واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم > ترجمہ و تفسیر



ترجمہ و تفسیر ترجمہ و تفسیر


قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-10-08, 09:11 PM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ ہمارے عام لوگوں میں قرآن کریم سمجھ کر پڑھنے اور اس کتاب پاک کے حقیقی مدعا سے روشناس ہونے کی طلب پچھلی دہائیوں کی نسبت بہت بہتر ہوئی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے ہر روز نشر ہونے والا تلاوت و ترجمہ باقاعدگی سے سننا کئی لوگوں کا معمول بن چکا ہے۔ فللہ الحمد والمنۃ۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ عام لوگوں کے ذہنوں میں قرآن کریم کے بارے میں‌کئی سوال اٹھتے ہیں لیکن وہ کسی عالم سے اس کا جواب پوچھنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ خود میرے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ پاک نیٹ پر قرآن پراجیکٹ کے نام سے ترجمے اکٹھے کرنے کا کام شروع ہے اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ علماء کی وہ تحریریں اصل حالت میں یا ربط کلام قائم رکھنے کے لیے مناسب اضافے و ترمیم کے ساتھ یہاں اکٹھی کر دوں جو اس قسم کی الجھنوں کو صاف کرنے کے لیے لکھی گئی ہیں۔
براہ مہربانی اپنی آراء اور تجاویز "قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول، آراء اور تجاویز" میں لکھیے تا کہ یہاں پر مراسلات کا تسلسل برقرار رہ سکے۔
اِس کام میں میرے پیش نظر علماء اور محقیقن کی ضروریات نہیں ہیں، اور نہ اُن لوگوں کی ضروریات ہیں جو عربی زبان اور علومِ دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد قرآن مجید کا گہرا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں جن لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں وہ عام لوگ ہیں جو عربی سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اور علوم قرآن کے وسیع ذخیرے سے استفادہ کرنا جن کے لیے ممکن نہیں ہے۔
یہ مراسلے مقدمہ تفہیم القرآن سے تیار کیے گئے ہیں

Last edited by عبداللہ حیدر; 08-07-10 at 11:23 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
asakpke (21-06-11), shafirajput (20-06-11), فاروق سرورخان (27-10-08), میاں شاہد (24-10-08), ابن جلال (27-10-08), خالد احمد صدیقی (24-10-08), سیپ (19-04-09), عبداللہ خراسانی (20-06-11), غلام خان (23-06-11)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
24-10-08 خالد احمد صدیقی Jazak ALLAH 150
24-10-08 میاں شاہد دستیاب نہیں 150
پرانا 23-10-08, 11:27 PM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default لفظی تراجمے کی خامیاں اور تراجم سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ

لفظی تراجمے کی خامیاں اور تراجم سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ
لفظی ترجمہ آجکل آسانی سے دستیاب ہے، ضروری ہے کہ ترجمے کے اس طریق کار کی خوبیوں اور خامیوں کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ممکن ہو سکے۔
لفظی ترجمے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو قرآن کے ہر ہر لفظ کا مطلب معلوم ہو جاتا اور وہ ہر آیت کے نیچے اس کا ترجمہ پڑھ کا کر جان لیتا ہے کہ اس آیت میں یہ کچھ فرمایا گیا ہے۔ قرآنی عربی سیکھنے والوں کے لیے یہ طریقہ نہایت مفید ہے۔ پانچ چھے پارے لفظی ترجمے کے ساتھ یاد کر لیے جائیں تو آدمی قرآن سن کر کچھ نہ کچھ سمجھ جاتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ لیکن اس فائدے کے ساتھ اس طریقے میں کئی پہلو نقص کے بھی ہیں۔ جن کی وجہ سے ایک غیر عربی داں ناظر قرآن مجید سے اچھی طرح مستفید نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہ لیجیے کہ جن لوگوں نے اس طریقے کو اپنایا ہے میں ان پر تنقید کر رہا ہوں، ان کی مساعی نہایت قابل قدر ہیں یہاں صرف اس کی خامیوں پر اصولی بات کی گئی ہے تا کہ جو لوگ لفظ بہ لفظ ترجمہ پڑھنا چاہتا ہیں ان کے لیے نشان منزل واضح ہو جائیں۔
بلاغت اور زورِ بیان کا فقدان:
پہلی چیز جو ایک لفظی ترجمے کو پڑھتے وقت محسوس ہوتی ہے وہ روانی عبارت، زورِ بیاں، بلاغت زبان اور تاثیرِ کلام کا فقدان ہے۔ قرآن کی سطروں کے نیچے آدمی کو ایک ایسی بے جان عبارت ملتی ہے جسے پڑھ کر نہ اس کی روح وجد میں آتی ہے، نہ اس کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، نہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں، نہ اس کے جذبات میں کوئی طوفان برپا ہوتا ہے، نہ اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چیز عقل و فکر کو تسخیر کرتی ہوئی قلب و جگر تک اترتی چلی جا رہی ہے۔ اس طرح کا کوئی تاثر رونما ہونا تو درکنار، ترجمے کو پڑھتے وقت تو بسا اوقات آدمی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا واقعی یہی وہ کتاب ہے جس کی نظیر لانے کے لیے دنیا بھر کو چیلنج دیا گیا تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفطٰ ترجمے کی چھَلنی صرف دوا کے خشک اجزاء ہی کو اپنے اندر سے گزرنے دیتی ہے۔ رہی ادب کی وہ تیز و تند سپرٹ جو قرآن کی اصل عبارت میں بھری ہوئی ہے، اس کا کوئی حصہ ترجمے میں شامل نہیں ہونے پاتا۔ وہ اِس چھَلنی کے اُوپر ہی سے اڑ جاتی ہے۔ حالانکہ قرآن کی تاثیر میں اس کی پاکیزہ تعلیم اور اس کے عالی قدر مضامین کا جتنا حصہ ہے، اس کے ادب کا حصہ بھی اس سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہی تو وہ چیز ہے جو سنگ دل سے سنگ دل آدمی کا دل بھی پگھلا دیتی ہے۔ جس نے بجلی کے کڑکے کی طرح عرب کی ساری زمین ہلا دی تھی۔ جس کی قوت تاثیر کا لوہا اس کے شدید ترین مخالفین تک مانتے تھے اور ڈرتے تھے کہ یہ جادو اثر کلام جو سنے گا وہ بالآخر نقدِ دل ہار بیٹھے گا۔ یہ چیز اگر قرآن میں نہ ہوتی اور وہ اسی طرح کی زبان میں نازل ہوا ہوتا جیسی اس کے ترجموں میں ہم کو ملتی ہے تو اہل عرب کے دلوں کو گرمانے اور نرمانے میں اسے ہرگز وہ کامیابی نہ حاصل ہو سکتی جو فی الواقع اسے حاصل ہوئی۔
جدا جدا لفظ اور فقرے
لفظی ترجموں سے طبائع کے پوری طرح متاثر نہ ہو سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ترجمے بالعموم بَین السطور درج کیے جاتے ہیں، یا نئے طرز کے مطابق صفحے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک طرف کلام اللہ اور دوسری طرف ترجمہ لکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ اُس غرض کے لیے تو عین مناسب ہے جس کی خاطر آدمی لفظی ترجمہ پڑھتا ہے، کیونکہ اس طرح ہر لفظ اور ہر آیت کے مقابلے میں اس کا ترجمہ ملتا جاتا ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہے کہ ایک آدمی جس طرح دوسری کتابوں کو پڑھتا ااور ان سے اثر قبول کرتا ہے، اُس طرح وہ ترجمہ قرآن کو نہ تو مسلسل پڑھ سکتا ہے اور نہ اس سے اثر قبول کر سکتا ہے، کیونکہ بار بار ایک اجنبی زبان کی عبارت اس کے مطالعہ کی راہ میں حائل ہوتی رہتی ہے۔ انگریزی ترجموں میں اس سے بھی زیادہ بے اثری پیدا کرنے کا ایک سبب یہ ہے کہ بائیبل کے ترجمے کی پیروی میں قرآن کی ہر آیت کا ترجمہ الگ الگ نمبر وار درج کیا جاتا ہے۔ آپ کسی بہتر سے بہتر مضمون کو لے کر ذرا اس کے فقرے فقرے کو الگ کر دیجیے اور اوپر سے نیچے نمبر وار لکھ کر اسے پڑھیے۔ آپ کو خود محسوس ہو جائے گا کہ مربوط اور مسلسل عبارت سے جو اثر آپ کے ذہن پر پڑتا تھا اس سے آدھا اثر بھی اِن جدا جدا فقروں کو پڑھنے سے نہیں پڑتا۔
تقریری اور تحریری زبان میں فرق
ایک اور وجہ، اور بڑی اہم وجہ لفظی ترجمے کے غیر موثر ہونے کی یہ ہے کہ قرآن کا طرز بیان تحریری نہیں بلکہ تقریری ہے۔ اگر اس کو منتقل کرتے وقت تقریر کی زبان کو تحریر کی زبان میں تبدیل نہ کیا جائے اور جوں کا توں اس کا ترجمہ کر ڈالا جائے تو ساری عبارت غیر مربوط ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن مجید ابتداءً لکھے ہوئے رسالوں کی شکل میں شائع نہیں کیا گیا تھا بلکہ دعوتِ اسلامی کے سلسلے میں حسبِ موقع و ضرورت ایک تقریر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نازل کی جاتی تھی اور آپ اسے ایک خطبے کی شکل میں لوگوں کو سُناتے تھے۔ تقریر کی زبان اور تحریر کی زبان میں فطرتًا بڑا فرق ہوتا ہے۔ مثلًا تحریر میں ایک شبہ کو بیان کر کے اسے رفع کیے جاتا ہے۔ مگر تقریر میں شبہ کرنے والے خود سامنے موجود ہوتے ہیں، اس لیے بسا اوقات یہ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی کہ “لوگ ایسا کہتے ہیں”، بلکہ مقرر آمد سخن ہی میں ایک فقرہ ایسا کہہ جاتا ہے جو ان کے شبہ کا جواب ہوتا ہے۔ تحریر مین سلسلہ کلام سے الگ مگر اس سے قریبی تعلق رکھنے والی کوئی بات کہنی ہو تو اس کو جملہ معترضہ کے طور پر کسی نہ کسی طرح عبارت سے جدا کر کے لکھا جاتا ہے تا کہ ربطِ کلام ٹوٹنے نہ پائے۔ لیکن تقریر میں صرف لہجہ اور طرز خطاب بدل کر ایک مقرر بڑے بڑے جملہائے معترضہ بولتا چلا جاتا ہے اور کوئی بے ربطی محسوس نہین ہوتی۔ تحریر میں بیان کا تعلق ماحول سے جوڑنے کے لیے الفاظ سے کام لینا پڑتا ہے۔ لیکن تقریر میں ماحول خود ہی بیان سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے اور ماحول کی طرف اشارہ کیے بغیر جو باتیں کہی جاتی ہیں، ان کے درمیان کوئی خلا محسوس نہیں ہوتا۔ تقریر میں متکلم اور مخاطب بار بار بدلتے ہیں۔ مقرر اپنے زور کلام میں موقع و محل کے لحاظ سے کبھی ایک ہی گروہ کا ذکر بصیغہ غائب کرتا ہے اور کبھی اسے حاضر سمجھ کر براہ راست خطاب کرتا ہے، کبھی واحد کا صیغہ بولتا ہے اور کبھی جمع کے صیغے میں استعمال کرنے لگتا ہے۔ متکلم وہ خود ہوتا ہے، کبھی کسی گروہ کی طرف سے بولنے لگتا ہے، کبھی کسی بالائی طاقت کی نمائندگی کرنے لگتا ہے اور کبھی وہ بالائی طاقت خود اس کی زبان سے بولنے لگتی ہے۔ تقریر میں یہ چیز ایک حسن پیدا کرتی ہے، مگر تحریر میں آکر یہی چیز بے جوڑ ہو جاتی ہے۔ یہی وجوہ ہیں کہ جب کسی تقریر کو تحریر کی شکل میں لایا جاتا ہے تو اس کو پڑھتے وقت آدمی لازمًا ایک طرح کی بے ربطی محسوس کرتا ہے اور یہ احساس اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے جتنا اصل تقریر کے حالات اور ماحول سے آدمی دور ہوتا جاتا ہے۔ خود قرآنِ عربی میں بھی ناواقف لوگ جس بے ربطی کی شکایت کرتے ہیں، اس کی اصلیت یہی ہے۔ وہاں تو اس کو دور کرنے کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ تفسیری حواشی کے ذریعہ سے ربطِ کلام کو واضح کیا جائے، کیونکہ قرآن کی اصل عبارت میں کوئی کمی بیشی کرنا حرام ہے۔ لیکن کسی دوسری زبان میں قرآن کی ترجمانی کرتے ہوئے اگر تقریر کی زبان کو احتیاط کے ساتھ تحریر کی زبان میں تبدیل کر لیا جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ یہ بے ربطی دور پو سکتی ہے۔
پس منظر اور شان نزول
علاوہ بریں، جیسا کہ ابھی میں اشارۃً عرض کر چکا ہوں، قرآن مجید کی ہر سورت دراصل ایک تقریر تھی جو دعوت اسلامی کے کسی مرحلے میں ایک خاص موقع پر نازل ہوتی تھی۔ اس کا ایک خاص پس منظر ہوتا تھا۔ کچھ مخصوص حالات اس کا تقاضا کرتے تھے۔ اور کچھ ضرورتیں ہوتی تھیں جنھیں پورا کرنے کے لیے وہ اترتی تھی۔ اپنے اُس پس منظر اور اپنی اُس شانِ نزول کے ساتھ قرآن کی اِن سورتوں کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اگر اس سے الگ کر کے مجّرد الفاظ کا ترجمہ آدمی کے سامنے رکھ دیا جائے تو بہت سے باتوں کو وہ قطعًا نہیں سمجھے گا، اور بعض باتوں کو اُلٹا سمجھ جائے گا، اور قرآن کا پورا مدّعا تو شاید کہیں اس کی گرفت میں آئے گا ہی نہیں۔ قرآن عربی کے معاملے میں اس مشکل کو دور کرنے کے لیے تفسیر سے مدد لینی پڑتی ہے، کیونکہ اصل قرآن میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن دوسری زبان مین ہم اتنی آزادی برت سکتے ہیں کہ قرآن کی ترجمانی کرتے وقت کلام کا کسی نہ کسی حد تک اس کے پس منظر اور اس کے حالاتِ نزول کےساتھ جوڑتے جائیں، تا کہ ناظر کے لیے وہ پوری طرح با معنی ہو سکے۔
خاص اصطلاحات
پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ قرآن اگرچہ عربی مبین میں نازل ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ وہ اپنی ایک مخصوص اصطلاحی زبان بھی رکھتا ہے۔ اس نے بکثرت الفاظ کو ان کے اصل لُغَوِی معنی سے ہٹا کر ایک خاص معنی میں استعمال کیا ہے، اور بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کو وہ مختلف مواقع پر مختلف مفہومات میں استعمال کرتا ہے۔ پابندی لفظ کےساتھ جو ترجمے کیے جاتے ہیں ان میں اس اصطلاحی زبان کی رعایت ملحوظ رکھنا بہت مشکل ہے، اور اس کے ملحوظ نہ رہنے سے بسا اوقات ناظرین طرح طرح کی الجھنوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مثلا ایک لفظ کفر کو لیجیے جو قرآن کی اصطلاح مٰں اصل عربی لغت اور ہمارے فقہا و متکلمین کی اصطلاح دونوں سے مختلف معنی رکھتا ہے، اور پھر خود قرآن میں بھی ہر جگہ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ کہیں اس سے مراد مکمل غیرایمانی حالت ہے، کہیں یہ مجرّد انکار کے معنی میں آیا ہے، کہیں اس سے محض ناشکری اور احسان فراموشی مراد لی گئی ہے۔ کہیں مقتضیاتِ ایمان میں سے کسی کو پورا نہ کرنے پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔ کہیں اعتقادی اقرار مگر عملی انکار یا نافرمانی کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے۔ کہیں ظاہری اطاعت مگر باطنی بے اعتقادی کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان مختلف مواقع پر اگر ہم ہر جگہ کفر کا ترجمہ کفر ہی کرتے چلے جائیں، یا اَور کسی لفظ کا التزام کر لیں تو بلاشبہ ترجمہ اپنی جگہ صحیح ہو گا لیکن ناظرین کہیں مطلب سے محروم رہ جائیں گے، کہیں کسی غلط فہمی کے شکار ہوں گے، اور کہیں خلجان میں پڑ جائیں گے۔
تراجم سے فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ:
اگر آپ قرآن کریم سمجھنے کے لیے لفظی ترجمے کا استعمال کرتے ہیں تو اوپر بیان کیے گئے نکات کو ذہن میں رکھیے، مطالعے کے دوران پیش آنی والی بہت سی الجھنیں دور ہو جائیں گی ان شاء اللہ۔ جو لوگ قرآن مجید کے ترجموں سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیں ان کو میں مشورہ دوں گا کہ قرآن مجید کا جتنا حصہ وہ معمولًا پڑھتے ہوں اس کی ایک ایک آیت کا لفظی ترجمہ پہلے پڑھ لیں، اس کے بعد اس حصے کا بامحاورہ ترجمہ مسلسل ایک عبارت کے طور پر پڑھیں تا کہ قرآن کے اس حصے کا پورا مضمون بیک وقت ان کے سامنے آ جائے۔ پھر ایک ایک آیت کی تفصیل کسی مستند تفسیر سے پڑھ لیں۔ اس طرح پڑھنے سے مجھے توقع ہے کہ ایک عام ناظر کو قرآن کی عالمانہ واقفیت نہ سہی، عامیانہ واقفیت ان شاء اللہ بخوبی حاصل ہو جائے گی۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 23-10-08 at 11:37 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), فاروق سرورخان (27-10-08), میاں شاہد (24-10-08), ابن جلال (27-10-08), احمد نذیر (22-06-11), خالد احمد صدیقی (24-10-08), عادل سہیل (27-10-08), غلام خان (23-06-11)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
24-10-08 میاں شاہد دستیاب نہیں 150
پرانا 24-10-08, 05:12 PM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کا موضوع کیا ہے؟

قرآن کریم کا موضوع کیا ہے؟

عام طور پر ہم جن کتابوں کے پڑھنے کے عادی ہیں، ان میں ایک متعین موضوع پر معلومات خیالات اور دلائل کو ایک خاص تصنیفی ترتیب کے ساتھ مسلسلہ بیان کیا جاتا ہے۔ اسی بناء پر جب ایک شخص جو قرآن سے ابھی تک اجنبی رہا ہے پہلی مرتبہ اس کتاب کے مطالعے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ یہ توقع لیے ھوئے آگے بڑھتا ہے کہ کتاب ہونے کی حیثیت سے اس میں بھی عام کتابوں کی طرح پہلے موضوع کا تعین ہو گا پھر اصل مضمون کو ابواب اور فصول میں تقسیم کر کے ترتیب وار ایک ایک مسئلے پر بحث کی جاۓ گی اور اسی طرح زندگی کے ایک ایک شعبے کو بھی الگ الگ لے کر اس کے متعلق احکام و ہدایات سلسلہ وار درج ہوں گی۔ لیکن جب وہ کتاب کھول کر مطالعہ شروع کرتا ہے تو یہاں اسے اپنی توقع کے بالکل خلاف ایک دوسرے ہی انداز بیان سے سابقہ پیش آتا ہے جس سے وہ اب تک بالکل ناآشنا تھا۔ یہاں وہ دیکھتا ہے کہ اعتقادی مسائل اخلاقی ہدایات شرعی احکام دعوت ،نصیحت عبرت تنقید ملامت ، بشارت تسلی دلائل شواھد تاریخی آثار کائنات کی طرف اشارے بار بار ایک دوسرے کے بعد آ رہے ہیں۔ ایک ہی مضمون مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ میں دہرایا جا رہا ہے۔ ایک مضمون کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اچانک شروع ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایک مضمون کے بیچ میں دوسرا مضمون یکایک آ جاتا ہے ۔ مخاطب اور متکلم بار بار بدلتے ہیں اور خطاب کا رخ رہ رہ کر مختلف سمتوں ميں پھرتا ہے۔ بابوں اور فصلوں کی تقسیم کا کہیں نشان نہیں۔ تاریخ ہے تو تاريخ نگاری کے انداز میں نہیں۔ فلسفہ و مابعد الطبیعیات ہیں تو منطق و فلسفہ کی زبان میں نہیں۔ انسان اور موجودات عالم کا ذکر ہے تو علوم طبیعی کے طریقے پر نہيں۔ تمدن و سیاست اور معیشت و معاشرت کی گفتگو ہے تو علم عمران کے طرز پر نہيں۔ قانونی احکام اور اصول قانون کا بیان ہےتو مضمون کے ڈھنگ سے بالکل مختلف ۔ اخلاق کی تعلیم ہے تو فلسفہ اخلاق کے سارے لٹریچر سے اس کا انداز جدا۔ یہ سب کچھ اپنے سابق کتابی تصور کے خلاف پا کر آدمی پریشان ہو جاتا ہے اور اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ ایک غیر مرتب ، غیر مربوط منتشر کلام ہے جو اول سےلے کر آخر تک بے شمار چھوٹے بڑے مختلف شذرات پر مشتمل ہے، مگر مسلسل عبارت کی شکل میں لکھ دیا گيا ہے۔ مخالفانہ نقطہ نظر سےدیکھنے والا اسی پر طرح طرح کے اعتاضات کی بنا رکھ دیتا ہے ۔ اور موانقانہ نقطہ نظر رکھنے والا کبھی معنی کی طرف سےآنکھیں بند کر کے شکوک سے بچنے کی کوشش کرتا ہے کبھی اس ظاہر بے ترتیبی کی تاویلیں کر کے اپنے دل کو سمجھا لیتاہے ، کبھی مصنوعی طریقے سے ربط تلاش کر کے عجیب عجیب نتائج نکالتا ہے اور کبھی نظریہ شذرات کو قبول کر لیتا ہے جس کی وجہ سے ہر آیت اپنے سیاق و سباق سے الگ ہو کر ایسی منفی طریقوں کی آماج گاہ بن جاتی ہے جو قائل کے منشاء کے خلاف ہوتی ہیں۔
پھر ایک کتاب کو اچھی طرح سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ پڑھنے والے کو اس کا موضوع معلوم ہو، اس کے مقصد و مدعا اوراس کے مرکزی مضمون کا علم ہو، اس کے انداز بیان سے واقفیت ہو، اس کی اصطلاحی زبان اور اس کے مخصوص طرز تعبیر سے شناسائی ہو،اور اس کے بیانات اپنی ظاہری عبارت کے پیچھے جن احوال و معاملات سے تعلق رکھتے ہوں وہ بھی نظر کے سامنے رہیں۔ عام طور پر جو کتابیں ہم پڑھتے ہیں ان میں یہ چيزيں بآسانی مل جاتی ہیں۔ اس لیے ان کے مضامین کی تہہ تک پہنچنے میں ہمیں کوئی بڑی زحمت نہیں ہوتی۔ مگر قرآن میں یہ اس طرح نہيں ملتیں جس طرح ہم دوسری کتابوں میں انہیں پانے کے عادی رہے ہیں۔ اس لیے ایک عام کتاب خواں کی سی ذہنیت لے کر جب ہم میں کا کوئی شخص قرآن کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو اسے کتاب کے موضوع مدعا اور مرکزی مضمون کا سراغ نہیں ملتا۔ اس کا انداز اور بیان طرز تعبیر بھی اسے کچھ اجنبی سا محسوس ہوتا ہے اور اکثر مقامات پر اس کی عبارات کا پس منظر بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ متفرق آیات میں حکمت کے جو موتی بکھرے ہوۓ ہیں ان سے کم و بیش مستفید ہونے کے باوجود آدمی کلام اللہ کی اصلی روح تک پہنچنے سے محروم رہ جاتا ہے اور علم کتاب حاصل کرنے کے بجاۓ اس کو کتاب کے محض چند منتشر نکات و فوائد پر قناحت کو لینی پڑتی ہے ۔ بلکہ اکثر لوگ جو قرآن کا مطالعہ کر کے شبہات میں مبتلا ہو جاتےہیں ان کے بھٹکنےکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فہم کتاب کے ان ضروری مبادی سے ناواقف رہتے ہوۓ جب وہ قرآن کو پڑھتے ہیں تو اس کے صفحات پر مختلف مضامین انہیں بکھرے ہوۓ نظر آتے ہیں۔ بکثرت آیات کا مطلب ان پر نہیں کھلتا، بہت سی آیات کو دیکھتے ہیں کہ بجاۓ خود نور حکمت سے جگمگا رہی ہیں۔ مگر سیاق عبارت میں بالکل بے جوڑ محسوس ہوتی ہیں، متعدد مقامات پر تعبیرات اور اسلوب بیان کی ناواقفیت انہیں اصل مطلب سے ہٹا کر کسی اور ہی طرف لے جاتی ہے، اور اکثر مواقع پر پس منظر کا صحیح علم نہ ہونے سے غلط فہمیاں پیش آتی ہیں۔
قرآن کس قسم کی کتاب ہے ؟ اس کے نزول کی کیفیت اور اس کی ترتیب کی نوعیت کیا ہے؟ اس کا موضوع گفتگو کیا ہے؟ اس کی ساری بحث کس مدعا کےلیے ہے؟ کس مرکزی مضمون کے ساتھ اس کے یہ بے شمار مختلف النوع مضامین وابستہ ہیں؟ کیا طرز استدلال اور کیا طرز بیان اس نے اپنے مدعا کے لیے اختیار کیا ہے؟ یہ اور ایسے ہی دوسرے چند ضروری سوالات ہیں جن کاجواب صاف اور سیدھے طریقے سے اگر آدمی کو ابتدا ہی میں مل جاۓ تو وہ بہت سے خطرات سے بچ سکتا ہے اور اس کے لیے فہم و تدبر کی راہیں کشادہ ہو سکتی ہیں۔ جو شخص قرآن میں تصنیفی ترتیب تلاش کرتا ہے اور وہاں اسے نہ پا کر کتاب کے صفحات میں بھٹکنےلگتا ہے اس کی پریشانی کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ مطالعہ قرآن کے ان مبادی سے نا واقف ہوتا ہے۔ وہ اس گمان کے ساتھ مطالعہ شروع کرتا ہے کہ وہ مذہب کے موضوع پر ایک کتاب پڑھنے چلا ہے۔ مذہب کا موضوع اور کتاب ان دونوں کا تصور اس کے ذہن میں وہی ہوتاہے جو بالعموم مذہب اور کتاب کے متعلق ذہنوں میں پایا جاتا ہے مگر جب وہاں اسے اپنے ذہنی تصور سے بالکل ہی مختلف ایک چیز سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے مانوس نہیں کر سکتا اور سر رشتہ مضمون ہاتھ نہ آنے کے باعث بین السطور یوں بھٹکنا شروع کر دیتا ہے جیسے دو ایک اجنبی مسافر ہے جو کسی نۓ شہر کی گلیوں میں کھو گیا ہے۔ اس گم گشتگی سے وہ بچ جاۓ اگر اسے پہلے ہی یہ بتا دیا جاۓ کہ تم جس کتاب کوپڑھنے جا رہے ہو وہ تمام دنیا کے لٹریچرمیں اپنے طرز کی ایک ہی کتاب ہے اس کی تصنیف دنیا کی ساری کتابوں سے بالکل مختلف طور پر ہوئی ہے۔ اپنے موضوع اور مضمون اور ترتیب کے لحاظ سے بھی وہ ایک نرالی چيز ہے لہذا تمہارے ذہن کا وہ کتابی سانچہ جواب تک کی کتب بینی سے بنا ہے، اس کتاب کے سمجھنے میں تمھاری مدد نہ کرے گا بلکہ الٹا مزاحم ہو گا۔ اسے سمجھنا چاہتے ہو تو اپنے پہلے سے قائم کیے ہوۓ قیاسات کو ذہن سے نکال کر اس کی عجیب خصوصیات سے شناسائی حاصل کرو۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 24-10-08 at 05:23 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), فاروق سرورخان (27-10-08), میاں شاہد (24-10-08), ابن جلال (27-10-08), احمد نذیر (22-06-11), خالد احمد صدیقی (24-10-08), غلام خان (23-06-11)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
24-10-08 میاں شاہد دستیاب نہیں 150
پرانا 24-10-08, 05:49 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

پچھلے مراسلے میں ان الجھنوں کا ذکر کیا گیا جو قرآن کے مرکزی موضوع سے ناواقفیت کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ اب اختصار کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کا موضوع کیا ہے، اس کا مرکزی مضمون کیا ہے اور یہ کتاب انسانوں سے کیا چاہتی ہے۔
موضوع
اُس کا موضوع “انسان” ہے، اس اعتبار سے کہ اِس کا نزول انسان کی فلاح کے لیے ہوا ہے، اس اعتبار سے کہ اس کی فلاح اور اس کا خُسران کس چیز میں ہے۔
مرکزی مضمون
اُس کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ظاہر بینی یا قیاس آرائی یا خواہش کی غلامی کے سبب سے انسان نے اللہ اور اللہ کی بنائی ہوئی کائنات اور خود اپنی ہستی اور اپنی دُنیوی زندگی کے متعلق جو نظریات قائم کیے ہیں اور ان نظریات اور عقیدوں کی بنا پر جو رویے اختیار کر لیے ہیں وہ سب حقیقت نفس الامری کے لحاظ سے غلط اور نتیجے کے اعتبار سے خود انسان ہی کے لیے تباہ کن ہیں، حقیقت وہ ہے جو انسان کو خلیفہ بناتے وقت اللہ نے خود بتا دی تھی۔
مدعا
اس کا مدعا انسان کو اُس صحیح رویہ کی طرف دعوت دینا اور اللہ کی اُس ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ہے جسے انسان اپنے غفلت سے گُم اور اپنی شرارت سے مسخ کرتا رہا ہے۔
ان تین بنیادی امور کو ذہن میں رکھ کر کوئی شخص قرآن کو دیکھے تو اسے صاف نظر آئے گا کہ یہ کتاب کہیں اپنے موضوع اور اپنے مدعا اور مرکزی مضمون سے نہیں ہٹتی۔ اول سے لے کر آخر تک اس کے مختلف النوع مضامین اس کے مرکزی مضمون کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہار کے چھوٹے بڑے رنگ برنگ جواہر ہار کے رشتے میں مربوط و منسلک ہوتے ہیں۔ وہ زمین و آسمان کی ساخت پر، انسان کی خلقت پر، آثار کائنات کے مشاہدات اور گزری ہوئی قوموں کے واقعات پر گفتگو کرتا ہے، مختلف قوموں کے عقائد و اخلاق اور اعمال پر تنقید کرتا ہے، مابعد الطبیعی امور و مسائل کی تشریح کرتا ہے، اور بہت سی دوسری چیزوں کا ذکر بھی کرتا ہے، مگر اس لیے نہیں کہ اسے طبیعات یا تاریخ یا فلسفے یا کسی اور فن کی تعلیم دینی ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے حقیقت نفس الامری کے متعلق انسان کی غلط فہمیاں دور کرنی ہیں، اصل حقیقت لوگوں کے ذہن نشین کرنی ہے، خلاف حقیقت رویہ کہ غلطی و بد انجامی واضح کرنی ہے، اور اس رویہ کی طرف دعوت دینی ہے جو مطابق حقیقت اور خوش انجام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں ہر چیز کا ذکر صرف اُس حد تک اور اُس انداز میں کیا گیا ہے جو اس کے مدعا کے لیے ضروری ہے۔ ہمیشہ ان چیزوں کا ذکر بقدر ضرورت کرنے کے بعد غیر متعلق تفصیلات کو چھوڑ کر اپنے مقصد اور مرکزی مضمون کی طرف رجوع کر لیا جاتا ہے اور سارا بیان انتہائی یکسوئی کے ساتھ “دعوت” کے محور پر گھومتا رہتا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), فاروق سرورخان (27-10-08), ابن جلال (27-10-08), احمد نذیر (22-06-11), عُکاشہ (25-10-08), غلام خان (23-06-11)
پرانا 28-10-08, 01:16 AM   #5
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

نزول کی کیفیت
قرآن کریم کے طرز بیان اور اس کی ترتیب اور اس کے بہت سے مضامین کو آدمی اس وقت تک اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ اس کی کیفیت نزول کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ لے۔
یہ قرآن اس نوعیت کی کتاب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اسے لکھ کر محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دے دیا ہو اور کہہ دیا ہو کہ اسے شائع کر کے لوگوں کو ایک خاص رویہ زندگی کی طرف بلائیں۔ نیز یہ اس نوعیت کی کتاب بھی نہیں ہے کہ اس میں مصنّفانہ انداز پر کتاب کے موضوع اور مرکزی مضمون کے متعلق بحث کی گئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں نہ تصنیفی ترتیب پائی جاتی ہے اور نہ کتابی اُسلوب۔ دراصل اِس کی نوعیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے عرب کے شہر مکہ میں اپنے ایک بندے کو رسالت کی خدمت کے لیے منتخب کیا اور اسے حکم دیا کہ اپنے شہر اور اپنے قبیلہ (قریش) سے دعوت کی ابتدا کرے۔ یہ کام شروع کرنے کے لیے آغاز میں جن ہدایات کی ضرورت تھی صرف وہی دی گئیں اور وہ زیادہ تر تین مضمونوں پر مشتمل تھیں:
ایک: رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اس امر کی تعلیم کہ وہ خود اپنے آپ کو اس عظیم الشان کام کے لیے کس طرح تیار کریں اور کس طرز پر کام کریں۔
دوسرے: ان غلط فہمیوں کی مجمل تردید جو گردوپیش کے لوگوں میں پائی جاتی تھیں، جن کی وجہ سے ان کا رویہ غلط ہو رہا تھا۔
تیسرے: صحیح رویہ کی طرف دعوت اور ہدایت الٰہی کے لیے ان بنیادی اصولِ اخلاق کا بیان جن کی پیروی میں انسان کی فلاح و سعادت ہے۔
شروع شروع کے یہ پیغامات ابتدائے دعوت کی مناسبت سے چند چھوٹے چھوٹے مختصر فقروں پر مشتمل ہوتے تھے جن کی زبان نہایت شستہ، نہایت شیریں، نہایت پراثر اور مخاطب قوم کے مذاق (اسلوب) کے مطابق بہترین ادبی رنگ لیے ہوئے ہوتی تھی تاکہ دلوں میں یہ بول تیر و نشتر کی طرح پیوست ہو جائیں، کان خود بخود ان کے ترنم کی وجہ ان کی طرف متوجہ ہوں، اور زبانیں ان کے حسنِ تناسب کی وجہ سے بے اختیار ہو کر انہیں دہرانے لگیں۔ پھر ان میں مقامی رنگ بہت زیادہ تھا۔ اگرچہ بیان تو کی جا رہی تھیں عالمگیرصداقتیں مگر ان کے لیے دلائل و شواہد اور مثالیں اُس قریب ترین ماحول سے لی گئی تھیں جس سے مخاطب لوگ اچھی طرح مانوس تھے۔ انہی کی تاریخ، انہی کی روایات، انہی کے روزمرہ کے مشاہدہ میں آنے والے آثار اور انہی کی اعتقادی و اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں پر ساری گفتگو تھی تا کہ وہ اس سے اثر لے سکیں۔
دعوت کا یہ ابتدائی مرحلہ تقریبا چار پانچ سال تک جاری رہا اور اس مرحلے میں نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تبلیغ کا ردعمل تین صورتوں میں ظاہر ہوا:
1۔ چند صالح آدمی اس دعوت کو قبول کر کے امت مسلمہ بننے کے لیے تیار ہو گئے۔
2۔ ایک کثیر جماعت جہالت یا خودغرضی یا آبائی طریقے کی محبت کے سبب سے مخالفت میں آمادہ ہو گئی۔
3۔ مکے اور قریش کی حدود سے نکل کر اس نئی دعوت کی آواز نسبتًا زیادہ وسیع حلقے میں پہنچنے لگی۔
(جاری ہے)
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 04-11-08, 12:38 AM   #6
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default قرآن مجید کی مکی سورتوں کا پس منظر

یہاں سے اس دعوت کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں اسلام اور پرانی جاہلیت کے درمیان ایک سخت جانگسل کشمکش برپا ہوئی جس کا سلسلہ آٹھ نو سال تک چلتا رہا۔ نہ صرف مکے میں، نہ صرف قبیلہ قریش میں، بلکہ عرب کے بیشتر حصوں میں بھی جو لوگ پرانی جاہلیت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے وہ اس تحریک کو بزور مٹا دینے پر تل گئے۔ انہوں نے اسے دبانے کے سارے حربے استعمال کر ڈالے۔ جھوٹا پروپیٖگنڈا کیا، الزامات اور شُبہات اور اعتراضات کی بُوچھاڑ کی، عوام الناس کے دلوں میں طرح طرح کی وسوسہ اندازیاں کیں، ناواقف لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات سننے سے روکنے کی کوششیں کیں، اسلام قبول کرنے والوں پر نہایت وحشیانہ ظلم و ستم ڈھائے، ان کا معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کیا، اور ان کو اتنا تنگ کیا کہ ان میں سے بہت سے لوگ دو دفعہ اپنے گھر چھوڑ کر حبش کی طرف ہجرت کر جانے پر مجبور ہوئے اور بالآخر تیسری مرتبہ ان سب کو مدینے کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ لیکن اس شدید اور روزافزوں مزاحمت کے باوجود یہ دین پھیلتا چلا گیا۔ مکے میں کوئی خاندان اور کوئی گھر ایسا نہ رہا جس کے کسی نہ کسی فرد نے اسلام قبول نہ کر لیا ہو۔ بیشتر مخالفینِ اسلام کی دشمنی میں شدت اور تلخی کی وجہ یہی تھی کہ ان کے اپنے بھائی، بھتیجے، بیٹے، بیٹیاں، بہنیں اور بہنوئی دعوتِ اسلام کے نہ صرف پیرو بلکہ جاں نثار حامی ہو گئے تھے اور ان کے اپنے دل و جگر کے ٹکڑے ہی ان سے برسرِ پیکار ہونے کو تیار تھے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جو لوگ پرانی جاہلیت سے ٹوٹ ٹوٹ کر اس نوخیز تحریک کی طرف آ رہے تھے وہ پہلے بھی اپنی سوسائٹی کے بہترین لوگ سمجھے جاتے تھے اور اس تحریک میں شامل ہونے کے بعد وہ اتنے نیک، اتنے راستباز اور اتنے پاکیزہ اخلاق کے انسان بن جاتے تھے کہ دنیا اُس دعوت کی برتری محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتی تھی جو ایسے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور انہیں یہ کچھ بنا رہی تھی۔
اس طویل اور شدید کشمکش کے دوران میں اللہ تعالیٰ حسب موقع اور حسب ضرورت اپنی نبی پر ایسے پرجوش خطبے نازل کرتا رہا جن میں دریا کی سی روانی، سیلاب کی سی قوت اور تیزوتند آگ کی سی تاثیر تھی۔ اُن خطبوں میں ایک طرف اہل ایمان کو ان کے ابتدائی فرائض بتائے گئے، ان کے اندر جماعتی شعور پیدا کیا گیا، انہیں تقوٰی اور فضیلت اخلاق اور پاکیزگی سیرت کی تعلیم دی گئی، ان کو دینِ حق کی تبلیغ کے طریقے بتائے گئے، کامیابی کے وعدوں اور جنت کی بشارتوں سے ان کی ہمت بندھائی گئی، انہیں صبروثبات اور بلند حوصلگی کے ساتھ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے پر ابھارا گیا اور فداکاری کا ایسا زبردست جوش اور ولولہ ان میں پیدا کیا گیا کہ وہ ہر مصیبت جھیل جانے اور مخالفت کے بڑے سے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ دوسری طرف مخالفین اور راہِ راست سے منہ موڑنے والوں اور غفلت کی نیند سونے والوں کو ان قوموں کے انجام سے ڈرایا گیا جن کی تاریخ سے وہ خود واقف تھے، ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار سے عبرت دلائی گئی جن کے کھنڈروں پر سے شب و روز اپنے سفروں میں ان کا گزر ہوتا تھا، توحید اور آخرت کی دلیلیں ان کھلی کھلی نشانیوں سے دی گئیں جو رات دن زمین و آسمان میں ان کی آنکھوں کے سامنے نمایا ں تھیں اور جن کو وہ خود اپنی زندگی میں بھی ہر وقت دیکھتے اور محسوس کرتے تھے، شرک اور دعوائے خودمختاری اور انکارِ آخرت اور تقلیدِ آبائی کی غلطیاں ایسے بین دلائل سے واضح کی گئیں جو دل کو لگنے اور دماغ میں اتر جانے والے تھے۔ پھر ان کے ایک ایک شبہ کو رفع کیا گیا، ایک ایک اعتراض کا معقول جواب دیا گیا، ایک ایک الجھن جس میں وہ خود پڑے ہوئے تھے یا دوسروں کو الجھانے کی کوشش کرتے تھے، صاف کی گئی۔ اور ہر طرف سے گھیر کر جاہلیت کو ایسا تنگ پکڑا گیا کہ عقل و خرد کی دنیا میں اس کے لیے ٹھیرنے کی کوئی جگہ باقی نہ رہی۔ اس کے ساتھ پھر ان کو اللہ کے غضب اور قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم کے عذاب کا خوف دلایا گیا، ان کے برے اخلاق اور غلط طرزِ زندگی اور جاہلانہ رسوم اور حق دشمنی اور مومن آزاری پر انہیں ملامت کی گئی، اور اخلاق و تمدن کے وہ بڑے بڑے بنیادی اصول ان کے سامنے پیش کیے گئے جن پر ہمیشہ سے اللہ کی پسندیدہ صالح تہذیبوں کی تعمیر ہوتی چلی آ رہی ہے۔
یہ مرحلہ بجائے خود مختلف مرحلوں پر مشتمل تھا جن میں سے ہر منزل میں دعوت زیادہ وسیع ہوئی گئی، جدوجہد اور مزاحمت زیادہ سخت ہوتی گئی، مختلف عقائد اور مختلف طرزِ عمل رکھنے والے گروہوں سے سابقہ پیش آتا گیا، اور اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے آنے والے پیغامات میں مضامین کا تنوع بڑھتا گیا۔
یہ ہے قرآن مجید کی مکی سورتوں کا پس منظر۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 04-11-08 at 01:25 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 04-11-08, 01:27 AM   #7
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default قرآن مجید کی مدنی سورتوں کا پس منظر

مکے میں اس دعوت کو اپنا کام کرتے ہوئے تیرہ سال گزر چکے تھے کہ یکایک مدینے میں اس کو ایک ایسا مرکز بہم پہنچ گیا جہاں اس کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ عرب کے تمام حصوں سے اپنے پیرووں کو سمیٹ کر ایک جگہ اپنی طاقت مجتمع کر لے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور بیشتر متبعینِ اسلام ہجرت کر کے مدینے پہنچ گئے۔ اِس طرح یہ دعوت تیسرے مرحلے میں داخل ہوئی۔
اِس مرحلے میں حالات کا نقشہ بالکل بدل گیا۔ امت مسلمہ ایک باقاعدہ ریاست کی بنا ڈالنے میں کامیاب ہو گئی۔ پرانی جاہلیت کے علم برداروں سے مسلح مقابلہ شروع ہوا۔ پچھلے انبیاء کی امتوں (یہود و نصارٰی) سے بھی سابقہ پیش آیا۔ خود امت مسلمہ کے اندرونی نظام میں مختلف قسم کے منافق گھُس آئے اور ان سے بھی نمٹنا پڑا۔ اور دس سال کی شدید کشمکش سے گزر کر آخر کار یہ تحریک کامیابی کی اس منزل پر پہنچی کہ سارا عرب اس کے زیر نگیں ہو گیا اور عالمگیر دعوت و اصلاح کے دروازے اس کے سامنے کھل گئے۔ اِس مرحلے کی بھی مختلف منزلیں تھیں اور ہر منزل میں اس تحریک کی مخصوص ضرورتیں تھیں ۔ اِن ضرورتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تقریریں نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر نازل ہوتی رہیں جن کا انداز کبھی آتشیں خطابت کا، کبھی شاہانہ فرامین و احکام کا، کبھی معلمانہ درس و تعلیم کا، اور کبھی مصلحانہ افہام و تفہیم کا ہوتا تھا۔ ان میں بتایا گیا کہ جماعت اور ریاست اور مدنیت صالحہ کی تعمیر کس طرح کی جائے، زندگی کے مختلف شعبوں کو کن اصول و ضوابط پر قائم کیا جائے، منافقین سے کیا سلوک ہو، ذمی کافروں سے کیا برتاؤ ہو، اہل کتاب سے تعلقات کی نوعیت کیا رہے، برسر جنگ دشمنوں اور مُعَاہِد قوموں کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کیا جائے، اور منظم اہلِ ایمان کا یہ گروہ دنیا میں خداوندِ عالم کی خلافت کے فرائض انجام دینے لیے اپنے آپ کو کس طرح تیار کرے۔ اِن تقریروں میں ایک طرف مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کی جاتی تھی، ان کی کمزوریوں پر تنبیہ کی جاتی تھی، ان کو اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے پر ابھارا جاتا تھا، ان کو شکست اور فتح، مصیبت اور راحت، بدحالی اور خوش حالی، امن اور خوف، غرض ہر حال میں اس کے مناسب اخلاقیات کا درس دیا جاتا تھا، اور انہیں اس طرح تیار کیا جاتا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد آپ کے جانشین بن کر اس دعوت و اصلاح کے کام کو انجام دے سکیں۔ دوسری طرف ان لوگوں کو جو دائرہ ایمان سے باہر تھے، اہلِ کتاب، منافقین، کفار و مشرکین، سب کو ان کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے سمجھانے، نرمی سے دعوت دینے، سختی سے ملامت اور نصیحت کرنے، اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور سبق آموز واقعات و احوال سے عبرت دلانے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ ان پر حجت تمام کر دی جائے۔
یہ ہے قرآن مجید کی مدنی سورتوں کا پس منظر۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 04-11-08, 01:29 AM   #8
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default قرآنی خطابت کا اسلوب

اِس بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید ایک دعوت کے ساتھ اترنا شروع ہوا اور وہ دعوت اپنے آغاز سے لے کر اپنی انتہائی تکمیل تک تئیس سال کی مدت میں جن جن مرحلوں اور جن جن منزلوں سے گزرتی رہی، ان کی مختلف النَّوع ضرورتوں کے مطابق قرآن کے مختلف حصے نازل ہوتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی کتاب میں وہ تصنیفی ترتیب نہیں ہو سکتی جو ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے لیے لیے کسی مقالے میں اختیار کی جاتی ہے۔ پھر اس دعوت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ قرآن کے جو چھوٹے اور بڑے حصے نازل ہوئے وہ بھی رسالوں کی شکل میں شائع نہیں کیے جاتے تھے، بلکہ تقریروں کی شکل میں بیان کیے جاتے اور اسی شکل میں پھیلائے جاتے تھے، اس لیے ان کا اسلوب بھی تحریری نہ تھا بلکہ خطابت کا اسلوب تھا۔ پھر یہ خطابت بھی ایک پروفیسر کے لیکچروں کی سی نہیں بلکہ ایک داعی کے خطبوں کی سی تھی جسے دل اور دماغ، عقل اور جذبات، ہر ایک سے اپیل کرنا ہوتا ہے، جس کو ہر قسم کی ذہنیتوں سے سابقہ پیش آتا ہے، جسے اپنی دعوت و تبلیغ اور عملی تحریک کے سلسلے میں بے شمار مختلف حالتوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ہر ممکن پہلو سے اپنی بات دلوں میں بٹھانا،خیالات کی دنیا بدلنا، جذبات کا سیلاب اٹھانا، مخالفتوں کا زور توڑنا، ساتھیوں کی اصلاح و تربیت کرنا اور ان میں جوش اور عزم ابھارنا، دشمنوں کو دوست، اور منکروں کو معترف بنانا، مخالفین کی حجت منقطع کرنا اور ان کی اخلاقی طاقت کا استیصال کر دینا، غرض اسے وہ سب کچھ کرنا ہوتا ہے جو ایک دعوت کے علمبردار اور ایک تحریک کے رہنما کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے اللہ نے اس کام کے سلسلے میں اپنے پیغمبر پر جو تقریریں نازل فرمائیں اُن کا طرزِ خطابت وہی تھا جو ایک دعوت کے مناسبِ حال ہوتا ہے، اُن میں کالج کے لیکچروں کا سا انداز تلاش کرنا صحیح نہیں ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 07-11-08, 05:25 PM   #9
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

یہیں سے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے کہ قرآن میں مضامین کی اس قدر تکرار کیوں ہے۔ ایک دعوت اور عملی تحریک کا فطری اقتضا یہ ہے کہ وہ جس وقت جس مرحلے میں ہو اس میں وہی باتیں کہی جائیں جو اُس مرحلے سے مناسبت رکھتی ہوں، اور جب تک دعوت ایک مرحلے میں رہے بعد کے مراحل کی بات نہ چھیڑی جائے بلکہ اُسی مرحلے کی باتوں کا اعادہ کیا جاتا رہے، خواہ اس میں چند مہینے لگیں یا کئی سال صرف ہو جائیں۔ پھر اگر ایک ہی قسم کی باتوں کا اعادہ ایک ہی عبارت اور ایک ہی ڈھنگ پر کیا جاتا رہے تو کان انہیں سُنتے سُنتے تھک جاتے ہیں اور طبیعتیں اکتانے لگتی ہیں۔ اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مرحلے میں جو باتیں بار بار کہنی ہوں انہیں ہر بات نئے الفاظ، نئے اسلوب اور نئی آن بان سے کہا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دعوت کی بنیاد جن عقائد اور اصولوں پر ہو انہیں پہلے قدم سے آخری منزل تک کسی وقت اور کسی حال میں نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے بلکہ ان کا اعادہ بہرحال دعوت کے ہر مرحلے میں ہوتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ایک مرحلے میں قرآن کی جتنی سورتیں نازل ہوئی ہیں ان سب میں بالعموم ایک ہی قسم کے مضامین الفاظ اور اندازِ بیان بدل بدل کر آئے ہیں۔ مگر توحید اور صفاتِ الٰہی، آخرت اور اس کی باز پُرس اور جزا و سزا، رسالت اور ایمان بالکتاب، تقوٰی اور صبروتوکل اور اسی قسم کے دُوسرے بنیادی مضامین کی تکرارپورے قرآن میں نظر آتی ہے کیونکہ اس تحریک کے کسی مرحلے میں بھی ان سے غفلت گوارا نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ بُنیادی تصورات اگر ذرا بھی کمزور ہو جاتے تو اسلام کی یہ دعوت اپنی صحیح روح کے ساتھ نہ چل سکتی۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 11-11-08 at 02:52 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 07-11-08, 05:26 PM   #10
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

اگر غور کیا جائے تو اسی بیان سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے قرآن کو اسی ترتیب کے ساتھ کیوں نہ مرتب کر دیا جس کے ساتھ وہ نازل ہوا تھا۔ اُوپر آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ تئیس سال تک قرآن کا نزول اُس ترتیب سے ہوتا رہا جس ترتیب سے دعوت کا آغاز اور اس کا ارتقاء ہوا۔ اب ظاہر ہے کہ دعوت کی تکمیل کے بعد ان نازل شدہ اجزاء کے لیے وہ ترتیب کسی طرح درست نہ ہو سکتی تھی جو صرف ارتقاءِ دعوت ہی کے ساتھ مناسبت رکھتی تھی۔ اب تو اُن کے لیے ایک دوسری ہی ترتیب درکار تھی جو تکمیل دعوت کے بعد کی صورتحال کے لیے زیادہ مناسب ہو۔ کیونکہ ابتدا میں اُس کے مخاطبِ اول وہ لوگ تھے جو اسلام سے ناآشنائے محض تھے، اس لیے اُس وقت بالکل نقطہ آغاز سے تعلیم و تلقین شروع کی گئی۔ مگر تکمیلِ دعوت کے بعد اُس کے مخاطبِ اول وہ لوگ ہو گئے جو اس پر ایمان لا کر ایک امت بن چکے تھے اور اُس کام کو جاری رکھنے کے ذمے دار قرار پائے تھے جسے پیغمبر نے نظریے اور عمل دونوں حیثیتوں سے مکمل کر کے ان کے حوالے کیا تھا۔ اب لامحالہ مُقَدَّم چیز یہ ہو گئی کہ پہلے یہ لوگ خود اپنے فرائض سے، اپنے قوانین حیات سے، اور ان فتنوں سے جو پچھلے پیغمبروں کی امتوں میں رونما ہوتے رہے ہیں، اچھی طرح واقف ہو لیں، پھر اسلام سے بیگانہ دنیا کے سامنے اللہ کی ہدایت پیش کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔
علاوہ بریں قرآن مجید جس طرز کی کتاب ہے اسے اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو اس پر خود ہی یہ حقیقت مُنکَشف ہو جائے گی کہ ایک ایک طرح کے مضامین کو ایک ایک جگہ جمع کرنا اس کتاب کے مزاج ہی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کے مزاج کا تو تقاضا یہی ہے کہ اس کے پڑھنے والے کے سامنے مَدنی مرحلے کی باتیں مکی دور والی تعلیم کے درمیان، اور مکی مرحلے کی باتیں مدنی دور والی تقریروں کے درمیان، اور ابتدا کی گفتگوئیں آخر کی تلقینات کے بیچ میں اور آخری دور کی ہدایات آغازِ کار کی تعلیمات کے پہلو میں بار بار آتی چلی جائیں، تاکہ اسلام کا پورا منظر اور جامع نقشہ اس کی نگاہ میں رہے اور کسی وقت بھی وہ یک رُخا نہ ہونے پائے۔
پھر اگر قرآن کو اس کی نزولی ترتیب پر مرتب بھی کیا جاتا تو وہ ترتیب بعد کے لوگوں کے لیے صرف اسی صورت میں بامعنی ہو سکتی تھی جبکہ قرآن کے ساتھ اس کی پوری تاریخ نزول اور اس کے ایک ایک جزء کی کیفیت نزول و شانِ نزول لکھ کر لگا دی جاتی اور وہ لازمی طور پر قرآن کا ایک ضمیمہ بن کر رہتی۔ یہ بات اُس مقصد کے خلاف تھی جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کا یہ مجموعہ مرتب اور محفوظ کرایا تھا۔ وہاں تو پیش نظر چیز ہی یہ تھی کہ خالص کلام الٰہی بغیر کسی دوسرے کلام کی آمیزش یا شمول کے، اپنی مختصر صورت میں مرتب ہو، جسے بچے، جوان، بوڑھے، عورت، مرد، شہری، دیہاتی، عامی، عالِم، سب پڑھیں، ہز زمانے میں اور ہر جگہ پڑھیں، اور ہر مرتبہء عقل و دانش کا انسان کم از کم یہ بات ضرور جان لے کہ اُس کا اللہ اُس سے کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں چاہتا۔ ظاہر ہے کہ یہ مقصد فوت ہو جاتا اگر اس مجموعہ الٰہی کے ساتھ ایک لمبی چوڑی تاریخ بھی لگی ہوئی ہوتی اور اس کی تلاوت بھی لازم کر دی جاتی۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی موجودہ ترتیب پر جو لوگ اعتراض کرتے ہیں، وہ اس کتاب کے مقصد و مدعا سے صرف نابلد ہی نہیں ہیں، بلکہ کچھ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا معلوم ہوتے ہیں کہ یہ کتاب محض علمِ تاریخ اور فلسفہ عمران کے طلبہ ہی کے لیے نازل ہوئی ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 11-11-08, 02:41 AM   #11
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

ترتیبِ قرآن کے سلسلے میں یہ بات بھی ناظرین کو معلوم ہونی چاہیے کہ یہ ترتیب بعد کے لوگوں کی دی ہوئی نہیں ہے، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہی نے قرآن کو اس طرح مرتب فرمایا تھا۔ قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی سورۃ نازل ہوتی تو آپ اُسی وقت اپنے کاتبوں میں سے کسی کو بلاتے اور اس کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ یہ سورۃ فلاں سورِہ کے بعد اور فلاں سورِہ سے پہلے رکھی جائے۔ اسی طرح اگر قرآن کا کوئی ایسا حصہ نازل ہوتا جس کو مستقل سورۃ بنانا پیشِ نظر نہ ہوتا، تو آپ ہدایت فرما دیتے کہ اسے فلاں سورِہ میں فلاں مقام پر درج کیا جائے۔ پھر اسی ترتیب سے آپ خود بھی نماز میں اور دوسرے مواقع پر قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے اور اسی ترتیب کے مطابق صحابہ کرام بھی اس کو یاد کرتے تھے۔ لہٰذا یہ ایک ثابِت شُدہ تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن مجید کا نزول جس روز مکمل ہوا اسی روز اس کی ترتیب بھی مکمل ہو گئی۔ جو اس کا نازِل کرنے والا تھا وہی اس کا مرتب کرنے والا بھی تھا۔ جس کے قلب پر وہ نازل کیا گیا اُسی کے ہاتھوں اسے مرتب بھی کرا دیا گیا۔ کسی دوسرے کی مجال نہ تھی کہ اس میں مداخلت کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ نماز ابتدا ہی سے مسلمانوں پر فرض تھی، اور تلاوتِ قرآن کو نماز کا ایک ضروری جزء قرار دیا گیا تھا، اس لیے نزولِ قرآن کے ساتھ ہی مسلمانوں میں حفظِ قرآن کا سلسلہ جاری ہو گیا اور جیسے جیسے قرآن اترتا گیا مسلمان اس کو یاد بھی کرتے چلے گئے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کا انحصار صرف کھجور کے اُن پتوں اور ہڈّی اور جھلّی کے اُن ٹکڑوں پر ہی نہ تھا جن پر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے کاتبوں سے اس کو قلمبند کرایا کرتے تھے، بلکہ وہ اترتے ہی بیسیوں، پھر سینکڑوں، پھر ہزاروں، پھر لاکھوں دلوں پر نقش ہو جاتا تھا اور کسی شیطان کے لیے اس کا امکان ہی نہ تھا کہ اس میں ایک لفظ کا بھی ردوبدل کر سکے۔
نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں ارتداد کا طوفان اٹھا اور اس کے فرو کرنے کے لیے صحابہ کرام کو سخت خونریز لڑائیاں لڑنی پڑیں، تو ان معرکوں میں ایسے صحابہ کی ایک کثیر تعداد شہید ہو گئی جن کو پورا قرآن حفظ تھا۔ اِس سے حضرت عمرؓ کو خیال پیدا ہوا کہ قرآن کی حفاظت کے معاملے میں صرف ایک ہی ذریعے پر اعتماد کر لینا مناسب نہیں ہے بلکہ احوالِ قلب کے ساتھ ساتھ صفحاتِ قرطاس پر بھی اس کو محفوظ کرنے کا انتظام کر لینا چاہیے۔ چنانچہ اس کام کی ضرورت انہوں نے حضرت ابوبکرؓ پر واضح کی اور انہوں نے کچھ تامّل کے بعد اس سے اتفاق کر کے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو، جو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ک کاتب (سیکرٹری) رہ چکے تھے اس خدمت پر مامور فرمایا۔ قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ ایک طرف تو وہ تمام لکھے ہوئے اجزاء فراہم کر لیے جائیں جو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چھوڑے ہیں، دُوسری طرف صحابہ کرام میں سے جس جس کے پاس قرآن یا اس کا کوئی حصہ لکھا ہوا ملے، اس سے لے لیا جائے اور پھر حفاظِ قرآن سے بھی مدد لی جائے، اور ان تینوں ذرائع کی متفقہ شہادت پر کامل صحت کا اطمینان کرنے کے بعد، قرآن کا ایک ایک لفظ مصحف میں ثبت کیا جائے۔ اس تجویز کے مطابق قرآن مجید کا ایک مستند نسخہ تیار کر کے امّ المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رکھوا دیا گیا اور لوگوں کو عام اجازت دے دی گئی کہ جو چاہے اس کی نقل کرے اور جو چاہے اس سے مقابلہ کر کے اپنے نسخے کی تصحیح کر لے۔
عرب کے مختلف علاقوں اور قبیلوں کی بولیوں میں ویسے ہی فرق پائے جاتے تھے جیسے ہمارے ملک میں شہر شہر کی بولی اور ضلع ضلع کی بولی میں فرق ہے، حالانکہ زبان سب کی وہی ایک اردو یا پنجابی یا بنگالی ہے۔ قرآن مجید اگرچہ نازل اُس زبان میں ہوا تھا جو مکہ میں قریش کے لوگ بولتے تھے، لیکن ابتداءً اس امر کی اجازت دے دی گئی تھی کہ دوسرے علاقوں اور قبیلوں کے لوگ اپنے اپنے لہجے اور محاورے کے مطابق اسے پڑھ لیا کریں، کیونکہ اس طرح معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، صرف عبارت ان کے لیے ملائم ہو جاتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ جب اسلام پھیلا اور عرب کے لوگوں نے اپنے ریگستان سے نکل کر دنیا کے ایک بڑے حصے کو فتح کر لیا اور دوسری قوموں کے لوگ بھی دائرہ اسلام میں آنے لگے، اور بڑے پیمانے پر عرب و عجم کے اختلاط سے عربی زبان متاثر ہونے لگی، تو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر اب بھی دوسرے لہجوں اور محاوروں کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت باقی رہی تو اس سے طرح طرح کے فتنے کھڑے ہو جائیں گے۔ مثلًا یہ کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کو غیرمانوس طریقے پر کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنے گا اور یہ سمجھ کر اس سے لڑ پڑے گا کہ وہ دانستہ کلامِ الٰہی میں تحریف کر رہا ہے۔ یا یہ کہ یہ لفظی اختلافات رفتہ رفتہ واقعی تحریفات کا دروازہ کھول دیں گے۔ یا یہ کہ عرب و عجم کے اختلاط سے جن لوگوں کی زبان بگڑے گی وہ اپنی بگڑی ہوئی زبان کے مطابق قرآن میں تصرف کر کے اس کے حسنِ کلام کو بگاڑ دیں گے۔ اِن وجوہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے صحابہ کرام کے مشورے سے یہ طے کیا کہ تمام ممالکِ اسلامیہ میں صرف اُس معیاری نسخہ قرآن کی نقلیں شائع کی جائیں جو حضرت ابوبکرؓ کے حکم سے ضبطِ تحریر میں لایا گیا تھا، اور باقی تمام دوسرے لہجوں اور محاوروں پر لکھے ہوئے مصاحف کی اشاعت ممنوع قرار دے دی جائے۔
آج جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے، یہ ٹھیک ٹھیک اُس مُصحَفِ صدّیقی کے مطابق ہے جس کی نقلیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سرکاری اہتمام سے تمام دیار و امصار میں بھجوائی تھیں۔ اِس وقت بھی دنیا کے متعدد مقامات پر قرآن کے وہ مستند نسخے موجود ہیں۔ کسی کو اگر قرآن کی محفوظیت میں ذرہ برابر بھی شک ہو تو وہ اپنا اطمینان اس طرح کر سکتا ہے کہ مغربی افریقہ میں کسی کتاب فروش سے قرآن کا ایک نسخہ خریدے، اور جاوا میں کسی حافظ سے زبانی قرآن سن کر اس کا مقابلہ کرے، اور پھر دنیا کی بڑی بڑی لائبریوں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت سے لے کر آج تک مختلف صدیوں کے لکھے ہوئے جو مصاحف رکھے ہیں ان سے اس کا تقابل کر لے۔ اگر کسی حرف یا شوشے کا فرق وہ پائے تو اس کا فرض ہے کہ دنیا کو اس سب سے بڑے تاریخی انکشاف سے ضرور مطلع کرے۔ کوئی شک نواز قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن یہ بات کہ جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے یہ بلا کسی کمی بیشی کے ٹھیک وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، یہ تو ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی دوسری چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو اس قدر قطعی الثبوت ہو۔ اگر کوئی شخص اس کی صحت میں شک کرتا ہے تو وہ پھر اس میں بھی شک کر سکتا ہے کہ رومن امپائر نامی کوئی سلطنت دنیا میں رہ چکی ہے، اور کبھی مغل ہندوستان پر حکومت کر چکے ہیں، اور “نپولین” نام کا کوئی شخص بھی دنیا میں پایا گیا ہے۔ ایسے ایسے تاریخی حقائق پر شکوک کا اظہار کرنا علم کا نہیں جہالت کا ثبوت ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
پرانا 11-11-08, 02:41 AM   #12
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,167
کمائي: 74,774
شکریہ: 8,792
2,972 مراسلہ میں 10,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: قرآن کریم کو سمجھنے کے بنیادی اصول

ترتیبِ قرآن کے سلسلے میں یہ بات بھی ناظرین کو معلوم ہونی چاہیے کہ یہ ترتیب بعد کے لوگوں کی دی ہوئی نہیں ہے، بلکہ خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہی نے قرآن کو اس طرح مرتب فرمایا تھا۔ قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی سورۃ نازل ہوتی تو آپ اُسی وقت اپنے کاتبوں میں سے کسی کو بلاتے اور اس کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرانے کے بعد ہدایت فرما دیتے کہ یہ سورۃ فلاں سورِہ کے بعد اور فلاں سورِہ سے پہلے رکھی جائے۔ اسی طرح اگر قرآن کا کوئی ایسا حصہ نازل ہوتا جس کو مستقل سورۃ بنانا پیشِ نظر نہ ہوتا، تو آپ ہدایت فرما دیتے کہ اسے فلاں سورِہ میں فلاں مقام پر درج کیا جائے۔ پھر اسی ترتیب سے آپ خود بھی نماز میں اور دوسرے مواقع پر قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے اور اسی ترتیب کے مطابق صحابہ کرام بھی اس کو یاد کرتے تھے۔ لہٰذا یہ ایک ثابِت شُدہ تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن مجید کا نزول جس روز مکمل ہوا اسی روز اس کی ترتیب بھی مکمل ہو گئی۔ جو اس کا نازِل کرنے والا تھا وہی اس کا مرتب کرنے والا بھی تھا۔ جس کے قلب پر وہ نازل کیا گیا اُسی کے ہاتھوں اسے مرتب بھی کرا دیا گیا۔ کسی دوسرے کی مجال نہ تھی کہ اس میں مداخلت کرتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونکہ نماز ابتدا ہی سے مسلمانوں پر فرض تھی، اور تلاوتِ قرآن کو نماز کا ایک ضروری جزء قرار دیا گیا تھا، اس لیے نزولِ قرآن کے ساتھ ہی مسلمانوں میں حفظِ قرآن کا سلسلہ جاری ہو گیا اور جیسے جیسے قرآن اترتا گیا مسلمان اس کو یاد بھی کرتے چلے گئے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کا انحصار صرف کھجور کے اُن پتوں اور ہڈّی اور جھلّی کے اُن ٹکڑوں پر ہی نہ تھا جن پر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے کاتبوں سے اس کو قلمبند کرایا کرتے تھے، بلکہ وہ اترتے ہی بیسیوں، پھر سینکڑوں، پھر ہزاروں، پھر لاکھوں دلوں پر نقش ہو جاتا تھا اور کسی شیطان کے لیے اس کا امکان ہی نہ تھا کہ اس میں ایک لفظ کا بھی ردوبدل کر سکے۔
نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے بعد جب عرب میں ارتداد کا طوفان اٹھا اور اس کے فرو کرنے کے لیے صحابہ کرام کو سخت خونریز لڑائیاں لڑنی پڑیں، تو ان معرکوں میں ایسے صحابہ کی ایک کثیر تعداد شہید ہو گئی جن کو پورا قرآن حفظ تھا۔ اِس سے حضرت عمرؓ کو خیال پیدا ہوا کہ قرآن کی حفاظت کے معاملے میں صرف ایک ہی ذریعے پر اعتماد کر لینا مناسب نہیں ہے بلکہ احوالِ قلب کے ساتھ ساتھ صفحاتِ قرطاس پر بھی اس کو محفوظ کرنے کا انتظام کر لینا چاہیے۔ چنانچہ اس کام کی ضرورت انہوں نے حضرت ابوبکرؓ پر واضح کی اور انہوں نے کچھ تامّل کے بعد اس سے اتفاق کر کے حضرت زید بن ثابت انصاریؓ کو، جو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ک کاتب (سیکرٹری) رہ چکے تھے اس خدمت پر مامور فرمایا۔ قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ ایک طرف تو وہ تمام لکھے ہوئے اجزاء فراہم کر لیے جائیں جو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چھوڑے ہیں، دُوسری طرف صحابہ کرام میں سے جس جس کے پاس قرآن یا اس کا کوئی حصہ لکھا ہوا ملے، اس سے لے لیا جائے اور پھر حفاظِ قرآن سے بھی مدد لی جائے، اور ان تینوں ذرائع کی متفقہ شہادت پر کامل صحت کا اطمینان کرنے کے بعد، قرآن کا ایک ایک لفظ مصحف میں ثبت کیا جائے۔ اس تجویز کے مطابق قرآن مجید کا ایک مستند نسخہ تیار کر کے امّ المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رکھوا دیا گیا اور لوگوں کو عام اجازت دے دی گئی کہ جو چاہے اس کی نقل کرے اور جو چاہے اس سے مقابلہ کر کے اپنے نسخے کی تصحیح کر لے۔
عرب کے مختلف علاقوں اور قبیلوں کی بولیوں میں ویسے ہی فرق پائے جاتے تھے جیسے ہمارے ملک میں شہر شہر کی بولی اور ضلع ضلع کی بولی میں فرق ہے، حالانکہ زبان سب کی وہی ایک اردو یا پنجابی یا بنگالی ہے۔ قرآن مجید اگرچہ نازل اُس زبان میں ہوا تھا جو مکہ میں قریش کے لوگ بولتے تھے، لیکن ابتداءً اس امر کی اجازت دے دی گئی تھی کہ دوسرے علاقوں اور قبیلوں کے لوگ اپنے اپنے لہجے اور محاورے کے مطابق اسے پڑھ لیا کریں، کیونکہ اس طرح معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، صرف عبارت ان کے لیے ملائم ہو جاتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ جب اسلام پھیلا اور عرب کے لوگوں نے اپنے ریگستان سے نکل کر دنیا کے ایک بڑے حصے کو فتح کر لیا اور دوسری قوموں کے لوگ بھی دائرہ اسلام میں آنے لگے، اور بڑے پیمانے پر عرب و عجم کے اختلاط سے عربی زبان متاثر ہونے لگی، تو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر اب بھی دوسرے لہجوں اور محاوروں کے مطابق قرآن پڑھنے کی اجازت باقی رہی تو اس سے طرح طرح کے فتنے کھڑے ہو جائیں گے۔ مثلًا یہ کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کو غیرمانوس طریقے پر کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنے گا اور یہ سمجھ کر اس سے لڑ پڑے گا کہ وہ دانستہ کلامِ الٰہی میں تحریف کر رہا ہے۔ یا یہ کہ یہ لفظی اختلافات رفتہ رفتہ واقعی تحریفات کا دروازہ کھول دیں گے۔ یا یہ کہ عرب و عجم کے اختلاط سے جن لوگوں کی زبان بگڑے گی وہ اپنی بگڑی ہوئی زبان کے مطابق قرآن میں تصرف کر کے اس کے حسنِ کلام کو بگاڑ دیں گے۔ اِن وجوہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے صحابہ کرام کے مشورے سے یہ طے کیا کہ تمام ممالکِ اسلامیہ میں صرف اُس معیاری نسخہ قرآن کی نقلیں شائع کی جائیں جو حضرت ابوبکرؓ کے حکم سے ضبطِ تحریر میں لایا گیا تھا، اور باقی تمام دوسرے لہجوں اور محاوروں پر لکھے ہوئے مصاحف کی اشاعت ممنوع قرار دے دی جائے۔
آج جو قرآن ہمارے ہاتھوں میں ہے، یہ ٹھیک ٹھیک اُس مُصحَفِ صدّیقی کے مطابق ہے جس کی نقلیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سرکاری اہتمام سے تمام دیار و امصار میں بھجوائی تھیں۔ اِس وقت بھی دنیا کے متعدد مقامات پر قرآن کے وہ مستند نسخے موجود ہیں۔ کسی کو اگر قرآن کی محفوظیت میں ذرہ برابر بھی شک ہو تو وہ اپنا اطمینان اس طرح کر سکتا ہے کہ مغربی افریقہ میں کسی کتاب فروش سے قرآن کا ایک نسخہ خریدے، اور جاوا میں کسی حافظ سے زبانی قرآن سن کر اس کا مقابلہ کرے، اور پھر دنیا کی بڑی بڑی لائبریوں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت سے لے کر آج تک مختلف صدیوں کے لکھے ہوئے جو مصاحف رکھے ہیں ان سے اس کا تقابل کر لے۔ اگر کسی حرف یا شوشے کا فرق وہ پائے تو اس کا فرض ہے کہ دنیا کو اس سب سے بڑے تاریخی انکشاف سے ضرور مطلع کرے۔ کوئی شک نواز قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں شک کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، لیکن یہ بات کہ جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے یہ بلا کسی کمی بیشی کے ٹھیک وہی قرآن ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، یہ تو ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ انسانی تاریخ میں کوئی دوسری چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو اس قدر قطعی الثبوت ہو۔ اگر کوئی شخص اس کی صحت میں شک کرتا ہے تو وہ پھر اس میں بھی شک کر سکتا ہے کہ رومن امپائر نامی کوئی سلطنت دنیا میں رہ چکی ہے، اور کبھی مغل ہندوستان پر حکومت کر چکے ہیں، اور “نپولین” نام کا کوئی شخص بھی دنیا میں پایا گیا ہے۔ ایسے ایسے تاریخی حقائق پر شکوک کا اظہار کرنا علم کا نہیں جہالت کا ثبوت ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (20-06-11), فاروق سرورخان (08-07-10), غلام خان (23-06-11)
پرانا 20-06-11, 08:22 AM   #13
Senior Member
 
عبداللہ خراسانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 254
کمائي: 4,253
شکریہ: 262
182 مراسلہ میں 462 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ پاک مجھے بھی ان اصولوں کے سمجھنے کی توفیق دے آمین
عبداللہ خراسانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ خراسانی کا شکریہ ادا کیا
asakpke (21-06-11), shafirajput (20-06-11), احمد نذیر (22-06-11), غلام خان (23-06-11)
جواب

Tags
color, کتابوں, پاک, قرآن, قرآنی, نظر, مکمل, منتقل, ممکن, مجید, معلوم, آدمی, اللہ, اجنبی, اسلامی, بہترین, تحریری, ترمیم, تعلیم, جواب, حسن, عقل, عالم, صاف, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
چاہت کے اصول راجہ اکرام گپ شپ 28 08-10-10 12:19 AM
ہمارا اصول یہ ہے کہ ہمارا کوئی اصول نہیں فیصل ناصر عمومی بحث 36 08-10-09 04:03 AM
کامیابی کے سات اصول!!! چیتا چالباز گپ شپ 0 07-02-09 09:19 AM
قرآن حکیم سے شفاء و برکت کے حصول کا بیان Real_Light تلاوت اور تجوید 0 05-08-08 06:52 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:19 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger