واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > علاقائی زبانیں > بلوچی فورمز



بلوچی فورمز بلوچی فورمز


گوادر: پاکستان کی نئی شہ رگ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-06-09, 10:31 AM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default گوادر: پاکستان کی نئی شہ رگ

گوادر: پاکستان کی نئی شہ رگ

گوادر

پاکستان کے مغربی ساحلوں میں سے ایک ۔ گوادر جو دنیا کے تین اہم ترین جغرافیائی خطوں یعنی تیل کی دولت سے مالا مال خلیج اور مشرق وسطیٰ ، کثیرآبادی والا پاکستان، معاشی طور پر ابھرتا اور لا محدود وسائل رکھنے والا وسطی ایشائی ممالک کے درمیان واقع ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم وجہ دنیا کی دوسری سپر پاور چین سے صرف 1500 کلومیٹر کا فاصلہ۔ گوادر کو چین کی اپنا اثر نفوذ بڑھانے کی پالیسی کا آئنہ دار کہا جاتا ہے)
یہ سب اور بہت سی دیگر وجوہات گوادر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان ...گوادر کی وجہ سے اپنی قسمت بدل سکتا ہے اور گوادر کی وجہ سے ہی پاکستان کو انگنت مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے (جن کی ابتدا کا اندازہ شاید اچانک پھوٹ پڑنے والی بلوچ عصبیت یا بغاوت سے لگایا جا سکتا ہے- ملاحظہ کیجیےگوادر پورٹ:ایک عظیم ترقیاتی منصوبہ یا گریٹ گیم اور بلوچستان میں بھڑکتی آگ اور اسکی وجوہات)

آج ہم اسی گوادر کا تعارف پیش کریں گے

تاریخ
گوادر1783 سے 1958 تک سلطنت اومان کا حصہ رہا ہے یہاں تک کہ 1958 میں اس کی عملداری حکومت پاکستان کو دے دی گئی۔ اور اسکو بلوچستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ 2002 میں حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ اس میں کراچی کا متبادل ایک نئی بندرگاہ بنا دی جائے اور اس مقصد کے لیے دوست ملک چین کو ٹھیکہ دیا گیا۔ پاکستان اس بندرگاہ کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے اور چین کے تعاون سے اس پر کام جاری ہے۔ گوادر کے لیے حکومت پاکستان کے خصوصی آرڈیننس کے ذریعے گوادر ڈولپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

کلچر
گوادر میں کئی صدیوں سے بلوچ اقوام کا غلبہ رہا ہے۔ اسی لیے اس کے کلچر میں بلوچی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ تاہم دو سو سال سے زائد سلطنت اومان کے زیر سایہ رہنے اوردیگر خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کی تہزیب میں عربی رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ اس میں رہنے والی کئی اقوام اپنا تعلق ان افریکن غلاموں سے بتاتی ہیں جو عربی حکومت کے دور میں ادھر لائے گئے تھے۔
مذہبی اعتبار سے اس میں سنی مکتبہ فکر اور زکری لوگ زیادہ نظر آتے ہیں۔تاہم دیگر مزاہب جیسے عیسائی،ہندو اور مرتد احمدی بھی نظر آتے ہیں۔

اہمیت

گوادر پورٹ خلیج اومان کے کنارے اور خلیج فارس کی دہلیز پرکراچی سے 460 کلومیٹر کے فاصلی پر واقع ہے۔ گوادر میں بندرگاہ کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایران تک 700 کلومیٹر لمبی کوسٹل ہائی وے جو پاکستان کی کئی بندرگاہوں جیسے کراچی،پسنی،اوماڑا،گوادر کو ملائے گی، چین تک عرب ممالک سے تیل کی پائب لائن، افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک چمن-کوئٹہ۔گوادر ہائی وے، خضدار اور پھر کوئٹہ اور پھر پنجاب تک جانے والی ہائی وے، کراچی اور چمن،افغانیستان اور چین سے لنک کرنے والی ریلوے لائن، ایک بین الاقوامی ایر پورٹ کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔

پاکستان اپنے ان سٹریٹجک اثاثوں کے ذریعے ارد گرد کے ممالک پر اپنا اثر نفوذ قائم کر سکتا ہے۔
گوادر پورٹ دنیا کی اہم ترین گزرگاہ "آبنائے ہرموذ" کے دہانے پر واقع ہے جس سے دنیا کی 40 فیصد تیل کی ٹریفک گزرتی ہے۔ پاکستان محض ایک اشارے سے دنیا کی ٹریفک کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس بندرگاہ کے مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور پاکستان کے حالات کے ٹھیک رہنے کی شرایط پر کھربوں ڈالرز کا ریونیو اور بیس لاکھ سے زائد نوکریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
بلوچوں کے ساتھ معاہدے ہو جانے اور قائم رہنے کی صورت میں نہ صرف پاکستان بلکہ اس پورٹ کا پاکستان کے بعد سب سے بڑا فائدہ مند جمہوریہ چائنہ ہو گی۔ جس کو اپنی بندگاہوں کی نسبت گوادر کی بندرگاہ سب سے زیادہ نزدیک پڑتی ہے۔ اسی لیے چائنا پاکستان کی سرحد تک اپنی ریلوے لائن کی توسیع کا ارداہ رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چاینہ۔پاکستان۔ایران۔افغان ستان۔وسطی ایشیائی ممالک جیسے کازکستان ،کرغزستان وغیرا کا نہ صرف روڈ نیٹ ورک بن جائے گا بلکہ ایک مربوط ریلے نیٹورک بھی تشکیل پا جائے گا۔
ان ادھوری کڑیوں کی مدد سے ہم اپنے ذہن میں تشکیل پاتی ایک تصویر کو بیان کر سکتے ہیں جس کو عظیم تر ایشین بلاک کا نام دیا جا سکتا ہے جس مرکذی ہب پاکستان ہو گا۔ اور جس کو چائنہ لیڈ کر رہا ہو گا۔ شاید یہئ وجہ ہے ک گوادر پورٹ کے آغاز کے بعد سے ہی پاکستان کو جس قدر مشکلات کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے وہ پاکستان نے اپنی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھیں۔ نہ صرف بلوچستان میں پھٹ پڑنے والی بغاوت بلکہ چاینہ کو ملانے والے علاقوں میں پیدا ہو جانے والی بےچینی کا آغاز بھی 2002 کی گوادر پورٹ کے افتتاح سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

سیر و سیاحت
گوادر خوبصورت صاحل سمندر رکھنے والا شہر ہے۔ اس کے کنارے پر بیٹھ کر شہر کے ہنگاموں سے دور فطرت کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ اس میں ہنگول دریا، ہنگول نیشنل پارک، پرنسس آف ہوپ ،نانی مندر یا ہنگلاج مندر، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
گوادر کراچی سے 700 کلومیٹ دور واقع ہے۔کوسٹل ہائی وے پر سفر کر کے کراچی سے صرف 7 گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔




امید کرتا ہوں آپکو یہ آرٹیکل پسند آئے گا۔اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھے مطلع کیجیے گا تاکہ میں اس میں درستگی کر سکوں۔ شکریہ

Last edited by حیدر; 13-06-09 at 10:36 AM. وجہ: adding more pics
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (18-12-10), رضی (13-06-09), سیلانی (20-06-09)
پرانا 13-06-09, 11:06 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ٍFor Videos regarding Gawadar


YouTube - GWADAR

YouTube - Balochistan(Gwadar)


YouTube - Gwadar City


YouTube - GWADAR Largest Deep Seaport - Pakistan's Gift to All World Countries 2009
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ملک بھائی (14-06-09), رضی (13-06-09), سیلانی (20-06-09)
پرانا 16-06-09, 03:17 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوادر سے متعلق مزید تصاویر کے لیے کلک کریںتصاویرِ بلوچستان پوسٹ نمبر 209 سے 329 تک
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 19-06-09, 05:59 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 606
کمائي: 10,933
شکریہ: 360
466 مراسلہ میں 1,306 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نقشے سے ظاہر ہورہا ہے کہ گوادر بندرگاہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔
مجھے یہ دیکھ کر اپنی نادان حکومت پر رحم آرہا ہے کہ وہ بلوچستان کی اہمیت کو یکسر نظر انداز کررہے ہیں۔ ان کو کیا لگے جب حکومت ختم ہوگی یا خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوگا یہ تو سب کچھ سمیٹ‌کر امریکہ یا کسی اور ملک کے شہری بن جائیں گے یا اپنے علاقے کے حاکم بن جائیں گے۔
کاش یہ لوگ پاکستان کی قدر جان لیں
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
wajee (19-06-09)
پرانا 19-06-09, 07:19 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی زبردست ........................
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
balochistan, Baluchistan, color, com, gawadar, gwadar, pakistan, کراچی, ٹریفک, پاکستان, پسند, لوگ, چین, نظر, مکمل, منصوبہ, مسائل, ایران, امریکہ, تعارف, تصویر, خصوصی, دوست, سفر, سیر, سال, شہر, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد کنعان دیس ہوئے پردیس 4 13-12-09 12:55 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 12-10-08 12:03 AM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 09:45 PM
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 0 19-08-07 02:17 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger