|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
رواداری
ہر آدمی تعمیرنو کی بات کررہا ہے۔ہمارے دشمن یورپ میں ایک نظام قائم کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں جسے ان کی خفیہ پو لیس قا ئم رکھے گی۔ہم اپنے طور پر لندن یا انگلینڈ یا مغربی تہذیب کی تعمیرنوباتیںکر تے ہیں اوراس کے لیے منصوبے بنا تے ہیں ۔یہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن جب میں ایسی باتیںسنتا ہوں،ماہرین تعمیرات کو پنسلیںتراشے ہوئے،ٹھیکیداروں کو زیادہ تخمینے بناتے ہوئے،سیا ستدانوںکو اپنے اثر ورسوخ کے حلقوں کی نشا ندہی کر تے ہو ئے اور ہر آ دمی کو اپنے کام میں مصروف دیکھتا ہوں تو ایک مشہور کہاوت میرے ذہن میں آتی ہے”جب تک خدا کوگھرکی تعمیر منظورنہ ہوا سے تعمیر کر ے والے فضول محنت کر تے ہیں۔ “ان الفاظ کی شا عرانہ تصویر میں ایک مسلم سا ئنسی سچا ئی پنہا ں ہے کہ جب تک آپ کا ذہنی رویہ مضبوط اور نفسیا ت درست نہ ہوں آپ کسی پا ئیدار چیز کی تعمیر یا تعمیر نو نہیں کر سکتے ۔یہ کہا وت نہ صرف مذہبی لو گوں کے لیے بلکہ کا رکنوں (مزدوروں)کے لیے خواہ ان کا نقطہ نطر کچھ ہی ہو درس اور نہا یت اہم با ت یہ ہے کہ ہما رے ایک مو رخ ڈا کٹر آ رنلڈٹوا ئن بی نے اسے تہذیبوںکے عروج وزوال کے عظیم مطا لعے کے دیبا چہ کے لیے منتخب کیا ہے۔یقینا ایک مضبوط بنیادہو سکتی ہے۔ما ہرین تعمیرات،ٹھیکیدار،بین الاقوامی کمشنر ،مارکیٹنگ بورڈ اور نشریا تی ادارے ،خود بخو د،کبھی بھی نئی دنیا تعمیر نہیں کرسکیں گے۔ ان کامناسب جذبہ سے سرشار ہو نا لا زمی ہے اورجن لوگوں کے لیے وہ کا م کر رہے ہیں ان میں منا سب جذ بہ ہو نا چا ہیے۔مثا ل کے طور پر جب تک لو گ بدنما گھروں میں رہنے وے انکا ر نہ کریں گے ہم کبھی نیا خو بصورت لندن تعمیر نہیں کر سکتے ۔فی الحا ل ،انہیں کو ئی پرواہ نہیں ۔وہ آرام (سہو لیا ت ) کا مطا لبہ کر تے ہیں لیکن شہری خو بصو رتی سے لا پرواہ ہیں۔واقعی انہیں کو ئی ذوق نہیں ۔میں خود فلیٹس کے گندے سے بلاک میں رہتا ہوں لیکن اس با ت سے مجھے کو ئی پریشانی نہیں ہے۔جب تک ہم پریشان نہ ہوں لندن کو خوبصورتیسے دوبا رہ تعمیر کرنے کے تمام منصو بے خود بخود ناکام رہیں گے۔ منا سب جذبہ کیا ہے؟ہم مانتے ہیں کہ بنیا دی مسئلہ نفسیا تی ہے کہ کسی کا کی پا ئیداری کے لیے ضروری ہے کہ خدا کو وہ کام منظور ہو یعنی حکمت عملی ،معا شیا ت یا تجا رتی کانفرنسوں کے عمل سے پہلے ٹھوس ذہنی کیفیت کا ہو نا لا زمی ہے۔لیکن کو ن سی ذہنی کیفیت ٹھو س ہو تی ہے؟یہاں ہما ری را ئے میں اختلاف پایاجاتا ہے۔بہت سے لوگوں جب پوچھا جائے کہ تہذیب کودوبارہ تعمیرکرنے کے لیے کون سی روحا نی صفت درکا ر ہے تو وہ جواب دیں گے ”محبت “وہ کہتے ہیں کہ انسانوں کو ایک دوسرے سے لازماًمحبت ہون چاہیے۔قوموںکو بھی ایسا کرنا چا ہیے اس طرح ان انقلا بی تبدیلیوں کوجن سے ہمیں تبا ہی کا خطرہ لا حق ہے روکا جا سکے گا۔ (ادب سے مگر سختی سے)مجھے اس با ت سے اختلا ف ہے۔نجی زندگی میں محبت بہت بڑی قوت ہے ۔واقعی یہ عظیم ترین چیز ہے لیکن عوامی معاملا ت میں یہ کا رگر نہیں ہے۔اسے قرون وسطیٰ کی تہذیب با ربار آزما چکی ہے۔ انسانی بھا ئی چارہ کو ازسر نو قا ئم کر نے کی لا دینی تحریک انقلا ب فرانس بھی آزما ہو چکی ہے ۔یہ نظریہ کہ اقوام کو یا کاروبا ری فرموں اور مارکیٹنگ بو رڈوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو نی چا ہیے یا پرتگال کے کسی آ دمی کے پیروکار کے کسی آ دمی سے جس کے متعلق اس نے کبھی کچھ سنا ہی نہ تو محبت ہو نی چا ہیے بالکل فضو ل ،غیر حقیقی اور خطر ناک ہے۔یہ ہمیں خطرناک اور مہم جذباتیت کی طرف لے جاتا ہے۔ہم نعرہ تو یہ لگا تے ہیں ”صرف محبت ہی ہے جس کی ضرورت ہے۔“پھر بیٹھ جا تے ہیںاور دنیا پہلے کی طرح(اپنی ڈگرپر)جلتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف اسی چیز سے محبت کر سکتے ہیں جسےہم ذا تی طور پر جانتے ہیں ۔ہم زیا دہ نہیں جان سکتے ۔عوامی معاملات میں ،تہذیب کی ازسرنو تعمیر میں ایک کم ڈرا مائی اور جذبا تی چیز۔خصوصاًروداری(قوت برداشت)کی ضرورت ہے۔ رواداری بڑی خشک خوبی ہے،بورکرنے والی ہے۔محبت کے برعکس اس کا ہمیشہ برا اثر ہو تا ہے۔یہ منفی ہوتی ہے۔اس کا مطلب صرف لوگوں کے ساتھ گزاراکرنا اورباتیںبرداشت کرنا ہے۔نہ کسی نے کبھی رواداری کی تعریف میں قصیدہ لکھا ہے،نہ اس کی یا د میں کوئی مجسمہ تعمیرکیا ہے۔لیکن یہی ایسی صفت ہے جس کی جنگ کے بعد سب سے زیا دہ ضرورت ہو گی ۔یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جس کی ہمیں تلا ش ہے۔یہی واحد طاقت ہے جو مختلف نسلوں ،طبقوںاورمفادات کی تعمیرنو کے کام کے لیے مل بیٹھنے پرمائل کرسکتی ہے۔ دنیا خطرناک حد تک لوگوں سے بھری پڑی ہے۔پہلے کبھی اتنی آبادی نہیں دیکھنے میں آئی اورتمام لوگ ایک دوسرے پر گررہے ہیں ۔ان میں اکثر لوگوں کو نہ کو ئی جانتاہے نہ انہیں پسند کرتا ہے۔نہ ان کی جلدوں کے رنگ،نہ ان کی ناکوںکی شکل،نہ ان کے ناک کے صاف کرنے کے طریقوں،ان کی بو،نہ ان کے کپڑوں،نہ ان کی جاز (Jazz)کی پسند یا ناپسند وغیرہ کو آدمی پسند کرتا ہے۔اچھا کسی کو کیا کرنا چاہیے؟اس کے دوحل ہیں۔ایک تونازیوںجیسا حل ہے ۔اگر آپ لوگوںکوپسند نہیں کرتے توانہیںمارڈالیں۔جلا وطن کردیں۔علیحدہ کر دیں۔پھرادھر ادھر فخر سے چلتے ہو ئے یہ اعلان کر تے پھریں کہ آپ دنیا کی بہترین قوم ہیں ۔دوسرا طریقہ بہت کم لطف اندوز ہے،یہی جمہورتیوںکا طریقہ ہے اور میں اسے ترجیح دیتا ہوں ۔اگر آپ کو لو گ (یا قوم)پسندنہیں تو جہا ں تک ہو سکے ان کو برداشت کریں ۔ان سے محبت کرنے کی کوشش نہ کریں ۔آپ نہیں کرسکتے اس سے آپ پر ذہنی دباو¿ پڑے گا۔مگر انہیں برداشت کرنے کی کوشش کریں۔اس رواداری کی بنائپر مہذب مستقبل تعمیر ہو سکتا ہے۔یقینی طور پر جنگ عظیم کے بعد کی دنیا کی کو ئی اور بنیا د نظر نہیں آتی۔ ٍ اسے سب سے زیادہ منفی اوصاف کی ضروریا ت ہو گی:بدمزاج ،زودرنج نہ ہونا،جلدی سے غصے میں نہ آنا اور انتقا م لینے کی کوشش نہ کرنا ،مثبت جنگجو یا نہ نظریا ت میں میر ا بلکل یقین نہیں رہا ۔ہزاروں انسانو ں کے معذور یا قید ہو نے کے بعد ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔اس قسم کی باتوں مجھے نفرت اور دہشت ہے کہ”میں فلاں قوم کو پا ک کر دو گا “”فلاں شہر صا ف کر دوں گا ۔“جب دنیا خا لی تھی تو ایسی با توں کی اتنی ہمت نہ تھی۔اب جبکہ ایک قوم دوسری سے مل چکی ہے۔ اورایک شہر اپنے قریبی شہروں سے طبعی طور پر الگنہیں کیا جاسکتا یہ با تیں خو ف نا ک معلو م ہو تی ہیں ۔دوسری با ت یہ ہے کہ تعمیر نو کے تیز ہو نے کا بھی امکان نہیں ۔مجھے یقین نہیں ہے کہ نفسیا تی طور پر اس کے اہل ہیں ،نہ کبھی ما ہرین تعمیرات اتنی دا نا ئی سے منصو بہ بندی کرتے ہیں۔ہا ںشاید۔آخر کا ر ہما ری نسل کی تا ریخ اس امید کا جو از پیدا کر تی ہے۔لیکن تہذیب کی ایک اپنی پر اسرار با ز گشت ہو تی ہے اور معلوم ہو تا ہے کہ ہما ری تقدیر بھی یہ لکھی ہو ئی ہے ۔ہمیں ضرور اسے تسلیم کر لینا چا ہیے اور اس کے مطا بق عمل کرنا چا ہیے۔مجھے یقین ہے کہ امن کے قیا م کے بعد رواداری ضروری ہو جا ئے گی ۔کسی ٹھوس مثال کو سامنے رکھنا ہمیشہ مفید ہو تا ہے۔میں ہمیشہ اپنے آپ سے سوال کرتا را ہوں کہ اگر امن پر دستخط ہو جا ئیں تو مجھے کیا رویہ اپنانا چا ہیے ۔میں جرمنی کے با شندوںسے جوہما رے خلا ف لڑتے رہے تھے ملا ۔مجھے ان سے محبت کر نے کی کوشش نہیں کر نی چاہیے ۔مجھ اس بات پر ما ئل بھی نہیں ہو نا چاہیے۔انہوں نے کسی وجہ سے میرے چھوٹے سے گند فلیٹ کی کھڑتوڑ دی ہے۔لیکن میں انہیں برداشت کرنےکی کوشش کروں گا ۔کیو نکہ یہ عام فہم بات ہے۔کیونکہ جنگ کے بعددنیا میں ہمیں جرمنی کے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے گا۔ہم انہیں اس سے زیادہ نیست ونابود نہیںکرسکتے جتنا کہ وہ یہو دیوں کو نیست ونا بودکرنے میں کامیاب ہو ئے ۔ہمیں انہیں کسی بلند وجہ کے لیے برداشت نہیں کرنا پڑے گا بلکہ اس لیے اگلا کا م ہمیں یہی کرنا پڑے گا۔لہذا میں رواداری کو عظیم ،دائمی طور پر تسلیم شدہ روحانی اصول تصور نہیں کرتا اگر چہ میں اس نظریے کی تا ئید میں اس بات کا حوالہ دے سکتا ہو ں کہ ”میرے والد کے گھر میں بہت کمرے ہیں۔“ یہ زیا دہ آبا دی والے اور زیا دہ گرمی والے سیارے کے لیے صرف عا رضی انتقام ہے۔جب محبت ختم ہو جا تی ہے تو رواداری جا ری رہتی ہے اور جوں ہی ہم گھروں سے نکل کر دوستوں سے دور اجنبیوں کے درمیان آ لو لینے کی قطار میں کھڑے ہو تے ہیں محبت عموماًہو جا تی ہے۔قطا ر میں کھڑے ہو نے کے لیے برداشت کی ضرورت ہو تی ہے ورنہ ہم سو چتے ہیں”لو گ اتنے آہستہ کیوں ہیں ؟اس کی ٹیو ب (زیرِزمین ریلوے)میں ضرورت پڑتی ہے۔یا لو گ اتنے مو ٹے کیو ں ہو گے ؟اس کی فون کرتے وقت ضرورت ہو تی ہے۔وہ اتنے بہرے کیو ں ہو تے ہیں ،یا اس کے برعکس وہ منہ میں (آہستہ )کیوں بو لتے ہیں ؟