| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر جو دین نازل کیا وہ ہر لحاظ سے مکمل ہے جس میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دین میں اضافہ کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین کی تکمیل ہو گئی تھی اس لیےایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی فلاح و سعادت کے لیے نئے نئے اضافوں کی ضرورت نہیں ہے۔فرمان الٰہی ہے:
“الیوم اکملت لکم دینکم” “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے” عام طور پر سوال کیاجاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانے میں انٹرنیٹ نہیں تھا، ٹیلی فون نہیں تھا، ہوائی جہاز نہ تھے، لوگ اونٹوں پر سفر کرتے تھے، کنوؤں سے پانی پیتے تھے، تلوار سے جہاد کرتے تھے وغیرہ۔ اب ان وسائل کا استعمال متروک ہو چکا ہے تو ثابت ہوا کہ دین میں اپنی مرضی کی چیزیں داخل کی جا سکتی ہیں کیونکہ اسلام قیامت تک کے لیے ہے اور زمانے کے ساتھ بدلتے وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کو اسی وقت اپنایا جا سکتا ہے جب اضافے کو جائز سمجھا جائے۔ کار میں سفر کرنا اور گھروں میں بجلی کا استعمال کرنا کیا نئی چیز نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تو انہیں استعمال نہیں کیا تھا۔ اس عقلی دلیل کو بنیاد بناتے ہوئے ان سارے فرامین کی تاویل کی جاتی ہے جن میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دین میں نئی نئی چیزیں نکالنے سے منع کیا ہے۔ خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی میں دو قسم کے امور ہوتے ہیں۔ 1۔ عقائد اور عبادات 2۔ عادات (معروف معنوں کے مطابق دنیاوی معاملات) اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سوا کسی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام کا حکم جاری کرے، یا کسی عبادت کو مشروع کرے یا عبادت کی مقدار، کیفیت اور اوقات میں کوئی تبدیلی کرے، یا معاملات کے عمومی قواعد کو بدلے، یا اپنے عقل و فہم سے کسی چیز کو اچھا سمجھتے ہوئے اسے عبادت ، برکت یا تقرب الی اللہ کے ذریعے کے طور پر اپنائے اور اس کی ترویج کرے۔ اللہ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں سے ایک ایک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں برت کر دکھا دیا ہے اور اس کی تعلیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دے دی تھی۔ اب جو بھی نیا کام عقیدہ و عبادت میں نکالا جائے گا یا اسے اللہ کی خوشنودی کے ذریعے کے طور پر اپنایا جائے گا یا اسے برکت کے حصول کا ذریعہ مانا جائے گا وہ مردود ہے، ناقابل قبول ہے، اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے کہ: من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد “جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام نکالا جو اس میں نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے”۔ اور اسی سے ملتا جلتا فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ ہے: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد جس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ رد ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام امت سے افضل ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں بھی اجازت نہیں دی کہ اپنے طور پر کسی عمل کو اچھا سمجھتے ہوئے اسے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھ لیں۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ صحیح احادیث میں مذکور ہے جس میں سوچنے سمجھنے والوں کے لیے بہت سامان ہے: جاء ثلاث رهط إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ، يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم ، فلما أخبروا كأنهم تقالوها ، فقالوا : أين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم ؟ قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، قال أحدهم : أما أنا فإني أصلي الليل أبدا ، وقال آخر : أنا أصوم الدهر ولا أفطر ، وقال آخر : أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبدا ، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ( أنتم الذين قلتم كذا وكذا ؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له ، لكني أصوم وأفطر ، وأصلي وأرقد ، وأتزوج النساء ، فمن رغب عن سنتي فليس مني ) (صحیح بخاری کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح” “تین آدمی (صحابی )نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے اور (ازواج مطہرات سے) نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھنے لگے۔ جب انہیں اس کی خبر دی گئی تو گویا انہوں نے اسے تھوڑا جانا۔ پھر کہنے لگے “کہاں ہم اور کہاں نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اللہ نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں”۔ ایک نے کہا “جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رات کو ہمیشہ قیام کروں گا، دوسرے صحابی نے کہا “میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ تیسرے صحابی نے کہا “میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا”۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تشریف لائے تو (معاملے کی اطلاع ملنے پر) فرمایا “تم لوگوں نے یہ یہ باتیں کی ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہوں لیکن میں (نفلی)روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ہے”۔ اس قصے سے بڑا اہم سبق ملتا ہے کہ تینوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے اچھے کام کا ارادہ کیا اور اچھی نیت سے کیا۔ کون کہ سکتا ہے کہ روزہ رکھنا اور نماز پڑھنا بری بات ہے۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں اپنے طریقے سے ہٹ کر نفلی روزہ اور نفلی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جس سے معلوم ہو گیا کہ نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا بظاہر نیک عمل بھی اس وقت تک کوئی وزن نہیں رکھتا جب تک اس پر محمدی مہر تصدیق نہ ہو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دفعہ وہ مسجد سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں اور (سب مل کر) تکبیر کہتے ہیں، اللہ کی تسبیح اور تہلیل بیان کرتے ہیں۔ تو ان سے فرمایا: “اے امت محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) تمہاری ہلاکت کس قدر قریب آ گئی ہے” اور فرمایا “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ (ذکر کا یہ نیا انداز نکال کر) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے کے مدعی ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو” وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا: “اے ابو عبدالرحمٰن(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت)! ہمارا ارادہ خیر کے سوا کچھ نہ تھا” اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: “کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں جو اسے پا تے نہیں ہیں” (اسے امام الدارمی نے اپنی سنن میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، جلد 1 صفحہ68۔69) ایک دوسرا واقعہ نئے امور کے بارے میں صحابہ کرام کی احتیاط کو بہت اچھی طرح بیان کر تا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا۔ اسے چھینک آئی تو اس نے کہا “الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ”۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا”میں بھی کہتا ہوں “الحمدللہ و السلام علی رسول اللہ” لیکن اس موقع پر (یعنی چھینک کے بعد) ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی تھی، بلکہ یہ تعلیم دی تھی کہ ہم کہیں “الحمدللہ علی کل حال” (الترمذی حدیث نمبر 2738 بسند صحیح) صحابہ کرام کے شاگر د یعنی تابعین بھی نئے امور سے سختی سے پرہیز کرتے تھے۔ مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ طلوع فجر کے بعد دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھتا ہے اور اس میں کثرت سے رکوع و سجود کرتا ہے۔ انہوں نے اسے منع کیا تو اس نے کہا “اے ابو محمد! کیا اللہ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب دے گا”؟ تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا “ نہیں، بلکہ تجھے خلاف سنت کام کرنے پر عذاب دے گا” (رواہ البیہقی فی “السنن الکبرٰی 2/466) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور تابعین کے طرز عمل سے اب وہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی ہو گی جسے میں نے اوپر لکھا ہے کہ “اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سوا کسی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام کا حکم جاری کرے، یا کسی عبادت کو مشروع کرے یا عبادت کی مقدار، کیفیت اور اوقات میں کوئی تبدیلی کرے، یا معاملات کے عمومی قواعد کو بدلے، یا اپنے عقل و فہم سے کسی چیز کو اچھا سمجھتے ہوئے اسے عبادت ، برکت یا تقرب الی اللہ کے ذریعے کے طور پر اپنائے یا اس کی ترویج کرے۔” واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ جب نئے کام نکالنے کی اتنی سخت ممانعت ہے تو پھر جدید ایجادات اور وسائل کا کیا حکم ہے؟ اس بارے میں یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ عادات و معاملات اور دنیاوی کاموں میں نئی چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انہیں اختیار کرنے سے دین کے کسی دوسرے اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ آپ کو اجازت ہے کہ شریعت کے عمومی قواعد مثلا عدل و انصاف، دیانت و امانت وغیرہ کا خیال رکھتے ہوئے صنعت و حرفت، ٹیکنالوجی، جدید ذرائع آمدورفت، جدید ذرائع مواصلات وغیرہ سے پورا فائدہ اٹھائیں۔ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ “تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہو”۔اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں یوں بیان کیا ہے: “انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا “اگر تم یہ نہ کرو تو اچھا ہو گا”۔ (انہوں نے ایسا ہی کیا تو) اس کے بعد ردی کھجوریں پیدا ہوئیں۔پھر (دوبارہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا گزر ان پر سے ہوا تو پوچھا “تمہاری کھجوروں کا کیا ہوا”؟ (انہوں نے (ساری بات بتائی ) اور کہا “آپ نے اس اس طرح فرمایا تھا” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: “تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہو” ( دیکھیے صحیح مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا دون ما ذکرہ من معایش الدنیا علی سبیل الرای)۔ امید ہے کہ اس وضاحت سے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی باذن اللہ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ Last edited by عبداللہ حیدر; 25-07-09 at 03:00 AM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اگر اپ متنازعہ چلتی ہوئی بحث کا ذکر نہ کرتے تو یہ ایک اعلی پائے کا موضوع تھا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (24-07-09), عبداللہ حیدر (24-07-09) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ۔۔۔ سرورق کے لیے بھی اپلائی کر دیں
ویسے حلقہ بنا کر بلند آواز میںتکبیر کا ثبوت بعض صحابہ صفحہ سے بھی ملتا ہے۔ کہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے کچھ آواز با بلند عبادت کرتے تھے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (24-07-09), فیصل ناصر (24-07-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ کل خیرا ، بھتیجے اب لگتا ہے کہ بھتیجے ہوتے جا رہے ہو ، اللہ علم نافع اور عمل صالح میں اضافہ عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (24-07-09) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
منتظمین بھائی ، اصحابء صُفہ رضی اللہ عنہم اجعمین کے بارے میں آپ نے جس طریقہ تکبیر، اور جس با آوازِ بلند عبادت کا ذکر فرمایا ہے کیا اس کی کوئی تفصیل یا حوالہ میسر ہو سکتا ہے ؟ تا کہ بات واضح ہو سکے اور کوئی غلط فہمی نہ رہے ان شاء اللہ ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے واقعات کے حوالے تو یاد نہیںہیں اور نہ ہی میرا یہ کام ہے کہ حوالہ جات کی چھان پھٹک کروں۔ لیکن ایک سے زائد کتب میں یہ پڑھا ہے۔ کہ صحابہ صفہ میں سے کچھ بلند آواز میں عبادت کرتے تھے۔
|
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی میں کوشش کروں گا کہ ایسے کسی واقعے تک رسائی ہو جائے ، اگر دوبارہ آپکی نظر اس پر پڑے تو مجھے ضرور آگاہ فرمایے گا جزاک اللہ خیرا ،و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اگرثابت نہ بھی ہوتو بلندآواز سےذکرکرناکہاں منع ہےکیا یہ بات تو نہین ہیکہ ایک فرقہ ذکربلجہر کرتا ہےاسلیئےاسکوغلط ثابت کیاجائے
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آ صف بھائی آپ تھوڑا ٹھنڈے دل و دماغ سے اس دھا گے کا مطالعہ کریں کیونکہ میرے خیا ل میں اس میں کوئی ایسی اختلافی بات بیان نہیں کی گئی۔
بات ثابت کرنے اور منع کرنے کی نہیں بلکہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے مظابق ہونے کی ہے۔امید ہے آپ بات سمجھ گئے ہوں گے۔ شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (25-07-09), عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 172
کمائي: 5,413
شکریہ: 99
143 مراسلہ میں 521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
............................................
Last edited by باذوق; 25-07-09 at 05:01 PM. |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
حضور
ایک روز مسجدِ نبوی میں آئےدیکھاکچھ لوگ ٹولی کی صورت میں درس میں مصروف ہیں کچھ لوگ نوافل میں مشغول ہیں اور کہیں ذکر ہورہاتھا آپ نےذکروالوں کومنع نہ فرمایا اسکا کیا مطلب ھوا فیصلہ آپ لوگون پرچھوڑتا ہوں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا | محمدخلیل (25-07-09), عبداللہ حیدر (25-07-09) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چلو چلو ٹائم مشین بنا کر تمام مسلمان 1400 واپس چلتے ہیں!
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
آپنے فرمایادین مین نیاکام نئی چیز مردود ہے اس سےمراد کیاوہ کام بھی ہیں جو حضور
سےثابت نہیں ہیں مگرثواب کی نیت سےکیئےجاتےہیں نہ کہ عقیدہ سمجھکراور وہ دین کیخلاف بھی نہیں ہیں مثال کےطورپرتیجہ یادسواں لےلیں اس میں قرآنِ پاک پڑھاجاتا ہےاورمردون کوایصالِ ثواب کیاجاتاہےاورلوگوں کواللہ کی رضا کیلیئےکھاناکھلایاجاتاہےاب اسمیں تین چیزیں ہوئی 1)قرآن پڑھنا کمال ہےویسےقرآن پڑھناثواب مگرتیجےیادسویں کی محفل میں قرآن پڑھنامردود(الامان والحفیظ)2)ایصالِ ثواب صحیح احادیث سےثابت آپکےفرمان سےیوہی ایصالِ ثواب کرناجائزمگرتیجہ یادسویں کی محفل میں اسلیئےناجائزکہ تیجہ کی محفل حضور سےثابت نہیں 3)مسلمانوں کویاغرباءکوکھاناکھلاناثوا ب مگرتیجہ یادسویں کی محفل میں ثواب کی امیدنہ رکھی جائےبلکہ آپکی نگاہوں میں یہ عمل مردود کیونکہ دورِ نبوی میں نہ ہوایہ جوتین صحابی کی حدیث ہےاس سےانکارممکن نہیں مگرکہاں کی حدیث کہاں فٹ کی جارہی ہےاسوقت حضور موجود تھےاسلیئےاورجوفرمایاجیساف رمایاوہ کرناضروری تھااسی لیئےفقہ کرام نےپےدرپےروزےرکھنامکروہ فرمایاہےایسی احادیث سےاحکام نکالےجاتےہیں نہ کہ اچھاعمل جوکہ حضور سےثابت نہ ہوممنوع قرار دیاجایئگاچھینک والی حدیث کابھی یہی مسئلہ ہیکہ چھینک کیبعددرودپڑھناممنوع ہےآپنے کھا صحابہ نےکہا اللہ نےحضور کےاگلےپچھلےگناہ معاف فرمدیے(معاذاللہ)نبی تومعصوم ھوتاہےاس سےطاھرھوا اردو ترجمہ والوں نےاپنےاپنےفرقے کےمطابق اسلامی قدیم کتابوں کاترجمہ کیاہےنمازِ جمعہ میں عربی خطبہ سےپھلےاردوخطبہ کیادین میں اضافہ نہیں ہے؟؟؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| واقعات, قواعد, لوگ, نماز, مکمل, مسجد, معلوم, آدمی, اللہ, انٹرنیٹ, اسلام, تعلیم, جلتا, جلد, حکم, حدیث, خلاف, روزہ, زندگی, سفر, شخص, عبادت, صفحہ, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | عبداللہ آدم | گپ شپ | 23 | 02-03-11 12:14 AM |
| ایک دوسرے کا مذاق مت اڑائیں | عبداللہ حیدر | اخلاق و آداب | 1 | 28-03-09 12:39 PM |
| صدر مشرف دورہ چین کے دوسرے مرحلے میں بیجنگ پہنچ گئے | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 13-04-08 08:21 AM |
| امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 25-10-07 08:54 PM |
| انسداد دہشتگردی کے طریقہٴ کار پر پاک بھارت مذاکرات کا دوسرا دور آج نئی دہلی میں ہوگا | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 22-10-07 06:48 PM |