|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
گلگت اور بلتستان پاکستان کے شمالی علاقے ہیں اور اسمیں صوبہ سرحد کا موجودہ علاقہ چترال اور افغانستان کا علاقہ نورستان بھی شامل ہے. قدیم زمانے سے اس پورے علاقے پر خوشوقت، کتور اور رئیس خاندانوں کی حکومت رہی ہے اور اس کا صدر مقام اور پورے علاقے کا مشترکہ نام چترال ہی رہا ہے .گوکہ اس علاقے میں وادیوں کے حساب سے مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں مگر انکی ثقافت ایک ہی ہے.
انیسویں صدی میں مستوج اور گلگت کے حکمران مہتر گوہر آمان (حکمران کا لقب مہتر تھا جسکا مطلب سرکردہ ہے) کی موت کے بعد جس نے کئی دفعہ مہاراجہ کشمیر کی فوجوں کو شکست دی تھی اس علاقےمیں انگریز اور کشمیر کا مستقل پڑاؤ قائم ہوا اور یوں چترال سے اسکا تعلق ختم ہو گیا تھا. اسی مناسبت سے بعد میں اس علاقے کو شمالی علاقہ قرار دے کر الگ خطّہ بنایا گیا اور چترال کو صوبہء سرحد میں شامل کیا گیا. سرحدات کی افغانستان کے ساتھ تقسیم کے ساتھ نورستان کی وادی جسکا اصل نام باشگل ہے چترال سے کاٹ کر افغانستان کے حوالے کر دیا گیا. یہ پرانے زمانے کے سیاہ پوش کافروں کا وہی مرکز تھا جسکو امیر تیمور نے زبردستی مسلمان کرنا چاہا تھا۔ ان لوگوں نے امیر تیمور کی فوج واپس ہونے کے بعد اسکے ایک ہزار اسلامی تبلیغ کے ان معلّموں کو قتل کر دیا جو امیر تیمور کے حکم سے وہاں چھوڑ دئے گئے تھے۔ یہ لوگ مسلمان نہ تھے مگر چترال کے بادشاہ یعنی مہتر چترال کو کچھ سالانہ لگان دیتے اور وقت پر اپنی خدمت پیش کرتے تھے۔ یوں چترال جو کہ قدیم زمانے سےاپنے محدود وسائل کے باوجود ایک بڑی، مستحکم اور منظم ریاست تھی اس بڑی طاقتوں میں کانٹ چھانٹ اور تقسیم سے ایک وادی تک محدود ہو کر رہ گئی جو اب ایک ضلعے تک محدود ہے. چاہئے یہ کہ افغانستان کے ساتھ نورستان کے جھگڑے کو فی الحال بعد کے کھاتے میں رکھ کر چترال کو بھی شمالی علاقے کے ساتھ شامل کر کے ایک باقاعدہ صوبہ تشکیل دیا جائے جسکا نام چترال یا قراقرم رکھا جا سکتا ہے. اس خطّے کے بارے میں درست معلومات رکھنے کے لئے انگریزوں کے لکھے ہوئے کو چھوڑ کر یہاں کے اپنے پرانے تاریخ نویسوں کے لکھے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ اس علاقے کی تاریخ، باشندے اور انکے اطوار کے متعلق قدیم زمانے کی دستاویزات موجود ہیں جنکے بارے میں اردو میں انشا اللہ جلد ایک شوشہ بنایا جائے گا جس پر کام ہو رہا ہے۔ ان علاقوں کی مقامی آبادی آریا تھی اور پھر وسطی اور مغربی ایشیا کے علاقوں سے ترک، تاجیک اور مغل آبادی شمال کی طرف سے نقل مکانی کرتے ہوئے ان علاقوں میں آباد ہوتی رہی۔ اسطرح یہاں کی زبان میں ترکی، فارسی، قدیم ہندی اور سنسکرت کے الفاظ موجود ہیں مگر الفاظ کے بنیادی فعل یعنی مصادر زیادہ تر ترکی اور پھر فارسی کے ہیں۔ محمود غزنوی کے تاریخدانوں اور عربوں نے ان کو ترکمان لکھا ہے. جنوبی علاقوں میں آریا نسل کی کثرت ہے جن میں سے کچھ علاقے تو تقریبا" اب سے ڈیڑھ صدی پہلے تک کافر آبادی رکھتے تھے۔ کافی عرصے سے انگریز مبلّغ ان آریا آبادی کے علاقوں میں غیر سرکاری تنظیموں کی شکل میں سرگرم ہیںکہ کسی طرح یہاں عیسائی آبادی پیدا کر سکیں کہ ایک گرجا کھڑا ہو جائے۔ کچھ لوگوں کو انہوں نے اپنے ساتھ اس نعرے کے ساتھ شامل بھی کیا ہے کہ ہم اور تم آریا ہیں مگر اس علاقے میں وہ خود کو عیسائی بنا کر ظاہر نہیں کر سکے ہیں گرجا دور کی بات ہے۔ پولو اس علاقے کا قومی کھیل ہے جسکی یہاں کے حکمرانوں کے دور میں جو کہ 1969 عیسوی تک تھی بڑی سرپرستی ہوتی تھی مگر پاکستانی حکومت نے شندور کے جشن کے شور شرابے کے علاوہ پولو کی کوئی سرپرستی نہ کی بلکہ یہ تنزّل کا شکار ہے۔ بعض ایسے پولو کے میدان بھی ہیں جن میں بیس پچّیس سال سے پولو کا کھیل ہوتا ہی نہیںہے۔ اسکی وجہ غربت نہیں ہے مگر حوصلہ افزائی نہیں ہو رہی ہے۔ پہلے لوگوں کے مطابق پولو کے مقابلے ہونے سے پہلے تمام کھلاڑیوں کو شاہی قلعے میں چائے کی دعوت دی جاتی تھی اور بادشاہ خود کھیلوں کے اختتام پر جا کر لوگوں کو انعامات دیتا تھا جنمیں کھیلنے والوں کے لئے گھوڑے تک ہوتے تھے۔ پولو کے علاوہ بزکشی، کشتی، رسی کشی، اور تیراندازی کے مقابلے بھی پولو ہی کے میدان میں کھیلوںکے دوران کرائے جاتے تھے ۔ نورستان کے لوگ تیراندازی میں مشہور ہیں۔ Last edited by محمد الیاس; 25-09-09 at 11:33 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا | shafresha (25-09-09), فاروق سرورخان (13-10-09), یاسر عمران مرزا (11-10-09), نیلم خان (25-09-09), ماسٹر مقسود (12-10-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
سلام،
اچھی تحریر تھی مگر پڑھ کر کچھ تشنگی سی رہی! |
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
درست کہا شافریشہ بھائی ۔ کچھ ادھورا پن سا محسوس ہوا۔ بہتر ہوگا کہ الیاس بھائی اس کو مکمل کر دیں
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
بیان کیجئے جناب کس نکتے پر مزید وضاحت چاہتے ہیں؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی تشنگی کہتے ہی اس چیز کو ہیں کہ کسی چیز کے ہوتے ہوئے بھی اس میں کچھ کمی محسوس ہو ۔ ۔ ۔ کچھ ادھورا پن محسوس ہو مگر وضاحت نہ کی جا سکے کہ کیا کمی ہے۔ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کہ مزید کس چیز کی طلب تھی اس آرٹیکل میں ۔ ۔ ۔ مگر محسوس ضرور ہوئی کہ کچھ اور بھی ہونا چاہیے تھا۔ کچھ اور کی طلب ہوتی ہے
شاید کچھ تفصیل مزید ہوتی تو اچھا ہوتا شاید اس علاقہ کا مسئلہ تفصیل سے بیان کیا جاتا تو بہتر محسوس ہوتا یا شاید اس میں موجود مسائل /مسئلہ کے حل میں کسی قسم کی تشنگی محسوس ہوئی ۔ ۔ ۔ شافی بھائی شاید کوئی رہنمائی کر سکیں۔ میرے ذہن میں مندرجہ بالا نقاط آ ئے ہیں |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ویسے آپ ان علاقوں کے بارے میں مزید لکھیں۔ مجھے شوق ہے انکے بارے میں جاننے کا ۔ بہت دور دراز اور نظر انداز کیے ہوئے علاقے ہیں۔ ۔ ۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کے کسی اور کونے میں ہوں۔ براہ مہربانی ان سے متعلق ، وہاں موجود مسائل، وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں ان سب کے بارے میں لکھیں۔ تاکہ ہم وہاں کے بارے میں جان سکیں۔
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#7 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,061
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,005 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (13-10-09), محمد الیاس (28-09-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھئ معلومات دی ہے لیکن اسے جاری رکھیں
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 27
کمائي: 665
شکریہ: 3
23 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھا موضوع ہے، مگر تشنہ ہے ابھی تک۔
مزید بہت ساری معلومات کی ضرورت ہے۔ آخری خبر یہ پڑھنے کو ملی تھی کہ ایم کیو ایم سیاسی طور پر ان علاقوں میں بہت سپورٹ حاصل کرتی جا رہی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے مہوش علی کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-10-09), فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
محمد الیاس بھائی کی جانب سے مذید معلومات کی فراہمی پر "تشنگی" ختم ہوگئی ہے۔
الیاس بھائی آپ اسے سرورق کے لیئے پیش کریں!
|
|
|
|
| shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد الیاس (13-10-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
یہ میں نے خود بھی سنا تھا مگر یہاں کوئی رکن اسکا دعویٰ کرتا نظر نہیں آیا۔ الطاف حسین کے دور کے عروج میں کچھ چترالیوں کے بارے میں بھی سنا تھا جو کراچی میں محنت مزدوری کر رہے تھے کہ الطاف کے آدمیوں نے ان کوچاقو مار کر زخمی کر دیا تھا۔ پھر الطاف حسین فوج کے آنے پر پھانسی کے خوف سے فرار ہو گیا تھا اور اب یہ تنظیم چاہے جتنے ہاتھ پاؤں مارے اور برطانیہ کی اشیرباد حاصل کرتا رہے اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک الطاف حسین ملک واپس نہ آئے۔ گلگت اور چترال کی کسی نشست پر اسکو خود کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ اسکا کوئی کارندہ فی الحال اس علاقے میں مقبول نہیں ہے۔
Last edited by محمد الیاس; 13-10-09 at 12:45 AM. |
|
|
|
| محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (13-10-09) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
یہاں کا مخصوص لباس ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو گیا ہے مگر اس کے کچھ روایتی اجزاء زندہ ہیں۔ سر پر ایک اونی ٹوپی رکھی جاتی ہے جسکو ' پھکول ' کہا جاتا ہے اور ایک جبّہ سردیوںمیں پہنا جاتا ہے جس کو ' شوقہ ' کہتے ہیں۔ یہ شوقہ قدیم زمانے میں ایک ہلکی شکل میں مسلمان شرفاء اور منصبداران پہنتے تھے ۔ پھکول اور شوقہ کا کپڑا خاص قسم کی دیسی بھیڑ کی اون سے کھڈّیوںپر بنا جاتا ہے اور یہ اس علاقے کے لوگوںکے ساتھ کافی جچتا ہے۔ روس کے خلاف ہونے والی جنگ میں چھاپہ ماروں کے عام استعمال کرنے کے باعث پھکول پوری دنیا میںمشہور ہوگیا اور چترالی ٹوپی کے نام سے اسکو شہرت ملی جسکو افغانستان کی قومی ٹوپی قرار دی گئی ہے۔ شوقہ کا استعمال زیادہ عام نہیں ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ سردیوںمیں زیادہ ہلکے انگریزی چھلکوں (coats) اور نیم تنہ (jackets) نے اسکی جگہ لی ہے تاہم پھر بھی یہ موجودہ دور میںزیر استعمال ہے۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستان, پاکستانی, لوگ, نظر, مکمل, موت, موجودہ, مسائل, مسائل،, آبادی, اللہ, انشا, امیر, اردو, اسلامی, بھائی, تحریر, جلد, حل, علاقہ, علاقے, صوبہ, صوبہ، شمالی، گلگت، چترال, صدی, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| چاند کے خوبصورت مناظر | ابو عمار | دلچسپ اور عجیب | 13 | 21-06-11 07:09 PM |
| خوبصورت جانور خوبصورت پوز دیتے ہوئے ۔۔۔۔ | احمد بلال | دلچسپ اور عجیب | 23 | 06-06-11 11:18 PM |
| یہی قصور ھے میرا کہ بے قصور ھوں میں۔۔۔ | چاند | شعر و شاعری | 3 | 19-12-10 01:52 AM |
| مصور منصوراے کا سوئم آج ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 2 | 20-10-10 03:40 PM |
| بے قصور وں کو گرفتار کرانے والا بے قصور ۔۔۔ | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-10-10 10:41 PM |