واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > تاریخ پاکستان > تاریخ کا آئینہ




تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-09-09, 04:11 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار

تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار

تحريك پاكستان ميں علماء حق كا فيصلہ كن كردار



تحريك پاكستان اور قيام پاكستان كي جدوجهد ميں علماء كي سرگرم شركت ايك ايسي كھلي حقيقت ہے جس كا انكار دن كے بارہ بجے سورج كا انكار كرنے كے مترادف ہے. يہ واقعہ ہے كہ تحريك پاكستان كو مسلمين برصغير ميں قبوليت عامہ اسي وقت حاصل هوئي اور اس نے ايك عوامي تحريك كي شكل اسي وقت اختيار كي جب هند كے جيد علماء ومشايخ نے اپنے عقيدت مندوں سميت اپنا وزن اس كے پلڑے ميں ڈالا. اگرچہ يہ بھي حقيقت ہے كہ علماء كے ايك گروہ نے جن كا تعلق جميعت علماء هند سے تھا اور جن ميں وقت كي نابغہ شخصيات بھي شامل تھيں, خاص وجوه كي بنا پر تقسيم هندوستان كي مخالفت كي تهي, ليكن جيد علماء كي ايك بڑی جماعت نظريہ متحده قوميت كي محالف اور دو قومي نظريے كي پر زور حامي تھي اور اس نے اهل الاسلام كيلئے ايك عليحده اسلامي مملكت كي كھل كر اور پر جوش انداز ميں وكالت كي اور تحريك پاكستان ميں بڑھ چڑھ كر حصہ ليا.

حكيم الامت حضرت مولانا اشرف علي تهانوي رحمه الله هندوستان ميں اسلام اور مسلمانوں كے وجود كيلئے روز افزوں خطرات اور مشكلات كے پيش نظر بہت پہلے سے هندوستان ميں ايك خالص اسلامي مملكت كي آرزو دل ميں پالے ھوئے تھے اور اس كا ايك واضح خاكہ بھي اپنے ذهن ميں ركھتے تھے. پھر جب مسلم ليگ كے نام سے مسلم قوم كي ايك الگ سياسي جماعت وجود ميں آئي تو انہيں اس ميں اپني آرزو كو آگے بڑھانے كيلئے روشني كي كرن دكھائي دي. حضرت تهانوي متحده قوميت اور كانگريس كے ساتھ مل كر آزادي كي جدوجهد كو اهل الاسلام كيلئے نقصان ده خيال كرتے تھے. ان كا دوٹوك موقف تھا كہ غلبہ كفار كي صورت ميں ان كے ساتھ كسي جدوجهد ميں شريك ھونا اسلام اور مسلمين كيلئے كبھي بھي مفيد نہيں ھوسكتا. وہ اس مقصد كے لئے علماء كي الگ اور تنہا جدوجهد كو بهي نتيجہ خيز نہيں سمجھتے تھے, اس لئے اس كے حق ميں بھي نہيں تھے. ان كا موقف تھا كہ وہ بے عمل مسلمان جو ميدان سياست كے مشاق ہيں اور وہ اس ميدان ميں پہلے سے اترے ھوئے ہيں ان پر محنت كر كے اور ان كي ذهني اصلاح وتربيت كے ذريعے انہيں هم خيال بنا كر اسلامي مملكت كے قيام كے اعلى مقصد كي طرف پيش رفت كي جائے.

چنانچہ انہوں نے اپنے خاص معتمد اور تربيت يافتہ علماء كي ايك جماعت كو قائد اعظم سے رابطوں اور انہيں پاكستان ميں اسلامي نظام كے نفاذ پر آماده كر كے ان سے اس بارے ميں يقين دہاني حاصل كرنے پر لگاديا. اس سلسلے ميں انہوں نے قائد اعظم محمد علي جناح كے پاس متعدد بار علماء كے وفود بھي بھيجے اور خط وكتابت كے ذريعے اصلاح وتفهيم كا سلسلہ بهي جاري ركھا, جس كے نتيجے ميں قائد اعظم نے پاكستان ميں اسلامي قانون كے نفاذ كي بار بار يقين دہاني كرائي اور كھلے جلسوں ميں بھي اس كا اعلان كيا. قائد اعظم كي طرف سے اس يقين دہاني كے بعد حضرت حكيم الامت تهانوي نے مسلم ليگ كي تائيد ميں ايك تفصيلي فتوى جاري كيا جو امداد الفتاوى كي جلد چار ميں درج ہے. حضرت تھانوي رحمه الله نے كھل كر مسلم ليگ كي حمايت كي اور اپنے معتقدين ومتوسلين كو اس ميں داخل هو كر اس كي اصلاح كرنے كي واضح هدايت فرمائي.

