واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > بچوں کا پاک نیٹ > بچوں کی تعلیم و تربیت



بچوں کی تعلیم و تربیت بچوں کی تعلیم و تربیت


بچے فطرت کے عکاس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-09, 12:47 AM   #1
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,076
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بچے فطرت کے عکاس

بچے فطرت کے عکاس

بچہ فطرت کا عکاس ہوتا ہے ۔ اور اسلام دین فطرت ہے ، بچہ اپنا ہر کام اسلام کے احکامات کے مطابق کرتا ہے ، اور ہم تربیت کے نام پر اس کو فطرت سے دور لے کر جاتے ہیں ۔
کہتے ہیں بچے کو سکھانے کے بجائے اس سے سیکھو تو فطرت کو سمجھ جاؤ گے ۔

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں فطرت کی تمام اچھائیاں موجود ہوتی ہیں ، بچہ گناہوں سے دور ہوتا ہے اس لیے اس میں غیر فطری عمل نہیں ہوتے ہیں ۔
جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے ہم تربیت کے نام پر اس کو فطرت سے دور لے کر جاتے ہیں ۔
ہمیں چاہیے کہ بچے کی تربیت ایسے کریں کہ بچہ فطرت سے قریب ہو ۔

یہ میرا مشاہدہ ہے

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہمیشہ سیدھی کروٹ سوتا ہے جو عین اسلامی طریقہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، لیکن ہم اس ڈر سے کہ بچے کا سر ٹیڑھا ہوجائے گا اس کو سیدھا سلاتے ہیں ۔

مہینوں کا بچہ ہمیشہ فجر کے وقت اٹھتا ہے یا فجر سے کچھ پہلے جو رات کا آخری پہر ہوتا ہے اور تہجد کے لیے بہترین وقت ہوتا ہے ۔
جو عین فطرت کے مطابق ہے اور اسلامی طریقہ ہے ۔
لیکن ہم اپنی نیند کی وجہ سے اس کو بہلا کر سلادیتے ہیں ۔

بچہ ہمیشہ عیشاء کے فوراً سوجاتا ہے ۔ جو مسنون طریقہ ہے ۔

بچہ کو اگر اس کی ضرورت سے ذیادہ دودھ پلایا جائے تو وہ قہ کردیتا ہے ۔ اپنے اندر ضرورت سے ذیادہ چیز جمع کرکے نہیں رکھتا ہے ۔
دودھ اتنا ہی پیتا ہے جتنی اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔

بچہ بے نیاز ہوتا ہے ۔ اس کے سامنے کوئی بھی کھا پی رہا ہو اس کو پرواہ نہیں ہوتی ہے ۔

جب بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے یعنی ایک سال کا اور عام غذا کھانا شروع کرتا ہے تو دن میں دو وقت کا کھانا کھاتا ہے ۔ جو عین اسلامی طریقہ ہے ۔ اور اس کو تین وقت کا کھانا کھلانا چاہیں تو وہ نہیں کھاتا ہے ۔ اس لیے آجکل کی مائیں پریشان رہتی ہیں کہ ان کا بچہ کھانا نہیں کھاتا ہے ۔

بچہ کھانا یا دودھ بھوک کو ختم کرنے کے لیے کھاتا یا پیتا ہے نہ کہ پیٹ بھرنے کے لیے ۔

بچہ پانی ایک سانس میں نہیں پی سکتا ہے ، اس لیے مختلف گھونٹوں میں ایک سے ذیادہ سانس لے کر پیتا ہے

بچے کبھی جھوٹ نہیں بولتے
بچے غیبت نہیں کرتے ہیں
بچے آپس میں کمیونیکیٹ کرتے ہیں اور آپس میں دوستی کرتے ہیں
اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں ۔
ایک دوسرے کا دل نہیں دکھاتے ہیں
بچوں میں تکبر نہیں ہوتا ہے ۔
ان میں خودپسندی نہیں ہوتی ہے
بچے لڑتے ہیں تو فوراً دوستی کرلیتے ہیں ۔
لڑائی کو بھول جاتے ہیں دل میں کینہ نہیں رکھتے ہیں ۔
بچے آپس میں بھی اور ماں باپ اور باقی سب سے بھی محبت کا رویہ رکھتے ہیں ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (29-10-09), مرزا عامر (05-10-10), ام طلحہ (29-10-09), ابن جلال (29-10-09), احمد بلال (29-10-09), راجہ اکرام (29-10-09), شاہ جی 90 (31-10-09)
پرانا 29-10-09, 02:21 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,262
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی مفید تحریر ہے۔ واقعی سب بڑوں کو بچوں سے سیکھنا چاہئے۔
arifkarim آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (29-10-09), راجہ اکرام (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 10:00 AM   #3
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت شکریہ سحر بہت ہی اچھی تحریر ہے۔ واقعی بچے تو فرشتے ہوتے ہیں، ان سے سیکھنا ہی چاہئے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (29-10-09), راجہ اکرام (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 10:46 AM   #4
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,186
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,030 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ سحر آپی کیا کہنے بہت اعلٰی تحریر ھے جو حقیقت پر مبنی ھے
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
محمد علی75 (29-10-09), راجہ اکرام (29-10-09)
پرانا 29-10-09, 12:11 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ
اسے کہتے ہیں کہ ’’المؤمن ینظر بنور اللہ‘‘ مؤمن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے
آپ نے فطرت کا مشاہدہ کیا اور پھر اس کا انطباق دین فطر پر کیا۔۔۔۔ بہت خوب انداز اور بہت خوبصورت بات
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

اللہ ہمیں دین فطرت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
اللہ ہمیں عقل سلیم کو استعمال کرنے اور نقل صحیح کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
نیند, ماں, محبت, اللہ, اسلام, اسلامی, بہترین, بچوں, تحریر, جھوٹ, دل, رات, سال, عقل, غیبت, غذا, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger