| بلوچی فورمز بلوچی فورمز |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#17 |
|
Banned
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Balochistan
مراسلات: 59
کمائي: 991
شکریہ: 22
32 مراسلہ میں 47 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ھمیں یہ تعلیمی نصاب کی ضرورت نھیں ،ان اساتزہ کی ضرورت نھیں ۔ان کتابوں میں ھمارے قومی لیڈروںچاکربلوچ ،عطاشاد،میر نوروز وغیرہ کا ذکر نھیں ھے۔ھمیں صرف یہ سکھایا گیا ھے قائداعظم،علامہ اقبال،سرور شھید وغیرہ ھمارے لیڈر ہے۔لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ بلوچ بھہت سمجھدار ہو گے ہیں۔بلوچستان کے اکثراضلاع کے اسکولوں میں بلوچستانی قومی ترانہ پڑاہا جاتاہے ۔ اور بلوچستان کا جھنڈا لہرایا جاتا ہے۔
|
|
|
|
| ghaffarjan کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (05-01-10) |
|
|
#18 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: karachi
مراسلات: 311
کمائي: 4,825
شکریہ: 7
166 مراسلہ میں 328 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان جل رھا ھے اور صدر صاحب بھیک اکٹھی کر رھے ھیں انھیں عوام سے زیادہ بھیک میں دلچسپی ھے
جب ھی تو بے ظمیر کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی آپ کو پتا ہے |
|
|
|
| naeemuddin کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (05-01-10) |
|
|
#19 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,614
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان قائم و دائم رہے گا مٹ جائیں گے اسکو مٹانے والے ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (05-01-10) |
|
|
#20 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,428
کمائي: 26,866
شکریہ: 9,835
2,666 مراسلہ میں 4,563 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ویسے آپ کو علم ہونا چاہیئے کہ تعلیمی نصاب میں یوسف عزیز مگسی، نصیر خان نوری اور دیگر کے بارے میں مضمامین شامل ہیں بلوچستان کے اکثر اضلاع میں بلوچی ترانا پڑھنے کے بارے میں آپ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اساتذہ اور طلباء کو خوف زدہ کرکے انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ سکولوںمیں قومی ترانہ(پاکستانی) نہ پڑھیں ۔ |
|
|
|
|
| ابن جلال کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (05-01-10) |
|
|
#22 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
افسوس ہوتا ہے اس میں سارے سیاستدان برابر کے شریک ہیں بلکہ سب سیاستدان یہی چاہتے ہیں پاکستان نہ رہے ہر کوئی اپنا اپنا صوبہ پکارتا ہے پاکستان کو کوئی نہیں پوچھتا
__________________ ابھی تو قید میں ہیں جذبوں کی آندھیاں دل میں لیکن ہمارا جو صبر ٹوٹا تو قیامت ہو گی 1۔ اُٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا بپا کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا 2۔یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصئہ محشر میں ہے پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے اقبال۔رح۔ |
|
|
|
| رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (05-01-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی سیاستدانوں کا کام
نشتند، گفتند،خوردند اور برخاستند سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یہ فارم بھی ایک بیٹھک ہے۔ یقیناً یہاں ایسا نہیں ہوگا |
|
|
|
|
|
#24 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بالکل درست فرمایا۔ اب متحد نہیں تو بعد میں کیا متحد ہوںگے ۔
بعد از سلام اتحاد کی بنیاد کیا ہے؟ وہی جو اللہ کے رسول صلی اللہُ علیہِ وسلّم اور صحابہ کی تھی۔ وہ کیا تھی؟ محمدُُ رَّ سولُ اللہ وَالذینَ معہُ اشدّاءُ علی الکُفّارِ رُحماءُ بینھم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورہ الفتح۔ آخری آیات 1۔ اََشِدّاءُ عَلی الکُفّار 2۔ رُُحماَءُ بَینَھُم یہ قرآن جو حرفِ آخر کتاب ہے اُس میں تمہارے رب کا فیصلہ ہے۔ کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا رحماءُ بینھم کا جب تک اشداءُ علی الکفار نہ ہو جاؤ۔ اللہ کے آگے کسی کی چلی ہے جو اب چلے گی؟ اس کا مشاہدہ آپ کو ہر روز اپنے گھر میں ہوتا ہے۔کہ جب تک باہر کا کام نہ ہو آپس میں ہی جھگڑیں گے۔ اسی لئے ۔ قبولِ اسلام۔جزیہ۔ورنہ جہادِ فی السبیلِ اللہ ایک مستقل عمل ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رفیّعہ جوََِِأد کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-01-10), راجہ اکرام (05-01-10) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10), راجہ اکرام (05-01-10) |
|
|
#26 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم جیسے لوگ اور کیا کریں گے
سوائے دعائیں کرنے کے عملی طور تو ہم پوری قوم ایک عضو معطل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔۔ تو ٹھیک دعاوں سے ہی کام چلائیں گے۔۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا | sahj (08-01-10), رفیّعہ جوََِِأد (13-01-10) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مراسلات: 141
کمائي: 1,963
شکریہ: 194
109 مراسلہ میں 216 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلوچستان کے اکثراضلاع کے اسکولوں میں بلوچستانی قومی ترانہ پڑاہا جاتاہے
پاکستان کا قومی ترانہ پاک سر زمین شاد باد کشور حسین شاد باد تو نشان عزم عالیشان عرض پاکستان مرکز یقین شاد باد پاک سر زمین کا نظام قوت و اخوت و عوام قوم ،ملک،سلٰطنت پائندہ تابندہ باد شاد باد منزلِ مراد پرچمِ ستار و ہلال رہبر و ترقی و کمال ترجمانِ ماضی شان حال جانِ استقبال سایئہ خُدائے ذوالجلال بچپن سے ہم پاکستان کا یہی ترانہ پڑھتے اور سنتے آئے ۔ لیکن آج بلّوچیوں کی طرف سے یہ کیسی آواز اُٹھی ہے اس ترانے کے خاتمے کی۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ انفرادیت کو،جزویت کو ہمیشہ موت ہے نفس کو ہمیشہ موت ہے۔ اس کی زندگی چند سال نظر آتی ہے پھر بالآخر موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ جسطرح کالوں کو گوروں پر یا گوروں کو کالوں پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ لہٰذا ایک وقت آتا ہے کہ اُبامہ صدر بن جاتا ہے۔ تو ہمیں کسی بھی بات کی سائیڈ لینے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیئے کہ وہ بات کس حد تک جامعیت رکھتی ہے۔ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بات موت کا شکار ہو جائے گی اور ساتھ آپ بھی۔ تو دیکھنا چاہیئے کہ آپ جس بات کے ساتھ ہیں وہ قرآن سے ٹکرا تو نہیں رہی؟کیونکہ جزویت میں اللہ نظر نہیں آتا ۔اللہ ہمیشہ جامعیت میں نظر آتا ہے۔ کیونکہ وہ ایسی بات کرتا ہی نہیں جس میں جھول ہو۔ اسی لئے آیا۔ وََلم یجعل لَّہُ عوجاًً۔ اور اس کتاب میں کوئی کجی نہ رہنے دی۔ الکہف۔ آیت ۔ 1 چنانچہ تاریخ اس بات کی گواہی خود پیش کرتی ہے ۔کہ ہر دور میں اللہ کے چند مخصوص بندے رہے جنہوں نے اللہ کی بات اُس کے مقام سے کہی تو نہ صرف اُس بات کو اللہ نے باقی رکھا بلکہ اُن وجودوں کے نام بھی بلند فرمائے۔ بلکہ ان وجودوں سے جڑے لوگوں کے نام بھی بلند فرمائے۔ باقی سب موت کا شکار ہوے۔ جیسے آپ صلی اللہُ علیہِ وسلّم اور آپ صلی اللہ علیہِ وسلّم کے صحابہ اور آپ صلی اللہُ علیہِ وسلّم سے جڑی ہر چیز کا نام جب تک یہ کائنات ہے بلند ہی رہے گا۔ اور جو لوگ اُسی اسلام کے اعادہ کا باعث بنیں گے۔دنیا دیکھے گی کہ اللہ اُن کے نام کیسے بلند کرتا ہے۔ تو آج جو بلوچیوں کی آواز اٹھی ہے ۔ سوچنا پڑے گا۔ کہ کیا کوئی بہت بڑی غلطی ہوئی ہے اس ترانے میں؟ بالکل اسی طرح سوچنا پڑے گا کہ وہ مساجد جو انسانوں کے ہاتھوں سے ڈھادی گئیں کیا وہ اللہ کا گھر نہیں تھیں؟ یا اُن میں وہ وعظ نہیں ہورہا تھا جو اللہ کروانا چاہتا تھا۔ اور اُن کا حال مسجدِ ضرار کی طرح ہو گیا۔ جیسے مولانا روم ۔رح۔ نے فرمایا۔ تو برائے وصل کردن آمَدی نے برائے فصل کردن آمَدی تو ملانے کے لئے آیا ہے توڑنے کے لئے نہیں۔ گویا ایسا گھر اللہ کو پسند نہیں جہاں فرقہ واریت کا زور ہو۔ اللہ کو وہ گھر پسند ہے جہاں نہ صرف عالمِ اسلام کو ملانے کی بات ہو بلکہ عالمِ انسانیت کو ملانے کی فکریں ہوں۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا ترانہ زمینی قومیت کی بات کرتا ہے۔ جس میں اللہ نے تمہیں تقسیم نہیں کیا۔ تم ایک ہی قوم ہو مسلمان ۔ اللہ نے تمہیں اسی نام سے پکارا ہے۔ باقی رشتے صرف پہچان کے لئے ہیں اس میں کسی کو کسی پر کوئی بڑائی نہیں۔ فرمایا۔ یاَ یھاَ الناس اِنّا خلقنٰکم من زکرٍ وَّ اُنثیٰ وجعلنٰکُم شعوباً وّ قبائلَ لتعارَفُو۔ اِنَّ اَکرَمَکُم عِندَ اللہِ اَ تقٰکم۔ الحجرات۔ 13 گویا اس کُرہِ ارض پر دو ہی قومیں آباد ہیں ۔ جس کی تقسیم اللہ نے تقویٰ طہارت کی ارتقاء کی بنیاد پر کی ہے۔ 1 ۔ مسلمان 2 ۔ کافر باقی جس قسم کی جو تقسیم انسانوں کے ہاتھوں سے کی گئی ہے وہ محض انسانوں کو آپس میں لڑا کر حکومت کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ مسلمان اس سر زمین پر اللہ کا خلیفہ ہے ۔ محمّد صلی اللہُ علیہِ وسلّم کا اُمتی ہونے کے باعث اس کائنات پر اُس کی حکمرانی ہے۔ جیسا طارق بن زیاد کے مشہور الفاظ ہیں۔ جب اُس نے اپنے بیڑے جلادیئے تھے کسی ملک پر حملہ آور ہوتے ہوئے تاکہ واپسی کا کوئی راستہ ہی نہ ہو۔ اور کہا کہ ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خدائے ماست ہر ملک مسلمان کا ہے ۔ کیونکہ وہ اللہ کا ملک ہے۔ شکست کا سوال ہی نہیں تھا اُس کے زہن میں ۔ مسلمان چاہے افغانستان کا ہو یا ایران کا پاکستان کا ہو یاعربستان کا ایک دوسرے کا بھائی ہے اور حاکم ہے پوری کائنات پر۔ تو پاکستان جو اس دور کا مدینہ ہے وہاں زمین کی پرستش اللہ کو کیسے پسند آتی؟ اس لئے بلّوچیوں کو اُٹھایا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پاکستان کا ترانہ وہ ہوتا اور انشا اللہ ہوگا جو اقبال ۔رح ۔ نے لکھا تھا۔ چین و عرب ہمارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستاں ہمارا مسلم ہیں ہم وطن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا جہاں ہمارا توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے آساں نہیں مٹانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ نام ونشاں ہمارا دنیا کے بتکدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم پاسباں ہیں اُس کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پاسباں ہمارا تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومی نشاں ہمارا مغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماری تھمتا نہ تھا کسی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیلِ رواں ہمارا باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم سو بار کر چُکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو امتحاں ہمارا اے گُلستانِ اُندلس وہ دن ہیں یاد تجھکو تھا تیری ڈالیوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آشیاں ہمارا اے موجِ دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہمکو اب تک ہے تیرا دریا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسانہ خواں ہمارا اے عرضِ پاک تیری حُرمت پہ کٹ مریں ہم ہے خوں تیری رگوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تک رواں ہمارا سالارِ کارواں ہے میرِ حجاز( ص) اپنا اس نام سے ہے باقی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرامِ جاں ہمارا اقبال۔رح۔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا ہوتا ہے جادہ پیما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر کارواں ہمارا یہ وہ روح ہے جس کے واپس لوٹنے کا وقت آچکا ہے ۔ اور یہ روح ملائکہ کے ساتھ نازل ہوچکی ہے ۔ جو ھِیَ حتّٰی مطلعِ الفجر تک اس زمین سے نہیں جائے گی۔ آپ سب کی بہن رفیعہ جوّاد |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کوئٹہ, پاکستان, لوگ, مکمل, محبت, مسائل, معلوم, آج, ایمان, اللہ, انتظامیہ, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, جرم, خون, خلاف, درخواست, دعا, صوبہ, صادق, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جو بھی تھا کیا تھوڑا تھا ؟ | طاھر | دیس ہوئے پردیس | 22 | 26-08-10 03:03 AM |
| ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا | محمدعمر | شعر و شاعری | 2 | 14-11-09 10:35 AM |
| ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 27-08-09 12:25 PM |
| فاصلے ایسے بھی ہوں گےیہ کبھی سوچا نہ تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 26-08-09 12:18 PM |