|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ایسا لگتا ہے کہ کافر تو کافر شاید اب مسلمان کو بھی اس کا یقین نہیں رہا کہ ہمیں اپنے اچھے برے کا جواب دینا ہوگا‘ یا ہم نے خدانخواستہ کسی کی طرف غلط بات منسوب کی تو عندالله اس کو ثابت کرنا ہوگا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ زندہ تو زندہ اب مردے بھی ان کے ظلم و ستم اور کذاب وافترأ سے محفوظ نہیں۔ کچھ اسی قسم کا معاملہ روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار حامد ”میر“ صاحب کا ہے الله تعالیٰ نے ان کو قلم و قرطاس کی ”نعمت“ اور میڈیا سے وابستگی کی ”سعادت“ سے نوازا ہے اور ان کا ”بے باک“ قلم آئے دن کسی نہ کسی کی پگڑی اچھالتا رہتا ہے چنانچہ آج سے کوئی ساڑھے پانچ سال قبل بھی روزنامہ جنگ کراچی 25 اگست 2003ء کی اشاعت میں موصوف نے ”ملا پاور“ کے نام سے ایک تاریخی جھوٹ تراش کر یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ 1974ء کی اینٹی قادیانی تحریک اور مسئلہ ختم نبوت میں علماء اور کارکنان ختم نبوت کا کوئی کردار نہیں تھا اور یہ مسئلہ کسی تحریک کے بغیر محض پی پی پی رہنما ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی دلچسپی سے حل ہوا تھا چنانچہ وہ لکھتے ہیں :”… ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون منظور کروا کر قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دلوایا‘1974ء کی اسمبلی میں بھٹو ملّاؤں کے قطعاً محتاج نہ تھے اور نہ ہی اس وقت سڑکوں پر کوئی تحریک چل رہی تھی‘ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت کی مرضی سے ہوا…“ کیا کوئی باشعور مسلمان باور کرسکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء کی آئینی ترمیم بغیر کسی تحریکی دباؤ کے از خود فرمادی تھی؟ کون نہیں جانتا کہ ربوٰہ اسٹیشن پر قادیانی جارحیت کے خلاف اٹھنے والی تحریک نے جب مسلمانان پاکستان کو بیدار کیا تو اسمبلی کے اندر مولانا مفتی محمود ‘مولانا غلام غوث ہزاروی ‘ ‘ پروفیسر غفور احمد وغیر حضرات نے اور اسمبلی سے باہر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور دوسرے اکابر نے مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ سرانجام دیا ‘تو حکومت پاکستان اور ذوالفقار علی بھٹو عوامی دباؤ کی سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے؟انہوں نے اسی کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ”جہاد کشمیر کا 1947ء میں آغاز ہوا تو ملّاؤں کی طرف سے اس جہاد کو کفر قرار دیا گیا“۔
کون نہیں جانتا کہ”جب وزیراعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم نے کشمیر میں اعلان جنگ کردیا‘ جس پر پوری قوم ان کی ہمنوا بن گئی‘ اس جنگ میں مجلس احرار اسلام سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی اور اس نے حکومت پاکستان کے موقف کی بھرپور اور دوٹوک حمایت کا اعلان کردیا‘ مجلس احرار اسلام نے اس موقع پر دفاع پاکستان کے عنوان سے جلسوں کا اعلان کرکے رائے عامہ ہموار کرنے اور قوم میں جذبہ جہاد پیدا کرنے کی مہم شروع کردی‘ پاکستان کے تمام بڑی شہروں میں زبردست جلسے کئے گئے‘ عوام اور فوج دونوں کا لہو گرماگیا‘ انہیں جہاد کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا گیا‘ مجلس احرار اسلام کے تمام رہنما اس جدوجہد میں شریک ہوگئے“۔ (تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک ‘ از چوہدری غلام نبی ‘ ص 125) حال ہی میں ”میر“ صاحب نے اپنے تازہ کالم میں مولانا فضل الرحمن کو فہمائش کرتے ہوئے لکھا ہے”وکلاء کے لئے معزول ججوں کی بحالی کے لئے تحریک اتنی ہی اہم تھی جتنی اہم تحریک پاکستان تھی‘ تحریک پاکستان میں بھی کچھ مولانا صاحبان نے علامہ اقبال اور قائد اعظم کے خلاف طرح طرح کے فتوے صادر کئے‘ نوبت یہاں تک آئی کہ علامہ اقبال کو جمعیت علماء ہند کے رہنما مولانا حسین احمد مدنی کے خلاف اشعار کہنا پڑگئے…“۔ کون نہیں جانتا کہ حضرت مدنی نے علامہ اقبال کے خلاف نہ ایسا کوئی فتویٰ دیا تھا اور نہ ہی علامہ اقبال نے اپنے کسی ذاتی انتقام میں وہ اشعار کہے تھے۔ تاریخ پاکستان کا ادنیٰ کارکن بھی جانتا ہے کہ ان اشعار کا پس منظر یہ تھا کہ جنوری 1038ء میں شیخ اسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ نے اپنی ایک تقریر میں دور جدید کے نظریہ قومیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ”موجودہ زمانہ میں قومیں مذہب سے نہیں بلکہ اوطان سے بنتی ہیں“۔لیگی اخبارات نے حضرت کے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور حضرت مدنی کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا کہ”وہ ملت از وطن است“ کے قائل ہیں اور مسلمانوں کو یہ تلقین کررہے ہیں کہ وہ مذہب کی بجائے وطن قومیت کی بنیاد پر بنائیں“۔ یہ پروپیگنڈہ اتنا شدید تھا کہ پورے ملک میں حضرت مدنی کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کردیا گیا‘اس اخباری پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر علامہ اقبال مرحوم نے بھی حضرت مدنی کے بارے میں مشہور قطعہ ”عجم ہنوزنداند موزدین ورنہ “ لکھ کر اخبارات میں شائع کرادیا۔اس پر علامہ عبدالرشید نسیم جو طالوت کے قلمی نام سے متعارف تھے‘ حضرت مدنی اور علامہ اقبال مرحوم دونوں کے عقیدت مند تھے‘ انہوں نے اس قضیہ کو سلجھانے کے لئے حضرت مدنی کی خدمت میں اصل واقعہ کی تحقیق کے لئے تفصیلی عریضہ لکھا‘ حضرت مدنی قدس سرہ نے اس کا تفصیلی جواب لکھا اور فرمایا کہ”ملت از وطن است“ کا نظریہ لیگی اخبارات کا تراشیدہ خالص تہمت ہے‘ میں نے اپنی تقریر میں دور جدید کا یہ نظریہ ذکر کیا تھا کہ :”قومیں مذہب نہیں بلکہ اوطان سے بنتی ہیں“۔ مولانا طالوت نے مولانا مدنی کے اس مکتوب کے اقتباسات علامہ کو لکھ کر بھیجے ‘ علامہ اقبال مرحوم حضرت مدنی کی وضاحت سے مطمئن ہوگئے اور انہوں نے اپنا اعتراض واپس لے لیا اور اس تنقیدی نظم سے رجوع کرلیا چنانچہ علامہ کا یہ تردیدی بیان اخبار احسان لاہور میں باین الفاظ میں شائع ہوا ”میں نے مسلمانوں کو وطنی قومیت اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دیا“۔ (حضرت مدنی کابیان) ”مجھے اس اعتراف کے بعد ان پر اعتراض کا کوئی حق باقی نہیں رہتا“۔ (علامہ اقبال کامکتوب)”قومیت و وطنیت کے مسئلہ پر ایک علمی بحث کا خوشگوار خاتمہ“ جناب ایڈیٹر صاحب ”احسان“ لاہورالسلام علیکم ! میں نے جو تبصرہ مولانا حسین احمد صاحب کے بیان پر شائع کیا ہے اور جو آپ کے اخبار میں شائع ہوچکا ہے‘ اس میں ‘ میں نے اس امر کی تصریح کردی تھی کہ اگر مولانا کا یہ ارشاد ” زمانہ حال میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں“محض برسبیل تذکرہ ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر مولانا نے مسلمانان ہند کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ جدید نظریہ قومیت کو اختیار کرلیں تو دینی پہلو سے مجھے اس پر اعتراض ہے ‘ مولوی صاحب کے اس بیان میں جو اخبار ”انصاری“ میں شائع ہوا ہے‘ مندرجہ ذیل الفاظ ہیں”لہٰذا ضرورت ہے کہ تمام باشندگان ملک کو منظم کیا جائے اور ان کو ایک ہی رشتہ میں منسلک کرکے کامیابی کے میدان میں گامزن بنایا جائے‘ ہندوستان کے مختلف عناصر اور متفرق ملل کے لئے کوئی رشتہ اتحاد بجز قومیت اور کوئی رشتہ نہیں جس کی اساس محض یہی ہوسکتی ہے“۔ ان الفاظ سے تو میں یہی سمجھا کہ مولوی صاحب نے مسلمانان ہند کو مشورہ دیا ہے‘ اسی بناپر میں نے وہ مضمون لکھا جو اخبار ”احسان“ میں شائع ہوا ہے لیکن بعد میں مولوی صاحب کا ایک خط طالوت صاحب کے نام آیا جس کی ایک نقل انہوں نے مجھ کو بھی ارسال کی ہے اس خط میں مولانا ارشاد فرماتے ہیں”میرے محترم سر صاحب کا ارشاد ہے کہ اگربیان واقعہ مقصود تھا تو اس میں کوئی کلام نہیں ہے اور اگر مشورہ مقصود ہے تو وہ خلاف دیانت ہے‘اس لئے میں خیال کرتا ہوں کہ پھر الفاظ پر غور کرلیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تقریر کے لاحق و سابق پر نظر ڈالی جائے‘ میں یہ عرض کررہا تھا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں‘ یہ اس زمانے کی جاری ہونے والی نظریت اور ذہنیت کی خبر ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ہم کو ایسا کرنا چاہئے‘ یہ خبر ہے ‘ انشا نہیں ہے۔ کسی ناقل نے مشورے کو ذکر بھی نہیں کیا پھراس کو مشورہ قرار دینا کس قدر غلطی ہے“۔ خط کے مندرجہ بالا اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ مولانا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انہوں نے مسلمانان ہند کو جدید نظریہ قومیت اختیار کرنے کا مشورہ دیا لہٰذا میں اس بات کا اعلان ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھ کو مولانا کے اس اعتراف کے بعد کسی قسم کا کوئی حق اعتراض کرنے کا نہیں رہتا‘ میں مولانا کے ان عقیدت مندوں کے جوش عقیدت کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے ایک دینی امر کی توضیح کے صلے میں پرائیویٹ خطوط اور پبلک تحریروں میں گالیاں دیں‘ خدائے تعالیٰ ان کو مولانا کی صحبت سے زیادہ مستفید فرمائے‘ نیز ان کو یقین دلاتا ہوں کہ مولانا کی حمیت دینی کے احترام میں‘ میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں“۔ محمد اقبال… (اقبال کے ممدوح علماء‘ص:87,86 ) از قلم مولانا سعید جلالپوری صاحب
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کراچی, پاکستانی, وزیراعظم, لیاقت علی خان, موقع, متعارف, آج, انشا, اسلام, اشعار, ترمیم, جھوٹ, جواب, حل, حضرات, خلاف, خان, خبر, ختم نبوت, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زمانہ, سال, علی, صاف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|