واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > تاریخ اور فلسفہ



تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ


سلطنت دہلی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-07, 01:29 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default سلطنت دہلی

سلطنت دہلی

1206ء سے 1526ء تک ہندوستان پر حکومت کرنے والی کئی حکومتوں کو مشترکہ طور پر دہلی سلطنت کہا جاتا ہے۔ ترک اور پشتون نسل کی ان حکومتوں میں خاندان غلاماں (1206ء تا 1290ء)، خلجی خاندان (1290ء تا 1320ء)، تغلق خاندان (1320ء تا 1413ء)، سید خاندان (1414ء تا 1451ء) اور لودھی خاندان (1451ء تا 1526ء) کی حکومتیں شامل ہیں۔ 1526ء میں دہلی کی آخری سلطنت مغلیہ سلطنت میں ضم ہوگئی۔

12 ویں صدی میں شہاب الدین غوری نے غزنی، ملتان، سندھ، لاہور اور دہلی کو فتح کیا اور 1206ء میں اس کی شہادت کے بعد اس کا ایک غلام جرنیل قطب الدین ایبک دہلی میں تخت نشین ہوا اور اس طرح دہلی سلطنت اور خاندان غلاماں کی حکومت کا آغاز ہوا۔ خاندان غلاماں کی حکومت انتہائی تیزی سے پھیلی اور صدی کے وسط تک درہ خیبر سے لے کر بنگال تک کا علاقہ سلطنت میں شامل ہوگیا۔ التمش (1210ء تا 1235ء) اور غیاث الدین بلبن (1266ء تا 1287ء) اس خاندان کے مشہور حکمران رہے۔ 1290ء میں اس خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور خلجی خاندان ابھرا جو غوری کے دوران میں بنگال کا حکمران تھا۔ خلجی حکمرانوں نے گجرات اور مالوہ فتح کیا اور دریائے نرمدا کے پار جنوب میں تامل ناڈو تک ان کے قدم جاپہنچے۔ پہلے سلطان دہلی اور بعد ازاں گلبرگہ کی بہمنی سلطنت اور 1518ء میں بہمنی سلطنت کی 5 دکن سلطنتوں میں تقسیم کے بعد بھی جنوبی ہند میں مسلمانوں کی پیش قدمی جاری رہی۔ ہندو سلطنت وجے نگر نے جنوبی ہند کو اپنے پرچم تلے جمع کرتے ہوئے دہلی سلطنت کی پیش قدمی کو کچھ عرصے کے لئے روکا لیکن 1565ء میں دکن سلطنت کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔

دہلی سلطنت واحد سلطنت تھی جس کے دوران بھارت پر ایک خاتون نے حکومت کی۔ خاندان غلاماں کی حکومت کے دوران التمش نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کے حق میں وصیت کردی تھی جس نے 1236ء سے 1240ء تک تخت ہندوستان سنبھالا۔ حالانکہ اس کا دور حکومت انتہائی مختصر تھا لیکن مورخین اس کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ التمش کے کئی بیٹے تھے لیکن وہ کہتا تھا کہ "مرد تو صرف رضیہ ہے"۔ رضیہ کو اپنے ہی بھائیوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر اپنے شوہر سمیت انہی کے ہاتھوں ماری گئی۔ وہ مسلم تاریخ کی پہلی خاتون حکمران تھی جس کی حکومت مشرق میں دہلی سے مغرب میں پشاور اور شمال میں کشمیر سے جنوب میں ملتان تک قائم تھی۔

1398ء میں تیمور لنگ کے حملے کے باعث سلطنت دہلی کو زبردست نقصان پہنچا اور اودھ، بنگال، جونپور، گجرات اور مالوہ کی آزاد حکومتیں قائم ہوگئیں۔ لودھیوں کے دور حکومت میں دہلی سلطنت کافی حد تک بحال ہوگئی اور بالآخر 1526ء میں ظہیر الدین بابر نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
وصیت, قدم, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger