| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارسطو دنیا کا پہلا فلسفی نہیں تھا یہ بات سب جانتے ہیں اور آخری بھی نہیں یہ بھی سب کو معلوم ہےِ۔اس لئے یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ صرف ارسطو نے خدا کے بارے میں جو کہا ہے اسی سے فلسفہ کا مقام متیعن کیا جائے اور اس علم سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کر کے یہ سمجھا جائے کہ جیسے یہ علم اسلام اور دینیات کے خلاف ہے۔میرا خیال ہے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ فلسفہ کہتے کس کو ہیں؟جو تھوڑا سا میرا مطالعہ ہے اس سے مجھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلسفہ دراصل اشیاء کی حقیقت جانے کا علم ہے مثلا فلسفی یہ نہیں بتاتا کہ ترقی کیسے کر سکتے ہیں بلکہ یہ بتاتا ہے کہ ترقی کہتے کس کو ہیں۔امانت داری سے کام لینا اچھی بات ہے مگر یہ کہ امانت داری کسے کہتے ہیں یہ فلسفی بتائے گا ۔اس لئے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اگر کوئی چیزوں کی حقیقت جاننے کی کوشش کرے تو اسے غلط کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے آخر قرآن میں بھی اشیاء پر غور و فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے کیا وہ بھی غلط ہے؟اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ مومن وہ ہیں جو ہماری آیتوں پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گر پڑتے تو کیا یہ سب غلط ہے؟ میری رائے میں نہیں۔ اس لئے میری گذارش ہے کہ فلسفیوں پر بات کرنے سے پہلے ذرا فلسفے کی تعریف متعین کر لی جائے تو ذرا بہتر ہو گا ورنہ میرے جیسا عامی اس مضمون کو صرف اسلام کے خلاف ہی سمجھ کر اس سے برگشتہ ہو جائے گا۔
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (28-02-10), محمدخلیل (28-02-10), آبی ٹوکول (16-03-10), بزم خیال (10-03-10), حیدر Rehan (11-03-10), راجہ اکرام (09-03-10), رضی (28-02-10), شاہ جی 90 (16-03-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اشفاق بھائی آپ کی بات درست ہے!
میںاس بات کے حق میںہوںکے طلباء کو اس مضمون کے پڑھنے کی ترغیب دی جانی چاھیئے اور خواص کو بھی اس علم کا مطالعہ کرنا چاھیئے۔ شئیرنگ کا شکریہ!
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | بزم خیال (10-03-10), حیدر Rehan (11-03-10), راجہ اکرام (09-03-10), رضی (10-03-10), شاہ جی 90 (16-03-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام نوشاد جی
میں نے آج دیکھا ہے یہ تھریڈ یقینا یہ اہم موضوع ہے اور اسے پڑھنا ضروری ہے۔ فلسفہ دین کے مخالف ہر گز نہیں بلکہ مسلمانوں نے بہت زیادہ کام کیا ہے اس میدان میں الکندی، فارابی، ابن رشد ، ابن طفیل، ابن باجہ ، اما غزالی ایسے نام ہیں جنہوں نے اس میدان میں جھنڈے گاڑے ہیں۔ آپ اس پر مزید کچھ ضرور لکھیں یہ سب کے لئے مفید ہو گا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
محترم نوشاد صاحب ہم سب آپ کی جانب سے اس موضوع پر کچھ لکھنے جانے کے منتظر ہیں!
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یقینا فلسفہ دنیا کا سب سے پہلا موضوع ہے کیوں کہ جب انسان نے اس کائنات میں آنکھ کھولی تو اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر اس کے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوئے جیسے غالب نے کہا سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ۔ ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے۔ تو اصل مین فلسفہ وہیں سے شروع ہوا ۔ اور یہ کوئی معیوب بات نہ تھی کیون کہ اپنے اطراف کو جاننے اور اشیا کی حقیقت کو پہچاننے کا شوق انسان مین ازل سے ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا ۔ جو حیرت پہلے انسان کو کائنات دیکھ کر ہوئی تھی وہی آج کے انسان کو نت نئی دریافتوں سے ہو رہی ہے ۔اور انسان اپنے آپ اور کائنات کو جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو کہ ایک اچھا عمل ہے۔ میں یقینا اس پر مزید اپنی گذارشات پیش کروں گا۔ گر قبول افتذ ہے عز و شرف۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام نوشاد صاحب
آپ نے بجا فرمایا کہ فلسفہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان کا وجود ۔۔کیوں کہ انسان سے پہلے عاقل مخلوق سوائے جنوں کے کوئی نہیں تھی ۔ اور عقل کا تقاضا ہے کہ انسان اشیاء کے حقائق اور علل کو جاننے کے کی کوشش کرے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسفہ در اصل جواب ہے کیا ، کیوں اور کیسے کا۔۔۔۔۔ اسی طرح حقائق کی اشیاء تک رسائی ممکن ہے۔ البتہ یہ ایسا موضوع ہے جو ہر نہ صرف خشک ہے بلکہ بہت سوں کو تو سمجھ بھی نہیں آتا اس لئے اس حوالے سے بے شمار لطائف اور مثالیں مشہور ہیں۔ کسی کا شعر بھی ہے کہ فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں سلجھا رہا ہے ڈور کو اور سرا ملتا نہیں اسی طرح ایک جگہ پڑھا کہ فلسفی کا کام ایسا ہے جیسے ۔۔ کسی اندھیرے کمرے میں ایک کالی بلی کو تلاش کرنا جس کا اس کمرے میں وجود ہی نہ ہو ۔۔۔ اس طرح کی مثالیں بتاتی ہیں کہ فلسفے کے حوالے سے دوسری رائے بھی بڑی سخت ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی بھی علم اتنا تر نہیں ہوتا کہ آسانی سے ہر شخص اسے سمجھ سکے مثلا حیاتیات ہے کیا کسی شخص کو اس حوالے سے ڈارون کا نظریہ آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے؟ اسی طرح کیمیا میں کیا اشیا کی کمیت و اوزان سے متعلق باتیں آسانی سے سمجھ آسکتی ہیں ہر گز نہیں ۔ مسلمانوں نے فلسفہ کے میدان میں بڑے شاندار کارنامے سر انجام دیئے ہیں اور اس موضوع کو کائنات کی حقیقت سے نکال کر انسان کی حقیقت اور اس سے بھی آگے مذاہب کی حقیقت اور پھر مذہبی اعتقاد سے متعلق بھی گفتگو شروع کی مثلا ابن رشد جو ارسطو کا سب سے بڑا شارح کہلاتا ہے نے چند ایسے تاریخی بیانات جن کا ذکر قران بھی کرتا ہے کی حقیقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور ان کے خیالات کا رد غزالی نے کیا۔ مگر ہم دونوں کو ہی مسلمان سمجھتے ہیں ۔ اصل میں جب مسلمان علم سے دور ہوئے اور یورپ میں فلاسفہ نے مذہب کو ہی دوبارہ سے دریافت کرنا اور اس سلسلے میں مذہبی اعتقاد کو ہدف تنقید بنانا شروع کیا تو ہمارے بڑے ڈر گئے اور اکبر الہ آبادی کو کہنا پڑا فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں یا وہ لطیفے وجود میں آئے جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ اپنے قلیل علم کے مطابق فلسفے کی مختصر تاریخ بیان کردوں اور اس کے بعد ہم اس علم کو دیکھیں گے کہ کیا یہ واقعی خشک ہے یا اس میں ایسی تری بھی موجود ہے جو ہمارے دماغ کو مزید جلا بخش سکتی ہے آپ دوستوں سے گذارش ہے کہ ہر بات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے مطالعہ کریں اور کھل کر بحث و مباحثہ کریں تاکہ اس علم سے متعلق غلط فہماں دور ہو سکیں۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام مکرمی نوشاد بھائی
آپ نے بالکل درست کہا کہ خشکی تو ہر علم میں ہوتی ہے، اصل مسئلہ سمجھ اور دلچسپی کا ہے۔ اور فلسفہ جس کو سمجھ آ جائے تو وہ اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس کو سمجھنے کے بعد ذہن کی جو گرہیں کھلتی ہیں وہ گوہر نایاب پیدا کرتی ہیں جیسا کہ اقبال مرحوم بطور مثال موجود ہیں۔ نوشاد بھائی میں بھی اس کے متاثرین میں سے ہوں، کچھ کلاسیں لی ہیں میں نے اس کی لیکن یقین کریں میرے لئے یہ فضول ترین سبجیکٹ تھا ۔۔ بس پاس کرنے کے لئے ہی کچھ پڑھ لیتا تھا لیکن سمجھ نہیں آتا تھا۔ البتہ اب اگر کہیں اس بارے میں گفتگو ہو تو اچھا لگتا ہے۔ آپ کے ساتھ اچھا وقت گزرے گا انشاء اللہ۔ ضرور لکھیں ہمیں انتظار رہے گا۔ اور ایک چھوٹی سی التماس ہے کہ اپنی گفتگو کو چھوٹے چھوٹے پیراگراف کی شکل میں لکھیں گے تو پڑھنے میں آسانی ہو گی۔ کیوں کہ اسکرین پر اتنا بڑا پیراگراف ذرا تکلیف دہ ہے آنکھوں کے لئے، اور پلک جھپکنے سے وہ جگہ گم ہو جاتی ہے جہاں پڑھ رہے ہوں۔ امید ہے کوئی بات بری نہیں لگے گی۔ بس اب کچھ زیادہ وقت نکالنا شروع کیجئے تا کہ تشنگان علم کی سیرابی کا بندو بست ہو سکے |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کہتے ہیں کہ فلسفہ یونانیوں کی پہچان ہے یا یوں کہیے کہ سب سے پہلے انھوں نے ہی اس علم کی بنیادیں رکھیں ۔ اس کی بھی ایک وجہ ہے۔ ایسا اس لیئے ہوا کہ یونان وہ خطہ تھا جہاں عجیب و غریب قسم کی دیو مالائی کہانیاں بنائیں گئیں اور ہومر جیسے شاعر پیدا ہوئے ۔ جنھوں نے دیوی دیوتاوں کو بلکل انسانوں کے جیسے جذبات احساسات و خیالات رکھنے والے بنا کر پیش کیا ۔ اس فضا میں زیادہ دیر تک رہنا ویسے بھی فطرت کے خلاف تھا لہذا ایشیائے کوچک میں آیونیا کے شہر میں تھیلز پیدا ہوا ۔تاریخ پیدائش 625قبل مسیح وفات 545 قبل مسیح ۔ یہ جیو میٹری فلکیات انجینیئرنگ موسمیات جہاز رانی جیسے علوم میں مہارت رکھتا تھا۔اس کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ دیوی دیو تاوں کے دنیا کے تخلیق کرنے کے نظریے کے مقابل ایک خالصتا عقلی نظریہ کائنات اور اشیا کی ابتدا کے بارے میں پیش کیا۔ اس نے کہا کہ تمام اشیا پانی ہیں ۔ سب کچھ پانی سے وجود میں آیا ہے اور پھر پانی میں ہی مدغم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ س کے یہ خیالات کسی سائنسی تجربہ کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اس کا صرف یہ مشاہدہ تھا کہ انسان جانور پیڑ پودے وغیرہ پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے اس لیے شاید پانی ہی وہ واحد شئے ہے جو ان سب اشیا میں مشترک ہے ۔اس لیئے اس نے یہ نظریہ پیش کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ اسی طرح کی بات قران بائبل وغیرہ میں بھی آئی ہے کہ تمام حیات کی ابتدا پانی ہے یا ابتدا میں صرف پانی تھا اور بعد میں تمام اشیا خدا نے بنائیں ۔اس لیئے تھیلز کا یہ فلسفہ اس دیو مالائی دور میں ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوا اور یوں کائنات کے بارے میں عقلی طور پر سوچنے کا آغاز ہوا۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نوشاد صاحب میرے خیال میں تو اگر آپ بی اے یا ایم اے کے لیول پر فلسفے کے نصابی سوالات کے جوابات تحریر فرما دیں تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا
|
|
|
|
|
|
#13 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اصل میں میں ایک کم علم شخص ہوں اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ بی اے یا ایم اے کی سطح پر کیا نصابی سوالات آتے ہیں تو میں کوشش کروں گا کہ اگر مجھے ان کے جوابات معلوم ہوں تو تحریر کر دوں گا۔
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تھیلز کے بعد جو دوسرا نام ہمیں فلسفے کی ابتدا میں نظر آتا ہے وہ ہے انیکسیمندر یہ آیونیا کے شہر ملیٹس کا باشندہ تھا 610 ق م میں پیدا ہوا اور 547 ق م میں فوت ہوا۔ اسے یونان کا پہلا فلسفیانہ مضمون نگار اور نقشہ نویس مانا گیا ہے دنیا میں پہلا شمسی گھریال ،پہلا نقشہ اور پہلا گلوب اسی نے بنایا تھا۔ یہ سب سے پہلا مقالہ نگار تھا اسکا مقالہ مادے کی نشونما کے متعلق تھا۔ اسا کا نظریہ یہ تھا کہ کائنات کا بنیادی جز اصل مین مادہ ہے اور اسی سے مل کر ساری چیزیں وجود میں آئی ہیں ۔ اسکا خیال تھا کہ یہ مادہ محدود نہیں بلکہ لا محدود ہے اور ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے کیوں کہ اگر یہ محدود ہوتا تو مختلف دنیاوں کی تخلیق ارتقا اور تباہی کی وجہ سے ختم ہو چکا ہوتا۔ اصل میں جب اس نے تھیلز کے نظریے پر غور کیا تو اس نے پایا کہ اصل مین ہر شے کا بنیادی جز ایک ہی ہے اور اس چیز میں مختلف خصوصیات اس کا نام بدل دیتے ہیں۔ اس کو یوں سمجھیے کہ ہوا اور انسان دونوں مادے سے مل کر بنے ہیں یعنی دونوں کا بنیادی جز ایک ہی ہے مگر انسان مین مختلف خصو صیات پیدا ہو گئیں اور ہوا میں مختلف اس لیئے وہ ہمیں بظاہر مختلف نظر آتے ہین۔ اس نے نظریہ ارتقا بھی پیش کیا تھا اس کا کہنا تھا کہ زمین ابتدا میں سیال تھی گرمی سے بخارات بنے تو خشکی وجود میں آئی گرمی اور رظوبت یعنی نمی سے جانداروں کا ظہور ہوا ۔ ابتدائی مخلوق ادنی تھی پھر اپنے ماحول سے مطابقت اختیار کرتی گئی اور ادنی یعنی چھوٹے جانداروں سے بڑے جانداروں کا ظہور ہوتا گیا۔کچھ جانور خشکی پر ہی رہے کچھ پانی میں چلے گئے اور اپنے ماحول کے مطابق ڈھل گئے۔ اس کو ایشیائے کوچک کی بلند پہاڑیوں پر قدیم مخلوقات کی ہڈیاں و آثار دیکھنے کا موقع ملا تھا اس نے ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا ۔ اس سے آپ اس کی عقل مندی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یوں تھیلز کے بعد مادے اور ارتقا سے متعلق کائنات و اسنان کے تخلیق کی بات پہلی مرتبہ کر کے انیکسیمندر نے خود کو تاریخ مین دوسرا بڑا فلسفی کہلوایا۔ اگر اس مین کوئی بات سمجھ نہ آئی ہو یا مزید وضاحت طلب ہو تو ضرور نشان دہی کرین۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جو کچھہ آپ لکھہ رہے ہیں بہت اچھا ہے میرے خیال میں بی اے یا ایم اے کے فلسفہ کے سٹوڈنٹ اگر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں سے بہت کچھہ حاصل کر سکتے ہیں
میرا کہنے کا مطلب تو یہ تھا کہ کچھہ امتحانی سوالات ایسے ہوتے ہیں جو کہ ہر سال طالب علموں کے لیئے مسئلہ بنے رہتے ہیں ، اور آتے بھی تقریبا ہر سال ہی ہیں ، تو سوال کے حوالے سے اگر جواب تحریر کر دیا جائے تو بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا ، میں خود فلسفے کا سٹوڈنٹ نہیں ہوں ورنہ سوال ڈھونڈ کر لکھہ دیتا |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (18-03-10) |
![]() |
| Tags |
| ہوتا, ہماری, کوئی, کوشش, کرے, کس, گا۔, گذارش, پہلے, قرآن, مقام, معلوم, اسلام, جانے, جائے, حکم, خلاف, خدا, دیکھ, دنیا, ذرا, علم, غور, غلط, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|