|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بر صغیر میں مغل تخت کے تحفظ اور انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے تسلط کے خلاف پورے ڈیڑھ سو سال قبل ۱۱ مئی ۱۸۵۷ ء کو انگریزی فوجوں کے ہندوستانی سپاہیوں نے جو بغاوت کی کی تھی ا س کے اصل اسباب کیا تھے اور اس کی اصل نوعیت کیاتھی اس کے بارے میں ہر نقطہ نگاہ کے تاریخ دانوں میں پچھلی ایک صدی سے زیادہ عرصہ سے برابر بحث جاری ہے۔
بہت سے مورخ اسے برصغیر کی پہلی جنگ آزادی قرار دیتے ہیں بعض تاریخ دان اسے پسے ہوئے عوام کی طرف سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اسے اشرافیہ کے خلاف غریب طبقہ کی معرکہ آرائی تصور کرتے ہیں اور بعض اسے کسانوںاور دیہی طبقہ کی بغاوت کہتے ہیں لیکن گذشتہ پچاس برس میں جو نئی دستاویز ات اور نجی کاغذات منظر عام پر آئے ہیں ان کے بغور مطالعہ سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۱۱ مئی ۱۸۵۷ ء کو میرٹھ میں کمپنی کے سپاہیوں نے جوعلم بغاوت بلند کیا تھا اور جس کے سایہ میں بڑے پیمانہ پر عوام بھی انگریزوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوگئے تھے وہ در حقیقت بر صغیر میں غیر ملکی مذہب کے بڑھتے ہوئے تسلط کےخلاف پہلا جہاد تھا اور منفرد جہاد اس اعتبار سے کہ اس میں مسلمان اور ہندو دونوں اپنے اپنے مذہب اور دھرم کے تحفظ کے لئے ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ بلاشبہہ ۱۱ مئی ۱۸۵۷ ء سے ایک عرصہ قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کے سپاہیوں میں اپنے بہت کم بھتہ (تنخواہ) کے خلاف بے چینی پھیل رہی تھی او بڑی تعداد میں گورکھا اور سکھ فوجیوں کی بھرتی کے خلاف شدید جذبات بھڑک رہے تھے اسی کے ساتھ بر صغیر کے اشراف اور عوام دونوں اودھ پر انگریزوں کے قبضہ اور دلی میں مغل تاج دار کی بڑھتی ہوئی بے بسی اور بے اختیاری پر سخت نالاں تھے لیکن گیارہ مئی کو میرٹھ میں سپاہیوں کی بغاوت کی اصل وجہ خالص مذہبی تھی ۔مسلمان اور ہندو سپاہیوں نے جن میں اکثریت اعلی ذات کے ہندو وں کی تھی نئی اینفیلڈ رائیفلوں کے کارتوسوں کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا تھا جن پر گائے اور سور کی چربی چڑھی ہوتی تھی اور جن کو رائیفل میں بھرنے کے لئے انہیں دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ اسی انکار پر ۹ مئی کو ۸۵ سپاہیوں کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ اس پر سپاہیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے مشتعل ہوکر چھاونی میں اپنے انگریز افسروں کو ہلاک کر کے دارالحکومت دلی کی سمت کوچ کیا تھا۔ یہ رمضان المبارک کی سولہویں تاریخ تھی۔ گو یہ فوری وجہ تھی بغاوت کی لیکن اند ر ہی اندر جو چنگاری سلگ رہی تھی انگریزوں کے خلاف جو ۱۱ مئی کو یوں آگ بن کے بھڑکی اس کی بنیادی وجہ دراصل برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی وہ پالیسی تھی جس کے تحت برطانوی عمل دار مغل دربار کے یکسر خاتمہ اور عیسائی قوانین کے نفاذ اور بر صغیر میں عیسائیت کے غلبہ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے تھے۔ اس مہم میں پیش پیش دلی کے پادری جان جینگز تھے جنہوں نے بڑے پیمانہ پر دلی میں عیسائیت کا پرچار شروع کیا تھا۔ دلی مشن کے نام سے انہوں نے جو منشور جاری کیا تھا اس میں طاقت کے بل پر برصغیر کے عوام کو ان کے بقول ان کے جھوٹے مذاہب سے نجات دلانے اور برصغیر میں عیسائیت کے غلبہ کا پیمان کیا گیا تھا۔ اس دوران کمپنی کے انگریز فوجی افسروں میں بھی عیسائیت کا اثر تیزی سے بڑھ رہا تھا اور وہ پریڈ کے دوران ہندوستانی سپاہیوں کے سامنے انجیل پڑھتے تھے۔ اسی زمانہ میں دلی میں بڑی تعدا د میں مساجد اور مندروں کو مختلف بہانوں سے مسمار کیا جارہا تھا اور ان مساجد اور مندروں کی اراضی ضبط کر کے انہیں گرجا گھروں کی تعمیر کے لئے دیا جارہا تھا۔ پھر ملک کے مختلف علاقوں میں اسلامی مدرسوں اور ہندووں کے پاٹھ شالاوں کو وہ سرکاری مالی اعانت بند کردی گئی تھی جو صدیوں سے دربار کی طرف سے انہیں ملتی تھی۔ اس اقدام کو ہندووں اور مسلمانوں کے مذہبی تعلیمی اداروں کی بیخ کنی اور اس کے مقابلہ میں عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا۔ پھر ۱۸۳۷ ء میں انگریزوں نے فارسی کی سرکاری زبان کی حیثیت ختم کردی اور اس کی جگہ انگریزی نافذ کی تو برصغیر کے عوام کو یہ احساس جاں گزیں ہوا کہ انگریز بڑی تیزی اور منظم طریقہ سے اپنا اثر بڑھا رہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر جنہیں پورے برصغیر کے عوام جن میں ہندووں کی اکثریت تھی اپنا بادشاہ تسلیم کرتے تھے ان کی بے بسی اور بے اختیاری پر ناراضگی اور غصہ بڑھ رہا تھا۔ بہادر شاہ ظفر کی عملا حکمرانی لال قلعہ کے اندر محدود ہو کر رہ گئی تھی اور حقیقتا وہ قلعہ میں قید ی بن کر رہ گئے تھے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ میرٹھ سے جو تین سو باغی سپاہی دلی آئے وہ سب سے پہلے لال قلعہ گئے جہاں انہوں نے بادشاہ کو اپنی بغاوت اور اس کے اسبات سے باخبر کیا اور اپنے حکمران کی حیثیت سے ان کا تحفظ طلب کیا اور اسی کے ساتھ باغیوں نے مغل تاج دار سے کہا کہ وہ ان کی قیادت کریں۔ وزیر اعظم احسان اللہ خان نے بادشاہ کی بے کسی کا اظہار کیا اور کہا کہ بادشاہ کا خزانہ خالی ہے اور ان کے پاس انہیں تنخواہیں دینے کے لئے رقم نہیں اس پر باغیوں نے کہا کہ ہم پورے ملک کی آمدنی سے بادشاہ کا خزانہ بھر دیں گے ہمیں بس بادشاہ کی آشیر باد چاہئے ۔ اس کے بعد باغی سپاہیوں نے یکے بعد دیگرے بادشاہ کے سامنے آکر اپنا سر خم کیا اور بہادر شاہ ظفر نے قدرے ہچکچاہٹ کے ساتھ ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور یوں مغل تاج دار نے باغیوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ لال قلعہ سے نکل کر باغی سپاہیوں نے دلی میں انگریز فوجی افسروں پر حملہ شروع کیا اور شہر میں چن چن کر عیسائیوںکو نشانہ بنایا۔ سرکاری دستاویزات اور عینی شاہدوں کی شہادتوں کے مطابق حملوں کے دوران انگریزیا فرنگی مردہ باد کے نعرے نہیں لگا رہے تھے بلکہ کافر اور نصرانی مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ باغی سپاہیوں نے اس دوران ان انگریزوں کو ہاتھ نہیں لگایا جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ ان میں سے دو انگریز نو مسلم ۔ عبداللہ بیگ اور سارجنٹ میجر گورڈن نمایاں تھے جنہوں نے خود باغیوں کی قیادت سنبھال لی۔ میرٹھ سے دلی آکر حملہ کرنے والے باغیوں کی اکثریت ہندووں کی تھی جنہوں نے جامع مسجد پر جہاد کا پرچم لہرایا یہ اپنے آپ کو بڑے فخر سے مجاہدین غازی اور جہادی کہلارہے تھے۔ ان کے ساتھ گوالیار سے آنے والا غازی دستہ بھی شامل ہوگیا جس نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس وقت تک فاقہ کرے گا جب تک کافروں کا قلع قمع نہیں کر دیاجاتا یا خود ختم نہیں ہو جاتا۔ اس دوران دلی کے دینی مدرسوں میں یہ فتوی چسپاں کیا گیا کہ تمام اہل ایمان کافروں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ۔ مولوی باقر کے دلی اردو اخبار میں باغی سپاہیوں کو جہادی قراد دیا گیااور اس معرکہ آرائی کو جہاد سے تعبیر کیا گیا۔ ان مجاہدین کے سربراہ مولوی سرفراز علی تھے جنہوں نے شاہجہاں پور میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ہمارا مذہب خطرہ میں ہے ۔ ہم اپنی سرزمین کی حاکمیت کھو بیٹھے ہیں اور ناپاک کافروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ یوں انگریزوں کے خلاف مسلح مزاہمت کا مقصد واضح تھا ۔ باغیوں نے گو پہلے ہلہ میں انگریز وں اور ان کی سپاہ کو دلی سے کھدیڑ دیا تھا لیکن انگریزی فوجوں نے دلی کو محاصرہ میں لے لیاجسے چار ماہ گذرنے کے بعد بھی بہادر شاہ ظفر کی حامی سپاہ نہ توڑ سکیں اور انگریز فوجیں بھی شہر میں داخل نہ ہو سکیں۔اس دوران انگریزوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ بقر عید کے موقع پر گاؤ کشی کے معاملہ پر ہندووں اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس صورت حال میں مایوس ہو کر بہادر شاہ ظفر نے دلی چھوڑ کر حج پر جانے کی کوشش کی لیکن راستے چونکہ بند تھے لہذا ناکام رہے۔
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (14-08-09), ایس اے نقوی (03-08-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
۱۴ اگست ۱۸۵۷ ء کو فوجی بساط اس وقت پلٹی جب بریگیڈیر جنرل جان نکلسن پنجاب سے ایک ہزار انگریز فوجوں او ربھاڑے کے ڈیڑھ ہزار سکھ اور مسلمان فوجیوں کو لے کر دلی کے مورچہ پر پہنچے اور پنجاب کے راجاؤں نے خوراک اور دوسری کمک فراہم کی۔ اس کے مقابلہ میں محاصرہ کی وجہ سے دلی میں خوراک کی شدید قلت ہوگئی تھی اور مالی اور فوجی وسایل ختم ہوتے جارہے تھے ۔ اس صورت حال میں ۸ ستمبر کو انگریز فوجوں نے دلی پر توپ خانہ سے زبردست حملہ کیا اور ۱۳ ستمبر کو کشمیری دروازہ کو بارود سے اڑا کر شہر میں داخل ہوگئیں اور اس پیمانہ پر قتل عام شروع کیا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انگریزوں کے انتقام کی آگ تھی جو چار دن تک جاری رہی۔ یہ انگریز افسر کھلم کھلا اپنے آپ کو حضرت عیسی کا سپاہی قرار دیتے تھے ۔ ۱۶ ستمبر کو تمام باغی سپاہی اور جہادی مولوی سرفراز کی قیادت میں لال قلعہ گئے اور انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ دلی کے تمام شہری اور مضافات کے عوام ان کے ساتھ ہیں اور ان کے تخت کے تحفظ کے لئے لڑنے اور فرنگیوں کو ملک سے باہر نکال دینے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے بادشاہ سے درخواست کی کہ وہ ان کی قیادت کریں۔ اس موقع پر بہادر شاہ ظفر نے باغی سپاہ کی قیادت کا فیصلہ کیا اور قلعہ سے روانہ ہوئے لیکن وزیر اعظم احسان اللہ خان کے مشورہ پر بادشاہ قلعہ میں لوٹ گئے۔ یہ اقدام انگریزوں کے خلاف مغل خاندان کی مزاہمت کا اختتام تھا۔ دوسرے دن سترہ ستمبر کو علی الصبح مغل تاجدار اپنی بیگم زینت محل اور وزیر اعظم کو بتائے بغیر نہایت خاموشی کے ساتھ ایک کشتی میں پرانے قلعہ کے گھاٹ گئے اور جہاں سے نظام الدین اولیا کی درگاہ گئے ۔ان کے ساتھ وہ موئے مبارک تھے جو چودہویں صدی سے خاندن تیموریہ کی تحویل میں تھے۔ بہادر شاہ ظفر نے یہ موئے مبارک درگاہ کے منتظمین کے حوالے کئے اور قریب میں ہمایوں کے مقبرہ میں پناہ گزیں ہوگئے۔
۱۸ ستمبر کو سورج گرہن تھا اور دلی میں تین گھنٹے تک اندھیرا چھایا رہا۔ ۲۰ ستمبر کو انگریزیں فوجوں نے سکھ فوجیوں سمیت جامع مسجد میں فتح کا جشن منایا اور رقص سرود برپا رہا۔ سامنے لال قلعہ کے دیوان خاص میں انگریز فوجی افسروں نے ملکہ وکٹوریہ کی صحت کے جام نوش کئے اور اعلان کیا کہ بر صغیر میں مغل خاندان کا دور ختم ہوگیا۔ اس رات ہمایوں کے مقبرہ میں بہادر شاہ ظفر کے جنرل بخت خان نے مغل تاجدار کو ان کے ہمراہ لکھنؤ چلنے اور وہاں سے مزاہمت جاری رکھنے کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کوشش میں ناکام رہے۔ دوسرے دن بہادر شاہ ظفر نے اس شرط پر کہ ان کی جان بخش دی جائے گی اپنے آپ کو ولیم ہڈسن کے حوالہ کر دیا اور انگریزی فوجوں کے سخت پہرے میں لال کنویں میں ملکہ زینت محل کی حویلی میں قید کر دئے گئے ۔ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ان کے سولہ میں سے تین بیٹوں نے بھی ہتھیار ڈال دئے ۔ جنہیں ولیم ہڈسن نے دلی کی فصیل کے باہر خونی دروازہ پر ننگا کر کے گولی مار دی اور ان کی برہنہ لاشیں کوتوالی کے سامنے ٹانگ دیں۔ یہ برصغیر میں آزادی کے لئے پہلے جہاد کا خاتمہ تھا اور اسی کے ساتھ مغل سلطنت کے ۳۳۲ سالہ دور کا خاتمہ۔ دو وجوہ تھیں اس جہاد کی ناکامی کی۔ ایک دلی دربار انگریزوں کے مالی اور فوجی وسایل کے مقابلہ میں مات کھا گیا ۔ پھر بہادر شاہ ظفر پر سپاہیوں کی بغاوت اچانک بجلی کی طرح آن گری تھی انہیں منصوبہ بندی کی کوئی مہلت نہیں ملی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ شعر شاعری اور موسیقی میں فنامعمر بادشاہ فوجی حکمت عملی سے یکسر تہی دامن تھے اور پھر دلی سے ایسے چمٹے رہے کہ وہاں سے نکلنے کے لئے آمادہ نہیں تھے حالانکہ ان کے کمانڈر بخت خان نے ان پر بہت زور دیا تھا کہ وہ دلی سے نکل کر لکھنؤ منتقل ہو جائیں اور وہاںسے مزاہمت جاری رکھیں کیونکہ پورے ملک میں عوام ا ن کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ نہ مانے۔ اگلے تین مہینے دلی کے لوگوں کے لئے قیامت کے گذرے۔ سڑکوں اور محلوں میں جا بجا ٹکٹکیاں کھڑی تھیں اور روز آنہ بغاوت کے شبہہ میں درجنوں افراد کو پھانسی دی جاتی تھی۔ اس دوران انگریزی فوجوں نے لکھنؤ کانپور جھانسی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں باغیوں کا قلع قمع کردیا اور آخر کار جنوری ۱۸۵۸ ء میں بیاسی سالہ بیمار اور نہایت نحیف و کمزور بہادر شاہ ظفر کے خلاف بغاوت غداری اور قتل کے الزام میں فوجی کمیشن کے سامنے مقدمہ چلایا گیا۔ اس کورٹ مارشل میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ بغاوت بین الاقوامی اسلامی سازش تھی ۔دو مہینہ کی سماعت کے بعد بہادر شاہ ظفر کو ملک بد ر کرنے کی سزا دی گئی۔ اور ۷ اکتوبر ۱۸۵۸ء کو بر صغیر میں مغلیہ خاندان کے آخری بادشاہ کو ان کی ملکہ زینت محل اور دو بیٹوں کے ساتھ ایک بیل گاڑی میں کلکتہ روانہ کردیا گیا ۔ چار سال بعد ۷ نومبر ۱۸۶۲ء کو ۸۷ سال کی عمر میں مغل سلطنت کا آخر ی چراخ رنگون میں گل ہو گیا۔ (مصنف آصف جیلانی)
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (14-08-09), ایس اے نقوی (03-08-09) |
| کمائي نے wajee کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 14-08-09 | فیصل ناصر | دستیاب نہیں | 100 |
| 03-08-09 | ایس اے نقوی | پاک نیٹ کیطرف سے پوائینٹس(سلام پاکستان) | 150 |
![]() |
| Tags |
| ٹیک, وزیر, قید, موقع, مقابلہ, منشور, مسجد, ایمان, اللہ, المبارک, اردو, اسلامی, تاج, حال, خلاف, خان, رمضان, زمانہ, سال, شہر, عہد, عید, صبر, صدی, صغیر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| یورپ کے تاریک دور سے تاریک تر، بر صغیر کا دور مولویت | فاروق سرورخان | اپکے کالم | 34 | 15-12-09 10:45 AM |
| صغیر احمد | صغیر احمد | تعارف | 8 | 26-11-09 07:30 PM |
| برصغیر پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ کی گم شدگی | طارق راحیل | خبریں | 0 | 23-02-09 10:00 PM |
| اک کارواں کہیں کو رواں ہونا چاہئے احمد صغیر صدیقی | Real_Light | شعر و شاعری | 2 | 05-09-08 12:46 AM |
| چہار بیت برصغیر کے مسلمانوں کا ثقافتی ورثہ ہے، اعجاز احمد فاروقی | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 15-12-07 09:52 AM |