![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید
بلوچستان کے سےاسی افق پرچمکنے والا عظیم ستاراور بلوچستان کا ٹائیگر نواب اکبرخان بکٹی جوہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔انہوں نے سارے بلوچستان میں اپنی ایک حیثیت منوائی ہوئی تھی۔ جو بلوچوں کی تاریخ میں اتنے گہرے نقوش چھوڑ کر گئے ہیں کہ جن کو پرویز مشرف جیسے ہزار بد طنیت بھی تاریخ سے کھرچنا چاہیں گے توکھرچ نہ سکیں گے۔ یہ بڑا بلوچ رہنما سر نواب محراب خان بکٹی کے ہاں 1927 میں بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوا۔ جو آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگری لیکر وطن لوٹا تھا۔جس نے لاہور کے ایچی سن کالج میں بھی اچھے طالبعلم کی حیثیت سے وقت گذارا تھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سول سروسز کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ مگر بیورو کریسی میں ملازمت نہ کی۔ مزاج میں بلوچی انداز کی سختی موجود تھی۔مگر قانون کی عملداری پر یقین رکھتے تھے۔ جس کی مثال میں اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر پیش کرنے جا رہا ہوں۔ بعض سیاسی دوستوں کے ساتھ 1994 میں ڈیرہ بگٹی جانا ہوا۔ جہاں ہم نوا ب محمد اکبرخان بکٹی کے ہی مہمان تھے۔ کوئٹہ میں ہمارا استقبال کرنے کےلئے جمہوری وطن پارٹی جنرل سیکریٹری خدئی نور تشریف لائے ۔ ڈیرہ بکٹی میں نواب صا حب خود ذاتی طور پرہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ اگلے دن نواب بگٹی نے ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ اس کے بعد ان کے قلع نما گھر میں ہی ہماری حالات حاضرہ پر گفتگو ہوتی رہی۔اسکے فوراَ ہی بعد ان کے جرگے کا وقت ہونے لگا تو لوگوں نے آ آکر بیٹھنا شروع کردیا۔ دورانِ جرگہ نواب اکبر بکٹی کا بیٹھنے کا ایک خاص اسٹائل تھا۔ جب تک جرگہ جاری رہتا وہ اپنے دونوں پیروں اور کمر کے گرد (پٹکہ)چادر لپیٹ کر بیٹھتے تھے۔جرگہ ختم ہونے کا اعلان اس طرح ہوتا کہ وہ اپنے پیروں اور کمرکے گردکسی چادر کھول دیتے تو لوگ بلا کسی تامل کے اٹھنا شروع ہو جاتے۔کئی چھوٹے موٹے معاملات پر نواب صاحب نے ہمارے سامنے ہی بہترین فیصلے دیے۔ دوران جرگہ ہی کوئی شخص خون میں لت پت زخمی حالت میں نواب بکٹی کی اوطاق میں آیا اور فریاد کی کہ سائیں فلاں شخص نے مجھ پر یہ ظلم کیا ہے۔ اور مجھے مار مار کے لہو لہان کر دیا ہے۔ سردار بگٹی نے برجستہ کہا کہ یہاں کیا لینے آئے ہو؟تھانے جاکر اسکی رپورٹ لکھواﺅ تاکہ تمہیں عدالت سے انصاف مل سکے۔ نواب بگٹی کی اس بات نے میرے اوپرمثبت اثرات مرتب کئے اور اور سرداروں سے متعلق میرے تصور میں تھوڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔ اکبر بگٹی 1947 میں جب قائد اعظم سے ملے تو نہایت ہی وضع دار نوجوان تھے۔ اس ملاقت میں انہوں نے قائد اعظم سے بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے پر بگٹی قبیلے کی طرف سے رضامندی کا اظہار کیا جس پر قائد اعظم نے نواب کا شکریہ ادا کیا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جب بعد کے لوگ ماضی کے وعدوں کو فراموش کر دیں تو اختلافات کی خلیج پیدا ہونا اور بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور ہمدردی کرنے والوں کی ہمدردیاں سمٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔ 1951 میں نواب اکبر بگٹی کو گورنر سندھ و بلوچستان کا مشیر مقرر کیا گیا۔ پھر 1958 میںوہ وفاقی کابینہ میں وزیر مملکت کی حیثیت سے شامل کئے گئے۔ مگر ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کے زمانے میں 1960میں نواب اکبر بگٹی کے خلاف فوجی ٹرائیل کیا گیا۔ فوجی ٹریبیونل کےذریعے انہیں پابند سلاسل کر دیا اور ان کو کسی بھی حکومتی عہدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ 1970 کے انتخابات میں بھی حصہ نہ لے سکے۔ بھٹو دور حکومت میں14فروری 1973 کو اُس وقت کے بلوچستان کے گورنرغوث بخش بزنجو سے متعلق لندن سازش کیس کی اطلاع ملتے ہی اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی حکومت توڑ دی جس کے سربراہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار عطا ءاﷲ مینگل تھے۔ اس کے بعد نواب اکبر بکٹی کو بلوچستان کا گورنر بنا دیا گیا اور بلوچستان میں ایک لاکھ فوجی بھیج دیے گئے۔ جس نے ایرانی ائر فورس کے ذریعے بلوچستان میں قتل و غارت گری شرع کر دی اورکئی ہزاربلوچوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ ساڑھے دس ماہ بلوچستان کے گورنر رہنے کے بعد بھٹو کی پا لیسیوں سے شدید اختلافات کے وجہ سے یکم جنوری 1974 کو وہ بلوچستان کے گورنر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس آپریشن کونواب اکبر بگٹی کی حمایت بھی حاصل تھی وقت کی مصلحت کے تحت انہیں ایسا کرنا پڑا۔ کیونکہ وہ پاکستان کے سیاسی اتار چڑھاﺅ پر گہری نظر رکھتے تھے اس کے بعد 1988 میں انہوں نے بلوچستان نیشنل الائینس میں شمولیت اختیار کر لی۔جسکے نتیجے میں وہ 4 فروری 1989 سے 6 اگست 1990 تک بلوچستان کے منتخب وزیر اعلیٰ رہے۔ بلوچ رہنما سے اختلافات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے بلوچستان حکومت تحلیل کر دی۔اس طرح وہ اگست 1990 میں مستعفی ہوگئے۔اس کے بعد انہوں نے اپنی الگ جمہوری وطن پارٹی کی بنیاد رکھی جس کے سربراہ وہ خود تھے۔ لہٰذا 1993 کے عام انتخابات میں جمہوری وطن پارٹی بلوچستان کی ایک اہم پارٹی کے طور پر ابھری جس کے پلیٹ فارم سے بگٹی نے قومی اسمبلی کا انتخاب جیتنے کے بعداسمبلی میں بلوچستان کے حقوق پر آواز اٹھاتے رہے۔ بلا شک وشبہہ نواب بگٹی پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا نا م تھا۔ بین الاقوامی سیاست کے میدان میں ان کا مطالعہ خاصہ وسیع تھا۔ انہوں نے ساری زندگی بلوچستان کے حقوق کی جنگ لڑی مگر پھر بھی بلوچ عوام کو وہ کچھ بھی نہ دے سکے۔ جو بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والے رہنما کے شایان شان ہرگز نہیں تھا۔ شائد ان کی سرداری اس معاملے میں ان کے آڑے آتی رہی ہو۔ مگر اس بات سے انکار ممکن ہے ہی نہیں کہ وہ بڑے سیاسی رہنما تھے اور بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرانے میں ان کابھی اتنا ہی ہاتھ تھا جتنا کہ قاضی محمد عیسیٰ اورمیر ظفر اﷲخان جمالی کا تھا۔ پاکستان کے مجرم اور فوجی ڈکٹیٹرنے بلوچوں کے حقوق کا مطالبہ کرنے پر اور بلوچوں کو حقوق نہ دیے اور سوئی میں کی جانےوالی ایک فوجی کی قبیح حرکت پر پردہ ڈالنے کی غرض سے بلوچستان کے اس شیر کو اس کی کچھار میں ہی 26 اگست2006 کوایک فوجی آپریشن کے ذریعے بھاری بمباری کر کے جاں بحق کر دیا اور پھر انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ میڈیا پر آکر اعلان کیا کہ قوم کو مبارک ہو بگٹی کی موت پاکستان کی فتح ہے۔قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس نے ایک عجیب شوشہ یہ بھی چھوڑا کہ غار کے خود بخود گرنے سے اکبر بگٹی کی موت واقع ہوئی ہے اور پھر اس حوالے سے حکومتی کارندے روزانہ ایک نہ ایک نیا شوشہ چھوڑتے رہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ جن لوگوں کی زندگیاں نواب بکٹی نے بچائیں تھیں وہ بھی حکومت میں ہوتے ہوئے انکی ظالمانہ موت پر سوائے بغلیں جھانکنے کے کچھ کرتے ہوئے دکھائی نہ دیئے۔ ان کی شہادت سے پہلے انہوں بھی بڑے بڑے نعرے تو بہت لگائے تھے مگر کر کے کچھ بھی نہ دکھایا۔ جس وقت بلوچستان کے شیر کی کچھار ہماری بہادر فوج نے گرائی تو پاکستانی ایجنسیوں نے کہا کہ ان کے پاس سے ایک کروڑ روپے کی پاکستانی کرنسی تھی اور 96 ہزار امریکی ڈالر تھے۔ اس کے علاوہ دو عدد سیٹلائٹ ٹیلیفونز بھی ملے ہیں۔ بلوچستان کے امور پر اتھارٹی سمجھے جانے والے نیوزی لینڈ کے تجزیہ نگار ہال ٹیٹس کا کہنا ہے کہ ”ہٹ دھرمی اور انتقام بگٹی قبائل کے اہم عناصر ہیں“حکومت پاکستان کے ترجمان رازق بگٹی نے اس آپریشن کے بعد کہا تھا کہ ضلع کوہلو میں امن قائم کرنے کے بعد اب مری قبیلے کے باغیوں کی باری ہے۔جس کی وجہ سے بگٹی کے خلاف آپریشن کے چند ہفتوں کے بعد ہی رازق بگٹی بھی انتقاماَ گولیوں کا نشانہ بنا دیے گئے۔ حالانکہ یہ بھی زمانہِ طالبعلمی میں بلوچ حقوق کے لئے بے انتہا جدو جہد کر چکے تھے۔ مگر انتقام نے انہیں بھی زندہ نہ رہنے دیا۔ نواب اکبر بکٹی کی شہادت کے بعد یکم ستمبر 2006 کو بھاری ملٹری کے پہرے میں چند سرکاری لوگوں کی موجودگی میں تین آہنی تالوں سے مقفل اسن کے تابوت کو ڈےرا بگٹی کے ایک قبرستان میں دفن کرا دیا گیا۔ انکے خاندان کے کسی شخص کو یہ اجازت نہ تھی کہ وہ ان کی نماز جنازہ یا تدفین میں شریک ہو سکیں۔ مگر بلوچستان کے ٹائیگر کی سیاسی زندگی کے ملک پراثرات گہرے مرتب ہورہے ہیں۔ نواب بگٹی کے کردار کے حوالے سے بی بی سی نے29 اگست 2006 کو اپنے نشریے میں کہا کہ ”وہ ظالم تھے جابر تھے جلد غصے میں آنےوالے تھے وہ اپنے لوگوں کے خیر خواہ نہیں تھے۔ اپنے عوام کے نام پر حکومت سے ہر سال کروڑوں روپیہ لیکر اپنی جیب میں ڈل لیتے تھے۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھا ہوا تھا۔ وہ گرم مزاج ہونے کے با وجود مشاق سیاست داں تھے۔ 2003 سے ہی مری قبائل کے ساتھ مل کر وہ بلوچستان کے لئے کام کر رہے تھے۔ جس کی بنا پر پاکستانی فوج ان کے خون کی پیاسی ہوگئی تھی۔ اسی بنا پر وہ کوہلوکے پہاڑوں میں مہینوں سے روپوشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ جہاںانہیں تلاش کرنے کے بعد فوج نے بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کر کے خطرناک بمباری کے ذریعے انہیں لقمہِ اجل بنا دیا“ چاہئیے تو یہ تھا کہ ان سے گفت و شنید کے بعد مسائل کا کوئی حل تلاش کیا جاتا۔مگر ہماری ملٹری بیوروکریسی نہایت سفاکی کے ساتھ اپنے لوگوں کو مارنے میں مہارت رکھتی ہے۔ لوگوں سے بات چیت یہ گولہ بارود کی زبان میں کرتی ہے۔ لوگوں کو باغی بنانا اور بغاوت پر اکسانا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اﷲ میرے ملک کی حفاظت کرے اس ملک میں نفرت کے بیج بونے میں یہ سب سے زیادہ مہارت رکھتی ہے۔ ہماری فوجی اور سول بیورو کریسی جب تک امریکہ کے ہاتھوں خوف اور لالچ کے ذریعے غلام بنی رہے گی اس وقت تک اس ملک میں امن و اتحاد کی فضا قائم کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ آج پوراملک ایک دوسرے سے نفرت اوربد گمانی کی آگ میں جل رہا ہے۔ہر صوبہ مرکز سے دست و گریباں نظر آرہا ہے۔ آبیل مجھے مار کے مصداق ہم نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے اپنے ہی لوگوں کا مسلسل لہو گرانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس کام میں ہمارے حکمرانوں کی انتہائی نہ اہلی بھی شامل ہے۔یہ امریکہ کا گیم کھیل کر در در بھیک کا پیالہ لئے پھر رہے ہیں۔مگر انہیں امریکہ کی جنگ کو امریکہ کی جنگ تک کہنے کی ہمت نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی خدمت نہیں بلکہ اسکی جڑیں کھوکھلی کرنے میں ہمارے دشمنوں کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ جو انتہائی نا معقول بات ہے۔ اس وقت نعروں نہیں عملیت پسندی کی ضرورت ہے۔ بلوچوں ،بلوچستان اور فاٹا کے معاملات کو عقل و شعور سے سلجھانے کی اشد ضرورت ہے۔ پانی سرسے گذرنے سے پہلے بند باندھنے کے شدید ضرورت ہے۔ہمیں تاریخ کا حصہ بننے سے پہلے ہی اپنے معاملات کو سلجھا لینا چاہیئے۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
12 سال کی عمر میں پہلا قتل کرنے والے کے بارے میں اپکا کیا خیال ہے؟
|
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جبری طریقے سے ملک پر آٹھ سال حکومت کرنے والے ظالم حکمرانوں کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ ہزاروں بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کرنے والے کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ ملک کو خودکش حملے کے زد پر لانے والے ظالم حاکم کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ غریب عوام کو فاقہ کشی سے مجبور کر کہ ان کو خودکشی پر آمادہ کرنے والے کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟ |
|
|
|
|
| مباح کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (23-05-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,356
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان پر پڑھنے والے اثرات میں "نام نہادبلوچ قوم پرست " برابر کے ملوث ہیں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
برادر دانش اس کے ذمہ دار ہمارے سیاستدان دان ہیں ۔ بالکل اسی طرح جسطرح ایک خاص لسانی جماعت کراچی اور حیدرآباد کو اپنا ذاتی میراث تصور کرتی ہے اور ہر سال انتخابات میں گھپلا کر کہ برسرِ اقتدار آ کر لوٹ کھسوٹ کر کہ کراچی کے یا میں سندھ کہوں تو بی جا نہ ہو گا عوام کا پیسہ لندن ٹرانسفر کرتی ہے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی لاشیں بوریوں میں بند کسی روڈ کے کنارے جھاڑیوں میں یا گندے نالوں میں پڑی ملتی ہے۔
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,356
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,494
شکریہ: 25,324
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی ان سے بیرونی ممالک کی کرنسی اور اسلحہ ملا تھا اس کو آپ کس طرح جسٹیفائی کرتے ہو
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
سابقہ حکومت اپنے ہر آپریشن کے بعد میڈیا کے سامنے یہی بیان دیتی رہی ہے کچھ ایسا ہی بیان لال مسجد والوں کے بارے میں بھی دیا تھا سابقہ حکومت نے اور میڈیا جو کہتی ہے وہ صد فیصد سچ ہے اسکا کیا ثبوت ہے کیا آپ جسٹیفائی کرتے ہیں سابقہ حکومت اور میڈیا کے کردار کو!
|
|
|
|
| مباح کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (01-06-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,494
شکریہ: 25,324
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | مباح (01-06-09) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,494
شکریہ: 25,324
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور پھر مولانا صاحب کو معصوم ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کہاں کا مسلمان ہے وہ جو بچوں کو مروا کر خود برقعے میں بھاگ رہا ہے اور میں نے دیکھا ہے خود اپنی آنکھوں سے جس وہ یہاں کروا رہے تھے ۔ جب خود پر کچھ آنچ آتی بچیوں کو اپنی ڈھال بنایا جاتا اور معصوم بچیوں کو سڑک پر لا کر کھڑا کر دیتا ۔ بڑا جہادی |
|
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,494
شکریہ: 25,324
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور پھر مولانا صاحب کو معصوم ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کہاں کا مسلمان ہے وہ جو بچوں کو مروا کر خود برقعے میں بھاگ رہا ہے اور میں نے دیکھا ہے خود اپنی آنکھوں سے جس وہ یہاں کروا رہے تھے ۔ جب خود پر کچھ آنچ آتی بچیوں کو اپنی ڈھال بنایا جاتا اور معصوم بچیوں کو سڑک پر لا کر کھڑا کر دیتا ۔ بڑا جہادی |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,494
شکریہ: 25,324
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسٹر مباح اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے
The Destabilization of Pakistan: Finding Clarity in the Baluchistan Conundrum |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فارم, کوئٹہ, کمر, کالج, کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لندن, نیند, نماز, نظر, میراث, موت, مسجد, امریکہ, بے نظیر, تلاش, تعلیم, خلاف, ذوالفقار علی بھٹو, سیاست, سال, عیسیٰ, عقل |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اوبامہ کا سیکیورٹی انتظام ۔۔۔ ظلم اور نا انصافی کا بین ثبوت | راجہ اکرام | اپکے کالم | 13 | 06-11-10 03:49 PM |
| پاکستان اور جنوبی افریقہ آج پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آمنے سامنے | محمدعدنان | کرکٹ | 35 | 26-10-10 03:04 PM |
| ’دیس کی مٹی پر موت کی خواہش‘ | ابن جلال | خبریں | 0 | 17-10-08 06:55 PM |
| بے نظیر کو دھاندلی کے ثبوت دینے سے چند گھنٹے پہلے قتل کیا گیا،پیپلز پارٹی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 02-01-08 09:24 AM |
| ن لیگ اورپیپلزپارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ انکی ناکامی کاثبوت ہے،درانی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 25-12-07 12:51 PM |