| بچوں کے لیے کہانیاں بچوں کے لیے کہانیاں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,406
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
برصغیر میں مغلیہ سلطنت اپنے عروج پر تھی کسی امیر یا غریب کے ساتھ ظلم یا بے انصافی کا تصور محال تھا نورالدین سلیم جہانگیر کا عدل اپنی مثال آپ تھا اس کے دربار میں ایک زنجیر لٹکی ھوئ تھی جسے زنجیر عدل کہا جاتا تھا رعایا میں کسی کو بھی انصاف کی چاہت ہوتی تو وہ زنجیر ہلاتا اور عدل جہانگیری سے سکون پاتا
جہانگیر کو اپنی بیوی ملکہ مہرالنسا نور جہاں سے بہت محبت تھی اور اسے ٹوٹکر چاہتا تھا اسے اصول حکمرانی میں بھی دلچسپی تھی اور فرمان شاہی جاری کرنے کے بھی اختیارات تھے ایک دن ملکہ اپنی سہیلیوں کے ہمراہ بالکونی میں بیٹھی سہانے موسم کا لطف اٹھا رہی تھی کہ ایک راہگیر بدقسمتی کا مارا ادھر سے گزرا اور ملکہ حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے اسے ٹکٹکی باندھ کر کھڑے ہو کر گھورنے لگا غیرت حس کے لئے یہ ناقابل برداشت تھی ملکہ نے تیر کمان سبنھالا اور راہگیر کو ڈھیر کر دیا مرنے والے کا تعلق غریب گھرانے سے تھا اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے یتیم اور اسکی خوبصورت بیوی اپنے سہاگ سے محروم ہو گئ تھی مظلوم بیوی نے عدل جہانگیر کو آواز دی جہانگیر نے اس کی فریاد بغور سنی ملکہ کو عدالت کے کٹہرے میں مجرموں کی طرح طلب کیا اس کا بیان قلم بند ہوا اس نے اعتراف کیا کہ واقعی وہ غریب آدمی کی قاتل ہے کیونکہ اس نے گستاخی کی تھی قاضی نے فتوٰے کے مطابق اسلام میں قتل کا بدلہ قتل ہے اور نور جہاں کو پھانسی کا حکم ہوا یہ حکم سن کر دربار میں سناٹا چھا گیا نور جہاںکو گرفتار کیا جا رہا تھا کہ اس نے کہا کہ شریعت میں قتل کے بدلے خون بہا کی بھی اجازت ہے جہانگیر نے قاضی سے دوبارہ رجوع کیا قاضی کا جواب تھا کہ خون بہا اس صورت میں جائز ہے جب مقتول کے ورثاء رضا مند ہوں مقتول کی بیوہ ساری کاروائ سے اتنی متاثر ہوئ کہ اس نے ملکہ کو معاف کر دیا اور کہنے لگی مجھے انصاف مل گیا ہے ملکہ نے اس کی دانائ سے اسے مال و جواہر سے خوش کر دیا اخلاقی سبق: انصاف اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں کہانی حاظر ہے اور یہ میری پیاری بیٹی ایمان مقدس اور پیارے بیٹے ربیع الرسول کی جانب سے ہے Last edited by نیلم خان; 24-12-09 at 11:08 PM. |
|
|
|
| 19 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-12-09), یاسر عمران مرزا (26-12-09), یحیٰی (24-12-09), ڈاکٹرنور (26-12-09), منتظمین (24-12-09), محمدمبشرعلی (30-01-10), محمدعدنان (26-12-09), Wahid Mahmood (27-12-09), wajee (02-01-10), ایس اے نقوی (24-12-09), ابو عمار (24-12-09), بزم خیال (25-12-09), حیدر (30-12-09), خالد حسین (16-07-11), رانا امر (24-12-09), راجہ اکرام (24-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09), عامرشہزاد (25-12-09), عائشہ صادق (15-10-10) |
| کمائي نے نیلم خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 30-12-09 | ام طلحہ | میرے بچوں ایمان مقدس اور ربیع الرسول کیلئے | 150 |
| 24-12-09 | ایس اے نقوی | بیٹی ایمان مقدس اور پیارے بیٹے ربیع الرسول | 150 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
نیلم بہن بہت اچھے یہی انصاف ہے جو اسلام کی خصوصیت ہے، جس کی نظر میں امیر غریب، اور حکمران و عوام سب برابر ہیں۔ نہ یہ کہ بطور صدر ہونے کے کسی کو استثناء حاصل ہو۔ اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ایمان اور ربیع کو نیک سیرت اور والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے اور زمانے کی سرد و گرم سے محفوظ رکھے۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ کریم
پیاری بیٹی ایمان مقدس اور پیارے بیٹے ربیع الرسول کو صحت عطا فرمائے اور انکو ہر کھ وتکلیف و پریشانی سے محفوظ رکھے آمین الہی آمین اور انکو ماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-12-09), نیلم خان (24-12-09), محمدمبشرعلی (30-01-10), بزم خیال (25-12-09), حیدر (30-12-09), خالد حسین (16-07-11), رانا امر (24-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (15-10-10) |
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,406
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | Kamran_Tabasum (25-12-09), ایس اے نقوی (24-12-09), بزم خیال (25-12-09), حیدر (30-12-09), خالد حسین (16-07-11), سفر زندگی کا (31-12-09), عائشہ صادق (15-10-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,577
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی تحریر پیش کی آپ نے ! اللہ تعالی ہمارے حال پر رحم کرے اور ارباب اختیار کو بھی توفیق دے کہ وہ عدل و انصاف کی بالا دستی کی اہمیت کو سمجھ پائیں آمین
|
|
|
|
| بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-12-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نیلم اپنی" حرکتوں" سے ہمیشہ حیران کرتی رہتی ہے
اتنی شاندار تحریر پر سوائے مبارک باد کے اور کہا جا سکتا ہے۔۔ لیکن آجکل کے این آر او دور میں ایسی کہانیاں سنا کر نیلم کی بچی کیا کہنا چاہ رہی ہے۔۔ ۔۔ بولو بولو آہو |
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (30-12-09) |
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبر دست نیلم ایک اور کمال!!
بہت انتظار کرایا کہانی کیلئے مگر وعدہ وفا کیا اور خوب کیا۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, یا, چاہت, مجرموں, محبت, مطابق, آدمی, امیر, اسلام, بیوی, بے, بادشاہ, تاب, جواب, حسن, خون, خوش, سنی, طلب, عدل, عدالت, عروج, غیرت, غریب |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|