اس کسی دفتر اور فیکٹر ی میں ضرورت ہوتی ہے ۔اس کی سب سے زیا دہ ضرورت طبقوں ،نسلوں اور قوموں کے درمیان ہے۔یہ ایک غیر دلچسپ اور خشک صفت ہے۔پھربھی اس کے لیے تخلیل ضروری ہے۔کیو نکہ آپ کے پا س اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ سمجھنے کا بہت سا وقت ہو تا ہے۔یہ ایک پسندیدہ روحا نی ورزش ہے۔دوسرے لو گو ں کو بر داشت کر نے کی انتھک کوشش کمزور اور بے عزتی کے قا بل سمجھی جا تی ہے ۔اس لیے فیا ض فطرت کے مالک لو گوں کو یہ نا گوار گزرتی ہے۔ مجھے رواداری کا مشورہ دینے والے زیا دہ عظیم لو گو ں کے نام یا د نہیں پڑ تے ۔سینٹ یال نے یقینا اس کا مشورہ نہیں دیا ۔نہ ہی ڈا نٹے نے،ہم چند نا م ضرور قابل ذکر ہیں ۔ہندو ستان میں دو ہزار سال قبل عظیم شہنشاہ اشوک کا نام آ تی ہے ۔اس نے اپنی مہمات کے لیے نہیں بلکہ رحم ،با ہمی افہام وتفہیم اور امن کے پرچار کے لیے کتبے تعمیر کر وا ئے ۔ہا لینڈ میں چا ر سو سال قبل ایک عالم اریسمس گزرا ہے جو تحریک اصلا ح کلیسا کے مذہبی جنون سے کنا رہ کش رہا ۔اس صدی میں فرانسیسی مفکر مون ٹان گزرا ہے جو حساس ،بذلہ سنج اور ذہین تھا ،جو اپنے پر سکو ن دیہا تی گھر میں رہتا تھا اور جس نے ایسے مضا مین لکھے جس سے اب بھی مہذب لو گ لطف اندوز ہو تے اور رہنما ئی حا صل کر تے ہیں ۔انگلستا ن میں جا ہن لا ک مفکر تھا ،سڈنی سمتھ تھا جو کہ آزاد اور روشن خیال ما ہر الحیا تھا ۔لووسن ڈکنسن جس نے A Modern Symposiumتحریر کی جسے رواداری کی انجیل کہا جا تا ہے اورہاں جرمنی گو ئٹے تھا ۔یہ تمام لو گ اس عقیدہ کی تصدیق کر تے ہیں جس کے اظہا ر کی کو شش کرتا رہا ہوں ۔یہ منفی عقیدہ مگر آبا دی سے بھر پور ڈگمگا تی ہو ئی جدید دنیا کے لیے نہا یت ضروری ہے۔ دو باتیں اور ہیں ۔پہلی بات یہ ہے کہ مذہبی جنون دوسروں میں دیکھنا تو آ سا ن ہے مگر اپنے آپ میں اس کی نشا ندہی مشکل ہے۔نسلی تعصب کی مثال لیجئے ہم اسے آسانی سے نا زیو ں میں ڈھو نڈ سکتے ہیں ۔جس وہ بر سر اقتدار آ ئے ان کا رویہ بد نام تھا ۔لیکن کیا ہم بے گناہ ہیں ؟ہم ان کی نسبت بہت کم مجرم ہیں۔لیکن کیا سلطنت بر طا نیہ میں کو ئی نسلی تعصب مو جو د نہیں ؟کیا وہا ں رنگ کا کو ئی مسئلہ نہیں ؟میں آپ کو اس با ت پر غور کی دعوت دیتا ہوں،ان لو گو ں کو ج نزدیک رواداری ایک مقدس لفظ سے بھی زیا دہ اہمیت رکھتی ہے ۔ میری دوسری با ت یہ کہ تنقید کو روکیے ۔رواداری ایسی نہیں ہے۔لو گو ں کو برداشت کرنے کا مطلب ان کے آگے جھکنا یا شکست ماننا نہیں یہ بات اس مسئلہ میں پیچید گی پیدا کر تی ہے لیکن تہذیب کی تعمیر نو لا زماًپیچیدہ ہے۔مجھے یقین ہے کہ جب خدا گھر کو تعمیر نہ کر ے اسے تعمیر کر نے والے بیکا ر کوشش کریں گے۔غالبا ًجب گھر مکمل ہو جا ئے گا تو محبت اس میں داخل ہو گی اور ہما ری نجی زندگیو ں کی عظیم ترین قوت عوامی زندگی پر حا وی ہو جا ئے گی ۔ نوٹ:یہ مضمون بی ایس کی کتاب سے لیا گیا ہے
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا | Atia jamali (15-10-08), Real_Light (24-10-08), منتظمین (14-10-08), محمدخلیل (14-10-08), محمدعدنان (25-10-08), ابن جلال (15-10-08) |
| کمائي نے عبدالقدوس کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 14-10-08 | محمدخلیل | achi infos hain | 10 |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جانے ميں كيا لكهنے جارہى ہوں, خدا كرے اس كا كوئ غلط مطلب نہ لے, خود كو روك نھيں پائى اس لئے ڈرتے ڈرتے لكھ رھى ہوں
شادى كے بعد قطر آئ, يہ پہلا ملک تھا جو میں نے دیکھا,اور جو بات آتے ساتھ محسوس کی کہ پاکستانی اور انڈینز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ,اور ہندی کا لفظ گالی کے طور پر استعمال ہوتا ہے,جب میرا پالا اس حقارت سے پڑا تو میں نے اس کا جواب برودت اور سرد مہری سے دیا ، وہ اگر مجھے نفرت سے دیکھتے تو میں تو انھیں سرے سے دیکھتی ھی نہی تھی, لیکن میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ,اور كھتا عطیہ تم تو ساری دنیا سے محبت کرنے کا دعوی کیا کرتی تھیں ,نفرت کو محبت میں بدلنے کا لوگوں کو فلسفہ سمجھاتی تھیں اب کیا ہوا،اب دو لیکچر کچھ سال گزرے اور اکلوتے لاڈلے بیٹے کو سکول ڈالنے کا وقت آگیا,عربی بچے مانشاءاللہ ھیکل میں دو گنا بڑے تھے,جو کچھ می نے سنا تھا اس کے بعد میں جانتی تھی کہ میں بچے کو سکول نہیں جنگل میں بھیج رھی ھوں , عربی سکول میں بچے کو پڑھانا خواھش بھی تھی اور مجبوری بھی,بچے کو چھ سال تک یہ تربیت دی تھی کہ مار کھانا یا اس جگہ سے بھاگ جانا مگر کسی پر ہاتھ نہ اٹھانا, جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تقریبا ایک سال تک یہ بچہ ہر روز مار کھاتا رھا ، ایک طرف ماں کا حکم اور دوسری طرف ان لڑکوں کی مار کا خوف,ساری ٹیچرز یھاں تک کہ سکول کی پرنسپل تک اسکی گرویدہ تہیں بس مشکل تھی تو یہ بچے، مجھے یقین نہی آتا تھا ،میں بچے سے پوچھتی ایسا کیسے ممکن ھے کہ کھ تمھیں کوئ بغیر کسی سبب کے مارے اور وہ کھتا کہ امی انکی عادت ھے وھ آتے جا تے بغیر کسی وجہ کے مارتے ھیں لیکن ایک دن تو حد ھو گئ بیٹے کی سکول کی بس دروازے پر کھڑی تھی اور میرا بیٹا گھر کے دروازے کے ھینڈل کو پکڑ کر اس کے ساتھ چپک گیا اور رو رو کر کھنے لگا میں سکول نھیں جاؤنگا ،ھم اسكاھاتھ پکڑ کر کھینچ رھے تھے مگر وہ دروازہ چھوڑ ھی نھیں رھا تھا,سوچا اس طرح تو اسے سکول سے نفرت ھوجائے گی ,اپنی ایک دوست کے پاس گئ جسکو عربی آتی تھی اور اسکے ساتھ سکول گئ قطری ٹیچر سے جب بات کی تو اسنے اپنا رونا رویا کھ پھلی کلاس کا بچا جوتے سے ٹیچر کو مارتا ھے گندھے اور کثیف ناموں سے اتنا چھوٹا بچہ معلمہ کو آواز دیتا ہے اور اسکا سارا وقت چیخنے اور انکو کنڑرول کرنے میں گزر جاتا ہے،عربیوں کو ھر سال ایک بچہ لانا ھے اور ھر بچے کے ساتھ ایک خدامہ ہند یا سریلنکا سے آجاتی ھے ،بچے سارا دن خدامہ کے ہاتھ میں ھیں یا سڑکوں پر ,ماں باپ کو تربیت کا ٹائم ھی نھیں, اور اس رات میں نے پوری شدت سے خدا کو یاد کیا اور کہا کہ امن کے راستہ پر چلنے کی یہ سزا تو نہ دے, خدا نے دعا سن لی اور دوسرے ہی دن بیٹے کی اسی لڑکے کے ساتھ دوستی ھوگئ جس سے اسنے سب سے زیادہ مار کھائ کیونکہ راغب (میرا بیٹا) نے اسے اس وقت سنبھالا جب اسے اسکا دوست مار کر بھاگ گیا اور وہ زخمی حالت میں تھا, راغب کے صبر اور رواداری(تحمل ،برداشت) سے وہ رواداری سے نکل کر محبت کے مرحلے تک پہنچ گیا تھا اس واقعہ سے عطیہ خانم کو بھی اپنا بھولا سبق یاد آگیا اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وھی ہندی پاکستانی عطیہ کے گھر عربی بچھے انگلش پڑھنے آتے ھیں ، اب مجھے میرا ضمیر ملامت نہیں کرتا، میں دلو جان سے انھیں پڑھاتی ھوں، اب میں فخر سے کہ سکتی ھوں کہ جتنا میں اپنے بچوں سے محبت کرتی ھوں اتنا ھی عربی بچوں سے، جتنی محبت اپنے ملک سےکرتی ھوں اتنی ہی قطر سے اب سرحدوں کی میں پرواہ نہی کرتی بس ضرورت صبر ،رواداری کی پریکٹس کی ھے جو آہستہ آہستہ آپکو ساری دنیا کو ایک ملک بنانے میں مدد کر سکتی ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ سچ ہے اور جو نہ مانے وہ منافق ہے۔۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (25-10-08) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
عالم عرب میں سکولوں کی حالت قابل رحم ہے۔ قطر میں پاکستانی سکول نہیں ہیں کیا؟ ذاتی معاملات میں درگزر کر دینا بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا لیکن جب اللہ کی حدود کی خلاف ورزی ہوتی تو اس کو سب سے زیادہ آگے بڑھ کر روکتے تھے ( یہ مفہوم ہے ان کے قول کا)۔
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌO 35. وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍO (فصلت۔ 34, 35) "اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا، اور یہ (خوبی) صرف اُنہی لوگوں کو عطا کی جاتی ہے جو صبر کرتے ہیں، اور یہ (توفیق) صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جو بڑے نصیب والا ہوتا ہے" |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ابن جلال (25-10-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: قطر
مراسلات: 608
کمائي: 6,734
شکریہ: 193
352 مراسلہ میں 770 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ٌقطر ميں پاكستانی سكول ہيں مگر دوحہ میں, اور ميرا شہر دوحہ سے كافى دور ہے، اور پھر مجھے بچوں کو ہر حال میں عربی سکول میں ڈالنا تھا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستانی, پسند, پسندیدہ, ورزش, قید, لوگ, لندن, نفرت, مکمل, منافق, معلوم, آبادی, آدمی, بہترین, تصویر, جواب, خدا, زندگی, سیارے, سال, عالم, صفت, صاف, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|