واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




کارگل کے راز ۔۔اندازِ جہاں....اسداللہ غالب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  2 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 18-09-07, 02:16 PM   #1
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 24
مراسلات: 4,509
کمائي: 53,826
شکریہ: 8,643
2,599 مراسلہ میں 6,421 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کارگل کے راز ۔۔اندازِ جہاں....اسداللہ غالب

کارگل کے راز ۔۔اندازِ جہاں....اسداللہ غالب

کارگل کے راز ۔۔اندازِ جہاں....اسداللہ غالب

جنرل پرویز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہماری چند بٹالین فوج نے بھارت کی کئی ڈویژن فوج کو محاذ پر آنے پر مجبورکردیا تھا۔
کارگل کی جنگ شروع ہوئی تو حکومت پاکستان نے اپنے عوام اور ساری دنیا پر یہ ظاہر کیا تھا یہ آپریشن ”مجاہدین“ کے ہاتھ میں ہے۔
حقیقت اور دعوے میں تضاد کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔
ہم اکثر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ 6 ستمبر کی رات کی تاریکی میں بھارت نے چوروں کی طرح پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تھا۔ شاعروں نے اس پر نغمے لکھے اور تبصرہ نگاروں نے اس پر شاہنامے تخلیق کئے۔
جنرل موسیٰ ستمبر 65ءکی جنگ میں پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف تھے۔انہوں نے بھی وقتی طورپریہی دعویٰ کیا تھا کہ انڈیانے جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن جب ان کی کتاب شائع ہوئی تو اس کے ابتدائی فقرے ہی یہی تھے کہ بھارت کو بین الاقوامی سرحد پر حملے کا جواز ہماری طرف سے ”آپریشن جبرالٹر“شروع کرنے سے ملا۔
”آپریشن جبرالٹر“ کے بارے میں بھی حکومت پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس میں مجاہدین شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں فتوحات پر فتوحات حاصل کررہے ہیں۔جنرل موسیٰ لکھتے ہیں کہ آپریشن جبرالٹر شروع کرنے کا مشورہ اس وقت کے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ کہہ کر دیا تھا کہ اس کے نتیجے میں بھارت یقینی طورپربین الاقوامی سرحد پر کوئی کارروائی نہیں کریگا۔ لیکن مسٹر بھٹو کی طرف سے کرائی جانے والی یہ یقین دہانی سراب ثابت ہوئی اور بھارت عالمی سرحدوں پر چڑھ دوڑا،جسے ہم نے اپنی قوم کے سامنے”جارحیت“ کا نام دیا۔فیلڈمارشل ایوب خان نے بھی اپنی مختصر نشری تقریرمیں یہی لائن اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ :”بھارت نے چوروں کی طرح ہماری انٹرنیشنل سرحدوں پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔“
65ءکی جنگ میں آپریشن جبرالٹر سے بھی تھوڑا پیچھے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کی فوجیں رن آف کچھ میں ایک دوسرے سے الجھی تھیں۔ عام تصور کے مطابق پاکستان نے رن آف کچھ میں بھارتی افواج کو ہزیمت سے دوچار کیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے کہا تھا کہ بھارت اس شکست اور ذلت کا بدلہ لینے کیلئے آئندہ اپنی مرضی سے محاذ چنے گا۔
اس سے ظاہر ہوا کہ ستمبر65ءمیں بھارتی حملہ دراصل رن آف کچھ کی جنگ کا تسلسل تھا۔
3 دسمبر1971ءکی شام کو پاکستان کے ٹی وی اور ریڈیو نے خبریں نشر کیں کہ بھارت نے مغربی سرحد پر فوجی جارحیت کا ارتکاب کردیا ہے اور ہماری افواج جرا¿ت اور دلیری سے ملک کا دفاع کررہی ہیں۔جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مغربی سرحد پر پاکستان نے اس نطریئے کے تحت کارروائی میں پہل کی تھی کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے ہوسکتا ہے۔ میں یہ کہنے کیلئے آج بھی تیار نہیں ہوں کہ پاکستان نے 3دسمبر1971ءکو جارحیت کا ارتکاب کیا تھا،جبکہ امر واقعہ یہی تھا۔میں کہتا ہوں کہ 3 دسمبر 71ءکو مغربی سرحد پر پاکستانی فوج کی کارروائی مشرقی سرحد پر کئی مہینوں سے جاری بھارتی افواج اور مکتی باہنی کی جارحیت کا جواب تھی۔
جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد کے دعووں میں کبھی مماثلت نہیں ہوتی۔ جنگ کے دوران وہی دعوے کئے جاتے ہیں جو قوم اور فوج کا مورال بلند کرنے اور دشمن کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے ضروری ہوں۔ جنگ کے بعد اس سے متضاد حقائق سامنے آنے کے باوجودابتدائی دعووں کی ضرورت اور حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
کارگل میں پاکستان نے یہی دعویٰ کیا تھا کہ کچھ مجاہدین ہیں جنہوں نے کنٹرول لائن کے پار بھارتی چوٹیوں پر قبضہ کرلیاہے۔لیکن کون اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ کارگل کی پوری جنگ کے دوران وزیراعظم نوازشریف کے وزیر اطلاعات سید مشاہد حسین اور آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل راشد قریشی روزانہ باقاعدگی سے بریفنگ دیا کرتے تھے۔ اس بریفنگ میں کارگل میں بھارتی افواج کی ہزیمت اور تباہی کے بارے میں جو تفصیلات بیان کی جاتی تھیں، ان کی بناءپر بھارت نے اپنے ملک میں پاکستان ٹی وی کی نشریات سننے کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔
نواز شریف بڑے معصوم بنتے ہیں کہ ان کو کارگل آپریشن کے بارے میں پیشگی باخبرنہیں کیاگیا۔ان کے دور کے وزیرداخلہ چودھری شجاعت حسین دعوے سے کہتے ہیںکہ کارگل پر نوازشریف کو باقاعدہ بریفنگ دی گئی۔ نوازشریف ” چوچے“ نہیں تھے کہ روزانہ اپنے وزیر اطلاعات کو ٹی وی پر کارگل کے معرکے میں مجاہدین کی فتوحات کا ڈھنڈورا پیٹنے کی اجازت بھی دے رہے تھے، این ایل آئی کو شاباش دینے کیلئے شمالی علاقوں کا دورہ بھی کررہے تھے۔آج وہ ”غدارکون؟“میں کس منہ سے دعویٰ کررہے ہیں کہ انہیں این ایل آئی کی شمولیت کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
کارگل میں پاکستانی افواج،معاف فرمائےے،”مجاہدینِ کشمیر“ کے ہاتھوں ایک طرف بھارت سخت تکلیف میں مبتلا تھا اور دوسری طرف پاکستان کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو اس قدر تکلیف ہوئی کہ انہوں نے اپنی مسلح افواج کے خلاف ایک نشری تقریر کرڈالی جس میں اس قدر تضحیک آمیز جملہ استعمال کیا گیاکہ:”کارگل سے کوئی راستہ سری نگر کی طرف نہیں جاتا۔“محمد نوازشریف کو اللہ نے کوئی اخبار اور کتاب پڑھنے کی توفیق نہیں بخشی ،انہوں نے آج تک اٹلس پر بھی نظرنہیں ڈالی ہوگی لیکن ان کے تقریر نویس کو تو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ سری نگر سے نکل کر سیاچن کو جانے والا ہر راستہ کارگل سے ہوکر گذرتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے میاں نواز شریف اور ان کے درباری اور حواری سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ 1984ءسے بھارتی افواج نے کارگل کی طرزپر آپریشن کرکے سیاچن میں پاکستان کی خالی کردہ پوسٹوں پر چوری چوری قبضہ کرلیا تھا۔جس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ایسی جنگ چھڑگئی جسے دنیا میں بلند ترین میدان جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔بقول ضیاءالحق جہاں گھاس کا ایک تنکا تک نہیں اگتا۔بھارت کےلئے سیاچن میں فوجوں کو سپلائی فراہم کرنے میں اس لئے آسانی تھی کہ سری نگر سے کارگل کے راستے سیاچن تک اسے ایک کھلی سڑک میسر تھی۔
پاکستان نے سیاچن میں بھارتی افواج کا بہادری سے مقابلہ کیا،لیکن اگر آپ کرنل غلام جیلانی کی ایس ایس جی پر لکھی ہوئی کتاب پڑھیں تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ ہماری اموات بھارتی افواج کے ہاتھوں نہیں، موسم کے ہاتھوں ہورہی تھیں۔ کرنل غلام جیلانی نے بھارت اور پاکستان کی افواج کی مڈبھیڑ کے بعض واقعات کی تفصیل بھی درج کی ہے،جن میں ہمارے نوجوان گاجرمولی کی طرح کٹے۔میں حیران ہوں کہ میاں نوازشریف کو کارگل میں پاکستان کی ہلاکتوں پربڑا دکھ ہے لیکن وہ اس حقیقت سے کیوں آگاہ نہیں کہ سیاچن میں بھی ہماری افواج کا یہی حشر ہورہا تھا۔
پاکستانی افواج نے سیاچن میں اپنے مسلسل نقصانات کو روکنے کیلئے کارگل آپریشن کا فیصلہ کیا تواس میں قباحت کیا تھی۔کارگل کی چوٹیوں پر قابض ہوکر پاکستانی مجاہدین نے بھارت کی ”شہ رگ“ کو کاٹ کر رکھ دیاتھا۔”شہ رگ“بھارت کی کٹی اور تکلیف کا اظہار میاں نوازشریف نے کیا۔ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود انہوںنے پاکستانی افواج کو اپنی نشری تقریر میں طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ وہ نشری تقریر کرکے فوج کے مقابل صف آراءہونے کے بجائے”کارگل کمیشن“قائم کردیتے،تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔ میاں نوازشریف نے اس کے برعکس فوج سے محاذآرائی کا راستہ اختیار کیا۔ان کا خیال تھا کہ وہ ایک آرمی چیف کو رخصت کرچکے ہیں، ایک صدر کو گھربھیج چکے ہیں اور ایک چیف جسٹس آف پاکستان کو ریٹائرمنٹ پر مجبور کرچکے ہیں،اس لئے اب وہ اپنے چوتھے شکارمیں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔
یہ الگ بات ہے کہ شکاری خود شکار ہوگیا۔
بہتر ہوتا میاں نوازشریف اپنے عزائم کی ناکامی پر ندامت کا اظہارکرتے۔لیکن وہ افواجِ پاکستان کے خلاف مسلسل محاذ آرائی مول لے رہے ہیں۔لندن سے جاری ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اقتدارمیں آکر معرکہِ کارگل پر کمیشن قائم کرینگے۔
تاریخِ اسلام کی خوش نصیبی ہے کہ میاں نوازشریف چودہ سو سال بعد پیدا ہوئے،ورنہ وہ شاید خدانخواستہ کسی ”غزوہ“کی ناکامی کی تحقیقات پر بھی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کردیتے۔

Source::>>Millat
__________________
جاؤں صدقے سوہنے کلمے والے توں سوہنے نبی امت دے رکھوالے توں
پاکستانی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
S_S_G_Commando (05-04-08), رضی (06-04-09)
کمائي نے پاکستانی کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
06-04-09 رضی yar acha lkha 10
پرانا 06-04-09, 03:48 AM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی سچی باتیں کی آپ نے
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کارگل, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیراعظم, موقع, مقابلہ, معلوم, آپریشن, آج, اسلام, بھائی, جواب, حواری, خوش, خلاف, خان, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, رات, راستہ, سال, علی, صف, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger