![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,504
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آکسفورڈ ہسٹری آف انڈیا کے مطابق پہلے دور میں انگریز سرکار کو جو خاص کامیابی نصیب ہوئی وہ ریاستوں کے نمائندوں کا آل انڈیا فیڈریشن میں شمولیت پر راضی ہونا تھا۔ اس دور میں مولانا محمد علی جوہر کی ایک تقریر جو آزادی کامل سے متعلق تھی خاص اہمیت کی حامل ہے۔ آپ نے فرمایا:
’’میں تو آزادی کامل کو اپنا مسلک قرار دے چکا ہوں۔ میں اس وقت تک اپنے غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا ۔ جب تک اپنے ہمراہ آزادی کو لیکر نہ جاؤں ۔ اگر تم نے ہمیں ہندوستان میں آزادی نہ دی تو تمہیں مجھے یہاں قبر کی جگہ دینا ہوگی۔‘‘ اللہ کو شاید یہی منظور تھا ۔ اس تقریر کے بعد مولانا کا لندن ہی میں انتقال ہوا۔ آپ کے رفقاء نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ کی وصیت کے برعکس آپ کا جسد خاکی غلام ہندوتان لے آئیں۔ لہٰذا آپ کا جسد خاکی بیت المقدس لے جا کر دفنایا گیا
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|