور معروف ہیں۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت۔
اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کے حجت ہونے کا ذکر اس آیت میں ہے:
رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء165)
" یہ سب رسول بھیجے گئے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے (بناکر) تاکہ نہ رہے لوگوں کے پاس اللہ کے حضور، کوئی حجت رسولوں کے آجانے کے بعد۔ اور ہے اللہ سب پر غالب بڑی حکمت والا۔"
اور کتاب اللہ کے حجت ہونے کی دلیل اس فرمان رسول میں ہے:
وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ
(سنن ابن ماجہ الطہارۃ و سنتھا باب الوضوء شطر الایمان، صحیح سنن ابن ماجہ 352)
"اور قرآن تجھ پر حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے لے کر قیامت تک کوئی وقت ایسا نہیں گزرے گا جب حجت تمام کرنے والی یہ دونوں چیزیں موجود نہ ہوں۔ کتاب اللہ اپنی اصل حالت میں بغیر کسی تحریف و تبدل کے موجود ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت مطہرہ بھی محفوظ ہے اور یہ دو حجتیں راہنمائی اور نجات کے لیے کافی ہیں ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-02-10), نورالدین (19-02-10), مباح (19-02-10), محمدمبشرعلی (19-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 19-02-10, 11:56 AM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,088
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Angry غلط ماخذات

اقتباس:
یہ جواب دیا تھا جناب نورلدین بھائی کا جنھونے کسی مجاہد کا نام لے کرکہا تھا کہ انھونے مزارات کے خلاف تحریک شروع کی اور ہمیں ان کے کہے پر چلنا چاہیے
اول بات تو یہ کہ میں اپنے اس اقتباس میں کہیں یہ نہیں کہا کہ ہمیں ان کے کہنے پر چلنا چاہیے نقل پیش خدمت ہے۔
اقتباس:
محمد بن عبدالوہاب کی علمی خدما
محمد بن عبدالوہاب کی علمی خدمات سے کوئی مسلمان تو انکار کر ہی نہیں سکتا

کوئی مانے یا نہ مانے اس مضمون کی ایک یاک بات درست ہے ، جناب محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ جو کہ حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے کی اصلاحی تحریک نے اُس دور کی استعماری، مشرک اور لادین قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، حالانکہ مصر ، ترکی اور ہندوستان وغیرہ میں نام نہاد اسلامی حکومتیں قائم تھیں لیکن حقیقت میں انہوں نے صرف اسلام کا لیبل استعمال کیا ہوا تھا اور عملاً اسلام سے رتی برابر تعلق نہ تھا، آج کے ناقدین کی طرح وہ بھی دین میں نئی نئی ایجادات کرنے والے تھے۔ ہندوستان کے بدنام زمانہ عیاش صوفی حکمران اکبر بادشاہ کی لادینیت کے قصے اور دین اسلام کے نام پر لادینت کو داخل کرنے کی کوشش کے طور پر لکھی جانے والی "دینِ الٰہی " نامی کتاب سے کون واقف نہیں ۔ اسلام کے یہ دعویدار اگر حقیقتا اہل ایمان میں سے ہوتے تو یہ وسیع عریض ملک کہ جہاں آج مزارات تو انگنت ہیں لیکن اسلامی حکوتیں نہیں اور مسلمان قسم پرسی کی زندگی گزار رہیں صورتحال یکسر مخلتف ہوتی۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ترکی کی سلطنت عثمانیہ سے ہندوستان تک یہی قبر پرست صوفی حاکم تھے جنہوں نے اسلام کو بالائے طاق رکھ کر شرک اور عیاشی کو اپنا شیار بنایا ، تاج محل محل اور مینار تو کئی بنا لیئے لیکن اسلام سے کوسوں دور رہے اور پھر دنیا اور آخرت میں ذلیل خوار ہوئے ۔ آج بھی قرآن و سنت کے ماننے والوں کو یہ قبر پرسٹ ٹولا برا بھلا کہتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا وہ خود تو علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی مثال بنے بیٹھے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا

میں کٹھکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح اور تو فقط اللہ ہو اللہ ہو
اور بھی کئی باتیں آپ نے میری طرف سے منسوب کی ہیں۔ جیسے کہ
اقتباس:
محترم نورالدین

ایک مرتبہ پھر معذرت کے ساتھ پہلے کسی مراسلے میں آپ نے خود ہی لکھا تھا کہ قرآن اور حدیث سے بات کریں باہر کی مثال کا استعمال نہ کریں
میں نے اپنے کسی مراسلے میں ایسا کوئی دعوی یا فرمائش نہیں کی۔۔
جس جگہ قرآن سے متعلق بات کسی کے سمجھ میں نہ آئے وہاں دنیاوی مثال استعمال کرتا ہوں ۔۔
خاص کر وہ لوگ جو قرآن حدیث کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتیں لا تے ہیں۔ جیسے کے یہ :

اقتباس:
۔ یہ خطبہ ہے مولا علی کا اپ نے شاید نہی پڑھا ہو تو کچھ حصہ لکھ دیا ہے باقی بعد میں لکھتا رہوں گا
اقتباس:
اگر ایسا امام اب تک نہی ملا تو یاد رکھیں اللہ کی زمین حجت سے خالی نہی رہتی کسی بھی دور میں دعا کریں کہ وہ 12 امام یعنی آخری امام مہدی علیہ سلام آئیں گے اس کا انتظار کریں اللہ کو گواہ بنا کر اور اسی کو اپنا امام تصور کریں ۔
اقتباس:
نہج الااسرار خطبہ مولا علی (ع)
پس یہی (امام) صاحب عصمت و ولایت اور سلطنت و ہدایت ہے۔ کیونکہ وہ ضرور بہ ضرور دین کی تکمیل کرنے والا ہے۔(یعنی جس کی وجہ سے دین کی تکمیل ہوئ ۔حجتہ الودع کے دن) اور بندوں کی اعمال کی کسوٹی ہے۔
امام خدا کا قصد رکھنے والوں کے لئے دلیل راہ ہے۔ اور ہدایت پانے والوں کے لئے مینارہ نور اور سائلین کے لئے سبیل راہ ہے۔
اور عارفین کے قلوب میں چمکنے والا افتاب ہے۔ اس کی ولایت سببِ نجات ہے۔ اس کی اطاعت زندگی میں فرض گردانی گئی ہے اور مرنے کے بعد وہی توشہ آخرت ہے۔
وہ مومنین کے لئے باعث عزت اور گناگاروں کے لئے باعث شفاعت اور دوستوں کے لئے باعث نجات ہے۔ اور تابعین کیلئے فوز عظیم ہے۔
کیونکہ وہی راس اسلام اور کمال ایمان اور معرفت حدود و احکام اور حلال و حرام کا بیان کرنے والا ہے۔ پس یہ وہ مرتبہ ہے جس پر سوائے اس کے جس کو اللہ خود منتخب کرے اور سب پر مقدم و حاکم و والی بنائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
پس امام ضلالت کی تاریکیوں میں درخشاں چراغ ہے۔ اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور سیراب کرنے والا پانی اور موجزن سمندر ہے۔ وہی روشن چاند اور علوم معارف سے بھرا ہوا تالاب ہے۔ وہی صراط الہٰی ہے جس کے راستے واضع ہیں اور وہ دلیل و رہنما ہے۔ ضلالت کے مہلک راستوں میں وہ رحمت الہی کا برسنے والا بادل اور باران کثیر ہے۔ وہ ہدایت کا بدر کامل ، رہنمائے فاضل ، سب پر سایہ رکھنے والا آسمان اور اس کی نعمت جلیل ہے۔ وہ ایک سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا
اور وہ ایک ایسا شرف ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ وہ ایک چشمہ فیض اور نعمات الہی اک سر سبز باغ اور مہکتا ہوا چمن رسالت کا پھول اور امامت کا درخشاں آفتاب ہوتا ہے۔
وہ ایک پاکیزہ خوشبودار مجسم عمل صالح ہے۔ وہ فائدہ بخش مال تجارت اور سبیل واضع ہے۔ جس سے کوئی نہیں بھٹک سکتا۔
اس میں کسی کا نام نہی ہے بس امام کی خصوصیات ہیں ۔۔۔۔۔خطبہ جاری ہے
یہ امام کون لوگ ہیں۔ یہ لوگ اور ان کا وجود اس وقت کہاں تھا ۔ جب دین مکمل ہو رہا تھ اور نبی تمام مسلمانوں سے گواہی لے رہے تھے کہ میں نے دین کا مکمل پیغام تم تک پہنچا دیا ۔۔ (واضح رہے کہ اس وقت تک تمام احادیث میں اماموں سے متعلق ایسی کوئی باتیں نہیں تھیں جو حیدرRehan نے اپنے دھاگے میں بڑی روانی سے اور بھر بھر کر لکھ دیا ہے۔)۔ اگر امام کا وجود شعائر اسلام کا حصہ ہے تو
امام اس وقت کہاں تھا۔ جب نبی موجود تھے
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب نبی کی وفات کے بعد مسلمانوں کے امیر کا تنازعہ تھا۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب ابو بکر صدیق خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب عمر فاروق خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب عثمان غنی خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب علی بن ابی طالب "خلیفہ "بنے۔۔
امام کی ما فوق الفطرت طاقتیں اور کرامتیں اس وقت کہاں تھیں جب یزید حاکم وقت تھا اور حسین بن علی رعایا کی طرح بے بس۔۔
حیدرRehan صاحب آپ کو اپنے فرقے کی خفیہ تبلیغ کا شوق ہے تو آپ کے فرقے سے متعلق بہت سی ویب سائٹ ہیں وہاں چلے جائیں ۔۔ ہر کوئی آپ کی چال میں نہیں آ سکتا ۔۔
آپ جیسے لوگ اماموں کا درجہ ماورائے انسان بڑھا دیتے ہیں ۔۔ تاکہ اس امت کے اصل اور برتر بزرگوں جیسے نبی اور خلفاء ثلاثہ ( ابو بکر صدیق ، عمر فاروق عثمان غنی )کو کم تر ثابت کیا جا سکے ۔۔
برائے مہربانی ایسا نہ کریں ۔۔
آپ تمام صحابہ کا احترام کریں ۔۔
جھوٹے اور بے پر کی باتوں سے پر ہیز کریں اور فورم کے قوانین کی پاسداری کریں ۔۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
sahj (20-02-10), مباح (19-02-10), محمدمبشرعلی (27-02-10), عادل سہیل (19-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 19-02-10, 01:23 PM   #27
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادران!
ویسے ریحان صاحب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنھہ کا خطبہ آپ کے مطابق یہاں شیئر کرنے کے پیچھے آپ کاکیا مقصد تھا اور ہے اس تھریڈ میں جبکہ اس تھریڈ کا ٹاپک کچھ اور ہے؟
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
sahj (20-02-10), عبداللہ حیدر (19-02-10)
پرانا 19-02-10, 05:37 PM   #28
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
اگر امام کا وجود شعائر اسلام کا حصہ ہے تو
امام اس وقت کہاں تھا۔ جب نبی موجود تھے
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب نبی کی وفات کے بعد مسلمانوں کے امیر کا تنازعہ تھا۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب ابو بکر صدیق خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب عمر فاروق خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب عثمان غنی خلیفہ بنے۔۔
امام اس وقت کہاں تھا۔۔ جب علی بن ابی طالب "خلیفہ "بنے۔۔۔
جواب ؛- حضرت ھارون علیہ سلام اس وقت کہاں تھے جب حضرت موسی علیہ سلام انھیں 40 دن کےلیے چھوڑ کر گئے تھےاور ان کے ہوتے ہوئے تمام امت نے ایک بچھڑے کو اپنے لیے اللہ کے تقرب کا وسیلہ بنالیا تھا ۔
بس وہی صبر اور استقامت جو حضرت ھارون علیہ سلام نے کی اسی منزلت کا صبر اور استقامت مولا علی نے کئی سال کیا ۔۔

اسی لیے رسول اللہ کے ایک حدیث ہے کہ
علی (ع) کی مجھ (ص) سے وہی منزلت ہے جو ھارون کو موسی سے تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہی ۔


قرآن کی آیات یونہی قصے کہانیاں کے طور پر نہی ہیں قرآن میں وجہ ہے ہر نبی (ص) کا واقعہ اور ہر رسول (ص) کا تزکرہ تعلق رکھتا ہے محمد صلی علیہ والہ وسلم اور آل محمد علیہ سلام سے ۔
میرا جواب تو مل گیا اب میرا سوال اپ سے کسی اور سے نہی کیونکہ انھونے امام پر سوال کیا تھا تو اللہ نے میرے زہن میں بھی ایک سوال دیا ہے ۔
جب یہ حدیث رسول صلی علیہ والہ وسلم صابت ہے (اپکی کتابوں سے)
اگر میرے بعد (ص) کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمر (رضی) ہوتے ۔
یعنی حضرت عمر (رضی) کی اتنی منزلت تھی رسول اللہ (ص) کی نظر میں تو اس وقت کے لوگوں نے اور خود اپ لوگوں نے کیوں اور کیسے تسلیم کیا کہ حضرت ابو بکر (رضی) رسول اللہ (ص) کے بعد پہلے خلیفہ ہیں۔ یعنی رسول اللہ (ص) کے بعد حضرت عمر (رضی)کے بجائے کوئی اور شخصیت کیسے فضلیت پاگی ؟؟؟؟

کیا وہ لوگ غلط تھے جنھونے (حضرت ابو بکر (رضی) کو پہلا خلیفہ چنا ؟
یا آپ ابتک کم علم ہیں کہ اس بات کا آقرار کرتے ہیں ؟؟
یا حدیث بعد میں لکھی گی یعنی راوی سہی نہی ہے اس حدیث کا ؟؟
یا یہ حدیث جس کتاب میں ہے ان سے غلطی ہوئی کہ اس پر بنا تحقیق کے لکھ لیا ؟؟

Last edited by حیدر Rehan; 19-02-10 at 11:10 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-02-10, 06:56 PM   #29
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

[SIZE=5]
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : [/SIZE
حیدر Rehan;266816]رسول اللہ (ص) کے بعد حضرت عمر (رضی)کے بجائے کوئی اور شخصیت کیسے فضلیت پاگی ؟؟؟؟
؟؟

وہ ایسے فضیلت پا گئے کہ ان کا ذکر اور ان کی صحابیت کی شان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائی ہے جو منافقین کے دل میں آج بھی کانٹے کی طرح کسک پیدا کیے ہوئے ہے اور جس کی معنوی تحریف کرنے میں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیا ہے لیکن یہ آیت قیامت تک ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تاجِ فضیلت میں ہیرے کی طرح چمکتی رہے گی کہ ان کی صحابیت اور ان کے ساتھ اللہ کی معیت ہونے کا بیان اللہ نے قرآن بنا کر نازل کیا:
إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (سورۃ التوبۃ 40)
"اگر تم اِس (نبی) کی مدد نہ کرو گے تو ان کی مدد تو اللہ کر چکا ہے ، (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے (مکہ سے) نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
مصر سے ہجرت کے وقت جب فرعونی لشکر بنی اسرائیل کے پیچھے آیا اور پکڑے جانے کا ڈر پیدا ہوا تو موسیٰ نے فرمایا تھا:
إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء62)
بے شک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے راہ دکھائے گا”
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے جب ہجرت فرمائی اور دشمن سر پر آن پہنچا تو اپنے جانثار ساتھی سے فرمایا:
لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (سورۃ التوبۃ 40)
غم نہ کرنا،اللہ ہمارے ساتھ ہے”
اور یہی ابوبکر تھے جن سے غصے میں بات کرنے کی وجہ سے ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم المرتبت شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُوا لِي صَاحِبِي
"اللہ نے مجھے تم لوگوں کی طرف مبعوث کیا تو (اس وقت) تم لوگوں نے کہا “تو جھوٹ کہتا ہے” اور ابو بکر نے کہا “آپ سچ فرماتے ہیں” اور اس نے اپنی جان اور مال سے میری خدمت کی۔ پس کیا تم میرے لیے میرے دوست کو چھوڑ دو گے (یا نہیں)؟
اور اس لیے فضیلت ملی کہ جب دنیا میں کوئی دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا مددگار نہ تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کام کے لیے کھڑے ہوئے، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدٍ وَامْرَأَتَانِ وَأَبُو بَكْرٍ
"میں نے (ابتدائی دور میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ساتھ پانچ غلاموں، دو عورتوں اور ابو بکر کے سوا کوئی نہ تھا”
اور اس لیے فضیلت ملی کہ صحابہ کرام انہیں اپنے میں سے سب سے افضل سمجھتے تھے۔ ابن سبا یہودی کی معنوی اولاد جتنی مرضی بکواس کرتی رہے لیکن فہم صحابہ کے آگے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں ہم لوگ (صحابہ میں سے) ابوبکرؓ کو ترجیح دیتے تھے پھر عمر بن خطابؓ کو پھر عثمان بن عفانؓ کو”
اور اس لیے فضیلت ملی کہ امت میں ان سے بڑھ کر کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد نہیں کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ
" اپنی صحبت اور اپنے مال سے مجھ پر سب سے بڑھ کر احسان کرنے والوں میں ابو بکر ہیں”
اور فضیلت اس لیے ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں اپنا بھائی قرار دیا:
لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي
"اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور صحابی ہیں”۔
(یہ فضائل (صحیح بخاری کتاب المناقب باب قول النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لو کنت متخذا خلیلا اور باب فی فضل ابی بکر رضی اللہ عنہ میں موجود ہیں)

Last edited by عبداللہ حیدر; 19-02-10 at 07:00 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (20-02-10), نورالدین (20-02-10), مباح (19-02-10), محمدمبشرعلی (19-02-10), حیدر Rehan (19-02-10), عادل سہیل (19-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10)
پرانا 19-02-10, 09:12 PM   #30
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Red"][B]
میرا جواب تو مل گیا اب میرا سوال اپ سے کسی اور سے نہی کیونکہ انھونے امام پر سوال کیا تھا تو اللہ نے میرے زہن میں بھی ایک سوال دیا ہے ۔
السلام علیکم ،
بھائی ریحان حیدر صاحب ،
پبلک فورمز پر، اور خاص طور پر جب ایک بڑی تعداد کے لوگوں کے عقائد کے خلاف لکھا جائے تو پھر کسی ایک سے جواب مانگنا کچھ معنی نہیں رکھتا ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Red"][B]
کیا وہ لوگ غلط تھے جنھونے (حضرت ابو بکر (رضی) کو پہلا خلیفہ چنا ؟
یا آپ ابتک کم علم ہیں کہ اس بات کا آقرار کرتے ہیں ؟؟
یا حدیث بعد میں لکھی گی یعنی راوی سہی نہی ہے اس حدیث کا ؟؟
یا یہ حدیث جس کتاب میں ہے ان سے غلطی ہوئی کہ اس پر بنا تحقیق کے لکھ لیا ؟؟
بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کو بہت اچھا جواب دیا ہے ، میں اس وقت صرف ایک عظیم المرتبہ ہستی کا قول پیش کرتا ہوں جس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ کن لوگوں نے اور کیوں ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کو خلیفہ قبول کیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ،
اس کے بعد بھی اگر آپ کو مزید کی ضرورت ہوئی تو پیش کروں گا ، ان شاء اللہ ،
غور سے پڑہیے یہ رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چوتھے بلا فصل خلیفہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ ُ کا فرمان ہے ، اور ان کے بیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نواسے ، اور پانچویں خلیفہ بلا فصل حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے راوی ہیں کہ جب کچھ لوگوں نے ان سے پہلے تین خلفاء رضی اللہ عنہم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پہلے بلا فصل خلیفہ کی خلافت کے اقرار کے طور پر ارشاد فرمایا ((((( لقد أمر النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم أبا بكر أن يصلي بالناس وإني لشاهد وما أنا بغائب ومابي مرض فرضينا لدنيانا ما رضي به النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم لديننا ::: یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ابو بکر کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور میں اس وقت موجود تھا غائب نہ تھا ، اور نہ ہی بیمار تھا لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمارے لیے جس کی امامت دِین میں پسند فرمائی اسی کی امامت ہم نے اپنی دُنیا میں بھی پسند کی )))))
لہذا ہم تو معاذ اللہ ان کے غلط ہونے کا تصور بھی نہیں رکھتے جنہوں نے ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ چنا ، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چوتھے بلا فصل خلیفہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ ُ بھی تھے ، مزید کی ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ بہت دلائل میسر کیے جا سکتے ہیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (25-02-10), کنعان (20-02-10), نورالدین (20-02-10), مباح (20-02-10), محمدمبشرعلی (27-02-10), حیدر Rehan (19-02-10), عبداللہ آدم (20-02-10), عبداللہ حیدر (19-02-10)
جواب

Tags
arabic, color, گوگل, پاک, پسند, قرآن, لوگ, نظر, مولا علی, محبت, معلوم, آج, اکبر, ایمان, اللہ, اسلامی, بھائی, تاج, حکم, خرم, زندگی, زمانہ, شعر, عبادت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ آدم گپ شپ 23 02-03-11 12:14 AM
بھاگو، بھاگو، بلی آگئی ،منشیات فروشوں کے ساتھی طوطے کو عمر قید کی سزا جاویداسد خبریں 1 24-09-10 05:19 PM
سوائن فلو وائرس ایک خوفناک عفریت۔.. ام غزل گھریلو ٹوٹکے 20 09-05-09 11:20 PM
کیسے بتائوں میں تمیھں میرے لئے تم کون ہو؟ The Great شعر و شاعری 0 07-08-08 11:07 PM
کس کی گھات میں گم صم ہو؟ خوابوں کے شکاری جاگو بھی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 01-07-08 06:04 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:57 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger