|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ان دنوں کا سچا واقعہ ہے جب تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آبادی کے تبادلے کا ایک بڑا بوجھ نوزائیدہ مملکت کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس ملک پر مزید دباؤ سے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے مگر یہ قوم اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار تھی ، قیام پاکستان کے ساتھ ہی فسادات کا ایک سلسلہ ہو گیا جن میں مشرقی پنجاب خاص طور نشانہ بنا وہاں کےایک گاؤں مہالوں میں سکھوں نے گاؤں پر حملہ کا ارادہ کیا تو تقریبا 4 ہزار کے قریب گاؤں کے مسلمانوں نے ایک مسلمان ریٹائرڈ صوبیدار میجرعطا محمد کی حویلی میں پناہ لی وہ واحد مسلمان تھا جس کے پاس اس وقت ایک عدد رائفل اور ایک پستول تھا اور پورے گاؤں کی حفاظت کا انحصار اسی پہ تھا آہستہ آہستہ دوسرے گاؤں سے جتھے یہاں جمع ہو رہے تھے صوبیدار میجر نے اپنے چھتوں کو اینٹوں پتھروں سے بھر لیا تھا رات کی تاریکی میں جب وہ حویلی پر حملہ آور ہوئے تو سامنے سے اینٹوں پتھروں اور ساتھ ہی گولیوں کی بارش شروع ہو گئی صوبیدار میجر کے ساتھ اس کا بھانجا اور داماد جو ایک ریٹائیرڈ فوجی تھا نشانہ تاک تاک کر گولیاں برسا رہا تھا سکھ حملہ آوروں نے سارا گاؤں گھیرا ہوا تھا دو دن ان پردباؤ ڈالا جاتا رہا ان دونوں فوجیوں کی مدد صوبیدار میجر کی بڑی بیٹی "جو اپنے دو بچوں کے ساتھ میکے آئی ہو ئی تھی " گولیاں بھر بھر کر انہیں دینے سے کر رہی تھی کہ اسی دوران میں بندوق کے چند چھرے صوبیدار کے چہرے پہ لگے اور وہ خون میں لت پت ہو گیا اسے فوری طور پر وہاں سے ہٹایا گیا تو اس کی بیٹی نے پستول لیا اور حملہ آوروں پر گولی چلانے لگی
صوبیدار کی بانچ بڑی بیٹیوں کے بعد بیٹے بیدا ہوئے تھے وہ اکثر ڈیوٹی کے سلسلہ میں دوسرے شہروں میں رہتا اس لئے اس نے اپنی بیٹی کو پستول اور بندوق کی مکمل ٹریننگ دے رکھی تھی جو آج پورے گاؤں کی حفاظت کے کام آرہی تھی اب اس گاؤں کو انتظار تھا کہ کہیں سے فوج وہاں بھی پہنچ جائے اسی دوران میں صوبیدار میجر کا بڑا داماد جو لاہور میں ضلعدار تھا ایک کیپٹن کے ساتھ ایک ٹرک لیکر وہاں پہنچا تاکہ اپنی بیوی دو بچوں اور سسرال کو وہاں سے نکال سکے وہاں سسر داماد کے درمیان ایک مکالمہ ہوا سسسر : اگر تجھے لے جانا ہے تو اپنے بیوی بچوں کو لے جا میں اور میرا خاندان ان چار ہزار لوگوں کو موت میں منہ میں چھوڑ کر نہیں جا سکتا داماد : پھر میرے بیوی بچے بھی یہیں رہیں گے جہاں چار ہزار مسلمان ہیں اگر انہیں جینا ہے تو انہی کے ساتھ زندگی ملے گی اور وہ اکیلا واپس لوٹ گیا چار ،پانچ راتیں اسی طرح گزریں حویلی میں اناج نام کی کوئی شے نہیں بچی پانی ختم ہو چکا تھا بچے بلک رہے تھے ان میں سے چند نوجوان ہمت کرکے گاؤں کے کنویں سے پانی لاتے تو عورتیں بچے اس پر ٹوٹ پڑتے مائیں اپنا دوپٹہ بھگو لیتیں اور بچوں کو چسا دیتی ۔ آخر ان کی سنی گئی اور فوج وہاں پہنچ گئی اور فوجیوں نے گاؤں کے گرد شدید فائرنگ کی حملہ آور جو گھیرا ڈالے بیٹھے تھے بھاگ گئے چند ایک مارے گئے اور یوں ایک بے سروسامانی میں ایک قافلہ واہگہ بارڈر کی طرف روانہ ہوا اس امید کے ساتھ کہ اب ہمیں کسی اور پناہ کی ضرورت نہیں رہے گی ہماری جان و مال محفوظ ہو چکے ہیں ہم نے جو قربانیوں سے وطن حاصل کیا ہے ہمارے اپنے اب ہمارا خیال رکھیں گے --- اور انہوں نے بھی واقعی اپنا حق ادا کر دیا کھلی بانہوں سے استقبال ہوا رہنے کو جگہ دی اور ،نقصانات کا بھی ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ، کاش میرے قائد کو چند سال اور زندگی کی مہلت ملی ہوتی تو نو سال کے بعد پہلا آئین نہ بنتا نہرو کو یہ کہنے کا موقع نہ ملتا "کہ میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں" |
|
|
|
| کمائي نے بزم خیال کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 02-12-09 | ایس اے نقوی | دستیاب نہیں | 0 |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,689
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں یہاں صرف اتنا کہوں گی
خدارا پاکستان کا مقابلہ ہندوستان سے نہ کیا کریں ۔ پاکستان اللہ کے معجزہ کی صورت میں قائم ہوا ہے اور اب تک اللہ کے بھروسے پر قائم ہے ۔ پاکستان کو ختم کرنے کے لیے پہلے دن سے دنیا کی تمام طاقتیں لگیں ہوئیں۔ لیکن کچھ بگاڑ نہیں سکیں ۔ پاکستان میں ہندوستان جتنی غربت نہیں ۔ پاکستانی قوم ہندوستانیوں جیسی کم ظرف نہیں ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان اور سیاست کو آپ یکجا نہ کیا کریں اس مضمون میں کہیں بھی ہندوستان سے مقابلہ نہیں ہے بلکہ یہاں اس بات کا ریفرنس اس لئے تھا کہ 47 سے 58 کے مارشل لاء تک تاریخ پر ایک نظرضرورڈالئے گا کتنے الیکشن ہوئے کتنی حکومتیں تشکیل پائیں اور اگر قائداعظم کی زندگی وفا کرتی تو یہ سب نہ ہوتا قائد اعظم نے خود کہا تھا کہ میری جیب میں جو سکے ہیں ان میں اکثر کھوٹے ہیں یہ الفاظ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں
مسز وجے لکشمی پنڈت نے کہا تھا "اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور دو سو ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمد علی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "۔ ماسٹر تارا سنگھ سکھ رہنما "قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ۔ اگر یہ شخص سکھوں میں پیدا ہوتا تو اس کی پوجا کی جاتی"۔ مسولینی وزیرِ اعظم اٹلی "قائدِ اعظم کے لیے یہ بات کہنا غلط نہ ہو گی کہ وہ ایک ایسی تاریخ ساز شخصیت تھے جو کہیں صدیوں میں جا کر پیدا ہوتی ہے" ۔ پروفیسر اسٹینلے "جناح آف پا کستان" کے مصنف پروفیسر اسٹینلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکہ اپنے کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں ۔ " بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتا ہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے بیک وقت تینوں کارنامے کر دکھائے " ۔ اور یہ رہے ہم قائداعظم محمدعلی جناح جب زیارت سے بیماری کی حالت میں کراچی پہنچے تو انہیں ایسی ایمبولینس لینے گئی جس میں تیل نہ تھا جو راستے میں خراب ہو گئی اور ایک گھنٹہ تک قوم کا محسن دھوپ میں دوسری ایمبولینس آنے کا انتظار کرتا رہا اسے بھی پڑھیے کھوٹے سکے --- گوہرمراد -- روزنامہ آج |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | محمدعدنان (02-12-09), ایس اے نقوی (02-12-09), ام طلحہ (02-12-09), ابو عمار (02-12-09), سحر (02-12-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,383
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محمود الحق صاحب بہت اچھی تحریر ہے ماشاءاللہ
ویسے تو آپ کی ہر تحریر ہی کمال کی ہوتی ہے کہ تھوڑی سے پڑھ لیںتو باقی چھوڑنے کا من ہی نہیںکرتا لیکن اس تحریر کی بات ہی الگ ہے ۔ ویسے میںایک بات کہوں گی کہ ہم بہت بد نصیب قوم ہیں جو ہم اپنے محسنوں کی عزت کرنا نہیںجانتے
__________________
مجھے تم سے محبت ہے ! |
|
|
|
| سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (03-12-09) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب محمود بھائی
آپ کی تحریر واقعی بہت اچھی ہے اور سلیس اردو میں لکھا ہے۔۔شکریہ |
|
|
|
| عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (03-12-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محمود بھائی ،
آپ کی ہر تحریر پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے ۔ لیکن یہاں تو گویا آپ نے میرے خیالات کو زبان دے دی اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | بزم خیال (03-12-09) |
|
|
#9 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,536
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
|
||||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| php, کوشش, کراچی, پاکستان, مکمل, موقع, موت, مقابلہ, معجزہ, آبادی, آج, اللہ, امریکہ, بھائی, بیوی, بچوں, خون, خلاف, رات, زندگی, سال, عورتیں, علی, غربت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|