| تاریخ اور فلسفہ تاریخ اور فلسفہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں کوشش کروں گا کہ ایم اے اور بی اے کے لیول پر فلسفے کے جوسوالات آتے ہیں انھیں کہیں سے معلوم کرکے ان کے جوابات لکھ دوں اس سلسلے میں اگر کوئی میری رہنمائی سوالات بتا کر کرے تو میں شکر گزار ہوں گا۔
|
|
|
|
|
|
#17 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم دوستو
فلسفہ پر خبریں بہت گرم ہیں۔ تو کیوں نہ ہم بھی شامل ہو جائیں۔ فلسفہ جیسے مضمون سے بچنا ہی چاہئے، میرا ایک فرسٹ کزن جس نے فلسفیات میں ایم۔ اے کیا تھا، لاہور میں ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا مگر اب وہ اپنی بیوی کے ساتھ لاہور چھوڑ کر اسلام آباد رہ رہا ھے، اس وقت وہ اسلام آباد میں کسی ملٹینیشن کمپنی میں میڈیکل ریپ مینجر ھے۔ جناب وہ اللہ سبحان تعالی اور ہر چیز کا منکر ہو گیا ہوا ھے، جہاں پر بیٹھتا ھے اپنی تھیوڑی پیش کرنے کی کوشش کرتا ھے مگر اسے کوئی بولنے نہیں دیتا اس لئے کہ وہ جو بولتا ھے بہت غلط بولتا ھے۔ بہت ہی ہی کم لوگ ایم۔اے فلسفیات کرنے کے بعد شائد کے اپنے آپ کو سنبھال پاتے ہونگے شائد مگر ہم نے تو اپنے کزن کو دیکھا ھے وہ ایک عجیب ہی چیز بن گیا ہوا ھے۔ پھر میں ان دنوں پاکستان میں تھا کہ میری وائف کی دو کزن بہنیں جنہوں نے ایم۔اے میں فلسفہ میں داخلہ لیا تھا اور ان کے کچھ لیسن ہو چکے تھے تو ان کے گھر جانا ہوا تو انہوں نے میرے ساتھ بات کی کہ بہت عجیب سا لگتا ھے سب کچھ الٹ ھے، خیر میں نے انہیں اپنی طرف سے بہت سے دلائل کے ساتھ سمجھایا تھا ایک عرصہ ہو گیا پتہ نہیں ان کا کیا بنا ہو گا۔ دینی مدارس جہاں پر 8 سال کا ڈگری کورس کروایا جاتا ھے عالم فاضل کا، فلسفہ انہیں بھی پڑھایا جاتا ھے مگر وہ علماء کی موجودگی میں۔ میری اپینین ھے کہ فلسفہ سے دور ہی رہا جائے تو اچھا ھے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام کنعان بھائی
آپ کے خدشات بجا، بطور خاص جب آپ کے اپنے خاندان سے مثالیں آپ کے پاس موجود ہوں۔ اور ویسے بھی ایسے بیشمار قصے سنے ہیں کہ فلسفہ پڑھنے کے بعد لوگ دھریئے بن جاتے ہیں۔ اور اس کی وجہ کی جانب بھی آپ نے اشارہ کر دیا کہ مدارس میں چونکہ یہ اسباق علماء کی موجودگی میں ہوتے ہیں اس لئے وہاں یہ خدشات کم ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ فلسفہ صرف عقل کے استعمال پر زور دیتا ہے، اگر وحی الہی کی رہنمائی ہر قدم پر ساتھ نہ ہو تو پھر گمراہ ہونے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مختلف تھیوریز پڑھی جاتی ہیں کائنات کے متعلق، انسان کے متعلق، انسان اور دیگر اشیاء کے آپس کے تعلق کے متعلق، تخلیق کائنات کے متعلق تو ایسے عقلی دلائل سے بحث کی جاتی ہے جو بظاہر اپیلنگ ہوتے ہیں ، اور اگر اس وقت مناسب رہنمائی نہ ملے تو بھٹکنے کے امکانات کافی ہوتے ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مٰن بھی ایم اے فلسفہ پھر ایم فل اور پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے لیکن تا حال ایسا کوئی کیس میری معلومات میں نہیں آیا۔ البتہ میرا خیال ہے کہ ذہن کی گرہیں کھولنے کے لئے اس کو پڑھنا ضرور چاہیئے۔ لیکن وحی الہی کی رہنمائی ہر قدم پر آپ کے ساتھ رہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فلسفہ کیا ہے
اس سے بھٹکنے کے امکانات کیوں پیدا ہوتے ہیں فلسفہ تو نامعلوم کی جستجو کا نام ہے ، ایسی راہیں پیدا کرنے کا نام ہے جو تحقیق کے دروازے وا کرتی ہیں ، ہمارے خیال میں تو کوئی بھی انسان جب گھوم پھر کر اور ڈھونڈ ڈھانڈ کر خدا تک پہنچتا ہے تو بہت اچھا اور سچا مسلمان بنتا ہے ۔ جو بھٹک جاتے ہیں وہ ان کی قسمت اور نا اہلی کہی جا سکتی ہے ، ورنہ فلسفہ جیسا علم کائنات کی سب سے بڑی سچائی کو جھٹلانے کا باعث کیسے ہو سکتا ہے |
|
|
|
|
|
#20 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارسطو ( 384۔322ق م ) ارسطو ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہے جس کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا ۔ ارسطو حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے 384 سال پہلے ایتھنز سے دو سو میل دور شمال میں اسٹاگیرا کے مقام پر پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک متمول شخص تھا اورمقدونیا کے بادشاہ ایمن ٹاس کا طبیب خاص تھا ۔ باپ کی خواہش کے مطابق ارسطو نے بچپن میں طب کی تعلیم حاصل کی اور ادویات کے تجربات میں باپ کے ساتھ شریک رہا ۔ اسی وجہ سے تحقیق و تفتیش شروع ہی سے اس کی گھٹی میں پڑ گئی ۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ ایتھنز آیا اور افلاطون سے فلسفے کی تعلیم حاصل کرتا رہا ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ آٹھ سال تک جاری رہا اور بعض کتابوں میں آیا ہے کہ وہ بیس سال تک افلاطون سے تعلیم حاصل کرتا رہا ۔وہ اس قدرذہین تھا کہ افلاطون اسے ذہانت مجسم کہتا تھا ۔کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کے شوق میں یہ عالم تھا کہ اس زمانے میں جب چھاپہ خانہ نہیں تھا اس نے اتنی کثیر تعداد میں کتابیں جمع کیں کہ شاید ہی ایتھنز میں کسی کے پاس اتنا بڑا ذخیرہ ہو ۔ افلاطون اس کے گھر کو ” پڑھنے والے کا گھر “ کہتا تھا ۔ جب اسکندر اعظم تیرہ سال کا ہوا توا س کے باپ مقدونیا کے بادشا فلپ نے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے ارسطو کو اتالیق مقرر کیا۔ باپ کے مرنے کے بعد جب اسکندر تخت سلطنت پر بیٹھا اور اپنی فتوحات سے دنیا کی تاریخ پر اَنمٹ نقوش ثبت کیے تو اپنے استاد ارسطو کو بھی نوزا ۔ ارسطو نے 53سال کی عمرمیں لائی سییم Lyceum کے نام سے ایک اسکول قائم کیا بنیادی طور پر یہ ایک سائنسی ادارہ تھا جہاں نیچر ل سائنس اور حیاتیات وغیرہ پر تحقیقات کی جاتی تھیں اور طلبہ کو سائنس اور علم و ادب کی تعلیم بھی دی جاتی تھی 323ق م اسکندر اعظم عالم جوانی میں مر گیا اس کے مرنے کے بعد بغاوت کا ایک سیلاب اٹھا اور ایتھنز خود مختار ہو گیا۔ حالات ایسے بگڑے کہ ارسطو ایتھنز چھوڑ کر چلا گیا اور ایک سال بعد 322ق م میں وفات پا گیا ۔ اسی سال ڈیمو ستھینز نے بھی زہر پی کر خودکشی کر لی ۔ ارسطو سے سینکڑوں کتابیں اور رسالے منسوب کیے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ضائع ہو گئے۔ کچھ قدیم مصنفین نے ارسطو کی تصانیف کی تعداد چار سو بتائی ہے اور کچھ نے ان کی تعداد ایک ہزار تک بتائی ہے ۔بہر حال اس بات سے یہ ضرور پتا چلا کہ ارسطو نے جو کچھ لکھا وہ سب کا سب ہم تک نہیں پہنچا ۔ لیکن منظق ، سائنس ، فلسفہ ، اخلاق ، و سیاست کے بارے میں کئی اہم تصانیف کے علاوہ فن خطابت اور بطیقا ہم تک پہنچی ہیں ارسطو کی یہ ساری تصانیف ذہن انسانی کے لیے آج بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہیں ارسطو کی ایک بنیادی اہمیت یہ ہے کہ اس نے سائنس، فلسفہ و منطق وغیرہ کی ایسی لا تعداد اصطلاحات وضع کیں کہ دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ہم آج بھی انہی اصطلاحات کی مدد سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ بوطیقا 335۔322ق م ارسطو کی وہ تصنیف ہے جس کا اثر آج تک جاری و ساری ہے یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ آیا موجودہ صورت میں بوطیقا ارسطو کی اپنی تصنیف ہے یا یہ ارسطو کی اصل تصنیف کا خلاصہ ہے جسے کسی اور نے کیا یا پھر یہ وہ اشارات ہیں جنہیں ارسطو کے لیکچر کے دوران کسی شاگرد نے اپنی یاداشت کے لیے قلمبند کر لیا ۔ 1498 میں جیور جیوولا نے عربی سے اس کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا لیکن یونانی زبان کا اصل متن پہلی بار 1508ء میں شائع ہوا ۔ اس وقت ارسطو کی وفات کو تقریباً ایک ہزار آٹھ سو سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔ یہ بات واضح رہے کہ یورپ یونانی تصانیف سے عربوں کے توسط ہی سے متعارف ہوا ورنہ تقریباً پونے دو ہزار سال تک یورپ یونانی تصانیف سے عربوں کے توسط ہی سے متعارف ہوا ورنہ تقریباً پونے دو ہزار سال تک یورپ یونانی تصانیف کی اہمیت سے لاعلم تھا ۔ ”بوطیقا“ کا پہلا باقاعدہ تنقیدی ایڈیشن ” روبورٹیلی “ نے 1548ء میں مرتب و شائع کیا ۔ ” بوطیقا “ میں اظہار کی وہ وحدت نہیں ملتی جو ارسطو کی دوسری تصانیف کا طرہ امتیاز ہے لیکن اس میں فن شاعری کا ایک مکمل و مربوط نظریہ موجود ہے ۔ بعض نقادوں کا خیال یہ ہے کہ ارسطو نے ” بوطیقا “ میں اپنے استاد افلاطون کا نام لیے بغیر نہ صرف فن شاعری کا جواز پیش کیا ہے بلکہ افلاطون کے اس دعوے کو بھی باطل قرار دیا ہے جس کی وجہ سے اس نے شاعروں کو اپنی مثالی جمہوریہ سے نکال باہر کیا تھا ایٹکنز نے لکھا ہے کہ افلاطون نے ڈرامے کے اثرات پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈراما ذہن انسانی کو مضمحل اور کمزور کر دیتا ہے اور انتشار کا اثر پیدا کرتا ہے ۔ ارسط نے کہا کہ یہ اثرات دراصل ذہنی صحت کے لیے نہایت شفابخش ہیں ۔ ڈراما اور شاعری دراصل ذہن انسانی کا کتھارسیس کرتے ہیں ۔ کتھارسیس کی بوطیقا میں وضاحت کی گئی ہے اور آج تک بات ہر قابل وقعت ادب کے سلسلے میں ایک مسلمہ اصول کی حیثیت رکھتی ہے ٹریجیڈی کا مقصد روح کا تزکیہ ہے ۔ ٹریجیڈی کے واقعات روح کو برانگیختہ کر کے دہشت اور ترس کے جذبات کو ایسے مقام پر لے آتے ہیں کہ وہ نہ صرف تھک کر ختم ہو جاتے ہیں بلکہ امید وہمت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ۔ یہی کتھار سیس ہے ۔ اسی لیے شاعری کی ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔ لیکن اس کے باوجود بوطیقا کوئی جوابی تصنیف نہیں ہے اس میں جو ادھورے پن کا احساس ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری تصنیف ہم تک نہیں پہنچی اور خصوصیت کے ساتھ وہ حصہ جس میں کامیڈی کے بارے میں ارسطو نے اظہار خیال کیا تھا ۔ خود بوطیقا کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ ارسطو نے صرف ٹریجیڈی کے بارے میں ہی میں نہیں بلکہ کامیڈی پر بھی اظہار خیال کیا تھا۔ بوطیقا میں ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ ” کامیڈی کے بارے میں میں بعد میں بات کروں گا “ ۔ بوطیقا کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ شعرو ادب کے بارے میں اس نے کچھ اور بھی لکھا تھا بوطیقا میں” ٹریجیڈی کے کردار “ کے ذیل میں اس نے کہا ہے کہ ” بہرحال میری تصانیف میں ان امور کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکاہے “ بوطیقا میں ارسطو نے نقل ، نیچر ، شاعری کی اصل شاعری کی اقسام ٹریجیڈی کے اصول وغیرہ پر بحث کی ہے اور شاعری کا ایک آفاقی نظریہ پیش کیا ہے ” نقل “ فن جمالیات کیا ایک بنیادی اصطلاح ہے ۔ ارسطو اس لفظ کا اطلاق شاعری پر کرتا ہے ۔ پروفیسر بوچر کے الفاظ میں ارسطو کے ہاں نقل کا مطلب ہے حقیقی خیال کے مطابق پیدا کرنا تخلیق کرنا اور خیال کے معنی ہیں اشیاء کی اصل جو عالم مثال میں موجود ہے جس کی ناقص نقلیں اس دنیا میں نظرآتی ہیں ۔ عالم حواس کی ہر شے عالم مثال کی نقل ہے ۔ ارسطو کے نزدیک انسان حواس کے ذریعہ کسی شے کا ادراک کرتا ہے ہر شے کے اندر ایک مثالی ہیت موجود ہے ۔ لیکن خود اس شے سے اس ہیت کا ادھورا اور نامکمل اظہار ہوتا ہے ۔ یہ ہیئت فنکار کے ذہن پرحسی شکل میں اثر انداز ہوتی ہے اور وہ اس کے بھرپور اظہار کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح اس عالم مثال کو سامنے لاتا ہے جودنیا ئے رنگ وبو میں نامکملطور پر ظاہر ہوا ہے ۔ حواس کے ذریعہ جس دنیا کو محسوس کیا جاتا ہے وہ ” اصل حقیقت “ کے نامکمل اور ادھورے مظاہر ہیں ۔ طبعی دنیا کی مختلف شکلیں جدائی اور مثالی شکلوں کی نقلیں تھیں جنہیں اس مادی دنیا میں سونے والے حادثات نے مسخ کر دیا ہے فلسفی کا کام یہ ہے کہ وہ ان اتفاقی اور مسخ شدہ شکلوں کے اندر ” اصل حقیقت “ کو دریافت کرے اور ان قوتوں کو تلاش کرے جو ساری ہستی کا سبب ہیں اور اسے حرکت میں لاتے ہیں ۔ یہی کام شاعر کا ہے ۔ ارسطو کے اس ” شاعرانہ نقل “ کے نظریہ نے شاعر کو فلسفہ کے اعلی منصب میں ایک اہم مقام عطا کر دیا ۔ اس نظریہ کے مطابق نقل تخلیقی عمل ہے ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چونکہ گفتگو کا رخ ایک ایسی سمت مڑ گیا ہے کہ اس سے پہلے کے فلسفے کی تاریخ کو جاری رکھا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جناب کنعان بھائی کی بات کا جواب دے دیا جائے ۔اصل میں شاید اس طرح کی غلط فہمی ہو رہی ہے کہ شاید ہم لوگ فلسفہ کو بطور ایک نصابی مضمون کے ڈسکس کر رہے ہیں ۔میں فلسفہ کا باقائدہ طالب علم نہیں رہا ہوں نہ ہی جانتا ہوں کہ نصابی کتابوں میں آخر وہ کون سے فلسفیانہ مباحث ہوتے ہیں جن کی وجہ سے طالب علم گمراہ ہو جاتے ہیں ۔مگر میں نے تھیلز سے لے کر برٹرنڈ رسل اور پھر موجودہ دور کے فلاسفہ سیموئیل ہنگٹنگٹن اور فرانسس فوکو یاما تک کے نظریات کو پڑھا ہوا ہے مگر الحمد اللہ میرا ایمان ابھی تک سلامت ہے بلکہ اور زیادہ مضبوط ہوا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تمام فلاسفہ اصل میں جس حقیقت کے متلاشی تھے اور ہیں وہ حقیقت اصل میں خدا کا علم ہی ہے ۔اسی علم کی تلاش میں صوفی اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی کی تلاش کرتا ہے ۔اور اسی علم کی تلاش میں فلسفی کائنات اور انسان کی تاریخ ،عادات اخلاق وغیرہ کے اندر حقیقت تلاش کرتا ہے ۔ہاں اس دوران کسی سے غلطی ہو سکتی ہے ہمارا کام اس غلطی کو واضح کرنا ہے اور کی کی جگہ جو درست بات ہمیں لگتی ہو وہ کہ دینا ہے۔اگر ہماری بات غلط ہوگی تو کوئی اور اس کی غلطی واضح کر دے گا علم کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا ۔اگر ہم قاضی بن کر فتوے لگا کر علم کا سفر روکنے کی کوشش بھی کریں گے تو علم کا سفر تو نہیں رکے گا جیسے کہ نہیں رکا ۔ہاں البتہ ہم اس علم کے سفر سے باہر ہو جائیں گے اور فقط دوسروں کے نظریات کو درست سمجھ کر اندھا دھند اس کی پیروی کرتے رہیں گے جیسے کہ آج کل مسلمان قوم کر رہی ہے
|
|
|
|
|
|
#22 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم برادر
آپ نے جو ذکر کیا ھے کہ فلسفہ پر کچھ صاحبان کے خیالات پر مبنی ناول پڑھے ہیں یا ان پر مطالعہ کیا ھے تو ڈئر یہ ایک الگ چیز ھے۔ نصاب میں جب آپ پڑھیں گے تو پھر اس میں ہر بات لکھی ہو گی۔ فلسفہ ایک علم ھے ایک مضمون ھے پاکستان کے نصاب میں ھے بہت خشک مضمون ھے، ایم اے فلسفیات کے بعد سب ایمان کی حالت میں نہیں رہتے کچھ اپنا ٹیمپو کھو دیتے ہیں۔ میرا کزن بھی ان میں سے ایک ھے۔ وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ھے مگر جو وہ باتیں کرتا ھے اور جو اللہ کے وجود کے بارے میں بیان کرتا ھے یا اسطرح کی اور باتیں کرتا ھے وہ کسی کو بھی قبول نہیں ہیں۔ اور اس پر میں پاکستان کی کچھ مشہور شخصیات کے بارے میں بھی لکھ سکتا ہوں مگر آپ نے اس کا جواب انٹرنٹ میں ڈھونڈنا ھے تو وہ آپ کو لائبریری میں پڑی کتابوں میں ملے گا انٹرنٹ میں نہیں۔ پھر جب آپ ان کے بارے میں جانتے ہی نہیں تو آپ انٹرنٹ سے دیکھ کر کسی بھی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس طرح بات بہت دور نکل جائے گی۔ کسی چیز کو یا ناول کو کچھ دیر کے لئے پڑھنا اور کسی پر سپیشلسٹ ہونا دونوں میں فرق ہوتا ھے۔ اس کی ایک مثال آپکی نظر کرتا ہوں۔ میں حدیث پر جتنی بھی کتابیں پڑھ لوں مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوگا کیونکہ میں اسے سمجھنے سے قاصر ہوں اور اگر میں کسی دینی مدرسہ سے اس پر تعلیم حاصل کرتا ہوں تو پھر معروف اساتذہ کرام مجھے اس پر سب کچھ سکھائیں گے۔ تو پھر مجھ پر بھی اثر ہو گا اور میں دوسرں پر بھی اثر دکھاؤں گا۔ کوئی بھی علم کتابیں پڑھنے سے نہیں آتا وہ مطالعہ کہلاتا ھے، علم سیکھنے کے لئے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کرنی ہوتی ھے میں نے فلسفہ میں کچھ نہیں کیا ہوا مگر جب میں بھی کسی پر پڑھوں گا تو مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ ہاں اگر میں فلسفہ پر یہاں لکھنا شروع کر دوں تو شائد مجھ پر بھی فتوے لگ جائیں گے کیونکہ میرے پاس کتاب اللہ اور کتاب حدیث موجود ھے وہاں سے مجھے جتنی سمجھ آتی ھے وہ میں لے سکتا ہوں مگر فلسفہ اس کے مخالف ھے۔ آپ اگر اس پر لکھنا چاہتے ہیں تو آپ لکھیں شائد ہمیں آپ کی طرف سے کچھ جاننے کا موقع ملے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#23 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انیکسیمنڈر کے بعد جو نام ہمارے سامنے آتا ہے وہ ہے اینیکسیمنزیہ بھی آیونیا کے شہر ملیٹس میں ۵۸۵ ق م میں پیدا ہوا ۔یہ انیکسیمنڈر کا معاون اور شاگرد تھا اس لیئے غور و فکر کائنات کی حقیقت جاننے کا شوق رکھتا تھا اس کے سامنے اپنے استاد کا فلسفہ تھا اس نے اس پر غور کیا تو اسے ایک نئی شکل میں پیش کیا ۔اس نے کہا کہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہوا ہے۔کیوں کہ ہوا ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ حرکت کرتی دکھائی دیتی ہے۔اس نے کہا کہ ہوا دو طرح سے اس کائنات میں عمل کرتی ہے ۔ایک (Rerefaction)یعنی عمل احتراق ۔اور دوسرا (Condenstion)یعنی عمل تکثیف۔مطلب اس کا یہ ہے کہ پہلے عمل میں ہوا بھڑکتی ہے اور پھیل کرآگ کی مثل ہو جاتی ہے۔اس آگ سے آسمان کی بلندیوں پر ستارے وجود میں آئے ہیں۔اور دوسرے عمل میں ہوا سکڑتی ہے تو پہلے بادل بنتی ہے اور مزید سکڑنے سے پانی ،زمین اور چٹانوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس نے غور کیا تو پایا کہ انسان کی زندگی کی ڈور ہوا اور اس کے ذریعے لی جانے والی سانس پر ہے انسان اس وقت مردہ ہو جاتا ہے جب اس کے اندر سے سانس لینے یا ہوا کو اپنے جسم کے اندر باہر کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح باقی جانداروں کا بھی حال ہے اس لیئے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہوا ہی اصل میں کائنات کا اصل جوہر ہے۔
اس کے بعد ہمیں جو نام ملتا ہے وہ ریاضی کا ایک بہت بڑا نام ہے یعنی فیثا غورث یہ ۵۷۸ ق م میں سمیاس کے جزیرے میں پیدا ہوا پھر یہ جنوبی اٹلی کے شہرٹوٹا کی طرف نقل مکانی کر گیا۔وہاں اس نے ایک فیثا غورثی سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔یہی تھا جس نے سب سے پہلے ریاضی اور فلسفے کی بنیادی اصطلاحات وضع کیں۔اسی نے موسیقی کے بنیادی اوزان بھی بنائے۔یہی تھا جس نے ریاضی سائنسی علوم تصوف اور مذہب کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔اس کی تعلیمات ہندوں برہمنوں سے مشابہ تھیں یہ آوا گون ،مراقبہ ،محاسبہ نفس،جانوروں کی قربانیوں کی مخالفت ،گوشت کھانے سے پرہیزتمام جانداروں پر رحم کرنے،فلسفہ و ریاضی میں مشغولیت،راہبوں اور صوفیوں کی طرح زندگی گزارنے،کا قائل تھا۔اس کے خیال میں انسانوں کی تین قسمیں ہیں ( اس نے یہ قسمیں اولمپک دیکھنے آنے والوں سے اخذ کی تھیں)۱۔وہ لوگ جو مختلف اشیاء بیچتے نظر آتے ہیں۔ ۲۔ وہ لوگ جو کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے آتے ہیں۔ ۳۔وہ لوگ جو صرف تماشائی کی حیثیت سے کھیلوں کا لطف لینے آتے ہیں۔اس کا کہنا یہ تھا کہ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی صفت موجود نہ ہو۔مثلا کوئی چیز میٹھی ہے کوئی کھٹی ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک چیز کی صفت دوسری چیز میں بھی موجود ہو۔مثلا کوا کالا ہوتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ باقی چیزیں بھی کالی ہوں ۔اس طرح کوئی ایک چیز ایسی نہیں جس کی صفات دوسری چیزوں سے ملتی ہو۔مگرایک صفت ایسی ہے جو ہر چیز میں مشترک ہے وہ ہے عدد۔ یعنی دنیا کی ہر چیز کو گنا جاسکتا ہے۔اگر دنیا کی تمام اشیاء کی تمام صفات ختم بھی کردی جائیں تو بھی انھیں گنا جا سکے گا۔اس لیئے صرف صفت عدد ہی وہ خوبی ہے جو تمام اشیاء میں موجود ہے۔اس لیئے کائنات کی اصل عدد ہے۔اور عدد کی اصل ایک ( ۱ ) ہے اسی میں عدد کے جمع کرنے سے کائنات میں اشیاء کی کثرت کی تشکیل ہوتی ہے۔اور یہ ایک ( ۱ ) کا عدد ناقابل تقسیم بھی ہے ۔اس لیئے کائنات کی اصل وحدت ہے اور اسی سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے۔اور اس اکائی سے آگے جانا ممکن ہیں۔اس فلسفے میں آپ ابن اکبر عربی کا فلسفہ وحدت الوجود دیکھ سکتے ہیں |
