واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم حدیث > تاریخ حدیث



تاریخ حدیث تاریخ حدیث


حدیث کی اہمیت اور کثیر الروایہ آصحاب حدیث

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 11:42 AM   #1
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default حدیث کی اہمیت اور کثیر الروایہ آصحاب حدیث

حدیث کی اہمیت اور کثیر الروایہ آصحاب حدیث

ابتدائیہ
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور راہ نمائی کے لیے حضرت آدم علیہ السلا م سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر دور اور ہر علاقے میں اپنے نبی اور رسول بھیجے۔ان مبارک ہستیوں نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچایا اور گمراہی اور نافرمانی کے راستوں سے ہٹا کر ان کواللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے راستے کی نشان دہی کی۔ اللہ نے چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کرنا تھا اس لیے باقی انبیا کی نسبت آپ کے معاملے میں خصوصی اہتمام کیا۔اللہ نےآپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری خو د لی اورصحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ذریعے سے ایسا انتظام کر دیا کہ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ آپ کےاقوال و افعال بھی قیامت تک کے لیے محفوظ ہوگئے۔قرآن مجید کی شرح و وضاحت اللہ کی طرف سے آپ کی ذمہ داری تھی۔قرآن اصولی احکام کی کتا ب ہے جب کہ ان کی تفصیل ہمیں احادیث مبارکہ سے ملتی ہے۔صحابہ کرام وہ مبارک اور عظیم المرتبت ہستیاں ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اللہ تعالی کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے تن من دھن کی پروا نہیں کی۔ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے:
وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمھَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوھم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللہ عَنھم وَرَضُواْ عَنہ وَأَعَدَّ لھم جَنَّاتٍ تَجْرِي من تَحْتتھا الأَنھار خَالِدِينَ فِیھا أَبَداً ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ).التوبہ9 :۱۰۰)
"اور جن لوگوں نے سبقت کی ( یعنی سب سے ) پہے (ایمان لاۓ ) مھاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنھوں نے خلوص ( نیکوکاری ) کے ساتھ ان کی پیروی کی ، اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لۓ جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، ( اور وہ ) ان میں ھمیشہ ھمشیہ رہیں گے ، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔"
اسی طرح سورہ فتح میں فرمایا:
مُّحَمَّدٌ۬ رَّسُولُ ٱللہ وَٱلَّذِينَ معہ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلکُفَّارِ رُحَمَآءُ بینھم ترٰھمۡ رُكَّعا سُجَّدً۬ا يَبتتَغُونَ فَضلاً۬ مِّنَ ٱللَہِ ورضوانہ سِيمَاھمۡ فِى وُجُوھھم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ‌ۚ ذَٲلِكَ مَثلھمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٰۃ ِ‌ۚ وَمثلھمۡ فِى الانجیل كَزَرۡعٍ اخرج شطئہ ۥ فاٰزرہ فاستغلظ فاستویٰٰ عَلَىٰ سُوقہۦ یعجب ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِہِمُ ٱلکُفَّارَ‌ۗ وَعَدَ ٱللَہ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصٰلِحَتِ مِنھم مغفرۃ واجرا عَظِيما۔(الفتح۴۸ :۲۹)
محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے جھکےہوئے) سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔"
پھر اللہ نے بیعت رضوان میں شریک صحابہ سے اپنی رضامندی کا اظہار اس طرح سے کیا:
لَقَدْ رَضِيَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبھمْ فَأَنزَلَ السَّكِينۃ عَلَیھم وَأَثَابھم فَتْحاً قَرِيباً۔(الفتح:۴۸:۱۸ )
"اے نبی( صلی اللہ علیہ و سلم ) جب مومن آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو اللہ ان سے خوش ھو گیا اور جو ( صدق و خلوص ) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کر لیا اور ان پر تسلی نازل فرمائی اور انھیں جلد فتح عنائت فرمائی۔"
یہ آیات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں یہ عظیم المرتبت ہستیاں اللہ کی پسندیدہ ہستیاں ہیں۔ان کے دلوں میں موجود خلوص اور سچائی کا اعتراف خود ذات باری نے کیا ہے۔لہذا ان سےقرآن و حدیث اور دین کے معاملے میں کسی تساہل اور غلطی کے صدور کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے جو کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا وہ بلا کم وکاست، اگلی نسلوں کو منتقل کردیا۔

حدیث،معنی و مفہوم
لفظ "حدیث" عربی زبان کا لفظ ہے،جس کا مادہ اصلی"ح دث" ہے۔ حدیث کا لغوی مطلب: "جدید "ہے ، جو کہ قدیم کا متضاد ہے۔اس طرح ہر نئی چیز،بات اور بیان کوحدیث کہا جاتا ہے۔علم حدیث کی اصطلاح میں حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے قول ،فعل،تقریر اور خلُقی یا خِلقی اوصاف کو کہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمود الطحان کے بقول:
"ما اضیف الی النبی صلی اللہ علیہ و سلم من قول او فعل او تقریر او صفۃ۔[1]
"جو کچھ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا جائے وہ حدیث ہے، مثلا آپ کا قول ،فعل ،تقریر اور صفت۔"
اسی طرح ڈاکٹر نورالدین عتر حدیث کی تعریف معمولی اضافے کے ساتھ اس طرح کرتے ہیں:
والحدیث لغۃ: "ضد القدیم و یستعمل ایضا حقیقۃ فی الخبر،قال فی القاموس:الحدیث، الجدید و الخبر۔ اصطلاحا: ما اضیف الی النبی صلی اللہ علیہ و سلم من قول او فعل او تقریر او وصف خلقی او خلقی۔[۲]
خبر کا مفہوم
لفظ "خبر" بمعنی "النبا" اور خبرہے جس کی جمع "اخبار " ہے۔اس کے اصطلاحی مفہوم کے بارے میں تین قسم کے اقوال ملتے ہیں:
۱۔یہ حدیث کے مترادف ہے۔
۲۔ حدیث وہ ہے جس کی نسبت حضورصلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کی جائے اور خبر وہ ہے جس کی نسبت آپ کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو۔
۳۔"خبر"، "حدیث" کی نسبت زیادہ عمومی نوعیت کی چیز ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں کی خبریں بھی شامل ہیں۔ (یعنی ہر حدیث خبر ہے لیکن ہر خبر حدیث نہیں ہے۔)
اثر
اثر سے مراد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال و افعال ہیں۔ کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور دل و جان سے آپ کے اقوال اور افعال پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے محدثین نے انھیں بھی حدیث کے ضمن میں شمار کیا ہے،کیونکہ صحابہ کرام سے کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف عمل کی توقع نہیں ہو سکتی۔
محمود الطحان کے نزدیک "اثر" کا لغوی مطلب “بقیۃ الشی" ہے اور اسلامی اصطلاح میں اس کے مفہوم کو متعین کرنے کے ضمن میں دو اقوال ہیں: ایک یہ کہ یہ لفظ حدیث کا مترادف ہے۔دوسرا یہ کہ اس سے مراد ایسے اقوال و افعال ہیں جن کی نسبت صحابہ کرام اورتابعین عظام کی طرف کی جائے۔[۳]
حدیث کی ضرورت و اہمیت

اللہ تعالیٰ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ،درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت قرار دیا ہے:
من یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ (النسا4 :۸۰)
جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے ،درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔"
کیونکہ رسول اللہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ جو اللہ کی طرف سے وحی کیا جا تا ہے وہی بیان کرتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:
وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ۔(النجم 53 :۳۔۴)
"اور (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے،سوائے اس کے کہ جو ان پر وحی کی جاتی ہے۔"
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ذمہ داریوں میں درج ذیل امور کو شامل کیا ہے:
۱۔دین کی تعلیم و تبلیغ
۲۔تزکیہ نفوس
۳۔ دین کی شرح و وضاحت

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِنْكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آَيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ۔ (البقرۃ ۲:۱۵۱)
"جیسے کہ ہم نےتمہارے درمیان تم ہی میں سےایک رسول بھیجا ہے،جو تمھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا تا ہے،تمہارا تزکیہ کرتا ہےاور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمھیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے ہو۔"
اسی طرح سورہ نحل میں فرمایا:
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون۔ (النحل16:43)
"اور ہم نے آپ پر ذکر(قرآن مجید) نازل کیا ہے،تاکہ آپ لوگوں کے لیے کھول کر بیان کردیں جو کچھ ہم نے ان کے لیے نازل کیا گیا ہے،تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔"
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت کے لیے صرف قرآن ہی کافی نہیں ہے۔چونکہ اللہ نے قرآن میں صرف اصولی احکا م بیان کیے ہیں ان کی تفاصیل اور شرح و وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔مثلا قرآن میں صرف نماز کا حکم دیا گیا ہے۔ اب نمازوں کے اوقات کے تعین،رکعات کی تعداد،نماز کے نواقض،وضو اور تیمم کے مسائل کے لیے لازما سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اسی طرح زکواۃ کے مسائل،حلال وحرام کی تفاصیل،وراثت،پیدایش و وفات،تجہیز و تکفین اورجہادوغیرہ کے مسائل کا علم ہمیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے حاصل ہوسکتاہے۔ اس لیے حدیث مبارکہ مسلمانوں کے لیے اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ قرآن مجید ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اطاعت رسول کا حکم دیا ہے۔ مثلا ارشاد ہے:
قل اطیعوا اللہ والرسول فان تولوا فان اللہ لا یحب الکٰفرین۔(آل عمران۳ :۳۲)
"کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو،پس اگر نہ مانیں تو اللہ بھی کافروں کو پسند نہیں کرتا۔"
اسی طرح اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو واضح طور پر یہ حکم دے دیا ہے کہ تمام معاملات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حاکم وقت سے رجوع کریں۔ارشادربانی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآَخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔(النسا 59:4)
"اے ایمان والو،اللہ اور اس کے رسول اور اپنے درمیان اولی الامر کی اطاعت کرو اور اگر تمہارےدرمیان کسی بات میں اختلاف پیدا ہوتو اگر تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہوتو اس معاملے میں اللہ اوراس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔اور یہ رویہ تمہارے لیے انجام اور نتائج کے اعتبار سے بہتر ہے۔"
اسی طرح احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ سے بھی ہمیں اس حقیقت کا علم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمام مسلمانوں کے لازمی قرار دی گئی ہے۔اس سلسلے میں سنن ابی داود کی یہ روایت ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے:
عن المقداد بن معدی کرب الکندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ألَا اِنِّی اُوْ تِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہ مَعْہ۔ألَا یُوْشَکُ رَجُلٌ یَنْثَنِی شَبْعَاناً عَلیٰ اَرِیْکَتِہ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِالْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأحَلُّوْہُ وَ مَا وَجَدْتُمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوْہ ۔ وَ اِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہُ کَمَا حَرَّمَ اللّٰہُ ۔اَلاَ لَا یَحِلُّ لَکُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأ ہْلِی وَ لاَ کُلُّ ذِیْ نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ، اَلاَ وَ لَا لُقْطَۃٌ مِنْ مَالِ مُعَاہدٍ اِلّا أنْ یَّسْتَغْنِیَ عَنْہَا صَاحِبُہَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَیْہِمْ أنْ یَقِرُّوْہُمْ، فَاِنْ لَمْ یَقُرُّوُہُمْ فَلَہُمْ أنْ یُعَقِّبُوْہُمْ وَ زَادَ بَعَض۔
(سنن ابو داؤد ،کتاب السنۃ)
"حضرت مقداد بن معدی کرب کندی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! بیشک مجھے قرآن کریم دیا گیا اور ا سکے مثل بھی (یعنی حدیث شریف)خبردار! قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا شخص اپنی مسہری پر تکیہ لگا کر کہے : صرف قرآن کو تھام لو، اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے جیسا اللہ تعالیٰ کا حرام فرمایا ہوا، دیکھو ! نہ تمہارے لئے پالتو گدھا حلال ہے اور نہ کیلے والا درندہ جانور، اور نہ ذمی کافر کی گمشد ہ چیز ۔ ہاں جب اس چیز کا مالک اس سے لا پرواہ ہوجائے ، او ر سنو! جو کسی کے پاس مہمان بن کر جائے تو ان پر ا سکی مہمانی لازم ہے ۔ اگر مہمانداری نہ کریں تو وہ اپنی مہمانی کی مقدار ان سے وصول کرے "۔
اسی طرح ایک اور روایت ہے:
عن علقمۃ عن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما قال: لَعَنَ اللّٰہُ الْوَاشْمَاتِ الْمُوتَشِمَاتِ وَ الْمُتَنَمصَاتِ وَ الْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَیِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰہِ فَبَلَغَ ذَلِکَ اِمْرأ ۃً من بنی أسد یقال لہا اُم یعقوب فجاء ت فقالت :اِنہ بلغنی أنک لعنت کیت و کیت فقال: و ما لی لا ألعن من لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و من ہو فی کتاب اللہ فقالت : لقد قرأت ما بین اللوحین فما وجدت فیہ ما تقول، قال: لئن کنت قرأتیہ لقد وجدتیہ ، أما قرأت ’’وَ مَا آتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہ فَانْتَہُوْا‘‘ قالت :بلی ، قال : فاِنہ قد نہی عنہ ، قالت : فاِنی أری أہلک یفعلونہ ، قال : فاذہبی و انظری ، فذہبت و نظرت فلم ترمن حاجتہا شیئا فقال: لو کانت کذلک ماجا معتہا ۔
"حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی لعنت بدن گودنیوالیوں او ر گدوانے والیوں پر، منہ کے بال نوچنے والیوں اور خوبصورتی کیلئے دانتوں میں کھڑ کیا ں بنانے والیوں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی چیز بگاڑ نے والیوں پر ۔ یہ سن کر ایک بی بی اسدیہ جن کی کنیت ام یعقوب تھی خدمت مبارک میں حاضر ہوئیں ، عرض کی : میں نے سنا ہے آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ، فرمایا : مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ۔اور جس کا بیان قرآن عظیم میں ہے ۔ ان بی بی نے کہا: میں نے قرآن اول سے آ خر تک پڑ ھا اس میں کہیں ا سکا ذکر نہ پایا ۔ فرمایا: تم نے قرآن پڑ ھا ہوتا تو یہ آیت ضرور پڑ ھی ہوتی ۔کیا تم نے نہ پڑ ھا کہ ’’جو رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔ انہوں نے عرض کیا: ہاں ، تو آپ نے فر مایا:بیشک نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان حرکات سے منع فرمایا۔ کہنے لگیں : میں نے تو آپ کی اہلیہ کو بھی اس طرح کرتے دیکھا ہے ۔ فرمایا : جاؤ، اور دیکھو ۔ وہ گئیں اور دیکھا تو ان کے مطلب کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ آپ نے فرمایا : اگر وہ ایسا کرتیں تو میں کبھی ان کو اپنے پاس نہ رکھتا ۔"
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم
صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے پر ایمان لایا ہو۔اور اس کی وفات حالت ایمان میں ہوئی ہو۔ڈاکٹر محمود الطحان کے بقول:
تعريف الصحابي:
۱۔ ۔ لغة: الصحابة لغة مصدر بمعني " الصحبة " ومنه "الصحابي" و " الصاحب"
ويجمع علي أصحاب وصَحْب ، وكثر استعمال " الصحابة " بمعني "الأصحاب" .
۲۔ اصطلاحاً: من لقي النبي صلي الله عليه وسلم مسلماً ومات علي الإسلام ، ولو تخللت ذلك ردة علي الأصح ."[4]
کسی شخص کے صحابی ہونے کی تصدیق کے لیے علمائے کرام نے درج ذیل پانچ امور میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری قرار دیا ہے۔تواتر،شہرت،صحابہ کے احوال و اخبار،ثقہ تابعین کے احوال اور تحریروں سے اور کسی فرد کے اپنے دعوے کے ذریعے سے اگر وہ عادل ہو اور اس کا دعویٰ ممکن العمل ہو۔
طبقات صحابہ
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا نہیں کیا۔ان کی تخلیق اور صلاحیتوں میں فرق رکھاہے۔اسی طرح علمائے کرام نے تمام صحابہ کو بھی یکساں قرار نہیں دیا، البتہ دین کے معاملے میں ان کی اہمیت،خلوص اور عدالت کو برابر قرار دیا ہے۔ علمائے حدیث نے صحابہ کرام کےطبقات متعین کرتے وقت مختلف پیمانے مقرر کیے۔بعض نے قبول اسلام اور ہجرت کے لحاظ سے درجات کو متعین کیا اور بعض نےان کے اخلاق و کردار اور مرتبے کے لحاظ سے۔ابن سعد نے صحابہ کو سات اور حاکم نے ۱۲ طبقات میں تقسیم کیا ہے۔جمہور علما و محدثین نے صحابہ کے درجات کو اس ترتیب سے بیان کیا ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ،حضرت عمررضی اللہ عنہ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ،حضرت علی رضی اللہ عنہ،عشرہ مبشرہ،اہل بدر،اہل احداور پھربیعت رضوان میں شریک صحابہ ۔[5]
شروط روایت
کسی شخص کی روایت قبول کرنے کے لیے علمائے حدیث نے بہت کڑی شرائط رکھی ہیں۔اس مقصد کے لیے مسلمانوں نے علم اسماالرجال کی بنیاد رکھی ،جس کے تحت دس لا کھ افر اد کے احوال کو جمع کیا۔اس کے علاوہ رویت و درایت کے اصول بھی متعین کیے۔تمام ائمہ حدیث اس بات پر متفق ہیں کہ راوی میں دو بنیادی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔
۱۔عدالت: راوی مسلم ،عاقل و بالغ اور فسق و فجورسے محفوظ ہو۔
۲۔ضبط: اس سے مراد یہ ہے راوی دیگر ثقہ راویان سے مخالف رائے کا حامل نہ ہو۔حافظہ قوی ہواور اس پر کبھی کسی صریح غفلت،سوئے حفظ،اوہام یا کسی اور غلطی کا الزام نہ ہو۔
کتابت حدیث
اسلام کے ابتدائی دور میں جب قرآن نازل ہورہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منع کر دیا تھا کہ مجھ سے قرآن کے علاوہ اور کچھ نہ لکھو۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
و لا تکتبوا عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ، و حدثوا عنی ولا حرج،ومن کذِبَ علی(قال ھمام احسِبُہ قال)متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار۔(مسلم ،کتاب الزھد والرقائق)
"قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو اور کسی نےقرآن کے علاوہ کچھ لکھ رکھا ہے تو وہ اسے مٹا دے۔ہاں احادیث کو بیان کرو اس میں کوئی مضائقہ نہیں،البتہ جس نے مجھ پر(راوی ہمام کے خیال میں آپ نے فرمایا) جانتے بوجھتے جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔"
احادیث کی کتابت سے روکنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت قرآن نازل ہورہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کتابت کروا رہے تھے۔عام افراد او ر نو مسلم اس وقت تک اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ حدیث اور قرآن کو الگ الگ پہچان لیں۔ چنانچہ اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں قرآن اور حدیث آپس میں خلط ملط نہ ہو جائیں۔اس خطرے کی نوعیت خدانخواستہ یہ نہیں تھی کہ قرآن ضائع ہونے کا ڈر تھا یااس میں کسی تبدیلی کا امکان تھا،بلکہ وجہ یہ تھی کہ جو لوگ دونوں چیزوں کو لکھ رہے تھےوہ غلطی سے ان دونوں کو ملانہ بیٹھیں اور پریشانی کا شکا ر نہ ہوجائیں۔دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کو صرف قرآن کی طرف متوجہ کرنا تھا۔قرآن کی حفاظت کا ذمہ تو اللہ تعالیٰ نے لیا تھا اور اس کی حفاظت میں کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں تھی۔
چنانچہ بعد میں جب صحابہ قرآن و حدیث میں امتیاز کرنے کے قابل ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے کی اجازت دے دی۔اس سلسلے میں درج ذیل روایات ہماری راہ نمائی کرتی ہیں:
عن ابن مسعودقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نضراللہ امرا سمع مقالتی فوعاھا و حفظھا و بلغھا۔۔(ترمذی، کتاب العلم)
"اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ اور خوش و خرم رکھے جس نے میری بات سنی ،اسے یاد کیا اور محفوظ کیا اور پھر دوسروں تک پہنچایا۔"
اسی طرح بخاری کتاب العلم میں یہ روایت موجودہے:
ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لا تضلوا بعدہ۔(بخاری ،کتاب العلم)
"میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ کہ میں تمھیں ایک ایسی بات لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے۔"
جمع و تدوین حدیث
صحابہ کرام نے احادیث کی حفاظت کے سلسے میں کئی طریقے اختیار کیے۔سب سے بنیادی بات تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے بارے میں صحابہ کا رویہ تھا۔وہ قرآن کے الفاظ میں اپنی جان ،مال،والدین ،اولاد ہر چیز سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے تھے۔وہ لوگ آپ کی بات سن کراس پرفورا ٍعمل کرتے اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے تھے۔ عربوں کا حافظہ بہت قوی تھا۔ وہ بڑی آسانی سے بہت طویل چیزیں یا د کر لیتے تھے۔چنانچہ بہت سے صحابہ کو سینکڑوں احادیث یاد تھیں۔صحابہ کرام احادیث یاد کر کے ایک دوسرے کو سناتے بھی تھے۔اس کے علاوہ ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور ہی میں حفظ حدیث کے ساتھ اس کی کتابت کا کام بھی شروع ہوچکا تھا۔صحابہ کرام نے اجازت ملنے کے بعد اپنے پاس احادیث لکھنی شروع کر دی تھیں۔اس دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کئی چیزیں لکھوائیں۔مثلا ابو شاہ یمنی نے کچھ تحریری راہ نمائی چاہی تو آپ نے فرمایا : اکتبوا لا بی شاہ" ابی شاہ کو لکھ دو"۔[۶]اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زکواہ اور حرمت مدینہ کے احکام لکھوائے۔آپ نے بہت سے بادشاہوں کو خطوط لکھوائے جو آج بھی محفوظ ہیں۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن کے گورنر مقرر کئے گئے اور آپ یمن جانے لگے تو حضور نے ان کو ضروری چیزیں لکھواکر مرحمت فرمائیں ،ساتھ ہی اشباہ ونظائر پر قیاس اور استنباط مسائل کی تعلیم سے بھی نوازا۔آپ نے وہاں جاکر جب ماحول کا جائزہ لیا تو بہت سی باتیں الجھن کا باعث تھیں ، لہذا آپ نے ان تمام چیزوں کے متعلق بارگاہ رسالت سےہدایات طلب کیں جس کے جواب میں حضور نے ان کو ایک تحریر روانہ فرمائی۔
اسی طرح وائل بن حجر مشہور صحابی جو حضر موت کے شہزادے تھے جب مشرف باسلام ہوئے اور اپنے وطن واپس جانے لگے توحضور سے نماز ،روزہ ،سود اور شراب وغیرہ کے اسلامی احکام لکھوانے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کو لکھ کر عنایت کئے گئے ۔حضرت عمروبن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب یمن کا حاکم بناکربھیجا گیا تھا تو انہیں بھی فرائض ،صدقات اوردیتوں کے احکام تحریری شکل میں ہی دیئے گئے تھے ۔آپ کو زکوۃ کے احکام نہایت تفصیل سے بعد میں ارسال کئے گئے تھے جو آپ کے خاندان کے پاس ایک عرصہ تک محفوظ رہے اور حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانہ خلافت میں ان کے خاندان میں برآمد ہوئے جس کی تفصیل سنن ابوداؤد میں موجود ہے۔
اسی طرح حضرت سعد رضی اللہ عنہ بن عبادہ انصاری اور حضر ت سمر ہ رضی اللہ عنہ بن جندب کے صحائف بھی آپ کی حیات طیبہ ہی میں تیار ہو گئے تھے۔حضرت زید بن ثابت نے وراثت پر احادیث کا ایک مجموعہ تیارکیا۔
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنےپاس احادیث لکھ کر رکھی ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ کو ۱۳۸ احادیث کا مجموعہ لکھوایا تھا،جسے ڈاکٹر حمیداللہ نے ایڈٹ کرکے شائع کرایا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کے ایک ہزار احادیث پر مشتمل مجموعہ"صحیفہ صادقہ" کے نام سے تیار کیا تھا۔
اس کے بعد تابعین کے دور میں حضرت سعید بن مسیب،حسن بصری اور امام شعبی نے حدیث کے حوالے سے کام کیا ۔ [7] سرکاری سطح پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے محمد بن مسلم شہاب زہری کو احادیث جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔
کثیر الروایہ ا صحاب
۱۔ ۔حضرت أبو هريرة : 5374 احادیث
۲۔ حضرت ابن عمر : 2630 احادیث
۳۔ حضرت أنس بن مالك: 2286 احادیث
۴۔ حضرت عائشة أم المؤمنين: 2210 أحاديث.
۵۔ حضرت ابن عباس : 1660 احادیث
۶۔ حضرت جابر بن عبدالله : 1540 احادیث[8]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام عبدالرحمن بن صخر تھا۔قبیلہ ازد کی ایک شاخ بنو دوس بن عدنان سے تعلق رکھتے تھے۔ سنہ ۷ ہجری میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے تین چار سال پہلے اسلام لائے۔پچاس سال تک تعلیم و تعلم میں مصروف رہے۔اٹھتر برس کی عمر میں ۵۷ھ میں مقام عقیق میں فوت ہوئے۔آپ نبی کریم کے ساتھ کم عرصہ رہے ،لیکن اس کے باوجود ان سے بے شمار حدیثیں مروی ہیں۔ اس کی وجہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ "دیگر صحابہ مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور فلاں فلاں صحابی سارا دن اپنے کاروبار میں لگے رہتے، اپنی تجارت اور اپنی دکان میں مصروف رہتے۔ میں پیٹ بھرا بن کر مسجد نبوی کے اندر پڑا رہتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی باتوں کو سننے کا جتنا موقع مجھے ملتا، اتنا بڑے بڑے صحابہ کو بھی نہ ملتا۔ ان کا حافظہ بہت اچھا تھااور لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ انہوں نے بہت سی حدیثیں لکھیں۔ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طرز عمل عالمانہ اور بہت دلچسپ تھا۔ ان کے پاس جو شاگرد آتے، سارے شاگردوں کو وہ ایک ہی چیز نہیں پڑھاتے تھے۔ ہر شاگرد کو الگ الگ حدیثیں پڑھاتے تھے۔ چنانچہ جب ہمام بن منبہ ان کے پاس آئے تو ان کو ایک خصوصی رسالہ سو ڈیڑھ سو حدیثوں کا مرتب کر کے دیا، جو "صحیفہ ہمام بن منبہ" کہلاتا ہے۔ آپ نہ صرف عربی لکھنا جانتے تھے بلکہ حبشی اور فارسی زبانیں بھی جانتے تھے۔روایت حدیث میں آپ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ آپ کی مرویات کی تعداد 5374 ہے۔آپ کی روایات کے بعض مجموعے یہ ہیں:
پہلا نسخہ بشیر بن نہیک کا مرتب کر دہ ہے ۔بشیر کہتے ہیں : میں جو کچھ حضرت ابوہریرہ سے سنتا وہ لکھ لیا کرتا تھا ، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تووہ مجموعہ میں نے آپکو پڑھ کر سنایا اورعرض کیا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے آپ سے سماعت کی ہیں ،فرمایا : ہاں صحیح ہیں ۔
دوسرامجموعہ حضرت حسن بن عمروبن امیہ الضمری کے پاس تھا۔
تیسرا مجموعہ زیادہ مشہور ہے اور یہ ہمام بن منبہ کا مرتب کردہ ہے ۔
حسن بن عمروبیان کرتے ہیں :
میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک حدیث پڑھی ،آپ نے اس کو تسلیم نہ کیا ،میں نے عرض کیا : یہ حدیث میں نے آپ ہی سے سنی ہے ،فرمایا : اگر واقعی تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو پھر یہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی ۔پھر آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر لے گئے ،آپ نے ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کی کئی کتابیں دکھائیں وہاں وہ متعلقہ حدیث بھی موجود تھی ،آپ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا نا کہ اگر یہ حدیث میں نے تمہیں سنائی ہے تو ضرور میرے پاس لکھی ہوگی۔( جامع بیان العلم لا بن عبدا لبر، 84)
اس روایت سے ظاہر کہ آپ کے پاس تحریر شدہ احادیث دس پانچ نہیں تھیں بلکہ جو کچھ وہ بیان کرتے تھے ان سب کو قید کتابت میں لے آئے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم حضرت عمر کے بیٹے اور ام المومنین حضرت حفصہ کے حقیقی بھائی تھے۔آپ بعثت کے کچھ عرصہ بعد پیدا ہوئے اور دس سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ ہی ایمان لے آئے تھے۔آپ بھی ان صحابہ کرام میں سے ہیں جو ابتدا کتابت حدیث کے حق میں نہ تھے ، لیکن بعد میں آپ کتابت حدیث کے موقف کو تسلیم کر گئے تھے۔لہذا آپ نے بھی کتابت حدیث کا سلسلہ شروع کیا ۔ آپ کے شاگردوں میں حضرت نافع آپ کے آزاد کردہ غلام ہیں جوتیس سال آپ کی خدمت میں رہے ۔امام مالک ان سے روایت کرتے ہیں ،ان کے بارے میں حضرت سلیما ن بن موسی کا بیان ہے ۔
انہ رأی نافعا مولی ابن عمر علی علمہ ویکتب بین یدیہ۔ (السنن للدارمی، ٦٦)
"انہوں نے دیکھا کہ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے علم کے حافظ تھے ۔"
اورانکے سامنے بیٹھ کر لکھا کرتے تھے ۔
حضرت مجاہد ،حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ اور آپ کے بیٹے حضرت سالم کا بھی یہ ہی طریقہ تھا ۔
بلکہ آخرمیں تو آپ نے اپنی اولاد کو یہ حکم دے دیا تھا کہ: قیدواالعلم بالکتابۃ۔ (السنن للدارمی، ٦٨)
آپ نے ۷۳ ھ میں وفات پائی،اس وقت آپ کی عمر ۸۴ سال تھی۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ہجرت کے وقت دس سال کی تھی۔ بہت کم سن بچے تھے لیکن ایک ایسے بچے جس کے والدین نہایت مخلص مسلمان تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو میری والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان پر جا کر حضور کے سامنے پیش کیا اور بہت ہی فخر کے ساتھ کہنے لگیں "یا رسول اللہ! میرا بچہ لکھنا پڑھنا بھی جانتا ہے" اور پھر کہتی ہیں "یا رسول اللہ! میری عزت افزائ کا باعث ہوگا کہ اگر اسے آپ خادم کے طور پر قبول کر لیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میری والدہ کی درخواست کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبول کیا چنانچہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے مکان میں آپ کی وفات تک رہا۔ اس دس سال کے عرصہ میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ظاہری و باطنی زندگی کو دیکھتا۔ مسجد میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا کرتے ہیں وہ بھی دیکھتا، مکان کے اندر اپنی ازواج مطہرات سے کس طرح برتاؤ کرتے ہیں، کیا کھاتے ہیں، کس طرح سوتے ہیں، غرض ہر چیز کا میں مشاہدہ کر سکتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ سہولت، جو ان کو حاصل تھی بڑے سے بڑے صحابہ مثلاً حضر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی میسر نہیں آسکتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو اس قدر قریب سے دیکھیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی جماعت کی تعداد بڑھی اور انہیں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حالات معلوم کرنے کا شوق پیدا ہوا تو میرے پاس بہت سے شاگرد آیا کرتے تھے۔ اس بارے میں ان کی روایت کے دو الفاظ ہیں "اذا کثروا" (جب ان کی تعداد زیادہ ہوتی) اور "اذا اصروا" (اور جب وہ زیادہ اصرار کرتے) بہر حال جو بھی صحیح ہو، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ایسے موقع پر میں ایک صندوق میں سے ایک پرانا رجسٹر یا پرانی کتاب نکالتا اور اپنے شاگردوں کو بتاتا اور کہتا کہ یہ وہ چیز ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نوٹ کی ہے اور اسے رسول اللہ کے حضور میں وقتاً فوقتاً پیش بھی کیا ہے۔ میری تحریر میں اگر کوئی کمی یا غلطی ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم اصلاح فرما دیتے۔آپ نے ۱۰۳ سال کی عمر میں۹۳ ھ میں بصرہ میں وفات پائی۔حضرت ابوہریرہ نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس کی نماز ام سلیم کے بیٹے انس سے زیادہ رسول اللہ کی نماز سے ملتی ہو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
ام المومنین حضرت عائشہ ،حضرت ابو بکر صدیق کی بیٹی تھیں۔میدان علم میں آپکی جلالت شان سب کو معلوم ہے۔شعر ،لغت،طب،علم الانساب اور ایام العرب کی عالم تھیں۔ مشکل مسائل میں جلیل القدر صحابہ کرام آپکی طرف رجوع کرتے اوراحادیث نبویہ کی روایت کرتے تھے ۔آپ کے علم وفضل کایہ عالم تھا کہ فرائض ومیراث کے مسائل جن کاحل نکالنا کوئی آسان کام نہیں تھا، آپ بآسانی حل فرماتی تھیں۔قوت حافظہ کایہ حال کہ کسی شاعر کے ساٹھ ساٹھ اشعار بلکہ بعض اوقات سوسواشعار برجستہ سنادیتی تھیں ۔آپ نے ۵۷ ھ میں وفات پائی ۔آپ سے مردوں میں حضرت عروہ بن زبیر نے جو آپ کے بھانجے تھے خاص طور پر علم حاصل کیا تھا اور آپکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے یہ ہی تھے ۔انہوں نے کتابی شکل میں روایات کا ایک مجموعہ بھی تیار کیاتھا لیکن واقعہ حرہ کے موقع پر جبکہ یزیدیوں نے مدینہ طیبہ کوتاراج کیا توآپ کا وہ صحیفہ بھی ضائع ہوگیا جس پر آپ کو نہایت افسوس ہوتاتھا ۔فرماتے تھے۔
لوددت انی کنت فدیتھا باہلی ومالی (تہذیب التہذیب لا بن حجر،٧/١٨٣)
"اچھا ہوتا کہ میں اپنے اہل وعیال اور تمام جائداد کو اس پر قربان کردیتا ۔"
عورتوں میں آپکی خاص تلمیذہ مشہور خاتون حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ہیں ۔ انکی مرویات کو انکے بھانجے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم نے جمع کیا تھا۔ کیونکہ خلیفہ راشدحضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مدینہ شریف میں تدوین حدیث کے لئے جو پیغام آیا تھا اسکی تعمیل آپ ہی نے کی تھی ۔
تیسرے شاگر د حضرت قاسم بن محمد آپ کے بھتیجے ہیں جوآپ کی کفالت میں رہے اورحدیثوں کاایک وافر ذخیرہ آپ سے حاصل کیا ۔ان کی مرویات بھی ابوبکر بن محمد نے جمع کی تھیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
حضرت عبداللہ بن عباس جلیل القدر صحابی تھے۔آپ رشتے میں نبی کریم کے چچازاد بھائی تھے۔آپ ہجرت سے تین سال قبل پیدا ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی۔آپ نے ۷۱ برس کی عمرمیں ۶۸ ھ میں طائف کے مقام پر وفات پائی۔ آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد ۱۶۶۰ ہے۔آپ نہایت ذہین تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔فقہی معاملات میں آپ کی نظر بہت دور رس تھی۔آپ کی تفسیری روایت کی تعدا د بہت زیادہ ہے۔
حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ
حضرت جابربن عبداللہ انصاری نے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر اپنے والد اور ماموں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ان کے والد غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔آپ نے ۱۹ غزوات میں شرکت کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر آپ کی عمر ۳۱ سال تھی۔حضرت علی کی طرف سے جنگ صفین میں شرکت کی۔۹۴ برس کی عمر میں ۷۴ ھ میں وفات پائی۔آپ کی مرویات بھی کثیر تعداد میں ہیں اوران کی جمع وتدوین کی روداد کچھ اس طرح ہے ۔ امام طحاوی ان کے شاگردوں کا قول لکھتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتیں معلوم کرکے قلمبند کریں ۔آپ کی روایات کے متعدد مجموعوں کا ذکر ملتاہے ۔ایک مجموعہ اسمعیل بن عبدالکریم کے پاس اور دوسرا سلیمان یشکری کے پاس تھا۔ابوبکر عیاش نے امام اعمش سے اس زمانہ کے لوگوں کی رائے نقل کی ہے کہ حضرت مجاہد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے صحیفے سے روایت بیان کرتے تھے ۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ٢/٢١
حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ
آپ کا نام سعد بن مالک بن سنان خدری ہے۔انصار کے قبیلے خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔انھوں نے اپنے بیٹے کو بھی جنگ کے لیے پیش کیا لیکن کم عمر ہونے کی وجہ سے شرکت کی اجازت نہ ملی۔اس وقت حضرت ابو سعید کی عمر تیرہ سال تھی۔آپکی مرویات بھی ایک ہزار سے زائد ہیں ، یہ کتابت حدیث کو پسند نہ کرتے تھے لیکن انکے تلامذہ میں نافع اورعطا بن ابی رباح خاص طور پر مشہور ہیں ۔ ان دونوں حضرات کی احادیث خود ان کی موجود گی میں لوگ لکھتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت مجاہد خود بھی آپ سے روایت کرتے ہیں اور ان سب حضرات نے احادیث کی جمع وتدوین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ، لہذا آپکی مرویات تقریباً سب ہی جمع ہوگئی تھیں ۔۷۴ ھ میں چوراسی سال کی عمر میں وفات پائی۔[۸]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ تیسیر مصطلح الحدیث،مرکز الھدیٰ للدراست الاسکندریۃ،۱۴۱۵، ص۱۶۔
۲۔ تیسیر مصطلح الحدیث، ص۱۵۴ ۔
۳۔ تیسیر مصطلح الحدیث، ص۱۵۴ ۔
۴۔۱۔ بخاری ،کتاب العلم۔
۵۔
۶۔ مطالعہ حدیث، مولانا محمد حنیف ندوی،ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور۱۹۷۹ ،ص۶۶۔
۷۔ تیسیر مصطلح الحدیث، ص۱۴۸ ۔
۸۔ حدیث کی اہمیت اور ضرورت،خلیل الرحمن چشتی،الفوز اکیڈمی اسلام آباد، ص۹۸۔

مصادر و مراجع

۱۔ خلیل الرحمن چشتی، حدیث کی اہمیت اور ضرورت، الفوز اکیڈمی اسلام آباد س ن۔
۲۔محمود الطحان، تیسیر مصطلح الحدیث،مرکز الھدیٰ للدراست الاسکندریۃ،۱۴۱۵۔
۳۔محمد حنیف ندوی،مطالعہ حدیث،ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور،۱۹۷۹۔
۴۔ نورالدین عتر،منھج النقد فی علوم الحدیث، دارالفکر دمشق،۱۹۷۹۔
۵۔صحیح بخاری۔
۶۔ سنن ابی داؤد۔

Last edited by گوندل; 31-10-09 at 11:43 PM.
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
Adeeba (24-10-09), shafresha (22-10-09), فیصل ناصر (12-03-10), فاروق سرورخان (23-10-09), نورالدین (10-03-10), محمد عاصم (15-07-10), عامرشہزاد (22-10-09), عبداللہ حیدر (22-10-09)
پرانا 22-10-09, 04:50 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گوندل بھائی السلام علیکم،
خوش آمدید ۔ ۔
مُفید شئیرنگ کا شکریہ!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
گوندل (25-10-09), نورالدین (10-03-10)
پرانا 22-10-09, 05:22 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوندل بھائی ملومات کا بہت شکریہ
اور آپ کو پاک نیٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
گوندل (25-10-09), نورالدین (10-03-10)
پرانا 22-10-09, 10:34 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,166
کمائي: 74,753
شکریہ: 8,792
2,969 مراسلہ میں 10,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، بھائی آپ کا پہلا مراسلہ ہی متاثر کن ہے۔ تشریف لاتے رہا کیجیے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
گوندل (25-10-09), نورالدین (10-03-10)
پرانا 25-10-09, 12:56 AM   #5
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شکریہ

تمام دوستوں کا شکریہ، ان شا اللہ اب آنا جاتا لگا رہے گا۔
گوندل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (10-03-10)
پرانا 25-10-09, 01:16 AM   #6
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 464
کمائي: 15,915
شکریہ: 282
372 مراسلہ میں 1,170 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وعلیکم السلام، بہت شکریہ۔

Last edited by گوندل; 15-11-09 at 07:40 AM.
گوندل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (10-03-10)
پرانا 10-03-10, 12:02 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,100
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,363 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کچھ اور بہتر

مراسلہ بہت کار آمد ہے معلومات سے پر ہے
مگر
اس قسم کے مراسلات کو آسانی سے پڑھنے کے لیے اس میں فارمیٹنگ بھی کر دیا کریں تو اچھا رہے گا جیسے سہیل عادل بھائی کرتے ہیں ۔
عربی کے الفاظ کو TOhama فونٹ رکھیں اور رنگ بھی مختلف کر دیں جیسے گہرا ہرا رنگ
ترجمہ کو Bold کردیں اس کا بھی رنگ مختلف کر دیں جیسے درمیانہ نیلا
حوالے والے الفاظ چھوٹے الفاظ میں اورگرے رنگ
اور جب مراسلہ بہت طویل ہوجائے تو تمام فونٹ کا سائز 5 تک رکھ دیں ۔۔
باقی مزید رہ نمائی عادل سہیل بھائی سے لے لیں وہ بہترین مشورہ دیں گے یا ان کے مراسلات کو دیکھ لیں ۔ ان کا فارمیٹنگ کا انداز بہترین ہے ۔۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-03-10, 08:32 PM   #8
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کے لئے شکریہ۔ سرورق کے لئے تجویز کرتا ہوں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (12-03-10)
جواب

Tags
پاک, پسندیدہ, قرآن, منتقل, مجید, معلوم, ایمان, اللہ, اسلامی, بھائی, جلد, حدیث, حدیث،الحدیث, خوش, خلاف, خدا, خصوصی, زمانہ, علاقے, عمومی, عربی, عظیم, عظام, غلطی, صدور


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 05:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 12:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger