|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
![]() الف ا ۔ (اَ ۔ لِف ) ”ع ۔ ا۔ مذکّر” اُردو، فارسی اور عربی حُروفِ تہجّی کا پہلا حروف۔ الف کی دو قسمیں ہیں: ممدُدہ اور مقصُودہ۔ الف ممدُدہ کو کھینچ کر پڑھتے ہیں اور اس کے اُوپر مد آتا ہے جیسے آپ۔ آگ۔ آمد۔ الفِ مقصُودہ کو الف عمرودہ کی مانند کھینچ کر نہیں پڑھتے۔ جیسے اگر۔ سال۔ تاج۔ علامتی اعتبار سے الف کے معنی ہیں: خدائے واحد۔ حیقل کی لکیر۔ راستی۔ مفرد۔ اکیلا۔ بہادر۔ حسابِ ابجد میں اس کا عدد ایک ہے۔ ب ۔(بے) ”مؤنث” اُردو۔ فارسی اور عربی کا دُوسرا اور ہندی کا تیئیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے دو عدد مقرر ہیں۔ یہ حرف فارسی ترکیبوں میں مضوُّح اور عربی میں مکسُور ہوتا ہے۔ پ ۔(پے) اُردو اور فارسی کا تیسرا۔ ہندی کا اکیسواں حرف۔ ابجد کے حساب میں اس کے تین عدد مقرر ہیں۔ ت ۔(تے) ”مؤنث” اُردو و فارسی حروف تہجّی کا چوتھا، عربی کا تیسرا اور ہندی کا سولھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے چار عدد مقرّر ہیں۔ ٹ ۔(ٹے) ”ہ ۔ مؤنث” اُردو حروفِ تہجّی کا پانچواں اور ہندی زبان کا گیارھواں حرف۔ فارسی اور عربی زبانوں میں نہیں ہے۔ اسے تائے ثقیلہ اور تائے ہندی بھی کہتے ہیں۔ حسابِ ابجد میں اس کے اعداد چار سو ہیں۔ بعض کلمات کے آخر میں آکر مصدری معنی دیتا ہے۔ جیسے سجاوٹ۔بناوٹ۔ ث ۔(ثے) ”ع ۔مؤنث” اُردو کا چھٹا، فارسی کا پانچواں اور عربی کا چوتھا حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے 500 عدد ہیں۔ ج ۔(جِیم) ”مذکر و مؤنث” اُردو کا ساتواں، فارسی کا چھٹا، عربی کا پانچواں اور ہندی کا آٹھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے تین عدد ہیں۔ چ ۔۔(چے) ”ف ۔ مؤنث” اُردو کا آٹھواں، فارسی کا ساتواں اور ہندی کا چھٹا حرف۔ اسے جیم فارسی بھی کہتے ہیں۔ عربی میں یہ حرف نہیں ہے۔ حروف ابجد میں یہ جیم سمجھا جاتا ہے اور اس کے تین عدد ہی شمار کیے جاتے ہیں۔ ح ۔(حے) ”ع ۔ مؤنث” اُردو کا نواں، فارسی کا آٹھواں اور عربی کا چھٹا حرف۔ اسے حائے حُطّی، حائے مُہملہ اور حائے غیر منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ ابجد کے حساب میں اس کے آٹھ عدد مقرر ہیں۔ خ ۔(خے) ”ع ۔ مؤنث” اُردو کا دسواں، فارسی کا نواں اور عربی کا ساتواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے چھ سو عدد مقرر ہیں۔ د ۔(دال) ”ع ۔ مؤنث” اُردو کا گیارھواں، فارسی کا دسواں، عربی کا آٹھواں اور ہندی کا اٹھارھواں حرف۔ اسے دالِ معجمہ بھی کہتے ہیں۔ ابجد کے حساب میں اس کے چار عدد مقرر ہیں۔ ڈ ۔(ڈال) ” ہ ۔ مؤنث” اُردو کا بارھواں اور ہندی کا تیرھواں حرف۔ ابجد کے حساب میں اس کے چار عدد مقرر ہیں۔ ذ ۔(ذال) ” ع ۔ مذکر” اُردو کا تیرھواں، فارسی کا گیارھواں اور عربی کا نواں حرف۔ اسے ذالِ معجمہ یا منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ ابجد کے حساب میں اس کے 700 عدد مقرر ہیں۔ ر ۔(رے) ”ع ۔ مؤنث” اُردو کا چودھواں، فارسی کا بارھواں، عربی کا دسواں اور ہندی کا ستائیسواں حرف۔ اسے رائے مُہملہ اور رائے غیر منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ حسابِ ابجد میں اس کے دو سو عدد مقرر ہیں۔ ز ۔(زے) ”ع ۔ ا ۔ مؤنث” اُردو کا سولھواں، فارسی کا تیرھواں اور عربی کا گیارھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے سات عدد مقرر ہیں۔ ژ ۔(ژے) ”ف ۔ ا ۔ مؤنث” اُردو کا سترھواں اور فارسی کا چودھواں حرف۔ اسے زائے فارسی یا عجمی بھی کہتے ہیں۔ حسابِ ابجد میں اس کے سات عدد ہیں۔ س ۔(سین) ” ع ۔ ا۔ مذکر” اُردو کا اٹھارھواں، فارسی کا پندرھواں، عربی کا گیارھواں اور ہندی کا بتیسواں حرف۔ حساب ابجد میں اس کے ساٹھ عدد مقرر ہیں۔ ش ۔(شین) ”ع ۔ مذکر” اُردو کا اُنیسواں، فارسی کا سولھواں، عربی کا تیرھواں اور ہندی کا تیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے تین سو عدد مقرر ہیں۔ ص ۔(صاد ، صواد) ”ع ۔ مذکر” اُردو کا بیسواں، فارسی کا سترھواں اور عربی کا چودھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے نوے عدد فرض کیے گئے ہیں۔ اسے صادِ مہملہ یا صادِ غیر منقوطہ بھی کہتے ہیں۔ ض ۔(ضاد ۔ ضواد) ”ع ۔ مذکر” اُردو کا اکیسواں، فارسی کا اٹھارھواں اور عربی کا پندرھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے آٹھ سو عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ط ۔(طو۔اے) اُردو کا بائیسواں، فارسی کا اُنیسواں اور عربی کا سولھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے نو عدد مقرر ہیں۔ ظ ۔(ظو۔اے) ”ع ۔ ا ۔ مؤنث” اُردو کا تئیسواں، فارسی کا بیسواں اور عربی کا سترھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے نو سو عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ع ۔(عَین) ”ع ۔ ا ۔ مذکر” ۔1۔ اُردو کا چوبیسواں، فارسی کا اِکّیسواں اور عربی کا اٹھارھواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے 70 عدد فرض کیے گئے ہیں۔ 2۔ رکوع قرآن کا اشارہ ۔3۔ مصرع کی علامت ۔4۔ علیہ السّلام کا مخفف۔ غ ۔(غَین) ”ع ۔ مذکر” اُردو کا پچیسواں، فارسی کا بائیسواں اور عربی کا اُنیسواں حرف۔ ابجد کے حساب میں اس کے 100 عدد مقرر ہیں۔ ف ۔(فے) ”ع ۔ مؤنث” اُردو کا چھبیسواں، فارسی کا تئیسواں اور عربی کا چوبیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے اسّی عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ق ۔(قاف) ”ع ۔ مذکر” اُردو کا ستائیسواں، فارسی کا چوبیسواں اور عربی کا اکّیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے سو عدد مقرر ہیں۔ ک ۔(کاف) ” ع ۔ ا ۔ مذکر” اُردو کا اٹھائیسواں، فارسی کا بچیسواں، عربی کا بائیسواں اور ہندی کا پہلا حرف۔ ابجد میں اس کے بیس عدد فرض کیے گئے ہیں۔ گ ۔(گاف) ”مذکر” اُردو کا اُنتیسواں، فارسی کا چھبیسواں اور ہندی کا تیسرا حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے بھی بیس عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ل ۔(لام) ”ع ۔ ا۔ مذکر” اُردو کا تیسواں، فارسی کا ستائیسواں، عربی کا تیسواں اور ہندی کا اٹھائیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے تین عدد مانے جاتے ہیں۔ م ۔(مِیم) ”مذکر” اُردو کا اکتیسواں، فارسی کا اٹھائیسواں، عربی کا چوبیسواں اور ہندی کا پچیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے چالیس عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ن ۔(نون) ”مذکر” اُردو کا بتّیسواں، فارسی کا اُنتیسواں، عربی کا پچیسواں اور ہندی کا بیسواں حرف۔ ابجد میں اس کے پچاس عدد فرض کیے گئے ہیں۔ و ۔(واؤ) ”ع ۔ ا۔ مذکر و مؤنث” اُردو کا تینتیسواں، فارسی کا تیسواں، عربی کا چھبیسواں اور ہندی کا اُنتیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے چھ عدد مقرر ہیں۔ ہ ۔(ہا۔ ہے) ”ع۔ ا۔ مؤنث” اُردو کا چونتیسواں، فارسی کا اکتیسواں، عربی کا ستائیسواں اور ہندی کا تینتیسواں حرف۔ اسے ہائے مختفی اور ہائے ہوّز بھی کہتے ہیں۔ حسابِ ابجد میں اس کے پانچ عدد مقرر ہیں۔ ی ۔(یا۔ یے) ”ع” اُردو کا پینتیسواں، فارسی کا بتّیسواں، عربی کا اٹھائیسواں اور ہندی کا چھبیسواں حرف۔ حسابِ ابجد میں اس کے دس عدد فرض کیے گئے ہیں۔ ![]() ![]()
__________________
جاؤں صدقے سوہنے کلمے والے توں سوہنے نبی امت دے رکھوالے توں
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (23-04-10), منتظمین (23-10-07), راجہ صاحب (09-03-09), طارق راحیل (05-01-09), عرفان حیدر (20-12-07) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
علم الاعداد سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیئے یہ یقینا کام کی معلومات ہیں۔
شکریہ! |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,615
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی عمدہ جناب
اردو واحد زبان ہے جو ہندی میں لکھی الگ جاتی ہے اور بولی ایک جیسی جاتی ہے اور پنجابی زبان بھی اردو طرز پر لکھی جاتی ہے۔ اردو پنجابی اور ہندی کا بہت گھیرا تعلق ہے صدیوں سے |
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (23-04-10) |