| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان مشرف دور میں مشرف کا مارشل لا آغاز میں پاکستان کے لیے کسی رحمت کی طرح محسوس ہوا تھا۔ پاکستان میں ہر طرف اچھائی کی اک لہر سی چل پڑی تھی۔ ٹرینوں کی ٹایمنگ سے لے کر گورنمنٹ سروسز میں بہتری محسسوس ہونے لگی تھی۔ اسی طرح امید تھی کہ جس طرح ضیا دور میں بلوچستان میں نام نہاد سہی لیکن امن ضرور تھا اسی طرح مشرف کے دور میں بھی ہوگا۔ لیکن یہ امید پوری نا ہوئی ۔ مشرف نے نہ صرف سابقہ استعماری ہتھکنڈوں کو جاری و ساری رکھا۔اس نے دھمکی دی کہ اب 1971 کا پاکستان نہیں ہے ہم تم کو ادھر سے ہٹ کریں گے کہ تم کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ یہ اسلام آباد کی مشہور عالم استعماری پالیسی تھی کہ ہم کو لوگ نہیں زیمن چاہیے (جنرل نیازی نے بنگالیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا) اور مشہور بلوچ لیڈر سابقہ حاکم اعلیٰ بلوچستان کو بغاوت کے الزام میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر قتل کر دیا۔ اس پر مجبور ہو کر ایک بلوچ لیڈر کہ کہنا پڑا کہ پاکستانی انڈین کو معاف کر سکتے ہیں ، ان کے ساتھ ڈائلاگ کر سکتے ہیں۔ان کو پھولوں کے ہار پہنا سکتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے ساتھ کبھی بات نہیں کریں گے۔بلکہ بات کریں گے بھی تو بندوق کی نال پر۔ بگٹی کے قتل پر پورے بلوچستان میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔میں اس وقت کوئٹہ کے ولی جیٹ (ولیج ایڈ)کے علاقہ میں تھا۔میں نے وہ فسادات اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔اور محسوس کیا کہ یہ فسادات جتنے بھی ہوئی ہیں یہ محبان بگٹی نہیں بلکہ چند شر پسند عناصر ہی کر رہے ہیں۔ان فسادات میں لوٹ مار کا عنصر زیادہ تھا اور لسانی فسادات کا عنصر نہ ہونے کے برابر۔ تاہم خوف و ہراس کی فضا ضرور تھی۔ اس واقعے کے بعد کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ گئے۔ BLAاور را کے تعلقات میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), رضی (22-05-09) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بدر الزمان بھائی آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے بلوچستان کی تاریخ سے ہمیں آگاہ کیا اور یہ بھی درست ہے کہ بلوچستان کے ساتھ ہمشہ زیادتی ہوئی ہے مسئلہ پاکستانیوں کا نہیں ہے مسئل ہمارے حکمرانوں کا ہے ہر علاقے کے لوگوں کی اپنی کچھ روایات ہوتی ہیں اپنی سوچ اور فکر ہوتی ہے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے علاقے کے لوگوں کی سوچ کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے مگر ہمارے حکمرانوں کے دماغ میں جو کچھ آتا ہے بغیر سوچے سمجھے کر گزرتے ہیں
بگھٹی کے ساتھ جو ہوا وہ غلط طریقے سے ہو مگر آپ اس کی وضاحت ذرا کر دیں کہ بگھٹی صاحب نے اپنی فوج کام کی ھوئی تھی اور ان کے پاس غیر ملکی اصلحہ کہاں سے آیا وہ بھی تو بلوچی عوام کے نام پر حکومت سے پیسہ لیتے مگر عوام تک نہ پہنچاتے ۔ خود آکسفورڑ سے پڑھا ھو شخص بلوچی بچوں کو سکول جانے سے کیوں روکتا تھا۔ اس موضوع پر بھی تھوڑی تفصیل ھو جائے تو میں آپکا مشکور ھوں کا
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), سام (22-05-09) |
|
|
#18 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ رضی آپکا اس ٹاپک میں حصہ لینے پر۔
بگٹی صاحب اور انکے اسلحے پر بات کرنے سے قبل ہم دیکھیں کہ 1۔ جو شخص بلوچستان کا دو مرتبہ سے زائد حاکم اعلیٰ رہ چکا ہو اور کسی زمانے میں اسکا دوسرا گھر پنجاب ہو۔لاہور میں وقت گزارنا اس کا دلپسند مشغلہ ہو۔پنجاب کے سیاستدانوں کے ساتھ اسکی دوستیاں ہوں۔یکایک کیوں بغاوت پر آمادہ ہو گیا؟ 2۔وہ کون سے راستے تھے جن سے بگٹی کو اسلحہ ملتا تھاِ پاکستان کی مشہور زمانہ ISIاس نعاملہ میں ناکام کیوں ہو گئی؟ 3۔جو شخص خاندانی نواب ہو۔گیس کی رائلٹی جس کی ذاتی ملکیت ہو۔حکومت کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کو بھتہ دینا نا بھولتی ہو۔جس کے نوکروں چاکروں کی تعداد کا پتا نہ ہو۔جس کی جاگیر کا اندازہ نہ ہو۔۔کیا وہ محض پیسہ روپیہ کہ خاطر مملکت سے بغاوت کرے گا؟ یہ سوالات اور ان کے جوابات حکومت پاکستان پر قرض رہیں گے ہمیشہ۔ ہم آتے ہیں مال و دولت اور اسلحہ پر |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (23-05-09) |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[معاملہ اکبر خان بگٹی کی دولت کا:[ اکبر خان بگتی کی دولت کی وجہ سے اس کو غدار اور غیر ملکی ایجنٹ سمجھنے والے کیا کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ آخر آصف علی زرداری ،نواز شریف،اسحق ڈار،یوسف رضا گیلانی و دیگر کے پاس اس طرح اربوں ڈالر کس طرح جمع ہو گئے؟ان کو کس غیر ملکی طاقت کی طرف سے اتنی امداد ملتی ہے کہ زرداری (بے نظیر)کے پاس سوس اکانوٹس میں 7 ارب ڈالرز سے زائد اور نواز شریف کے پاس 4 ارب ڈالرز سے زائد رقم جمع ہے؟غدار سردار اکبر خان بگٹی نے تو اپنی دولت پاکستان میں ہی رکھی ہوئی تھی لیکن ان محبان وطن زرداری اور نواز شریف نے اپنی دولت سوس اکانٹس میں کیوں رکھی؟ کیا آکسفوڑد کا پڑھا لکھا بگٹی سوس اکاونٹس کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہوگا؟ جو شخص ایمانداری سے ان سوالات کا جاوب اپنے دل میں دے لے گا وہ کچھ کچھ معاملہ کی حقیقت تک پہنچ جائے گا۔اکبر خان بگٹی خاندانی نواب۔ایسا نواب کہ انگریز حکومت بھی جسکی نوابی کو ماننے پر "مجبور" تھی- سوئی گیس فیلڈ شاید پاکستان کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے ۔بگٹی کو سوئی گیس فیلڈ کی اربوں روپے سالانہ رائلٹی حکومت پاکستان اس کے گھر پہنچا کر جاتی تھی۔اسی طرح دیگر معدنیات کی رائلٹی بھی اکبر خان بگٹی کی ذاتی دولت تصور کی جاتی تھی۔توجس گیس کی کمائی سے حکومت پاکستان اپنے خزانے بھرتی ہے کیا پچھلے 50 سال کی رائلٹی اتنی بھی نہ بنتی کہ 2-4 صندوق ہی بھر جاتے؟ اگر بالفرض محال تسلیم کر بھی لیں کہ نہیں حکومت پاکستان اکبر خان بگٹی کو یہ رقم نہیں دیتی تھی بلکہ یہ دولت غیر ملکی تھی تو پھر آخر وہ رائلٹی کی رقم ہے کدھر؟ اگر "طاقتور حکومت پاکستان" نے وہ رائلٹی یا اسکا کچھ حصہ بھی اس علاقہ میں خرچ کیا ہوتا تو وہ علاقہ پیرس بن جاتا ۔لیکن آج بھی اس علاقہ کو دیکھ کر پتھر کا دور یاد آ جاتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان وہ رائلٹی اکبر خان بگٹی کو نہیں دیتی تھی تو اس کا مطلب تو یہ کہ حکومت پاکستان بلوچستان کا حق دبا کر بیٹھی تھی جس کی وجہ سے بگٹی نے بغاوت کا علم بلند کیا۔ دونوں صورتوں میں قصور حکومت پاکستان کا ہی بنتا ہے کہ جس کے ایوانوں میں بیٹھے احمق پاکستان کی تقدیر سے کھیل رہی ہیں اور جس شاخ پر جن کا آشیانہ ہے اسی شاخ کو کاٹتے جا رہے ہیں۔اللہ ہم کو ان احمقوں سے نجات دلوائے۔آمین |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), رضی (07-06-09) |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے بھائی چلو غیر ملکی کرنسی کو ایک طرف رکھو ، اسے حکومت پاکستان رائلٹی دیتی تھی اور مجھے یہ بتائیں حکومت پاکستان اس کو رائلٹی اس لئے دیتی تھی کہ وہ اپنے خزانے بھرے رائلٹی پر اس کا حق تھا یا بلوچ عوام کا ۔ بلوچ عوام کا حق تا اس نے کھایا ہے۔
|
|
|
|
|
|
#22 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکو اس بات کی غلط فہمی کیسے ہو گئی کہ وہ کوئی حضر ت مولانا ولی اللہ تھا؟ یا وہ خلافت اسلامیہ کا دور واپس لا رہا تھا؟ بھائی میرا کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ حکو مت پاکستان نے اس پر جو الزامات کی بنا پر اس کا قتل کیا تھا وہ الزامات کس قدر بودے تھے؟ اب رہی بات کہ اس نے بلوچ عوام کا حق کھایا تھا تو اس بنا پر اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے تو صرف بلوچ کیوں؟ پورے پاکستان کے سارے سیاستدان کس بہتی گنگا سے ہاتھ دھو رہے ہیں؟کیا ان پر ییہی اصول لا گو نہیں کیا جا سکتا؟ اور آپ خوب جانتے ہوں گے کہ پھر اس اصول کا کیا اثر ہو گا؟ کا کے ہاتھ صاف ہیں؟ کسی مسٹر کلین کا نام تو بتائین؟تاہم میرا مقصد بگٹی کا دفاع کرنا نہیں وفاق پاکستان کی حماقتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی سالمیت خطرہ میں پڑ چکی ہے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), رضی (04-06-09) |
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
معاملہ بگٹی کے اسلحہ کا اول بات تو یہ کہ اسلحہ قبائلیوں کا زیور ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اپنی جاہلانہ قبایلی دشمنیوں کی وجہ سے اسلحہ رکھنا مجبوری ہوتی ہے۔چوتھا یہ کہ عام طور پر وہ بھی اسلحہ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں۔اور تیسرا یہ کہ حکو مت نے جانتے بوجھتے آنکھیں بند کر رکھیں تھیں جب بگٹی اور مزاری قبائل میں جنگیں چل رہیں تھیں اور دونوں قبائل ٹرک بھر بھر کر دن دیہاڑے اسلحہ منگواتے تھے۔ یہ میں بات کر رہا ہوں 90 کی دہائی کی بات کر رہا ہوں۔ کیا کبھی حکومت نے سوچا کہ کہاں سے آتا ہے ٹرک بھر بھر کر اسلحہ؟ |
|
|
|
|
|
#24 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہاں تک میں سمجھا ہوں بگٹی مسئلہ کو ۔وہ یہ کہ سردار بگٹی تو تھا ہی خود پسند اور انا پرست بندہ۔ایک خالص بلوچ نواب کہ جو جھک جانے کی نسبت مر جانا زیادہ بہتر سمجھتا تھا۔ ادھر سے مشرف میں انانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ شخص یعنی مشرف اپنی مخالفت میں ابھرنے والی ہر آوازکو بند کر دینا فرض سمجھتا تھا۔ ڈاکٹر شازیہ ریپ کیس نے دونوں انا پرست بندوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔مشرف کے پاس اگر ریاست کی اور فوج کی طاقت تھی تو نواب بگٹی کے پاس اپنے قبیلے اور بلوچستان کی حساس صورت حال کی۔ نتیجہ بغاوت کی صورت میں نکلا۔
ہمیشہ ایسی صورت حال میں اسی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے جس کے کاندھوں پر کوئی بھاری Responsibilityہو۔ مشرف کے کاندھوں پر پورے پاکستان کی ذمہ داری تھی۔ اس کو اپنی انا کو نیچے کر پاکستان کا مفاد سوچنا چاہیے تھا ۔ مگر دونوں انا پرستوں نے پاکستان کو ایسی صورت حال میں دھکیل دیا کہ جس کا خمیازہ شاید نسلیں بھگتیں گی۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان ۔ نا انصافی کا تدارک
Posted on April 24, 2009 محمد خالد رانا ۔ الریاض تمام مسائل نا انصافی سے جنم لیتے ہیں۔ یہ نا انصافی کسی شکل میں ہو، کسی بھی کے مقدار میں ہو اور کسی کی طرف سے ہو۔ یہی اصول گھر پر لاگو ہوتا ہے اور یہی صوبوں، ملکوں اور قوموں پر بھی۔انصاف و عدل کی عدم فراہمی میں اگر تسلسل ہو اور اس کے تدارک کی کوئی ظاہری کوشش بھی نظر نہ آئے تو متاثرین کی طرف سے دبے لفظوں سے احتجاج شروع ہو کر فساد اور جنگ و جدل تک پہنچ سکتا ہے۔ایسی صورت حال دشمنوں کے لئے انتہائی حوصلہ افزاء ہوتی ہے اور وہ جلتی پر تیل ڈالنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسے زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑتی۔اور دشمن بھی ایسا جو آپ کے وجود کے درپے ہو۔ بلوچستان کے ساتھہ ناانصافیوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اور فہرست نہایت طویل۔ زیادتیوں کا عمل قیام پاکستان کے ساتھہ ہی شروع ہو گیا تھا حالانکہ بلوچستان کی اسمبلی نے رضاکارانہ طور پر فیڈریشن آف پاکستان میں شمولیت کے لئے قراداد منظور کی اور شامل ہوئے لیکن وفاق میں مضبوط مرکز کی حامی قوتوں نے استعمارانہ رویہ روا رکھتے ہوئے بلوچستان سے مفتوح علاقے جیسا سلوک کیا بجائے ایک فیڈریٹنگ یونٹ کے۔ اور ان کے وسائل پر تصرف کا اختیار مرکز کے ہاتھوں میں لیاگیا۔ اب بلوچستان کے عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پختہ ہو چکا ہے کہ وفاق انہیں کبھی ان کے حقوق نہیں دے گا۔ جس سے علیحدگی پسند قوتوں کے موقف کو دن بدن پذیرائی مل رہی ہے ۔ اب تو حالت یہ ہے کہ اگر کوئی منصوبہ بلوچستان کے عوام کی بہتری کے لئے شروع بھی کیا جاتا ہے تو اسے بھی شکوک و شبہات سے دیکھا جانے لگا ہے اور علیحدگی پسند اس کو بھی کسی سازش کے طور پر پیش کرنے لگے ہیں۔ گزشتہ باسٹھہ برسوں میں یوں تو مسائل کا انبار جمع ہو چکا ہے (تبھی جناب رضا ربانی نے سینیٹ میں یہ بیان دیا ہے کہ بلوچستان کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ سمجھہ نہیں آتا کہ بات کہاں سے شروع کریں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب ہم اپوزیشن میں تھے تب بھی بلوچستان کی بات اٹھاتے تھے اب اقتدار میں ہیں تو تب بھی اٹھانی پڑ رہی ہے لیکن حل کہاں ہے) لیکن ان میں سے نمایاں تین مسئلے ہیں۔ 1۔ بلوچستان کے عوام کو ان کے سیاسی اور جمہوری حقوق کی منتقلی 2 ۔صوبائی خودمختاری اور صوبے کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق تصرف تسلیم کرنا ۔