|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,580
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,024 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اُسکا اصل نام سعد اللہ خآن تھا لیکن دنیا اُسے مُلا مستان کے نام سے جانتی ہے۔ اسکو سر تور فقیر کے نام سے بھی موسُوم کیا جاتا ہے۔ لوگ اُسے فاتح مالا کنڈ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اور اسکے جانی دشمن انگریز اُسے دیوانہ مُلا یا MAD MULLAHکے نام سے حٰیرت و نفرت سے یاد کرتے تھے۔
مُلا مستان یا سر تور فقیر وہ مجاہد تھا جس نے اپنے انتہائی چھوٹے سے لشکر کے ساتھ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں مالاکنڈ کی انگریزی چھاؤنی پر دھاوا بول دیا۔ اس پر قبضہ کر کے اسلحہ اور گولہ بارود اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس کے اس حیرت انگیز کارنامے نے انگریز افواج کو حیرت و ششدر میں ڈال دیا۔ مُلا مستان ۔ ۔ ۔ بُنیر (سوات) کے ایک معزز قبیلے کا رکن تھا۔ اس نے حصول علم کی خآطر ہندوستان کے کئی شہروں کی خآک چھانی اور کافی عرصہ اجمیر شریف میں بھی قیام پذیر رہا۔۔ وہ ایک زاہد ع عابد شخص تھا اور لوگ اسکی روحانی عظمت کے بھی قائل تھے۔ اس نے وسطی ایشا میں کوئی دس سال تک قیام کیا۔ پھر کابُل آ گیا۔ 1895 میں وہ واپس اپنے آبائی وطن آیا اور اپنے عوام کو برطانوی سامراج کے خلاف جہاد کے لیے تیار کرنا شروع ہوا۔ لیکن ناکم رہا۔ تاہم کچھ ہی عرصہ میں اسکی نیک فطرت کی وجہ سے وہ عوام و خواص میں مقبول ہونا شروع ہو گیا۔ وہ انگریز سامراج کے خلاف دیوانگی کی حد تک تقریر کیا کرتا تھا۔ اسکی اسی دیوانگی کی وجہ سے اُسے مُلا مستان پکارا جانے لگا۔ اُسکی جنون آمیز کوششوں کی بدولت جلد ہی اسکا ڈاکٹرائن کہ انگریز افواج کو قتل کر دو ۔ ۔ ۔ قبائلیوں میں مقبول ہونے لگا۔ اس نے سوات و بونیر کے کے دیگر علاقوں کا بھی دورہ کیا اور ایمانی قوتوں کے دشمن کے خلاف جہاد کے لیے ابھارا۔ اس دوراں اس کی ملاقات ۔ ۔ ۔ ایک اور انگریز دشمن قوت ۔ ۔ ۔ جسکو انگریز "ہڈہ مُلا" کے نام سے یاد کرتے تھے، سے ہوئی۔ جلد ہی اسکا پیغام دور و نزدیک ہر طرف پھیلنے لگا۔ سوات، بونیر، مالاکنڈ، و باجوڑ وغیرہ میں قابض افواج کے خلاف بے چینی اور نفرت پیدا ہو گئی۔ سر تور فقیر کی خواہش تھی کہ کوئی نہ کوئی جہاد کا اعلان کرے ۔ ۔ ۔ لیکن قبائلی زعما اور امرا اس سے خآئف تھے۔ اس پر مُلا مستان نے خود ہی جہاد کا اعلان کر دیا۔ مُلا مستان کے بارے میں مافوق الفطرت باتیں بھی مشہور ہیں۔ اسکے بارے میں انگریز مصنفین لکھتے ہیں کہ اس کے چاہنے والے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ غائب ہو سکتا ہے۔ اناج غلہ بڑھا سکتا ہے وہ اپنے ہزاروں پیروکاروں کو کھانا کھلا سکتا ہے غائب سے۔ اسکے ساتھ غیر مرئی افواج ہیں۔ ایک انگریز مصنف کے مطابق ایک مرتبہ ایک ملک نے اسے 50 روپے تحفے کے طور پر بھیجے تو اس مفلوک الحال نے اسے 100 روپے واپس کر دئیے کہ مجھے پیسوں کی نہیں ضرورت۔ اللہ میری ہر ضرورت پوری کر دیتا ہے۔(Woosnan Mills) انگریروں کا شک تھا کہ اس کو افغانستان اور ہندوستان سے پیسوں کی امداد ہوتی ہے۔ جسی کی مدد سے اس نے اپنے بارے میں مافوق الفطرت باتیں پھیلا رکھی ہیں۔ انگریزوں نے اسکو کبھی قابل توجہ نہ سمجھا تھا ۔ ۔ ۔ کیونکہ وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر ڈین کا خیال تھا کہ اسکو اہمیت دینا اسکو طاقتور بنانے کے برابر ہے۔ 1897 میں پورے سرحد کے قریباِِ سبھی قبائل فرنگی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ لڑائی کا زیادہ زور مالا کنڈ، سوات ، چکدرہ، پر تھا، جہاں ار گرد کے یوسف زئی قبائل نے انگریزوں کا ناطقہ بند کر رکھا تھا۔۔ ملا مستان ہر جگہ جاتا اور اس انداز میں جہاد کا درس دیتا کہ سبھی نوجوان اس کے گرد اکھٹے ہوتے چلے گئے۔ وہ اپنی جمعیت کے ساتھ تھانہ پہنچا تو ایک کثیر تعداد نے اسکا ساتھ دینا قبول کر لیا۔ اسکی آمد کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھوٹ پڑی۔ انگریزوں نے مردان سے مزید دستے منگوا لیے۔ امان کوٹ اور مالا کنڈ میں اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا لیئا۔ لیکن تور فقیر کا حملہ اس قدر سرعت کے ساتھ تھا کہ انگریزوں کو اپنے اسلحے تک پہنچنے کا بھی موقعہ نہ ملا۔ تور فقیر نے مالاکنڈ اور چک درہ پر اکھٹے ہی حملہ کر دیا تھا۔ اور درجنوں انگریزوں کو کھیت کرنے کے بعد 26 جولائی کو چھاؤنی پر قبضہ کر لیا۔ اس پر انگریزوں نے مزید افواج طلب کر لیں ۔ چناچہ ہائی کمانڈ کی طرف سے سکھ رجمنٹ کو مسٹر ڈین کی مدد کے لیے بھیجا گیا۔ چناچہ شدید جنگ کے بعد انگریز افواج نے یکم اکست کو مالاکنڈ چھاؤنی پر دوبارہ قبضہ کر لیئا اور تور فقیر کو پسپا کر دیا گیا۔ Woosman mills میڈ ملا کی اس شکست کو لمبی جنگ کی منصوبہ بندی کے نہ ہونے، وسائل کی عدم دستیابی، مکمل فتح سے قبل اپنی فتح کے اعلان کر دینے پر محمول کرتا ہے۔ باوجود اس کے کہ مُلا کو واپس دھکیلا جا چُکا تھا اور اس کے ساتھی راہ فرار اختیار کر چُکے تھے ۔ ۔ ۔مُلا مستان نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ مختلف علاقوں میں انگریز کے خلاف جہاد کی تقاریر کرتا رہا ۔ تاہم اس بار اُسے وہ کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔ تاہم 1998 میں اسنے دیر سے مالاکنڈ کی طرف پیش قدمی شروعع کر دی۔ مکموہن کے مطابق انگریز افواج کے لیے دوبارہ سے پچھلے سال کی طرح کے بدترین حالات پیدا ہونا شروع ہو گئے ۔لیکن ملا مستان نے نا معلوم وجوہات کی بنا پر پیش قدمی روک دی۔ اس تعطل کی وجہ سے عبداللہ نامی ایک سردار جو اسکا دشمن ہو چُکا تھا۔ ۔ ۔ اس نے اسکی افواج پر حملہ کر دیا۔ جسکی وجہ سے اسکو کافی پیچھے ہٹنا پڑ گیا۔ اب صورت حال کافی حد تک بدل گئی۔ بجائے اس کے کہ قبائل متحد ہو کر انگریز افواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ۔ ۔ ۔اب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی گردن کاٹنے کے چکر میں پرگیا۔ دیر قبائل کی طرف سے اس غیر متوقع دشمنی کی بنا پر تور فقیر کو دوبارہ کوہستان کی طرف پسپا ہو جانا پڑا۔ انگریزوں نے اپنی "تقسیم کر اور حکومت کرو" پالیسی کو پروئے کار لاتے ہوئے کافی قبائل سے اس کے خلاف معاہدے کر لیے۔ جس کے نتیجے میں وہ مسلسل تنہا ہوتا چلا گیا۔ بالآخر اس چال کے نتیجے میں اسکو انگریز کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہونا پڑا۔ انگریز حکومت نے اسکا دوستی کا ہاتھ خوشدلی کے ساتھ قبول کیا۔ انکے درمیان اچھے الفاظ اور تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ تبادلئ تحائف کافی عرصہ تک جاری رہا۔ اس کی وجہ سے سر تور فقیر کی مقبولیت میں کافی کمی آ گئی۔ اس کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے تردید کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا تھا اور مقامی قبائلی تیزی سے اسکے خلاف ہوتے جا رہے تھے۔ تاہم وہ زیادہ عرصہ خاموش نہ رہا اور اس نے دوبارہ سے انگریزوں کے خلاف جہاد کی ترغیبات دینا شروع کر دیں۔ لیکن اس مرتبہ اسکی پے درپے شکستوں اور اس کے خلاف ہونے والے جھوٹے سچے پروپیگنڈے کی وجہ سے اسکو کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ کچھ روایات کے مطابق وہ انگریزوں کے خلاف کسی جھڑپ میں مارا گیا جبکہ کچھ روایات کے مطابق 1917 میں وہ فتح پور کے علاقے میں طبعی موت مرا۔ واللہ عالم اسکی شکست کی وجوہات 1: قبائلیوں کو اپنی طرف کشش کرنے کے لیے اپنی غیر مرئی طاقتوں کا دعویٰ کرنا۔ اسی وجہ سے جب اس پر مصیبت آئی تو وہ اپنی غیر مرئی طاقتوں کا ظہور نہ کر پایا۔ جس کی وجہ سے قبائلیوں کا اس پر سے اعتماد آتھتا چلا گیا۔ 2: کسی بھی قسم کی جنگی منصوبہ بندی کا نہ ہونا۔ کہ کیسے جنگ کرنی ہے، وسائل کہاں سے آئیں گے، جوابی دباؤ کا سامنا کیسے کیا جائے گا۔ کون سی سمت سے حملہ کیا جائے وغیرہ۔ وہ جنگ کو پرانے دور کی جنگ سمجھتا تھا۔ 3: انگریزوں کے ساتھ ہاتھ ملانا اور تحائف کا تبادلہ۔ اس کے خلاف اس بنیاد پر اس قدر شدید پروپیگنڈا کیا گیا کہ وہ علاقے میں اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھا۔ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-10-09), فاروق سرورخان (03-10-09), ھارون اعظم (17-10-09), منتظمین (04-10-09), مسافر (18-10-09), yousafdummar (03-10-09), حسنین ایوب (08-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), طارق راحیل (05-10-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اسی لئے آخر کار قابل سیاستدانوںکی ضرورت پڑی آزادی حاصل کرنے کے لئے ، جنہوں نے قائد آعظم کی رہنمائی میں بہترین کام کرکے آزادی بھی حاصل کی اور قائد کی ایک سال کے اندر وفات کے باجود اس ملک کو بہترین طریقہ سے انتہائی نا مساعد حالات میں چلایا بھی۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,580
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,024 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ شاید لفظ "مُلا" سے خار کھا گئے ہیں۔ پاکستان کے لیے بنیاد انہی جیسے لوگوں نے فراہم کی۔ ورنہ سپین اور دیگر ممالک کی طرح اسلام کی شمع ہندوستان سے بھی بجھ چُکی ہوتی اور ہم اس شعر کے مصداق ہوتے "قشقہ کھینچا ۔ ۔ ۔ دیر میں بیٹھا ۔ ۔ ۔ کب کا ترک اسلام کیا"
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-10-09), فاروق سرورخان (03-10-09), موجو (04-05-11), مسافر (18-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), شاہد جمیل حفیظ (04-10-09), طاھر (05-10-09), عبداللہ حیدر (03-10-09) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم،
ایک اور اچھی تحریر پر میری جانب سے مُبارکباد قبول فرمائیں! ہماری تاریخ ایسے ناجانے کتنے گمنام "مُلاؤں" سے بھی پڑی ہے جو اپنی "دیوانگی" میںحد سے گذر گئے، ہائے افسوس: ع تھے تو وہ آباء ہی ہمارے!!!!!! اللہ مخلصین کو اُن کے خلوص پر اجر عطا فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | موجو (04-05-11), مسافر (18-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عبداللہ حیدر (03-10-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
افسوس اس بات کا ہے کہ آپ پاکستان کی تشکیل ملاء کے ہاتھ میںدیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دو عدد ملاءادارے تھے، جو روایتی تعلیم بلکہ تعلیم کے فقدان پر یقین رکھتے تھے۔ انم دونوں اداروں نے سرسید احمد خان کی قائم کردہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف "عَلم جہاد " بلند کیا، سرسید کو کافر قرار دیا اور علیگڑھ کے تعلیم یافتگان کو کافر۔ پانچ سو سے زائید ملاؤں نے سر سید کو کافر قرار دینے کی دستاویز پر دستخط کی۔ وہ اس لئے کہ انگریزوں کی آمد سے قبل ان ہی قاضی ، گورنر یا کوئی دوسرا اعلی عہدیدار انہی اداروں سے نکلے ہوئے لوگ ہوتے تھے ، قانون سازی ، فتوی سازی کی طرح صرف ان دو اداروں سے تعلیم یافتہ مفتی ہی دے سکتے تھے۔
اس کے مخالف علی گڑھ کے تعلیم یافتہ افراد کو نفرت سے بابو کہا جاتا تھا۔ ان ہی بابو لوگوں نے پاکستان بنایا، اس کو چلایا اور اس میں ایک جدید نظام کی بنیاد ڈالی۔ یہ نظام پاکستان میں ہونے والی ہر ترقی کے پیچھے ہے۔ اس نظام میں "ایک شیر کے بچے" پر تکیہ نہیںکیا جاتا بلکہ امداد باہمی کی بنیاد پر ایک مظبوط ٹیم بنا کر کام کیا جاتا ہے۔ بتدریج تطہیر اس نظام کا خاصہ ہے۔ ملاءتو آج بھی مسجدوںمیں نیلی ، پیلی ، ہری پگڑی پہنا کر ہاتھوںمیںہتھیار دے کر، مسجدوں، بازاروں اور دفاعی اداروں پر حملہ اور دھماکہ کراکر اور ایک شدید پراپیگنڈا مہیم چلا کر جس میں پاکستان کے نظام کو لادینیت سے مشابہ قرارد دے کر حکومت پاکستان جو کہ پاکستان کے عوام کی منتحب حکومت اور پاکستان کے عوام کی اولادوں پر مشتمل پاکستان فوج سے مسلحبغاوت میںمصروف ہے۔ ایک طرف یہ ملاء سوات اور شمالی علاقوں میں قرآن کی تلاوت سے شروع کرکے پاکستان کے عوام کو کافر قرار دیتا ہے اور پاکستان کے عوام پر مسلح کاروائی کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور دوسری طرف یہی ملاء نیٹ ورک کراچی سے لے کر خیبر تک طرح طرح کے مدارس، کنونشنز اور جلسوں کے نام پر منظم اور مسلح بغاوت کی تیاری کررہا ہے ۔ ان ملاؤں نے سازشیں تو کیں ہیں، فساد کیا ہے لیکن کسی قسم کی تعمیری سوچ سے یہ محروم ہیں۔ آپ کراچی سے خیبر تک ہونے والے دھماکوں کے پیچھے اور انٹرنیٹ پر پراپیگنڈہ میں انہی ملاؤں کا ہاتھ پائیں گے۔ یہ کبھی سامنے نیہں آتے، حکومت میں شامل نہیںہوتے ، ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا، یہ کبھی فوج میںشامل نہیں ہوتے ۔ لیکن اسلامی نظام کا نعرہ لئے اس دنیا کے سب سے کامیاب اسلامی ملک میں تخریب کاری اور فساد فی الارض اللہ سے بعضنہیں آتے۔ یہ لوگ صاف صاف ڈیکلئیر کرچکے ہیں کہ پاکستان کا نطام حکومت "غیر اسلامی" ہے۔ پاکستان کی فوج "کافر" فوض اور "کافروں" کی دوست ہے ، پاکستان کے عوام جو پاکستان کی حکومت کے پیچھے ہیں اور پاکستان کی فوج کے پیچھے ہیں ۔ "کافر‘ ہیں اور "واجب القتل" ہیں۔ جو لوگ واضح طور پر پاکستان کے مخالف ہیں آپ ان سے کس طور پیار کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی تشکیل ملاؤں کے فساد فی الارض اللہ سے نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے جدید تعلیم یافتہ افراد شامل تھے ، جن کی بنیاد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تھی۔ بعد میں مزید اسکول بنتے گئے لیکن اصل رہنمائی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے نکلے ہوئے افراد نے کی۔ کسی ملاء ، مولوی ، آیت اللہ نے کوئی قابل ذکر کردار نہیں ادا کیا۔ آج تک پاکستان کے اسلامی جمہوری نظام میں ان لوگوں نے کوئی بھی قابل ذکر کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔ مذہب کو مکروہ سیاست بنانے والے یہ افراد اسی لئے ایک اسلامی ملک میں ہمیشہ اقلیت رہے ہیں۔ یہ لوگ صرف معصوم اور کم عمر افراد کے ذہن میں یہ زہر ڈالتے رہتے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے کارناموں سے صرف اور صرف خلق انسانی قتل ہوئی، پاکستان بنانے کے عمل کو اس قتل سے کوئی تقویت نہیں پہنچی۔ ایک منظم فوج ، ایک منظم حکومت کو ایسے چند لوگوں سے تبدیل نہیںکیا جاسکتا۔ اصل ہیرو وہ ہیں جنہوں نے محنت سے کچھ حاصل کیا۔ پاکستان بننے کے 60 سال بعد بھی میری آنکھیں ملاؤں کا لکھے ہوئے ایک عدد "مسلم آئین"، ایک عدد "مسلم انتظامی ڈھانچہ" اور ایک عدد "مسلم قانون" کو دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی آئین ہے، نہ کوئی انتظامی ڈھانچہ ۔ نہ کوئی مسلم قانون۔ بس لے دے کر 3 ، 4 قرآنی سزاؤںکو یہ "اسلامی نظام" کہتے ہیں۔ ان کے پاس فاح و بہبود کا کوئی پلان نہیں ۔ یہ بس مردوں کو سزاؤں سے ڈرانا، خواتین کا استحصال، اور عوام کی دولت پر قبضہ کے لئے اقتدار چاہتے ہیں۔ پچھلے 62 سالوں میں کسی مدرسہ میں جدید نصاب کی بنیاد نہیں ڈالی گئی ، جو کہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ یہ لوگوںکو جیومیٹری، الیکٹرانکس، فزکس، کیمسٹری اور جدید میڈیکل تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے آج تک کسی ملاءمدرسہ سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر، انجینئیر، ٹیکنیشئین یا کاریگر نہیں دیکھا۔ یہ آج بھی اس قسم کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی تربیت سے عاری ہیں تو صاحب یہ لوگ ملک خاک چلائیں گے۔ لیکن ان کی پراپیگنڈہ مشینری، قتل و غارت کا پراپیگنڈہ کرنے سے بعض نہیں آتی، دیکھو کیسا عظیم ملا تھا جس نے کتنے کافر کاتے، اب تم بھی جا کر دو چار پاکستانی کافر ہلاک کر۔ یہی ان کا پیغام ہے ، آج کل فیشن ہے کہ مسلمانوں کے اس ملک کو غیر اسلامی قرار دینا۔ اس کی عدالت کے فیصلوں کو غیر شرعی قرار دینا ، بلکہ ایک صاحب تو پاکستانی عدالتوں سے کی گئی شادی کو بھی غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ یہ انتہا پسندی ہے اور صرف ایک مبہم نظام کو آگے بڑھانے کی کوشش۔ مجھے تو یہ سب کچھ پسند نہیں ، کسی دوسرے کو یہ کیسے پسند ہوسکتا ہے ، یہ جاننے کے لئے میں ہمہ تن گوش ہوں
Last edited by فاروق سرورخان; 03-10-09 at 11:54 PM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (31-10-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
جی نہیں ان لوگوں کے نظام کا خاتمہ مشیت ایزدی نے کیا۔ یہ دو رکعت والے امام و مولوی نہیں ہیں ، جن کا ہم پر احسان ہے۔ یہ فساد فی الارض والے ملاء ہیں جو قابل نفرت ہیں ۔ ان کا کوئی احسان کسی پر نہیں ہے۔ ی ہصرف اپنے آپ پر احسان کرنا جانتے ہیں۔
|
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | شاہ جی 90 (31-10-09) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
خوش آمدید فاروق بھائی ، باقی باتیں پھر سہی ان شا اللہ ، فی الحال یہ تو بتایے کہ """ ملا""" کسے کہتے ہیں آپ ؟ اور یہ دو رکعت والا امام اور مولوی کون ہوتا ہے ؟ اور ان دونوں سوالوں سے اہم یہ کہ یہ """ یزداں ""'کون ہے جس کی مشیت کچھ کر سکتی ہے ؟؟؟ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (04-10-09), مسافر (18-10-09), حیدر (04-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,580
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,024 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,580
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,024 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افغان کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو انکے کوہ دمن سے نکال دو یہ شعر حضرت اقبال صاحب کا ہے جو لندن سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، انگریز سے سر کا خطاب پانے والے۔ جنکو شاعر مشرق، تخلیق پاکستان کا خیال پیش کرنے والے اور ایک الگ وطن کا خؤاب دیکھنے والا کہا جاتا ہے۔ اتفاق سے یہ حضرت بھی مُلا کے فین نکلے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پیارے بدر بھائی ، فاروق بھائی کے ساتھ گفتگو میں میرا تجبہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ، لیکن """ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ """ اور سوال کرنے کا مقصد صرف انہیں سے جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ دیگر قارئین کے اذہان میں بھی وہ سوال ابھارنا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ،و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بدر بھائی ، """ ملاء ""' سے متنفر وہی ہو سکتا ہے جو اصل میں دین کو اپنی آراء اور فلسفوں کے مطابق سمجھنا اور سمجھانا چاہتا ہے ، ورنہ ہرایک جانتا ہے کہ فقہی مسائل بلکہ بسا اوقات عقائد میں اختلاف کے باوجود یہ """ طبقہ ملاء """ ہی ہے جس کے ذریعے ہمیں اسلام کی تعلعیمات ملتی چلی آ رہی ہیں ، کفار کے پیدا کردہ اور پروردہ """ مفرکان اسلام """ جنہیں """ مفکران اسلام """ کہا جاتا ہے ، انہوں نے مسلمانوں کو کون سا اسلام سکھایا ہے اور کونسا اسلام سکھانے کی کوشش میں ہیں سب عیاں ہے ، لیکن اس کے لیے جس کا دل حق کو سمجھنے والا ہو ، جس کی آنکھوں میں صرف بینائی نہیں حق کو دیکھ سکنے والی بصارت ہو ، اور جس کے کان حق سننے والے ہوں ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہر ایک مسلمان کو ہر فتنے اور شر سے محفوظ رکھے، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
مقبول
|
فاروق سرور بھائی کے خیالات پڑھ کر بڑا افسوس ہوا اسے لوگوں سے نفرت ضرور کرنا چاہئے جو اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں لیکن اُن کو ایک ایسی اصطلاح (مُلا) استعمال کر کے حقارت و نفرت کا نشانہ بنا ناجو اسلام میں اہم اور قابل احترام ہے یہ غلط ہے
اگر پاکستان کے لیے مولوی حضرات نے کچھ نہیں کیا تو وہ لوگ جو مولوی نہیں ہیں اُن نے کیا کیا ہے؟ پاکستان میں پورے معاشرے کا 5فیصد بھی مولوی (ملا) نہیں ہونگے ذرا سی کوئی بات ہوئی نام ملا کا کیا سب حکمران ملا ہیں؟ کیا سب فوجی جرنیل ملا ہیں؟ کیا سارے وکیل ملا ہیں؟ کیا سب ڈاکو چور ملا ہیں؟ کیا سب بے دیانت لوگ ملا ہیں؟ نہیں نہیں لیکن ہم لوگ انصاف اور سچ کو فرموش کر دیتے ہیں ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں جب ہم پیدا ہوئے کس نے ہمارے کان میں اذان (اللہ اکبر) کہی ہم بھول جاتے ہیں جب ہم دنیا سے رخصت ہونگے سب ہم کو چھوڑدیں گے لیکن ملا ہی ہم کو قبر میں اتارے گا پھر بار بار اللہ سے التجا کرے گا اے اللہ یہ بندہ تیرے محبوب کا امتی ہے اس کے گناوں کو معا ف کردینا ہم ہیں کہ ملا کو حقیر سمجھتے ہیں اس سے نفرت کرتے ہیں؟ معاشرے میں کوئی خرابی پیدا ہو اس کا ذمہ دار ملا کو ٹھراتے ہیں بقول اقبال کوئی کاروں سے چھوٹا کوئی بدگماں حرم سے کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شاہد جمیل حفیظ کا شکریہ ادا کیا | Student (08-10-09), مسافر (18-10-09), حیدر (04-10-09), راجہ اکرام (04-10-09), عادل سہیل (04-10-09), عبداللہ حیدر (04-10-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی شاہد حفیظ ، ایک دفعہ پہلے بھی کہیں """ ملاء """ کی محبت میں ایسے گیت گائے تھے اور بدر بھائی نے بہت اچھے انداز میں اس کا جواب دیا تھا ، جزاکما اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | مسافر (18-10-09), راجہ اکرام (04-10-09) |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اس وقت تک آپ یہ سمجھ لیجئے کہ ملاء، اسی ایرانی یزداں کی عبادت کرتا ہے، جس کا یہاں تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو تبصرہ یہاں ملاء کے پائے جانے والے قانون و آئین کی کمی پر کئے اور جو تبصرہ ملاء کے پاس نہ پائی جانے والی جدید تعلیم پر کئے وہ سر سے گذر گئے۔ جو تبصرہ ملاء قرآن پڑھ پڑھ کر "پاکستان کے مسلمان کفار " پر حملہ کرنے کے لئے دیتا ہے وہ بھی نظر انداز کردئے گئے۔ بھائی اگر یہ سب کچھ سمجھ میں نہیں آتا تو دلی اور مخلاصانہ مشورہ ہے کہ تھوڑی سی تعلیم بہت ہی افاقہ دے گی۔ پاکستان کی یونیورسٹیاں کھلی ہیں ۔۔۔ ان سے نفرت کیسی؟ Last edited by فاروق سرورخان; 04-10-09 at 03:37 AM. |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| mullah, کوششیں, کوششوں, کارنامے, لوگ, نفرت, مکمل, موت, منصوبہ, متوقع, معلوم, اللہ, جلد, خلاف, خبر, سال, سردار, شخص, طاقتور, عالم, عبداللہ, عدم, عرصہ, عظمت, غائب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایوانِ وزیراعلیٰ پنجاب کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی بنادیا گیا | عبدالقدوس | خبریں | 4 | 03-05-11 10:06 AM |
| ایوان صدر اور وزیراعظم کے سکیورٹی اہلکاروں کی مکمل چھان بین شروع | گلاب خان | خبریں | 1 | 01-03-11 08:25 PM |
| ”آئیفا ایوارڈزکاؤنٹ ڈاؤن“ اور ”آئیفا ایوارڈزویک اینڈ ود اسٹارز“آج جیو سے پ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-06-08 09:51 PM |
| یورو کپ فٹبال:روس، ہالینڈکو3-1شکست دے کرسیمی فائنل میں پہنچ گیا بیسل … یور | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-06-08 09:32 PM |
| Radio Mullah vs Gandhara Buddha | شیخ ہمدان | خبریں | 0 | 20-12-07 05:51 PM |