| تبصرہ کتب تبصرہ کیجیے کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں یا پڑھنے میں دل چسپی رکھتے ہیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یہ 22 مئی کا دن تھا جب مجھے گھر والوں نے بتایا کہ میرے نام ایک پارسل آیا ہوا ہے۔ میں نے پارسل کھول کر دیکھا تو نیلے رنگ کے سرورق والی ایک خوبصورت کتاب میرے سامنے تھی۔ اُس پر سُرخ رنگ سے "جاناں تیرے شہر میں" لکھا ہوا تھا، ساتھ ہی چھو ٹے حروف میں "سفر نامہ" بھی لکھا ہوا تھا۔ یہ تصنیف تھی "واصف ملک" کی، یعنیٰ پاک ڈاٹ نیٹ کے ایک نئے ممبر کی۔ آج کل ہمارے ملک میں کتابیں چھپوانے کا رجحان زوروں پر ہے ۔ ایسے اشاعتی ادارے بھی موجود ہیں جو آپ کی تحریر کی نوک پلک درست کرنے سے لے کر اُس کی طباعت اور چھپائی تک کے تمام مراحل میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ پہلی نظر میں مجھے یہ ایک ایسی ہی عام سی کتاب لگی، جسے کسی من چلے نے محض اپنی تفریح طبع کے لیے چھپوایا ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اسے سفر میں پڑھوں گا (میں اپنے گھر سے آفس تک کا سفر پبلک ٹرانسپورٹ میں کرتا ہوں)۔ 90 مختلف عنوانات پر مشتمل یہ کتاب 176 صفحات پر محیط ہے۔ جوں جوں میں نے اُسے پڑھنا شروع کیا میری دلچسپی بڑھتی گئی اور بلآخر میں بلا مبالغہ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ الفاظ کی جادوگری سے عاری یہ کتاب جہاں باہر قیام پذیر پاکستانیوں کے حالات زار پر ایک مختصر سی دستاویز ہے وہیں واصف ملک نے انتہائی سادگی سے جس طرح واقعات کو بیان کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا یہ کتاب کسی بھی قسم کی "لفاظی" سے پاک ہے۔ "ورلڈ پنجابی کانفرنس یو کے" سے شروع ہونے والی یہ داستان پانچ سال کے عرصے پر محیط ایک ایسے سفر کی داستان ہے جس میں انسانی زندگی کے عجیب عجیب کردار جابجا ظاہر ہوتے اور پھر اس سفر کی دھول میں غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ کتاب شہروں کے حدود اربعہ اور جغرافیائی تفاصیل کی پیچیدگیوں سے مُبرا ہے اور یہی اس کتاب کا حسن ہے، البتہ جہاں جہاں ضروری تھا وہاں ضروری تفصیلات بھی شامل ہیں لیکن اصل توجہ حقائق کے بیان کی جانب ہی ہے۔ مختلف کردار مثلا مولوی رنگیلا، حنیفا بےوقوف، نصیر پھینا، شوبنم، ہیرا، رابعہ، چالو بابوں، بٹ و جٹ، ظفر پٹھان، اقبال، سوہا، شانی، سوزانے ، میاں یاور صاحب اور اُن کی بیگم، اور آخر میں مانو جیسے دلچسپ اور خوبصورت کرداروں سے سے سجی اس داستان میں کسی پارسائی کا دعوا کیئے بنا سب کچھ جوں کا توں لکھ دیا گیا ہے۔ مجھے جس بات نے سب سے ذیادہ متاثر کیا وہ واصف کے سادگی سے بیان کئے گئے مختلف کرداروں سے متعلق جملے ہیں جن میں سچ اپنی تمام تر سفاکی کے ساتھ نمایاں ہے۔ لیجیئے بطور نمونہ چند اقتباسات تلخیصاً حاضر ہیں: 1 ایک شام گھر واپس آتے ہوئے راستے میں ایک گوری نے مجھے ورکا اور کہا "ڈو یو وانٹ بزنس"؟ میری خوشی کی انتہا نہ تھی ایک وجہ تو شاید یہ بھی رہی ہوگی کہ شاید پہلی مرتبہ کسی گوری نے مجھ سے بات کی تھی مگر بڑی وجہ یہ تھی کہ میں سمجھا شاید اپس نے مجھے بزنس میں سمجھا ہے اور میں خوش تھا کہ صبح سے لے کر شام تک محنت کرنے کے باوجود میں شکل سے لیبر کلاس کے بجائے بزنس مین لگتا ہوں لیکن یہ غلط فہمی اُس وقت دور ہوگئی جب گھر پہچنے پر میرے علم میں یہ بات آئی کہ "بزنس" کا مطلب یہاں کچھ اور ہی ہے اور وہ گوری ایک "طوائف" تھی۔ 2 روس سے تعلق رکھنے والی مسلمان ثمرہ اور رومانہ "پورک" کھا رہی تھیں۔ اسٹاف میں موجود مسلمان اسٹاف نے اس بات پر سخت اعتراض کیا، رومانہ نے جو کہ سیانی عمر میں داخل ہوچکی تھی مجھ سے کہا"مسلمان بہت منافق ہوتے ہیں۔ شراب پیتے ہیں، گوری بغل میں ہوتی ہے بُری طرح نشے میں ٹُن ہوتے ہیں مگر فوڈ حلال مانگتے ہیں ۔ کیا شراب پینا، غیر عورتوں کے ساتھ سونا حلال ہے؟"۔ 3 ساؤتھ ہال میں میری مُلاقات لاہور ایک دوست سے ہوگئی اُس نے اصرار کرکے ہمیں اپنے گھر میں روک لیا۔ اُس کی شادی ہوچکی تھی، سر کے بال جھڑ چکے تھے۔ اُس نے بتیا کہ وہ آج بہت خوش ہے کیونکہ اُس کی بیوی آج گھر پر موجود نہیں ہے اُس نے پینا شروع کیا اور بار بار پیتا رہا ، وہ آج جشن کے موڈ میں تھا۔ رات کافی بیت چکی تھی کہ اچانک میرے دوست نے اُونچی اُونچی آواز سے رونا شروع کردیا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا وہ بولا مجھے اپنے بیوی یاد آرہی ہے۔ میں نے کہا عجیب بندر انسان ہو کہاں تو تم اُس کی غیر موجودگی کا جشن منا رہے تھے اور کہاں اُس کی یاد میں رونا شروع کردیا؟؟؟ وہ کافی دیر تک روں روں کرتا رہا اور پھر اُس نے اُلٹیاں کرنا شروع کردیں۔ مجھے اُس سے ملنے کا کتنا شوق تھا، اب مجھے اُس پر ترس آرہا تھا۔ 4 اُلٹی گنتی شروع ہوچکی تھی، تین ، دو ایک ہوتے یں آتش بازی شروع ہوگئی سب لوگ اپنے آس پاس موجود لوگوں سے گلے مل کر نئے سال کی مُبارک باد وصول کررہے تھے۔ جس قوم کو دُنیا کی سب آسائشیں ملی ہوئی ہوں وہ کیسی کیس چیزوں میں بھی خوشیاں تلاش کرلیتی ہے۔ یہاں پاکستانیوں کا ایک ٹولہ بھی چہروں پر گوروں سے بھی ذیادہ خوشیاں لئے نظر آیا۔ میں نے اُس ٹولے کے ایک ممبر سے پوچھا تم نئے سال کی آمد پر بہت خوش دیکھائی دے رہے ہو! اُس نے ہنسے ہوئے جواب دیا کہ اُنہیں نا تو جانے والے سال کا کوئی غم ہے نا آنے والے سال کی کوئی خوشی ۔ ۔ وہ تو بس سارا سال اس گھڑی کا انتظار کرتے ہیں جب اُنہیں گوریوں کو گھٹ گھٹ "جھپے" ڈالنے کا چانس ملتا ہے۔ 5 میرے ساتھ کام کرنے ایک دوست کی گوری گرل فرینڈ ہمارے ساتھ ہی کام کرتی تھی اور کافی آزاد خیال تھی ۔ پورے ہوٹل میں کہیں بھی کسی سے بھی چپک کر بوس کنار شروع کردیتی تھی اور کسی کی بھی زرا پروا نہ کرتی تھی۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ یار تیری گرل فرینڈ تیرے سامنے کیسے کیسے سین کرتی ہے اور تو اُس کو چھوڑنا تو درکنا اُسے روکتا بھی نہیں ہے۔ وہ دانت نکالتے ہوئے کہنے لگا کہ "میں بے غیرت نہیں ہوں، براڈ مائنڈڈ ہوں"۔ کتاب میں واصف اپنی زندگی میں آنے والے خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے اُداس ہوجاتا کہ کیونکہ وہ سچے پیار کا متلاشی ہے اور وہاں یعنی "انگلینڈ"میں موجود لڑکیاں شاید اس لفظ کے اصل معنیٰ سے پوری طرح آگاہی نہیں رکھتی۔ وہ اُسے قربت کی اجازت دیتی ہیں لیکن وہ بے رُخی سے رد کردیتا ہے ۔ کتاب کے آخری حصے میں وہ واقعہ رونما ہوتا ہے جس کی خاطر یہ کتاب لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ واصف کی مُلاقات ایک پاکستانی لڑکی جسے وہ "مانو" کے نام سے یاد کرتا ہے سے ہوتی ہے۔ایک خوب صورت کہانی کی ابتداءہوتی ہے اور پھر وہی ایک ٹریجک اینڈ مگر اس مرتبہ کوئی "ظالم سماج" نہیں ہے مگر زندگی کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ کتاب کا یہ حصہ ایک خوبصورت اور پاکیزہ محبت کے اظہار سے بھرپور ہے لیکن ناجانے کیوںمجھے یہ احسا ہواکے واصف نے "سب کچھ" بیان نہیںکیا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اُس کی محبت کا تقاضہ ہو یا پھر قلم کی مجبوری!!! کتاب میں کئی جگہوں پر واصف اشعار کا سہارے لے کر قاری پر اپنے دل کا حال بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کتاب میں درج پاکستانی لڑکی سارا کی جانب سے بھیجے جانے والے خط میں لکھی ایک انگلش نظم نے مجھے بھی متاثر کیا: Doe's he love me? Doe's he not? He told me once, but I forgot اس کتاب کو دو مرتبہ پڑھنے کے بعد میں اسے سفر نامہ کہنے میں متامل ہوں کیونکہ سفرنامہ عموما پہلے سے طے شدہ مقامات اور شیڈول کے مطابق ہوتا ہے، جب کے واصف اپنے اس سفر میں ہر مرتبہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ میری خیال سے اسے "یادیں اور یادداشتیں"کہنا ذیادہ مُناسب ہوگا۔ میرے ہاتھ میں اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے، شُنید ہے کے اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن جلد بازار میں آنے کو ہے اس لیئے اُمید کرتا ہوں کے آنے والے ایڈیشن میں "پروف ریڈنگ" کے بعد غلطیاں دور کردی جائیں گی۔ ابھی" آتش" جوان ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم آئندہ بھی سادگی سے بیان کی گئی کئی اور سچائیاں پڑھ سکیں گے۔ شاہد علی صدیقی 30مئی ، 2010 Last edited by shafresha; 01-06-10 at 12:11 AM. وجہ: چند الفاظکی تصیح! |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کتاب خریدنے کے خواہشمند پاک نیٹکے ممبران یقینا اس کتاب کے مطالعے سے لطف انداز ہوں گے، اور مجھے اُمید ہے کہ واصف پاک نیٹکے ممبران کو ڈسکاؤنٹ بھی دیںگے۔
یہ واقعی ایک اچھی کتاب ہے! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,627
کمائي: 30,464
شکریہ: 10,464
1,168 مراسلہ میں 3,099 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بھی سادہ تحریں پسند ہیںجن میں سبق چھپا ہوا ہو۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے یہ کتاب کسطرح مل سکتی ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بھی یہ کتاب چاہئے !
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اس کتاب کی پسندیدگی کا شکریہ!
اس کتاب کو حاصل کرنے کے خواہشمند مجھے پرسنل میسج کرکے اپنا پوسٹل ایڈریس بمعہ فون نمبر بھیج دیں، میںواصف سے رابطہ کرکے آپ کو کتاب بھجوانے کا بندوبست کرتا ہوں۔ یقینا پاک نیٹکے ممبران کو تو ڈسکاؤنٹمل ہی جائے گا۔۔۔۔ ویسے آپس کی بات ہے مجھے تو یہ کتاب "مفت" میںملی تھی
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,627
کمائي: 30,464
شکریہ: 10,464
1,168 مراسلہ میں 3,099 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
۔جیسے ڈاکٹرز کو ادویات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واصف صاحب نے پاک نیٹ پراس سفر نامے کے چند اقتباس شئیر کئے تھے سادہ انداز تحریر ہے اور بہت خوبصورت پیرائے میں حالات زندگانی قلمبند کئے گئے ہیں ۔
انہیں بہت مبارک ہو ایک بہترین تصنیف ۔ ادیب نہ ہونے کے باوجود ۔
__________________
آپۖ ہی کی طریقت ہو میری اِتِّباع پَیراہَن
میرا قلب پڑھے لا الہ الااَللہ نظر آوں گدا |
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ان کے علم میںاور عمل میںاضافہ فرمائے آمین
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Junior Member
اجنبی
|
آپ سب دوستوں کا شکریہ اور سب سے بڑھ کے مرے عزیز دوست میرے بھائی شاہد صدیقی صاھب کا شکریہ۔ جنہوں نے ہہت ہی خوب تبصرہ کیا۔
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاک, ڈاٹ, واقعات, لوگ, نظر, منافق, منتقل, انگلش, اشعار, تلاش, تحریر, تعارف, جواب, جلد, حسن, خواتین, دوست, رات, زندگی, سفر, سال, شہر, ظالم, علی, غم |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میچ فکسنگ میں زیرِ تفتیش کھلاڑیوں کا تعارف | عدنان دانی | کرکٹ | 2 | 15-09-10 08:12 AM |
| مردان خود کش حملہ، تیرہ ہلاک، متعدد زخمی | محمدعدنان | خبریں | 0 | 18-05-08 11:16 PM |
| (ق) لیگ کے متعدد اراکین اسمبلی (ن) لیگ میں شمولیت پر تیار | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 21-02-08 05:02 AM |
| محترمہ بے نظیر بھٹو کے خط کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون کرنے کو تیار ہیں،بابر اعوان | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 06-01-08 08:08 AM |
| ::: بینظیر قتل:اقوام متحدہ تعاون کے لئے تیار ::: | ابو کاشان | خبریں | 0 | 03-01-08 12:56 PM |