|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
لیاقت علی خان
قائد ملت |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا | محمدخلیل (07-04-09), ابن جلال (16-10-08), شاہد جمیل حفیظ (17-01-09), طارق راحیل (03-01-09), عبدالقدوس (27-10-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت عمدہ ،Real Light
اگر یہ یونیکوڈ میں دے دیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ |
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (16-02-09) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
خیرآپ کے مشورہ کا ممنون ہوں ۔ اس کا کوئی حل سوچتےہیں۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میںحُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (16-10-08), طارق راحیل (03-01-09) |
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 11
کمائي: 105
شکریہ: 1
8 مراسلہ میں 12 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
NICE SHARING
![]() gREAT wORK ! |
|
|
|
| Rahim.Zulfiqar کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (28-10-08) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
بھائی ان پیج سے یونی کوڈ کنورٹ کر لیں دوبارہ سے ٹائپ کرنے کی ضرورت نہیں
|
|
|
|
| عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (28-10-08) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (17-01-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
فرنگی کی حکومت ختم کرنے میں جو کردار کسی نے بھی ادا کیا ہے قابل ستائش ہے مگر کسی کے عظیم انسان ہونے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ کسی مقبول قومی رہنما کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا رکھتا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ لیاقت علی خان وہ شخص ہے جس نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایسا تعاون کا معاہدہ طے کیا تھا کہ اس سے پاکستان امریکہ کی پٹھّو ریاست کی حیثیّت اختیار کر گیا تھا۔ کیا کوئی اس معاہدے کی وضاحت یہاں کر سکتا ہے تاکہ سب کے علم میں اضافہ ہو۔
|
|
|
|
| محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (17-01-09) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رہی بات امریکہ کی گود کی - وہ تو خان لیاقت علی خان کی ذاتی خواہش کا نتیجہ نہی تھی۔ اس وقت دنیا دو قطبی تھی یعنی دو سپر پاورز - امریکہ اور روس۔ سب یہ کہتے ہیں کہ اگر لیاقت علیخان امریکہ کا دورہ کرنے کی بجائے روس کا دورہ کرتے تو ہم امریکہ سے بچ جاتے - کیا واقعی ایسا ہوتا ؟ امریکہ سے بچ کر روس کی گود ہمارے لیئے ہوتی۔ روس کا دورہ نہ کرنے کیوجہ کوئ اور نہیں بلکہ یہ تھی کہ حکومت پاکستان نے ازخود روس سے دورے کی درخواست کی تھی بذریعہ اپنے سفیر کے، مگر روسیوں کے پاس اس دوران وقت نہ مل سکا کہ وہ وزیر اعظم کو مدعو کر سکتے اور ظاہر ہے کہ بغیر دعوت کوئ سربراہ مملکت کسی ملک کا دورہ نہیں کرتا۔ امریکہ نے اس دوران ایک سے زیادہ دفعہ خود پاکستانی حکومت کو دورہ کی دعوت دی جو کہ روس کے دورے میں ناکامی کی وجہ سے قبول کر لی گئ۔ تمام ملک اپنے وطن کی حفاظت کے پیش نظر اپنے محل وقوع کے حساب سے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس طاقتور ملک سے رابطہ جوڑا جائے، پاکستان کی حکومت نے اپنے نوزائدہ ملک کی خاطر امریکن بلاک منظور کرلیا۔ باقی تفصیلات کا کسی اور کو علم ہو تو ہماری معلومات میں اضافہ کرے۔ شکریہ اور والسلام، طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (17-01-09), شاہد جمیل حفیظ (17-01-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
ظاہر ہے اس وقت کے روس سے معاہدے کا مطلب تو اشتراکیّت کے نظام کو اپنانا تھا جو ناممکن تھا مگر یہ وفاداری کا معاہدہ اس وقت کے امریکی آزاد معاشرتی گروہ کے ملکوں کے تعاون سے بڑھ کر تھا۔ میں نے اپنی لکھائی میں گود کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا جو یقینا" میرے ذہن میںتھا مگر لکھنے کے لئے بُرا محسوس کرتا تھا۔ یقینا" گود سے مُراد یہ ہے کہ کچھ بڑھ کر وفاداری جتائی گئی تھی، کچھ یہ کہتے ہیں کہ ملک ہی گروی رکھ دیا تھا شہید ملّت نے۔
|
|
|
|
| محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (17-01-09) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Pakistan: Partition and Military Succession ایک اور سائٹ عرب ورلڈ کی۔ بی بی سی کی ویب سائٹ والسلام طاہر Last edited by طاھر; 13-01-09 at 10:45 PM. |
|
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (17-01-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
یہ مزید کچھ اور تفصیلات ! یہ کالم اخبار جنگ میں چھپا تھا 11/20/2008 بعنوان لیاقت علی خان ماسکو کیوں نہ جا سکے؟,,,,سفارت نامہ ریاض احمد سید صدر مملکت حسب پروگرام چین ہو آئے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ حلف اٹھانے کے بعد وہ برطانیہ اور امریکہ سدھارے تو جنتا کو یہ ترتیب کچھ زیادہ نہیں بھائی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ زرداری صاحب کو سب سے پہلے چین جانا چاہئے تھا اور بعض حلقوں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ لیاقت علی خاں والی غلطی دہرا رہے ہیں جو ماسکو کے دورے کی دعوت ٹھکرا کر واشنگٹن چلے گئے تھے اور یوں ہم نے ابتدا ہی میں روس کو ہمیشہ کیلئے ناراض کر لیا تھا۔ لیاقت علی خاں کی اس ” غلطی “ کا ذکر اکثر لوگ کرتے ہیں، جن میں عام آدمی سے لے کر اچھا بھلا پڑھا لکھا اور دانشور طبقہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی قوم کا یہ انداز فکر کچھ زیادہ درست نہیں۔ آج کا کالم اسی موضوع پر ہے۔ پاکستان بنا تو انسانی اور مادی وسائل کی کمی کے سبب ہم بہت تھوڑے ملکوں کے ساتھ دو طرفہ سفارتی تعلقات قائم کر سکے اور ایک ایک پاکستانی سفارت خانے کو متعدد ممالک کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری نبھانا پڑی تھی۔ روس پاکستان ایمبیسی تہران کے حوالے تھا۔ دو برس بعد اکتوبر 1949ء میں یہ ذمہ داری پاکستان ہائی کمیشن دہلی کو منتقل کر دی گئی۔ واشنگٹن میں البتہ سفارت خانہ موجود تھا، جہاں قائداعظم کے قریبی ساتھی ابو الحسن اصفہانی سفیر تھے۔مئی 1949ء میں لندن میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم کی کانفرنس ہوئی، جس میں لیاقت علی خاں نے بھی شرکت کی۔ واپسی قاہرہ، بغداد اور تہران کے راستے ہوئی۔ ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور قائداعظم کے قریبی ساتھی راجہ غضنفر علی خان تہران میں بطور سفیر متعین تھے اور اپنی صوابدید پر قائم مقام روسی سفیر کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کے دورہٴ روس کے امکانات پر غیر رسمی گفتگو کر چکے تھے۔ لیاقت علی خاں نے تہران میں مقیم سفراء کیلئے عشائیہ دیا تو اس میں روسی نمائندہ بھی موجود تھا۔ سفیر پاکستان نے موصوف کا لیاقت علی خاں سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو روس کا دورہ کر کے خوشی ہو گی۔ تیر نشانے پر لگا۔ ماسکو سے ابتدائی جواب صرف پانچ دن میں موصول ہو گیا۔ جوزف اسٹالن کی طرف سے باقاعدہ دعوت نامے کو بھی دیر نہ لگی، جو ایک ماہ کے اندر 4 جون 1949ء کو تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے دعوت بخوشی قبول کر لی۔ دورے کی تاریخ کے تعین کی بات چلی تو ماسکو کی طرف سے وسط اگست کی تاریخ دی گئی، جس پر انہیں بتایا گیا کہ یوم آزادی کی تقریب کے سلسلے میں 14 اگست کو وزیراعظم کا ملک میں رہنا ضروری ہے، جواباً پاکستان نے نومبر کے پہلے ہفتے کی بات کی تو انکشاف ہوا کہ یہ تو روس کے جشن آزادی کے دن ہوتے ہیں، جب ہفتہ بھر روٹین کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس پر طے یہ ہوا کہ وزٹ سے پہلے دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہو جانا چاہئیں، جس پر پاکستان نے فوری اور پُرجوش ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مدبر اور متین شخصیت شعیب قریشی کو ماسکو میں سفیر متعین کر دیا، جنہیں فوری کوچ کا حکم ملا اور ادھر ادھر سے عملہ جمع کر کے 21 دسمبر 1949ء کو ماسکو میں سفارت خانہ کھول دیا گیا۔ حکومت پاکستان، بالخصوص وزیراعظم لیاقت علی خاں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ فی الحقیقت وہ تو آزاد پاکستان کیلئے ایک مناسب ڈویلپمنٹ ماڈل کی تلاش میں تھے، جس کیلئے سوویت یونین کی اقتصادی، صنعتی، زرعی، تعلیمی، طبی منصوبہ بندی اور ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ روسی سلطنت میں شامل سینٹرل ایشین ریپبلکس کے وزٹ میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ نہایت دھیان اور توجہ سے دورے کی جزئیات طے کی گئیں۔ بیس رکنی وفد کو وزیراعظم کے ہمراہ جانا تھا جس میں سرکاری اور غیر سرکاری شعبوں کی نامور شخصیات شامل تھیں۔ پروگرام یہ تھا کہ مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کا جائزہ لے کر موقع پر ہی معاہدات طے کئے جا سکیں گے۔ لیفٹیننٹ کرنل صاحبزادہ یعقوب خان کو خاص طور پر شامل وفد کیا گیا۔ ( جو روسی زبان کے ماہر ہیں اور بعد میں پاکستان آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل اور حکومت پاکستان میں وزیر خارجہ کے منصب تک پہنچے ) ان کے بارے میں وزیراعظم نے اپنے قلم سے فائل پر لکھا کہ وہ ترجمان کی حیثیت سے میرے ہمراہ چلیں گے۔ حکومت پاکستان کا جوش و جذبہ ملاحظہ ہو کہ سوویت حکومت کو بھی سفیر کے فوری تقرر کیلئے لکھا۔ یہی نہیں بلکہ سفیر کیلئے فری رہائش کی پیشکش بھی کی۔ جواباً سوویت حکومت کی طرف سے سردمہری کے سوا کچھ نہ تھا۔ ماسکو میں سفیر پاکستان شعیب قریشی کو حتی الامکان نظر انداز کیا گیا۔ حسب ضابطہ سربراہ مملکت اسٹالن نے ان سے اسناد سفارت وصول نہ کیں جبکہ اس سے قبل وہ انڈین سفیر ڈاکٹر رادھا کرشنن کو یہ اعزاز دے چکے تھے۔ سفیر پاکستان کو شرف ملاقات سینئر ڈپٹی فارن منسٹر گرومیکو نے بخشا اور بے دلی سے اسناد سفارت وصول کیں۔ روایتی گفتگو میں سفیر پاکستان نے کہا کہ حکومت نے انہیں جلد از جلد ماسکو پہنچنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وزیراعظم لیاقت علی خاں ان کی دعوت پر سوویت یونین کا فوری دورہ کر سکیں۔ جواباً گرومیکو نے کچھ اس قسم کا تاثر دیا کہ گویا ایسے کسی دعوت نامے کا وجود ہی نہ ہو۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ نومبر کا پہلا ہفتہ وزٹ کیلئے ماسکو کو قبول نہ تھا مگر پاکستان کی مسلسل یاد دہانیوں کے باوجود متبادل تاریخ نہیں دی گئی۔ وزیراعظم اور ان کے وفد کے پاسپورٹ دہلی میں مقیم پاکستان کے ہائی کمشنر کو بھجوا دیئے گئے تاکہ روسی سفارت خانہ سے ویزا لگوایا جا سکے جو بوجوہ نہ لگ سکا اور پاسپورٹ ویزا کے بغیر لوٹا دیئے گئے۔ ظاہر ہے ان حالات میں وزیراعظم پاکستان شدید خواہش کے باوجود ماسکو نہ جا سکے۔ دوسری طرف امریکی فرنٹ ملاحظہ ہو۔ صدر ہنری ٹرومین نے مئی 1949ء میں وزیراعظم ہند جواہر لال نہرو کو دورہٴ امریکہ کی دعوت دی اور یہ وزٹ اکتوبر کے مہینہ میں ہوا۔ اسی دوران اگست 1949ء میں پاکستان کے وزیر خزانہ غلام محمد سرکاری دورہ پر امریکہ گئے۔ جہاں وزیراعظم پاکستان کے مجوزہ دورہٴ روس اور وزیراعظم انڈیا کی امریکہ یاترا کا بھی ذکر ہوا اور امریکہ نے وزیراعظم پاکستان کو بھی مدعو کرنے کا عندیہ دیا۔ باقاعدہ دعوت نامہ 10 دسمبر 1949ء کو موصول ہوا اور وزٹ مئی 1950ء میں ہوا جبکہ لیاقت علی خاں کا سوویت یونین کے دورہ کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا جس کیلئے ہمارے مورخین، تحققین اور دانشور انہیں مورد الزام ٹھہراتے آئے ہیں اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ موصوف ماسکو کے دورہ کی دعوت رد کر کے واشنگٹن چلے گئے تھے، جو میری تحقیق کے مطابق درست نہیں۔ اگر آپ اس سارے منظرنامے میں درج تاریخوں پر دھیان دیں تو معاملہ آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ 4 جون 1949ء کو وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خاں کو ماسکو کے دورہ کی دعوت ملی۔ اگست اور نومبر کی جو تاریخیں فریقین نے وزٹ کیلئے تجویز کیں وہ دونوں کو قابل قبول نہ تھیں کیونکہ ان دنوں میں ان کے یوم آزادی کی تقاریب ہوتی ہیں۔ یاد دہانی کے باوجود ماسکو نے متبادل تاریخ نہیں دی۔ پاکستان نے ماسکو میں اپنا سفارت خانہ 21 دسمبر 1949ء کو کھولا۔ جواباً ماسکو نے کراچی میں سفارت خانہ کھولنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ وزیراعظم اور ان کے وفد کے پاسپورٹ ویزے کے بغیر واپس کر دیئے گئے۔ وزیراعظم کو امریکہ کے دورے کا دعوت نامہ 10 دسمبر 1949ء کو موصول ہوا جبکہ وزٹ چھ ماہ بعد مئی 1950ء میں ہوا جبکہ اس سے بہت پہلے ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اکتوبر 1949ء میں امریکہ کا سرکاری دورہ کر چکے تھے لہٰذا یہ کہنا کہ وزیراعظم پاکستان کو امریکہ کے دورہ کی دعوت نے سوویت یونین کو ناراض کر دیا، قرین قیاس نہیں۔ پاکستان ایک نو آزاد خود مختار ملک تھا، اسے بیرونی دنیا کے ساتھ حسب ضرورت اور خواہش روابط بڑھانے کا حق حاصل تھا۔ سرکاری ریکارڈ ماسکو کے اینٹی پاکستان رویّے کی ٹھوس وجوہ بیان کرنے سے قاصر ہے۔ قرآئن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینٹرل ایشین ری پبلکس وزٹ کرنے کی لیاقت علی خاں کی خواہش سے ماسکو بدک گیا۔ مسلم آبادی کی ان ریاستوں میں پاکستان کی دلچسپی سوویت یونین کو قبول نہیں تھی۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کے علاوہ اس کی اینٹی کمیونسٹ سوچ ماسکو کیلئے حوصلہ افزا نہیں تھی۔ ابتدا میں عوامی سطح پر باہمی روابط کی حوصلہ شکنی بھی کی گئی۔ پاکستان نے بعض ادباء اور شعراء کو سوویت یونین کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دی، جسے ماسکو نے نا واجب قرار دیا تھا۔ Last edited by طاھر; 13-01-09 at 11:10 PM. |
|
|
|
| طاھر کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (16-02-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
اس وقت کا ماسکو اب کے چین اور ماسکو سے بالکل فرق رکھتا ہے۔ اس وقت کمیونزم تھا اور اس سے کسی حد میں رہ کر دوستی کی جاسکتی تھی۔ بڑی بات یہ ہے کہ چلیں مان لیتے ہیں کہ روس نے خاطر خواہ عزّت افزائی نہیں کی تو اسکا مطلب یہ نہ ہوا کہ ہم کسی اور کے ہو کر رہ گئے۔ کسی ملک کا اپنا بھی وقار ہوتا ہے اور مفادات ہوتے ہیں، یہ دلیل بالکل غلط ہے کہ اس وجہ سے امریکہ اس سلوک سے بس پاکستان کو حاصل کر گیا۔ رہ گئی زرداری کی بات تو پاکستانی حکومت نے اس کا اعلان پہلے ہی کر دیا تھا کہ سب سے پہلے صدر پاکستان چین کا دورہ کرے گا مگر وہ غیر رسمی طریقے پر امریکہ کھسک گئے اور پھر چین کا دورہ کرتے وقت اس بات کو یوں غلاف چڑھانے لگے کہ پہلے والا غیر سرکاری تھا اور اب کا یہ سرکاری اور رسمی دورہ ہے۔ چینیوں کی آنکھیں چھوٹی ہیں مگر نظر سب کو آتا ہی ہے۔
Last edited by محمد الیاس; 19-01-09 at 03:58 PM. وجہ: کا اپنا, |
|
|
|
| محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (17-01-09) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پاکستان امریکہ کا ہو کر رہ گیا، یہ لیاقت علی خان شہید کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے بعد آنے والوں کی وجہ سے ہے، شاید آپ نے بغور ان مضامین کا مطالعہ نہیں کیا جن کے بارے میں میں نے کہا تھا۔ رہی بات زرداری کی تو اس کے بارے میں کچھ کہنا ہی فضول ہے۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arab, com, pakistan, کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, ویب, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, لیاقت علی خان, چین, نظر, معلوم, آدمی, انسان, امریکہ, بھائی, جواب, خان, درخواست, شخص, طاقتور, علی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|