واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 25-07-09, 11:01 PM   #1
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ

سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ

سنت کی دو قسمیں ہیں:
سنت فعلیہ : یعنی وہ سنت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود ادا فرمائی، یا اس کے کرنے کے بارے میں فرمان جاری کیا۔
سنت ترکیہ: یعنی وہ امور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ترک فرمایا۔
ہر وہ عبادت جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے قول یا فعل سے مشروع نہیں کیا تو وہ خلاف سنت ہے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔ ایک مثال سے بات کو سمجھتے ہیں۔ نماز کے لیے اذان دینا ایک عبادت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے۔ لیکن عیدین کی نماز کے موقع پر اذان نہیں دی جاتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا تھا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ اذان دینا اصلًا جائز کام ہے لیکن کیونکہ عیدین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر رہا ہے لہٰذا نماز عیدین سے قبل اسے چھوڑنا اور ترک کرنا سنت ہے۔ کوئی شخص کہے کہ “اذان دینا سنت سے ثابت ہے اس لیے کسی بھی موقع پر دی جا سکتی ہے آخر کو یہ ایک نیک کام ہی تو ہے” تو اس کا قول مردود ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اذان کا طریقہ بھی بتایا ہے اور اس کے اوقات بھی۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے بہترین مثال ان تین صحابہ رضی اللہ عنہم کا قصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عبادت کے بارے میں دریافت کرنے ازواج مطہرات کے پاس آئے تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے:
جاء ثلاث رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ، يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما أخبروا كأنهم تقالوها ، فقالوا : أين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم ؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، قال أحدهم : أما أنا فإني أصلي الليل أبدا ، وقال آخر : أنا أصوم الدهر ولا أفطر ، وقال آخر : أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا ، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ( أنتم الذين قلتم كذا وكذا ؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له ، لكني أصوم وأفطر ، وأصلي وأرقد ، وأتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتي فليس مني )
(صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح”
تین آدمی (صحابی )نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے اور (ازواج مطہرات سے) نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جب انہیں اس کی خبر دی گئی تو گویا انہوں نے اسے تھوڑا جانا۔ پھر کہنے لگے “کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اللہ نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں”۔ ایک نے کہا “جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رات کو ہمیشہ قیام کروں گا، دوسرے صحابی نے کہا “میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تیسرے صحابی نے کہا “میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا”۔
پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف لائے تو (معاملے کی اطلاع ملنے پر) فرمایا “تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہوں لیکن میں (نفلی)روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے”۔
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے اچھے کاموں کا ارادہ کیا۔ رات کو قیام کرنا بڑے اجر و ثواب کی بات ہے، روزہ رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے، عفت و پاکیزگی اختیار کرنا مومن کا شیوہ ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ انہوں نے ان تینوں عبادات کی کیفیت اور شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کے مطابق نہیں تھی اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا اور اپنے فہم سے عبادت میں اضافہ کرنےرو ک دیا۔ اور اپنے اس فرمان کی عملی صورت امت کے سامنے رکھ دی کہ :
“من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد”
“جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ رد ہے”
اس واقعے میں ایک اور لطیف تنبیہہ بھی ہے کہ اچھی نیت سے نیک عمل کرنا اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں بنا سکتا جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کے موافق نہ ہو۔ یہی وجہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان تین صحابہ کو سمجھاتے وقت اپنے فرمان کو اس جملے پر ختم کیا :
“ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے”
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
ہم کسی فعل کو اختیار کرتے ہیں تو اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے اختیار کیا اور کسی عمل کو ترک کرتے ہیں تو اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا تھا” (فتح الباری3۔475)
اور امام حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
جس چیز کے ترک کرنے پر صحابہ اور تابعین (اسلاف امت) کا اتفاق ہو تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ انہوں نے یہ علم رکھتے ہوئے ہی اسے ترک کیا ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا”۔ ( “فضل علم السلف” ص 31 بتحقیق الشیخ علی بن حسن الحلبی حفظہ اللہ)
اللہ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

Last edited by عبداللہ حیدر; 02-08-09 at 01:28 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-07-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), تفسیر حیدر (25-07-09), سحر (09-09-09), طلحہ (01-08-10), عبداللہ آدم (19-03-10)
پرانا 25-07-09, 11:51 PM   #2
Senior Member
 
monee3s's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Muzaffarabad
عمر: 22
مراسلات: 989
کمائي: 20,288
شکریہ: 143
577 مراسلہ میں 1,180 بارشکریہ ادا کیا گیا
monee3s کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں monee3s کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام علیکم!
حیدر بھائی آپ یہ بتائیں داڑھی رکھنا سنت ہے۔ اور جو داڑھی نہیں رکھتے تو کیا وہ گناہ گار ہیں۔ ذرا اس پر روشنی ڈالیں۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
monee3s آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
monee3s کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 25-07-09, 11:57 PM   #3
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تفسیر حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-07-09, 12:01 AM   #4
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : monee3s مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم!
حیدر بھائی آپ یہ بتائیں داڑھی رکھنا سنت ہے۔ اور جو داڑھی نہیں رکھتے تو کیا وہ گناہ گار ہیں۔ ذرا اس پر روشنی ڈالیں۔
داڑھی رکھنا فعل کے لحاظ سے تو سنت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے رکھی ہے۔ لیکن اس کا حکم وجوب کا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے رکھنے کا حکم دیا ہے:
اعفوا الحٰی و اقصروا الشوارب (بخاری)
"داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھوں کو چھوٹا کرو"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-07-09, 01:00 AM   #5
Senior Member
 
monee3s's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Muzaffarabad
عمر: 22
مراسلات: 989
کمائي: 20,288
شکریہ: 143
577 مراسلہ میں 1,180 بارشکریہ ادا کیا گیا
monee3s کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں monee3s کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر کوئی نہیں رکھتا تو کیا وہ گناہ گار ہے ۔ اگر نہیں رکھنا گناہ ہے تو کیا وہ گناہ صغیرہ میں آتا ہے یا کبیرہ میں۔ کیا معافی کے قابل ہے؟
monee3s آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-07-09, 01:26 AM   #6
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا حکم ہے تو ظاہر ہے اس کی نافرمانی کرنے والا گناہگار ہے۔
جہاں تک معافی کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء (النساء)
"بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا جس کے لیے جو چاہے گا معاف کر دے گا"
یہ معاملہ تو آخرت میں ہو گا لیکن دنیا میں ایسے شخص کو دعوت دی جائے گی اور اسے کے غلط کام کا انکار کیا جائے گا۔ صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے بارے میں علماء کی کچھ باتیں پڑھ رکھی ہیں لیکن جب تک ان کے دلائل معلوم نہ ہوں قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مجھے کچھ وقت دیجیے۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 26-07-09 at 03:02 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (27-07-09)
پرانا 26-07-09, 03:37 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ تبارک اللہ ، بھتیجے ، و جزاک اللہ خیرا ، اللہ مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (27-07-09), عبداللہ حیدر (26-07-09)
پرانا 28-07-09, 04:09 AM   #8
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ
آپ نے نہایت عمدہ طریقے سے بات پہنچائی

منتظمین کے جملے کا انتظار ہے
"سرورق کے لئے اپلائی کریں "
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-07-09, 11:20 AM   #9
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ "سرورق پر اپلائی کریں" یہ ایک تجویز ہوتی ہے۔ ایک حکم نہیں‌ہوتا ہے۔ کوئی بھی رکن کسی کی بھی پوسٹ کو سرورق پر بغیر میری تجویز کے پیش کر سکتا ہے۔ اور اگر اراکین میری تجویز کے بغیر ہی سرورق پر پیش کریں تو یہ بہت ہی عمدہ طریقہ کار ہو گا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (28-07-09), عبداللہ آدم (19-03-10), عبداللہ حیدر (29-07-09)
پرانا 19-03-10, 02:37 PM   #10
Senior Member
 
محمدمبشرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: اسلام آباد
عمر: 23
مراسلات: 1,401
کمائي: 20,634
شکریہ: 2,607
975 مراسلہ میں 2,112 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدمبشرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدمبشرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

منتظمین بھائی آپ تو سیرئس ہی ہو گئے
محمدمبشرعلی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
arabic, color, پوسٹ, قصہ, نماز, موقع, معلوم, آدمی, اللہ, اسلام, بہترین, بھائی, حکم, حدیث, حسن, خلاف, داڑھی, دریافت, روزہ, شخص, عبادت, صحیح, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:53 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger