| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان ۔ ۔ ۔ ۔ چٹیل میدانوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔سنگلاخ پہاڑوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔سرسبز وادیوں اور بہتے چشموں کی سر زمین۔
بلوچستان کہ جو پاکستان کے پچاس فیصد سے زائد رقبے پر محیط ہے۔ بلوچستان کہ جس میں موجود معدنیات اور تیل و گیس کے اس قدر ذخائر موجود ہیں کہ اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بلوچستان کہ جس کے ساتھ پاکستان کی طویل ترین ساحلی پٹی اور تین سے زائد بندرگاہیں موجود ہیں۔ بلوچستان جس کی سرحدیں دو ممالک سے ملتی ہیں جن میں سے ایک خطرناک ترین ملک ایران ہے۔ بلوچستان کہ جہاں گہرے پانیوں کی بندرگاہ گوادر: کی شکل میں مستقبل کا دبئی موجود ہے۔جس کے ذریعہ پورے بحیرہ ہند کی تجارت قابو میں کی جا سکتی ہے۔ اور فوجی نقل و حمل پر نظر رکھی جا سکتی ہے بلوچستان گم گشتہ رازوں کی سر زمین کہ جس کی اہمیت کے بارے میں جتنا بھی لکھ ڈالیں اتنا ہی کم ہے آج اس سرزمین پر آگ بھڑک رہی ہے۔ مہمان نوازوں کی سرزمین پر مہمانوں اور مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ بہادروں کی سر زمین پر بزدلوں کی طرح چھپ چھپ کر وار کییے جا رہے ہیں۔ کمزوروں سے محبت کرنے والوں کے گھر میں کمزور مہمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے مزہب سے محبت جن کی گھٹی میں دی جاتی ہے آج وہاں پاکستان سے نجات حاصل کرنے کے نام نہاد دعووں میں بھارت اور اسرائل سے مدد لینے کی بات کی جا رہی ہے وہ سر زمین جس کے سپوت کبھی بھی اخلاق سے گرا ہوا وار نہیں کرتے تھے آج اس کے نام نہاد لاڈلوں کے دفاتر اسرایئل کے صدر مقام تل ابیب میں ہیں آخر یہ سر زمین اس زوال کو ۔ ۔ ۔ اس حال کو کیوں کر پہنچی۔ اس ٹاپک میں صرف بلوچستان ہو گا اور بلوچستان کے گلے شکوے ہون گے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ghaffarjan (09-11-09), فیصل ناصر (15-05-09), منتظمین (17-05-09), ابن جلال (15-05-09), رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), راشد احمد (09-06-09), رضی (24-05-09), سام (18-05-09) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میری آپ سب سے درخواست ہے کہ وہ سب صاحبان جو پاکستان اور بلوچستان کی صورتحال پر دل گرفتہ ہیں اور ان کے ذہن میں کوئی بات ہے ۔وہ اس ٹاپک میں ضرور شرکت کریں اور اپنی آرا اور تجاویز اور تنقید اور معلومات بہم پہنچانے میں مدد کریں ۔
مین ایک مرتبہ کسی بلوچی فورم پر گیا تھا تو ادھر پاکستان کو مطعون کیا جا رہا تھا۔میں نے سوچا اپنے ہی بھائی ہیں۔گپ شپ کرتے ہیں اور اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔میں نے پاکستان کے حق میں دلائل دییے۔تو میرے بھائی مجھ سے ناراض ہو گئے اور میرا داخلہ بند کر دیا گیا۔تو میری سبھی سے گزارش ہے کہ مخالف بات کو کھلے دل سے سن کر اسکا دلائل سے جواب دینا بہتر ہوتا ہے نہ کہ ویسا جواب کہ جس سے اپنی ہی شکست ہو جائے۔ میری ان سب بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ جو کسی بھی وجہ سے پاکستان سے ناراض ہیں وہ بلا جھجھک اپنی بات ادھر کہہ دیں ۔انکی بات کا برا نہیں منایا جائے گا اور کھلے دل سے اس پر گفتگو کر کے کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ بدرالزمان بلوچ سریاب روڈ کوئٹہ Last edited by حیدر; 15-05-09 at 01:50 AM. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان تاریخ کے آئینہ میں
اس سے قبل کہ ہم آج کی بات کریں ،بہتر ہوگا کہ پہلے ہم بلوچستان کے کل کی بات کر لیں۔کہتے ہیں کہ گزرا ہوا کل آنے والے کل کی نوید ہوتا ہے۔ ماضی سے ہم سیکھ سکتے ہیں کہ ہم سے کہاں اور کیا غلطی ہویی تھی اور پھر اسکو دور کرنے کی کوشش کی جا ساکتی ہے۔ اس سے متعلق انشاللہ کل میں پوسٹنگ کروں گا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,752
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,113 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام بدرالزما ں
بچپن میں میری دوست کے نانا نانی بلوچستان میں رھتے تھے وہ وہاں کی خوبصورتی کی اتنی باتیں بتاتی تھی میں نے سوچا تھا میں زندگی میں ایک بار ضرور بلوچستان جاؤنگی زیارت جاؤنگی جہاں قائد اعظم نے اپنا آخری وقت گزارہ مجھے پاکستان کے ھر کونے سے محبت ھے پاکستان برا نہیں یہ پاکستان کی بد قسمتی ھے کو ایسے لیڈر ملے جو ملکی مفاد پہ اپنے مفاد پہ ترجیح دیتے ھیں کوئ ملک خود عظیم نہیں ھوتا کسی بھی ملک کے عوام اور لیڈر اس کو عظیم بناتے ھیں مانتی ھوں بلوچستان کے ساتھ ماضی میں اور اب تک بہت زیادتی ھوئ ھیں مگر کیا زیادتی پنجاب کے عوام کے ساتھ نہیں ھورھی ابھی اسی ھفتے کا واقعہ ایک جاگیردار کے کونسلر کو کیسے قید کیا تھا ایک عام انسان کے ساتھ کیا کچھ نہیں ھوتا ھوگا کسان کے گھر دیکھیں جو سارا سال فصل اگاتا ھے مگر خود فاقے میں اسکی زندگی گزرتی ھے سرحد بھی دکھی ھے سندھ بھی زخموں سے چور ھے مسلہ یہ ھے ھم کبھی پاکستان بن کے اکٹھے ھوئے اپنے مسلے مسائل ایک ساتھ مل کرحل کرنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ سب پاکستان سے محبت کرتے ھیں ھمارے حکمرانوں نے کبھی ایک قوم بنانے کی کوشش نہیں کی کوئ پنجاب کا لیڈر ھے کوئ سرحد کا کوئ سندھ کا کوئ بلوچستان کا --- آپ کے خیال میں کوئ ایک لیڈر بھی ایسا ھے جو پاکستان کا لیڈر ھو کوئ بھی ایسا نہیں |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (17-05-09), ابن جلال (15-05-09), رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), راشد احمد (09-06-09), رضی (24-05-09) |
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کچھ بیرونی طاقتیں " کچھ مقامی غدار بھی " اگر ہمارے بلوچ بھائیوں کو استعمال کرکے اپنے مذموم ماصد پورا کرنا چاہتی ہیں تو ہمارا فرض یہ بنتا ہے کے ان کو سمجھائیں اور حقیقت سے آگاہ کریں اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے حق میں آواز بلند کریں |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترمہ حیا صاحبہ اور فیصل ناصر صاحب شکریہ کہ آپ نے تفصیلی حصہ لیا اس تھریڈ میں۔ورنہ لوگ تو پوسٹنگ بڑھانے کے چکر میں د، نائس وغیرہ لکھھ کر چل دیا کرتے ہیں۔ خیر بلوچستان کے ساتھ کچھ نہیں کافی کچھھ دیگر معاملات بھی ہیں۔مثال کے طور پر سیندک پروجیکٹ جس میں سے کاپر اور سونا نکلتا ہے اس کے سونے میں سے پچھتر فیصد چائنا لے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ 24 فےصد وفاق اور ایک فےصد بلوچستان۔ یہی نا انصافی ہوتی ہے جو لڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔اسی طرح گیس کی رائلٹی میں پنجاب اور بلوچستان کے ریٹس کا فرق دس گنا سے زائد کا ہے یعنی بلوچستان کو پنجاب کے ریٹس سے دس گنا کم دیا جاتا ہے۔ الغرض وفاق کی حماقتوں اور نا اہلیوں کی سزا پاکستان کو مل رہی ہے۔
تاہم میں آپکی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ گھر کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ گھر کو گرانے کی۔ رہی لیڈر شپ کی بات تو مسئلہ یہ ہے ایک تو ہم لوگ برادری سسٹم کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں اور دوسرا مسئلہ یہ کہ ہم کسی دوسرے کو موقع دیتے ہی نہیں ۔پچھلے بیس سال سے دو پارٹیاں ہی حکومت کرتی آ رہی ہیں۔ان کے علاوہ اور کن کو آزمایا ہے قوم نے؟میرا خیال ہے کہ اس ملک میں پر خلوص لیڈرشپ کا فقدان نہیں بلکہ پر خلوص عوام کا فقدان ہے۔ہماری عوام میں شخصیت پرستی کا رحجان ہی اس ملک کو ترقی نہیں کرنے دے رہا۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان تاریخ کے آئینہ میں
آذادی سے پہلے اگر یہ کہا جائے کہ بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کا کارنامہ محض ایک شخص یعنی مشہور ناول نگار نسیم حجازی کے سر جاتا ہے تو یہ کچھ مبالغہ نہ ہو گا۔ اذادی سے قبل بلوچستان تین حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک حصہ برٹش بلوچستان کہلاتا تھا دوسرا ریاستی بلوچستان اور تیسرا حصہ گوادر جو سلطنت اومان کے پاس ٹھیکہ پر تھا ، کانگریس اور انگریز حکومت نے بلوچستان کو پاکستان میں شامل نہ ہونے دینے کے لییے ایڑی چوٹی کا ذور لگایا۔پیسا پانی کی طرح بہایا گیا،سرداروں کو خریدنے کے لیے ہر ممکن حربہ اختیار کیا گیا۔قصہ مختصر اس قدر زیادہ سازشوں کے جال تھے کہ اگر میں صرف ایک فقرہ کہوں گا کہ آخری لمحہ تک کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ بلوچستان کہاں جا رہا ہے۔پھر اللہ کی قدرت نے اپنا طہور کیا اور کانگریس اور فرنگی سازشیں ناکام ہویں اور برٹش بلوچستاں پاکستاں کا حصہ بن گیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ریاستی بلوچستان کے ساتھ بھی تھا جہاں خان آف قلات کی حکومت تھی۔محلاتی سازشیں تو نا جانے کب سے چل رہی تھیں تاہم خان آف قلات کی قائدِاعظم سے محبت کام آئی اور یہ مسئلہ بھی آخری لمحوں میں حل ہو گیا۔بقول رائٹر کہ گویا ان کی جان سوئی پر لٹکی ہوئی تھی۔ پاکستان ابھی ان مسائل سے نبٹ رہا تھا کہ خفیہ اطلاع آئی کہ بھارت خفیہ طور پر سلطنت اومان سے گوادر پورٹ منہ مانگے داموں پر حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اور اتفاق ایسا تھا کہ پاکستان سے محبت کرنے والوں نے آخری لمحہ پر یہ سازش بھی ناکام بنا دی اور سلطنت اومان کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ گوادر پاکستان کو ہی دے۔ورنہ گوادر کی صورت میں پاکستان کی جسم پر ایک ایسا سانپ آ بیٹھنا تھا کہ اس کا جینا دو بھر ہو جاتا۔ اس بارے میں تفصیلی پوسٹ میں بعد میں انشاللہ علحدہ سے ضرور کروں گا تاکہ پڑھنے والوں کو معلوم ہو سکے کہ بلوچستاں آغاز سے ہی سازشوں کا شکار رہا یے۔ الغرض اعصاب شکن مراحل کے بعد بلوچستان ۔۔۔ پاکستان کا حصہ بن گیا ۔ورنہ نا اہل مسلم لیگی صدر قاضی عیسی نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی پاکستان کو آدھا کرنے کی۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بلوچستاں میں سازشوں کے تانے بانے آزادی کے وقت سے ہی بنے جا رہے ہیں۔تاہم یہ الگ بات ہے کہ ہم نے بھی ان سازشوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انشاللہ آئندہ میں آزادی کے بعد کے حالات بھی لکھوں کا تاکہ ہم کو معلوم ہو سکے کہ آخر بلوچستان میں ساازشوں نے اپنے قدم کیسے مضبوط کر لییے
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (22-05-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,855
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
1990ء سے پہلے جب صرف پی ٹی وی ہوتاتھاتب پالے شاہ ، جاکراعطم اور بخت نامہ جیسے خوبصورت ڈرامے دکھاےگے جن میں ہمارے غیور اوربہادربلوچوں کےکارنامے انکاشاندارماضی انکاکلچرپیش کیاگیامیری دلی خواہش تھی کہ اپنے ملک کے اس حسین صوبے کی زیارت کروں اسکی خوبصورتی کواپنی آنکھوں میں بسالوں الّلہ میرے ملک کو سلامت رکھے اور میں اپناخواب پوراکرسکوں
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان پاکستان کا حصہ بنتا ہے۔
خان آف قلات پاکستان کی مدد کرتا ہے۔ خان آف قلات کی قائد اعظم کے ساتھ پر خلوصانہ دوستی تھی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جب آغاز میں پاکستان کی حکومت دیوالیہ ہو چکی تھی اور اس کے پاس تنخواہوں کی ادایگی کے لیے خزانہ خالی تھا تو ایسے میں قائد کے دو دوستوں نواب آف بہاولپور اور خان آف قلات نے پر خلوصانہ ہاتھ بڑھایا ۔ان دونوں نوابوں نے کئی ماہ تک کا تنخوہوں اور دیگر اخراجات کا بار اپنے ذمہ لے کر پاکستان کو سبکی سے بچایا، بلوچستان میں پہلی بغاوت بلوچستان کے پاکستان میں شمولیت کا ایک اہم واقعہ قلات میں بغاوت اور پاکستان کی تاریخ کا پہلا فوجی ایکشن ہے۔اسکو تفصیلاََ بعد میں بیان کروں گا تاہم مختصرا یوں جان لیجیے کہ خان آف قلات کے دربار کے کچھ نا عاقبت اندیشوں نے ریاست قلات (یا ریاستی بلوچستان) کو علحدہ مملکت بنانے کی ٹھانی اور دربار میں ایک قرار داد پیش کی جانے والی تھی اسی ضمن میں۔ بلوچستان میں فوجی کاروائی حکومت پاکستان نے ان خبروں کے بعد (قائد اعظم کی وفات کے بعد) قلات پر آرمی ایکشن کا حکم دیا۔ جس کے نتیجے میں راتوں رات ہزاروں فوجی تینکوں کے ہمراہ دربار پر قبضہ کرنے میں مصروف ہو گئے۔اور خان آف قلات کو معزول کر کے بلوچستان کو وفاق کے ماتحت کر دیا گیا۔ چونکہ خان آف قلات کو ایک مقدس حیثیت حاصل تھی اس لیے پاکستان کی تاریخ کی پہلی بغاوت کا آغاز ہوا۔تاہم اس بغاوت کا مقصد پاکستان سے نجات نہیں بلکہ خان آف قلات کی دوبارہ بحالی تھا۔۔یہ بغاوت یا جھگڑا کافی عرصہ چلا حتیٰ کہ آرمی نے انتہای بہیمانہ کاروائی کرتے ہوئے کچھ سرداروں جیسے سردار نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو دھوکے سے شہید کر دیا۔اس واقعہ سے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی ساکھ بلوچوں کی نظر میں کمزور ہو گئی اور روایتی بلوچ پاکستان کو برظانیہ کا تسلسل سمجھنے لگے۔ سردار نو روز خان کی شہادت کا ظالمانہ واقعہ اور پاکستان کے ساتھ نفرت کا آغاز اس واقعی کی کچھ تفصیل یوں ہے کہ سردار نوروز خان اور انکے ساتھی ایک قلعہ میں مورچہ زن ہو کر بیٹھھ گئے ۔افواج کافی دن کی کوشش کے بعد بھی وہ قلعہ خالی نہ کروا سکی۔اس پر ایک شاطر دماغ افسر کو کسی دوسرے شاطر دماغ نے مشورہ دیا کہ ہم قرآن کو ضامن بنا کر سردار نوروز کو معافی کا اعلان کر دیتے ہیں۔جب وہ نیچے آئیں گے تو گرفتار کر لیں گے،یہی ہوا اور جب بلوچ قراں پر اعتبار کر کے نیچے اترے تو نہ صرف ان کو گرفتار کر لیا گیا بلکہ سر عام پھانسی دے دی گئی اور کئی دن تک ان کی لاشوں کو عبرت کا نشان بنایا گیا۔ اس ظالمانہ کاروائی کے بعد بلوچستان میں بغاوت کا خاتمہ ہو گیا۔لیکن پاکستان سے نفرت کا بیج بو گیا۔ بلوچستان صوبہ بنتا ہے قائد اعظم نے اپنے مشہور 14 نکات میں بلوچستان کو علحدہ صوبہ بنانے کی بات کی تھی۔ لیکن بد قسمتی سے اس وعدے پر 1971 تک عمل نہ کیا گیا۔تاہم 1971 میں اس کو علحدہ صوبہ کی حیثیت دے دی گئی۔ Last edited by حیدر; 19-05-09 at 12:17 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انشاللہ سام آپ اپنی خواہش ضرور پورا کر سکیں گے۔لیکن بد قسمتی سے آج کل کے حالات میں فی الوقت نا ممکن ہے۔
نوت: چونکہ تاریخ ایک حساس موضوع ہے اس لیے میری ہر ممکن کوشش ہے کہ میں انتہائی محتاط ہو کراس کا خلاصہ پیش کروں۔تاہم انسان غلطیوں کا شکار ہو جایا کرتا ہے۔اس لیے میری آپ سب سے گزارش ہےکہ اگر کوئی غلطی محسوس کریں تو مجھے مطلع کریں تاکہ میں اس کا ازالہ کر سکوں۔ بلوچستان کے 1971 کے بعد کے حالات انشاللہ میں آیئندہ کی کسی پوسٹ میں درج کروں گا، |
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان 1971 کے بعد 1970-1971 میں پہلی مرتبہ بلوچستان کو صوبہ تسلیم کیا گیا اور اس میں انتخابات ہوئے۔مگر وفاقی حکومت نے کچھ ہی عرصہ کے بعد اس میں منتخب حکومت کو گرا دیا اور نواب اکبر خان بگٹی کی ذیر نگرانی بلوچستان میں دوسرا فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔جو کہ کوئی5 سال سے زائد چلا۔ میرے بزرگوں، جو پی ٹی سی ایل میں اعلی عہدے پر فائز تھے، کے مطابق اس آپریشن میں فوج کا کافی جانی نقصان ہوا تھا تاہم اس دور میں میڈیا پر حکومتی کنٹرول کی وجہ سے آج تک اس نقصان کا پتا نہ چل سکا۔ اسی فوجی آپریشن کے دوران ایک قبیلہ جو کہ "مری قبیلہ" کہلاتا ہے وہ پاکستان سے اظہارِ لا تعلقی کرتے ہویے افغانستان ہجرت کر گیا۔جس کو بعد میں ضیا کے مارشل لا دور میں منا کر واپس لایا گیا۔ وفاق کی ایما پر سردار اکبر خان بگٹی کی زیر نگرانی اس آپریشن کی ایک اور اہم بات مشہور عالم "بلوچستان لبریشن آرمی یا BLA" کی پیدایش ہے۔جو کہ روس اور بھارت کے تعاون سے ناراض بلوچوں کو گمراہ کرنے کے لیے کھڑی کی گئی اور جس پر آجکل امریکہ اور بھارت کا دست شفقت ہیے۔ بحر کیف لایعنی مقاصد حاصل کرنے کے لیے شروع کیا گیا آپریشن نا معلوم مقاصد حاصل کرتا ہوا مارشل لا دور میں اختتام پذیر ہوا۔ اور بلوچستاں میں امن آمان کا دس سالا دور کا آغاز ہوا۔ تاہم جمہوریت کے واپس آتے ہی اس منحوس کھیل کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا جس کی ابتدا 1971-1973میں کی گئی تھی۔وفاق میں آنے والی ہر حکومت نے اپنے مخالقف بننے والی بلوچستان کی ہر حکومت کو سکیورٹی رسک قرار دیا اور اس کو گرا دیا اور اپنی من مانی حکومت قایم کی۔ اس دور میں کبھی بگٹی تھا تو کبھی مگسی، کبھی مینگل محب وطن تھا تو کبھی بزنجو اورکبھی کوئی اور۔ وفاق کی ناا ہل قیادت بلوچستان میں اپنی من پسند حکومت لانے کے چکر میں ہمیشہ یہ بھلا بیٹھی کہ اس طرح وہ ناراض عنصرکے موقف کو مضبوط کر رہی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا ۔حتی کہ 1999کا مارشل لا کا آغاز ہوا |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), رضی (22-05-09) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان مشرف دور میں مشرف کا مارشل لا آغاز میں پاکستان کے لیے کسی رحمت کی طرح محسوس ہوا تھا۔ پاکستان میں ہر طرف اچھائی کی اک لہر سی چل پڑی تھی۔ ٹرینوں کی ٹایمنگ سے لے کر گورنمنٹ سروسز میں بہتری محسسوس ہونے لگی تھی۔ اسی طرح امید تھی کہ جس طرح ضیا دور میں بلوچستان میں نام نہاد سہی لیکن امن ضرور تھا اسی طرح مشرف کے دور میں بھی ہوگا۔ لیکن یہ امید پوری نا ہوئی ۔ مشرف نے نہ صرف سابقہ استعماری ہتھکنڈوں کو جاری و ساری رکھا۔اس نے دھمکی دی کہ اب 1971 کا پاکستان نہیں ہے ہم تم کو ادھر سے ہٹ کریں گے کہ تم کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ یہ اسلام آباد کی مشہور عالم استعماری پالیسی تھی کہ ہم کو لوگ نہیں زیمن چاہیے (جنرل نیازی نے بنگالیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا) اور مشہور بلوچ لیڈر سابقہ حاکم اعلیٰ بلوچستان کو بغاوت کے الزام میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر قتل کر دیا۔ اس پر مجبور ہو کر ایک بلوچ لیڈر کہ کہنا پڑا کہ پاکستانی انڈین کو معاف کر سکتے ہیں ، ان کے ساتھ ڈائلاگ کر سکتے ہیں۔ان کو پھولوں کے ہار پہنا سکتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے ساتھ کبھی بات نہیں کریں گے۔بلکہ بات کریں گے بھی تو بندوق کی نال پر۔ بگٹی کے قتل پر پورے بلوچستان میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔میں اس وقت کوئٹہ کے ولی جیٹ (ولیج ایڈ)کے علاقہ میں تھا۔میں نے وہ فسادات اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔اور محسوس کیا کہ یہ فسادات جتنے بھی ہوئی ہیں یہ محبان بگٹی نہیں بلکہ چند شر پسند عناصر ہی کر رہے ہیں۔ان فسادات میں لوٹ مار کا عنصر زیادہ تھا اور لسانی فسادات کا عنصر نہ ہونے کے برابر۔ تاہم خوف و ہراس کی فضا ضرور تھی۔ اس واقعے کے بعد کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ گئے۔ BLAاور را کے تعلقات میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), رضی (22-05-09) |
![]() |
| Tags |
| baloch freedom struggle, Baluchistan, color, فرض, پاکستان, ویب, قید, نفرت, چین, نواز شریف, چور, محبت, مسائل, آج, ایران, انسان, حل, دوست, زندگی, زرداری, سیاست, سال, صوبے, صوبائی, صحیح, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی | گلاب خان | خبریں | 0 | 21-02-11 07:52 AM |
| عدالتی نظرثانی کے واضح خدشات ،ریمنڈ پچھلی تاریخوں میں سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں کرسکا | گلاب خان | خبریں | 1 | 14-02-11 11:27 AM |
| بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں، وکی لیکس | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:18 AM |
| افغانستان میں بھارتی افواج کی تعیناتی شروع، آئندہ 4 ماہ پاکستان کیلئے خطرناک | champion_pakistani | خبریں | 4 | 18-09-08 11:08 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |