| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میلاد النبی ص کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواز اور فوائد و برکات میلاد کا معنی و مراد ۔ میلاد کے لغوی معنی ہیں : ''ولادت ، وقت ولادت یا پیدا ئش ۔''۔ مولد کا معنی بھی ولادت کا وقت ہی ہے۔ جبکہ اہل ا سلام کےہاں اصطلاحی معنی میں میلاد یا مولد سے مراد سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہے اور محفل میلاد یا جلسہ میلاد یا میلاد کانفرنس سے مراد ایسا روح پرور اجتماع ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی عظیم نعمت الہی پر اللہ تعالی کے حضور ہدیہ شکر بجا لاتے ہوئے آقا ئے دوجہاںصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ ، آپ کی سیرت مطہرہ ، آپکےذکرو نعت کا تذکرہ کر کے برکات حاصل کی جائیں۔ یوم میلاد پر سلام پڑھنا ۔ اللہ اور انبیاء کی سنت ۔ انبیاء علیھم السلام کی ولادت کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔سورہ بلد میں اللہ تعالی نے نہ صرف ولادت مصطفی کاذکر کیا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی قسم بھی کھائی ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں حضرت یحیی علیہ السلام کی ولادت پر اللہ تعالی نے انکے یوم میلاد پر "سلام علیہ یوم ولد" فرما کر سلام بھیجا ۔ سورہ مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں خود اپنے یوم میلاد پر "السلام علیی یوم ولدت " فرما کر خود اپنے اوپر سلام بھیجا اور قرآن مجید نے اسے جوں کا توں بیان فرما دیا۔ گویا انبیا کے یوم میلاد پر سلام پڑھنا خود اللہ تعالی کی سنت اور انبیائے کرام کی سنت ہے۔ سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کاذکر فرمایا۔ ولادت کے وقت ان انبیاء عظام کی ظاہر ہونے والی عظمتوں اور شانوں کا ذکر کیا ہے۔ ذکر انبیاء قرآن کی روشنی میں ۔ ذکر انبیاء سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور قلب میں ثبات پیداہوتا ہے۔ قرآن مجید پارہ: 12، سورہ ہود، آیت: 120 میں ہے: ترجمہ: ''اور یہ سب کچھ انبیا ء کی خبریں ہم آپ پر بیان کرتے ہیں جن کے سبب ہم آپ کے د ل کو مضبوط کرتے ہیں۔'' توحید اور تمام عقائد اسلامیہ دعوے ہیں اور حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر دلیل ہیں۔ دلیل ثابت ہونے سے دعویٰ ثابت ہوتا ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل وکمالات کی بڑی اہمیت ہے، اور میلاد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات کا تذکرہ کر کے ایمان کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید پارہ: 11، سورہ یونس، آیت: 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: ترجمہ: ''آپ فرمادیں اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے ساتھ وہ ایمان والے خوش ہوں۔ یہ خوشی اس (دولت) سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ کے فضل ورحمت پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت و فضل عظیم ہیں آپ کی آمد کی خوشی میں جشن منانا اس آیت مبارکہ کی تعمیل ہے اور امر خیر ہے۔ فوائد و برکات میلاد ۔ حدیث کی روشنی میں۔ نیز صحیح بخاری کی کتاب النکاح، حدیث: 4711 میں ہے: ''(حضرت ثویبیہ کو ابولہب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں آزاد کردیا تھا) جب ابو لہب فوت ہوا تو اُسے گھر کے ایک فرد (حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے خواب میں دیکھا تو پوچھا: ابولہب ۔ کس حال میں ہو ؟ ۔ ابولہب نے جواب دیا: میں نے تمہاری جدائی کے بعد (قبر میں) کوئی بھلائی نہیں دیکھی، سوائے اس کے کہ مجھے ثویبیہ کو آزادکرنے کی وجہ سے مشروب پلایا جاتا ہے۔ '' اس حدیث کے تحت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مدارج النبوہ میں فرماتے ہیں: ''اس واقعہ میں میلاد منانے والوں کیلئے اور جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی شب مسرور ہوتے ہیں اور اپنی دولت خرچ کرتے ہیں، ان کیلئے سند ہے۔ ابو لہب کافر تھا، اسکی مذمت میں قرآن ناز ل ہوا، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت بطور رسول نہیں*بلکہ اپنے بھتیجے محمد کی ولادت پر پر خوشی کا اظہار کیا(باندی آزاد کی) تو اسے بھی جزاء دی گئی، تو ایک مسلمان جس کا دل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز ہو ۔ وہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خوشی منائے اور خرچ کرے تو اُس کے اجر و ثواب کا عالم کیا ہو گا۔'' میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اظہار تشکر الہی قرآن مجید، پارہ: 26، سورہ فتح، آیت: 8، 9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ''بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجاہے، تاکہ (انکی یہ شانیں دیکھ کر) تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس رسول کی عزت کے ساتھ مدد کرو اور انکی تعظیم بجا لاؤ اور (پھر) اس اللہ کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔'' اس آیت مبارکہ میں بعثت نبوی کا ایک مقصد یہ بھی بیا ن کیا ہے کہ اہل ایمان پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بجا لائیں اور محدث کبیر علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ ''میلاد منانا بھی آپکی تعظیم کا حصہ ہے۔'' اور قرآن مجید، پارہ نمبر 17، سورہ حج، آیت نمبر 32 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ''اور وہ جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تویہ اُسکے دل کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔'' اور یقینا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نشانی ہیں، اس لئے آپ کی تعظیم و توقیر ضروری ہے۔ محافل میلاد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوقات کو اپنی نعمت عظمیٰ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر نے پر اس کے شکر کا اظہار ہے۔ گویا ایسی محافل میلاد اللہ کے ارشاد ''و اشکرولی'' ترجمہ: ''میرا شکر ادا کرو''۔ کی تعمیل ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ذریعہ فروغ علم اہتمام محافل میلاد شریف اشاعت علم کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس میں فضائل نبوی اور سیر ت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو کہ علوم میں بڑی فضیلت والا علم ہے۔ میلاد شریف سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور ''من احب شیاً اکثر ذکرہ '' یعنی جو کسی چیز سے محبت رکھتا ہو تو اس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔ لہذا ذکر فضائل ومیلاد شریف محبت نبوی کی علامت ہے۔ صدقہ وخیرات اور مہمانوں کی ضیافت، امورِ خیر ہیں۔ جن پر اجر و ثواب ملتا ہے اور برکات حاصل ہوتی ہیں۔ صلوۃ وسلام سے دینی دنیاوی اور اخروی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ اور خصوصی طور پر بارگاہِ نبوی میں قرب ملتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: (ترجمہ): ''تم میں سے قیامت کے روز میرے زیادہ قریب وہ ہو گا جو زندگی میں*کثرت سے مجھ پر درود پڑھنے والا ہو گا۔'' اور میلاد شریف میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت، سعادات دارین کے حصول کا ذریعہ ہے۔ محفل میلاد میں قرآن مجید کی تلاوت بھی ہوتی ہے۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و نعت خود سنت الہیہ ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے جابجا اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و ثنا اور شان و کمالات کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن مجید، پارہ: 26، سورہ فتح، آیت: 8، 9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: ''بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجاہے، تاکہ (انکی یہ شانیں دیکھ کر) تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس رسول کی عزت کے ساتھ مدد کرو اور انکی تعظیم بجا لاؤ اور (پھر) اس اللہ کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔'' سورہ بلد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے سکونت کی قسم کھائی ۔ کہیں ورفعنالک ذکرک فرماکر بلندی ذکر کا اعلان فرمایا۔ کبھی سورہ الضحا میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راضی ہونے تک عطائیں کرتے جانے کا وعدہ فرمایا۔ اسی سورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غنی ہونے اور جلوہ الہی کی منزل کمال تک پہنچ جانے کا ذکر فرمایا۔ کہیں "انک لعلی خلق عظیم " کے تحت آپکے اخلاق حسنہ کاذکر مبارک ۔ الغرض درجنوں اور بیسیوں*مقامات پر قرآن حکیم شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتا نظر آتا ہے۔ پھر نعت خوانی کو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا ہے، نعت خوانوں کو اپنی دعائوں سے نوازا ہے، عظیم صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی نعت خوانی تعارف محتاج نہیں۔ بلکہ ایک نعت گو صحابی حضرت کعب بن زھیر سلمی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر مبارک بھی عطا فرمائی۔ جس سے مسلمان سات صدیوں سے زائد عرصہ تک برکت حاصل کرتے رہے اور بغداد شریف پر ہلاکو خاں کے حملے کے وقت یہ عظیم نشانی ضائع ہو گئی۔ میلا د شریف میں کثر ت کے ساتھ نعت خوانی ہوتی ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ سے انعامات کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ محفل میلاد میں فضائل وکمالات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے سے آپ کی اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو کہ ثمر ایمان ہے۔ مکہ مکرمہ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کامنایا جانا سند المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ فیوض الحرمین صفحہ نمبر 27پر فرماتے ہیں: ''میں مکہ مکرمہ میں ولادت نبی کے روز مولد مبارک (جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی)، میں حاضر ہوا تو لوگ درود شریف پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر کر رہے تھے اور وہ معجزات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت ظاہر ہوئے۔ تو میں نے اس مجلس میں انوار و برکات کا مشاہد ہ کیا، میں نے غور کیا تو معلو م ہواکہ یہ انوار ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ اور انوار رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔'' الغرض میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ عمل خیر ہے جس میں ایمان کی پختگی، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم شکر الہی، علم دین نصیب ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ اللہ تعالی کی بارگاہ سے اجر وثواب اور خیر و برکت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور انکی اتباع عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء خلقت مبراء من کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء مولای صل وسلم دائما ابدا علی حبیب خیر الخلق کلھم |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، نعیم رضا بھائی، فورم پر خوش آمدید
آپ نے جو مسئلہ پیش کیا ہے اس پر یہاں خاصی گفت و شنید اور گرما گرمی ہوتی رہی ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کے لیے درج ذیل ربط سے چچا عادل سہیل کی کتاب اتاری جا سکتی ہے۔ 4shared.com - document sharing - download melad3_chkd.pdf والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام عبداللہ حیدر بھائی ۔ احقر بھائی کو خوش آمدید کہنے کا شکریہ قبول کیجئے۔
مجھے کسی سے غرض نہیں سوائے اللہ تعالی اور اسکے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے۔ جب قرآن حکیم نے اللہ کی نعمت پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے تو میرے نزدیک پیغمبر آخر الزماں سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نعمت اس کائنات میں نہیں اور انکی ولادت و پیدائش پر میرا دل اگر خوش ہوتا ہے اور مجھے خوشی منانے کاقرآنی حکم بھی ہے تو مجھے کسی فرقہ وارانہ سوچ کے علمبردار بلکہ دین کے ٹھیکیدار کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر کوئی خود کو درست سمجھتا ہے۔ سمجھتا رہے۔ دوسروں کا عقیدہ دوسروں کو مبارک۔ مجھے اپنے ایمان کی فکرکرنی ہے کیونکہ سب سے پہلے تو بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث پاک کی رو سے اگر دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تو بندہ ایمان سے گیا۔ ترجمہ ۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔ البخاري في الصحيح، کتاب الايمان، باب : حُبُّ الرَّسُوْلِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنَ الاِيْمَانِِ، 1 / 14، الرقم : 15، ومسلم في الصحيح، کتاب : الايمان، باب : وجوب محبّۃ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اکثر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعين، 1 / 67، الرقم : 44.) یہ باتیں۔ بحثیں، مناظرے، جگھڑے، شرک و بدعت کے فتوے، اسی وقت تک سر میں سوار رہتے ہیں جب تک دل میں محبت کا چراغ نہ جلے۔ جب محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ جل اٹھتا ہے تو انسان کا ظاہر و باطن اس نور سے خود بخود روشن ہوجاتا ہے۔ اور فطری امر ہے کہ جس چیز سے محبت ہو ، اسکا ذکر کرنے اور سننے سے دل کو سکون و اطمینان ملتا ہے اور جس سے محبت نہ ہو اسکا ذکر سننے کو نہ تو جی چاہتا ہے بلکہ اسکی شان و فضیلت کا ذکر آتے ہی چہرے پر مروڑ، دل میںبےچینی اور دماغ میںسوالات و وساوس آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اور انسان اپنے علم پر تکبر کرتے ہوئے مناظروں، مباحثوں ، جگھڑوں، اور فتووں میںوقت ضائع کرنا شروع کردیتا ہے ۔ حتی کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ مر کر قبر میں رکھا جاتا ہے تو پھر متفق علیہ حدیث پاک کی رو سے ۔۔ نکیرین قبر میں بھی سیدھا سوال مصطفی کریم ہی کے بارے میں کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي اللہ عنہ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہِ، وَتَوَلَّي عَنْہُ اَصْحَابُہُ وَ اِنَّہُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِہِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي ھَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : اَشْھَدُ اَنَّہُ عَبْدُ اﷲِ وَرَسُوْلُہُ. فيُقَالُ لَہُ : انْظُرْ اِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ اَبْدَلَکَ اﷲُ بِہِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّۃِ، فَيَرَاھُمَا جَمِيْعًا. قَالَ : وَاَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَہُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي ھَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا اَدْرِي! کُنْتُ اَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَہ، فَيَصِيْحُ صَيْحَہً يَسْمَعُھَا مَنْ يَلِيْہِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ وَھَذَا اللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. (البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنۃ وصفہ نعيمھا وأهلها، باب : التي يصرف بھا في الدنيا اھل الجنۃ واھل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وابوداود في السنن، کتاب : السنۃ، باب : في المسئلۃ في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، والنسائي في السنن کتاب : الجنائز، باب : المسئلۃ في القبر 4 / 97، الرقم : 2051، واحمد بن حنبل في المسند، 3 / 126، الرقم : 12293.) ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندے کو (مرنے کے بعد) جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (تدفین کے بعد واپس) لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے (کامل) بندے اور اس کے (سچے) رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو انہیں پہچان نہ پاتا تو تیرا جو ٹھکانہ ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اس (معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بدلہ میں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھے گا اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا. اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف) سے چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں۔‘‘ گویا پوچھا جا تا ہے کچھ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتا بھی تھا یا صرف بحثوں اور فتووں پر ہی زور دیے جاتا تھا ؟ کوئی شان بھی بیان کرتا تھا یا شان بیان کرنے والوں پر بدعت و گمراہی کے فتوے ہی لگایا کرتا تھا۔مومن و منافق دونوں کا حال بھی اسی حدیث میںواضح ہے۔ بات سیدھی سی ہے۔ کہ دنیا میں مرنے سے پہلے کیا “کہا“ کرتا تھا ؟ خالی محمد الرسول اللہ ، یا محمد عبدہ ورسولہ تو منافقین بھی کہتے تھے۔ اور اعمال کا ڈھیر بھی لگاتے تھے۔ لیکن یہاں تو بات سچی محبت و اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہورہی ہے۔ یعنی دل میں محبت و تعظیم رسول، لب پر ذکرِ و عظمتِ رسول اور اعمال میں اتباعِ رسول میں زندگی گذرے۔ تو پھر ہی معرفتِ مصطفی نصیب ہوگی۔ یاد رہے کہ ایمان بااللہ، اور دین اسلام کی بابت دوسری روایات میں سوالات پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن امام بخاری و مسلم نے ان دونوں روایات میں صرف اور صرف “معرفتِ مصطفیٰ “ کے سوال کی اہمیت کے پیش نظر روایت کیا ہے۔ تاکہ امت پر اپنے نبی سے تعلق و نسبت کی اہمیت واضح ہوجائے۔ اس حدیث پاک سے ایک اور ایمان افروز نکتہ جو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ بے شک اللہ تعالی قادر مطلق ہے۔ جب چاہے جسے چاہے سزاوجزا دے سکتا ہے۔ لیکن ان احادیث میں فقط پہچانِ مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو گویا عذابِ قبر سے نجات کا معیار قرار دے کر دین و ایمان میں اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت کو واضح فرما دیا ہے۔ کیونکہ دیگر روایات کہ جہاں پہلے اللہ تعالی کی بابت سوال کیا جاتا ہے۔ وہاں اللہ تعالی کو نہ پہچان پانے پر بندے کو عذاب قبر میں گرفتار نہیں کیا جاتا۔ پھر دین اسلام کی پہچان بھی اگر اسے نہ ہو۔ تو بھی نکیرین یا منادی اسکی قبر کو آگ سے بھر دینے کی ندا نہیں دیتے۔ بلکہ جب منافق یا کافر جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچان سکتا تو فوراً فیصلہ آتا ہے۔ کتنے خوش بخت ہیں وہ امتی جو اپنے دلوں کو محبوب خدا علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے لبریز رکھتے ہیں۔ شب و روز محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کے ترانے گاتے رہتے ہیں۔ انکی زبانیں ہمہ وقت درودوسلام پر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز رہتی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ اس لیے اپنے کلمہ گو بہن بھائیوں سے یہی گذارش ہے کہ رات کو دو نفل بارگاہ الہی میں پڑھ کر کبھی تنہائی میں بیٹھ کر ایمانی ضمیر سے پوچھیے گا کہ کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں تشریف لانا عظیم ترین نعمت الہیہ نہیں؟ اگر ہے تو میرے دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے کس قدر سرشار ہے ؟ اپنے بیوی بچوں، اہل و عیال اور اپنی جان سے محبت زیادہ ہے یا اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ؟ اگر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دل لبریز ہوگا تو کسی مفتی، کسی چچا، کسی ماموں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ مومن کا دل خود اسے روشنی دکھا دیتا ہے۔ والسلام علیکم البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنۃ وصفہ نعيمھا وأهلها، باب : التي يصرف بھا في الدنيا اھل الجنۃ واھل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وابوداود في السنن، کتاب : السنۃ، باب : في المسئلۃ في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام عبداللہ حیدر بھائی ۔ احقر بھائی کو خوش آمدید کہنے کا شکریہ قبول کیجئے۔
مجھے کسی سے غرض نہیں سوائے اللہ تعالی اور اسکے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے۔ جب قرآن حکیم نے اللہ کی نعمت پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے تو میرے نزدیک پیغمبر آخر الزماں سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نعمت اس کائنات میں نہیں اور انکی ولادت و پیدائش پر میرا دل اگر خوش ہوتا ہے اور مجھے خوشی منانے کاقرآنی حکم بھی ہے تو مجھے کسی فرقہ وارانہ سوچ کے علمبردار بلکہ دین کے ٹھیکیدار کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہر کوئی خود کو درست سمجھتا ہے۔ سمجھتا رہے۔ دوسروں کا عقیدہ دوسروں کو مبارک۔ مجھے اپنے ایمان کی فکرکرنی ہے کیونکہ سب سے پہلے تو بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث پاک کی رو سے اگر دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تو بندہ ایمان سے گیا۔ ترجمہ ۔ ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں۔ البخاري في الصحيح، کتاب الايمان، باب : حُبُّ الرَّسُوْلِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم مِنَ الاِيْمَانِِ، 1 / 14، الرقم : 15، ومسلم في الصحيح، کتاب : الايمان، باب : وجوب محبّۃ رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اکثر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعين، 1 / 67، الرقم : 44.) یہ باتیں۔ بحثیں، مناظرے، جگھڑے، شرک و بدعت کے فتوے، اسی وقت تک سر میں سوار رہتے ہیں جب تک دل میں محبت کا چراغ نہ جلے۔ جب محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ جل اٹھتا ہے تو انسان کا ظاہر و باطن اس نور سے خود بخود روشن ہوجاتا ہے۔ اور فطری امر ہے کہ جس چیز سے محبت ہو ، اسکا ذکر کرنے اور سننے سے دل کو سکون و اطمینان ملتا ہے اور جس سے محبت نہ ہو اسکا ذکر سننے کو نہ تو جی چاہتا ہے بلکہ اسکی شان و فضیلت کا ذکر آتے ہی چہرے پر مروڑ، دل میںبےچینی اور دماغ میںسوالات و وساوس آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اور انسان اپنے علم پر تکبر کرتے ہوئے مناظروں، مباحثوں ، جگھڑوں، اور فتووں میںوقت ضائع کرنا شروع کردیتا ہے ۔ حتی کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ مر کر قبر میں رکھا جاتا ہے تو پھر متفق علیہ حدیث پاک کی رو سے ۔۔ نکیرین قبر میں بھی سیدھا سوال مصطفی کریم ہی کے بارے میں کرتے ہوئے پوچھتے ہیں ۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضي اللہ عنہ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہِ، وَتَوَلَّي عَنْہُ اَصْحَابُہُ وَ اِنَّہُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ اَتَاہُ مَلَکَانِ فيُقْعِدَانِہِ، فَيَقُوْلاَنِ : مَا کُنْتَ تَقَوْلُ فِي ھَذَا الرَّجُلِ؟ لِمُحَمَّدٍ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُوْلُ : اَشْھَدُ اَنَّہُ عَبْدُ اﷲِ وَرَسُوْلُہُ. فيُقَالُ لَہُ : انْظُرْ اِلَي مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ، قَدْ اَبْدَلَکَ اﷲُ بِہِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّۃِ، فَيَرَاھُمَا جَمِيْعًا. قَالَ : وَاَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَيُقَالُ لَہُ : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِي ھَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُوْلُ : لَا اَدْرِي! کُنْتُ اَقُوْلُ مَا يَقُوْلُ النَّاسُ! فَيُقَالُ : لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ويُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَہ، فَيَصِيْحُ صَيْحَہً يَسْمَعُھَا مَنْ يَلِيْہِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْہِ وَھَذَا اللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. (البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنۃ وصفہ نعيمھا وأهلها، باب : التي يصرف بھا في الدنيا اھل الجنۃ واھل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وابوداود في السنن، کتاب : السنۃ، باب : في المسئلۃ في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، والنسائي في السنن کتاب : الجنائز، باب : المسئلۃ في القبر 4 / 97، الرقم : 2051، واحمد بن حنبل في المسند، 3 / 126، الرقم : 12293.) ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندے کو (مرنے کے بعد) جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (تدفین کے بعد واپس) لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے (کامل) بندے اور اس کے (سچے) رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو انہیں پہچان نہ پاتا تو تیرا جو ٹھکانہ ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اس (معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بدلہ میں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھے گا اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا. اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف) سے چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں۔‘‘ گویا پوچھا جا تا ہے کچھ ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرتا بھی تھا یا صرف بحثوں اور فتووں پر ہی زور دیے جاتا تھا ؟ کوئی شان بھی بیان کرتا تھا یا شان بیان کرنے والوں پر بدعت و گمراہی کے فتوے ہی لگایا کرتا تھا۔مومن و منافق دونوں کا حال بھی اسی حدیث میںواضح ہے۔ بات سیدھی سی ہے۔ کہ دنیا میں مرنے سے پہلے کیا “کہا“ کرتا تھا ؟ خالی محمد الرسول اللہ ، یا محمد عبدہ ورسولہ تو منافقین بھی کہتے تھے۔ اور اعمال کا ڈھیر بھی لگاتے تھے۔ لیکن یہاں تو بات سچی محبت و اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہورہی ہے۔ یعنی دل میں محبت و تعظیم رسول، لب پر ذکرِ و عظمتِ رسول اور اعمال میں اتباعِ رسول میں زندگی گذرے۔ تو پھر ہی معرفتِ مصطفی نصیب ہوگی۔ یاد رہے کہ ایمان بااللہ، اور دین اسلام کی بابت دوسری روایات میں سوالات پہلے سے موجود ہیں۔ لیکن امام بخاری و مسلم نے ان دونوں روایات میں صرف اور صرف “معرفتِ مصطفیٰ “ کے سوال کی اہمیت کے پیش نظر روایت کیا ہے۔ تاکہ امت پر اپنے نبی سے تعلق و نسبت کی اہمیت واضح ہوجائے۔ اس حدیث پاک سے ایک اور ایمان افروز نکتہ جو سامنے آتا ہے وہ یہ کہ بے شک اللہ تعالی قادر مطلق ہے۔ جب چاہے جسے چاہے سزاوجزا دے سکتا ہے۔ لیکن ان احادیث میں فقط پہچانِ مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو گویا عذابِ قبر سے نجات کا معیار قرار دے کر دین و ایمان میں اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و اہمیت کو واضح فرما دیا ہے۔ کیونکہ دیگر روایات کہ جہاں پہلے اللہ تعالی کی بابت سوال کیا جاتا ہے۔ وہاں اللہ تعالی کو نہ پہچان پانے پر بندے کو عذاب قبر میں گرفتار نہیں کیا جاتا۔ پھر دین اسلام کی پہچان بھی اگر اسے نہ ہو۔ تو بھی نکیرین یا منادی اسکی قبر کو آگ سے بھر دینے کی ندا نہیں دیتے۔ بلکہ جب منافق یا کافر جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پہچان سکتا تو فوراً فیصلہ آتا ہے۔ کتنے خوش بخت ہیں وہ امتی جو اپنے دلوں کو محبوب خدا علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے لبریز رکھتے ہیں۔ شب و روز محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کے ترانے گاتے رہتے ہیں۔ انکی زبانیں ہمہ وقت درودوسلام پر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز رہتی ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ اس لیے اپنے کلمہ گو بہن بھائیوں سے یہی گذارش ہے کہ رات کو دو نفل بارگاہ الہی میں پڑھ کر کبھی تنہائی میں بیٹھ کر ایمانی ضمیر سے پوچھیے گا کہ کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں تشریف لانا عظیم ترین نعمت الہیہ نہیں؟ اگر ہے تو میرے دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے کس قدر سرشار ہے ؟ اپنے بیوی بچوں، اہل و عیال اور اپنی جان سے محبت زیادہ ہے یا اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ؟ اگر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دل لبریز ہوگا تو کسی مفتی، کسی چچا، کسی ماموں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ مومن کا دل خود اسے روشنی دکھا دیتا ہے۔ والسلام علیکم Last edited by نعیم۔; 04-02-10 at 05:36 AM. |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (07-02-10) |
|
|
#5 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم بھائی،
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت جزو ایمان ہے۔ بلکہ کوئی شخص اس وقت تک مومن ہی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں حب رسول باقی تمام چیزوں سے بڑھ کر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " تم میں سے کوئی (شخص) اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، بیٹے اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں" (صحیح بخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان) اور فرمایا: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ "تین (صفات) جس میں ہوں گی اس نے ایمان کی حلاوت (مٹھاس) پا لی، (اور وہ صفات یہ ہیں) کہ اللہ اور اس کا رسول اسے دوسری تمام چیزوں سے زیادہ پیارے ہوں۔ اور وہ کسی شخص سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے اور یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹنا ایسے ہی ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسند ہے"(صحیح البخاری کتاب الایمان باب حلاوۃ الایمان) تفصیل کے لیے درج ذیل مراسلات کا مطالعہ کریں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرتبہ ذی شان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام کا ثواب گستاخان رسول ِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تلواروں کی زد میں تکمیل اِیمان کی شرط ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ::: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کے سچے امام اور قائد ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عِزت و تعظیم و توقیر ::: اور بطورخاص یہ تھریڈ ملاحظہ کیجیے تا کہ معلوم ہو سکے کہ محبت رسول کے حقیقی تقاضے کیاہیں: ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں ::: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت تھی، انہوں نے معیت رسول میں جہاد کیا، جانیں قربان کیں، گھر بار چھوڑے، ایک اشارے پر سر کٹانے کو تیار ہو جاتے تھے لیکن اس سب کے باوجود ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم اور ان کے چار پانچ سو سال بعد تک کسی کو معلوم نہ ہوا کہ محب رسول بس وہی ہے جو میلاد کے جلسے منعقد کرتا ہو، کسی ایک صحابی نے بھی تو ان آیات کا وہ مطلب نہ جانا جو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ محبت رسول اس طریقے سے کرو جیسے صحابہ نے کی تھی۔ جب کسی ایک صحابی یا تابعی سے بھی میلاد منانا ثابت نہیں ہے بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں نے اپنے فہم سے اسے اچھا جان کر عبادت کا درجہ دے دیا ہے تو کیا بہتر نہ ہو گا کہ سب مسلمان ساری آمیزشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس خالص دین کی طرف لوٹ چلیں جو دور رسالت اور دور صحابہ میں تھا؟ اور اگر یہ قبول نہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ اپنے فہم سے نکالی ہوئی چیزوں کو اس مقام پر رکھیں جس کی وہ واقعی مستحق ہیں ۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل سے یہ بھی پوچھ لیا کریں کہ جس کام کے فعل یا ترک پر آپ حب رسول کا فیصلہ کرتے ہیں اس کی زد میں سارے صحابہ، سارے تابعین ، سارے تبع تابعین اور قرون اولیٰ کی ابتدائی صدیوں کے سارے ہی مسلمان آتے ہیں۔ ابولہب کے خواب میں دیکھے جانے کا واقعہ آپ نے ذکر کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اسلام میں کون سی عبادت خواب سے ثابت ہوتی ہے؟ صحابہ نے بھی اس خواب کو سنا، ان کے پاس بھی جنگی قیدی غلام بن کر آتے تھے۔ کسی ایک صحابی نے اس خواب سے دلیل پکڑتے ہوئے کوئی ایک غلام ہی آزاد کیا ہو تو بتائیے؟ نبی کریم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنی امت کی ہدایت اور نجات کے اس قدر متمنی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت یہاں تک فرما دیا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانےکی فکر میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔اور قیامت کےدن جب سب انبیاء نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے تو رحمت للعالمین کی زبان پر امتی امتی جاری ہو گا پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو عید الفطر اور عید الاضحٰی کے علاوہ کوئی عید منانے کی اجازت نہ دی۔ تئیس سال اپنے صحابہ کے درمیان موجود رہے، ہر سال یوم ولادت آتا رہا، لیکن کبھی صحابہ کو اکٹھا کر کے اسے منانےکا اہتمام نہ کیا۔ اور ابولہب کے اس خواب کی حقیقت چار پانچ سو سال بعد تک ایک شیعہ رافضی حکمران کے سوا کسی کو بھی سمجھ میں نہ آ سکی۔ لاحول و لا قوۃ الا باللہ۔ قبر میں منکر نکیر کے سوال جواب والی حدیث سرآنکھوں پر لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس سے میلاد منانے کا جواز کیسے نکلتا ہے؟ آپ کے اس استدلال کی زد سب سے پہلے صحابہ کرام پر پڑتی ہے جن میں سے کسی نے بھی میلاد کے جلسے منعقد نہیں کیے۔ مکرر عرض کرتا ہوں کہ دین اسلام کو اسی حالت میں رہنے دیجیے جس حالت میں اللہ کے نبی نے چھوڑا تھا۔اس کے لیے واقعی کسی چچا یا ماموں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ذہنی اختراعات سے بچتے ہوئے اللہ کے قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان اور صحابہ کرام کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ یہ گزارشات محض اتمام حجت کے لیے عرض کر دی ہیں ورنہ اہم تر مشغولیات کی وجہ سے میرے پاس بحث کا وقت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرما دے تو فبہا، ورنہ مزید گفتگو سے معذرت چاہتا ہوں۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | Aurangzeb Yousaf (09-09-10), فیصل ناصر (04-02-10), نورالدین (09-02-10), نعیم۔ (05-02-10), محمدعدنان (04-02-10), مزمل فاروق (04-02-10), حسن قادری (24-09-11), سحر (04-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبیداللہ عبید (07-02-10) |
|
|
#6 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,083
کمائي: 110,130
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم نعیم بھائی صاحب
دنیاوی روایت کے مطابق سب سے پہلے میں آپ کو اس فارم میں آنے سے خوش آمدید کہتا ہوں، اس کے بعد آپکی طرح اس فارم کا ممبر ہونے کی حیثیت سے میں آپ سے کچھ گذارشات/درخواست کروں گا اور مزید اپنی تھیوڑی پیش کروں گا۔ اور امید کرتا ہوں میری باتوں سے آپ کو مایوسی نہیں ہو گی یقیناً خوشی محسوس ہو گی۔ یہاں پر تقریباً پچھلے 6 مہینے سے بہت سکون ھے ہر بندہ جس سے وہ خوش ھے تبلیغ کر رہا ھے کوئی بھی دوسرے کی پوسٹ میں مداخلت نہیں کر رہا سب بہت خوش ہیں۔ نعیم بھائی آپ جتنی بھی خوصورت تبلیغ کریں گے اسے پڑھ پر ہمیں بڑی خوشی ہو گی اور ہم آپ سے کچھ سیکھیں گے مگر جب خوبصورت تبلیغ میں آپ اسطرح لے الفاظ استعمال کریں گے تو یقین جانیں ساری خوبصورتی کے رنگ اڑ جائیں گے۔ -------------------------------- نعیم بھائی اب میں اپنی تھیوڑی پیش کروں گا، اگر سمجھ آئے تو قبول کر لیں اور اگر ناپسند ہو تو رد کر دیں۔ دیکھیں بھائی آپ نے ایک موضوع پر دھاگہ بنا کر لگایا بہت اچھی بات ھے مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ عبداللہ حیدر بھائی کے پاس جو معلومات تھی انہوں نے بھی اس کے جواب میں ایک مراسلہ پیش کیا۔ نعیم بھائی میری نظر میں آپ دونوں بھائیوں نے قرآن اور سنت کے مطابق اپنے اپنے موقف پیش کر دئے اب یہاں اگر بات ختم ہو جائے تو اچھا ھے، کیونکہ اس کے بعد آگے جو بھی گفتگو شروع ہو گی وہ آہستہ آہستہ بڑھتی بڑھتی ایک دوسرے کی ذاتیات تک پہنچ جائے گی اس کا رزلٹ آپ خود دیکھ سکتے ہیں اقتباس:
اس پر بھی نعیم بھائی آپ اپنا موقف بیان کریں مزید مراسلے آگے بڑھائیں مگر اس میں بھی آپ قرآن اور حدیث یا جو بھی علوم ہیں انہیں خوبصورت انداز میں پیش کر کے ہمارے علم میں بھی اضافہ کریں، اگر اسطرح کسی کو ڈائریکٹ یا انڈائریکٹ آواز دیں گے تو یقین جانیں پڑھنے والے بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ اس پر میں اپنی درخواست ختم کرتا ہوں، آپ اپنی تبلیغ جاری رکھ سکتے ہیں جیسا آپ کا دل مانے آپ پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ھے۔ جو میرا موقف تھا وہ میں نے ایک ممبر کی حیثیت سے آپ کو بیان کیا ھے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 427
کمائي: 9,115
شکریہ: 139
313 مراسلہ میں 771 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت جزو ایمان ہے۔ بلکہ کوئی شخص اس وقت تک مومن ہی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دل میں حب رسول باقی تمام چیزوں سے بڑھ کر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " تم میں سے کوئی (شخص) اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، بیٹے اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں" (صحیح بخاری کتاب الایمان باب حب الرسول من الایمان) اور فرمایا: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ "تین (صفات) جس میں ہوں گی اس نے ایمان کی حلاوت (مٹھاس) پا لی، (اور وہ صفات یہ ہیں) کہ اللہ اور اس کا رسول اسے دوسری تمام چیزوں سے زیادہ پیارے ہوں۔ اور وہ کسی شخص سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے اور یہ کہ اسے کفر کی طرف لوٹنا ایسے ہی ناپسند ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسند ہے" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت تھی، انہوں نے معیت رسول میں جہاد کیا، جانیں قربان کیں، گھر بار چھوڑے، ایک اشارے پر سر کٹانے کو تیار ہو جاتے تھے لیکن اس سب کے باوجود ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم اور ان کے چار پانچ سو سال بعد تک کسی کو معلوم نہ ہوا کہ محب رسول بس وہی ہے جو میلاد کے جلسے منعقد کرتا ہو، کسی ایک صحابی نے بھی تو ان آیات کا وہ مطلب نہ جانا جو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ محبت رسول اس طریقے سے کرو جیسے صحابہ نے کی تھی۔ جب کسی ایک صحابی یا تابعی سے بھی میلاد منانا ثابت نہیں ہے بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں نے اپنے فہم سے اسے اچھا جان کر عبادت کا درجہ دے دیا ہے تو کیا بہتر نہ ہو گا کہ سب مسلمان ساری آمیزشوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس خالص دین کی طرف لوٹ چلیں جو دور رسالت اور دور صحابہ میں تھا؟ اور اگر یہ قبول نہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ اپنے فہم سے نکالی ہوئی چیزوں کو اس مقام پر رکھیں جس کی وہ واقعی مستحق ہیں ۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل سے یہ بھی پوچھ لیا کریں کہ جس کام کے فعل یا ترک پر آپ حب رسول کا فیصلہ کرتے ہیں اس کی زد میں سارے صحابہ، سارے تابعین ، سارے تبع تابعین اور قرون اولیٰ کی ابتدائی صدیوں کے سارے ہی مسلمان آتے ہیں۔ ابولہب کے خواب میں دیکھے جانے کا واقعہ آپ نے ذکر کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اسلام میں کون سی عبادت خواب سے ثابت ہوتی ہے؟ صحابہ نے بھی اس خواب کو سنا، ان کے پاس بھی جنگی قیدی غلام بن کر آتے تھے۔ کسی ایک صحابی نے اس خواب سے دلیل پکڑتے ہوئے کوئی ایک غلام ہی آزاد کیا ہو تو بتائیے؟ نبی کریم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنی امت کی ہدایت اور نجات کے اس قدر متمنی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت یہاں تک فرما دیا کہ آپ ان کے ایمان نہ لانےکی فکر میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔اور قیامت کےدن جب سب انبیاء نفسی نفسی پکار رہے ہوں گے تو رحمت للعالمین کی زبان پر امتی امتی جاری ہو گا پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو عید الفطر اور عید الاضحٰی کے علاوہ کوئی عید منانے کی اجازت نہ دی۔ تئیس سال اپنے صحابہ کے درمیان موجود رہے، ہر سال یوم ولادت آتا رہا، لیکن کبھی صحابہ کو اکٹھا کر کے اسے منانےکا اہتمام نہ کیا۔ اور ابولہب کے اس خواب کی حقیقت چار پانچ سو سال بعد تک ایک شیعہ رافضی حکمران کے سوا کسی کو بھی سمجھ میں نہ آ سکی۔ لاحول و لا قوۃ الا باللہ۔ قبر میں منکر نکیر کے سوال جواب والی حدیث سرآنکھوں پر لیکن یہ تو فرمائیے کہ اس سے میلاد منانے کا جواز کیسے نکلتا ہے؟ آپ کے اس استدلال کی زد سب سے پہلے صحابہ کرام پر پڑتی ہے جن میں سے کسی نے بھی میلاد کے جلسے منعقد نہیں کیے۔ مکرر عرض کرتا ہوں کہ دین اسلام کو اسی حالت میں رہنے دیجیے جس حالت میں اللہ کے نبی نے چھوڑا تھا۔اس کے لیے واقعی کسی چچا یا ماموں سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ذہنی اختراعات سے بچتے ہوئے اللہ کے قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان اور صحابہ کرام کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-02-10), فیصل ناصر (04-02-10), نورالدین (09-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (04-02-10) |
|
|
#8 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فر مائے ۔ آمین ۔ |
|
|
|
|
| 11 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-02-10), فیصل ناصر (04-02-10), کنعان (04-02-10), محمدعدنان (16-02-10), مسٹر شیف (05-02-10), ام طلحہ (11-02-10), راجہ اکرام (05-02-10), طاھر (04-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبیداللہ عبید (07-02-10), عبداللہ حیدر (05-02-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کنان بھائی
آج آپ پاک نیٹ فیملی کے رکن نظر آئے مجھے
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-02-10), کنعان (04-02-10), ام طلحہ (11-02-10), راجہ اکرام (05-02-10), سحر (05-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (05-02-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,083
کمائي: 110,130
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ناصر بھائی
جزاک اللہ خیر آپ کو بھی اور سحر سسٹر کو بھی ناصر بھائی میرا شروع سے یہی موقف ھے ہر جگہ پر کہ اپنی اپنی تبلیغ کرو جب حروف ختم ہو جائیں تو خاموشی اختیار کر لو اس میں کوئی حرج نہیں مگر کبھی کہیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں ہم غلطی کر جاتے ہیں۔ اس لئے میں نہیں چاہتا کہ نعیم بھائی سے بھی کوئی ایسی غلطی ہو نعیم بھائی ان کے ساتھ آپس میں ڈائلاگ کریں مگر ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھ کے کہ جس سے پڑھنے والوں کو بھی پریشانی نہ ہو۔ والسلام |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | sahj (05-02-10), فیصل ناصر (05-02-10), محمدعدنان (16-02-10), ام طلحہ (11-02-10), حیدر (05-02-10), راجہ اکرام (05-02-10), سحر (05-02-10), طاھر (05-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (05-02-10) |
|
|
#11 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
شکریہ کنعان بھائی، اللہ آپ کو دونوں جہان میں خوشیوں سے نوازے۔ بہت اچھی بات کی ہے۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,083
کمائي: 110,130
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم کنعان بھائی ۔
خوش آمدید کہنے اور رہنمائی کا شکریہ ۔ عبداللہ حید ر بھائی نے اس موضوع میں انتہائی پہلے جواب میں "چچا عادل سہیل" کا لفظ استعمال کیا جس سے مجھے غلط فہمی ہوئی ۔ بہر حال آئندہ اگر انشاءاللہ خیال رکھوں گا۔ عبداللہ حیدر بھائی کا دوسرا جواب بہتر تھا۔ اور پڑھ کر اچھا لگا۔ لیکن مجھے سوائے "مخالفت میلاد" کے اس جواب میں اور کوئی بات نظر نہیں آئی ۔ میرا گذارش کردہ مضمون میں کوئی ایک بات ، کوئی ایک عمل جو محافل میلاد میں کیا جاتا ہے۔ ہر بات کی اصل قرآن حکیم میں ہے۔ سنت الہیہ ہے اور اللہ تعالی کی سنت مبارک پر عمل ، قرآنی آیات مبارک پر عمل ہمیشہ باعث اجر و ثواب ہوتاہے۔ یہ سمجھ لینا کہ قرآن صرف صحابہ کرام یا کسی مخصوص طبقے ہی کے لیے ہدایت تھا اور اس طبقے کے علاوہ اگر کوئی قرآن سے ہدایت کی روشنی لینے والا ہوگا ، وہ گمراہ ہوگا ۔۔ تو ایسی سوچ پر سوائے انا للہ پڑھنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی تعلیمات سر آنکھوں پر اور انکا ہر عمل لائق تقلید اور الحمدللہ تعالی ہم ثنائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کرکے درجنوں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی اسی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن یہ موقف کہ جو کام صحابہ نے نہیں کیا وہ غیر از اسلام ہے ، سوائے اہلحدیث مسلک کے گذشتہ 12 یا 13 سو سال میں کسی امام، کسی عالم یا کسی محدث و فقیہ کا نہیںرہا۔ اگر یہی موقف ہوتا تو آج نہ پکی اور شاندار مساجد نظر آتیں، آج نہ اذان و خطبے کے لیے لاوڈ سپیکر استعمال ہورہے ہوتے۔ نہ مدارس میںفقہ، تجوید، عربی گرامر و صرف و نحو کے باقاعدہ نصاب ترتیب پاتے۔ نہ کمپیوٹر پر تبلیغ و ترویج دین کا سلسلہ ہوتا۔ نہ قرآن مجید اعراب کے ساتھ کہیں ملتا۔ اور نہ ہی سعودی عرب سمیت دیگر مسلمان ممالک میںشہنشا ہیت و خاندانی ملوکیت کا سیاسی نظام ہوتا۔ صحابہ کرام کی تعلیمات میں سےبھی اہلحدیث بھائیوں کو صرف وہ وہ اعمال قابل قبول ہیں جو انکے عقیدے اور فکر کے مطابق ہوں۔ وگرنہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم تو ثنا خوان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے۔بارگاہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میںحاضر بھی تھے۔ غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دم بھرتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام باہم ایک دوسرے کی تعظیم و تکریم میںہاتھ چومتے تھے۔ محافل نعت سجایا کرتے اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سمیت درجنوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم نعت پڑھا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نعت سنا کرتے۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ایسے اشعار بھی ہیں جن میں شان و عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اتنہاؤں کو چھوتی نظر آتی ہے۔ واحسن منک لم ترقط عین واجمل منک لم تلد النساء خلقت مبراء من کل عیب کانک قد خلقت کما تشاء ترجمہ ۔ (اے رسول اکرم صلی اللہ علیک وسلم) آپ سے بڑھ کر حسین کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور آپ سے بڑھ کر کوئی جمیل کسی ماں نے نہیں جنا آپ ہر عیب سے پاک تخلیق کیے گئے ، یوں لگتا ہے جیسے آپ کی تخلیق آپ کی خواہش کے مطابق کی گئی ۔ ان اشعار میں سوائے حسن سراپا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بھی بیان نہیںکیا گیا۔ نہ کوئی تعلیمات، نہ کوئی عبادات، نہ کوئی اعمال۔ لیکن تعریف و ثنائے مصطفی سنت صحابہ بن گئی ۔اسکے علاوہ بھی صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم میں درجنوں کی تعداد میں ثنا خوان رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ جو عبادات بھی کرتے تھے۔ لیکن ثنائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرتے تھے۔ ثنائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کرنا ، نہ صرف سنت الہی بلکہ سنت مصطفی اور سنت صحابہ ہے۔ آج صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کی اتباع کا دم بھرنے والوں کے جم غفیر کے سینکڑوں مضامین اٹھا کر دیکھ لیں۔ درجنوںکتابیں کھول کر دیکھ لیں۔ نعت و ثنائے مصطفی اور محفل نعت کی مخالفت (غلو و شرک کے فتووں کی صورت میں) تو ساری تحقیق نظر آجائے گی مگر ثنائے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام کے انداز میں کرنے کی توفیق شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہوگی۔ الا ماشاءاللہ ۔ بلکہ محفل نعت، محفل میلاد، ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، شان و عظمت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی ہر عمل ، ہر فعل، ہر طریقے میں سے کیڑے نکالنا ہی محبوب مشغلہ ہے اور نہ صرف خود بلکہ مخلوق خدا کو بھی اس راہ سے دور رکھنے کے لیے ہر کوشش آزمائے رکھتے ہیں۔ اور میں پھر سے دہراؤں گا کہ ہر صاحب ایمان ، جو دل میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات رکھتا ہو، اسے نہ تو ذکرحبیب سے زیادہ کوئی ذکر عزیز ہوتا ہے اور نہ ہی عمل حبیب سے بڑھکر کوئی عمل محبوب ہوتا ہے۔خواہ محفل میلاد ہو، خواہ محفل نعت ہو ، خواہ دیگر کوئی مجلس ذکر ہو۔ دل کشاں کشاں انسان کو اپنے محبوب کے ذکر کی طرف لے جاتا ہے۔ جہاں اسکے محبوب کے حسن و جمال و فضائل و کمالات کے تذکرے ہورہے ہوں۔ اور اس راہ سے سوائے منافق کے (یاد رہے منافق وہی ہوتا ہے جو بظاہر کلمہ گو ہو، مگر دل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی ہو) اور کوئی دور نہیں بھاگتا۔ ثبوت قرآن حکیم کی اس آیت میں واضح ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًاO (النِّسَآء ، 4 : 61) اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیں o اللہ تعالی ہمیں اپنے حبیب کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطا فرمائے اور اسی محبت کے نور سے اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ وگرنہ خالی علم اور روکھے اعمال تو ابلیس کے پاس بھی بےشمار تھے جو محض شان نبوت کے سامنے سر جھکانے کی وجہ سے اپنے علم و اعمال سمیت مردود ٹھہرا۔ والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,083
کمائي: 110,130
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بڑی نوازش جو آپ میری بات کو سمجھے اور سیریس نہیں لیا اس کے لئے شکریہ۔ حیدر بھائی صاحب عادل بھائی کو چچا کہ کے مخاطب کرتے ہیں اور فارم کے دوسرے ممبران بھی جو سمجھتے ہیں کہ ان کی عمر میں کتنا فرق ھے تو وہ بھی انہیں پیار سے چچا کہہ کے ہی مخاطب کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو آپ بھی کہہ سکتے ہیں مگر آپس کی گفتگو سے اچھا تعاثر ملنا چاہئے۔ نعیم بھائی یہ اللہ کا قانون ھے جسے کوئی نہیں بدل سکتا سب مسلمان ہیں جس کے دماغ کو جو بات اثر کرتی ھے وہ اسی کو اپناتا ھے ،اگر آپ کہتے ہیں کہ فلاں کام جائز ھے تو یقیناً آپ کے پاس اس کے دلائل ہیں اور آپ وہ کام کر رہے ہیں تو آپ اس پر مضمون بنا کر پیش کر دیں۔ اگر سامنے والا کہتا ھے کہ یہ کام جائز نہیں ھے تو اسے بھی اس کا جواب دینے کا حق ھے، کیونکہ اس کے پاس بھی دلائل ہیں، مسلمان وہ بھی ھے مسلمان آپ بھی ہیں۔ بس سوچ ہر ایک کی الگ الگ ھے، وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتے ہیں اور آپ بھی، آپ کہتے ہیں یہ کام اچھا ھے ، وہ کہتے ہیں یہ کام اچھا نہیں، ٹھیک ھے آپ اس پر اچھے طریقے سے اپنی بات بیان کریں وہ بھی اس پر آپ کو اچھے طریقہ سے جواب پیش کریں گے، آپ کا دل کرتا ھے آپ عقلی دلیل بھی دیں یا جہاں تک آپ کے علم کی حد ھے آپ اس کے مطابق بات کریں سب کو خوشی ہو گی، آپ خود اس بات سے اندازہ کریں کہ آپ قرآن اور حدیث سے سارے جوابات فراہم کریں اور جو آپ پرسنل مکالمیں ادا کریں ان سے کسی کی ذات کو نقصان پہنچ رہا ہو تو کسی کو بھی اچھا نہیں لگے گا۔ باقی عادل بھائی اور عبداللہ بھائی آپ کو کبھی بھی کوئی غلط مقالمہ نہیں لکھیں گے اس بات کی گارنٹی ھے۔ آپ اس بات کا خود اندازہ کر لیں کہ آپ نے لکھا ھے آپ کو عبداللہ حیدر بھائی کی پوسٹ اچھی لگی۔ تو اسی طرح اچھی اچھی باتیں کریں جس سے دوسرں کو بھی فائدہ ہو۔ آپ کو اس پر ایک ٹپ بتاتا ہوں کہ جب بھی کسی فارم کو جائن کریں تو پہلے اس میں سب کو جاننے کے لئے اپنی پہچان بناتے ہیں پھر اگر دل کرتا ھے تو دوستی کے دائرے میں گفتگو کرتے ہیں۔ اگر پہلی پوسٹ میں ہی آپ سے اسطرح کی غلطی سرزد ہو گی تو وہ کسی کو بھی اچھی نہیں لگے گی۔ ایک خاص بات کسی بھی مسلک/ فقہ کا نام استعمال نہ کریں آپ کے پاس پاس قابلیت ھے آپ اپنی قابلیت دکھائیں لیکن مسلک کے نام سے نہیں کیونکہ تبلیغ قرآن و سنت کی ھے فقہ کی نہیں اور کوئی بھی فارم فقہ کا نام لے کر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ نعیم بھائی کوشش کریں کسی بھی دوسرے شیخ کو برا نہ کہیں پھر بات وہیں آ جائے گی جس کا خطرہ ھے، اگر کوئی اپنے شیخ کو رحمۃ اللہ علیہ کہتا ھے تو اس پر میں یا آپ اسے یہ کہنے سے نہیں روک سکتے، اگر آپ کسی کے شیخ کو کچھ کہیں گے تو وہ بھی آپ کے شیخ پر ثبوت دکھا دے گا اس لئے اچھا نہیں کہ ان باتوں سے پرہیز کیا جائے۔ یہ بات میں ابھی آپ کا دوسرا مراسلہ پڑھ کر یہاں اڈٹ کر رہا ہوں۔ اگر آپ تھوڑی کوشش کریں تو مہربانی فرما کے فارم کے قانون پر ایک مرتبہ نظر ثانی ضرور کر لیں تاکہ آپ ہر طرح سے سیف رہ سکیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آمین والسلام Last edited by کنعان; 05-02-10 at 05:12 AM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | نعیم۔ (05-02-10), محمدعدنان (16-02-10), مسٹر شیف (05-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (05-02-10) |
|
|
#15 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم کنعان بھائی ۔
اتنے پیار سے سمجھانے کے لیے شکریہ ۔ اقتباس:
جزاک اللہ ۔ والسلام Last edited by نعیم۔; 05-02-10 at 10:03 AM. |
|
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (05-02-10) |
![]() |
| Tags |
| unicode, پیارے, پاک, پسند, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, ایمان, اللہ, بہترین, تعارف, جواب, حکم, حال, حدیث, خوش, درود شریف, زندگی, عیسیٰ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|