| تاریخ و عبر تاریخ و عبر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 191
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (21-02-10), عبداللہ حیدر (20-02-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اُن کے بیٹے محمد بن الحنفیہ نے پوچھا :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ابو بکر (رضی اللہ عنہ) پھر پوچھا : ان کے بعد کون ؟ انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : عمر (رضی اللہ عنہ) صحيح بخاري كتاب فضائل الصحابة باب : فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (21-02-10), عبداللہ حیدر (21-02-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,530
کمائي: 298,240
شکریہ: 36,136
13,831 مراسلہ میں 40,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ sahj بھائی ۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا أبي قال، سمعت يعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه عاصب رأسه بخرقة، فقعد على المنبر، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال " إنه ليس من الناس أحد أمن على في نفسه وماله من أبي بكر بن أبي قحافة، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن خلة الإسلام أفضل، سدوا عني كل خوخة في هذا المسجد غير خوخة أبي بكر ".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے میرے باپ جریر بن حازم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا میں نے یعلی بن حکیم سے سنا ، وہ عکرمہ سے نقل کرتے تھے ، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے بیان کیا کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے ۔ سر سے پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا ، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ( بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں جانی دوست بناتا تو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے ۔ دیکھو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ ( نماز کے احکام و مسائل ) باب : مسجد میں کھڑکی اور راستہ بنانا |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، قال حدثنا أبو النضر، عن عبيد بن حنين، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري، قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال " إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده، فاختار ما عند الله ". فبكى أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ فقلت في نفسي ما يبكي هذا الشيخ إن يكن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عند الله، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو العبد، وكان أبو بكر أعلمنا. قال " يا أبا بكر لا تبك، إن أمن الناس على في صحبته وماله أبو بكر، ولو كنت متخذا خليلا من أمتي لاتخذت أبا بكر، ولكن أخوة الإسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب إلا سد إلا باب أبي بكر ".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ، کہا ہم سے ابونضر سالم بن ابی امیہ نے عبید بن حنین کے واسطہ سے ، انھوں نے بسر بن سعید سے ، انھوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا ( کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے ) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت ۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر خدا نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے ۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ ابوبکر آپ روئیے مت ۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن ( جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی ) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے ۔ مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا ليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني أنس، قال بينما المسلمون في صلاة الفجر لم يفجأهم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف ستر حجرة عائشة فنظر إليهم وهم صفوف، فتبسم يضحك، ونكص أبو بكر رضى الله عنه على عقبيه ليصل له الصف فظن أنه يريد الخروج، وهم المسلمون أن يفتتنوا في صلاتهم، فأشار إليهم أتموا صلاتكم، فأرخى الستر، وتوفي من آخر ذلك اليوم.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹایا ۔ آپ نے صحابہ کو دیکھا ۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے ۔ آپ ( خوشی سے ) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( آپ کو دیکھ کر ) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں ۔ آپ نے سمجھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ صحابہ ( آپ کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا ) نماز ہی چھوڑ دیں گے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور پردہ ڈال لیا ۔ اسی دن چاشت کو آپ نے وفات پائی ۔ صحیح بخاری صفۃ الصلوٰۃ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فرض, پاک, واقعات, قرآن, قصہ, قصد, لوگ, لوٹے, نماز, نظر, ممکن, مسجد, معلوم, آج, اکبر, ایمان, اسلام, حدیث, خدا, دعا, روزہ, زہری, غار, صحابہ, صدقہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|