| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
مقبول
|
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے S_S_G_Commando کا شکریہ ادا کیا | Ferozi (08-09-10), shafresha (08-05-09), فرحان دانش (10-05-09), کنعان (14-07-10), مباح (08-05-09), مرزا عامر (14-07-10), ziamurtaza (17-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), اویسی (15-07-10), احمد بلال (18-07-10), بلال اویسی (14-07-10), حسنین ایوب (15-07-10), خرم شہزاد خرم (13-02-08), طارق راحیل (11-05-09) |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Away
مراسلات: 8
کمائي: 250
شکریہ: 0
5 مراسلہ میں 17 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائ کمانڈو ---
شکریہ شیرنگ کا -- کیا جناب اعلی حضرت قادری تھے؟ مطلب حضرت عبدالقادر جیلانی کے سلسلے کے تھے؟ |
|
|
|
|
#4 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 20
کمائي: 700
شکریہ: 6
14 مراسلہ میں 34 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چند سو صفحات پر مشتمل ایک جلد میں موجود 31 رسائل کو بریلوی حضرات نے اپنے اعلٰی حضرت کی31 تصنیفات ظاہر کیا ہے۔
یہ کہہ دینا کہ فلاں شخص نے ایک ہزار ' دوہزار یا اس سے بھی زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں ' سہل ہے ۔۔۔مگر اسے ثابت کرنا آسان نہیں ۔ بریلوی حضرات بھی اسی مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں۔ خود اعلٰی حضرت فرمارہے ہیں کہ ان کی کتابوں کی تعداد 200 کے قریب ہے۔ ان کے ایک صاحبزادے کہہ رہے ہیں کہ 400 کے لگ بھگ ہیں۔ ان کے ایک خلیفہ ظفر الدین بہاری رضوی جب ان تصنیفات کو شمار کرنے بیٹھے' تو350 رسالوں سے زیادہ نہ گنواسکے۔ مفتی برہان الحق قادری کہتے ہیں : "اعلٰی حضرت کے مجدد ہونے کی شہادت آپ کا مجموعہ فتاوی ہے' جو بڑی تقطیع کی بارہ جلدوں میں ہے اور ہر جلد میں ایک ہزار صفحات سے زائد ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان فتاوی کی علمی وقعت کیا ہے' ہم ان کی کذب بیانی کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ اولاً' یہ کہنا کہ اس کی بارہ جلدیں ہیں' سراسر غلط ہے ۔ اس کی صرف آٹھ جلدیں ہیں ۔ ثانیاً' بڑی تقطیع کی صرف ایک جلد ہے۔ تمام جلدوں کے متعلق کہنا کہ وہ بڑی تقطیع کی ہیں' یہ بھی واضح جھوٹ ہے۔ ثالثاً ' ان میں سے کوئی بھی ایک ہزار صفحات پر مشتمل نہیں ہے ۔ بڑی تقطیع والی جلد کے کل صفحات 264 ہیں ' باقی جلدوں کے صفحات پانچ چھ سو صفحات سے زیادہ نہیں۔ بہرحال ایک ہزار صفحات کسی جلد کے بھی نہیں ہیں۔ ہم نے تصنیفات کے موضوع کو اس قدر تفصیل سے اس لیے ذکر کیا ہے ' تاکہ معلوم ہوسکے کہ بریلوی حضرات جناب احمد رضا خاں صاذحب بریلوی کی تعریف و توصیف میں کس قدر مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فتاویٰ نویسی میں جناب احمد رضا اکیلے نہ تھے' بلکہ ان کے متعدد معاونین بھی تھے ۔ ان کے پاس استفتاء کی شکل میں سوال آتے تو وہ ان کا جواب اپنے معاونین کے ذمے لگادیتے۔ جناب بریلوی اپنے معاونین کو دوسرے شہروں میں بھی بھیجتے ۔ ظفر الدین بہاری نے اپنے اعلٰی حضرت کا ایک خط بھی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے' جو اس موضوع کو سمجھنے میں کافی ممد ومعاون ثابت ہوسکتا ہے ۔ جناب احمد رضا صاحب اپنے کسی ایک معاصر کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں: "تفسیر روح المعانی کون سی کتاب ہے' اور یہ آلوسی بغدادی کون ہیں؟ اگر ان کے حالات زندگی آپ کے پاس ہوں تو مجھے ارسال کریں ۔ نیز مجھے "المدارک" کی بعض عبارتیں بھی درکار ہیں! کسی اور مسئلے کا ذکر کر کے ایک اور خط میں لکھتے ہیں: "مجھے درج ذیل کتب کی فلاں مسئلے کے متعلق پوری عبارتیں درکار ہیں۔ اگر آپ کے پاس ہوں تو بہت بہتر' ورنہ پٹنہ جاکر ان کتابوں سے عبارتیں نقل کرکے ارسال کردیں۔ کتب درج ذیل ہیں: فتاوی تاتار خانیہ ۔ زاد المعاد ۔ عقد الفرید ۔ نزہۃ المجالس ۔ تاج العروس ۔ قاموس ۔ خالق زمخشری ۔ مغرب مطرزی ۔ نہایہ ابن الاثیر ۔ مجمع البحار ۔ فتح الباری ۔ عمدۃ القاری ۔ ارشاد الساری ۔ شرح مسلم نوی ۔ شرح شمائل ترمذی ۔ السراج المنیر ۔ شرح جامع الصغیر ۔ بہرحال گزشتہ تمام نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب احمد رضا تنہا فتوی نویسی نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ ان کے بہت سے معاونین بھی تھے' جو مخلتف سوالات کا جواب دیتے ۔ اور ان کے اعلٰی حضرت انہیں اپنی طرف منسوب کرلیتے ایک اور صاحب نے 548 تک تصنیفات شمار کیں۔ اب ذرا یہ لطیفہ بھی سن لیجئے کہ انہوں نے کس طرح یہ تعداد پوری کی ہے۔ انوار رضا میں ان کی جو تصانیف شمار کی ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہاں ذکر کی جاتی ہیں' تاکہ قارئین پر کثرت تصانیف کے دعوے کا سربستہ راز منکشف ہوسکے۔ حاشیہ صحیح بخاری ۔ حاشیہ صحیح مسلم ۔ حاشیہ النسائی ۔ حاشیہ ابن ماجہ ۔ حاشیہ التقریب ۔ حاشیہ مسند امام اعظم ۔ حاشیہ مسند احمد ۔ حاشیہ الطحاوی ۔ حاشیہ خصائص کبری ۔ حاشیہ کنز العمال ۔ حاشیہ کتاب الاسماء والصفات ۔ حاشیہ الاصابہ ۔ حاشیہ موضوعات کبیر ۔ حاشیہ شمس بازعہ ۔ حاشیہ عمدۃ القاری ۔ حاشیہ فتح الباری ۔ حاشیہ نصب الرایہ ۔ حاشیہ فیض القدیر ۔ حاشیہ اشعۃ اللمعات ۔ حاشیہ مجمع بحار الانوار ۔ حاشیہ تہذیب التہذیب ۔ حاشیہ مسامرہ ومسابرہ ۔ حاشیہ تحفۃ الاخوان ۔ حاشیہ مفتاح السعادۃ ۔ حاشیہ کشف الغمہ ۔ حاشیہ میزان الشریعۃ ۔ حاشیہ الہدایہ ۔ حاشیہ بحرالرائق ۔ حاشیہ منیۃ المصلی ۔ حاشیہ رسائل شامی ۔ حاشیہ الطحطاوی ۔ حاشیہ فتاوی خانیہ ۔ حاشیہ فتاوی خیراتیہ ۔ حاشیہ فتاوی عزیزیہ ۔ حاشیہ شرح شفا ۔ حاشیہ کشف الظنون ۔ حاشیہ تاج العروس ۔ حاشیہ الدر المکنون ۔ حاشیہ اصول الہندسہ ۔ حاشیہ سنن الترمذی ۔ حاشیہ تیسیر شرح جامع الصغیر ۔ حاشیہ کتاب الاثار ۔ حاشیہ سنن دارمی ۔ حاشیہ ترغیب والترہیب ۔ حاشیہ نیل الاوطار ۔ حاشیہ تذکرۃ الحفاظ ۔ حاشیہ ارشاد الساری ۔ حاشیہ مرعاۃ المفاتیح ۔ حاشیہ میزان الاعتدال ۔ حاشیہ العلل المتناہیہ ۔ حاشیہ فقہ اکبر ۔ حاشیہ کتاب الخراج ۔ حاشیہ بدائع الصنائع ۔ حاشیہ کتاب الانوار ۔ حاشیہ فتاوی عالمگیری ۔ حاشیہ فتاوی بزازیہ ۔ حاشیہ شرح زرقانی ۔ حاشیہ میزان الافکار ۔ حاشیہ شرح چغمینی ۔ یعنی وہ تمام کتب جو احمد رضا صاحب کے پاس تھیں اور ان کے زیر مطالعہ رہتیں' اور انہوں نے ان کتب کے چند صفحات پر تعلیقاً کچھ تحریر کیا' ان کتابوں کو بھی اعلٰی حضرت صاحب کی تصنیفات شمار کیا گیا ہے۔ اس طرح تو کسی شخص کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس کی تصنیفات ہزاروں ہیں ۔ میری لائبریری میں پندرہ ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ فرق سے متعلقہ ہزاروں کتب میرے زیر مطالعہ رہ چکی ہیں۔ خود البریلویہ کی تصنیف کے لیے میں نے 300 سے زائد کتب و رسائل کا مطالعہ کیا ہے۔ اور تقریباً ہر کتاب کے حاشیہ پر تعلیقات بھی لکھی ہیں۔ اس حساب سے میری تصنیفات ہزاروں سے متجاوز ہوجاتی ہیں۔ اگر معاملہ یہی ہو تو اس میں فخر کی بات کون سی ہے؟ آخر میں پھر ہم اس سلسلے میں بریلوی حضرات کے متضاد اقوال کو دہراتے ہیں ۔ خود احمد رضا صاحب فرماتے ہیں کہ ان کی کتب کی تعداد 200 ہے . ان کے ایک خلیفہ کا ارشاد ہے 350 ہے ۔ بیٹے کا قول 400 ہے۔ انوار رضا کے مصنف کہتے ہیں 548 ہے . بہاری صاحب کا کہنا ہے 600 ہے. ایک صاحب کا فرمان ہے کہ ایک ہزار ہے۔ اعلٰی حضرت کی تمام وہ کتب و رسائل جو آج تک چھپی ہیں' ان کی تعداد 125 سے زائد نہیں۔ اور یہ وہی ہیں جن کے مجموعے کا نام فتاویٰ رضویہ ہے ۔ |
|
|
| 8 قاری/قارئین نے خان پلس کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-10-09), نورالدین (14-07-10), محمد عاصم (14-07-10), محمدمبشرعلی (18-07-10), مرزا عامر (14-07-10), احمد بلال (18-07-10), حسن قادری (18-06-11), عبداللہ آدم (15-07-10) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
خان پلس آپ کی تحریر سے کچھ آشنائی سی محسوس ہو رہی ہے اگر میں غلط ہوں تو تصیح کیجیئے گا۔
آپ کے PM کا منتظر۔ |
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم برادر! آپ جس بزرگ ہستی کا تزکرہ اس طرح کر رہے ہیں وہ ایک ولی اللہ تھے اللہ کے دین کی خدمت کرنے والی کسی بھی ہستی کا نام لیں تو ادب ملعوظ رکھیں کیونکہ جو کام انہوں نے کیا انہوں نے سرانجام دیا وہ شاید ہم سو سال میں بھی نہ کر سکیں یہ ادب صرف اعلٰی حضرت رحمت اللہ علیہ کا نہیں بلکہ ہر اس عالمِ دین کا کرنا چاہیے جو دین اسلام کی خدمت میں دن رات مشغول ہیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں بزرگوں کا احترام کرنے کی توفیق ططا فرمائے۔ آمین
والسلام |
|
|
| 9 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-05-09), S_S_G_Commando (25-09-09), کنعان (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), ziamurtaza (17-07-10), اویسی (15-07-10), احمد بلال (18-07-10), بلال الراعی (19-07-10), حسنین ایوب (15-07-10) |
|
|
#7 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 20
کمائي: 700
شکریہ: 6
14 مراسلہ میں 34 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے خان پلس کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
مجھے حیرت ہے کے آپ اب تک مجھے مرد یا خاتون سمجھنے کے مظالطے میںگرفتار ہیں! اگر یہ تحریر جناب "احسان الٰہی ظہیر مرحوم" کی ہے تو آپ نے اپنی پہلی تحریر میںاس بات کو حوالہ نہ دے کر ادبی بددیانتی کا ثبوت دیا، اگرچہ اب اس کی تلافی ہوگئی ہے۔ جناب "احمد رضا خان صاحب مرحوم" کا محض نام ہی لکھا اور جناب "احسان الٰہی ظہیر مرحوم" کے ساتھ علیہ الرحمہ کا اضافہ! اس بات سے آپ کی ذہنی وابستگی اور علمی حثیت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ اگر کتابوں کی ضخامت سے کسی شخصیت کی ادبی و علمی حثیت کی جانچ کی جاتی ہے تو حضرت امام مالک علیہ الرحمۃ کے بارے میںآپ کی کیا رائے ہے؟ جواب کا منتظر! |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,355
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) کے سربراہ خطیب ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا ہے کہ اعلیٰ حضرات امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلوی اسلام اور ملت اسلامیہ کے محسن اور چودہویں صدی ہجری میں مجدداعظم شمار ہوئے ہیں اور ان کی علمی فقہی عظمت کا اعتراف سمتوں میں اپنوں بیگانوں نے کیا ہے، اُنہوں نے ہرگز کوئی نئے عقائد وضع نہیں کیے نہ ہی وہ کسی نئے فرقے کے بانی ہیں بلکہ اُنہوں نے کتاب و سنت کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے اہل سنت و جماعت کی اس دور میں صحیح پاس بانی کی ہے جب کہ دین فروش اور ابن الوقت لوگ دین کو بدلنا چاہ رہے تھے، علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ بریلوی ہرگز کوئی فرق نہیں بلکہ اہل سنت کی صحیح پہچان کا عنوان ہے اور اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بریلوی وہ سنی ہیں جن کے عقائد کی ترجمانی اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان نے کی ہے، علامہ اوکاڑوی نے کہا کہ اعلیٰ حضرت بریلوی کی ایک ہزار سے زائد کتب اور ان کی تعلیمات و تحریرات موجود ہیں اور ان میں کتاب و سنت کے خلاف یا ان سے متضاد کوئی بات پیش نہیں کی جا سکی ہے بلکہ ان کے مخالفین نے بھی انہیں سچا عاشق رسول اور عالم حق تسلیم کیا ہے
