| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
یزید کے بارے مین ایک مغالطہ یہ ہے کہ اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شمولیت کی اور وہ شاید جنت کی بشارت کا حقدار ہے۔ صحیح بخاری کی حدیث میں بلادِ روم یعنی قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر حملہ آور پہلے لشکر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بشارت دی تھی:
اول جیش من امتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم[1] "میری امت کا وہ پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا اللہ نے اس لشکر کی مغفرت کردی" تاریخ اسلام کی مستند اور مقبول ترین کتب جن میں البدایھ والنھایھ، الكامل في التاريخ، تاریخ ابنِ خلدون، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ میں منقول یے کہ بلاد روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر پہلا حملہ 42ھ میں ہوا اور دوسرا حملہ 43ھ ھوا اور اسلامی لشکر قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا۔ الغرض اسکے بعد یکے بعد دیگرے بلادِ روم، قیصر کے شہر (مدینۃ قیصر) پر مزید حملے کئے گئے اور بالاآخر ساتواں لشکر جو کہ 49ھ میں امیر معاویہ کے دور خلافت میں، روانہ کیا گیا۔ پہلے یزید نے اس لشکر میں شامل ہونے سے انکار کیا اور لشکر کو پیش آنے والی مشکلات کی خبریں آنے پر خوشی کا اظہار کیا اور قطعہ کہا جو کہ تاریخ کی کتب میں منقول ہے۔ جب امیر معاویہ کو اُس کی اس حرکت کا علم ہوا تو آپ نے یزید کو لشکر کی روانگی کے بعد بطور سزا 50ھ میں بھجوایا۔ (حوالہ: امام ابن کثیر کی البدایھ والنھایھ، ابن الااثير کی الكامل في التاريخ، ابن خلدون کی تاریخ ابنِ خلدون، الخطيب البغدادي کی تاريخ بغداد اور ابن عساكر کی تاريخ دمشق وغیرہ) پس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لفظ "اول جیش" یزید کو اس بشارت میں شامل کرنے میں مانع ہے۔ یزید کی شمولیت بترتیب ساتویں لشکر میں ہوئی جبکہ پہلا لشکر کم و بیش آٹھہ سال قبل حملہ آور ہوچکا تھا۔ اسی طرح دوسرا لشکر سات برس قبل مدینۃ قیصر کی طرف غزوہ کیلئے روانہ ہوا اور قسطنطنیہ پر بھی حملہ آور ہوا۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کے ،ذکورہ حدیث صرف قسطنطنیہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ اس میں مدینۃ قیصر یعنی پورے بلاد روم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے پھلا لشکر جو 42ھ میں حملہ آور ہوا وہ ہی اس بشارت کا مستوجب ہے۔ یہ حدیث کتب حدیث بشمول صحیح بخاری لفظ مدینۃ قیصر کے ساتھہ آئی ہے اور کسی بھی جگہ مذکورہ حدیث لفظ قسطنطنیہ کے ساتھہ وارد نہیں ہوئی۔ بعد ازاں یزید اسلامی تعلیمات کے خلاف اقتدار پر قابض ہوا اور امام حسین علیہ سلام سمیت دیگر اہلبیت اور آپ کے رفقھا کو شھید کرنے کا مرتکب ہوا۔ یزید نے سانحہ کربلا بپا کیا جو کہ اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ اور یزید کے اقتدار پر بہت بڑا داغ ہے۔ بعد ازاں وہ مدینہ اور مکہ پر حملے کا مرتکب ہوا اور واقعہ حرہ کے دوراں اپنی افواج کے ذریعے اُن مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور ہزارہا افراد کو قتل کیا جن میں بہت سے صحابہ اکرام بھی شامل تھے۔ (حوالہ:البدایہ والنھایہ، الكامل في التاريخ، تاریخ ابنِ خلدون ، تاريخ بغداد اور تاريخ دمشق وغیرہ) اسکے علاوہ معاصریں نے یزید کو اعلانیہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب (زنا، شراب نوشی، ترکِ نماز وغیرہ) اورعامۃ الناس کو اسکی طرف مائل کرنے کی وجہ سے اسے فاسق و فاجر قرار دیا۔ جیسا کہ امام ابن کثیر نقل کرتے ہیں۔ ذکروا عن يزيد ما کان يقع منہ من القبائح في شربۃ الخمر وما يتبع ذلک من الفواحش التي من اکبرھا ترک الصلوۃ عن وقتھا بسبب السکر فاجتمعوا علي خلعہ فخلعوہ. عند المنبر النبوي (البدايہ و النہايہ، 6:234) ترجمہ: یزید کے کردار میں جو برائیاں تھیں ان کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا، فواحش کی اتباع کرتا تھا اور نشے میں غرق ہونے کی وجہ سے وقت پر نماز نہ پڑھتا تھا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ نے اس کی بیعت سے انکار پر اتفاق کر لیا اور منبر نبوی کے قریب اس کی بیعت توڑ دی۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), ھارون اعظم (17-07-10), موجو (24-12-09), مرزا عامر (18-07-10), wajee (06-03-09), حیدر Rehan (01-02-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,623
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی عمدہ معلومات جناب
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), مرزا عامر (18-07-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
یزید کی شخصیت کے بارے میں بھائی طارق راحیل صاحب کے ساتھ """ یہاں """ پہلے بھی کچھ بات چیت ہوئی تھی ، اور میں نے گذارش کی تھی کہ جو مر چکے ان کی مٹی پلید کرنا چھوڑیں اور اپنی اپنی آخرت کی فکر کریں ، لیکن لگتا ہے میرے اس بھائی کو کسی کی نصیحت پسند نہیں ، پس وہاں مزید بات کرنے کی بجائے اب یہاں ایک نیا دھاگہ کھول لیا ، اور پھر سے بھائی صاحب اس کہانی کو لیے آئے ، میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ساری انتظامیہ کی توجہ اس موضوع کی طرف مبذول کروں اور اجازت طلب کروں کہ اس موضوع پر تفصیلی بات کی جا سکے لیکن اس میں یقینی طور پر ایسی باتیں آ جائیں گی جو شاید اکثریت کے لیے سخت اور ترش رہیں ، اگر انتظامیہ اس موضوع پر گفتگو کی اجازت مناسب نہیں سمجھتی تو پھر میری گذارش ہے کہ ایسے موضوعات کو نشر ہونے سے روکا جائے ، اور اگر انتظامیہ اس گفتگو کی اجازت دیتی ہے تو بھائی طارق راحیل صاحب نے جن کتابوں کے نام ذکر کیے ہیں ان میں سے مکمل حوالہ جات کے ساتھ وہ عبارات سامنے لائیں جن کو بنیاد بنا کر انہیں نے ، یا جس کسی نے بھی یہ مندرجہ بالا باتیں لکھی ہیں ، اور اگر بھائی طارق خود یہ صلاحیت نہیں رکھتے تو جہاں سے یہ سب کچھ کاپی کیا ہے اس کا حوالہ دیں ، ان شا اللہ ان روایات کی صحت کی حقیقت سامنے آ جائے گی ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (06-03-09), ھارون اعظم (17-07-10), قاسمی (23-10-11), نورالدین (26-03-10), محمد عاصم (13-10-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), ابن آدم (10-02-11) |
|
|
#4 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اس معاملے میں عادل سہیل بھائی سے متفق ہوں
کہ اقتباس:
اسکی وجہ یہ ہے بہت سی باتیں جن کا کوئی وجود نہیں ہے ۔کچھ خاص طبقہ نے ان باتوں کو اتنا promote کردیا کے بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے اس کو دین سمجھنے لگتے ہیں اور نا دانستگی میں بے شمار من گھڑت اور جھوٹے قصوں کو سچ جان لیتے ہیں اس لئے حق بات کا علم لوگوں کو ہونا ضروری ہے Last edited by فیصل ناصر; 07-03-09 at 04:07 AM. وجہ: کچھ پیرا حذف کئے گئے |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), نورالدین (26-03-10), محمد عاصم (13-10-10), مرزا عامر (18-07-10), ام غزل (07-03-09), ابن آدم (10-02-11), راجہ اکرام (11-03-09), عادل سہیل (07-03-09), عبداللہ حیدر (17-07-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
جزاک اللہ خیرا بھائی فیصل ناصر ، آپ کی بات بہت مناسب ہے کہ دوددھ کا دودھا ور پانی کا پانی ہونا چاہیے ، لیکن یقین مانیے کہ میں لوگوں کی شخصیات اور خاص طور پر مر چکے مسلمانوں کی شخصیات کے بارے میں ایسی باتیں میں شامل یا ملوث ہونے سے بہت ڈرتا ہوں ، اس کا سبب بھائی طارق راحیل کے یزید کے بارے میں شروع کردہ اس سے پہلے والے مراسلے میں ذکر کر چکا ہوں ، اگر ہمارے پاک نیٹ کی انتظامیہ اس قسم کے مراسلات اور خاص طور پر وکی پیڈیا سے کٹ پیسٹ کیے گئے مواد کے بارے میں کچھ واضح لائحہ عمل نہیں اپنائے گی تو بہت سی ایسی بحثوں کے چل نکلنے کا اندیشہ ہے جن کا کوئی اچھا نتیجہ نکلنے کی تو کوئی خاص امید نہیں لیکن پاک نیٹ کی بدنامی کا اندیشہ کافی قوی ہے ، اللہ ہم سب کو دنیا اور آخرت کی ہر بدی اور بدنامی سے محفوظ رکھے ، آپ کی طرف سے ہم نوائی پر اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، اور ہم سب کو توفیق عطا فرمائےحق کے لیے ، حق میں، حق کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دین ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایسے کسی بھی موضوع پر قلم آزمائی سے پہلے خود تیار ہو کر دلائل کے ساتھ میدان کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اور بحث برائے بحث نہیں بلکہ تلاش حق کے لئے ہونی چاہیے۔ اگر فریقین اس بات پر رضامند ہوجائیں کہ جس کے دلائل وزنی ہوں گے دوسرا اس کے حق میں دستبردار ہو کر سر تسلیم خم کرے گا تو یقینا اس بحث اور اس فورم کا فائدہ دوبالا ہو جائے گا۔ لیکن اگر بحث برائے بحث اور"" میں نہ مانوں"" کی پالیسی ہوئی تو بد مزگی، کشیدگی کے ساتھ ساتھ فورم کی بدنامی بھی ہو گی۔ اور جہاںتک مردوں سے متعلق بات کا ذکر ہے تو ہماری تعلیمات بھی ہمیں ان کے بارے میں اس طرح کی گفتگو اور کیچڑ اچھالنے سے منع کرتی ہیں۔ صحیح البخار، کتاب الجنائز ، باب ما ینھی من سب الاموات، میں ایک حدیث ذکر ہے جو اس موقع پر ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے۔ حدثنا آدم حدثنا شعبۃ عن الاعمش عن مجاھد عن عائشۃ رضي اللہ عنھا قالت : قال النبي صلى اللہ عليہ و سلم ( لا تسبوا الاموات فانھم قد أفضوا إلى ما قدموا ) مردوں کو گالی مات دو، بے شک انہوں نے جو آگے بھیجا ہے اس کیطرف جا چکے ہیں۔ اس لئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے مت چھوٹنے دیں۔ ۔ |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (07-03-09), ھارون اعظم (17-07-10), قاسمی (23-10-11), نورالدین (26-03-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), ابن آدم (10-02-11), طارق راحیل (25-09-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیر ا، راجہ بھائی ، آپ کی باتیں بہت بھلی اور مناسب ہیں ، اللہ ہم سب کو خیر کرنے والوں میں سے بنائے ، جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), مرزا عامر (18-07-10) |
|
|
#9 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 1
کمائي: 162
شکریہ: 0
ایک مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اوپر لکھے گیے مقالمہ جات پڑھ کر پہلی مرتبہ کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ اللہ عزول حق لکھنے کی سعادت بخشے ۔ وہ بحث جس کا مقصود عقاید کی اصلاح اور اعمال کی درستگی ہو ۔ وہ کارخیر ہے ۔ علاوہ ازیں بحث برائے بحث سے اللہ عزوجل نے منع فریا ہے۔اور جو دلیل قرآن و حدیث کے عین مطابق ہو اسے مان لینا چاہیے ۔ خواہ وہ ہمارے فرقہ کے اقابرین کے اقوال سے ٹکراتی ہو۔کہ ہم ایمان اللہ عزوجل و رسول ﷺ پر رکھنے کے پابند ہیں ۔ میرا گمان ہے کہ اگر ہم اچھی باتوں کو لے لیں اور غلط باتوں کو اپنے مکتب فکر اور فرقہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے چھوڑ دیں تو شاید ہم سب کی سوچ ایک ہو جائے۔ یزید کے متعلق بحث ہو رہی تھی ۔ کیا وہ جنتی ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔کیا اسے امیر المومنین کہا جاسکتاہے؟ ۔۔۔۔۔۔ کیاوہ اس حق میں تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا جائے؟ ۔۔۔۔۔کیا یہ سب کچھ یزید کی لاعلمی میں رونما ہوا؟ ۔۔۔۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے تاریخ سے متضاد جوابات ملتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔ ۔ کسی کو کافر کہنے کے فضائل تو کبھی سننے میں نہیں آئے ۔۔۔لیکن اگر شواہد شرعی نا ہوں اور کفر کا فتوٰی ٰ لگا دیا جائے تو اس کی وعید ضرور کانوں سے سنی ہے ۔۔۔۔۔ جس نے کفر کیا اس نے اللہ عزول کی دشمنی لی ۔۔۔ اس سے وہ ذات خوب نپٹنا جانتی ہے۔۔۔۔۔اور اس کا فیصلہ بروز قیامت روز روشن کی طرح سب کے سامنے عیاں ہو جائے گا۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تو کسی کو شک نہیں ۔۔۔۔وہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہونگے اس میں بھی کسی کو کوئی شک نہیں ۔ ان کے بارے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اور امام حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے اسمیں بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔اور امام حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خاندان کو ظلم اور جفا سے قتل کرنے والے غلط لوگ تھے ۔ ۔۔۔ ۔ اگر وہ توبہ کیے بغیر مرے ہونگے۔وہ دنیا میں بھی اپنے انجام کو پہنچے اور آخرت میں بھی ان کا انجام برا ہی ہوگا-واللہ اعلم ورسولہ اعلم اور۔۔۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ والوں نے خطوط لکھ کر دین میں خرافات کی شکایت کرتے ہوئے بلوایا تھا۔ اس وقت موجود صحابہ کرام سے مشورہ کے بعد پہلے اپنے نمائندہ حضرت مسلم بن عقیل کو بھیجا ۔جنہوں نے حالات سے باخبر کرتے ہوئے امام حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ تشریف لانے کے لیے قاصد روانہ کیا۔ اس قاصد کی روانگی کے بعد حالات بگڑ گیے اور حضرت مسلم بن عقیل کو ان کے بچوں سمیت شہید کردیا گیا ۔ حضرت مسلم بن عقیل نے آخری خواہشات پوچھنے پر قاتلوں سے کہا تھا۔کہ میں قاصد روانہ کرچکا ہوں ۔ اور اب کے حالات کے مطابق امام حسین رضی اللہ عنہ کو میرا پیغام بجھوا دیں کہ وہ تشریف نہ لائیں ۔ لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔ ان کے ارادے درست ہوتے تو قاصد روانہ کر دیتے ۔ یہ سب اس لیے لکھ رہا ہوں کہ جو یزید کو کچھ کہنے نہیں دیتے ۔اگر وہ اسی پر التفا کریں کہ اسکا معاملہ اللہ عزوجل کے ساتھ ہے تو اہل حق بھی خاموش رہیں ۔ لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے ۔وہ یوں کہتے ہیں کہ یزید امیرالمؤمنین تھا اور معاذاللہ امام حسین نے اسکی بغاوت کی ۔ امام عالی مقام تو دین کی خرافات درست کرنے نکلے تھے ۔ اگر جھگڑا کرنا ، لڑائی لڑنا مقصود ہوتا تو بیبیوں کو ساتھ کیوں لیتے ۔اور شیر خوار بچوں کی جگہ بہادر جوان ساتھ لیتے۔ یزید کے حامی غلط تھے یا یزید اسکا تو اللہ عزوجل بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس پر ہمارا ایمان ہونا ضروری ہے۔کہ امام عالی مقام حق پر تھے ۔ نا صرف جنتی بلکہ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ یہ احادیث سے ثابت ہے ۔ تاریخ سے نہیں۔ فراخ فیصل آباد |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فراخ کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), فیصل ناصر (22-12-09), قاسمی (23-10-11), موجو (24-12-09), مرزا عامر (18-07-10), حیدر Rehan (01-02-10), طارق راحیل (25-09-10) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام فرخ بھائی
سب سے پہلے معتدل اندز تخاطب مجھے پسند آیا، اس پر شکریہ اور مبارکباد یہی مناسب طریقہ اور رویہ ہے کہ اپنی بات سنانے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات سننے کا بھی حوصلہ ہو اور پھر پاک نیٹ آمد پر خوش آمدید ہمیں خوشی ہے کہ آپ نے جوائن کیا تعارف والے سیکشن میں ذرا تعارف کروائیں تفصیلی تا کہ آپ کو آڑے ہاتھوں لے سکیں یعنی کہ گرم جوشی سے استقبال کر سکیں۔ شکریہ آپ کا بھائی راجہ اکرام |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), shafresha (22-12-09), فیصل ناصر (22-12-09), قاسمی (23-10-11), نورالدین (26-03-10), مرزا عامر (18-07-10), احمدنواز (19-07-10), عبداللہ حیدر (22-12-09) |
|
|
#11 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
وطلب منهم الحسين إحدى ثلاث: إما أن يدعوه يرجع من حيث جاء، وإما أن يذهب إلى ثغر من الثغور فيقاتل فيه، أو يتركوه حتى يذهب إلى يزيد بن معاوية فيضع يده في يده. "اور حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے تین باتیں رکھیں: وہ لوگ انہیں چھوڑ دیں کہ وہ جہاں (یعنی مکہ)سے آئے ہیں وہیں لوٹ جائیں۔ یا انہیں جہاد کے لیے کسی محاذ پر جانے دیا جائے، یا پھر انہیںیزید بن معاویہ کے پاس جانے دیا جائے تا کہ وہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں" |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), قاسمی (23-10-11), نورالدین (26-03-10), محمد عاصم (13-10-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (13-06-10), ابن آدم (10-02-11), احمدنواز (19-07-10), راجہ اکرام (22-12-09) |
|
|
#12 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 27
کمائي: 462
شکریہ: 0
12 مراسلہ میں 30 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ حیدر صاحب آپ نے بالکل درست فرمایا حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے آخر وقت اپنے عمل سے رجوع فرما لیا تھا اور یہ بات بالکل قطعی ہے (تاریخی حوالوں سے) کہ انہوں نے اپنے ابن عم یزید کے پاس دمشق جانے کا قصد فرما لیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے ساتھ موجود کم و بیش ساٹھ کوفی، جو ان کے ساتھ مکہ المکرمہ سے آئے تھے، گھبرا گئے کہ اب تو وہ پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے اپنے خطوط کا مطالبہ کیا جو رد کر دیا گیا۔ آخر ان کوفیوں نے ثبوت مٹانے کے لیے خیموں میں آگ لگا دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نیا آدمی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), قاسمی (23-10-11), محمد عاصم (13-10-10), مرزا عامر (18-07-10), احمدنواز (19-07-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
کمائي: 5,044
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 488 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یزید پر کچھ معلومات یہاں سے بھی دستیاب ہوسکتی ہیں
Last edited by فیصل ناصر; 11-02-11 at 11:48 PM. وجہ: link not allowed |
|
|
|
| ابن جمال کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (13-12-11) |
![]() |
| Tags |
| color, کتابوں, کربلا, گذارش, پاک, پسند, واقعہ حرہ, نماز, مکہ, مکمل, اللہ, انتظامیہ, امیر, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, بھائی, جواب, حدیث, حدیث نبوی, صلاحیت, صحابہ, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| امریکی خون ریزیاں | ALI-OAD | اپکے کالم | 11 | 26-09-10 01:06 PM |
| یزید بن عبدالملک | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 08:09 AM |
| ولید ثانی بن یزید | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 08:06 AM |
| یزید ثالث بن ولید | طارق راحیل | سیاست | 0 | 03-01-09 08:05 AM |