|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سنت کی دو قسمیں ہیں:
سنت فعلیہ : یعنی وہ سنت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے خود ادا فرمائی، یا اس کے کرنے کے بارے میں فرمان جاری کیا۔ سنت ترکیہ: یعنی وہ امور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ترک فرمایا۔ ہر وہ عبادت جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے قول یا فعل سے مشروع نہیں کیا تو وہ خلاف سنت ہے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔ ایک مثال سے بات کو سمجھتے ہیں۔ نماز کے لیے اذان دینا ایک عبادت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کیا جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی جاتی ہے۔ لیکن عیدین کی نماز کے موقع پر اذان نہیں دی جاتی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا تھا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ اذان دینا اصلًا جائز کام ہے لیکن کیونکہ عیدین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اسی پر رہا ہے لہٰذا نماز عیدین سے قبل اسے چھوڑنا اور ترک کرنا سنت ہے۔ کوئی شخص کہے کہ “اذان دینا سنت سے ثابت ہے اس لیے کسی بھی موقع پر دی جا سکتی ہے آخر کو یہ ایک نیک کام ہی تو ہے” تو اس کا قول مردود ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اذان کا طریقہ بھی بتایا ہے اور اس کے اوقات بھی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے بہترین مثال ان تین صحابہ رضی اللہ عنہم کا قصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عبادت کے بارے میں دریافت کرنے ازواج مطہرات کے پاس آئے تھے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے: جاء ثلاث رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ، يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما أخبروا كأنهم تقالوها ، فقالوا : أين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم ؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، قال أحدهم : أما أنا فإني أصلي الليل أبدا ، وقال آخر : أنا أصوم الدهر ولا أفطر ، وقال آخر : أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا ، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ( أنتم الذين قلتم كذا وكذا ؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له ، لكني أصوم وأفطر ، وأصلي وأرقد ، وأتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتي فليس مني ) (صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح” “تین آدمی (صحابی )نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے اور (ازواج مطہرات سے) نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جب انہیں اس کی خبر دی گئی تو گویا انہوں نے اسے تھوڑا جانا۔ پھر کہنے لگے “کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اللہ نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں”۔ ایک نے کہا “جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رات کو ہمیشہ قیام کروں گا، دوسرے صحابی نے کہا “میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تیسرے صحابی نے کہا “میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا”۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف لائے تو (معاملے کی اطلاع ملنے پر) فرمایا “تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہوں لیکن میں (نفلی)روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے”۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تینوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے اچھے کاموں کا ارادہ کیا۔ رات کو قیام کرنا بڑے اجر و ثواب کی بات ہے، روزہ رکھنا بڑی فضیلت رکھتا ہے، عفت و پاکیزگی اختیار کرنا مومن کا شیوہ ہوتا ہے۔ لیکن کیونکہ انہوں نے ان تینوں عبادات کی کیفیت اور شکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کے مطابق نہیں تھی اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا اور اپنے فہم سے عبادت میں اضافہ کرنےرو ک دیا۔ اور اپنے اس فرمان کی عملی صورت امت کے سامنے رکھ دی کہ : “من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد” “جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ رد ہے” اس واقعے میں ایک اور لطیف تنبیہہ بھی ہے کہ اچھی نیت سے نیک عمل کرنا اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں بنا سکتا جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے کے موافق نہ ہو۔ یہی وجہ ہے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان تین صحابہ کو سمجھاتے وقت اپنے فرمان کو اس جملے پر ختم کیا : “ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے” امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: “ہم کسی فعل کو اختیار کرتے ہیں تو اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے اختیار کیا اور کسی عمل کو ترک کرتے ہیں تو اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے ترک کیا تھا” (فتح الباری3۔475) اور امام حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: “جس چیز کے ترک کرنے پر صحابہ اور تابعین (اسلاف امت) کا اتفاق ہو تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ انہوں نے یہ علم رکھتے ہوئے ہی اسے ترک کیا ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا”۔ ( “فضل علم السلف” ص 31 بتحقیق الشیخ علی بن حسن الحلبی حفظہ اللہ) اللہ تعالیٰ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ Last edited by عبداللہ حیدر; 02-08-09 at 01:28 AM. |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (27-07-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), تفسیر حیدر (25-07-09), سحر (09-09-09), طلحہ (01-08-10), عبداللہ آدم (19-03-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم!
حیدر بھائی آپ یہ بتائیں داڑھی رکھنا سنت ہے۔ اور جو داڑھی نہیں رکھتے تو کیا وہ گناہ گار ہیں۔ ذرا اس پر روشنی ڈالیں۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| monee3s کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
اعفوا الحٰی و اقصروا الشوارب (بخاری) "داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھوں کو چھوٹا کرو" |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اگر کوئی نہیں رکھتا تو کیا وہ گناہ گار ہے ۔ اگر نہیں رکھنا گناہ ہے تو کیا وہ گناہ صغیرہ میں آتا ہے یا کبیرہ میں۔ کیا معافی کے قابل ہے؟
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
بھائی، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا حکم ہے تو ظاہر ہے اس کی نافرمانی کرنے والا گناہگار ہے۔
جہاں تک معافی کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر ما دون ذلک لمن یشاء (النساء) "بے شک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا جس کے لیے جو چاہے گا معاف کر دے گا" یہ معاملہ تو آخرت میں ہو گا لیکن دنیا میں ایسے شخص کو دعوت دی جائے گی اور اسے کے غلط کام کا انکار کیا جائے گا۔ صغیرہ یا کبیرہ ہونے کے بارے میں علماء کی کچھ باتیں پڑھ رکھی ہیں لیکن جب تک ان کے دلائل معلوم نہ ہوں قطعیت سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ مجھے کچھ وقت دیجیے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 26-07-09 at 03:02 AM. |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (27-07-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ تبارک اللہ ، بھتیجے ، و جزاک اللہ خیرا ، اللہ مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (27-07-09), عبداللہ حیدر (26-07-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ
آپ نے نہایت عمدہ طریقے سے بات پہنچائی منتظمین کے جملے کا انتظار ہے "سرورق کے لئے اپلائی کریں "
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (28-07-09) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ "سرورق پر اپلائی کریں" یہ ایک تجویز ہوتی ہے۔ ایک حکم نہیںہوتا ہے۔ کوئی بھی رکن کسی کی بھی پوسٹ کو سرورق پر بغیر میری تجویز کے پیش کر سکتا ہے۔ اور اگر اراکین میری تجویز کے بغیر ہی سرورق پر پیش کریں تو یہ بہت ہی عمدہ طریقہ کار ہو گا۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
منتظمین بھائی آپ تو سیرئس ہی ہو گئے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| arabic, color, پوسٹ, قصہ, نماز, موقع, معلوم, آدمی, اللہ, اسلام, بہترین, بھائی, حکم, حدیث, حسن, خلاف, داڑھی, دریافت, روزہ, شخص, عبادت, صحیح, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|