|
|
|
|
|
#24 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ااس کے بعد پارمینڈیز کا نام سامنے آتا ہے جو ۵۰۴ق م میں پیدا ہوا۔اس کے نزدیک علم حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ۔اول حواس دوم عقل۔اور یہ دونوں ایک دوسرے سے الٹ علم دیتے ہیں۔مثلا اگر ریل کی پٹریوں پر کھڑ ے ہو کر دیکھا جائے تو حواس دونوں لائنوں کے آپس میں دور ملنے کا پتہ دیتے ہیں۔جبکہ عقل کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو لائنیں آپس میں نہیں ملتیں۔اس لیئے اس کا کہنا تھا کہ انسان کے حواس اسے دھوکا دیتے ہیں جبکہ عقل ہی حقیقت بتاتی ہے۔اس نے حواس کے ذریعے نظر آنے والی دنیا کو مظاہر ( یعنی نظر آنے والی چیزیں) اور عقل کی دنیا کو حقیقت( یعنی چیزوں کی اصل حقیقت ) قرار دیا ہے۔اس کے نزدیک حقیقت کی دنیا ایک ازلی ابدی جامد مسلسل لامحدود غیر محتاج اور زمان و مکان نے مبراء ہے۔یعنی اشیاء کی حقیقت ایک ہی رہتی ہے کبھی نہیں بدلتی۔اس نے فیثا غورثیوں کے اس نظرئیے پر تنقید کی کہ اگر اشیاء میں سے صفات کو نکال دیا جائے تو بھی اس کا عدد ہونا باقی رہے گا۔ اس نے کہا کہ اگر عدد کو بھی نکال دیں تو بھی چیز تو اپنی جگہ موجود رہے گی اسے گنا جا سکے یا نہ گنا جاسکے اس کا وجود تو رہے گااسی لیئے کائنات کی اصل حقیقت عدد نہیں بلکہ اس کا موجود ہونا ہے۔یعنی چیزیں موجود ہیں یہی حقیقت ہے ۔او ر اس کو عقل سے جانا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد زینو کا نام آتا ہے۔یہ ۴۵۰ق م میں ایلیاء میں پیدا ہوا ۔یہ پارمینڈیز کا شاگرد تھا۔یہ ایتھنز میں بھی کچھ عرصہ رہا۔ اس نے جدلیات یعنی(Dialectics)کا فن ایجاد کیا جسے بحث کرنے کا فن بھی کہتے ہیں۔اس کا نظریہ یہ تھا کہ جب ہم کسی نظریئے کو درست قرار دیتے ہیں تو اس میں اس کا متانقض یعنی مخالف نظریہ بھی موجود ہوتا ہے ۔اس لیئے ایسا نظریہ جس میں اس کا مخالف نظریہ موجود ہو تو ایسا نظریہ غلط ہو گا ۔کیوں کہ اس میں اس کا ہی مخالف نظریہ موجود ہے۔اس نے فیثا غورثیوں کے اعداد کے نظریئے سے اسے سمجھایا انھوں نے کہا تھا کہ کائنات اعداد سے بنی ہے۔زینو نے کہا کہ اگر کائنات اعداد سے بنی ہے تواعداد تو بے شمار ہوں گے اور گنے نہیں جا سکتے ہوں گے اس لیئے کائنات لا محدود قرار پائے گی۔ جبکہ اس نظریئے کا کوئی مخالف اعداد کے نظریئے سے یہ نتیجہ بھی نکال سکتا ہے کہ کائنات چونکہ اعداد سے بنی ہے اور اعداد اس قابل ہیں کہ انھیں گنا بھی جا سکتا ہے اور گنتی کا مطلب ہوا کہ کائنات کی اشیاء محدود ہیں جنھیں گنا جا سکتا ہے اس لیئے کائنات محدود قرار پائے گی۔سو فیثا غورثیوں کا نظریہ اعداد اس قابل نہیں کہ اسے درست مانا جائے کیوں کہ یہ ایسا نظریہ ہے جس میں سے مثبت اور منفی پہلو دونوں نکالے جا سکتے ہیں اور ایسا نظریہ جس میں بیک وقت کسی بات کا اثبات اور نفی دونوں موجود ہوں کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے۔لہذا اس کے خیال میں نظریہ وہی درست ہے جس میں سے ایک ہی مثبت پہلو ہی ثابت کیا جاسکے نہ کہ دونوں پہلو ۔اس نے کائنات میں حرکت کی بھی نفی کی ۔اس کے خیال میں اگر ایک تیر کو کسی کمان سے چھوڑا جائے تو وہ دیکھنے میں حرکت کر رہا ہوگا لیکن فاصلہ طے کرنے کے دوران کسی نہ کسی مقام پر ساکن ہوگا کیوں کہ اس دوران وہ کسی نہ کسی مقام پر ہوگا اور جس مقام پر ہوگا اس لمحے ساکن ہو گا ۔اس لیئے حرکت کا نظریہ بیک وقت دو الگ الگ باتیں سامنے لاتا ہے کہ تیر حرکت بھی کرے گا اور اس دوران کسی نہ کسی مقام پر ساکن بھی رہے گا ۔اس لیئے چونکہ حرکت کے نظرئیے سے دو متضاد باتیں سامنے آتی ہیں اس لیئے یہ نظریہ درست نہیں۔ اس کے بعد ہرا قلیتوس کا نظریہ سامنے آتا ہے جو کہ زینو کے نظرئیے کے با لکل برعکس ہے۔اس کا کہنا ہے کہ |
|
|
|
|
|
#25 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انیکسیمنڈر کے بعد جو نام ہمارے سامنے آتا ہے وہ ہے اینیکسیمنزیہ بھی آیونیا کے شہر ملیٹس میں ۵۸۵ ق م میں پیدا ہوا ۔یہ انیکسیمنڈر کا معاون اور شاگرد تھا اس لیئے غور و فکر کائنات کی حقیقت جاننے کا شوق رکھتا تھا اس کے سامنے اپنے استاد کا فلسفہ تھا اس نے اس پر غور کیا تو اسے ایک نئی شکل میں پیش کیا ۔اس نے کہا کہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہوا ہے۔کیوں کہ ہوا ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ حرکت کرتی دکھائی دیتی ہے۔اس نے کہا کہ ہوا دو طرح سے اس کائنات میں عمل کرتی ہے ۔ایک (Rerefaction)یعنی عمل احتراق ۔اور دوسرا (Condenstion)یعنی عمل تکثیف۔مطلب اس کا یہ ہے کہ پہلے عمل میں ہوا بھڑکتی ہے اور پھیل کرآگ کی مثل ہو جاتی ہے۔اس آگ سے آسمان کی بلندیوں پر ستارے وجود میں آئے ہیں۔اور دوسرے عمل میں ہوا سکڑتی ہے تو پہلے بادل بنتی ہے اور مزید سکڑنے سے پانی ،زمین اور چٹانوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس نے غور کیا تو پایا کہ انسان کی زندگی کی ڈور ہوا اور اس کے ذریعے لی جانے والی سانس پر ہے انسان اس وقت مردہ ہو جاتا ہے جب اس کے اندر سے سانس لینے یا ہوا کو اپنے جسم کے اندر باہر کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح باقی جانداروں کا بھی حال ہے اس لیئے وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ہوا ہی اصل میں کائنات کا اصل جوہر ہے۔
اس کے بعد ہمیں جو نام ملتا ہے وہ ریاضی کا ایک بہت بڑا نام ہے یعنی فیثا غورث یہ ۵۷۸ ق م میں سمیاس کے جزیرے میں پیدا ہوا پھر یہ جنوبی اٹلی کے شہرٹوٹا کی طرف نقل مکانی کر گیا۔وہاں اس نے ایک فیثا غورثی سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔یہی تھا جس نے سب سے پہلے ریاضی اور فلسفے کی بنیادی اصطلاحات وضع کیں۔اسی نے موسیقی کے بنیادی اوزان بھی بنائے۔یہی تھا جس نے ریاضی سائنسی علوم تصوف اور مذہب کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔اس کی تعلیمات ہندوں برہمنوں سے مشابہ تھیں یہ آوا گون ،مراقبہ ،محاسبہ نفس،جانوروں کی قربانیوں کی مخالفت ،گوشت کھانے سے پرہیزتمام جانداروں پر رحم کرنے،فلسفہ و ریاضی میں مشغولیت،راہبوں اور صوفیوں کی طرح زندگی گزارنے،کا قائل تھا۔اس کے خیال میں انسانوں کی تین قسمیں ہیں ( اس نے یہ قسمیں اولمپک دیکھنے آنے والوں سے اخذ کی تھیں)۱۔وہ لوگ جو مختلف اشیاء بیچتے نظر آتے ہیں۔ ۲۔ وہ لوگ جو کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے آتے ہیں۔ ۳۔وہ لوگ جو صرف تماشائی کی حیثیت سے کھیلوں کا لطف لینے آتے ہیں۔اس کا کہنا یہ تھا کہ دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی صفت موجود نہ ہو۔مثلا کوئی چیز میٹھی ہے کوئی کھٹی ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک چیز کی صفت دوسری چیز میں بھی موجود ہو۔مثلا کوا کالا ہوتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ باقی چیزیں بھی کالی ہوں ۔اس طرح کوئی ایک چیز ایسی نہیں جس کی صفات دوسری چیزوں سے ملتی ہو۔مگرایک صفت ایسی ہے جو ہر چیز میں مشترک ہے وہ ہے عدد۔ یعنی دنیا کی ہر چیز کو گنا جاسکتا ہے۔اگر دنیا کی تمام اشیاء کی تمام صفات ختم بھی کردی جائیں تو بھی انھیں گنا جا سکے گا۔اس لیئے صرف صفت عدد ہی وہ خوبی ہے جو تمام اشیاء میں موجود ہے۔اس لیئے کائنات کی اصل عدد ہے۔اور عدد کی اصل ایک ( ۱ ) ہے اسی میں عدد کے جمع کرنے سے کائنات میں اشیاء کی کثرت کی تشکیل ہوتی ہے۔اور یہ ایک ( ۱ ) کا عدد ناقابل تقسیم بھی ہے ۔اس لیئے کائنات کی اصل وحدت ہے اور اسی سے ساری کائنات وجود میں آئی ہے۔اور اس اکائی سے آگے جانا ممکن ہیں۔اس فلسفے میں آپ ابن اکبر عربی کا فلسفہ وحدت الوجود دیکھ سکتے ہیں۔ |
|
|
|
| نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-03-10) |
|
|
#26 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کے بعد پارمینڈیز کا نام سامنے آتا ہے جو ۵۰۴ق م میں پیدا ہوا۔اس کے نزدیک علم حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں ۔اول حواس دوم عقل۔اور یہ دونوں ایک دوسرے سے الٹ علم دیتے ہیں۔مثلا اگر ریل کی پٹریوں پر کھڑ ے ہو کر دیکھا جائے تو حواس دونوں لائنوں کے آپس میں دور ملنے کا پتہ دیتے ہیں۔جبکہ عقل کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو لائنیں آپس میں نہیں ملتیں۔اس لیئے اس کا کہنا تھا کہ انسان کے حواس اسے دھوکا دیتے ہیں جبکہ عقل ہی حقیقت بتاتی ہے۔اس نے حواس کے ذریعے نظر آنے والی دنیا کو مظاہر ( یعنی نظر آنے والی چیزیں) اور عقل کی دنیا کو حقیقت( یعنی چیزوں کی اصل حقیقت ) قرار دیا ہے۔اس کے نزدیک حقیقت کی دنیا ایک ازلی ابدی جامد مسلسل لامحدود غیر محتاج اور زمان و مکان نے مبراء ہے۔یعنی اشیاء کی حقیقت ایک ہی رہتی ہے کبھی نہیں بدلتی۔اس نے فیثا غورثیوں کے اس نظرئیے پر تنقید کی کہ اگر اشیاء میں سے صفات کو نکال دیا جائے تو بھی اس کا عدد ہونا باقی رہے گا۔ اس نے کہا کہ اگر عدد کو بھی نکال دیں تو بھی چیز تو اپنی جگہ موجود رہے گی اسے گنا جا سکے یا نہ گنا جاسکے اس کا وجود تو رہے گااسی لیئے کائنات کی اصل حقیقت عدد نہیں بلکہ اس کا موجود ہونا ہے۔یعنی چیزیں موجود ہیں یہی حقیقت ہے ۔او ر اس کو عقل سے جانا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد زینو کا نام آتا ہے۔یہ ۴۵۰ق م میں ایلیاء میں پیدا ہوا ۔یہ پارمینڈیز کا شاگرد تھا۔یہ ایتھنز میں بھی کچھ عرصہ رہا۔ اس نے جدلیات یعنی(Dialectics)کا فن ایجاد کیا جسے بحث کرنے کا فن بھی کہتے ہیں۔اس کا نظریہ یہ تھا کہ جب ہم کسی نظریئے کو درست قرار دیتے ہیں تو اس میں اس کا متانقض یعنی مخالف نظریہ بھی موجود ہوتا ہے ۔اس لیئے ایسا نظریہ جس میں اس کا مخالف نظریہ موجود ہو تو ایسا نظریہ غلط ہو گا ۔کیوں کہ اس میں اس کا ہی مخالف نظریہ موجود ہے۔اس نے فیثا غورثیوں کے اعداد کے نظریئے سے اسے سمجھایا انھوں نے کہا تھا کہ کائنات اعداد سے بنی ہے۔زینو نے کہا کہ اگر کائنات اعداد سے بنی ہے تواعداد تو بے شمار ہوں گے اور گنے نہیں جا سکتے ہوں گے اس لیئے کائنات لا محدود قرار پائے گی۔ جبکہ اس نظریئے کا کوئی مخالف اعداد کے نظریئے سے یہ نتیجہ بھی نکال سکتا ہے کہ کائنات چونکہ اعداد سے بنی ہے اور اعداد اس قابل ہیں کہ انھیں گنا بھی جا سکتا ہے اور گنتی کا مطلب ہوا کہ کائنات کی اشیاء محدود ہیں جنھیں گنا جا سکتا ہے اس لیئے کائنات محدود قرار پائے گی۔سو فیثا غورثیوں کا نظریہ اعداد اس قابل نہیں کہ اسے درست مانا جائے کیوں کہ یہ ایسا نظریہ ہے جس میں سے مثبت اور منفی پہلو دونوں نکالے جا سکتے ہیں اور ایسا نظریہ جس میں بیک وقت کسی بات کا اثبات اور نفی دونوں موجود ہوں کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے۔لہذا اس کے خیال میں نظریہ وہی درست ہے جس میں سے ایک ہی مثبت پہلو ہی ثابت کیا جاسکے نہ کہ دونوں پہلو ۔اس نے کائنات میں حرکت کی بھی نفی کی ۔اس کے خیال میں اگر ایک تیر کو کسی کمان سے چھوڑا جائے تو وہ دیکھنے میں حرکت کر رہا ہوگا لیکن فاصلہ طے کرنے کے دوران کسی نہ کسی مقام پر ساکن ہوگا کیوں کہ اس دوران وہ کسی نہ کسی مقام پر ہوگا اور جس مقام پر ہوگا اس لمحے ساکن ہو گا ۔اس لیئے حرکت کا نظریہ بیک وقت دو الگ الگ باتیں سامنے لاتا ہے کہ تیر حرکت بھی کرے گا اور اس دوران کسی نہ کسی مقام پر ساکن بھی رہے گا ۔اس لیئے چونکہ حرکت کے نظرئیے سے دو متضاد باتیں سامنے آتی ہیں اس لیئے یہ نظریہ درست نہیں۔ |
|
|
|
| نوشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (23-03-10) |
|
|
#27 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کے بعد ہرا قلیتوس کا نظریہ سامنے آتا ہے جو کہ زینو کے نظرئیے کے با لکل برعکس ہے۔اس کا کہنا ہے کہ کائنات میں سکون نہیں ہے کوئی چیز اپنی جگہ جامد نہیں بلکہ ہر چیز حرکت میں ہے ۔ایک لمحے کسی چیز کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ دوسرے لمحے نہیں ہوتی۔مثلا آپ نے ایک ندی میں پاؤں ڈالا اس وقت جو پانی آپ کو محسوس ہوا وہ دوسری مرتبہ پیر ڈالنے پر نہیں ہو گا وہ دوسرا پانی ہو گاکیوں کہ پہلی مرتبہ کا پانی گذر گیا ہوگا۔اس کے خیال میں اگر کسی نظریے کے اندر دو مخالف باتیں ہوں جیسا کہ زینو کہتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نظرئی جامد اور ساکن نہیں بلکہ حرکت میں ہے اور اسی باہم مخالف نظریئے سے نظریات پیدا ہوتے رہیں گے ایک نظریہ پیدا ہوگا پھر اس کا مخالف نظریہ پیدا ہو گا پھر اس کا مخالف نظریہ آئے گا اس طرح حرکت جاری رہے گی اور کائنات بھی جاری و ساری رہے گی۔
اس کے بعد ایمپیڈو کلیز کا نام سامنے آتا ہے جس نے اپنے سے پہلے پیش کیئے گئے نظریات کو آپس میں ملا کر ایک نیا نظریہ پیش کیا۔اس نے پانی،مٹی،ہوا اور آتش یا گرمی کو کائنات کی اصل قرار دیا۔اس نے کہا جب ان چار چیزوں میں ایک خاص تناسب قائم ہوتا ہے تو کوئی چیز وجود میں آجاتی ہے۔اس طرح تمام جاندار اور کائنات ان چار عناصر سے ہی مل کر بنے ہیں۔ اس کے بعد ڈیمقراطیس کا نام آتا ہے۔اس کا خیال تھا کہ اگر پانی ،ہوا ،مٹی اور آتش کو کائنات کے بنیادی عناصر مان لیا جائے توان عناصر کو ناقابل تقسیم ہونا چاہئے اور اپنی اصل حالت پر ہمیشہ بر قرار رہنا چاہئے۔ مگر ایسا ہو تا نہیں ہے۔ ان کی حالت تو بدلتی رہتی ہے اس لیئے یہ عناصر کائنات کی بنیاد نہیں ہو سکتے بلکہ کائنات کی بنیاد ایسے عناصر یا جوہر ( ایٹم ) ہو سکتے ہیں جو نا قابل تقسیم نہ ہوں کیوں کہ ایسے ہی جوہر جو ہمیشہ اپنی حالت کو یکساں رکھتے ہوں کائنات کی اصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیئے ان چاروؓ ں عناصر کو اصل کائنات کہنا غلط ہے بلکہ اصل کائنات وہ چھوٹے چھوٹے ذرات یا جوہر یا ایٹم ہیں جو نا قابل تقسیم ہیں۔ اب تک ہم نے دیکھا کہ کائنات کی ابتداء کے بارے میں کتنے نظریات مختلف فلاسفہ نے پیش کیئے اور کس طرح ایک دوسرے کے نظریات پر تنقید بھی کی اور اس کی غلطیاں بھی واضح کیں۔ اس سلسلے میں اب ہم جس فلسفی کا ذکر کریں گے اس نے ان تمام فلاسفہ کے برعکس فلسفہ کا ایک نیا ہی رخ متعارف کروایا۔ان تمام فلاسفہ کی تگ و دو کائنات کی اصل جاننے سے متعلق تھی اور اس میں انسان کی حقیقت جاننے سے متعلق کوئی براہ راست بات نہیں کی گئی تھی ۔مگر یونان کے شہر ایتھنز میں ۴۷۰ ق م میں ایک ایسا فلسفی پیدا ہواجو فلسفہ کو عناصر کی بحث سے نکال کر زندہ انسانوں کے درمیان ان کے روز مرہ مسائل تک لے آیا۔اس نے بتایا کہ علم اصل میں کیا ہے اور جہل کسے کہتے ہیں۔زندگی کیسے گزارنا سود مند ہے اور کیسے زندگی برباد ہو تی ہے ۔علم اصل میں کیا ہے اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔اس ذہین شخص کا نام سقراط ہے جو حق کی خاطر زہر کا پیالہ پی کر تاریخ انسانیت میں امر ہو گیا ہے۔ہم اب اسی کی زندگی اور فلسفے پر بات کریں گے۔ مگر ایک وقفہ کے بعد کیوں کہ میں مسلسل لکھ کر تھک گیا ہوں۔ |
|
|
|
|
|
#28 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے حیرت ہے کہ کنعان صاحب کو میری کس بات سے یہ معلوم ہوا کہ میں نے ناول پڑھے ہیں ۔بھائی میرے ناولوں سے اگر فلسفہ آنے لگے تو عمران سیریزپڑھنے والے سب سے بڑے فلسفی ہوں۔ آپ مثالیں دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی تو بتائیں کہ آخر وہ کون سا ایسا فلسفہ ہے جسے پڑھنے کے بعد آپ کے قریبی رشتہ دار بھٹک گئے تھے صرف کسی کی ذاتی مثالیں دینے سے تو ہم کسی علم کو پڑھنا ترک نہیں کر سکتے۔مجھے حیرت ہے کہ فلسفہ کے اتنے خلاف ہونے کے باوجود آپ نے ارسطو پر لکھا ہے آپ کو معلوم ہے کہ وہ کون تھا؟قرون وسطی کے مسلمانوں نے اسے معلم اول لکھا ہے اور ابن رشد جیسا مسلمان اسکا سب سے بڑا شارح کہلاتا ہے کیا آپ اسے معلم اول مانتے ہیں؟ نہیں تو کیا آپ اس کے فلسفے سے متفق ہیں یا کیا آپ اس کی غلطیاں گنوا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا بھائی صرف ہم پر چاند ماری کی مشق کے لیئے اس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں۔آپ میرے محترم ہیں آپ تنقید ضرور کیجے مگر دلائل کے ساتھ صرف ذاتی مثالوں سے ہمارے ایمان کو نہ آزمائیں ۔شکریہ
|
|
|
|
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,080
کمائي: 110,096
شکریہ: 12,552
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم بھائی صاحب
میں نے جو ارسطو پر لکھا تو اس کا کوئی فلسفہ نہیں پیش کیا اور نہ ہی آپ نے، بار بار ایک بات کو دہرانا مناسب نہیں۔ آپ اپنی انفارمیشن جاری رکھیں۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#30 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حیات سقراط
سقراط ایتھنز کے محلے ایلو پیک میں پیدا ہوا۔ااس کا باپ ایک سنگتراش تھا اور اس کی ماں ایک دایہ تھی۔اس کی شادی زین تھپی نامی ایک انتہائی بد مزاج عورت سے ہوئی تھی جو ہر وقت سقراط سے بد زبانی اور بد تمیزی کرتی رہتی تھی۔اس کے ایک دوست نے پوچھا سقراط تم کیوں کر اس بد مزاج عورت کے ساتھ گزارا کرتے ہو ؟سقراط نے جواب دیا کہ جس طرح گھوڑے سدھانے والے کو چاہئے کہ وہ کسی شریف گھوڑے کو سدھانے کے بجائے کسی انتہائی سرکش گھوڑے کو رام کرنے کی کوشش کرے اسی طرح اگر میں اپنی بدمزاج بیوی کو سدھار پایا تو دنیا میں کوئی ایسا نہ ہوگا جسے میں رام نہ کر سکوں۔وہ اکثر کہتا تھاکہ جو سرکش گھوڑے پر سواری کرلے وہ کسی بھی جانور پر سواری کر سکتا ہے اسی طرح میں زین تھپی کے ساتھ گزارا کرنے کے بعد کسی کو بھی برداشت کر سکتا ہوں۔سقراط نے ایتھنز کی دوسری ریاستوں کے ساتھ ہونے والی ۳ لڑائیوں میں بھی حصہ لیا۔ اور اس میں بہادری کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کیا۔اس نے حقیقت کی تلاش کا سفر کم عمری ہی میں شروع کر دیا تھا اور اپنے بڑھاپے تک اس میں کمال حاصل کرلیا ۔چوں کہ وہ اپنے دور کے نوجوانوں کو اپنے فلسفے سے متاثر کر رہا تھا اس لیئے اس کے بہت سے دشمن معاشرے میں پیدا ہو گئے اور پھر اس پر الزام لگا کہ وہ یونانی دیوی دیوتاوءں کا انکار کرتا اور نوجوانوں کو ان سے برگشتہ کرتا ہے اس لیئے اس پر عدالت میں مقدمہ چلا اور اسے سچ بولنے کی پاداش میں زہر کا پیالا پینے کی سزا سنائی گئی۔اس نے ۳۹۹ ق م میں اطمینان کے ساتھ زہر کا پیا لہ پیا اور سچائی کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیئے امر ہو گیا۔ فلسفہء سقراط جسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یونانی مفکرین دنیا کی ابتدا اور وجود میں آنے کے طریقوں سے متعلق اپنے اپنے نظریات پیش کر رہے تھے اسی طرح سقراط بھی فطری طور پر پہلے پہل ان ہی نظریات سے متاثر ہوا اور اس کا سوچنے کا انداز بھی پہلے پہل یہی تھا۔ااس نے کہا نوجوانی میں مجھے ہر چیز کی وجہ دریافت کرنے کا بہت شوق تھا کہ یہ کیسے وجود میں آئی ہے؟کیسے فنا ہوئی اور کیسے باقی ہے میں ایسی گتھیاں سلجھانے میں مصروف رہتا تھا۔مگر میرا ذہن اور الجھ جاتا اور جلد ہی میں نے محسوس کیا کہ ان تحقیقات کے لیئے میں سخت نااہل ہوں۔اس کے بعد اس کا ذہن ان سوالات کی طرف مڑ گیا کہ کائنات وجود میں تو آگئی ہے مگر اسے وجود میں کون لایا ہے اور اسے وجود میں لانے کا کیا مقصد ہے؟اس نے کہا لوگ اس کائنات کی ابتدا سے متعلق مختلف باتیں کر رہے ہیں کوئی اسے کسی طرح بیان کرتا ہے کوئی کسی طرح لیکن یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کر تے کہ وہ طاقت جس نے ان تمام اشیاء کو باندھ رکھا ہے (جن کو یہ کائنات کی علت قرار دیتے ہیں )وہ طاقت انسانی قوت سے ماوراء ہے کوں کہ اس کے لیئے انسانی قوت سے بلند تر ہی ایک طاقت کی ضرورت ہے۔ لہذا سقراط کائنات کے ابتدائی نظریات کے فلسفے کے چکر سے نکل آیا اور فلسفے کا رخ موڑتے ہوئے اسے انسان زندگی پر منطبق کرتے ہوئے نیکی ،بدی اس کی ابتداء اس کی تعریف اس کے تقاضے وغیرہ پر غور و فکر شروع کردیا۔یوں فلسفے کی دو شاخیں وجود میں آگئیں ایک سائنس جو کہ کائنات کے عملی اسباب و نتائج سے بحث کرتی ہے ۔اور دوسری نظری فلسفہ جو کہ اشیاء کی حقیقت کو متیعن کر کے انسانی زندگی اور اس کے اعمال و نتائج سے بحث کرتا ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہوتا, ہماری, کوئی, کوشش, کرے, کس, گا۔, گذارش, پہلے, قرآن, مقام, معلوم, اسلام, جانے, جائے, حکم, خلاف, خدا, دیکھ, دنیا, ذرا, علم, غور, غلط, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|