| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() ![]() "بدر بھائی بہت مشکل علاقہ ہے۔ ہمکو بہت مشکل ہوتی ہے وہاں پہنچنے میں۔کبھی گھسٹ کر جانا پڑتا ہے تو کبھی اندھی غاروں میں لیٹ لیٹ کر۔ عجیب عجیب اشیا بھی پائی جاتی ہیں وہاں۔ ہم تو ہر سال جاتے ہیں۔ تم نے تو دیکھا ہو گا نہ وہ علاقہ؟" یہ میرا ایک چھوٹا سا شیعہ دوست تھا جو مجھے 2001 میں میرے کراچی میں قیام کے دوران بوریت سے بچانے کے لیے اکثر ہی میرے فلیٹ میں پایا جاتا تھا۔ جب میں نے اسکو بتایا کہ میں تو وہ علاقہ دیکھنا دور کی بات۔ ۔ ۔ اسکے بارے میں کبھی سنا بھی نہیں تو جھنجھلا کر مجھے کہتا تھا کہ "کیسے بلوچ ہو کہ اپنے علاقے کا ہی پتا نہیں" کچھ دن قبل جب جنگ اخبار میں اسی علاقہ سے متعلق ایک فیچر پڑھا تو ساری پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔تو سوچا کہ نیا ٹاپک اسی سلسلہ پر ہی لکھ ڈالوں۔ یاد رہے کہ مری معلومات کا ذریعہ جنگ اخبار ہی ہے۔ میں نے آج تک اس علاقہ کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقہ وڈھ میں ایک اہم زیارت گاہ "لاہوت لا مکاں" کہلاتی ہے۔اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائینات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیا گیا تھا اور کچھ روایات کے مطابق حضرت آدام کو اسی جگہ اتارا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہر سال یہاں دشوار گزار راستہ طے کر کے آتے ہیں۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہور بزرگ شاہ بلاول نورانی کا مزار بھی ہے۔ کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے اس سلسلہ کا پہلا پڑاؤ "محبت فقیر" کے مزار پر ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی کے غلام تھے۔ (واللہ عالم) پھر اگلا پڑاؤ "قدم گاہ" پر ہوتا ہے جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہاں حضرت علی کے پاؤں کے نشانات ہیں(واللہ عالم) ان نشانات کو ریشمی جھالروں سے سجایا گیا ہے۔ شاہ بلاول نورانی کا مزار یہاں سے نزدیک ہی ہے۔اس کے نزدیک ہی ایک مسجب بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا یہ خؤد ہی وجود میں آئی ہے (واللہ عالم) اور یہاں مصنف کو ایک دیدہ زیب پتھر بھی نظر آیا۔اسکی خواہش ہوئی کہ اسکو ساتھ لے لیا جائے۔تو بقول مصنف جیسے ہی اس پتھر کو ہاتھ لگایا تو ارد گرد موجود مور چیخنے لگے اورپتھر کا جو ٹکڑا توڑا تھا وہ دوبارہ اپنی جگہ پر جڑ گیا (واللہ عالم) اس قدم گاہ سے نزدیک ہی پریوں کا باغ بھی موجود ہے ۔جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیو گوکل کی حکومت تھی اور لوگ اس سے تنگ تھے۔ ان لوگوں نے اللہ سے دعا کی تو ایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنہوں نے اس دیو کو شکست دے کر لوگوں کو اس کے ظلم سے آزاد کروایا۔ بقول مصنف اس پہاڑی علاقہ پر جا بجا ایسے نشانات موجود ہیں جس سے بھاگتے قدموں کے نشانات اورخراشوں اور لڑائیوںً کے نشانات واضح ہیں۔ (واللہ عالم) اس باغ سے اصل زیارت گاہ "لا ہوت لامکاں" کے راستے نکلتے ہیں۔پیدل زائیرین کے لیے سات پہاڑوں کو عبور کر کے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتا ہے۔اس راستے سے صرف سخت جاں لوگ ہی گزر سکتے ہیں ۔دوسرا راستہ قدرے آسان ہے۔اس راستے پر لوہے کی سیڑھیاں موجود ہیں۔ بقول مصنف دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزور ہیں لیکن کئی سو من وزن آسانی سے برداشت کر لیتی ہیں۔ ہزاروں زائرین ایک ہی وقت میں چڑھتے اترتے ہیں/لوگ اسے بھی روحانیت کی قوت قرار دیتے ہیں۔ سیڑھیاں عبور کرنے کے بعد ایسے پتھروں سے سامنا ہوتا ہے جنکی شکل خونخؤار جانور اور شیر سے ملتی ہے۔ ان کے بارے میں بھی روایات ہیں کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے انکو پتھر بنا دیا گیا۔ اور یہ بھی یہ جانور اب بھی ان زیارت گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر ایک غار آتا ہے جو بہت بڑے غار کی مانند ہے۔مصنف کا کہنا ہے کہ اس غار میں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھونا پڑتا ہے۔یہ صابن پتھر پر پانی گرنے سے بنتا ہے اور اس سے منہ دھوتے ہی غار کا اندھیرا ختم ہو جاتا ہے اور ہر چیز روشن ہو جاتی ہے(واللہ عالم) اسی غار میں پتھر کی بنی ایک اونٹنی بھی ہے اور ایک پتھر بھی جو فرش سے بر آمد ہو کر غار کی چھت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس پتھر کے بارے میں روایات ہیں کہ جس دن یہ پتھر چھت سے ٹکرا جائے گا اس دین قیامت آ جاے گی۔ مصنف بیان کرتا ہے کہ چند انچ کا ہی فاصلہ باقی ہے۔ اس غار کے بعد ایک اور غار ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اور بہت زیادہ پھسلن بھی۔ اس میں انسان سیدھے رخ داخل نہیں ہو سکتا۔ غار کے آکری دہانے پر شاہ نورانی کی چلہ گاہ موجود ہے اور اس کے ساتھ ایک چشمہ بھی۔ بقول مصنف اس سارے علاقہ میں پتھر کے بنے عجیب عجیب جانور، پرندے پائے جاتے ہیں۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہا ہے تو کہیں کسی اور خونخوار جانور کی آنکھوں سے۔ایک جگہ بھینس کے تھنوں سے مشابہ پتھر ہیں جہاں سے چشمہ نکل رہا ہے وغیرہ۔/ (واللہ عالم) |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-09-09), نورالدین (30-03-10), ابو عمار (04-09-09), حسنین ایوب (04-09-09), رفیّعہ جوََِِأد (10-01-10), رضی (13-01-10), عدنان دانی (10-01-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ذاتی حیثیت میں مجھے ان تمام روایات پر شک ہے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں کہ میں نے کبھی بلوچستان میں کسی کے منہ سے اس کا تذکرہ سنا۔ اور اسی طرح میرے والد صاحب نے بھی جب یہ فیچر پڑھا تو حیران ہوئے کہ انہوں نے 5 سال خضدار اور وڈھ میں گزارے اور سردار مینگل کے ساتھ ایک ایک علاقہ دیکھا۔ مگر نہ تو انہوں نے کبھی اور نہ ہی کسی اور دوست نے اس سلسلہ میں معمولی سا تذکرہ کیا کہ ایسا علاقہ یا ما فوق الفطرت جگہ پائی جاتی ہے۔ چونکہ میری ذاتی معلومات صفر ہیں اسی لیے میں نے جنگ اخبار میں شائع شدہ فیچر کی معلومات ہی دی ہیں۔ انکے درست ہونے یا غلط ہونے کا مجھے کسی قسم کا کوئی علم نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-09-09), نورالدین (30-03-10), ابو عمار (04-09-09), رضی (13-01-10), عدنان دانی (10-01-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ہمارے علاقے کورنگی سے ہر ہفتے درجنوں لوگ اس مقام پر جاتے ہیں خود میرا چھوٹا بھائی بھی وہاں جا چکا ہے۔ ایسی ہی کچھ کہانیاں اُس نے بھی سُنائی تھیں۔
میں ذاتی طور پر ان روایتوں سے متفق نہیںہوں! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,842
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,012 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دیتے ہیں یہ بازیگر دھوکہ کھلا
بس اس کے علاوہ کیا بولوں میں خود کئی مرتبہ اس جگہ جاچکا ہوں اور ان قصہ کہانیوں سے خوب واقف ہوں بہر حال یہ ماننا پڑے گا کے خوبصورت جگہ ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-09-09), نورالدین (30-03-10), ابو عمار (04-09-09), احمد بلال (05-09-09), حیدر (04-09-09), حسنین ایوب (04-09-09), راجہ اکرام (10-01-10), رضی (13-01-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
خدا جانے دنیا میں کیاکیا اسرار ہیں
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
ویسے بدر بھائی اگر ہمیں بلوچستان کے مشہور نیشنل پارک کی سیر کرنی ہو تو کیا آپ ہمارا ساتھ دے سکیںگے؟ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان کے کس نیشنل پارک؟ میرا خیال ہے کہ وہاںدو نیشنل پارک ہیں ایک کوئٹہ میں میاں غنڈی نیشنل پارک اور دوسرا کراچی سے نزدیک گوادروالا ہنگول نیشنل پارک۔ جانے کے سلسلہ میں ۔۔۔۔میں آپکو بذریعہ پرائویٹ میسج مطلع کروں گا۔ مجھے کچھھ سوچنا ہے۔
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ابو عمار (04-09-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بھی نہ جانے کیوں یہ قصہ کہانیاں ہی لگتی ہیں اور مجھے تو اس پر بھی یقین نہیں کہ یہ جگہ خوبصورت ہوگی۔ تصاویر سے تو نہیں لگتی
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | نورالدین (30-03-10), راجہ اکرام (10-01-10) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بدر بھائی سلام،
میرا اشارہ ہنگول والے پاک کی جانب ہے، تو گویا سرمد بھائی کی پیار بھری دھمکی کے بعد میں، فیصل سرمد اور آپ ہنگول پارک چلتے ہیں! |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
جی بدر بھائی کیا علاقہ یاد کرا دیا آپ نے۔
1996 میں ہمارا ٹرانسپورٹیشن کا کاروبار تھا۔ تو ان دنوں کورنگی سے کافی مرتبہ ہماری گاڑیاں بکنگ پر نورانی جاتی تھیں۔ ایک یا دو مرتبہ میں بھی اسی تجسس میں گاڑی کے ساتھ چلا گیا تھا کہ دیکھوں تو سہی یہ ہے کیا۔ بہرحال بھای تقریباً 150 یا 200 کلومیٹر کا کٹھن سفر کرنے کے بعد ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے اور انتہائی adventurous بھی۔ باقی معزرت کے ساتھ وہاں خرافات ہی ہیں۔ میں خاص اس دن وہاں پہنچا جس دن نورانی بابا کا عرس تھا۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا اور ہم روزے سے بھی تھے۔ 'محبت فقیر' سے نورانی کے مزار کا راستہ شاید 2 کلومیٹر ہوگا اور اس وقت اس راستے پر خاص جیپ چلتی تھی جسے وہ لوگ کیکڑا کہتے تھے۔ میں چونکہ ایڈونچر کرنے آیا تھا تو میں نے یہ راستہ پیدل ہی طے کیا۔ مگر بھائی جیسے ہی نورانی کے مزار پر پہنچے تو رمضان کے مہینے میں وہاں دھمال ہورہا تھا اور سب لوگ بغیر کسی مرد عورت کی تفریق کے دھمال پر ناچ رہے تھے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو مغرب کا وقت تھا اور ہمیں روزہ افطار کرنا تھا مگر بھائی اس دھمال میں ہمیں کہیں بھی اذان کی آواز نہیں آئی۔ پھر ہم رات کو نورانی سے لاہوت کی طرف پیدل چلے۔ سارے رستے لوگوں کو یہی کہتے سنا کہ نعوذب اللہ 'نورانی نور ہر بلا دور'۔ اور یہ بھی سنا کہ جو لاہوت 7 مرتبہ کر لے تو اسے نعوذب اللہ ایک حج کے برابر ثواب ملتا ہے اور شاید اسے وہاں حاجی بھی کہنا شروع کردیتے ہیں اور وہ بڑے فخر سے وہاں پھرتا ہے۔ اس راستے میں سات پہاڑ آئے جن پر ننگے پیرچلنا پڑتا ہے۔ بیچ میں وہی کافی ساری چیزیں کہ جناب یہ دال کا پہاڑ ہے، وہاں دال جتنے چھوٹے چھوٹے پتھر ہیں جن کو یہ دال کہتے ہیں۔ ایک پہاڑ میں اوپر کی طرف سوراخ تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہاں حضرت نوح کی کشتی رکی تھی۔ رات کافی ہوگئی تھی اس لیے ہم راستے میں ایک ہوٹل میں رک گئے۔ صبح فجر سے بھی پہلے ہمیں اٹھا دیا گیا کہ چلو لاہوت کی طرف، تو جناب ہم چل پڑے اور پہاڑوں سے لگی سیڑہیوں سے چڑھتے اترتے لاہوت پہنچ گئے۔ اس خاص پہاڑ پر چڑھے جس میں غاریں ہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ چھت پر دیکھو، خیر تھا تو گھپ اندھیرا تو ہیمیں ٹارچ سے دکھایا گیا کہ دیکھو چھت پر دودھ ہے۔ وہاں سفید پتھر ہے جسے یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دودھ ہے۔ پھر جناب ہم بڑی مشکل سے رسیوں کے ذریعے غار میں گئے تو اند نہ پوچھیں کیا کیا عجوبے بتائے گئے۔ ان میں سے کچھ کا ذکر بدر بھائی نے بھی کیا ہے۔ بہرحال جو مجھے بہت ہی برے لگے وہ یہ تھے کہ ایک سوراخ تھا، اتنا چھوٹا کہ ایک انسان بہت مشکل سے اس میں سے لیٹ کر گزرسکتا تھا۔ اس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ جو اس میں سے گرر جائے وہ حلالی ہے ورنہ نعوذب اللہ باقی سب، خیر اللہ معاف کریں۔ وہاں میں نے انتہائی موٹے موٹے لوگوں کو بھی گھستے گھسٹتے دیکھا، بس اپنے آپ کو حالای ثابت کرنے کے لیے۔ یہ بھی مشہور ہے کہ اگر کوئی اس غار میں چلا جائے اور چلتا ہی رہے تو یہ غار سعودی عرب جانکلتی ہے۔ جب ہم غار سے باہر نکلے تو انتہائی خوب صورت منظر دیکھا۔ ذرا سوچیں کہ آپ ایک پہاڑ پر کھڑے ہیں آپ نیچے کی طرف دیکھیں تو ایک چشمہ نکل رہا ہے۔ سامنے دیکھیں تو دو پہاڑوں کے درمیان سے سورج نکل رہا ہو۔ انتہائی خوبصورت منظر، میں نے ایسے منظر بہت کم دیکھے ہیں۔ بہرحال بھائی میں سارے راستے وہاں کی حرکتوں پر خوب ہنسا اور مجھے میرے دوست چپ کرا دیتے تھے کہ یہاں پر اسلحہ بردار لوگ ہوتے ہیں جو ذرا دیر نہیں کرتے کسی کو پھڑکانے میں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی اگر سیر اور ایڈونچر کے لیے یہاں جانا چاہے تو ضرور جائیے اور اگر کوئی دین کے پوائنٹ سے جانا چاہتا ہے تو بھائی یہاں جانے سے بچیں۔ لوگوں نے اپنی طرف سے قصے کہانیاں بنا کر کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-09-09), فیصل ناصر (04-09-09), پاکستانی (04-09-09), نورالدین (30-03-10), منتظمین (04-09-09), رفیّعہ جوََِِأد (10-01-10), راجہ اکرام (10-01-10), عبداللہ حیدر (04-09-09) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر بھائی اور سرمد کے موضوع کو ملا کر سرورق پر پیش کیا جائے
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر کسی کے پاس وہاں کی تصاویر ہوں تو بھی یہاں شیر کر دیں۔
والسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے بہت پسند ہیں ایسے من گھڑت قصے کہانیاں خیر جب آپ تینوں چلوں تو مجھ سے رابط کرنا میں بھی چلو گا لاہوت لا مکان میں تو صرف گاڈانی تک ہی گیا ہو
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, کراچی, قدم, قصہ, لوگ, نظر, محبت, آج, اللہ, انسان, بھائی, حال, دوست, دعا, راستہ, سال, ظالم, علی, علاقہ, علاقے, عالم, عجیب, غلام, صابن, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) | ایکسٹو | متفرقات | 2 | 09-03-11 02:54 PM |
| امام کی تلاوت اور جدید سائنس | wajee | اسلام اور معاشرہ | 5 | 09-03-11 07:55 AM |
| نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاعقلی ثبوت | عبداللہ حیدر | عقیدہ رسالت | 12 | 31-12-10 03:09 PM |
| ماہ مقدس رمضان اور تلاوت قرآن | Real_Light | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 0 | 21-08-09 06:39 PM |
| موت ایک اٹل حقیقت !!!!!ایک منتخب تحریر | وجدان | آخرت | 7 | 17-08-09 10:12 AM |