3 وفاق سے محاصل کا مناسب حصہ۔ جہاں تک بلوچستان کے عوام کے سیاسی اور جمہوری حقوق کا تعلق ہے اس معاملے میں بلوچستان کے عوام انتہائی بدنصیب واقع ہوئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے منظورنظر سرداروں کے ذریعے ہمیشہ بلوچستان پر حکومت کی ہے اور بلوچ عوام اور قوم پرست و صوبائی خود مختاری کے حامی سرداروں کو نہ صرف حکومت سے باہر رکھا بلکہ ان پر عرصہ حیات بھی تنگ کئے رکھا۔ تنگ آ کر بہت سے لوگوں نے ہتھیار بھی اٹھا لئے اور عرصہ دراز سے پہاڑوں پر چڑھے بیٹھے ہیں۔ ان سے مذاکرات کی بجائے ان پر فوج کشی کرکے نفرت میں مزید اضافہ کیا گیا۔ اور ایسے میں ان لوگوں میں پاکستان کے دشمن ملکوں کا اثر و نفود بڑھنا فطری ہے جس کا پاکستان دشمن قوتیں بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں اور حالات کو اس نہج تک لے گئی ہیں کہ اب کنٹرول مشکل ہو رہا ہے۔ بلوچستان کی موجودہ حکومت ،مرکز اور اسٹیبلشمنٹ کی بلوچستان میں کھلم کھلا مداخلت کی ایک ایسی ہی مثال ہے بلوچستان میں جیتی تو مسلم لیگ ق تھی لیکن اب سارے پیپلز پارٹی میں ہیں اور قوم پرست بلوچ باہر ہیں۔ صوبائی خود مختاری اور اپنے محاصل پر تصرف کے معاملے میں بلوچستان کے علاوہ صوبہ سرحد اور سندھ بھی تحفظات کا شکار ہیں۔ سوئی گیس کی فراہمی اور رائلٹی کا مسئلہ حل کرنے کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس سے بلوچستان کے سماجی بہبود اور ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں اور انہی عوامل کی وجہ سے صوبہ بلوچستان انتہائی پسماندہ رہ گیا ہے۔ بنیادی سہولتوں یعنی سڑکوں، صحت ، تعلیم اور زراعت و آبپاشی کے بارے میں کیا بات کریں بیشتر عوام صاف پانی کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ میگا پروجیکٹس کو مرکز سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں بلوچوں کو نہ تو فیصلوں میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ محاصل میں۔ بلوچ جب اس پر احتجاج کرتے ہیں تو پر تشدد جواب دیا جاتا ہے۔ قومی اہمیت کے منصوبوں کی سیکیورٹی کے لئے بنائی گئی فوجی چھاؤنیوں کو بھی قابض فوج کے حوالے سے دیکھا جا رہاہے اور فوجی چھاؤنیوں کے قیام کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ جہاں تک وفاق سے ملنے والے محاصل کو تعلق ہے تو ان کو آبادی کے تناسب سے نتھی کر دیا گیا ہے۔ اور یہ اتنے بڑے رقبے والے صوبے کے لئے انتہائی ناکافی ہیں دنیا بھر میں صوبوں میں محاصل کی تقسیم کے فارمولے میں تین فیکٹرز کو شامل کیا جاتا ہے یعنی شرح پسماندگی، رقبہ اور آبادی۔ لیکن ہمارے بالا دست طبقات صرف آبادی کے لحاظ سے تقسیم کا فارمولا طے کرتے ہیں جس سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے حالانکہ پنجاب کے غریب عوام بھی انہی بالادست طبقات کے ہاتھوں پسے ہوئے ہیں اور ان کو بھی فیصلوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ نفرت آگ بن کر وفاق کو توڑنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ تربت میں تین بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے قتل کے بعد تقریبا نو ہزار غیر بلوچوں کو اپنی جان کے خوف کی وجہ سے بلوچستان سے ہجرت کرنا پڑی ہے اور جنہوں نے ہجرت نہیں کی ان میں سے کچھہ کی لاشیں بھی ملی ہیں یہ لوگ اپنا کاروبار بند کرکے وہاں سے ہجرت پر مجبور ہوئے ہیں نفرت کے اس الاؤ کو نہ بجھایا گیا تو یہ آگ ان کے دامن تک بھی جا پہنچے گی جو اس نفرت کے سہارے اپنا اقتدار بنائے رکھتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا صحیح ادراک کیا جائے اور وہ بھی وہاں کے عوام کے نقطہ نظر سے۔ جو لوگ ہتھیار آٹھائے آمادہ پیکار ہیں ان سے بھی مذاکرات کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ہم بھارت سے مذاکرات کر سکتے ہیں، طالبان سے مذاکرات کر سکتے ہیں تو ان لوگوں سے کیوں نہیں؟ ان کے احساس محرومی کو مداوا ضروری ہے۔ صوبائی خود مختاری اور محاصل پر تصرف ان کا حق ہے اسے مانا جانا چاہئے۔ان کو سیاسی اور جمہوری حق ملنا چاہئے وفاقی محاصل کی تقسیم کا قبل قبول فارمولا اس طرح طے کیا جائے کہ کسی کو شکائت نہ ہو۔ میگا پروجیکٹس میں وہاں کے عوام کو فیصلہ ساز حیثیت دی جائے۔ اگر وہاں کے عوام کو چھاؤنیوں پر اعتراض ہے تو ان کے ساتھہ بیٹھہ کر ان کے اعتراض سنیں اور رفع کریں۔ ہماری مغربی سرحد غیر محفوظ ہو گئی ہے اس کی حفاظت صرف عوام ہی کر سکتے ہیں دشمن کو موقع نہ دیں کہ وہ ہم میں دراڑ ڈال کر ہمیں تباہ کر سکے۔ سیاسی جماعتوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ حالات کی بہتری کےلئے کام کریں ۔ پاکستان کے عوام اور خصوصا بڑے صوبے ہونے کے ناطے پنجاب کے عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچستان کی حق تلفی پر مجرمانہ خاموشی کی بجائے بلوچستان کے عوام کی آواز میں آواز ملائیں تاکہ انہیں احساس ہو کہ وہ پرائے نہیں بلکہ اپنے ہیں۔ ہر ایک کو اپنے بخیہ کی اس رفو گیری میں حصہ ڈالنا ہو گا وگرنہ سازشیوں کی کامیابیوں میں ہم سب بھی حصہ دار ٹہرائے جائیں گے۔ اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنا ہو گا ورنہ تاریخ دان سے عرض کرنا پڑے گی کہ بقولِ شاعر مرتضی برلاس : وہیں قبیلہ مردہ ضمیر لکھہ دینا ہمارا ذکر جہاں بھی کتاب میں آئے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (05-06-09), رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), راشد احمد (09-06-09), رضی (07-06-09), سام (02-06-09) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ارےصوبوں کوانکاحق دےدیں گے تواللّےتللےکیونکرکریں گے ہمارےحکمران
|
|
|
|
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,496
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کون سے صوبوں کے خود مختاری کی بات کر رہے ہیں جناب یہ صوبوں کے حق کی آڑ میں یہ سیاستدان اپنی رٹ قائم کروانے کے چکر میں ہیں
بنگلا دیش کے الگ ھونے کی بات کریں تو مجیب الرحمٰن سے کسی نے یہ نہیں پوچھنا گوارا کیا کے جو چھ نکات اس نے پیش کئے ہیں وہ کس کی زبان ہے اندرا گاندھی نے اس کو یہ نکات رٹوائے تھے۔ صوبوں کی خود مختاری یا ان لعنتیوں کی خود مختاری اچھا یہ لنک آپ کو بھیج رہا ہوں دیکھیں اور بتائیں ان کے بارے میں جو بلوچستان کی خود مختاری کی بات کرتے ہیں The Destabilization of Pakistan: Finding Clarity in the Baluchistan Conundrum |
|
|
|
|
|
#28 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,054
کمائي: 75,306
شکریہ: 50,027
10,111 مراسلہ میں 31,973 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہ جانے کب ہماری قومی عادت ختم ہو گی ایک دوسرے کو غدار سمجھنے کی۔ اور اگر سیاست دانوں کے کہنے پر صوبائی خود مختاری ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے تو وفاق یعنی اسلام آباد میں بھی تو یہی سیاستدان ہی حکمران بنتے ہیں۔ امید ہے آپ میرا اشارہ سمجھ گئے ہو گے۔
مزید یہ کہ صوبائی خود مختاری کی بات تو بد قسمتی سے محمد علی جناح بابائے پاکستان نے کی تھی۔اگر آپ کو قائد کے 14 نکات یاد ہوں گے تو آپ کو یہ بات بھی یاد ہونی چاہییے۔ اس پر مزید یہ کہ شاید آپکو غلط فہمی ہے کہ صوبائی خود مختاری ملنے سے وفاق کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں اور صوبے جو چاہے مرضی کرتے پھریں۔۔ جناب امریکہ بھی ایسے ہی نظام کے تحت کام کر رہا ہے۔ قصہ مختصر جہاں پر اعتماد ہوتا ایک دوسرے پر تو محض صوبائی خود مختاری کیا مکمل خود مختاری ہی کیوں نہ ہو، ملک قائم رہتا ہے۔ اور جہاں سابھی ایک دوسرے کو غدار سمجھنے پر مصر ہوں (یاد کیجیے کہ ملک کی دو سب سے بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ایک دوسرے کو غدار ہی کہتی آئی ہیں آج تک )وہاں وفاقی طرز کا قانون بھی آپکو نہیں بچا سکتا۔ بات تو سمجھنے کی ہے جس طریقے سے مرضی سمجھ لو۔ Last edited by حیدر; 04-06-09 at 07:01 AM. |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (05-06-09) |
|
|
#29 |
|
Senior Member
![]() |
ایران کیوں خطرناک ترین کیوں قراردےرہے ہو بھائی زمانے کے چاند بدر چاند کو کہتے ہیں اور زماں زمانے کو
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#30 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 994
کمائي: 14,189
شکریہ: 1,853
739 مراسلہ میں 1,862 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلئےکہ ایران بھی بلوچستان پرنظریں جمائے ہوئےہے۔شاہ ایران کابیان تویادہوگا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| baloch freedom struggle, Baluchistan, color, فرض, پاکستان, ویب, قید, نفرت, چین, نواز شریف, چور, محبت, مسائل, آج, ایران, انسان, حل, دوست, زندگی, زرداری, سیاست, سال, صوبے, صوبائی, صحیح, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی | گلاب خان | خبریں | 0 | 21-02-11 07:52 AM |
| عدالتی نظرثانی کے واضح خدشات ،ریمنڈ پچھلی تاریخوں میں سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں کرسکا | گلاب خان | خبریں | 1 | 14-02-11 11:27 AM |
| بلوچستان اور وزیرستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت ملے ہیں، وکی لیکس | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:18 AM |
| افغانستان میں بھارتی افواج کی تعیناتی شروع، آئندہ 4 ماہ پاکستان کیلئے خطرناک | champion_pakistani | خبریں | 4 | 18-09-08 11:08 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |