|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ابوجمرہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کے اور لوگوں کے بیچ میں مترجم تھا ( یعنی اوروں کی بات کو عربی میں ترجمہ کر کے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو سمجھاتا ) اتنے میں ایک عورت آئی اور گھڑے کے نبیذ کے بارہ میں پوچھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبدالقیس کے وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ وفد کون ہیں؟ یا کس قوم کے لوگ ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ہو قوم یا وفد کو جو نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ہوئے ( کیونکہ بغیر لڑائی کے خود مسلمان ہونے کیلئے آئے، اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتے تو وہ رسوا ہوتے، لونڈی غلام بنائے جاتے، مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے ) ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں کافروں کا قبیلہ مضر ہے تو ہم نہیں آ سکتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک، مگر حرمت والے مہینہ میں ( جب لوٹ مار نہیں ہوتی ) اس لئے ہم کو حکم کیجئے ایک صاف بات کا جس کو ہم بتلائیں اور لوگوں کو بھی اور جائیں اس کے سبب سے جنت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم کیا اور چار باتوں سے منع فرمایا۔ ان کو حکم کیا اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ ایمان کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوا اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا ( یہ چار باتیں ہو گئیں، اب ایک پانچویں بات اور ہے ) اور غنیمت کے مال میں سے پانچویں حصہ کا ادا کرنا ( یعنی کفار کی سپاہ یا مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں سے جو مال حاصل ہو مال غنیمت کہلاتا ہے ) اور منع فرمایا ان کو کدو کے برتن، سبز گھڑے اور روغنی برتن سے۔ ( شعبہ نے ) کبھی یوں کہا اور نقیر سے اور کبھی کہا مقیر سے۔ ( یعنی لکڑی سے بنائے ہوئے برتن ہیں )۔ اور فرمایا کہ اس کو یاد رکھو اور ان باتوں کی ان لوگوں کو بھی خبر دو جو تمہارے پیچھے ہیں۔ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے من وّرآئکم کہا بدلے من ورآئکم کے۔ ( ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے )۔ اور سیدنا ابن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں اپنے باپ سے اتنا زیادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے ( جس کا نام منذر بن حارث بن زیاد تھا یا منذر بن عبید یا عائذ بن منذر یا عبداللہ بن عوف تھا ) فرمایا کہ تجھ میں دو عادتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، ایک تو عقل مندی، دوسرے دیر میں سوچ سمجھ کر کام کرنا جلدی نہ کرنا۔ صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تو یقین کرے دل سے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس سے ملنے پر اور اس کے پیغمبروں پر اور یقین کرے قیامت میں زندہ ہونے پر۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ جل جلالہ کو پوجے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور قائم کرے تو فرض نماز کو اور دے تو زکوٰۃ کو جس قدر فرض ہے اور روزے رکھے رمضان کے۔ پھر وہ شخص بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! احسان کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو عبادت کرے اللہ کی جیسے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اس کو نہیں دیکھتا ( یعنی توجہ کا یہ درجہ نہ ہو سکے ) تو اتنا تو ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھتے ہو قیامت کو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن اس کی نشانیاں میں تجھ سے بیان کرتا ہوں کہ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب ننگے بدن ننگے پاؤں پھرنے والے لوگ سردار بنیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب بکریاں یا بھیڑیں چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنائیں تو یہ بھی قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو کوئی نہیں جانتا سوا اللہ تعالیٰ کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی کہ (( اللہ ہی جانتا ہے قیامت کو اور وہی اتارتا ہے پانی کو اور جانتا ہے جو کچھ ماں کے رحم میں ہے ( یعنی مولود نیک ہے یا بد، رزق کتنا ہے، عمر کتنی ہے وغیرہ ) اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس ملک میں مرے گا۔ اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے ))۔ ( لقمان : 34 ) پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو پھر واپس لے آؤ۔ لوگ اس کو لینے چلے لیکن وہاں کچھ نہ پایا ( یعنی اس شخص کا نشان بھی نہ ملا ) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، تم کو دین کی باتیں سکھلانے آئے تھے۔ صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : ایمان کا پہلا رکن لا الٰہ الا اللہ کہنا ہے۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اس نے ایمان کا مزا چکھ لیا جو اللہ کے پروردگار عالم ( لائق عبادت ) ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے پر راضی ہو گیا۔ صحیح مسلم ایمان کے متعلق باب : جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہو گیا ، اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فرض, کتابوں, پسند, نماز, ماں, ایمان, اللہ, اسلام, حکم, خلاف, خبر, رمضان, سفر, سردار, شخص, عورت, عقل, عالم, عبادت, عربی, غلام, غنیمت, صاف, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا یہ انسان ہیں؟ | علی عمران | گپ شپ | 12 | 08-09-11 09:18 PM |
| الزام کسے دیں؟ | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 13 | 07-08-10 12:32 AM |
| عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ | منتظمین | میرا پاکستان | 32 | 23-07-10 08:14 PM |
| سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 25 | 25-06-10 07:50 PM |
| ہم کس گروہ سے ہیں؟ | sahj | عمومی بحث | 4 | 01-02-10 02:38 PM |