| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
![]() آج اُسے وفات پائے ہوئے دو سال بیت گئے ہیں۔ مجھے یہ تسلیم کرتے ہوئے شرمندگی ہے کہ مجھے بھی اس عظیم ہستی کے وجود کہ بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں حتیٰ کہ میں بلوچستان سے متعلق انٹرنیٹ پر سرچ کرتے ہوئے جینیفر موسیٰ کے بارے میں جانا۔ لندن ٹیلیگراف ان کے بارے میں لکھتا ہے "ایک ائرش نرس جو کہ بلوچستان کے قبیلے کی ملکہ/سردار بن گئی اور ہمیشہ انکے مفادات کے لیے کام کیا" اسی طرح یہی اخبار لکھتا ہے "انکو عموماً ممی جینیفر کے نام سے جانا جاتا تھا، انکی شادی ایک قبیلے کے سردار کے وارث سے ہوئی جس نے بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کیا تھا ۔ممی جینیفر نے اس علاقے میں ایک برف خانہ بھی قائم کیا بلکہ وہ اپنے علاقے تو کجا اپنے صُوبے سے قومی اسمبلی کی پہلی ممبر الیکٹ ہوئیں ۔انہوں نے بعد میں بلوچ باغیوں سے مذاکرات کے لیے Intermediary بھی کردار ادا کیا" ممی جینیفر 1917 کو آئرلینڈ میں پیدا ہوئیں۔انکی چار بہنیں اور دو بھائی تھے۔یہ سب لوگ کٹر رومن کیتھولک تھے۔انکی ملاقات انگلینڈ میں 1939 میں قاضی محمد موسیٰ سے ہوئی۔قاضی محمد موسیٰ گورنر بلوچستان کی نگرانی میں اور آزاد بلوچ ریاست قلات کے وزیر اعظم کے بڑے بیٹے تھے۔1940 میں ممی جنیفر نے اسلام قبول کرتے ہوئے اپنا نام جہاں زیبا رکھا اور ان دونوں نے شادی کر لی۔یہ قاضی کی دوسری شادی تھی اور قاضی کو خوف تھا کہ قبائلی روایات کی خلاف ورزی کرنے پر اسکو قتل کر دیا جائے گا، خاص کر اسکے سُسرالی رشتہ داروں کی طرف سے۔ تاہم اسکا یہ خوف بے جا ثابت ہوا اور جینیفر اور قاضی کی پہلی بیوی ہمیشہ نہ صرف ہمسائے میں رہیں بلکہ اچھی دوست بھی ثابت ہوئیں۔ 1948 میں یہ جوڑا پاکستان آ گیا اور بلوچستان کے دُور افتادہ اپنے قبائلی علاقے پشین میں اپنی رہایش رکھی۔ یاد رہے پشین سنگلاخ پہاڑوں اور مٹی کے طوفانوں سے مزین انتہائی گرم علاقہ ہے جہاں محض سخت جان لوگ ہی گزارہ کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ایک برٹش لیڈی کا اس علاقے میں آنا اور قیام کرنا محیر العقل ہے۔ ممی جنینیفر نے یہاں آ کر شلوار قمیص کو تو اختیار کر لیا تاہم انہوں نے کبھی بھی سکارت یا برقع زیب تن نہیں کیا۔ اپنی اقدار میں انتہائی سخت بلوچستان کے علاقے میں سرداروں کے خاندان میں ایسا ہونا اور برداشت کیا جانا اپنی جگہ بذات خود ایک عجیب بات لگتی ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے کئی مرتبہ انکے گھر پر قیام کیا۔1956 میں انکے شوہر کا ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا۔ جینیفر واپس انگلینڈ جانا چاہتی تھیں لیکن انکے خاندان نے انکو پشین میں رہنے پر ہی قائل کر لیا۔ آزاد طبعیت کی مالک آئرش لیڈی نے 1970 کے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا اور پھر نیلی آنکھوں، بھورے بالوں والی سفید چمڑی والی بغیر برقعے کے خاتون 1970 والی اسمبلی میں کئی داڑھی والے ممبرز کے موڈ خراب کرتی رہی۔ جینیفر نے 7 سال تک بطور پارلیمنٹرین کے کام کیا۔اس دوران انکا رویہ اپوزیشن کے ساتھ نہایت ہمدردانہ اور بہترین تھا۔انہوں نے اپنے علاقے کی پہلی " Women Association"قائم کی ۔انہوں نے اس علاقے میں فیملی پلاننگ کا کلینک بھی قائم کیا۔ جینیفر نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے بلوچستان کے حقوق دبائے جانے کی انتہائی شدت سے مخالفت کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انکو "نلکہ بلوچستان " کا خطاب ملا کیونکہ بھٹو نے کہا تھا کہ "شاید وہ خود کو بلوچستان کی ملکہ سمجھتی ہے۔ اس کو سیدھا کر دیں گے" جینیفر نے 1973 کے آئین پر بھی دستخط کیے تھے۔ جب بھٹو کی طرف سے بلوچستان پر جارحانہ فوجی کاروائیوں کا آغازکیا گیا تو جینیفر نے بلوچ باغیوں اور انکی فیملی کے درمیان خط و کتابت کے فرائض سر انجام دئیے کیونکہ انکی فیملے پردہ کی وجہ سے پبلک اور دنیا سے کٹ گئی تھیں، ضیالحق کے مارشل لا نے انکے سیاسی کیرئر کا اختتام کر دیا اور انہوں نے اپنی توجہ اپنے گھر اور علاققے پر دینا شروع کر دی۔انہوں نے گلاب، انار وغیرہ کے باغات لگائے۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے افغان مہاجرین کی خدمت دکا بیڑا اٹھایا اور مقامی ملا کو تنگ کرنے اور انکی مخالفت کے باوجود تعلیم نسواں کو عام کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے/ جینیفر نے اپنی زندگی کے دوران بہت سے قبائلی جھگڑے بھی نمٹائے۔ قبائلیوں کے درمیان فیصلے کروانا انکی ہی زمہ داری ہوتی تھی۔انکا کہنا تھا کہ "بلوچ سے بات/ڈیل کرتے وقت مکمل ذہانت اور تجربے کا استعمال کرنا پڑتا ہے" جینیفر کا بنیادی مقصد تعلیم، صحت عامہ اور محنت تھا۔ ایک پولیس ایس پی یاد کرتا ہے کہ کس طرح زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ سُستی کرنے پر جینفر نے اسکے کان کھینچے تھے۔ علاقے کا دورہ کرنے والے غیر ملکی ہمیشہ حیران ہوتے تھے کہ اس سنگلاخ، وحشی اور جنگلی علاقے میں کہ جہاں کلاشنکوف اور عورت کے انتہائی سخت پردے کا کلچر ہے، کیوں کر اور کیسے ایک آئرش عورت مقیم ہے اور سکون کے ساتھ شام کی چائے باہر باغ میں بیٹھ کر نوش کرتی ہے۔ جینیفر 12 جنوری 2008 کو وفات پا گئی۔ اسکے جنازے میں ہزاروں قبائیلیوں نے نم آنکھوں کے ساتھ شرکت کی حتیٰ کہ اس میں لمبی لمبی داڑھیوں والے وہ قبائلی بھی تھے جن پر طالبان کا ساتھ ہونے کا الزام ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ واقعی بلوچستان کی ملکہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جینیفر نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ "وہ اپنی آخری اننگ کھیل چُکی ہیں"۔ وہ کہتی تھیں کہ میں اس ملک میں اپنے 14 سا کے بیٹے کی وجہ سے رہ گئی جس نے انگلینڈ جانے سے انکار کر دیا کہ "نہیں ! یہ میرا ملک ہے، میں اسکو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا" اُس نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال ایک اسلامی سوسائٹی میں گزار دئیے۔ وہ کتی تھیں کہ اگر بھٹو بلوچستان میں اپنی ہار ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتا اور جو الیکشن اس نے کروائے ان میں دھاندلی نہ کرتا تو بلوچستان میں کبھی اتنا خؤن خرابہ نہ ہوتا۔ انکے 1973 کے آئین پر دستخط کرنے کا معاملہ ہننوز تفتیش طلب ہے۔کیونکہ اس آئین میں موجود بلوچستان سے متعلق زیادتی والی شقوں کی وجہ سے انہوں نے اس آئین پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا تھا یا پھر انکے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ وہی دھوکہ کہ جس کی وجہ سے آخر دن تک انکے اور مسڑ بھٹو کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے یعنی جعلسازی سے دستخط کروانا۔ “They all call me mummy. Even the mummies call me mummy,” she says. “But mummy has had her innings.” |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | rabab (21-06-10), shafresha (18-06-10), ھارون اعظم (18-06-10), اویسی (18-06-10), ام طلحہ (25-06-10), ابن جلال (21-07-10), احمد بلال (08-07-10), بلال اویسی (21-06-10), شاہ جی 90 (19-06-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اس تحریر پر میری جانب سے 10000 مرتبہ شکریہ قبول فرمائیے!!!!!!!
![]() اور ساتھ ہی ایک چھوٹا سا نذرانہ! بلوچستان کی ملکہ کو میرا سلام! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ جناب۔
اور میرا خیال ہے آپ نے پہلی مرتبہ مجھے کوئی نذر نیاز چڑھائی ہے
Last edited by حیدر; 18-06-10 at 08:54 AM. |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 996
کمائي: 17,603
شکریہ: 8,777
719 مراسلہ میں 1,813 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مگر بدر بھائی معذرت کیساتھ کچھ املاء کی غلطیاں موجود ہیں انکو درست کرلیں۔ شکریہ۔
__________________
![]() باخدا دیوانہ باشد بامحمد ہوشیار!طالبان اور امریکہ کا ایک ہی مقصد ۔ مسلم کشی |
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایسے کرداروں سے تعارف ہمارے اوپر ایک احسان ہے
بدر بھائی آپ سے گزارش ہے کہ ایسا احسان کرتے رہا کیجئیے |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, وزیر, لوگ, مکمل, الزام, انٹرنیٹ, اسلام, اسلامی, بہترین, بھائی, تعلیم, خلاف, دوست, داڑھی, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زندگی, زمانہ, شام, طالبان, عورت, علی, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سشمیاسین اور وسیم اکرم کی دوستی اختتام پذیر۔۔۔۔۔۔ پاکستان ایک بھارتی بھابھی نہ لاسکا | جاویداسد | خبریں | 0 | 08-08-10 04:59 PM |
| وسیلہ | میاں شاہد | پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) | 78 | 08-05-09 01:57 AM |
| قومی ترانہ شاعر موسیقار منتخب ساز | Real_Light | 14اگست | 2 | 26-11-08 01:01 PM |
| افغانستان:امر یکی سفیر کی موسیٰ قلعہ کے ضلعی گورنر سے ملاقات | ابو کاشان | خبریں | 0 | 14-01-08 12:23 PM |
| وسیم اکرم کے گھر ڈاکہ، | champion_pakistani | کرکٹ | 2 | 13-01-08 01:22 PM |