يہ اسي كا نتيجہ تھا كہ آپ كے لاكھوں عقيدة مندوں نے جن ميں سينكڑوں كي تعداد ميں علماء بھي شامل تھے تحريك پاكستان ميں بڑھ چڑھ كر حصه ليا اور مطالبہ پاكستان كي بھرپور تاييد وحمايت كي. خصوصيت كے ساتھ شيخ الاسلام حضرت مولانا شبير احمد عثماني, مولانا ظفر احمد عثماني, مفتي محمد شفيع ديوبندي, مولانا مرتظى حسن چاندپوري, مولانا شاه عبد الغني پھولپوري, علامہ سيد سليمان ندوي, مولانا مفتي محمد حسن امرتسري, مولانا خير محمد جالندهري, مفتي عبد الكريم گمتھلوي اور مولانا قاري محمد طيب قاسمي رحمهم الله تعالى نے تحريك پاكستان كو كاميابي سے همكنار كرنے كيلئے بھرپور كردار ادا كيا. انہوں نے هندوستان كے قريہ قريہ بستي بستي گھوم كر چپے چپے اور گوشے گوشے تك پہنچ كر اپني پر اثر تقارير كے ذريعے مسلمين كو تحريك پاكستان كے دھارے ميں شامل كرنے كيلئے ايسي انتھك محنت كي جو اپني مثال آپ ہے.



تحريك پاكستان كے دوران دو قومي نظريہ كے حامي علماء اور مسلم ليگي قيادت ميں روابط دو طرفہ خواہش پر مبني تھے. علماء كي ضرورت يہ تھي كہ وہ مسلم ليگي قائدين كو همنوا بنا كر هندوستان كے مسلمانوں كي انگريزوں اور هندؤں دونوں كي غلامي سے آزادي اور ايك ايسے الگ اسلامي ملك كے قيام كي ديرينہ خواہش كو آگے بڑھائيں جس ميں اس خطے كے مسلمان قرآن وسنت كے نظام كے تحت آزادانہ زندگي بسر كر سكيں اور مسلم ليگي قائدين كي ضرورت يہ تھي كہ وہ علماء كو اپنے ساتھ ركھيں كيونكہ وہ علماء كي تاييد حاصل كئے بغير اس تحريك كو عوامي تحريك كا رنگ دينے اور مسلمين كي اكثريت كا اعتماد حاصل كر كے انہيں اپنا حامي بنانے ميں مشكلات محسوس كر رہے تھے. مسلم ليگي قائدين بشمول قائد اعظم محمد علي جناح اپني وضع قطع بود وباش اور طرز زندگي كے لحاظ سے اسلام كي ترجماني نہيں كرتے تھے. وہ جس اسلام كو پاكستان كي بنياد بتاتے تھے اور جن اسلامي تعليمات كو پاكستان ميں رائج كرنے كے وعدے اور اعلان كرتے تھے ان كا رنگ وعكس ان كي اپني زندگيوں ميں يا تو نظر ہي نہيں آتا تھا يا واضح اور نمايا نہيں تھا اس لئے ديني مزاج ركھنے والے مسلمان ان كے وعدوں اور اعلانات كے بارے ميں تذبذب كا شكار تھے. بلخصوص جب علماء كي ايك جماعة تقسيم هندوستان كي مخالف بھي تھي اور وہ مسلم ليگي قائدين كے اسلامي نظام قائم كرنے كے متعلق وعدوں كو برملا مشكوك ٹھراتي تھي. مطالبہ پاكستان كي تحريك ميں بلا شبہ يہ ايك روڑا تھا جو مذكور بالا علماء كے اس مطالبے كا ساتھ دينے سے دور هوا. مسلم ليگي قائدين كي طرف سے علماء سے رابطوں اور ان كے مطالبات كي پزيرائي كي وجہ سياسي مصلحت هو يا ايسا بربنائے اخلاص كيا گيا هو بہرحال تاريخي طور پر يہ بات ثابت ہے كہ دونوں طرف سے روابط اور ايك دوسرے كي ضرورة كا احساس بدستور موجود تھا جو ايك مشتركہ مؤثر جدوجہد كا باعث بنا اور يہ مشتركہ كوشش ہي تشكيل پاكستان كي منزل تك پہنچنے كا سبب بنيں.


