|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اٹھارویں صدی تک اسلامی دنیا اپنے ضعف کی انتہا کو پہنچ چُکی تھی، قوت کے آثار کسی جگہ نہیں پائے جاتے تھے، ہر جگہ جومد و تنزل نمایاں تھے۔ آداب و اخلاق قابل نفرت تھےامرا وحشیانہ عشرت و عوام وحشیانہ عذلت میں زنگی بسر کر رہے تھے۔
مذہب بھی دیگر امور کی طرح پستی میں تھا۔تصوف کے طفلانہ توہمات کی کثرت نے خالص اسلامی توحید کو ڈھک لیا تھا ۔ عوام و جہال تعویذ گندے اور مالا میں پھنس کر فقرا اور دیوانے درویشوں پر اعتقاد رکھتے تتھے۔ ۔ جہہلا کا خیال تھا کہ خدا ایسا برتر ہے کہ وہ اسکی اطلاعات بلا واسطہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے قرآن کے اخلاقی تعلیم کو نہ صرف پس پشت ڈال رکھا تھا بلکہ اسکی خلاف ورزی ھی کی جاتی تھی۔افیوں اور شراب خوری عام تھی، زانا کاری کا زور تھا اور ذلیل ترین اعمال قبیحہ کھلم کھلا بے حیائی کے ساتھ کئیے جاتے۔ یہ تصویر ڈاکٹر لوتھر نے اپنی کتاب جدید دنیائے اسلام میں کھینچی۔ اگرچہ اس میں کچھ مبالغہ آرائی لگتی ہے تاہم زیادہ تر یہ حقیقت ہی ہے۔ یہ اٹھارویں صدی کے ہندوستان کا منظر نامہ ہے۔ سلطان اورنگزیب عالمگیرجو ۔ ۔ ۔ معلوم تاریخ میں اشوک کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا فرمانروا تھا اسکی سلطنت ہندستان میں قائم ہونے والی سلطنتوں میںسب سے عظیم سلطنت تھی۔۔ لیکن عالمگیر کے بعد اسکے تخت پر اسکی اولاد میں سے وہ لوگ بیٹھے جنہوں نے گویا قسم کھا لی تھی کہ علمگیر سے دین اسلام کی حمایت و اشاعت کی جو غلطیاں ہو گئی ہیں انکا کفارہ کر کے رہنا ہے ۔ ۔ ۔ نیز اس نے سلطنت میں جو توسیع کی تھی اور ہندوستان میں جو نظام دیا ہے اس کو اپنی تعیش پرتی، کاہلی و نا اہلی، اندرونی اختلافات و کشمکش، اور امور سلطنت سے غفلت کے ذریعہ اس گناہ کا کفارہ مسلسل ادا کرتے رہیں گےجو عالمگیر سے سر زد ہوا۔ چناچہ یہ مغل سلطنت کی بد قسمتی کے اس کے بعد یکے بعد دیگرے ایک سے ایک نا اہل حکمران دہلی کے تخت پر جلو افروز ہوتے رہے۔ صرف حضرت شاہ ولی اللہ کے دور میں 11 بادشاہ تخت پر جلوہ افروز ہوئے اور موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ عالمگیر جو علما کی بہت عزت کرتا تھا اسکا پہلا ولی عہد اسکا الٹ نکلا۔ اس نے شیعیہ مکتبہ فکر اختیار کر لیا ۔جسکی وجہ سے سنی العقیدہ افواج اور عوام میں بد دلی پھیل گئی۔ اس نے علما کو محبوس کروا دیا۔ وہ راتوں کو جاگتا اور دن چڑھے سوتا رہتا۔ تاریخ اسکو بادشاہ بے خبر کے نام سے جانتی ہے۔ اسکے صرف 6 سالہ عہد میں عظیم مغلیہ سلطنت کی چولیں ہل گئیں ۔ اس کے بعد فرخ سیر حکمران بنا ۔ لیکن اس کی اہلیت حکمران تو کجا ۔ ۔ ۔ دربار میں آنے کی بھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے پہل تو درباری سازشیوں کے ہاتھوں کھیلتا رہا۔۔۔اور بالاخر اسکے وزرا نے اسکی آنکھؤں میں گرم سلائی پھیر کر اسکو اندھا کر کے قید خانے میں قید کر دیا جہاں اس نے وفات پائی۔ اس واقعہ کی وجہ سے مغل سلطنت کی بہت بے قدری ہوئی اور اسکی دھاک دلوں سے اٹھ گئی۔ اس کے بعد محمد شاہ رنگیلا کا طویل دور آیا۔ یہ بادشاہ عیش و طرب میں ایسا ڈوبا کہ اس کو دنیا و ما فیہا کی خبر تک نہ رہی۔ نادر شاہ کا مشہور حملہ اسی کے دور میں ہوا۔ جس میں کئی لاکھ افراد صرف دہلی شہر میں کھیت ہوئے۔ شاہ ولی اللہ اس دور کی بابت فرماتے ہیں "نادر شاہ کے جانے کے بعد شہر مُردوں سے پُر اور زندوں سے خالی تھا۔ مکانوں پر ویرانی برستی تھی۔ محلے کے محلے جلے پڑے تھے۔ مُردوں کی سرانڈ سے بھیجا نکلا جاتا تھا۔نہ کوئی کسی کو دفن دینے والا اور نہ گور میں دفن کرنے والا۔ ، ڈھیروں جل کا خاکست ہو گئے۔ اور محمد شاہ رنگیلا کا یہ حال تھا کہ کچھ دن پڑا بھاری نییند سوتا رہا۔ اور جب اتھا تو اسکی آنکھوں میں اس قدر چیپڑ لگا ہوا تھا کہ دیکھنے سے گھن آتی تھی" نادر شاہ کے جانے کے بعد تین زرخیز صوبے بنگال ، بہار اور اڑیسہ دہلی سے جدا ہو گئے جسکی وجہ سے دہلی کو بہت زیاددہ مالیاتی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ محمد شاہ رنگیلا نے تیس سال کے قرین حکومت کر کے خاندان تیموریہ کو تباہی کے گڑھے تک پہنچا دیا۔ شاہ رنگیلا کے بعد محمد عالم ثانی برسر اقتدار آیا۔ اگر محمد شاہ رنگیلا کے دور میں ہندوستان کا اخلاقی دیوالیہ نکلا تھا تو اس کے دور میں سیاسی دیوالیہ نکل گیا۔ اس کے دور میں مرہٹے اس قدر طقتور ہو گئے کہ کئی بار دہلی پر قبضہ کیا۔ اس پر احمد شاہ ابدالی کو مداخلت کرنا پڑی اور پانی پت کی مشہور جنگیں ہوئیں جن میں مرہٹوں کو شکست فاش دی گئی۔ تاہم عالم ثانی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا اور ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط نہ کر پایا۔ شاہ عالم ثانی نے انگریزوں کی اطاعت قبول کر لی اور ایک معاہدہ کر لیا جس کی رُو سے وہ انکا وظیفہ خؤار ہو گیا۔ اور انگریز اسکی حفاظت کا ذمہ لے رہے تھے۔ مرہٹوں کے بعد ایک اور عذاب روہیلوں کی شکل میں ایا۔ انہوں نے نہ صرف پایہ تخت دہلی پر قبضہ کر لیا بلکہ انہوں نے شاہی محل میں بھی لوٹ مار کی۔ شہزادیوں کو کوڑے لگوائے گئے اورشاہ عالم ثانی ی دونوں آنکھیں خنجر سے نکال کر اسکو بادشاہی کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ تیموریہ خاندان کی اس قدر ذلت اس سے قبل کبھی نہ ہوئی تھی۔ میر درد اسی وقت کے بارے میں فرماتے ہیں زنـــدگی ہــے یا کـوئی طــوفان ہــے اور شاہ ولی اللہ اس وقت کی زبوں حالی پر کچھ یوں نوحہ کناں ہیں
یہ وہ حالات تھے جن کی موجودگی میں عظیم مغلیہ سلطنت ۔ ۔ ۔ انگریزوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہوئی |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہی حالات اب پاکستان کے ھیں
محل پہ محل تعمیر کر رھے ھیں ھر ناجائز طریقے سے پیسہ کما رھے ھیں اللہ کا خوف کیسے ھے |
|
|
|
| Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (03-10-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب بھائیوں کا شکریہ
اگر ہم نتیجہ نکالنا چاہیں کہ کیوں زوال آیا تو چند پوائینٹس میں کچھ یوں لکھا جا سکتا ہے 1:اکبر بادشاہ کے دور میں لادینی نظریے اسلام میں داخل ہوئے اور اسکی حکومت میں ہندوؤں کا عمل دخل بڑھ گیا۔ حتی کہ اس نے ہندو لڑکیوں سے شادیاں کر لیں۔ ان سے جو اولادیں ہوئیں وہ ہندوانہ نظریات کے زیر اثر تھیں 2:اکبر کے بعد ہر بادشاہ کی اپنے بھائیوں سے اقتدار کے سلسلہ میں جنگیں ہوئیں۔ اس خانہ جنگکی کے نتیجہ میں درباری و محلاتی سازشیں عرج پر پہنچ گئیں۔ وزرآ اور امرآ سازشی اور بد کردار ہوتے تھے۔ 3:ہندو ،ماؤں کے زیر اثر جو اولادیں ہوئیں وہ مسلمان ماؤں سے ہونے والی اولادسے نبرد آزما رہیں ۔ مثال کے طور پر داراشکوہ اوراورنگزیب عالمگیر۔ داراشکوہ کی کافی پشت پناہی ہندؤؤں نے کی 4:اورنگزیب عالمگیر کے علاوہ کسی بادشاہ نے اسلام نافذ کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ عوام کا اخلاقئی معیار بلند نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی موثر معاشرتی سسٹم انکو دیا گیا۔ مغلوںکے عہد میں بظاہر شان و شوکت تو تھی مگر کسان اور مزدور ضروریات زندگی سے محروم تھے 5:معاشرے میں رشوت عام تھی، امرا کا طبقہ نچلے طبقات کا خون چوستا تھا۔ جاگیر داروں کے مظالم عام تھے۔ جاگیرداری سسٹم کی بنیاد اکبر بادشاہ نے رکھی۔ جس نے غریب طبقات کا خؤن چوس لیا۔ 6: اکثر بادشاہ عیش و عشرت و بے حیائی میں مبتلا تھے۔ انکو نہ اپنے نام و ناموس کی پروا تھی نہ دین کی۔ اسی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نہ وہ انگریزوں کی چالوں کو پہچان سکے اور نہ ہی انکی و دیگر کی پیش قدمی روک سکے۔ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
.................................................. .................
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کلمہ, قرآن, لوگ, نفرت, موقع, موت, معلوم, اللہ, اسلامی, توحید, تعلیم, تصویر, حال, خلاف, خبر, خدا, سیر, شہر, عہد, عزت, غلطیاں, صوبے, صدی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|