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk |
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,742
کمائي: 39,355
شکریہ: 2,618
1,610 مراسلہ میں 3,703 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اعلیٰ حضرت احمدرضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ
از: پروفیسر ڈاکٹر خلیل الرحمن ڈائریکٹر، شیخ زئید اسلامک سینٹر، جامعہ کراچی (یہ مقالہ امام احمد رضا کانفرنس ٢٠٠٧ء میں پڑھا گیا) انسانی تاریخ میں نہ جانے عروج وزوال اور ادبار واقبال کے کتنے دور آئے اور ہر بارایک نئی تاریخ مرتب ہوئی چونکہ خلاقِ عالم کو بقاء وسلامتی منظور تھی اس لئے اسے ہر موڑ پر محفوظ رکھااور اس کی نسل کو جلا بخشتا رہاکیونکہ یہ قدرت کی صناعی کامظہراتم ہے۔ اولادآدم علیہ السلام میں جلیل القدر انبیاء بھی ہوئے اور اولیاء وعلماء اور صلحا بھی، اور جب زمین کی وسعتوں میں نسل آدم پھیلی اور کائنات کی پہنائیوں پر اولاد کاقبضہ وتسلط ہوا توانہوں نے شروفساد بھی کیا اور جنگ وجدال بھی ، جو انسانی تاریخ کا ایک عظیم اور المناک باب ہے۔ انسانی فتنوں کے سمندر میں ہزاروں مرتبہ طغیانی آئی اور اس موج بلا کا شکار اگرچہ زیادہ ترمحکوم ہی ہوتارہا مگر کبھی ایسا بھی ہوا کہ حاکم بھی اس کی زدسے محفوظ نہ رہ سکاکہ بسا اوقات حاکم، محکوم ہوگیا پھر جواس پر حاکم ہوا اس کی گرفت سے وہ محفوظ ومامون نہ رہا۔ اس حیرت انگیز اور عبرت آموز تاریخ کے پردوں پرانبیاء وصلحاء کاوجود بھی مسلّم رہاجو انسان کی تربیت واصلاح کاکاانجام دیتے رہے اور ان نفوس قدسیہ کے وجود وبرکت سے صالح اور نیک معاشرہ تشکیل پاتارہا (صالح معاشرہ اسی کو کہاجاتا ہے جس میں انسان کی معاشرتی زندگی کے لئے ہر وہ چیز موجودو فراہم ہو جس کی ایک صالح سیرت انسان کو ضرورت ہے) پیغمبر ان عظام اور صلحاء عالم کے ذریعہ سے رب کائنات کے انوار وبرکات کا ظہور ہوتا رہا اور گم گشتگان راہ کوہدایت ورحمت کی منزلیں ملتی رہیں۔حق کے سب سے بڑے اور اولعزم داعی سید الانس والجان نبیِّ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر باب نبوت تو بندہوگیا کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ رحمت انسانی وجود کی صلاح وفلاح کا زمانہ تھا اور حضور کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد کسی دوسری نبی کے آنے کی توقع تو نہ رہی کیونکہ وہ خاتم النبیین ہیں، مگرانوار ربانی کاظہور وقوع ہوناہے اس لئے قرناً بعد قرنٍ نسلاً بعد نسلٍ علمائے امت کے ہاتھوں ان کا اظہار ودر ود ہوتارہا، اسی طرح اسلام کے فروغ واستحکام پرصدیاں گزرگئیں پھر ایک پر فتن دور ایسا آیا جس میںنئے نئے فتنے پیدا ہوئے لوگ مختلف فرقوں میںبٹ گئے اور ہر فرقہ دوسرے فرقہ پرسبقت وبرتری حاصل کرنے کی سعی وکوشش میں لگارہاجس سے اسلام کا شیرازہ منتشر ہونے لگا اور ہرباطل فرقہ نے اپنے باطل عقائد ونظریات کی ترویج واشاعت میں طرح طرح کے مخترعہ اصول ومبادی ایجاد کئے جوسراسر دین وشریعت کے خلاف تھے۔ ایسے وقت میں اہلِ حق کی سر بلندی اور اسلام وسنت کی حفاظت وصیانت کے لئے خالق عالم جل وعلانے نے مجدّدِ ملت اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمدرضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو ١٢٧٢ھ مطابق ١٨٥٦ء میں شہربریلی میں پیدافرمایا۔ صحیح حدیث میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاان اللہ بیعث لھذہ الامۃ علی راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۔ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے اختتام پر اس امت کے لئے ایک مجدد ضرور پیدا فرمائے گا جو امت کے لئے اس کا دین تازہ کرے گا۔ (ابوداؤد) یعنی اسلامی اصطلاح میں مجدّد اسے کہتے ہیں جوامت کو بھولے ہوئے احکام شرعیہ یاد دلائے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کوزندہ فرمادے، فقہ وکلام وغیرہ کے الجھے ہوئے مسائل کوسلجھادے، اپنی علمی سطوت وحشمت کے ذریعہ سے اعلاء کلمۃ اللہ فرما کر باطل اور اہل ہوا کی جھوٹی شوکت کو مٹادے۔ جب ہم چودہویں صدی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں مجدد ملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ نظرآتے ہیں جو چودہویں شب کے بدر اور آفتاب نیمروز کی طرح اپنی شان مجددیت میں تاباں ودرخشاں ہیں۔ فضل وکمال میں بلند مرتبہ اور علوم وفنون میں نابغہ روزگار جس کے سامنے عرب وعجم اور حل وحرم کے عظیم المرتبت فضلاء اور جلیل القدر علماء نے سرنیاز خم کئے، جس کے علمی دبدبے کے سامنے یورپ وایشیا کے فلاسفہ مرعوب وطفل مکتب نظر آتے ہیں۔ آپ شریعت وطریقتِ محمدیہ کا احیاء کرتے ہوئے 25صفر 1340ھ مطابق 28اکتوبر 1921ء بروز جمعۃ المبارک اس دار فانی سے رحلت فرما کر دار البقاء کو پہنچے۔ انّا للہ وانا لیہ راجعون۔ آپ کم وبیش 55علوم وفنون پر مہارت رکھتے تھے۔ جن میں علوم القرآن، الحدیث النبوی الشریف، اصول الحدیث ، اصول الفقہ، اصول القراء ۃ والتجوید، التصوف، العقیدۃ ، الکلام، النحو، الصرف ،المنطق، الفسلفۃ، الاقتصاد، السیاستہ، الطب والکیمیاوالطبیعۃ، الجغرافیا، الحساب ، الھندستہ، الھیئۃ والجفر، اسماء الرجال، السیر والتاریخ والادب قابلِ ستائش ہیں۔ کنزالایمان: انہی حالات کے پیشِ نظر امام احمدرضا کو قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ قرآن کریم کے کچھ ایسے ترجمے شائع ہوئے تھے جن سے ایمان واسلام اور شرعی معتقدات پرکاری ضرب پڑرہی تھی کہ اردو ادب کے جدید معماروں نے قرآن کے عربی کلمات کو اردو میں ضرورتبدیل کردیا تھالیکن اس تبدیل کو کلام الٰہی کا ترجمہ ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ عربی جملے کو اردو کے قالب میں ڈھال لینا الگ بات ہے اور قرآن حکیم کی ترجمانی کرنا اور بات ہے۔ ایک انسان اپنی صلاحیت و استعداد اور دماغی کوششوں سے معیاری مصنف وقابل افتخار ادیب توبن سکتاہے۔ اپنی ذاتی قابلیت ومطالعہ کے زور سے اردو، عربی، فارسی، انگریزی وغیرہ مختلف زبانوں کا ماہر تو ہوسکتا ہے، اپنے ذہن ثاقب کی ذکا وت وتیزی سے نحووصرف، معانی وبیان، تاریخ وفلسفہ وغیرہ کا محقق ہوسکتاہے لیکن قرآن حکیم کا مترجم بننا تو یہ اس کے اپنے بس کی بات نہیں، قرآن مجید کی ترجمانی کرنا، کلام الٰہی کے اصل منشاء و مراد کو سمجھنا، آیات ربانی کے انداز کو پہچاننا، آیات محکمات ومتشابہات میں امتیاز کرنا یہ صرف اس عالم دین کا کام ہے جس کا دماغ انوار ربانی سے روشن جس کا قلب وسینہ عشق مصطفی کامدینہ اور جس کا ذہن بصیرت دینیہ کا حامل ہو۔ امام احمدرضا فاضل بریلوی کے مختلف علوم وفنون میں مہارت و دسترس، زور استدلال، اسلوب تحقیق، ذکاوت و تیزی اور ان کی تصنیفات میں دلائل وبراہین کے انبار دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ انہیں کسبی علوم وفنون کے ساتھ وہبی علم بھی حاصل تھا جس پر علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سرضیاء الدین کا واقعہ اور ان کا تاثر شاہد وناطق ہے۔ امام احمدرضا کی تقریروں ، تحریروں اور تمام تصنیفات کا خلاصہ تین باتیں ہیں۔ ١۔ دنیابھر کی ہر ایک لائق محبت ومستحق تعظیم چیز سے زیادہ اللہ ورسول کی محبت وتعظیم ٢۔ اللہ ورسول ہی کی رضا کے لئے اللہ ورسول کے دوستوں سے دوستی ومحبت ٣۔ اللہ ورسول ہی کی خوشی کے لئے اللہ ورسول کے دشمنوں سے نفرت وعداوت۔ (جل جلالہ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) مجد د ملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ جہاں بے پناہ گونا گوں خصوصیات کے حامل اور اوصاف متعددہ کے مالک ہیں وہاں ان کا ایک وصف ایسا ہے جو تمام اوصاف وکمالات کاجامع اور ممتاز ہے اور وہ ہے ”عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ”عشق رسول ہی کو انہوں نے سرمایہئ زندگی اور متاع آخرت سمجھا، عشق رسول ہی ان کا محور ومرکز تھا آپ ان کی تصنیفات کا مطالعہ کرتے جائیے تو آپ کو ان کے ورق ورق میں عشق مصطفی کے جلوے اور ان کی سطر سطر سے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتے پھوٹتے ہوئے نظر آئیں گے۔ خصوصاً ان کا نعتیہ دیوان۔ عشقِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں بے چین ومضطرب ہوتے تو اپنے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح ونعت میں نعتیہ اشعار کہہ کر سوزش عشق سے تسکین حاصل کرتے۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ”جب سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تڑپاتی ہے تو میں نعتیہ اشعار سے بے قرار دل کو تسکین دیتاہوں ورنہ شعر وسخن میرامذاق طبع نہیں”۔ انھوں نے ہزلیات اور لغویات سے بہت دور رہ کر فن کے بیشتر اصناف میں طبع آزمائی فرمائی۔ غزل، قصیدہ، مثنوی، مستزاد اور قطعات ورباعیت وغیرہ جس میدان کی طرف آگئے سکے بٹھادیئے۔ فن سخن میں ان کی خصوصیات وکمالات کا عالم یہ ہے کہ فصاحت وبلاغت، حلاوت وملاحت، لطافت ونزاکت، تشبیہات واستعارات، حسن تعلیل، ندرت تخیل، جدت تمثیل، صنعت تلمیح وترصیع، صنعت تجنیس وتسجیع، زورقوافی، بیان تسلسل، تنوع مضامین، انتہائی جوش وجذبہ والہانہ عقیدت وارادت وغیرہ سب چیزیں ان کے کلام میں پائی جاتی ہیں۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ان کا نعتیہ دیوان”حدائق بخشش” ہے جو حمدونعت ، دعا والتجا، سلام ومنقبت، عشق ومحبت ، حقیقت و معرفت، معجزات وکرامات، شرح آیات واحادیث وغیرہ مضامین کا ایک ایسا بحر ذخارہے جس کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ کرنا اہلِ بصیرت ہی کا کام ہے۔ علم سے شغف کامل اورعلمی مطالعہ کی وسعت: امام احمدرضا بریلوی جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں دلائل وبراہین کے انبار لگا دیتے ہیں ، وہ کسی بھی مسئلے پر طائرانہ نظرڈالنے کی بجائے بحث وتحقیق کی انتہا کو پہنچتے ہیں، مسائل کی تنفیح اور تفصیل پر آتے ہیں تو دریا کی روانی اور سمندر کی وسعت کا نقشہ نظر آتاہے ، متقدمین فقہاء کے اقوال مختلفہ میں تطبیق دیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتاہے کہ اختلاف تھا ہی نہیں۔ علمِ طب: امام احمدرضا بریلوی وہ بالغ نظر مفتی ہیں جو احکام شرعیہ معلوم کرنے کے لیے تمام امکانی مآخذ کی طرف رجوع کرتے ہیں،ایک ماہر طبیب جب فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کرتاہے تو بیش بہاطبی معلومات دیکھ کر اسے حیرت ہوتی ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ وہ کسی مفتی کی تصنیف پڑھ رہا ہے یا ماہر طبیب کی۔ چنانچہ جناب حکیم محمد سعید دہلوی لکھتے ہیں: ”فاضل بریلوی کے فتاویٰ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ احکام کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لئے سائنس اور طب کے تمام وسائل سے کام لیتے ہیں اور اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہیں کہ کسی لفظ کی معنویت کی تحقیق کے لیے کن علمی مصادر کی طرف رجو ع کرنا چاہیے، اس لیے ان کے فتاویٰ میں بہت سے علوم کے نکات ملتے ہیں، مگر طب اور اس علم کے دیگر شعبے مثلاً کیمیا اور علم الا حجار کو تقدم حاصل ہے اور جس وسعت کے ساتھ اس علم کے حوالے ان کے ہاں ملتے ہیں اس سے ان کی دقّتِ نظر اور طبی بصیرت کا اندازہ ہوتاہے وہ اپنی تحریروں میں صرف ایک مفتی نہیں بلکہ محقق طبیب بھی معلوم ہوتے ہیں، ان کے تحقیقی اسلوب ومعیار سے دین وطب کے باہمی تعلق کی بھی بخوبی وضاحت ہوجاتی ہے۔” مرجع العلماء: یہ پہلو بھی لائق توجہ ہے کہ عام طور پر مفتیان کرام کی طرف عوام الناس رجوع کرتے ہیں اور احکام شرعیہ دریافت کرتے ہیں، فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ امام احمدرضا بریلوی کی طرف رجوع کرنے والوں میں بڑی تعداد اُن حضرات کی ہے جو بجائے خود مفتی تھے، مصنّف تھے، جج تھے یا وکیل تھے۔ امام احمدرضا بریلوی کی جلالت علمی کا یہ عالم تھا کہ انھیں جو عالم بھی ملا عقیدت واحترام سے ملا اور ہمیشہ کے لئے ان کا مداح بن گیا، حضرت علامہ مولانا وصی احمد محدث سورتی، عظیم محدّث او ر عمر میں بڑے ہونے کے باوجود امام احمدرضا بریلوی سے اس قدر والہانہ تعلق رکھتے تھے کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی تھی۔ حضرت علامہ مولانا سراج احمد خانپوری اپنے دور کے جلیل القدر فاضل تھے اور علمِ حدیث میں تو انھیں تخصّص حاصل تھا۔ الزبدۃ السراجیہ لکھتے وقت ذوی الارحام کی صنف رابع کے بارے میں مفتیٰ بہ قول دریافت کرنے کے لئے دیوبند، سہارنپور اور دیگر علمی مراکز کی طرف رجوع کیا، کہیں سے تسلی بخش جواب نہ آیا، پھر انہوں نے وہی سوال بریلی بھجوادیا، ایک ہفتے میں انھیں جواب موصول ہوگیا جسے دیکھ کر ان کا دماغ روشن ہوگیا اور تازیست امام احمدرضا بریلوی کے فضل وکمال اور تبحر علمی کے گُن گاتے رہے۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ امام احمدرضا بریلوی سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی ان کی فقاہت اور تبحر علمی کے قائل ہیں۔ کون نہیں جانتاکہ امام احمدرضا بریلوی نے ندوۃ العلماء کی صلح کلیت کا سخت تعاقب اور رد کیا تھا، اس کے باوجود ندوہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں: ”ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر آگاہی میں شاید ہی کوئی ان کا ہم پلّہ ہو، اس حقیقت پر ان کا فتاویٰ اور ان کی کتاب کفل الفقیہ شاہد ہے جو انہوں نے ١٣٢٣ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی۔” مولانا کو ثر نیازی ہندوستان گئے تو ندوۃ العلماء لکھنؤ بھی گئے، واپسی پر انھوں نے اپنے تاثرات میں ندوہ کے بارے میں لکھا کہ اس کے ہال میں ہندوستان کے ممتاز علماء کا امتیازی مقام واضح کرنے کے لیے چارٹس آویزاں کئے گئے تھے، چنانچہ علمِ فقہ میں ممتاز شخصیت کی حیثیت سے حضرت مولانا احمدرضا خان کا نام لکھا ہواتھا۔ تذکرہ وتاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کئے بغیر یہ حقیقت آفتاب سے زیادہ روشن ہے کہ اس دورمیں بڑے بڑے فقہاء ہوگزرے ہیں ان سب میں ممتاز فقیہ کے طور پر امام احمدرضا بریلوی کا نام منتخب کرنا اور وہ بھی ان کے مخالفین کی طرف سے ، ان کے فضل و کمال کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اَلْفَضْلُ مَاشَھِدَتْ بِہِ الْاَ عْدَآءُ (فضیلت وہ ہے جس کی گواہی مخالفین بھی دیں) عربی دیوان: دنیا کی مختلف جامعات میں اعلیٰ حضرت کی علمی ، ادبی اور دینی خدمات پر بے شمار مقالات ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ۔ڈی کی سطح پر رقم کئے گئے، عربی اشعار کی تجمیع وتدوین کے لئے جامعۃ الازھر کے فاضل استاد حازم محمد احمدعبدالرحیم المحفوظ پاکستان تشریف لائے اور آپ نے یہاں قیام پذیر ہوکر نہایت محنت شاقہ سے اور استاد محترم جناب محمد عبدالحکیم شرف القادری اور دیگر علماء ومشائخ کے تعاون سے قبلہ حضرت صاحب کے عربی اشعار کو مجتمع کر کے کم وبیش سات سو پچانوے ابیات پر مشتمل ”بساتین الغفران” کے نام سے دیوان مرتب کیا۔ یہ دیوان پہلی بار بین الاقوامی رضا اکیڈمی، لاہور اور ادارہئ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی کے اشتراک سے 1997ء میں شائع کیا گیا۔ آپ کے اس دیوان کا مطالعہ کرنے سے آپ کی عربی زبان و ادب پر گرفت اور وسیع مطالعہ کے ساتھ ساتھ آپ کے ایک ”طبّاع شاعر” ہونے کاپتہ چلتاہے۔ آپ بلا شک وشبہ عربی شاعری کے اسلوب، ردیف وقوافی اور علمِ عروض کے ماہر اور کہنہ مشق شاعر کی حیثیت سے اپنا امتیازی مقام متعین فرماتے ہیں۔ ھکذایعترف فضلہ الد کتور ابراھیم محمد ابراھیم، رئیس قسم اللغۃ الأ ردیۃ وآدابھا کلیۃ الدراسات الانسانیۃ بجامعۃ الأزھر الشریف حیث یقول عنہ : فان شعرہ یؤ ھلہ لأن یکون فی طلیعۃ صفوف شعراء العربیۃ فی شبہ القارۃ۔ لم یقف الأ مرالی ھذا الحدّبل کتب عنہ جامع دیوانہ الشیخ حازم مقالاًآ خر تحت عنوان: شیخ مشائخ التصوف الاسلامی وأعظم شعراء المدیح النبوی فی العصر الحدیث وکذلک للد کتور رزق مرسی أبی العباس بحث أدبی عنوانہ: ”الامام احمد رضا خان مصباح ھندی بلسان عربی” ومن ذالک مقال الأ ستاذالد کتور القطب یوسف زید یتضمنہ ”الکتاب التذکاری” تحدّث فیہ بالتفصیل عن رسالۃ تخصص الما جستیر للأستاذ ممتاز احمد السدیدی التی عنوانھا”الشیخ احمد رضا خان البریلوی الھندی شاعراً عربیاً” اردو دیوان: حدائق بخشش۔تحقیق پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد ۔ انگریزی ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر غیاث الدین، برمنگھم، برطانیہ۔ Montly Islamic Times فارسی دیوان: ارمغان رضا۔ تحقیق وتدوین پروفیسر محمد مسعود احمد۔ 154اشعار المختار پبلی کیشنز۔ کراچی 1994ء ۔ |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا | S_S_G_Commando (25-09-09), کنعان (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (14-07-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
شخصیت پرستی !!!!
کبھی در پردہ، کبھی کھلم کھلا ، کبھی اقتباسی اور کبھی مشرکانہ، ہر بار دھوکا دینے کا انداز ہے جداگانہ۔ |
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | sahj (04-10-09), فیصل ناصر (11-05-09), نورالدین (15-07-10), مرزا عامر (14-07-10), عبداللہ آدم (15-07-10), عبداللہ حیدر (19-05-09) |
|
|
#13 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2009
مراسلات: 3
کمائي: 210
شکریہ: 0
3 مراسلہ میں 15 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کے متعلق پڑھ کر میںیہ فورم جوائن کرنے اور یہاں پوسٹ کئے بغیر رہ نہ سکا۔
اس وقت اسلام کو پھر اعلیٰحضرت جیسے مجدد کی ضرورت ہے کیوں کہ آج پھر فتنوں کے طوفان اسی طرح اٹھ رہے ہیں جیسے اعلیٰ حضرت کے زمانے میں اٹھے تھے۔ |
|
|
| 9 قاری/قارئین نے Last Word کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-10-09), S_S_G_Commando (25-09-09), فرحان دانش (14-07-10), کنعان (14-07-10), مباح (06-09-09), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (14-07-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلو
امت احمد مرسل کو مقامی کرلو
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
السّلام علیکم برادران میری طرف سے سبکو عید مبارک!
برادر فاروق سرور کوشش کیجیےکہ آپ اپنی بات ڈھکے چھُپے لفظوں میں نہیں بلکہ صاف صاف کیجیے تا کہ سمجھنے والوں کو آسانی ہو جواب دینے میں امید کرتاہوں کہ میرے کہنےکا مطلب آپ سمجھ گئے ہوں گے! والسّلام مباح |
|
|
![]() |
| Tags |
| com, پہچان, پاکستان, قرآن حکیم, لوگ, چین, مکہ, مجید, معاشرہ, اللہ, اردو, اسلام, اعلیٰ, جمعۃ المبارک, حدیث, حضرات, خلاف, خان, دریافت, دعا, سائنس, شاعری, عشق, صحیح, صدی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|