جو لوگ تحريك پاكستان ميں علماء ديوبند كے كردار كي نفي كرتے ہيں يا اسے دھندلا كر پيش كرنے كي كوشش كرتے ہيں وہ قائد اعظم محمد علي جناح اور لياقت علي كي طرف سے ان علماء كي خدمات جليلہ كے برملا اور بار بار اعتراف كي كيا توجيہ پیش كريں گے؟ ان علماء حصرات نے مسلم ليگ كے اندر جو نئي روح پھونكي تھي اور ان كے دوروں اور تقريروں نے حالات كو مسلم ليگ كے حق ميى جس طرح پلٹ كر قيام پاكستان كي منزل كو ممكن اور سهل بنايا تھا, اس كا قائد اعظم اور لياقت علي خان رحمه الله كو پورا پورا احساس بھي تھا اور وہ اس كے معترف بھي تھے. يہي وجہ ہے كے جب سرحد اور سلہٹ ميں ريفرنڈم كرانے كا نازك مرحلہ آيا تو ان كي نظر علماء كي طرف ہي گئي اور اس مهم كو سر كرنے كيلئے حضرة علامه شبير احمد عثماني اور مولانا ظفر عثماني رحمه الله كي شحصيتوں كا سہارا ليا گيا. ان دونوں حصرات نے پيرانہ سالي اور صحت كي كمزوري كے باوجود سرحد اور سلہٹ كے كونے كونے پہنچ كر دو قومي نظريے والے موقف كو اس مؤثر اور بليغ انداز ميں وہاں كے مسلمين كے ذهن نشين كرايا كے سرحد ميں خان برادران كي حكومت اور سلہٹ ميں جميعت علماء هند كے گھرے اثرات كے باوجود دونوں جگہ كے مسلمانوں نے كانگريس كے متحده قوميت كے نظريے كے خلاف مسلم ليگ كي حمايت كي اور وہ ريفرينڈم جيت گئي. يہ بات شك سے بالا تر ہے كہ سرحد اور سلہٹ ريفرنڈم ميں مسلم ليگ كي كاميابي ان ہي علماء كي كاوشوں كا نتيجہ تھي اگر يہ دونوں حضرات وہاں تشريف لے جا كر مسلم ليگ كا كيس مؤثر انداز سے پيش نہ كرتے اور اس كے لئے اپنا اثر ورسوخ استعمال نہ كرتے تو مسلم ليگ يہ ريفرنڈم قطعاً نہيں جيت سكتي تھي, يہ اسي كا نتيجہ تھا كہ ريفرنڈم كي كاميابي كے بعد جب مولانا شبير احمد عثناني اور مولانا ظفر احمد عثماني رحمهما الله نے قائد اعظم اور لياقت علي خان سے ملاقات كر كے مباركباد پيش كي تو انہوں نے انہيں جواباً مباركباد دي اور اسے انہي كي محنت اور كوششوں كا ثمر قرار ديا, اس سے بھي بڑھ كر تحريك پاكستان ميں علماء ديوبند كے شاندار كردار اور ان كي ناقابل فراموش خدمات كا ثبوت يہ ہے كہ پاكستان جب معرض وجود ميں آ گيا تو اس كي پہلي پرچم كشائي قائد اعظم نے ان دونوں حضرات سے كرائي, مغربي پاكستان ميں حضرة علامه شبير احمد عثماني رحمه الله اور مشرقي پاكستان ميں حضرة مولانا ظفر احمد عثماني رحمه الله نے چودہ اگست كو رات بارہ بج كر ايك منٹ پر پاكستان كي پہلي پرچم كشائي كي. اس سے بڑھ كر علماء ديوبند كي خدمات كا ثبوت اور اعتراف اور كيا هو سكتا ہے. جو لوگ محض پروپوگينڈے كے زور پر علماء كي ان ناقابل فراموش خدمات كو دھندلانا چاہتے ہيں وہ حقائق كے اعتراف كي جرأت سے عاري ہيں اور تنگ نظري اور بے بصيرتي كے شكنجے ميں جكڑے هوئے ہيں. تحريك پاكستان ميں علماء ديوبند كے كردار كي نفي كرنے والے لوگ دراصل ان لوگوں كے نظرياتي وارث ہيں جنہيں نہ اسلامي ورثے اور مسلمانوں كے وجود كو لاحق خطرات كا كوئي انديشہ تھا نہ نظريہ پاكستان سے كوئي ذهني وابستگي, نہ تحريك پاكستان كي عملي جدوجہد ميں ان كا كوئي حصہ تھا اور نہ كاروان تحريك سے كوئي عرض, وه نہ اس عظيم جدوجہد كے پس منظر كا ادراك ركھتے تھے اور نہ اس كے اصل مقاصد سے آگاہي, يہ صرف دودھ پينے اور پكي پكائي كھانے سے غرض ركھنے والے مجنوں تھے, ايسے مجنوں جو عملي جدوجہد اور قربانيوں كے وقت تو كسي گوشے ميں دبك كہ بيٹھ جاتے ہيں يا تماشائيوں كي طرح پيچھے ہٹ كر چلتے ہيں, ليكن كاميابي حاصل هونے پر سامنے آ نمودار هوتے ہيں اور اس تحريك كے وارث اور دعوے دار بن كر اس كے ثمرات پر جھپٹا مارنے كي كوشش كرتے ہيں. پاكستان كے آغاز سے لے كر اب تك ايسے ہي عناصر پاكستان كے اقتدار كے سوتوں پر قابض يا اثر انداز رہے ہيں, جنہوں نے جونك كي طرح اس سے چمٹ كر اس كا خون تو خوب چونسا ليكن اسے اس كي نظرياتي منزل كي جانب بڑھنے نہيں ديا.




يہ مفاد پرست گروہ علماء حق كي خدمات كا انكار اور گاہے بگاہے انہيں پاكستان كي مخالفت كے طعنے دے كر انہيں بدنام كرنے كي كوشش كرتا آيا ہے, ليكن اس نے خود اپني حركتوں پر كبھي غور نہيں كيا كہ وہ آج تك اس ملك ميں دو قومي نظريے كے عملي اطلاق كي راہ ميں ركاوٹ بن كر كانگريسي علماء اور سياستدانوں سے بڑھ كر پاكستان مخالف كا كردار ادا كر رہا ہے. متحده قوميت كي حمايت اور تقسيم هند كي مخالفت كرنے والے علماء نے بھي پاكستان كے بن جانے كے بعد اس كي حفاظت اور استحكام كو ضروري قرار ديا اور پاكستان كے علماء اور عام المسلمين كو اس كے استحكام اور مضبوطي كيلئے كوشش ومحنت كرنے كي تلقين كي تھي, ليكن زبان كي حد تك پاكستان اور قائد اعظم كي محبت كے گن گانے والے سيكيولر ذهنيت كے مجنوؤں نے باسٹھ سال تك اس ملك ميں اسلامي قوانين كے نفاذ كي مخالفت كر كے پاكستان كے اساسي نظريے سے دشمني كا جو رويہ اپنا ركھا ہے اس پر انہيں شرم نہيں آتي, اس رويے كے مقابلے ميں تو كانگريس كا كردار اور رويہ بھي ہيچ ہے, وہ كھلي هوئي مخالفت تھي تو يہ منافقت ہے.




جہاں تك قيام پاكستان ميں علماء كے كردار اور جدوجہد كا تعلق ہے تو يہ برضغير كي تاريخ كا ايك تابنده باب ہے اور يہ اس خطے ميں اسلام اور مسلمين كي بقاء كي اس شاندار جدوجہد كا ايك حصہ ہے جس كا آغاز حضرت مجدد الف الثاني رحمه الله نے جہانگير كے دور ميں فرمايا تھا اور جیسے حضرت شاه ولي الله كي علمي فكري اور سياسي جدوجہد, حضرت سيّد احمد شهيد اور شاه اسماعيل شهيد رحمهم الله كي جہادي تحريك وقربانياں اور حضرت شيخ الهند محمود حسن ديوبندي رحمه الله كي تحريك ريشمي رومال والي شاندار سياسي جدوجہد نے ايك تسلسل بخشا. پاكستان كي تحريك ميں بھي علماء نے جو حصّہ ملايا وہ اسي عظيم مقصد كيلئے تھا جس كے لئے ماضي ميں يہ سنگهائے ميل اور نشان ہائے منزل نصب كئے گئے تھے, خود علماء كي يہ جدوجہد بھي منزل كا پتہ دينے والے ان نشانات ميں سے ايك نشان ہے. علماء نے اسلامي تهذيب وتشخص كي حفاظت اور قرآن وسنت كي حاكميت قائم كرنے كيلئے تحريك پاكستان سے پہلے بھي جدوجہد كي, اس مقصد كيلئے تحريك پاكستان ميں بھي بھرپور حصہ ليا اور آج بھي اسي مقصد كے حصول كيلئے ميدان عمل ميں موجود ہيں. جن كي منزل ذاتي يا گروہي مفادات تھے ان كي منزل انہيں مل چكي اور وہ دودھ پينے اور اس ملك وقوم كا خون چوسنے ميں مصروف ہيں ليكن علماء كي منزل كچھ اور تھي جو اب تك انہيں نہيں مل سكي, اس لئے ان كا سفر بھي جاري ہے اور محنت وتگ ودو بھي. سوال يہ پيدا هوتا ہے كہ انگريز كي غلامي كے دور ميں اس منزل تك پہنچنے ميں انگريز مانع تھا, اس كے بعد هندوؤں كے غلبه اور ممكنہ غلامي كا اس ميں آڑے آنے كا انديشہ تھا, جس كے باعث علماء كي بڑي تعداد اور اهل الاسلام كي اكثريت نے دو قومي نظريے كا ساتھ دے كر مسلم ليگ كو كامياب كرايا. اب 62 سال سے پاكستان دنيا كے نقشے پر موجود ہے جس پر نہ انگريز كي حكومت ہے نہ هندو كي اور نہ كانگريس كي, پھر ابھي تك وہ منزل كيوں دور ہے جس كے لئے تحريك پاكستان چلائي گئي تھي اور اسلام كا وہ نظام كيوں نافذ نہ هوسكا جس كا بمع قائد اعظم تمام مسلم ليگي قائدين نے وعده كر كے علماء كو اپنے ساتھ ملايا تھا اور مسلمانوں كي اكثريت كي حمايت حاصل كي تھي, اس ميں اب تك كون مانع اور ركاوٹ بنا هوا ہے اور كيا وہي لوگ في الحقيقت پاكستان اور نظريہء پاكستان كے مخالف نہيں ہيں جو اس ملك ميں اسلام كي راه روكے اور سيكولرازم كو گلے لگائے بيٹھے ہيں؟
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری

Last edited by shafresha; 26-05-10 at 03:10 PM.
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
rabab (23-05-10), shafresha (26-05-10), ھارون اعظم (22-05-10), WASEEM AHMEDد (19-06-10)
پرانا 22-05-10, 06:40 PM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستان کے لئے علماء کا کردار واقعی تعریف کے قابل ہے۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
rabab (23-05-10)
پرانا 23-05-10, 04:55 AM   #3
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب 62 سال سے پاكستان دنيا كے نقشے پر موجود ہے جس پر نہ انگريز كي حكومت ہے نہ هندو كي اور نہ كانگريس كي, پھر ابھي تك وہ منزل كيوں دور ہے جس كے لئے تحريك پاكستان چلائي گئي تھي اور اسلام كا وہ نظام كيوں نافذ نہ هوسكا جس كا بمع قائد اعظم تمام مسلم ليگي قائدين نے وعده كر كے علماء كو اپنے ساتھ ملايا تھا اور مسلمانوں كي اكثريت كي حمايت حاصل كي تھي, اس ميں اب تك كون مانع اور ركاوٹ بنا هوا ہے اور كيا وہي لوگ في الحقيقت پاكستان اور نظريہء پاكستان كے مخالف نہيں ہيں جو اس ملك ميں اسلام كي راه روكے اور سيكولرازم كو گلے لگائے بيٹھے ہيں؟[/COLOR][/QUOTE]


السلام علیکم:

کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ علماء نے اپنا راستہ چھوڑ دیا ہے اور غیر اسلامی نظاموں کے راست کی دیوار بننے کی بجائے انہی میں اپنا حصہ قبول کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا فضل الرحمٰن،مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمد،سینٹر ساجد میر وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ایک انتہا پر ہیں تو بالکل ہی نظام سے الگ تھلگ پر امن بقائے باہمی کا اصول اپنانے والے اتحاد مدارس دینیہ ایک دوسری انتہا پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اول الذکر نے عام آدمی کا اعتماد علماء سے اٹھا دیا ہے تو موخر الذکر نے غلبہ دین کی سوچ دینے کی بجائے محض غلبہ مسلک کی تعلیم تک خود کو محدود فرما لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جائیں تو آخر کہاں جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
rabab (23-05-10), sahj (26-05-10), ھارون اعظم (26-05-10), عبداللہ حیدر (25-05-10)
پرانا 26-05-10, 11:53 AM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ علماء نے اپنا راستہ چھوڑ دیا ہے اور غیر اسلامی نظاموں کے راست کی دیوار بننے کی بجائے انہی میں اپنا حصہ قبول کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم بھائی عبداللہ آدم

نہیں بھائی علماء حق نے حق کا راستہ نہیں چھوڑا ، اگر آپ علماء حق کو اللہ کے دین کے علماء کی حیثیت سے تسلیم کرلیں، تو آپ کو بھی نظر آنے لگ جائے گا کہ علماء حق نے کبھی بھی درباری ملا بننا پسند نہیں کیا سولی چڑھ گئے ، کالے پانی کی سزا کاٹ لی، جلتے کوئیلوں پر لیٹ گئے ، آگ اور بارود اور گولیوں کی بارش میں جل کر اور چھلنی ھوکر اور ٹکڑے ٹکڑے ھو گئے، لیکن اسلام دشمن اور کفر کے آلہ کار حکمرانوں یا افراد سے کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا ،

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
مولانا فضل الرحمٰن،مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمد،سینٹر ساجد میر وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس آپ کو یہ ہی علماء نظر آئے ہیں پوری ملت اسلامیہ میں ؟
ان میں اک ہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب جو ہر حکومت کی جھولی میں بیٹھ کر مزے اڑانے کی فکر میں ھوتے ہیں،
مولانا سمیع الحق صاحب جو ذاتی اختلافات کی بنیاد پر الگ سیاسی دھڑا بنا کر کچھ حاصل کرنے کی فکر میں ہیں،
قاضی صاحب جو نا جانے کسطرح کی مزھبی حیثیت رکھتے ہیں فلحال نا تو میں ان پر بات کروں گا اور نا ہی ساجد میر صاحب پر ، لیکن آپ اتنا جان لو بھائی کہ علماء یہ لوگ ہی نہیں ہیں صرف،
دین حق کی سربلندی کے لئے کوشاں علماء حق پہلے بھی اپنے فرائض ادا کرتے رہے ہیں اور اس وقت بھی اسلام کی سربلندی کے لئے حسب استطاعت کوشاں ہیں ، اور اپنی جانیں تک قربان کر کر کے اللہ کے دین کی آبیاری فرمارہے ہیں ،

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں

اول الذکر نے عام آدمی کا اعتماد علماء سے اٹھا دیا ہے تو موخر الذکر نے غلبہ دین کی سوچ دینے کی بجائے محض غلبہ مسلک کی تعلیم تک خود کو محدود فرما لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پھر وہی بات ھے بھائی کہ اول الزکر علماء صرف سیاست کرنا جانتے ہیں اپنی پارٹی اور زاتی مفاد حاصل کرنے کے لئے،
اور موخر الزکر میں بھائی صاحب آپ کو اگر کسی ایک ہی مسلک کے علماء پاکستان بنانے، اور آج تک اس کی بقا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتے نظر آتے ہیں تو بھائی جان اس سے یہ کہاں ثابت ھوتا ھے کہ صرف مسلک کے غلبے کی تعلیم دی جاتی ھے ؟ کیا اسلامی نظام کی بات کرنا مسلک کی تعلیم ھے ؟ نہیں بھائی اصل میں مسلک تو ایک راستہ ہے ایک سڑک ھے اب جو مسافر صحیح راستے پر سفر کرتا رہے گا آگے بڑھتا رہے گا وہ منزل کے نزدیک ھوتا جائے گا ، اور یاد رکھیں بھائی آج کا باطل کس راستے میں رکاوٹ ڈال رہا ھے ؟ کس راستے کے مسافروں کو آگ میں جلا رہا ھے ؟ کس راستے کے مسافروں کو گولیوں سے چھلنی کر رہا ھے ؟ اور کس راستے کے مسافروں کو ان کے مدارس و مساجد میں بم برسا کر جلا کر اور قیمہ بنا کر ختم کرنے کی فکر میں ھے ؟ یہی بات اگر سمجھ آجائے میرے مسلمان بھائیوں کی تو بھائی عبداللہ بہت کچھ سمجھ آجائے گا ، کہ آج کا کفر اور ان کے ھرکارے کس مسلک کے دشمن ہیں ، اور کن علماء حق کو صفحہ ھستی سے مٹانے کی فکر میں ہیں ، میں کچھ نام بتا دیتا ہوں آپ کو کہ ان علماء کو شہید کردیا گیا جو معتدل اور ھردل عزیز کہے جاسکتے تھے لیکن مسلک حق سے وابسطہ ھونے کی بنا پر انہیں معاف نہیں کیا گیا ، مولانہ شہید یوسف لدھیانوی ،شہید مفتی جمیل ، مفتی سعید جلال پوری ، اس کے علاوہ جو علماء مسلک حق سے وابسطہ ہیں اور اسلام کے احکامات اور اسلامی شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں وہ سب زیر عتاب ہیں ، تمام کفریا طاقتوں کی آنکھ میں چبھنے والی شخصیات ایک ہی مسلک کی ہیں،
لال مسجد ھو یا کسی قبائلی علاقے کا چھوٹا یا بڑا مدرسہ و مسجد ایک ہی مسلک کے علماء و طلباء کو شہید کیا جارہا ھے،
غور کیجئے گا ایسا کیوں ھے ؟

اسی لئے شاید آپ کو لگتا ھے کہ یہ غلبہ مسلک کا معاملہ ھے جبکہ درخقیقت ایسا نہیں ھے اور اس وقت ایک ہی مسلک میدان میں ھے اسلام کے دفاع میں بھی اور اسلام کی اشاعت میں بھی،
شکریہ
والسلام
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
پرانا 26-05-10, 12:46 PM   #5
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ساھیج السلام علیکم،
آپ اس تحریر میں‌لفظی غلطیوں کو (جو یقینا کاپی پیسٹ‌کی وجی سے نظر آ رہی ہیں) دور کردیجیئے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 01:02 PM   #6
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
ساھیج السلام علیکم،
آپ اس تحریر میں‌لفظی غلطیوں کو (جو یقینا کاپی پیسٹ‌کی وجی سے نظر آ رہی ہیں) دور کردیجیئے!
السلام علیکم
اگر آپ ان الفاظ کی نشاندہی واضع طور پر کردیں تو انشاء اللہ ضرور درست کرنے کی کوشش کروں گا

جزاک اللہ

والسلام
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 01:11 PM   #7
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
اگر آپ ان الفاظ کی نشاندہی واضع طور پر کردیں تو انشاء اللہ ضرور درست کرنے کی کوشش کروں گا

جزاک اللہ

والسلام
ہ، ۃ جہاں‌بھی نظر آ رہی ہے وہ منفصل یعنیٰ علحیدہ نظر آ رہی ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 02:41 PM   #8
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
ہ، ۃ جہاں‌بھی نظر آ رہی ہے وہ منفصل یعنیٰ علحیدہ نظر آ رہی ہے!
السلام علیکم بھائی شاھفریشہ

آپ کے نشاندھی کرنے پر الفاظ کو درست کردیا ھے

نشاندھی کرنے پر اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 11:50 PM   #9
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

:::::::::::اسی لئے شاید آپ کو لگتا ھے کہ یہ غلبہ مسلک کا معاملہ ھے جبکہ درخقیقت ایسا نہیں ھے اور اس وقت ایک ہی مسلک میدان میں ھے اسلام کے دفاع میں بھی اور اسلام کی اشاعت میں بھی::::::::::::::

میرا مقصد کسی مسلک کو ہٹ کرنا نہیں تھا۔ ایک عمومی بات کی تھی جو کہ آج ہمارے مدارس میں واضح دیکھی جا سکتی ہے ابھی بھی وہی مسلکی بحثیں اور فرقہ وارانہ چپقلشیں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال وہیں پر قائم بھی ہے کہ آج علماء غلبہ دین کے لیے کس طرح کوشاں ہیں؟؟؟؟؟؟؟
کیا کوششیں آپ دیکھتے ہیں ان کی جو حقیقی اسلامی نظام کے کیے کی جارہی ہیں؟؟؟؟

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-05-10), shafresha (27-05-10), ھارون اعظم (27-05-10), عبداللہ حیدر (31-05-10)
پرانا 27-05-10, 06:36 PM   #10
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

:::::::::::اسی لئے شاید آپ کو لگتا ھے کہ یہ غلبہ مسلک کا معاملہ ھے جبکہ درخقیقت ایسا نہیں ھے اور اس وقت ایک ہی مسلک میدان میں ھے اسلام کے دفاع میں بھی اور اسلام کی اشاعت میں بھی::::::::::::::

میرا مقصد کسی مسلک کو ہٹ کرنا نہیں تھا۔ ایک عمومی بات کی تھی جو کہ آج ہمارے مدارس میں واضح دیکھی جا سکتی ہے ابھی بھی وہی مسلکی بحثیں اور فرقہ وارانہ چپقلشیں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال وہیں پر قائم بھی ہے کہ آج علماء غلبہ دین کے لیے کس طرح کوشاں ہیں؟؟؟؟؟؟؟
کیا کوششیں آپ دیکھتے ہیں ان کی جو حقیقی اسلامی نظام کے کیے کی جارہی ہیں؟؟؟؟

والسلام
السلام علیکم بھائی عبداللہ آدم

میں نے اوپر کافی کچھ لکھ دیا تھا اشاروں اشاروں میں لیکن شاید آپ سمجھ نہیں سکے ،
چلیں میں آپ سے ہی اک سوال کرلیتا ھوں بھائی ، کہ آپ اپنا نقطہ نظر بیان کردیں کہ دین کے غلبہ کے لئے امت کے علماء کو کیسا طرز عمل اور کیا فکر اپنانی چاھئے؟
تھیک ہے بھائی اب آپ کچھ لکھ دیں تاکہ پھر اگر ممکن ھوا تو انشاء اللہ بات آگے بڑھائیں گے ،

شکریہ والسلام
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-05-10), عبداللہ آدم (30-05-10), عبداللہ حیدر (31-05-10)
پرانا 30-05-10, 01:36 AM   #11
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

ساھج بھائی اس سوال کا جواب بہت سے جملہ ہائے معترضہ لیے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لیےایک ہی نقطہ پیش کرتا ہوں اس پر بات مکمل ہو گئی تو پھر مزید بھی دیکھ لیں گے۔ ان شاء اللہ

میرے خیال میں علماء کو اس باطل نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔

اب آپ ہی بتایئں‌کہ علماء اس موجودہ باطل نظام کو اکھاڑنے اور اس کی جگہ اسلام کے قیام کے لیے کیا فرما رہے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 30-05-10 at 11:35 AM. وجہ: word correction
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-05-10), عبداللہ حیدر (31-05-10)
پرانا 31-05-10, 10:38 AM   #12
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم بھائی عبداللہ آدم

میں نے اوپر کافی کچھ لکھ دیا تھا اشاروں اشاروں میں لیکن شاید آپ سمجھ نہیں سکے ،
چلیں میں آپ سے ہی اک سوال کرلیتا ھوں بھائی ، کہ آپ اپنا نقطہ نظر بیان کردیں کہ دین کے غلبہ کے لئے امت کے علماء کو کیسا طرز عمل اور کیا فکر اپنانی چاھئے؟
تھیک ہے بھائی اب آپ کچھ لکھ دیں تاکہ پھر اگر ممکن ھوا تو انشاء اللہ بات آگے بڑھائیں گے ،

شکریہ والسلام





اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم:

ساھج بھائی اس سوال کا جواب بہت سے جملہ ہائے معترضہ لیے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی عبداللہ آدم یہی وہ بات ھوتی ھے جس سے اختلافات جنم لیتے ہیں کہ فلاں اور فلاں بات معترضہ ھے ، بھائی اصل مسئلہ بھی یہ ہی ھے کہ نہ آپ اپنے مسلک کے خلاف کسی بات کو مانو گے نہ میں ، مختصر یہ کہ میں اپنا نقطہ نظر بیان کر چکا ھوں ، آپ بے شک متفق نہ ھوں آپ کو حق ھے، لیکن اگر آپ کوئی طریقہ کار بتانا چاہیں تو یہ بھی آپ کا حق ھے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اس لیےایک ہی نقطہ پیش کرتا ہوں اس پر بات مکمل ہو گئی تو پھر مزید بھی دیکھ لیں گے۔ ان شاء اللہ

میرے خیال میں علماء کو اس باطل نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ٹھیک فرمایا آپ نے جد و جہد کرنی چاھئیے بلکل کرنی چاھئیے، اچھا ھوتا اگر آپ اسی بات کی وضاحت بھی کردیتے کہ کس قسم کی جدوجہد کرنی چاھئے؟


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اب آپ ہی بتایئں‌کہ علماء اس موجودہ باطل نظام کو اکھاڑنے اور اس کی جگہ اسلام کے قیام کے لیے کیا فرما رہے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
بھائی میرے یہ بات سمجھنے کے لئے آپ کو اپنے انداز نگاہ کو درست کرنا ھو گا ، بات یہاں وہی آجاتی ھے یعنی مسلک کی ، اگر آج مجھ سے کوئی کہے کہ فلاں قادری دین کی سربلندی کے لئے فلاں فلاں جد و جہد کررہا ھے ، تو میں اس کو اس معیار پر پرکھوں گا جو مجھے میرا مسلک سکھاتا ھے ، کہ وہ فلاں قادری یا فلاں شیخ کتنی بدعات کو فروغ دیتا ھے اور کتنی آشیربادات حاصل ہیں اور کس کس کی۔(واضع رہے میں صرف اشارے میں بات کررہاھوں کیونکہ اگر تفصیلی بات کی تو اندیشہ ھے کہ اک نئی بحث کا آغاذ ھوجائے گا)
اور اگر کوئی اور کسی اور انداز میں جدوجہد کرتا نظر آئے تو اسے بھی معیاری کسوٹیوں پر ہی پرکھنے کے بعد کوئی رائے دی جائے گی،

جہاں تک تعلق ھے علماء حق کا تو ان کے بارے میں پچھلے سے پچھلے مراسلے میں کچھ اشارے دئے ہیں انہیں اک بار پھر سمجھنے کی کوشش کیجئے گا،
بھائی آپ کے سامنے صرف اک نقطہ رکھتا ھوں عالم کفر کی بندوقوں کے رخ اگر آپ دیکھیں گے تو پھر بھی سمجھ میں آنا چاھئے کہ جس طبقئہ علماء سے کفر زیادہ خوف زدہ ھے اس کو ہی نیست و نابود کرنے کی فکر میں ھے، اک بار پھر کہتا ھوں غور کریں کس مسلک کے مدارس و مساجد کو عالم کفر کے میزائل و بارود نشانہ بنا رہے ہیں؟ (یہاں میں مسلمانوں کے آپس کے جھگڑوں پر بات نہیں کر رہا اسلئے ان معاملات سے متعلق کوئی رائے قائم نہ کی جائے)
کون ہیں جو کفر سے دوستی نہیں کررہے؟ کون ہیں جو کفر کے آگے ہر میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہیں؟ سر کٹادیتے ہیں ، بارود سے جلادئے جاتے ہیں ، شہید ھوجاتے ہیں لیکن کلمہ حق کہنے سے پیچھے نہیں ھٹتے۔

شکریہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-05-10), عبداللہ حیدر (31-05-10)
پرانا 31-05-10, 12:01 PM   #13
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,355
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحريك پاكستان ميں مخصوص طبقے کے علماء "حق" نے پاکستان کی مخالفت کی

آج یہ ہی مخصوص طبقے کے علماء "حق" پاكستان کے ٹھیکےدار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk
فرحان دانش آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-10)
پرانا 31-05-10, 12:23 PM   #14
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فرحان دانش مراسلہ دیکھیں
تحريك پاكستان ميں مخصوص طبقے کے علماء "حق" نے پاکستان کی مخالفت کی

آج یہ ہی مخصوص طبقے کے علماء "حق" پاكستان کے ٹھیکےدار بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔
السلام علیکم بھائی فرحان دانش

بھائی اس طرح کی تنقید کرتے ھوئی اس مخصوص طبقے کے "علماء " کو علماء "سو" لکھیں ، اور اشارے میں ہی بتادیں کہ آپ کا اشارہ کس طبقے کی طرف ھے ،

شکریہ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (31-05-10)
پرانا 31-05-10, 01:33 PM   #15
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم ساھج بھائی:

میں سب مسلکی تفریقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بات کر رہا ہوں اور ان شاءاللہ آپ مجھے کبھی بھی ان مسلکی بحثوں میں الجھتا ہوا نہیں دیکھیں گے،ہاں شرک اور کفر کی راہ روکنا فرض ہے،اس لیے اس بارے میں میری طرف سے بے فکر ہو جائیں اور کھل کر بات کریں۔

یہ سوال ایک ملین دالر کوئسچن ہے کہ علماء خواہ وہ دیوبندی ہوں اھلحدیث ہوں یا کوئی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اس غیر اسلامی نظام کی بیخ کنی کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کچھ تو اس نظام کی گورد میں بیٹھے ہیں جن کی بات آپ نے بھی کی ہے اور کچھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خانقاہوں میں‌اللہ اللہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی بھی کام نہیں کر رہا////////////////میری معلومات یہی ہیں
اگر کوئی کر رہا ہے تو آپ بتائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مرتبہ پھر کہ میں قطعا منفی بات کرنے کی کوشش نہیں کر رہا نہ کروں گا۔اان شاءاللہ۔

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-05-10), ابو عبداللہ (01-03-11), عبداللہ حیدر (31-05-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, گانے, پاکستان, واقعی, قرآن, لوگ, محبت, آج, جلد, حسن, حضرات, خون, خلاف, خان, دل, راستہ, سفر, شاندار, علماء, علامہ, عناصر, غور, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے ALI-OAD اپکے کالم 4 14-06-11 02:06 PM
تم مجھے بھول جاو، ميں تمہارے قابل نہيں ہوں نورین خان شعر و شاعری 81 12-09-09 11:59 AM
اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں The Great احمد فراز 0 28-08-09 10:12 PM
پاكستان كا نام تجويز كرنے والے ايك مخلص سیاستدان Real_Light 14اگست 2 13-08-09 05:09 PM
لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك چیتا چالباز نماز 5 08-04-09 03:32 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger