واپس چلیں   پاکستان کی آواز > میرے پاکستان سے > علاقائی زبانیں > بلوچی فورمز



بلوچی فورمز بلوچی فورمز


بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-09-09, 12:22 PM   #1
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ

بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ

(اس رپورٹ کا ایک حصہ آپ کے جی بی ایجنٹس کے انٹروییو کی صورت میں پڑھ چکے ہیں)


ہر کہانی کا کوئی نہ کوئی آغاز ہونا ہوتا ہے۔ کہانی کا پلاٹ ترتیب دیا جا چکا ہوتا ہے ۔ اس کے کردار، انکے کام اور سیچیوشنز سب کچھھ ذہن میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کہانی کو شروع کیسے کیا جائے۔ کہانی کا آغاز ہی کہانی کے پر اثر انجام کی کلید ہوتا ہے۔
یہی مسئلہ بلوچستان کے سلسلہ میںترتیب دیئے گئے پلاٹ کے لیے بھی تھا۔ پلان مکمل ہے۔ بس اس پلان کو بروئے کار کیسے لایا جائے۔ اس سلسلہ میں کسی Catalystکی ضرورت تھی اور یہ Catalyst دو جنوری 2005 کو ڈاکٹر شازیہ گینگ ریپ کیس کی صورت میں میسر آ گیا۔ اس سانحہ کے بعد بھڑکنے والی آگ ایسی بھڑکی کے بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ بلوچستان کو تاریخ کی سب سے بدترین بد امنی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہمارے 4 نمائندوں اور انکے درجنوں ساتھیوں نے پچھلے سات ہفتوں میں بلوچستان کے 5000 کلومیٹر سے زائد رقبے کی ریکی کی تاکہ صرف ایک سوال کا جواب تلاش کیا جا سکے "آخر بلوچستان میں ہو کیا رہا؟" اور اس جدو جہد میں اس پر پیچ کہانی کے صرف چند حصے دھندلے دھندلے واضح ہوئے ہیں۔ اور اگر ان دھندلے دھندلے روشن حصؤں کا بلوچستان میں جاری بد امنی کے ساتھ کچھھ بھی تعلق ہے تو یہ انتہائی خؤفناک اور بلڈ پریشر بڑھا دینے والئ تصویرکی طرف اشارہ کر رہے ہیں

9/11 کے بعد امریکہ کو پاکستانی گورنمنٹ سے آزاد کچھھ ایسے ذرائع کی بھی ضرورت تھی جو اسکو "پاکستان کی قید" سے آزاد کر سکیں۔اس مقصد کے لیے امریکی صدر بش اور روسی صدر پیوٹن میں ایک رابطہ ہوا کیونکہ روس افغانستان اور بلوچستان کے بارے میں خود پاکستان سے زیادہ جانتا تھا اور ابھی تک اسکے رستے زخم بھرے نہیں تھے۔ "ان دونوں" نے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کیا۔

جنوری 2002 میںتربیت دینے والوں کا پہلا دستہ پاکستان کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہواا۔ اس پہلے دستے میں دو انڈین ،دو امریکن اور انکا افغان ڈرائور تھا جو براؤن رنگ کی ہائی لکس SUV ڈبل کیبن گاڑی پر سوار تھے۔ یہ لوگ افغانستان کے راشد قلعہ سے ہوتے ہوئے وہ لوگ 17 جنوری 2002 کو بلوچستان کے مسلم باغ کے علاقے تک پہنچے ۔اور پھر وہاں سے وہ لوگ بلوچستان کے علاقے کوہلو تک چلے گئے۔اس سارے راستے میں انہوں نے غیر معروف راہیں اختیار کیں۔ کوہلو میئں ان لوگوں نے بلوچ نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں پھر ایک امریکن وہیں رہ گیا جبکی باقی کے افراد ڈیرہ بگٹی چلے گئے اور چند دن کے بعد واپس آئے۔ اگلے کوئی ہفتے ان لوگوں نے بلوچ لوگوں سے ملاقاتیں کرنے میں گزار دئیے اور بالاخر ایک ٹریننگ کیمپ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ اسی ٹریننگ کیمپ سے بلوچستان میں جاری بد امنی کی شاخیں پھوٹین۔
بالاچ مری نے کوہلو میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کی آفر کی ۔یاد رہے بالاچ مری روس کا تعلیم یافتہ الیکٹرنک انیجننرہے۔
پہلے کیمپ میں 30 بلوچ نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کیمپ میں مندرجہ ذیل ٹاپکس پر توجہ دی گئی۔
//////////بلوچ کا حق آزادی
///////////گریٹر بلوچستان کا نظریہ
////////////سیاسی جدوجہد میں سبوتاژ(تباہی لانا )کا مقام
/////////////پنجاب کا ظلم و ستم اور مظلوم قوموں کی حالت ذار
////////////// احتجاج کرنے کے میڈیا فرینڈلی طریقے
سوائے میڈیا کو استعمال کرنے کے باقی تمام پرانے طریقے ہی جاری کیے گئے جوKGB نے استعمال کیے تھے۔امریکہ بلوچستان کو بطور ایک بلیک میلنگ ہتھیار کے استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ اگر ایران یا پاکستان اسکے منصوبے سے ہٹیں تو انکو سیدھا کیا جا سکے۔امریکہ خاص کر پاکستان کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ طالبان کے خلاف کاروائی میں سستی ہونے کی صورت میں اسکو بلوچستان میں ہولناک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔وہی بلوچستان جو پاکستان کے 48 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔اور پاکستان کے بیشترقدرتی معدنیات کا مرکز ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ مزید کیمپس قائم کیے جاتے رہے اور فی الوقت 45 سے 55 ٹریہننگ کیمپس کام کر رہے ہیں جن میں فی کیمپ 350 سے 550 بلوچ نوجوان تربیت حآصل کر رہے ہیں۔ ان کیمپس کی ترتیب دو بڑی مثلث کی شکل میں ہے جو بلوچستان کے بیشتر حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔سبی،کشمور اوربارکھان پہلی ٹرائی اینگل کے کونے متصور کیے جا سکتے ہیں جبکہ نوشکی،وانا(وزیرستان) اور کشمور دوسرے ٹرائی اینگل کے کنارے ہیں۔ یہ دونوں ٹرائی اینگلز ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی ہیں۔

ان کیمپس کو ہتھیاروں کی فراہمی افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ انڈین بارڈرز سے بھی جاری ہے اور اس سلسلہ میں سب سے اہم مرکز انڈین گاؤں کشن گڑھ اور شاہ گڑھ ہیں۔ ان ہتھیاروں کو کیمپس تک پہنچانے کا طریقہ نہایت آسان رکھا گیا ہے۔ چونکہ انڈیا نے اپنی سائڈ پر باڑ لگا رکھی ہے اس لیے وہ جہاں سے چاہتے ہیں موقع دیکھ کر اونٹوں کے ذریعے ہتھیار پاکستان کے اندر پہنچا دیتے ہیں۔پھر ان ہتھیاروں کو کارگو ٹرکوں پر لاد دیا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کوعام سامان اور تڑپالوں سے ڈھک دیا جاتا ہے اور یہ ٹرک چند گھنٹوں میں تقریباََ 140 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ڈیرہ بگٹی اور پھر کوہلو پہنچھ جاتے ہیں۔ یہ روٹ پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے بھی موزوں ہے کیونکہ اس روٹ سے پنجاب کو جانے والی گیس پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے وسیع ساحل سمندر بھی دوبئی اور اومان سے آمدورفت میں مدد دیتے ہیں۔

ایک بلوچ باغی کو 200 ڈالرز اور اسکے سپر وائزر کو 300 ڈالرز ماہانہ ملتے ہیں ۔ جو کہ انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہیں دیکھے ہوتے کیونکہ تعلیمی لحاظ سے بد حال بلوچستان کے جوان دیگر صوبوں کے لوگوں کا تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لیے اکثر بے روزگار ہی رہتے ہیں۔تاہم دالبندین،خاران،نوشکی، سبی اور خضدار میں BLA کے ایکٹیوسٹس کے نئے تعمیر شدہ مکانات اور چمکتی دمکتی گاڑیاں اور انکی شادیوں پر خرچے دیکھنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ بی ایل اے کے لیڈرز اس سے زیادہ کما رہے ہیں۔۔ ان ٹریننگ کیمپس کے انچاج عام طور پر غیر ملکی یا انڈین ہی ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے پاکستانی انٹیلیجنس نے بجائے ان کیمپس کے خلاف کاروائی کرنے کے ان کیمپس میں موجود انڈین کی تصاویر لے لیں اور اسی طرح براہمداخ بگٹی کی بھارت موجودگی پر واویلا کرنے کے بجائے اسی موجودگی کے تصویری ثبوت حاصل کرنے کو ترجیح دی گئی تاکہ اس صورت حال کو انڈیا کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا پاکستان کو گیدڑ بھبھکیاں تو دیتا ہے لیکن عملی کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔

(میں ذاتی طور پر اس رپورٹ کی کافی حد تک درستگی پراعتماد رکھتا ہوں کیونکہ میرے ماموں کو جب امن کے دور میں کوہلو جانے کا اور سردار مری کے VHF اور UHF ایکوپمنٹ درست کرنے کا موقع ملا تھا تو انہوں نے بھی کچھھ ایسی ہی خفیہ تسویر کشی کی تھی)
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
Dani (02-09-09), shafresha (02-09-09), نیلم خان (02-09-09), مرزا عامر (20-01-11), ام طلحہ (02-09-09), عبداللہ آدم (20-01-11)
پرانا 02-09-09, 12:45 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 01:03 PM   #3
Member
اجنبی
 
Dani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مراسلات: 50
کمائي: 1,060
شکریہ: 105
42 مراسلہ میں 123 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی بہت اچھی تحریر ہے ۔
Dani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Dani کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-09), نیلم خان (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 01:17 PM   #4
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ہمارے بلوچستان پر رحم کرے۔ یہاں زندگی گزاری ہے۔ اسے اسطرح تباہ ہوتے دیکھ کر دل تڑپتا ہے۔
ام طلحہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-09), نیلم خان (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 01:27 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
(اس رپورٹ کا ایک حصہ آپ کے جی بی ایجنٹس کے انٹروییو کی صورت میں پڑھ چکے ہیں)


ہر کہانی کا کوئی نہ کوئی آغاز ہونا ہوتا ہے۔ کہانی کا پلاٹ ترتیب دیا جا چکا ہوتا ہے ۔ اس کے کردار، انکے کام اور سیچیوشنز سب کچھھ ذہن میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کہانی کو شروع کیسے کیا جائے۔ کہانی کا آغاز ہی کہانی کے پر اثر انجام کی کلید ہوتا ہے۔
یہی مسئلہ بلوچستان کے سلسلہ میںترتیب دیئے گئے پلاٹ کے لیے بھی تھا۔ پلان مکمل ہے۔ بس اس پلان کو بروئے کار کیسے لایا جائے۔ اس سلسلہ میں کسی Catalystکی ضرورت تھی اور یہ Catalyst دو جنوری 2005 کو ڈاکٹر شازیہ گینگ ریپ کیس کی صورت میں میسر آ گیا۔ اس سانحہ کے بعد بھڑکنے والی آگ ایسی بھڑکی کے بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ بلوچستان کو تاریخ کی سب سے بدترین بد امنی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہمارے 4 نمائندوں اور انکے درجنوں ساتھیوں نے پچھلے سات ہفتوں میں بلوچستان کے 5000 کلومیٹر سے زائد رقبے کی ریکی کی تاکہ صرف ایک سوال کا جواب تلاش کیا جا سکے "آخر بلوچستان میں ہو کیا رہا؟" اور اس جدو جہد میں اس پر پیچ کہانی کے صرف چند حصے دھندلے دھندلے واضح ہوئے ہیں۔ اور اگر ان دھندلے دھندلے روشن حصؤں کا بلوچستان میں جاری بد امنی کے ساتھ کچھھ بھی تعلق ہے تو یہ انتہائی خؤفناک اور بلڈ پریشر بڑھا دینے والئ تصویرکی طرف اشارہ کر رہے ہیں

9/11 کے بعد امریکہ کو پاکستانی گورنمنٹ سے آزاد کچھھ ایسے ذرائع کی بھی ضرورت تھی جو اسکو "پاکستان کی قید" سے آزاد کر سکیں۔اس مقصد کے لیے امریکی صدر بش اور روسی صدر پیوٹن میں ایک رابطہ ہوا کیونکہ روس افغانستان اور بلوچستان کے بارے میں خود پاکستان سے زیادہ جانتا تھا اور ابھی تک اسکے رستے زخم بھرے نہیں تھے۔ "ان دونوں" نے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کیا۔

جنوری 2002 میںتربیت دینے والوں کا پہلا دستہ پاکستان کی سرحد عبور کر کے بلوچستان میں داخل ہواا۔ اس پہلے دستے میں دو انڈین ،دو امریکن اور انکا افغان ڈرائور تھا جو براؤن رنگ کی ہائی لکس SUV ڈبل کیبن گاڑی پر سوار تھے۔ یہ لوگ افغانستان کے راشد قلعہ سے ہوتے ہوئے وہ لوگ 17 جنوری 2002 کو بلوچستان کے مسلم باغ کے علاقے تک پہنچے ۔اور پھر وہاں سے وہ لوگ بلوچستان کے علاقے کوہلو تک چلے گئے۔اس سارے راستے میں انہوں نے غیر معروف راہیں اختیار کیں۔ کوہلو میئں ان لوگوں نے بلوچ نوجوانوں سے ملاقاتیں کیں پھر ایک امریکن وہیں رہ گیا جبکی باقی کے افراد ڈیرہ بگٹی چلے گئے اور چند دن کے بعد واپس آئے۔ اگلے کوئی ہفتے ان لوگوں نے بلوچ لوگوں سے ملاقاتیں کرنے میں گزار دئیے اور بالاخر ایک ٹریننگ کیمپ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا۔ اسی ٹریننگ کیمپ سے بلوچستان میں جاری بد امنی کی شاخیں پھوٹین۔
بالاچ مری نے کوہلو میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کی آفر کی ۔یاد رہے بالاچ مری روس کا تعلیم یافتہ الیکٹرنک انیجننرہے۔
پہلے کیمپ میں 30 بلوچ نوجوانوں نے شرکت کی۔ اس کیمپ میں مندرجہ ذیل ٹاپکس پر توجہ دی گئی۔
//////////بلوچ کا حق آزادی
///////////گریٹر بلوچستان کا نظریہ
////////////سیاسی جدوجہد میں سبوتاژ(تباہی لانا )کا مقام
/////////////پنجاب کا ظلم و ستم اور مظلوم قوموں کی حالت ذار
////////////// احتجاج کرنے کے میڈیا فرینڈلی طریقے
سوائے میڈیا کو استعمال کرنے کے باقی تمام پرانے طریقے ہی جاری کیے گئے جوKGB نے استعمال کیے تھے۔امریکہ بلوچستان کو بطور ایک بلیک میلنگ ہتھیار کے استعمال کرنا چاہتا تھا تاکہ اگر ایران یا پاکستان اسکے منصوبے سے ہٹیں تو انکو سیدھا کیا جا سکے۔امریکہ خاص کر پاکستان کو یاد دلاتا رہتا ہے کہ طالبان کے خلاف کاروائی میں سستی ہونے کی صورت میں اسکو بلوچستان میں ہولناک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔وہی بلوچستان جو پاکستان کے 48 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔اور پاکستان کے بیشترقدرتی معدنیات کا مرکز ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ مزید کیمپس قائم کیے جاتے رہے اور فی الوقت 45 سے 55 ٹریہننگ کیمپس کام کر رہے ہیں جن میں فی کیمپ 350 سے 550 بلوچ نوجوان تربیت حآصل کر رہے ہیں۔ ان کیمپس کی ترتیب دو بڑی مثلث کی شکل میں ہے جو بلوچستان کے بیشتر حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔سبی،کشمور اوربارکھان پہلی ٹرائی اینگل کے کونے متصور کیے جا سکتے ہیں جبکہ نوشکی،وانا(وزیرستان) اور کشمور دوسرے ٹرائی اینگل کے کنارے ہیں۔ یہ دونوں ٹرائی اینگلز ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی ہیں۔

ان کیمپس کو ہتھیاروں کی فراہمی افغان بارڈر کے ساتھ ساتھ انڈین بارڈرز سے بھی جاری ہے اور اس سلسلہ میں سب سے اہم مرکز انڈین گاؤں کشن گڑھ اور شاہ گڑھ ہیں۔ ان ہتھیاروں کو کیمپس تک پہنچانے کا طریقہ نہایت آسان رکھا گیا ہے۔ چونکہ انڈیا نے اپنی سائڈ پر باڑ لگا رکھی ہے اس لیے وہ جہاں سے چاہتے ہیں موقع دیکھ کر اونٹوں کے ذریعے ہتھیار پاکستان کے اندر پہنچا دیتے ہیں۔پھر ان ہتھیاروں کو کارگو ٹرکوں پر لاد دیا جاتا ہے۔ ان ہتھیاروں کوعام سامان اور تڑپالوں سے ڈھک دیا جاتا ہے اور یہ ٹرک چند گھنٹوں میں تقریباََ 140 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ڈیرہ بگٹی اور پھر کوہلو پہنچھ جاتے ہیں۔ یہ روٹ پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے بھی موزوں ہے کیونکہ اس روٹ سے پنجاب کو جانے والی گیس پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے وسیع ساحل سمندر بھی دوبئی اور اومان سے آمدورفت میں مدد دیتے ہیں۔

ایک بلوچ باغی کو 200 ڈالرز اور اسکے سپر وائزر کو 300 ڈالرز ماہانہ ملتے ہیں ۔ جو کہ انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہیں دیکھے ہوتے کیونکہ تعلیمی لحاظ سے بد حال بلوچستان کے جوان دیگر صوبوں کے لوگوں کا تعلیمی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لیے اکثر بے روزگار ہی رہتے ہیں۔تاہم دالبندین،خاران،نوشکی، سبی اور خضدار میں BLA کے ایکٹیوسٹس کے نئے تعمیر شدہ مکانات اور چمکتی دمکتی گاڑیاں اور انکی شادیوں پر خرچے دیکھنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ بی ایل اے کے لیڈرز اس سے زیادہ کما رہے ہیں۔۔ ان ٹریننگ کیمپس کے انچاج عام طور پر غیر ملکی یا انڈین ہی ہوتے ہیں۔

اسی وجہ سے پاکستانی انٹیلیجنس نے بجائے ان کیمپس کے خلاف کاروائی کرنے کے ان کیمپس میں موجود انڈین کی تصاویر لے لیں اور اسی طرح براہمداخ بگٹی کی بھارت موجودگی پر واویلا کرنے کے بجائے اسی موجودگی کے تصویری ثبوت حاصل کرنے کو ترجیح دی گئی تاکہ اس صورت حال کو انڈیا کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا پاکستان کو گیدڑ بھبھکیاں تو دیتا ہے لیکن عملی کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔

(میں ذاتی طور پر اس رپورٹ کی کافی حد تک درستگی پراعتماد رکھتا ہوں کیونکہ میرے ماموں کو جب امن کے دور میں کوہلو جانے کا اور سردار مری کے VHF اور UHF ایکوپمنٹ درست کرنے کا موقع ملا تھا تو انہوں نے بھی کچھھ ایسی ہی خفیہ تسویر کشی کی تھی)
اچھی شیئرنگ ھے ۔
نیلم خان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-09-09)
پرانا 09-11-09, 10:39 AM   #6
Banned
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Balochistan
مراسلات: 59
کمائي: 991
شکریہ: 22
32 مراسلہ میں 47 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلوچ سرما چار زنرہ باد۔
ghaffarjan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-01-11, 07:40 PM   #7
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 27
کمائي: 211
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سب جھوٹے بیانات ہیں
کینگ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کینگ کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 20-01-11, 10:06 PM   #8
Senior Member
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,769
کمائي: 95,741
شکریہ: 22,625
4,761 مراسلہ میں 13,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

بلوچ بھائی وہ حقائق بیان کریں جو انہیں نظر آتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،

سب کو یہاں بلا تفریق اپنا موقف بیان کرنے کی آزادی ہے

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-01-11, 11:51 PM   #9
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 27
کمائي: 211
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر میں یہاں یہ کہو کہ اس فورم کا ایڈمن فلاں فلاں کاموں میں ملوث ہے یا اس نے یہ کیا ہے وہ کیا ہے اور جب کہ اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے تو آُ کیا کرو گے یہی کے میری آئی ڈی بینڈ کرو گے ۔ اسی طرح جھوٹے دلائل سے ہمیں درد ہوتا ہے۔
کینگ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 20-01-11, 11:55 PM   #10
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 27
کمائي: 211
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمیں فکر ہے ان سرمچاروں پر جو یہ عیش حسرت چھوڈ کر اپنی ملک کے لئے جنگ کررہے ہیں
جس طرح جہادی مسلمان ہمارے لئے ہیرو ہین او یورپین کے لئے آتنک گوادی ہیں،
اسی طرح ہمارے بلوچ ہمارے لئے ہیرو ہیں اور ان کے لئے آتنک گوادی
کینگ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-01-11, 12:49 AM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کینگ مراسلہ دیکھیں
ہمیں فکر ہے ان سرمچاروں پر جو یہ عیش حسرت چھوڈ کر اپنی ملک کے لئے جنگ کررہے ہیں
جس طرح جہادی مسلمان ہمارے لئے ہیرو ہین او یورپین کے لئے آتنک گوادی ہیں،
اسی طرح ہمارے بلوچ ہمارے لئے ہیرو ہیں اور ان کے لئے آتنک گوادی
ملک سے مراد پاکستان ہے یا بلوچستان؟
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 21-01-11, 12:56 AM   #12
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 27
کمائي: 211
شکریہ: 0
6 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلوچستان
بلوچستان
بلوچستان
کینگ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
Baloch freedom Movement, balochistan, BLA, color, Pakistan intelligence, USA, فورم, پاکستانی, قید, نظر, مقابلہ, ایران, اللہ, امریکہ, احتجاج, بھائی, بیانات, تلاش, تحریر, تصاویر, جھوٹے, دل, زندگی, سردار, طالبان


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پورنستان کہنے والوں کے منہ میں خاک یاسر عمران مرزا میرا پاکستان 7 26-07-10 08:21 AM
بلوچستان میں جاری بد امنی کی ایک چشم کشا رپورٹ حیدر خبریں 7 05-09-09 06:25 AM
پاکستان وعد پورا نہیں کر رہا:مکھرجی ابو عمار خبریں 0 21-12-08 09:56 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 12-10-08 12:03 AM
پاکستانی معیشت دباؤ میں: رپورٹ محمدعدنان خبریں 0 01-06-08 01:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger