واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




چراغ بُجھا جاتا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-10-09, 07:36 PM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default چراغ بُجھا جاتا ہے

چراغ بُجھا جاتا ہے

اٹھارویں صدی تک اسلامی دنیا اپنے ضعف کی انتہا کو پہنچ چُکی تھی، قوت کے آثار کسی جگہ نہیں پائے جاتے تھے، ہر جگہ جومد و تنزل نمایاں تھے۔ آداب و اخلاق قابل نفرت تھےامرا وحشیانہ عشرت و عوام وحشیانہ عذلت میں زنگی بسر کر رہے تھے۔
مذہب بھی دیگر امور کی طرح پستی میں تھا۔تصوف کے طفلانہ توہمات کی کثرت نے خالص اسلامی توحید کو ڈھک لیا تھا ۔ عوام و جہال تعویذ گندے اور مالا میں پھنس کر فقرا اور دیوانے درویشوں پر اعتقاد رکھتے تتھے۔ ۔ جہہلا کا خیال تھا کہ خدا ایسا برتر ہے کہ وہ اسکی اطلاعات بلا واسطہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے قرآن کے اخلاقی تعلیم کو نہ صرف پس پشت ڈال رکھا تھا بلکہ اسکی خلاف ورزی ھی کی جاتی تھی۔افیوں اور شراب خوری عام تھی، زانا کاری کا زور تھا اور ذلیل ترین اعمال قبیحہ کھلم کھلا بے حیائی کے ساتھ کئیے جاتے۔

یہ تصویر ڈاکٹر لوتھر نے اپنی کتاب جدید دنیائے اسلام میں کھینچی۔ اگرچہ اس میں کچھ مبالغہ آرائی لگتی ہے تاہم زیادہ تر یہ حقیقت ہی ہے۔ یہ اٹھارویں صدی کے ہندوستان کا منظر نامہ ہے۔

سلطان اورنگزیب عالمگیرجو ۔ ۔ ۔ معلوم تاریخ میں اشوک کے بعد ہندوستان کا سب سے بڑا فرمانروا تھا اسکی سلطنت ہندستان میں قائم ہونے والی سلطنتوں میںسب سے عظیم سلطنت تھی۔۔
لیکن عالمگیر کے بعد اسکے تخت پر اسکی اولاد میں سے وہ لوگ بیٹھے جنہوں نے گویا قسم کھا لی تھی کہ علمگیر سے دین اسلام کی حمایت و اشاعت کی جو غلطیاں ہو گئی ہیں انکا کفارہ کر کے رہنا ہے ۔ ۔ ۔ نیز اس نے سلطنت میں جو توسیع کی تھی اور ہندوستان میں جو نظام دیا ہے اس کو اپنی تعیش پرتی، کاہلی و نا اہلی، اندرونی اختلافات و کشمکش، اور امور سلطنت سے غفلت کے ذریعہ اس گناہ کا کفارہ مسلسل ادا کرتے رہیں گےجو عالمگیر سے سر زد ہوا۔

چناچہ یہ مغل سلطنت کی بد قسمتی کے اس کے بعد یکے بعد دیگرے ایک سے ایک نا اہل حکمران دہلی کے تخت پر جلو افروز ہوتے رہے۔ صرف حضرت شاہ ولی اللہ کے دور میں 11 بادشاہ تخت پر جلوہ افروز ہوئے اور موت کے گھاٹ اتارے گئے۔
عالمگیر جو علما کی بہت عزت کرتا تھا اسکا پہلا ولی عہد اسکا الٹ نکلا۔ اس نے شیعیہ مکتبہ فکر اختیار کر لیا ۔جسکی وجہ سے سنی العقیدہ افواج اور عوام میں بد دلی پھیل گئی۔ اس نے علما کو محبوس کروا دیا۔ وہ راتوں کو جاگتا اور دن چڑھے سوتا رہتا۔ تاریخ اسکو بادشاہ بے خبر کے نام سے جانتی ہے۔ اسکے صرف 6 سالہ عہد میں عظیم مغلیہ سلطنت کی چولیں ہل گئیں ۔ اس کے بعد فرخ سیر حکمران بنا ۔ لیکن اس کی اہلیت حکمران تو کجا ۔ ۔ ۔ دربار میں آنے کی بھی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے پہل تو درباری سازشیوں کے ہاتھوں کھیلتا رہا۔۔۔اور بالاخر اسکے وزرا نے اسکی آنکھؤں میں گرم سلائی پھیر کر اسکو اندھا کر کے قید خانے میں قید کر دیا جہاں اس نے وفات پائی۔ اس واقعہ کی وجہ سے مغل سلطنت کی بہت بے قدری ہوئی اور اسکی دھاک دلوں سے اٹھ گئی۔
اس کے بعد محمد شاہ رنگیلا کا طویل دور آیا۔ یہ بادشاہ عیش و طرب میں ایسا ڈوبا کہ اس کو دنیا و ما فیہا کی خبر تک نہ رہی۔ نادر شاہ کا مشہور حملہ اسی کے دور میں ہوا۔ جس میں کئی لاکھ افراد صرف دہلی شہر میں کھیت ہوئے۔
شاہ ولی اللہ اس دور کی بابت فرماتے ہیں
"نادر شاہ کے جانے کے بعد شہر مُردوں سے پُر اور زندوں سے خالی تھا۔ مکانوں پر ویرانی برستی تھی۔ محلے کے محلے جلے پڑے تھے۔ مُردوں کی سرانڈ سے بھیجا نکلا جاتا تھا۔نہ کوئی کسی کو دفن دینے والا اور نہ گور میں دفن کرنے والا۔ ، ڈھیروں جل کا خاکست ہو گئے۔ اور محمد شاہ رنگیلا کا یہ حال تھا کہ کچھ دن پڑا بھاری نییند سوتا رہا۔ اور جب اتھا تو اسکی آنکھوں میں اس قدر چیپڑ لگا ہوا تھا کہ دیکھنے سے گھن آتی تھی"
نادر شاہ کے جانے کے بعد تین زرخیز صوبے بنگال ، بہار اور اڑیسہ دہلی سے جدا ہو گئے جسکی وجہ سے دہلی کو بہت زیاددہ مالیاتی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ محمد شاہ رنگیلا نے تیس سال کے قرین حکومت کر کے خاندان تیموریہ کو تباہی کے گڑھے تک پہنچا دیا۔
شاہ رنگیلا کے بعد محمد عالم ثانی برسر اقتدار آیا۔ اگر محمد شاہ رنگیلا کے دور میں ہندوستان کا اخلاقی دیوالیہ نکلا تھا تو اس کے دور میں سیاسی دیوالیہ نکل گیا۔ اس کے دور میں مرہٹے اس قدر طقتور ہو گئے کہ کئی بار دہلی پر قبضہ کیا۔ اس پر احمد شاہ ابدالی کو مداخلت کرنا پڑی اور پانی پت کی مشہور جنگیں ہوئیں جن میں مرہٹوں کو شکست فاش دی گئی۔ تاہم عالم ثانی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا اور ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط نہ کر پایا۔ شاہ عالم ثانی نے انگریزوں کی اطاعت قبول کر لی اور ایک معاہدہ کر لیا جس کی رُو سے وہ انکا وظیفہ خؤار ہو گیا۔ اور انگریز اسکی حفاظت کا ذمہ لے رہے تھے۔
مرہٹوں کے بعد ایک اور عذاب روہیلوں کی شکل میں ایا۔ انہوں نے نہ صرف پایہ تخت دہلی پر قبضہ کر لیا بلکہ انہوں نے شاہی محل میں بھی لوٹ مار کی۔ شہزادیوں کو کوڑے لگوائے گئے اورشاہ عالم ثانی ی دونوں آنکھیں خنجر سے نکال کر اسکو بادشاہی کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ تیموریہ خاندان کی اس قدر ذلت اس سے قبل کبھی نہ ہوئی تھی۔
میر درد اسی وقت کے بارے میں فرماتے ہیں
زنـــدگی ہــے یا کـوئی طــوفان ہــے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے


اور شاہ ولی اللہ اس وقت کی زبوں حالی پر کچھ یوں نوحہ کناں ہیں

"میں امرا سے کہتا ہوں کہ تم کو خدا کو خوف نہیں آتا؟تم فانی لزتوں کی طلب میں مستغرق ہو گئےاور رعیت کو چھوڑ دیا کہ ایک دوسرے کو کھا جائے؟علانیہ شرابیں پی جا رہی ہیں اور تم نہیں روکتے؟ زنا کاری،شراب خوری اور قمار بازی کے اڈے سر بازار بن گئے اور تم ان کا انسداد نہیں کرتے؟اس عظیم الشان ملک میں مدت دراز سے کوئی حد شرعی نہیں لگائی گئی۔جس کو تم ضعیف پاتے ہو اس کو تم کھا جاتے ہو اور جس کو تم قوی پاتے ہو اس کو چھوڑ دیتے ہو۔کھانوں کی لزت، عورتوں کی ناز و انداز، کپڑوں اور مکانوں کی لطافت، بس یہ چیزیں ہیں جن میں تم ڈوب گئے ہو۔ کبھی خدا کا خیال تمہیں نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔
میں ان فوجی آدمیوں سے کہتا ہوں کہ تم کو اللہ نے جہاد کے لیے اعلائے کلمہ حق کے لیے،شرک و اعل شرک کا زور توڑنے کے لیے فوجی بنایا تھا ۔اسکو چھوڑ کر گھوڑ سواری اور ہتھیار بندی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔اب جہاد کی نیت اور مقصد سے تمہارے دل خالی ہیں۔بھنگ اور شراب پیتے ہو،داڑھیاں منڈاتے ہو اور مونچھیں بڑھاتے ہو۔بندگان خدا پر طلم ڈھاتے ہو اور تمہیں کبھی اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ تم حرام کی روٹی کما رہے ہو یا حلال کی۔خدا کی قسم تم کو ایک روز دنیا سے جانا ہے اور پھر اللہ تم کو بتائے گا کہ تم کیا کر آئے ہو۔۔۔

یہ وہ حالات تھے جن کی موجودگی میں عظیم مغلیہ سلطنت ۔ ۔ ۔ انگریزوں کے ہاتھوں تباہی کا شکار ہوئی
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
wajee (02-10-09), رضی (03-10-09)
پرانا 02-10-09, 09:07 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,622
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اچھی معلومات دی ہے بدر بھائی جاری رکھیں
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
پرانا 02-10-09, 09:45 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہی حالات اب پاکستان کے ھیں
محل پہ محل تعمیر کر رھے ھیں
ھر ناجائز طریقے سے پیسہ کما رھے ھیں
اللہ کا خوف کیسے ھے
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
Haya 786 کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
پرانا 02-10-09, 11:33 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدرالزمان بھائی واقعی آپ کی معلومات اچھی ہے
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-10-09)
پرانا 03-10-09, 08:42 AM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب بھائیوں کا شکریہ
اگر ہم نتیجہ نکالنا چاہیں کہ کیوں زوال آیا تو چند پوائینٹس میں کچھ یوں لکھا جا سکتا ہے
1:اکبر بادشاہ کے دور میں لادینی نظریے اسلام میں داخل ہوئے اور اسکی حکومت میں ہندوؤں کا عمل دخل بڑھ گیا۔ حتی کہ اس نے ہندو لڑکیوں سے شادیاں کر لیں۔ ان سے جو اولادیں ہوئیں وہ ہندوانہ نظریات کے زیر اثر تھیں

2:اکبر کے بعد ہر بادشاہ کی اپنے بھائیوں سے اقتدار کے سلسلہ میں جنگیں ہوئیں۔ اس خانہ جنگکی کے نتیجہ میں درباری و محلاتی سازشیں عرج پر پہنچ گئیں۔ وزرآ اور امرآ سازشی اور بد کردار ہوتے تھے۔

3:ہندو ،ماؤں کے زیر اثر جو اولادیں ہوئیں وہ مسلمان ماؤں سے ہونے والی اولادسے نبرد آزما رہیں ۔ مثال کے طور پر داراشکوہ اوراورنگزیب عالمگیر۔ داراشکوہ کی کافی پشت پناہی ہندؤؤں نے کی

4:اورنگزیب عالمگیر کے علاوہ کسی بادشاہ نے اسلام نافذ کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ عوام کا اخلاقئی معیار بلند نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی موثر معاشرتی سسٹم انکو دیا گیا۔ مغلوںکے عہد میں بظاہر شان و شوکت تو تھی مگر کسان اور مزدور ضروریات زندگی سے محروم تھے

5:معاشرے میں رشوت عام تھی، امرا کا طبقہ نچلے طبقات کا خون چوستا تھا۔ جاگیر داروں کے مظالم عام تھے۔ جاگیرداری سسٹم کی بنیاد اکبر بادشاہ نے رکھی۔ جس نے غریب طبقات کا خؤن چوس لیا۔

6: اکثر بادشاہ عیش و عشرت و بے حیائی میں مبتلا تھے۔ انکو نہ اپنے نام و ناموس کی پروا تھی نہ دین کی۔ اسی عیش و عشرت میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نہ وہ انگریزوں کی چالوں کو پہچان سکے اور نہ ہی انکی و دیگر کی پیش قدمی روک سکے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-10-09, 08:42 AM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

.................................................. .................
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کلمہ, قرآن, لوگ, نفرت, موقع, موت, معلوم, اللہ, اسلامی, توحید, تعلیم, تصویر, حال, خلاف, خبر, خدا, سیر, شہر, عہد, عزت, غلطیاں, صوبے, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger