| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم!
سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے حدیث اور سنت دونوں ہی دو مشھور اصطلاحات ہیں ۔ لہذا قرآن پاک میں لفظ سنت بھی استعمال ہوا ہے اور حدیث بھی اور اسی طرح خود حدیث پاک میں ان دونوں الفاظ کا مستعمل ہونا ملتا ہے حدیث اور سنت کے بارے میں علماء کے ایک گروہ کی رائے تو یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف ہیں سو اس لحاظ سے ایک ہی معنٰی اور مفھوم میں لیئے جاتے ہیں اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ حدیث ایک عام چیز ہے جبکہ سنت اس سے خاص یعنی حدیث تو ہر وہ چیز ہے کہ جسکی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جائے کہ جس میں صحیح ،حسن ،ضعیف ،منکر اور موضوع روایات بھی شامل ہیں اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے کہ جو فقط احادیث صحیحہ کی بنیاد پر ثابت ہوتا ہو اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طے کیا ہوا طریقہ ہو جسکو کہ آپ نے اپنی امت کو سکھایا اور جو قرآن پاک کے منشاء و معنٰی کی تفسیر و تشریح کرتا ہے اور جو اپنی عملی صورت میں اسی قرآنی منشاء کی تکمیل کرتے ہوئے عملی تشکیل بھی کرتا ہے اسی خاص طریقہ کا نام سنت ہے ۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ دونوں اصطلاحات یعنی حدیث اور سنت الگ الگ معنٰی و مفھوم رکھتی ہیں علم حدیث کا ایک الگ موضوع ہے اور علم سنت کا بالکل ایک الگ مفھوم اس لحاظ سے وہ سنت کی حدیث سے الگ تعریف بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ سنت فقط طریقہ متبعہ کو کہا جائے گا یعنی وہ طریقہ کہ جسے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہو فقط وہی سنت کہلائے گا ۔ درج زیل میں ہم لفظ حدیث اور سنت دونوں کے لغوی معٰنی قارئین کی سہولت کے لیے واضح کردیتے ہیں ۔۔ لفظ حدیث لغوی معنٰی :- لفظ حدیث کہ جسکو ایک خاص فن کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے عربی زبان میں اس کے متعدد معنٰی ہیں مثلا عربی زبان میں حدیث کے معنی گفتگو کے بھی ہیں اور نئی چیز، نئی بات کو بھی عربی میں حدیث کہتے ہیـں اس کے علاوہ کوئی قابل زکر واقعہ کوئی گفتگو یا کوئی کلام اسکو بھی عربی میں حدیث کہتے ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشھور فرمان ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ "خیر الحدیث کتاب اللہ یا ایک جگہ فرمایا کہ احسن الحدیث کتاب اللہ " یعنی سب سے بہتر بات یا سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے ۔ ۔ ۔ لفظ سنت کے لغوی معنٰی :- لفظ سنت کے لغوی معنٰی روش، دستور، رواج، طریقہ، عادت، راہ، یا قانون کے ہیں جیسا کہ خود حدیث پاک میں یہی لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعمل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا ولا ینقص من اجورھم شئی ۔ ۔ ۔ یہاں سنۃ حسنۃ سے مراد طریقہ یا رواج کہ ہیں اور یہاں لفظ سنت اپنے فقہی یا اصولی یا اصطلاحی معنوں میں نہیں بلکہ لغوی معنوں میں ہے ۔ ۔ ۔ اسلامی شریعت کی رو سے سنت کے معروف معنٰی تو وہ طرز عمل ہے کہ جس کی دعوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور جسکو قائم کرنے کے لیے رسول دنیا میں بھیجے گئے اور جو صحابہ کرام نے آپ سے سیکھ کر اختیار کیا اور پھر نسلا بعد نسلا آگے منتقل کیا اس طریقہ کو عربی زبان میں سنت کہا جاتا ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن و سنت دونوں شریعت کے بنیادی ماخذ ہیں تو اس وقت ہماری مراد اسی مفھوم میں سنت ہوتی ہے ۔ سو اس لحاظ سے لفظ سنت اصطلاحا متعدد معنٰی میں استعمال ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے لغوی معنی میں کہ جیسے ہم اوپر بیان کرچکے ۔ ۔ لفظ سنت علماء اصول کی اصطلاح میں :- علماء اصول کی اصطلاح میں سنت سے مراد وہ معروف طریقہ رسول ہے کہ جسکو نافذ کرنے کے لیے پیغمبر دنیا میں آئے اور جس پر مسلمان عمل کرتے ہیں اور جو شریعت کے احکام کا ماخذ و مصدر ہے اور جو ہم تک تین طریقوں سے پہنچا ہے کہ جن کی وضاحت ہم آگے چل کر کریں گے ۔ محدثین کی اصطلاح میں لفظ سنت کا مفھوم :- محدثین کے ہاں لفظ سنت کی اصطلاح سنت کے معروف معنٰی یعنی اس طرز عمل پر بولی جاتی ہے کہ جس کی دعوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور جسکو قائم کرنے کے لیے رسول دنیا میں آئے اور جو صحابہ کرام نے آپ سے سیکھ کر اختیار کیا اور پھر نسلا بعد نسلا آگے منتقل کیا اسی طریقہ کو عربی زبان اسلامی شریعت کی رو سے سنت کہا جاتا ہے اور یہ ہم تک تین واسطوں یا طریقوں سے پہنچتا ہے اور انھی تین طریقوں کو بنیاد بناتے ہوئے محدثین کرام سنت کو تین اقسام میں تقسیم فرماتے ہیں یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول فعل یا تقریر کو محدثین کے ہاں سنت (حدیث) کہا جاتا ہے محدثین کے ہاں سنت تک رسائی کے اعتبار سے فقط تین طریقے معروف ملتے ہیـں کہ جن کو بنیاد بناتے ہوئے محدثین نے سنت کی تین اقسام بیان کی ہیں ۔ نمبر ایک سنت قولی یا حدیث قولی نمبر دو سنت فعلی یا حدیث فعلی نمبر تین سنت تقریری یا حدیث تقریری اس کے علاوہ تمام اصولیین ، محدثین اور فقہاء کی کتابوں کو کھنگال لیا جائے آپ کو کہیں بھی ان تین طریقوں کے سوا سنت تک رسائی کا کوئی چوتھا طریقہ نہیں ملے گا اور اگر کہیں ملے گا بھی وہ شاذ کہلائے گا ۔ نوٹ :- جیسا کہ یہاں سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ کی ایک غیر معروف، شاذ تقسیم کو بیان کیا گیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل کے ترک کو سنت سے تعبیر کرنا دین میں کئی مفاسد کا ملتزم ہے کہ جسکو ہم آخر میں بیان کریں گے ۔ ۔ ۔ خیر ہم درج زیل میں محدثین کے ہاں جو سنت کی تین معروف اقسام بطور سنت تک رسائی کا طریقہ ہیں انکو ترتیب وار وضاحت سے بیان کریں گے ۔ ۔ سنت قولی :- سنت کی تین قسموں میں سے سب سے پہلی ہے سنت قولی، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسیے ارشادات مبارکہ کہ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک قول سے کسی امر کی وضاحت کی ہو یا کسی امر کا حکم دیا ہو اور صحابہ کرام نے اسے بعینہ سن کر ہم تک پہنچا دیا ہو جیسے مشھور حدیث " انما الاعمال بالنیات " یہ سنت قولی کی ایک مثال ہے ۔ ۔ سنت فعلی :- سنت کی ایک قسم سنت فعلی ہے اور اس سے مراد صحابہ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مبارک عمل کو روایت کرنا یا نقل کرنا ہے ۔ یعنی سنت قولی یہ ہے کہ کسی صحابی نے نبی کریم کا کوئی مبارک فرمان سن کر اسے بعینہ ہم تک پہنچا دیا اور سنت فعلی یہ ہے کہ کوئی صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مبارک عمل دیکھے اور اسے اپنی زبان یا اپنے الفاظ میں اپنے بعد والوں کے لیے بیان کردے تو وہ سنت فعلی کہلائے گا ۔ سنت تقریری :- سنت کی تیسری قسم سنت تقریری ہے کہ جس میں نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل نقل کیا جائے اور نہ ہی عمل نقل کیا جائے بلکہ کسی اور کا کوئی عمل اور فعل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا ہو اور آپ نے اس پر خاموشی فرمائی ہو یعنی آپ نے اسکی ممانعت نہ فرمائی اور نہ ہی اسے ناجائز کہا ہو اسے سنت تقریری کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو عربوں میں بہت سے طور و طریقے مختلف امور میں رواج پاچکے تھے لہذا ان طور طریقوں میں سے جس چیز کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلاف شریعت پایا اسکی ممانعت فرمادی اور جس طریقے کو خلاف نہیں پایا ہاں البتہ اسکے کسی جز میں کسی اصلاح کی گنجائش ہوئی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جز کی اصلاح فرمادی اور باقی طریقے کو جوں کا توں روا رکھا اور جن امور میں کسی اصلاح کی گنجائش نہ تھی ان امور کو ویسے ہی چلتے رہنے دیا اور صحابہ کرام ان امور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و اطلاع کے اندر اندر رہتے ہوئے کرتے رہے ان سب امور کو بھی سنت تقریری کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ فقہاء کی نظر میں سنت کی اصطلاح کا مفھوم :- فقہاء کے نزدیک لفظ سنت کا مفھوم وہی ہے جو کہ آپ نے عام بول چال میں بھی سنا ہوگا کہ دو رکعت سنت ہیں یا چار رکعت سنت ہیں اور تین رکعت واجب ہیں اور دو رکعت فرض ہیں یہاں پر فرض اور واجب کے مقابل جو لفظ سنت بولا جاتا ہے اسے فقہی اعتبار سے سنت کہا جاتا ہے اور اس کا مفھوم مندرجہ بالا تمام مفھومات سے جدا ہے اور اسکی ضرورت کسی بھی شرعی امر کی حیثیت کا تعین ہے ۔ اور آگے پھر اسکی متعدد اقسام اور جہات ہیں یعنی سنت موکدہ اور سنت غیر موکدہ وغیرہ ۔۔۔ اب آخر میں ہم تھوڑی روشنی اس امر پر ڈالیں گے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو ترک کرنا بھی شریعت کی کوئی دلیل بن سکتا ہے اور اگر بن سکتا ہے تو اس سے کیا کیا مفاسد آسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ لہزا اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے جو احکام آپ دیں انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے اور دوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔ کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۔ ۔ ۔ ۔ Oالحشرہ 7ترجمہ :-اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، ۔ ۔ پس ثابت ہوا کہ شریعت کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی امر کا حکم کرنا اور کسی امر سے منع فرمانا ہے نہ کہ آپ کا کسی امر کو ترک فرمانا کبھی بھی شریعت کی دلیل بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اوپر آیت میں صاف صاف وضاحت ہے کہ نبی جس چیز کا حکم دیں وہ کرو اور جس سے منع کریں اس سے بعض رہو یہ نہیں کہا گیا کہ نبی جو کام خود بھی نہ کرئے وہ تم بھی نہ کرو یعنی ترک فعل ۔ ۔ اور اگر اس طرح ہو تو پھر کئی قرآنی آیات اور احادیث کا آپس میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے اور اسلام کے سب سے بڑے اصول اباحت کا قلع قمع ہوجائے کہ مباح تو کہتے ہی اس امر کو ہیں کہ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود کیا ہو اور نہ کرنے کا حکم دیا ہو بلکہ جس پر سکوت فرمایا جیسا کہ " وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ " کی حدیث سے بھی ظاہر ہے اور یہ حدیث دلیل ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے ۔۔ علامہ ابن حجر اسی اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فتح الباری میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ عدم النقل لا یدل علی عدم الوقوع ثم لو سلم لایلزم منہ عدم الجواز ۔ ۔ یعنی عدم نقل عدم وقع پر دلالت نہیں کرتا اور اگر یہ مان بھی لیا جائے تو تب بھی اس سے عدم جواز کو ثابت نہیں کیا جاسکتا اسی طرح مواہب لدنیہ میں آیا ہے کہ الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لا یدل علی المنع ۔ ۔ یعنی کسی کام کا کرنا اسکے جواز کی دلیل ہے اور کسی کام کا نہ کرنا ہرگز اس کے منع کی دلیل نہیں اور اسی طرح فتح القدیر جلد اول میں ہے کہ کسی شئے سے سکوت اس کے ترک کا تقاضا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل کو ترک کرنے سے اس کا سنت نہ ہونے پر عقلی دلائل :- سب سے پہلا قرینہ تو یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترک سے کوئی عمل ترک کی سنت قرار پاتا ہے تو پھر قرآن پاک جو کہ ادلہ اربعہ کا اول ماخذ ہے اس کے ترک سے بدرجہ اولٰی کسی فعل کا ترک کرنا ضروری ہوگا دوم اوپر سنت کی جتنی بھی اقسام بیان کی گئی ان سب پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات کھل کر واضح ہوجاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو کرنا یا کسی فعل کا حکم دینا یا پھر اصحاب کرام کا کسی فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انجام دینا اور آپ کا اس پر خاموش رہنا کے علاوہ بھی سنت کی تفہیم کا کوئی اور زریعہ ہوتا تو تمام محدثین اسے بھی اصول دین میں ضرور بیان کرتے اور جس طرح نبی کریم کا قول و فعل یا تقریر سنت کہلاتی اسی طرح آپکا ترک فعل بھی سنت کہلاتا ۔ ۔ ۔ اور پھر سنت یا حدیث کی چار قسمیں بیان کی جاتیں ۔ ۔ ۔ سوم اگر ترک فعل ممانعت کی دلیل ہے تو پھر مباحات کا جو دائرہ ہے شریعت میں وہ کہاں جائے گا پھر چاہیے تھا کہ جن جن کامون کو رسول اللہ نے ترک کیا صحابہ بھی ترک کرتے مثلا قرآن کا ایک مصحف میں جمع کرنا ۔ تراویح کی باقاعدہ جمعات کا اجراء اور جمعہ کی اذان ثانی وغیرہ کہ ان سب کاموں کو نبی کریم نے ترک فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ بھی شریعت نے آسانی اور یسر کا جو راستہ مہیا کیا ہے یہ اس کے دائرہ کار کو مقید کرنے والی بات ہے کہ ایک کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ کریں تو اسے بھی نبی کریم کی سنت قرار دے کر اس سے منع کردیا جائے ۔ ۔ ۔ والسلام Last edited by آبی ٹوکول; 17-03-10 at 03:45 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-08-09), فیصل ناصر (23-08-09), کنعان (12-09-09), طاھر (23-08-09), عبداللہ حیدر (23-08-09) |
| کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-08-09 | muhammad asif virani | حق آیاباطل بھاگا | 50 |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، ماشاء اللہ آبی بھائی آپ نے حسب معمول اپنے دلائل اچھے انداز میں اکٹھے کیے ہیں۔ ان کے بارے میں اپنا موقف رمضان کے بعد ہی پیش کر سکوں گا۔ امید ہے انتظار کریں گے۔ اس اثناء میں آپ مزید کچھ لکھنا چاہیں تو مجھے خوشی ہو گی۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب
آبی ٹو کول بھائی یعنی کے عابد بھائی ![]() بھائی ویسے ہی ایک سوال کررہا ہوں اس میں ذاتیات کا دخل نہیں بھائی آپ عابد کے نام کی آئی ڈی کیوں نہیں بناتے ماشااللہ اتنا خوبصورت نام ہے آپکا
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
جزاک اللہ خیراًکثیراً کثیرا اللہ آپکواسکادونوں جہاں میں بھرپوراجرعظیم عطافرماے(آمین بجاہ النبی الامین رؤف الرحیم علیہ افضل الصلواۃوالتسلیم)
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
عابد بھائی سلام،
آپ کا یہ مضمون بھی آپ کے پچھلے مضمون کی طرح نہایت ہی عمدگی اور نفاست سے لکھا ہوا ہے، اب اس قسم کی تحاریر میں علماء کی تصانیف ہی میں نظر آتی ہیں۔ انٹر نیٹ پر اس قسم تحاریر کا وجود تقریباّ ناپید ہی ہوتا جا رہا ہے۔ میری جانب سے بہت بہت شکریہ قبول فرمائیں۔ ایک پرسنل بات بتائیے کے کیا آپ نے کسی دارالعلوم وغیرہ میں تعلیم حاصل کی ہے یا کسی مذھبی شخصیت یا جماعت سے وابستہ ہیں؟ (آپ چاھیں تو میرے سوال کو رد کرسکتے ہیں) Last edited by shafresha; 23-08-09 at 07:23 PM. وجہ: چند الفاظ کا اضافہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (23-08-09), آبی ٹوکول (23-08-09) |
|
|
#6 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
Last edited by آبی ٹوکول; 23-08-09 at 07:04 PM. |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (23-08-09), فیصل ناصر (27-08-09), کنعان (12-09-09), طاھر (23-08-09), عبداللہ حیدر (23-08-09) |
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
آپ یقین کریںمجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کے آپ نے ضروری علومِ دینیہ کی تحصیل کی ہوئی ہے۔ مجھے بھی یہ شوق اپنا نانا مرحوم کی وجہ سے ہوا۔ وہ نعتیہ شاعر تھے اور "فطرت" تخلص کرتے تھے۔ اللہ ہمارے مرحومین کی مغفرت فرمائے، آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوشی آپکے نانا جی قبلہ علیہ رحمہ کے بارے میں جانکر اللہ پاک انکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آبی بھائی مجلس شوریٰ کے بریلوی رکن کے لیے موزوں شخصیت ہو سکتے ہیں۔
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-08-09 | muhammad asif virani | بریلوی رکن کیلیءےموزوں شخصیت | 10 |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لیکن ان کی آمدورفت شدہ شدہ ہے۔ اگر مستقل مزاجی سے تشریف لائیں تو مجھے اس بات سے نہائت خوشی ہو گی۔ اس طرح بند مجلس شوری بھی کسی ڈگر پر آ جائے گی۔ اور روز روز کی سر پٹھول سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔
والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
Last edited by آبی ٹوکول; 23-08-09 at 10:57 PM. |
|
|
|
|
| آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (27-08-09) |
|
|
#12 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
بھائی عابد۔ آپ نے سنت کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات بڑے اچھے طریقے سے پیش کی ہیں، مراسلے کے ابتدائی حصے میں سنت سے متعلق اصطلاحات کا تعارف پیش کرنے پر اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ البتہ مجھے گمان ہے کہ میرے جس مضمون کو سامنے رکھ کر آپ نے یہ ساری محنت کی ہے شاید اسے غور سے نہیں پڑھا۔ "سنت ترکیہ" والے مراسلے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عقیدے اور عبادات میں جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ترک فرمائی ہے اسے ترک کرنا ہی سنت ہے۔ میں نے لکھا: اقتباس:
اقتباس:
سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ فَقَالَ الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ (سنن ترمذی کتاب اللباس باب ما جاء فی لبس الفراء صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر 1726 حدیث حسن) "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین کے (حلال یا حرام) ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا:"جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے، اور جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف ہے" اس حدیث کی مزید وضاحت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے ہوتی ہے جسے امام ابو داؤد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ وَتَلَا { قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ کچھ چیزیں کھایا کرتے تھے اور کچھ کو گندا اور ناپاک سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی، حلال کو حلال کیا اور حرام کو حرا م ٹھہرایا۔ پس جسے اللہ نے حلال کیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ معاف ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی "قل لا اجد فیما اوحی الی محرما۔ ۔ ۔۔ ۔" (سنن ابی داؤد کتاب الاطعمۃ باب ما لم یذکر تحریمہ۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 3800) صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اس حدیث میں جو اصول بیان ہوا ہے وہ کھانے پینے کی اشیاء کے بارے میں ہے جسے زیادہ سے زیادہ "معاملات" پر منطبق کیا جا سکتا ہے لیکن عبادت ہمیشہ اسی طریقے سے کی جائے گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سوا کسی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام کا حکم جاری کرے، یا کسی عبادت کو مشروع کرے یا عبادت کی مقدار، کیفیت اور اوقات میں کوئی تبدیلی کرے، یا معاملات کے عمومی قواعد کو بدلے، یا اپنے عقل و فہم سے کسی چیز کو اچھا سمجھتے ہوئے اسے عبادت ، برکت یا تقرب الی اللہ کے ذریعے کے طور پر اپنائے اور اس کی ترویج کرے۔ اللہ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں سے ایک ایک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں برت کر دکھا دیا ہے اور اس کی تعلیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دے دی تھی۔ اب جو بھی نیا کام عقیدہ و عبادت میں نکالا جائے گا یا اسے اللہ کی خوشنودی کے ذریعے کے طور پر اپنایا جائے گا یا اسے برکت کے حصول کا ذریعہ مانا جائے گا وہ مردود ہے، ناقابل قبول ہے، اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ |
||
|
|
|
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ڈبل پوسٹ ۔
Last edited by عبداللہ حیدر; 18-03-10 at 01:58 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | آبی ٹوکول (17-03-10), عبداللہ آدم (17-03-10) |
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ابن حجرؒ کا جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے اس کا موضوع زیرِ بحث سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ جیسا صاحب فہم آدمی اس قدر کمزور استدلال کیسے پیش کر سکتا ہے۔ آپ نے لکھا:
اقتباس:
والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 18-03-10 at 01:08 AM. |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی عابد عنایت ، اللہ آپ پر راضی ہو ، آپ نے جن علماء کی طرف سے کچھ تعریفات نقل کی ہیں کیا ہی بھلا ہو کہ ان کا مکمل حوالہ بھی عنایت فرما دیں تو بات مزید واضح بھی ہو جإئے ان شاء اللہ اور مزید خیر کا سبب بن سکے ان شاء اللہ ، اور اس کے علاوہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے کسی کام کو ترک کرنے کے فعل کو دلیل بنانے کو جو """باعث مفاسد""" فرمایا ہے اس کی بھی مزید وضاحت فرمایے ، معاذ اللہ مجھے تو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آپ شاید وہ کام کرنے کی اجازت مرحمت فرما رہے ہیں جو رسول اللہصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کر سکتے تھے ، اُن کےصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کر سکتے تھے ، لیکن انہوں نے وہ کام ترک کیے ؟؟؟ اور اس سلسلے میں آپ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین اورصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی شرعی حیثیت کی طرف توجہ نہیں فرماتے بلکہ جو کچھ کسی مخصوص نہجءفکر کے مطابق پڑھا سیکھا ہے اس کے مطابق سمجھانے کی کوشش فرما رہے ہیں ، ایک دفعہ پھر گذارش کرتا ہوں کہ یہ جو کچھ تعریفات اور مختلف شروحات آپ نے لکھی ہیں ان کے مکمل حوالہ جات بھی ذکر فرما دیجیے، کیونکہ آپ نے جو کچھ جمع کر کے لکھا ہے اس میں سے بہت کچھ ایسا ہے جس پر بہت لمبی گفتگو ہو سکتی ہے لیکن کسی ایسی گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے میں یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ یہ سب کونسے محدثین ، اصولین اور فقہاء کی طرف سے فرمایا گیا ہے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, فن, فرض, کتابوں, پیارے, پاک, پسند, قرآن, نظر, مکمل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, بچپن, تعلیم, جواب, حدیث, دوست, رمضان, راستہ, زندگی, غم, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب | ابن یعقوب | اقسام حدیث | 16 | 24-05-10 10:03 PM |
| حمد باری تعالی | wajee | شعر و شاعری | 0 | 28-10-09 10:28 PM |
| حمد باری تعالی | wajee | شعر و شاعری | 3 | 12-10-09 02:53 AM |
| سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 20-02-08 03:34 AM |