واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > تاریخ و عبر



تاریخ و عبر تاریخ و عبر


ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 20-02-10, 11:23 PM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل

ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل

السلام علیکم

فضائل ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مختصر ترین آپ مسلمانوں کی خدمت میں پیش کرتا ھوں،



9:40
التوبہ

إِلاَّ تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُواْ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللّهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُواْ السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ


اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکررضی اللہ عنہ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے



المائدہ
5:6

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاء أَحَدٌ مَّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاء فَلَمْ تَجِدُواْ مَاء فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهَّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو(فتح محمد جالندھری)

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو(احمد علی)

(یہاں پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کی فضیلت سے تیمم کی اجازت ملنے کا بیات ھے(

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے ، جب بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے ( بیداء اور ذات الجیش خیبر اور مدینہ کے درمیان مقام کے نام ہیں ) تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈھنے کے لئے ٹھہر گئے ۔ لوگ بھی ٹھہر گئے ۔ وہاں پانی نہ تھا اور نہ لوگوں کے پاس پانی تھا ۔ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم دیکھتے نہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہرایا ہے اور لوگوں کو بھی ، جہاں پانی نہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے سو گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک رکھا ہے اور لوگوں کو جہاں نہ پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے اور انہوں نے غصہ کیا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہہ ڈالا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور پانی بالکل نہ تھا تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو سب نے تیمم کیا ۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے تھے ، نے کہا کہ اے ابوبکر کی اولاد ! یہ تمہاری کچھ پہلی برکت نہیں ہے ( یعنی تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو فائدہ دیا ہے ، یہ بھی ایک نعمت تمہارے سبب سے ملی ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھا یا جس پر میں سوار تھی ، تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا
صحیح مسلم
غسل کے مسائل
باب : تیمم کے بارہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے



سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ایک جوڑا خرچ کیا ( یعنی دو پیسے یا دو روپیہ یا دو اشرفی ) تو جنت میں اسے پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہاں آ تیرے لئے یہاں خیر و خوبی ہے ۔ پھر جو نماز کا عادی ہے وہ نماز کے دروازہ سے پکارا جائے گا ، اور جو جہاد کا عادی ہے وہ جہاد کے دروازہ سے پکارا جائے گا ، اور جو صدقہ کا عادی ہے وہ صدقہ کے دروازہ سے پکارا جائے گا اور جو روزہ کا عادی ہے وہ روزہ کے دروازہ سے پکارا جائے گا ۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کسی کے تمام دروازوں سے پکارے جانے کی ضرورت تو نہیں ہے ، پھر بھی کیا کوئی ایسا ہو گا جو سب دروازوں سے پکارا جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور میں ( اللہ کے فضل سے ) امید رکھتا ہوں کہ تم انہی میں سے ہو گے

صحیح مسلم
صدقہ فطر کا بیان
باب : جس نے صدقہ اور دیگر نیکی کے اعمال کو اکٹھا کر لیا




عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے واقعات بتائیے ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا کہ نہیں ، بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر ہیں ۔ ارشاد فرمایا کہ ہمارے لئے برتن میں پانی رکھو ۔ ہم نے پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا ، اس کے بعد چلنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غش آگیا ۔ اور جب افاقہ ہوا تو پھر پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بلکہ وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے لئے طشت ( تھال ) میں پانی رکھو ۔ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر آپ چلنے کے لئے تیار ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ غش آگیا ۔ اور پھر ہوش میں آنے کے بعد پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ سب لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ اور ادھر لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ سب نماز عشاء کے لئے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے مسجد میں منتظر تھے ۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا کہ آپ نماز پڑھائیں ۔ چنانچہ اس آدمی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نہایت نرم دل تھے ( وہ جلد رونے لگتے تھے ) اس لئے انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے عمر ! تم نماز پڑھا دو ۔ جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں ، آپ ہی امامت کے زیادہ مستحق ہیں اور آپ ہی کو نماز پڑھانے کے لئے حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کئی دن تک نماز پڑھائی ۔ اسی دوران ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ذرا ہلکی ہوئی تو آپ دو آدمیوں کا سہارا لے کر نماز ظہر کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے ۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تھے ( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے ) غرضیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اس وقت پہنچے جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بحیثیت امام نماز پڑھا رہے تھے ۔ انہوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اور اپنے ساتھ والوں سے کہا کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر میں بٹھا دو ۔ چنانچہ ان دونوں نے آپ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے برابر بٹھا دیا ۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بیٹھے نماز پڑھنے لگے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ویسے ہی کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں پیروی کرنے لگے گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مقتدی اور تمام صحابہ کرام حسب سابق اس فرض نماز ظہر میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی پیروی کر رہے تھے ۔ عبیداللہ بن عبداللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر کہا کہ میں آپ کو وہ حدیث سناتا ہوں جو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھے سنائی ہے اور ان کی طلب پہ میں نے پوری حدیث ان سے کہہ سنائی جسے سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ یہ پوری حدیث بالکل صحیح ہے ۔ پھر پوچھا کہ دوسرے شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کیا ان کا نام ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نہیں بتایا ؟ میں نے جواب دیا کہ جی نہیں تو انہوں نے کہا کہ دوسرے آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔

صحیح مسلم
المساجد
باب : نماز کے لئے امام کا اپنا جانشین مقرر کرنا اور اس کا لوگوں کو نماز پڑھانا
۔


سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) پردہ اٹھایا اور لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو ! اب نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں کچھ نہیں رہا ( کیونکہ مجھ پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ) مگر نیک خواب جس کو مسلمان دیکھے یا اسے دکھایا جائے اور تمہیں معلوم رہے کہ مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے رکوع میں تو اپنے رب کی بڑائی بیان کرو اور سجدہ کے اندر دعا میں کوشش کرو ، یہ زیادہ لائق اور ممکن ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو گی

صحیح مسلم
المساجد
باب : رکوع و سجود میں قرآت کرنے کی ممانعت
۔


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم میں سے کون شخص آج روزہ دار ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج جنازہ کے ساتھ کون گیا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون آج مریض کی عیادت کو گیا تھا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گیا تھا ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سب کام ایک شخص میں جب جمع ہوتے ہیں تو وہ ضرور جنت میں جاتا ہے

صحیح مسلم
صدقہ فطر کا بیان
باب : جس نے صدقہ اور دیگر نیکی کے اعمال کو اکٹھا کر لیا ۔



سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حج میں کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حجۃ الوداع سے پہلے امیر بنا کر بھیجا تھا ، مجھے اس جماعت میں روانہ کیا کہ جو نحر کے دن یہ پکارتے تھے کہ اس سال کے بعد اب کوئی مشرک حج کو نہ آئے اور نہ کوئی ننگا ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے ۔ ( جیسے ایام جاہلیت میں کرتے تھے ) ۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالرحمن کے بیٹے حمید بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث کے سبب سے یہ کہتے تھے کہ حج اکبر کا دن وہی نحر کا دن ہے

صحیح مسلم
حج کے مسائل
باب : حج اکبر کے دن کے متعلق
۔



سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی لڑائی میں نکلے ۔ جب ہم لوگ دشمنوں سے لڑے ، تو مسلمانوں کو ( شروع میں ) شکست ہوئی ( یعنی کچھ مسلمان بھاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں جمے رہے ) ۔ پھر میں نے ایک کافر کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر ( اس کے مارنے کو ) چڑھا تھا ۔ میں گھوم کر اس کی طرف آیا اور اس کے کندھے اور گردن کے بیچ میں ایک ضرب لگائی ۔ وہ میری طرف پلٹا اور مجھے ایسا دبایا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی ۔ اس کے بعد وہ خود مر گیا تب ہی مجھے چھوڑا ۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ( جو ایسے بھاگ نکلے ) ، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی کو مارا اور وہ گواہ رکھتا ہو تو اس ( مقتول ) کا سامان وہی لے ۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا گواہ کون ہے ؟ اس کے بعد میں بیٹھ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ایسا ہی فرمایا ، تو میں پھر کھڑا ہوا اور کہا کہ میرے لئے گواہی کون دے گا ؟ میں بیٹھ گیا ۔ پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ، تو میں پھر کھڑا ہوا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے ابوقتادہ ! تجھے کیا ہوا ہے ؟ میں نے سارا قصہ بیان کیا ، تو ایک شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابوقتادہ سچ کہتے ہیں اس شخص کا سامان میرے پاس ہے تو ان کو راضی کر دیجئے کہ اپنا حق مجھے دے دیں ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم ایسا کبھی نہیں ہو گا اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ارادہ نہ کریں گے کہ ) اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے ( اس کا ) اسباب تجھے دلائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں ( اس حدیث سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فتویٰ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فتوے کو سچ کہا ) تو وہ سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو دیدے ۔ پھر اس نے وہ سامان مجھے دیدیا ۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے ( اس سامان میں سے ) زرہ کو بیچا اور اس کے بدل بنوسلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا ۔ اور یہ پہلا مال ہے جس کو میں نے اسلام کی حالت میں کمایا

صحیح مسلم
سیر و سیاحت اور لشکر کشی
باب : کافر مقتول کا سامان ( حرب ) قاتل کو دینا چاہیئے
۔




دعاؤں کا طالب حسین

sahj
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-02-10), عبداللہ حیدر (20-02-10)
پرانا 20-02-10, 11:38 PM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اُن کے بیٹے محمد بن الحنفیہ نے پوچھا :
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟
حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : ابو بکر (رضی اللہ عنہ)
پھر پوچھا : ان کے بعد کون ؟
انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : عمر (رضی اللہ عنہ)

صحيح بخاري
كتاب فضائل الصحابة
باب : فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-02-10), عبداللہ حیدر (21-02-10)
پرانا 21-02-10, 03:35 AM   #3
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ sahj بھائی ۔
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-02-10, 07:25 AM   #4
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا أبي قال، سمعت يعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه عاصب رأسه بخرقة، فقعد على المنبر، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال ‏"‏ إنه ليس من الناس أحد أمن على في نفسه وماله من أبي بكر بن أبي قحافة، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن خلة الإسلام أفضل، سدوا عني كل خوخة في هذا المسجد غير خوخة أبي بكر ‏"‏‏.

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا مجھ سے میرے باپ جریر بن حازم نے بیان کیا ، انھوں نے کہا میں نے یعلی بن حکیم سے سنا ، وہ عکرمہ سے نقل کرتے تھے ، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے بیان کیا کہ
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے ۔ سر سے پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا ، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر(رضی اللہ عنہ( بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں جانی دوست بناتا تو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو بناتا ۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے ۔ دیکھو ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں

صحیح بخاری
کتاب الصلوٰۃ
( نماز کے احکام و مسائل )
باب : مسجد میں کھڑکی اور راستہ بنانا
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-02-10, 07:37 AM   #5
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدثنا محمد بن سنان، قال حدثنا فليح، قال حدثنا أبو النضر، عن عبيد بن حنين، عن بسر بن سعيد، عن أبي سعيد الخدري، قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ إن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده، فاختار ما عند الله ‏"‏‏.‏ فبكى أبو بكر ـ رضى الله عنه ـ فقلت في نفسي ما يبكي هذا الشيخ إن يكن الله خير عبدا بين الدنيا وبين ما عنده فاختار ما عند الله، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو العبد، وكان أبو بكر أعلمنا‏.‏ قال ‏"‏ يا أبا بكر لا تبك، إن أمن الناس على في صحبته وماله أبو بكر، ولو كنت متخذا خليلا من أمتي لاتخذت أبا بكر، ولكن أخوة الإسلام ومودته، لا يبقين في المسجد باب إلا سد إلا باب أبي بكر ‏"‏‏.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ، کہا ہم سے ابونضر سالم بن ابی امیہ نے عبید بن حنین کے واسطہ سے ، انھوں نے بسر بن سعید سے ، انھوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے بیان کیا کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو دنیا اور آخرت کے رہنے میں اختیار دیا ( کہ وہ جس کو چاہے اختیار کرے ) بندے نے وہ پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے یعنی آخرت ۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے ، میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر خدا نے اپنے کسی بندے کو دنیا اور آخرت میں سے کسی کو اختیار کرنے کو کہا اور اس بندے نے آخرت پسند کر لی تو اس میں ان بزرگ کے رونے کی کیا وجہ ہے ۔ لیکن یہ بات تھی کہ بندے سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ ابوبکر آپ روئیے مت ۔ اپنی صحبت اور اپنی دولت کے ذریعہ تمام لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے آپ ہی ہیں اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا ۔ لیکن ( جانی دوستی تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتی ) اس کے بدلہ میں اسلام کی برادری اور دوستی کافی ہے ۔ مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف کے دروازے کے سوا تمام دروازے بند کر دئیے جائیں

صحیح بخاری
کتاب الصلوٰۃ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-02-10, 08:37 AM   #6
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا ليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال أخبرني أنس، قال بينما المسلمون في صلاة الفجر لم يفجأهم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف ستر حجرة عائشة فنظر إليهم وهم صفوف، فتبسم يضحك، ونكص أبو بكر رضى الله عنه على عقبيه ليصل له الصف فظن أنه يريد الخروج، وهم المسلمون أن يفتتنوا في صلاتهم، فأشار إليهم أتموا صلاتكم، فأرخى الستر، وتوفي من آخر ذلك اليوم‏.‏


ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹایا ۔ آپ نے صحابہ کو دیکھا ۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے ۔ آپ ( خوشی سے ) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( آپ کو دیکھ کر ) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں ۔ آپ نے سمجھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ صحابہ ( آپ کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا ) نماز ہی چھوڑ دیں گے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور پردہ ڈال لیا ۔ اسی دن چاشت کو آپ نے وفات پائی ۔



صحیح بخاری
صفۃ الصلوٰۃ
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, پاک, واقعات, قرآن, قصہ, قصد, لوگ, لوٹے, نماز, نظر, ممکن, مسجد, معلوم, آج, اکبر, ایمان, اسلام, حدیث, خدا, دعا, روزہ, زہری, غار, صحابہ, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger