واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 07:12 PM  
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 20-08-09, 03:08 PM   #106
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,562
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
بار بار کی گزارش کے باوجوداس دھاگے میں بھی کچھ احباب اپنی عادت کے مطابق” کودنے” سے باز نہیں آئے اور گفتگو کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، میں ان کا جواب دینے سے دانستہ گریز کرتا رہا ہوں اور عابد بھائی کی بات چیت مکمل ہونے تک میری کوشش تھی کہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہوں۔ لیکن اب چچا عادل سہیل بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں اس لیے دخل اندازی نہیں کروں گا۔ البتہ خالص علمی دلائل سے ہٹ کر جو کچھ کہا گیا ہے اس کا سرسری جائزہ اور مختصر جواب حاضر ہیں۔
اس دھاگے کو اول سے آخر تک پڑھنے والوں پر یہ بات عیاں ہو گی کہ عابد بھائی کے مراسلے کا خلاصہ جن چھے نکات میں بیان کیا گیا تھا ان پر بات چیت شروع ہی نہیں ہوئی اس لیے یہ سراسر غلط بات ہے کہ میں نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ اصل نکات سے پہلے یہ واضح ہو جانا چاہیے تھا کہ جتنا فلسفہ یہاں بیان کیا گیا ہے اس کے تائید صحابہ کرام کے فہم سے نہیں ہوتی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ خلفائے راشدین کے سوا ایک لاکھ کے قریب صحابہ کرام نے جو بدعات حسنہ ایجاد کی تھیں ان کا حوالہ درکار ہے کیونکہ خلفائے راشدین کا عمل بدعت نہیں ہوتا۔ الحمدللہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے براہ راست دین سیکھنے والے ایک لاکھ کے قریب صحابہ کرام نے دین میں بدعات حسنہ کے نام سے کوئی اضافہ نہیں کیا تھا۔ اس بنیادی نکتے کے واضح ہو جانے کے بعد میں چھے نکات پر گفتگو کرتا لیکن چچا جی اس طرف پیش رفت کرنا چاہتے ہیں اس لیے میں پڑھنے پر اکتفا کروں گا۔ ان شاء اللہ بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔
مجھ پر دوسرا اعتراض یہ تھا کہ “سبیل المومنین” کا مطلب اجماع ہے جسے اپنے مقصد کے لیے توڑ موڑ دیا گیا ہے۔ دوسرے دلائل اور نکات کو چھوڑے دیتا ہوں مثلا یہ کہ اجماع سے کیا مراد ہے، کس کا اجماع حجت ہے، کیا صحابہ کرام کے بعد کسی مسئلے پر اجماع ہوا ہے، اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور امت کے دوسرے بڑے امام اس بارے میں کیا کہتے ہیں، صرف یہ گزارش ہے کہ امام سیوطی نے الدر المنثور میں سبیل المومنین کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ سامنے لائیے تا کہ سب کو معلوم ہو سکے کہ اپنی مرضی سے کسی تفسیر کو “خود ساختہ” قرار دینے کا رجحان کتنا خطرناک ہوتا ہے۔
حسب سابق خرم بھائی بھی اپنے سابقہ بہتانوں کے ساتھ تشریف لائے ہیں۔ مثلا:۔
1۔ علم الغیب کے بارے شروع سے یہ عقیدہ میں نے بیان کیا ہے کہ “اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو علم غیب میں سے جو چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا لیکن غیب کا کلی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے”۔ میں نے کہیں بھی اس موقف سے سرمو انحراف نہیں کیا۔اس کو ایک گھٹیا الزام کی صورت میں جگہ جگہ پراپیگیٹ کیا جاتا ہے کہ “ علم غیب والے دھاگے پر عبداللہ صاحب خود کہتے ہیں کہ حضور ص کو علم غیب نہیں ہے پھر خود ہی کہتے ہیں کہ کچھ علمِ غیب اللہ کی طرف سے عطا کیا گیا تھا "۔
2۔ بدعت پر مراسلے بھیجنے کا آغاز ویرانی صاحب نے کیا تھا تمہیں یا د ہو کہ نہ یاد ہو۔اور رپورٹ کرنے کے باوجود اس پر فیصلہ نہیں ہوا۔ اس لیے یہ بھی الزام ہے کہ “اسلام کے قوانین کے مطابق بدعت والا دھاگہ لکھاہی نہیں جا سکتا تھا لیکن آپ نے عبداللہ صاحب اور ساھج صاحب نے لکھا “۔
3۔ پاک نیٹ کی تاریخ کا گھٹیا ترین الزام چچا پر لگایا گیا اوراس کو بھی جگہ جگہ پراپیگیٹ کیا جاتا ہے کہ “نیٹ پر آنا سنت ہے”۔ سیاق و سباق سے کاٹ کر اور قائل کی منشا کے خلاف مفہوم نکال کر فتوے بازی ایک گروہ کے بڑے بڑے علماء کا کام رہا ہے اس لیے ہمیں اس پر کوئی تعجب نہیں ہے۔

مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ بہتانوں کا یہ سلسلہ گفتگو کو منتشر کرنے کے لیے دہرایا جاتا ہے اس لیے ان کا جواب دینا محض وقت کا ضیاع ہے۔ جو لوگ سیکھنے سکھانے کی بجائے “کودنے” کے لیے آتے ہیں وہ کسی دلیل سے قائل نہیں ہو سکتے۔
چچا سے گزارش ہے کہ “حقیقت بدعت” کی “حقیقت” ایک الگ تھریڈ میں بیان کریں اور وہاں عابد بھائی اور آپ کے سوا کسی کو بات کرنے کی اجازت نہ ہو۔ اور جو کوئی وہاں “کودنے” کی کوشش کرے اسکا مراسلہ حذف کر دیا جائے۔
والسلام علیکم
اپنی آنکھیں کھول کر دیکھو بات کسی کی وجہ سے بدلی ہے کس نے پہل کی ہے
ویرانی صاحب کے مراسلے کے بعد آپ کے چچا حضور کا مراسلہ ہے جس کے بعد بات کہیں کی کہیں نکل گی ہے
مجھے لگتا ہے مجھے بھی کودنا پڑے گا پھر آپ کو سمجھ آئے گی
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (20-08-09), Student (21-08-09)
پرانا 20-08-09, 03:19 PM   #107
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,562
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔
اسلام علیکم!
معزز قارئین کرام لفظ بدعت کی صحیح تفہیم اور اسکی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح کرنے کے بعد اب ہم آتے ہیں لفظ بدعت کی تفھیم میں فہم صحابہ کی جانب ۔ ۔ ۔ ۔
لفظ بدعت کی تفھیم از روئے فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم
بدعت کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کے حوالے سے ہمیں جو فہم صحابہ ملتا ہے وہ اس مسئلہ میں بہت واضح ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی بھی ابہام نہیں ۔ ۔ ملاحظہ ہو اس ضمن میں اس امت کے سب سے پہلے محدث اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان جو کہ اس باب میں صراحت کے ساتھ منقول ہے اور جو ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ترجمانی ہے جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی نے نماز تراویح کی باقاعدہ جماعت کے بدعت ہونے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا " نعمۃ البدعۃ ھذہ " ۔ ۔
بدعت کی صحیح تقسیم و تفہیم میں خلیفۃ المسلمین و امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا فرمان مبارک ۔۔ " نعمۃ البدعۃ ھذہ " ایک ایسی برہان صادقہ ہے جوکہ بدعت کی حسنہ (یعنی اچھی جیسے کی نعمۃ کے لفظ میں اشارہ ہے ) اور سیئہ میں تقسیم کو بیان فرما رہا ہے اور نہ صرف بیان فرما رہا بلکہ اس کے جائز اور منشاء رسول ہونے کی طرف بھی توجہ دلا رہا ہے کہ اصل میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ قول ایک حدیث ہی کا مفھوم مخالف ہے کے جسے امام ترمذی نے کتاب العلم باب ما جا فی الاخذ بالسنۃ الاجتناب البدع میں حضرت بلال بن حارث سے روایت فرمایا ہے ۔ ۔ ۔
من احیا سنۃ من سنتی قد امیتت بعدی فان لہ من الاجر مثل من عمل بھا من غیر ان ینقص من اجورھم شیئا ومن ابتدع بدعۃ ضلالۃ لا ترضی اللہ ورسولہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الٰی اخرہ ۔ ۔ ترمذی
ترجمہ :-جس نے میرے بعد کوئی ایسی سنت زندہ کی جو کہ مردہ ہوچکی تھی تو ا سکے لیے بھی اتنا ہی عمل ہوگا کہ جتنا دیگر عمل کرنے والوں کے لیے اس کے باوجود انکے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے گمراہی کی بدعت نکالی جسے اللہ اور اسکا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں فرماتے تو اس پر اس برائی (یعنی بدعت ضلالت ) کا اتنا ہی گناہ ہے جتنا ان دیگر مرتکبین پر بغیر ان کے گناہوں میں کچھ کمی کے ۔ ۔ ۔
اس حدیث پاک میں لفظ سنت کو بدعت کے مقابلے میں تخصیص کے ساتھ لایا گیا ہے اور مقابلتا لفظ بدعت کو سیہ کی قید سے بیان فرمایا گیا ہے جیسا کہ لفظ ۔ ۔ ۔ ومن ابتدع بدعۃ ضلالۃ لہزا یہاں سنت سے مراد اصطلاحی سنت اور بدعت سے مراد شرعی بدعت ہے اور ایسی بدعت شرعیہ کے جسکی وجہ سے کسی نہ کسی سنت کے ترک کا خدشہ لازم آئے جیسا کہ مسند احمد کی درج زیل روایت کہ ۔ ۔ جب کوئی دین میں بدعت کا آغاز کرتی ہے تو اس سے اس کی مثل سنت اٹھالی جاتی ہے لہزا سنت کو مضبوطی سے پکڑنا احداث بدعت (یعنی بدعت شرعیہ کے احداث ) سے بہتر ہے ۔ ۔ ۔
لہزا ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدعت کو بدعت ضلالۃ کی قید کے ساتھ بیان کرنا بدعت کی تقسیم پر دلالت کرتا ہے اور بالکل اسی مفھوم کو حضرت عمر فاروق نے اپنے قول سے نعمۃ البدعۃ ھذہ کہہ کر واضح فرمایا یعنی بدعت جب قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بری ہوسکتی ہے تو حدیث کا مفھوم مخالف یہ ہے کہ بدعت اچھی بھی ہوسکتی ہے ۔ ۔ ۔لہزا تفھیم بدعت میں فہم صحابہ کے باب میں ہماری سب سے بڑی دلیل
قول و عمل فاروقی ہے ۔ ۔ ۔
رہ گیا ہے ۔ ۔ فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ ۔ ۔ ۔ کے فرمان عالی شان سے (فہم فاروقی رضی اللہ عنہ کو نظر انداز کرتے ہوئے ) بعض لوگوں کا سنت خلفائے راشدین کی سنت کو سنت رسول صلی اللہ علیہ یا اس فرمان کا تابع سمجھتے ہوئے نعمۃ البدعۃ ھذہ کو بدعت نہ سمجھنا یہ بذات خود فہم فاروقی پر جراءت ہے کہ ان سے زیادہ فہم نبوت کا منشاء کون سمجھ سکتا ہے ؟؟ مگر حیرت ہے کہ جناب فاروق اعظم زبان رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اقوال وافعال کے لیے سنت جیسے لفظ کا مژدہ جانفزا سن کر بھی اپنے کیئے ہوئے عمل ہا قول کو سنت نہیں کہتے بلکہ بدعت سے ہی تعبیر فرماتے ہیں ۔ ۔ ۔ قربان جائیں اے فہم فاروقی آپکے ادب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم پر کے زبان نبوت سے اپنے اقوال و افعال کے لیے لفظ سنت کی دل افروز نوید سننے کے بعد بھی آپ اپنے لیے سنت کے لفظ کا اطلاق نہیں فرماتے بلکہ اسے بدعت سے ہی تعبیر فرماتے ہیں چونکہ آپ جانتے ہیں اور آپ نے زبان رسالت ماب سے سن رکھا ہے کہ ہر بدعت بری نہیں ہوتی ۔ ۔۔ سبحان اللہ
اب ہمارے ساتھ یہاں پر بدعت کے مسئلہ کو فہم صحابہ پر منتج جاننے والوں میں سے اگر کسی کو بھی " فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ " کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم (جو کہ خود حضرات خلفائے راشدین کی بابت ارشاد ہوا ) کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فہم سے زیادہ تفہیم ہے تو وہ آئے میدان میں اور ہمیں جواب دے کہ اس فرمان عالی شان کے ہوتے ہوئے اور اسکو جانتے ہوئے بھی فاروق اعظم نے اپنے قول و فعل کے لیے نعمہ البدعۃ کی تعبیر کیوں اختیار فرمائی ؟؟؟؟؟ کوئی بھی آئے اور ہمیں اس کا جواب دے ؟؟؟؟؟ اگر وہ فہم فاروقی سے مطمئن نہیں تو پھر سب سے پہلے اپنے قول کی تکذیب کرئے کہ جو اس نے ہمارے ساتھ اس مسئلہ کی تفہیم کو فہم صحابہ پر منتج کیا اور پھر ہمارے سوال کا جواب دے کہ جب فاروق اعظم کو مندرجہ بالا ارشاد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جاننے کے بعد بھی اپنے افعال و اقول کے لیے لفظ سنت قبول نہیں اور وہ اس پر اپنے لیے لفظ بدعت کو کیوں اختیار فرماتے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟ تو جاری ہے ۔ ۔ ۔۔
یہاں تک عابد صاحب نے بات کی ہے اب اس سے آگے جو فصول بات کرے گا میں اس کو ختم کر دوں گا سب سےدرخواست ہے اب کوئی مراسلہ نا لکھئے عبداللہ اور عابد صاحب کے علاوہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
Student (21-08-09), نورالدین (18-03-10), آبی ٹوکول (20-08-09)
پرانا 21-08-09, 01:35 AM   #108
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسلام علیکم سب سے پہلے تو معذرت کے اتنے دن یہاں پر حاضری نہ دے سکا وجہ اوربھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا خیر سلسلہ کلام کو مربوط کرتے ہوئے ایک پھر سے وہیں سے جوڑتے ہیں کہ جہاں سے ٹوٹا تھا ۔ ۔ ۔
لفظ بدعت کی تفھیم و تقسیم از روئے فہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم
اس سلسلے میں ہم گذشتہ اقساط میں اس امت کے محدث اعظم جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فہم مبارک پیش کرچکے ہیں کہ آپ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت کو " نعمۃ البدعۃ ھذہ " ۔ ۔ کہہ کر لفظ بدعت کی وضاحت اور اسکے حسنہ اور سیئہ ہونے کو بیان کردیا تھا اب رہا یہ سوال کے فاروق اعظم نے اپنے دور میں جاری کردہ اس عمل کو بدعت کیوں کہا تو اس کے لیے عرض ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ اپنی امت کے حق میں رؤف رحیم ہیں اور حریص علیکم ہیں انھوں نے اس اتنے اچھے عمل پر دوام اس ڈر سے نہیں فرمایا کہ کہیں یہ عمل میری امت پر فرض نہ ہوجائے لہزا نبی کریم رؤف رحیم کے مطمح نظر اس باب میں امت کی تحفیف تھی لہزا آپ کے ظاہری وصال مبارک بعد جب یہ مانع یعنی اس عمل کے فرض ہوجانے کا ڈر جاتا رہا تو حضرت عمرکے مبارک دور میں اس عمل کو دوام بخشا گیا اور اس دوام کی صورت میں اس عمل کی جو نئی ہئیت وضع ہوئی اسی نئی ہئیت کی وجہ سے آپ نے اسے بدعت فرمایا اور لفظ بدعت دیکھ کر کوئی بدک نہ جائے اسی وجہ سے نعمہ البدعۃ کا سابقہ اپنے قول مبارک میں لگایا ۔ ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر لفظ بدعت میں اتنی خرابی ہوتی اور اس کا معنٰی فقط بدعت ضلالت ہی ہر جگہ مراد ہوتا تو حضرت عمر جو کہ اہل زبان تھے تراویح جیسی عبادت کے لیے ہرگز اس لفظ کا اس مقام میں اجراء نہ فرماتے بلکہ اس کا کوئی متبادل لفظ بولتے مگر انھوں نے اہل زبان ہونے کے باوجود ایسا نہ کیا لہذا اس کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ آپ یہ واضح فرمانا چاہتے ہیں کہ اگرچہ ہر نیا کام اپنے "نئے پن " کی وجہ سے تو بدعت ہی ہوتا ہے مگر فقط اس کے اس "نئے پن " کی وجہ سے اسے ہرگز بدعت ضلالت نہیں سمجھنا چاہیے لہذا احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واقفیت کی بناء پر آپ نے باوجود اس کہ کے آپ کے حق میں " فَعلیکُم بسُنَّتي وَسُنَّۃِ الخُلفاءِ الرَّاشِدِینَ المَہدِیِنَ " کی جانفزاء دلیل بھی میسر آچکی تھی آپ نے اپنے اس عمل کو بجائے سنت کہنے کے اسے بدعت حسنہ قرار دیا کیونکہ آپ کی جاری کردہ بدعت حسنہ ہونے کےا عتبار سے بھی وہ عمل ایک طرح سے سنت ہی تھا لیکن دوسری طرف نبی کی سنت کے ساتھ سیدنا عمر فاروق کی سنت کو ملانے سے جو حد ادب واقع ہوتا تھا اس کا بھی قلع قمع فرمانا مقصود تھا تو آپ یعنی حضرت عمر نے اپنے اس عمل کو براہ راست سنت نہیں بلکہ بدعت حسنہ فرمایا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو یہ آپکی رضا اور آپکا مشفقانہ پن ہے کہ آپ اپنے ایک امتی کے فعل کواپنی سنت قرار دے دیں مگر اس امتی کی یہ ہرگز مجال نہیں کہ وہ اپنے فعل کو بعینہ نبی کی سنت اس باب میں قرار دے کہ اسے بھی شارع کا درجہ حاصل ہوگیا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ امتی کے باب میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر فقط عمل کرنا لکھا گیا ہے نہ کہ کسی سنت کو اجراء کرکے اسے اپنی سنت قرار دیتے ہوئے نبی کی سنت بھی باور کروانا ۔ ۔ ۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن کثیر دونوں نے نعمۃ البدعۃ ھذہ کے فرمان فاروقی رضی اللہ عنہ کو بنیاد بناکر بدعت کی تقسیم کو بدعت لغوی اور بدعت شرعیہ میں روا رکھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حالانکہ فاروق اعظم نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ "ھذہ بدعۃ لغویہ یا پھر لغویۃالبدعۃ ھذہ" بلکہ انھوں نے بدعت کے ساتھ " نعم " کا لفظ استعمال کیا جیسا کہ سورہ ص میں اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں " نعم العبد انہ اواب " کے کلمات فرمائے اور یہاں پر بھی نعم العبد سے حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنے مولا کار خوب بندہ ہونا اور حقیقی بندہ ہونا مراد ہے نہ کے فقط لغوی اعتبار سے بندہ ہونا ۔ ۔۔ لہذا اس آیت اور فرمان فاروقی دونوں میں " نعم " کا لفظ اپنے حقیقی معنوں یعنی اچھا ، خوب یا پسندیدہ یعنی حسنہ کے معنوں میں ہے نہ کے فقط لغوی ۔ ۔ کیونکہ کسی بھی لغت میں نعم کا معنٰی بطور لغوی کے نہیں ہے تو لہذا ثابت یہ ہوا کہ فاروق اعظم کا تراویح کے اس مسنون عمل کو نئی ہئیت کذائی کی وجہ سے نعمۃ البدعۃ ھذہ کہنا تراویح کے اس عمل کے حسنہ ہونے کے اعتبار سے ہے نہ کہ محض لغت کے اعتبار سے لیکن کیونکہ وہ عمل اپنی نئی ہیئت کی وجہ سے نیا ہے اس لیے ایک مستحسن عمل کو محض نئے پن کی وجہ سے وہاں پر مجازی طور پر بدعت لغویہ کے معنوں میں بھی لیا جاسکتا ہے جبکہ حقیقی طور پر وہ نیا عمل مستحسن ہونے کی وجہ سے بدعت حسنہ ہی رہے گا ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہم اپنے قارئین کرام کی توجہ اسی باب کی تفہیم میں یعنی بدعت کی تقسیم کے حسنہ اور سیئہ ہونے کے باب میں اسی خلیفہ راشد رضی اللہ عنہ کے فقیہ بیٹے یعنی حضرت عبداللہ ابن عمر کے فہم ذی وقار کی طرف دلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ کہ جب حضرت عبداللہ ابن عمر سے کسی نے چاشت کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بلا تردد فرمایا کہ بدعت ہے اور ساتھ ہی پوچھنے والے یہ سوال کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے ادا کیئے تو آپ نے فی الفور جواب دیا کہ چار ۔ ۔صحیح البخاری کتاب العمرۃ ۔ ۔ ۔
اسی روایت کو امام ابن شیبہ نے حضرت اعرج سے درج زیل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ۔ ۔
سالت محمدا عن صلوۃ الضحٰی وھو مسند ظھرہ الٰی حجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال بدعۃ ونعمت البدعۃ ۔ ۔ ۔
ان دونوں احادیث میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کے اسلوب بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک لفظ بدعت کا اطلاق ہمیشہ ان قبیح معنوں میں نہیں ہوتا کہ جتنا آجکل کے بعض لوگوں نے ا س لفظ کو بنا دیا ہے اسی لیے تو جب آپ سے اس طرح مسجد میں نماز چاشت پڑھنے کی بابت دریافت فرمایا گیا تو آپ نے بغیر کسی ادنٰی سے بھی تامل کے فی الفوراور بے ساختہ فرمایا کہ "بدعۃ " یعنی کوئی بات نہیں یہ بدعت یعنی نیا طریقہ ہے ۔ ۔
مذکورہ روایت پر غور فرمائیں کے اگر " کل بدعۃ ضلالۃ " کے مصداق ہر بدعت قبیح ہوتی یعنی علی الاطلاق ضلالت ہوتی تو حضرت ابن عمر اس طریق پر نماز چاشت کو بند کروا کر فورا ان لوگوں کو مسجد میں سے نکال باہر فرماتے کہ جو اس بدعت کے مرتکبین تھے کیونکہ ابن عمر جیسے عظیم صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے سامنے ایک خلاف سنت اور بدعت فعل کو ہوتا ہوا دیکھیں اور اس پر خاموشی اختیار فرمائیں اور دوسری بات جو کہ امام بخاری والی روایت سے واضح ہوتی ہے کہ حضرت مجاہد اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے بھی جب لفظ بدعت سنا تو بغیر کسی تؤقف کے دوسرا سوال داغ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے ادا فرمائے ۔ ۔ اس سے ثابت ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے انفرادی اور اجتماعی فہم میں لفظ بدعت کا فقط قبیح معنوں میں مستعمل نہ ہونا روز روشن کی طرح عیاں تھا اسی لیے تو مذکورہ دونوں صاحبان نے نہ تو حضرت ابن عمر پر کوئی اعتراض فرمایا اور نہ ہی انکے منہ سے لفظ بدعت سن کر کسی حیرت و استعجاب کا قصد کیا بلکہ فی الفور اپنا دوسرا سوال داغ دیا ۔ ۔ ۔
اب آخر میں ہم اپنی بحث کو سمیٹے ہوئے انتہائی مختصر الفاظ میں یہ واضح کریں گے کہ تمام صحابہ کرام جو اس امت کی کشتی کے اولین سوار و سرتاج کی سی حیثیت رکھتے ہیں اور انھوں نے اپنی جان مال آل اولاد عزیز و اقارب حتٰی کے اپنے پاکیزہ نفوس کو بھی خدمت اسلام میں فنا کردیا۔ ۔ لہزا ان کی حیثیت تمام علوم و فنون میں اس امت کے اولین اساتذہ کی سی تو ہے مگر ان تمام علوم و فنون کو مدون کرنے والے وہ خود نہ تھے اور وجہ اسکی یہ ہوئی کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری وصال مبارک کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کہ ارشادات عالیہ کے عین مطابق تمام صحابہ کو اس دین میں پیدا ہونے والے نت نئے بدعتی فتنوں سے برسر پیکار ہونا پڑا اور ان بدعتی فتنوں میں سب سے بڑا تو خارجی فتنہ تھا کہ جسے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ اس دنیا کی بدترین مخلوق میں سے جانتے تھے کہ کیونکہ وہ لوگ ان قرآنی آیات کو پڑھ پڑھ کر صحابہ کرام پر چسپاں کرتے تھے کہ جو قرآنی آیات مشرکین مکہ کے شرکیہ عقائد کی بیخ کنی اور انکے بتوں یعنی جھوٹے خداؤں کی مذمت میں اتری تھیں ۔ ۔ ۔اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک بعد سب سے پہلے فتنہ ارتداد ایک بدعت کی صورت میں ابھرا پھر فتنہ مانعین زکوٰۃ ایک نئی بدعت کی صورت میں نمودار ہوا اور پھر مسیلمہ کذاب کی صورت میں جھوٹے نبی کے دعویدار کے بطور کئی ایک اور فتنوں نے بھی جنم لیا اور خارجیوں کی بدعات نے تو اس امت کا وہ حال کیا کہ اس کے نقوش آج تک امت میں بڑے واضح ملتے ہیں ان تمام خارجی فتنوں کی اصل جڑ منافقین تھے کہ جنکی شر انگیزیوں کی وجہ سے بعض اوقات حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ اور حضرت عاشئہ صدیقہ رضی اللہ عنھم جیسے جید صحابہ کرام کو ایک دوسرے کے مد مقابل آنا پڑا ۔ ۔ ۔ لہذا صحابہ کرام کی تو تمام زندگی ہی ان بدعتی فتنوں کی سرکوبی کرتے کرتے اور اسلام کی شوکت کو بحال کرتے کرتے عسکری کاروائیوں میں گزر گئی انکے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہ تمام مروجہ علوم و فنون کی تدوین کے لیے کوئی کارہائے نمایاں انجام دے سکتے باوجود اسکے ان تمام علوم و فنون کا منبع مرجع وہی تھے کہ پھر انہی کے شاگردوں اور پھر انکے شاگردوں کے شاگردوں نے ان تمام علوم فنون کو بطور علوم فنون مدون کیا اور پھر انکی تریج و اشاعت کے نت نئے طریقوں کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔جن میں اگر صحابہ کرام کے مبارک دور کو شامل کیا جائے تو نماز تروایح کی جماعت کا ہر روز باقاعدگی سے ہونا ایک بدعت تھا پھر نماز چاشت کی یوں اجتماعی ادائگی بھی بدعت تھی پھر قرآن پاک کا ایک مصحف کی صورت میں جمع کیا جانا بھی ایک بدعت ہی تھا پھر دور عثمانی میں جمعہ کی دوسری اذان کا باقاعدہ اجراء پھر انکے بعد مصحف پر اعراب اور نقاط کا لگایا جانا اور پھر جوں جوں دور آگے بڑھتا گیا نت نئی دینی ضروریات کی پیش نظر قرآن پاک کو پاروں رکوعات اورمنازل میں تقسیم کرنا مساجد کی پختہ تعمیر و آرائش اور پھر قرآنی علوم و فنون کا اجراء یعنی ترجمہ و تفسیر اسی طرح تمام احادیث کو کتب میں جمع کرنا اور پھر انکی چھان پٹھک کے لیے نت نئے علوم و فنون کا اجراء اور انکی تدوین و ترویج یہ سب اور اس طرح کی بے شمار بدعات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور کے بعد وجود میں آئیں ۔ ۔ ۔ ۔والسلام
۔ ۔ ۔ ۔ ۔جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 21-08-09 at 07:47 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 21-08-09, 01:59 AM   #109
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم فہم ائمہ و محدثین
اِمام علی بن اَحمد ابن حزم الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ (456 ھ)
اِمام ابن حزم اندلسی اپنی کتاب ’’الاحکام فی اُصول الاحکام‘‘ میں بدعت کی تعریف اور تقسیم بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

والبدعة کل ما قيل أو فعل مما ليس له أصل فيما نسب إليه صلي الله عليه وآله وسلم و هو في الدين کل مالم يأت في القرآن ولا عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلا أن منها ما يؤجر عليه صاحبه و يعذر بما قصد إليه من الخير و منها ما يؤجر عليه صاحبه و يکون حسنا و هو ماکان أصله الإباحة کما روي عن عمر رضي الله عنه نعمت البدعة هذه(1) و هو ما کان فعل خير جاء النص بعموم استحبابه و إن لم يقرر عمله في النص و منها ما يکون مذموما ولا يعذر صاحبه و هو ما قامت به الحجة علي فساده فتمادي عليه القائل به.

’’بدعت ہر اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس کی دین میں کوئی اصل یا دلیل نہ ہو اور اس کی نسبت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کی جائے لہٰذا دین میں ہر وہ بات بدعت ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہ ہو مگر جس نئے کام کی بنیاد خیر پر ہو تو اس کے کرنے والے کو اس کے اِرادئہ خیر کی وجہ سے اَجر دیا جاتا ہے اور یہ بدعتِ حسنہ ہوتی ہے اور یہ ایسی بدعت ہے جس کی اصل اباحت ہے۔ جس طرح کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نعمت البدعۃ ہذہ قول ہے۔ اور یہ وہی اچھا عمل تھا جس کے مستحب ہونے پر نص وارد ہوئی اگرچہ پہلے اس فعل پر صراحتاً نص نہیں تھی اور ان (بدعات) میں سے بعض افعال مذموم ہوتے ہیں لہٰذا اس کے عامل کو معذور نہیں سمجھا جاتا اور یہ ایسا فعل ہوتا ہے جس کے ناجائز ہونے پر دلیل قائم ہوتی ہے اور اس کا قائل اس پر سختی سے عامل ہوتا ہے۔‘‘

1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
2. بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250
4. ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم، 1 / 266



ابن حزم الاندلسي، الاحکام في اُصول الاحکام، 1 : 47

آپ نے دیکھا قارئین درج بالا عبارت میں بولڈ کیئے گئے الفاظ کس طرح ہمارا مدعا ثابت کررہے ہیں۔



13) اِمام ابو اسحاق ابراہیم بن موسيٰ الشاطبی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 790ھ)


علامہ ابو اسحاق شاطبی اپنی معروف کتاب ’’الاعتصام‘‘ میں بدعت کی اقسام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
هذا الباب يُضْطَرُّ إِلي الکلام فيه عند النظر فيما هو بدعة وما ليس ببدعة فإن کثيرًا من الناس عدوا اکثر المصالح المرسلة بدعاً و نسبوها إلي الصحابة و التابعين و جعلوها حجة فيما ذهبوا إليه من اختراع العبادات وقوم جعلوا البدع تنقسم بأقسام أحکام الشرعية، فقالوا : إن منها ما هو واجب و مندوب، وعدوا من الواجب کتب المصحف وغيره، ومن المندوب الإجتماع في قيام رمضان علي قارئ واحد. و أيضا فإن المصالح المرسلة يرجع معناها إلي إعتبار المناسب الذي لا يشهد له أصل معين فليس له علي هذا شاهد شرعيّ علي الخصوص، ولا کونه قياساً بحيث إذا عرض علي العقول تلقته بالقبول. وهذا بعينه موجود في البدع المستحسنة، فإنها راجعة إلي أمور في الدين مصلحية. في زعم واضعيها. في الشرع علي الخصوص. وإذا ثبت هذا فإن کان إعتبار المصالح المرسلة حقا فإعتبار البدع المستحسنه حق لأنهما يجريان من واد واحد. وإن لم يکن إعتبار البدع حقا، لم يصح إعتبار المصالح المرسلة.

’’اس باب ميں یہ بحث کرنا ضروری ہے کہ کیا چیز بدعت ہے اور کیا چیز بدعت نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے بہت سی مصالح مرسلہ کو بدعت قرار دیا ہے اور ان بدعات کو صحابہ کرام اور تابعین عظام کی طرف منسوب کیا ہے اور ان سے اپنی من گھڑت عبادات پر استدلال کیا ہے۔ اور ایک قوم نے بدعات کی احکام شرعیہ کے مطابق تقسیم کی ہے اور انہوں نے کہا کہ بعض بدعات واجب ہیں اور بعض مستحب ہیں، انہوں نے بدعات واجبہ میں قرآن کریم کی کتابت کو شمار کیا ہے اور بدعات مستحبہ میں ایک امام کے ساتھ تراویح کے اجتماع کو شامل کیا ہے۔ مصالح مرسلہ کا رجوع اس اعتبار مناسب کی طرف ہوتا ہے جس پر کوئی اصل معین شاہد نہیں ہوتی اس لحاظ سے اس پر کوئی دلیل شرعی بالخصوص نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی ایسے قیاس سے ثابت ہے کہ جب اسے عقل پر پیش کیا جائے تو وہ اسے قبول کرے اور یہ چیز بعینہ بدعات حسنہ میں بھی پائی جاتی ہے کیونکہ بدعات حسنہ کے ایجاد کرنے والوں کے نزدیک ان کی بنیاد دین اور بالخصوص شریعت کی کسی مصلحت پر ہوتی ہے اور جب یہ بات ثابت ہو گئی تو مصالح مرسلہ اور بدعات حسنہ دونوں کا مآل ایک ہے اور دونوں برحق ہیں اور اگر بدعات حسنہ کا اعتبار صحیح نہ ہو تو مصالح مرسلہ کا اعتبار بھی صحیح نہیں ہو گا۔‘‘

شاطبی، الإعتصام، 2 : 111


علامہ شاطبی ’’بدعت حسنہ‘‘ کے جواز پر دلائل دیتے ہوئے مزید فرماتے ہیں :

: فواﷲ لو کلفوني نقل جبل من الجبال ما کان أثقل عليّ من ذلک. فقلت : کيف تفعلون شيئًا لم يفعله رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ فقال أبوبکر : هو واﷲ خير، فلم يزل يراجعني في ذلک أبوبک. أن أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم اتفقوا علي جمع المصحف وليس تَمَّ نص علي جمعه وکتبه أيضا. . بل قد قال بعضهم : کيف نفعل شيئاً لم يفعله رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم؟ فروي عن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال : أرسل إِليّ أبوبکر رضي الله عنه مقتلَ (أهل) اليمامة، و إِذا عنده عمر رضي الله عنه، قال أبوبکر : (إن عمر أتاني فقال) : إِن القتل قد استحرّ بقراءِ القرآن يوم اليمامة، و إِني أخشي أن يستحرّ القتل بالقراءِ في المواطن کلها فيذهب قرآن کثير، و إِني أري أن تأمر بجمع القرآن. (قال) : فقلت له : کيف أفعل شيئًا لم يفعله رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ فقال لي : هو واﷲ خير. فلم يزل عمر يراجعني في ذلک حتي شرح اﷲ صدري له، ورأيت فيه الذي رأي عمر. قال زيد : فقال أبوبکر : إنک رجل شاب عاقل لا نتهمک، قد کنت تکتب الوحي لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، فتتبع القرآن فاجمعه. قال زيد ر حتي شرح اﷲ صدي للذي شرح له صدورهما فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع والعسب واللخاف، ومن صدور الرجال، فهذا عمل لم ينقل فيه خلاف عن أحد من الصحابة. (1). . . . حتي اذا نسخوا الصحف في المصاحف، بعث عثمان في کل افق بمصحف من تلک المصاحف التي نسخوها، ثم امر بما سوي ذٰلک من القراء ة في کل صحيفة أو مصحف أن يحرق. . . . ولم يرد نص عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم بما صنعوا من ذلک، ولکنهم رأوه مصلحة تناسب تصرفات الشرع قطعا فإن ذلک راجع إلي حفظ الشريعة، والأمر بحفظها معلوم، وإلي منع الذريعة للاختلاف في أصلها الذي هوالقرآن، وقد علم النهي عن الإختلاف في ذلک بما لا مزيد عليه. واذا استقام هذا الأصل فاحمل عليه کتب العلم من السنن و غيرها إذا خيف عليها الإندراس، زيادة علي ما جاء في الأحاديث من الأمر بکتب العلم. (2) ’’

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ قرآن کریم کو ایک مصحف میں جمع کرنے پر متفق ہو گئے حالانکہ قرآن کریم کو جمع کرنے اور لکھنے کے بارے میں ان کے پاس کوئی صریح حکم نہیں تھا۔ ۔ ۔ لیکن بعض نے کہا کہ ہم اس کام کو کس طرح کریں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا جبکہ یمامہ والوں سے لڑائی ہو رہی تھی اور اس و قت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے کتنے ہی قاری شہید ہوگئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ قراء کے مختلف جگہوں پر شہید ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کا اکثر حصہ جاتا رہے گا۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کے جمع کرنے کا حکم دیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں وہ کام کس طرح کرسکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا تو انہوں نے مجھے کہا خدا کی قسم یہ اچھا ہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بارے میں مجھ سے بحث کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعاليٰ نے اس معاملے میں میرا سینہ کھول دیا۔ میں نے بھی وہ کچھ دیکھ لیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا حضرت زید کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے مجھے فرمایا آپ نوجوان آدمی اور صاحب عقل و دانش ہو اور آپ کی قرآن فہمی پر کسی کو اعتراض بھی نہیں اور آپ آقا علیہ السلام کو وحی بھی لکھ کر دیا کرتے تھے۔ آپ قرآن مجید کو تلاش کرکے جمع کردیں تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم اگر آپ مجھے پہاڑوں میں کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم دیں تو وہ میرے لیے اس کام سے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ اس کام کو کیوں کر رہے ہو جسے آقا علیہ السلام نے نہیں کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا خدا کی قسم اس میں بہتری ہے۔ تو میں برابر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بحث کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعاليٰ نے میرا سینہ کھول دیا جس طرح اللہ تعاليٰ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ پھر میں نے قرآن مجید کو کھجور کے پتوں، کپڑے کے ٹکڑوں، پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے تلاش کرکے جمع کردیا۔ یہ وہ عمل ہے جس پر صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی کا اختلاف نقل نہیں کیا گیا۔ ۔ ۔ حتی کہ جب انہوں نے (لغت قریش پر) صحائف لکھ لیے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام شہروں میں ان مصاحف کو بھیجا اور یہ حکم دیا کہ اس لغت کے سوا باقی تمام لغات پر لکھے ہوئے مصاحف کو جلا دیا جائے۔ ۔ ۔ حالانکہ اس معاملہ میں ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی حکم نہیں تھا لیکن انہوں نے اس اقدام میں ایسی مصلحت دیکھی جو تصرفات شرعیہ کے بالکل مناسب تھی کیونکہ قرآن کریم کو مصحف واحد میں جمع کرنا شریعت کے تحفظ کی خاطر تھا اور یہ بات مسلّم اور طے شدہ ہے کہ ہمیں شریعت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اور ایک لغت پر قرآن کریم کو جمع کرنا اس لیے تھا کہ مسلمان ایک دوسرے کی قرات کی تکذیب نہ کریں اور ان میں اختلاف نہ پیدا ہو اور یہ بات بھی مسلّم ہے کہ ہمیں اختلاف سے منع کیا گیا ہے اور جب یہ قاعدہ معلوم ہو گیا تو جان لو کہ احادیث اور کتب فقہ کو مدون کرنا بھی اسی وجہ سے ہے کہ شریعت محفوظ رہے، علاوہ ازیں احادیث میں علم کی باتوں کو لکھنے کا بھی حکم ثابت ہے۔‘‘
1. بخاري، الصحيح، 4 : 1720، کتاب التفسير، باب قوله لقد جاء کم رسول، رقم : 4402
2. بخاري، الصحيح، 6 : 2629، کتاب الاًحکام، باب يستحب للکاتب أن يکون اميناً عاقلاً، رقم : 6768
3. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 283، کتاب التفسير، باب من سورة التوبة رقم : 3103
4. نسائي، السنن الکبريٰ، 5 : 7، رقم : 2202
5. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 13، رقم : 76
6. ابن حبان، الصحيح، 10 : 360، رقم : 4506


شاطبي، الاعتصام، 2 : 115

آپ نے دیکھا قارئین کرام کے علامہ شاطبی کی مکمل عبارت کس طرح ہماری ایک ایک بات کی مضبوط دلیل ہے ۔اور یہی کچھ ہم نے بھی اپنی بات کے آغاز میں فرمایا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 21-08-09, 02:12 AM   #110
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گذشتہ سے پیوستہ ۔ ۔
بدعت کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم پر فہم ائمہ و محدثین

اِمام مبارک بن محمد ابن اثیر الجزری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 606ھ)

علامہ ابن اثیر جزری حدیثِ عمر ’’نعمت البدعۃ ھذہ‘‘
بخاری، رقم : 1906 کے تحت بدعت کی اقسام اور ان کا شرعی مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
:

. البدعة بدعتان : بدعة هدًي، و بدعة ضلال، فما کان في خلاف ما أمر اﷲ به و رسوله صلي الله عليه وآله وسلم فهو في حيز الذّم والإنکار، وما کان واقعا تحت عموم ما ندب اﷲ إليه و حضَّ عليه اﷲ أو رسوله فهو في حيز المدح، وما لم يکن له مثال موجود کنوع من الجود والسخاء و فعل المعروف فهو من الأفعال المحمودة، ولا يجوز أن يکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع به؛ لأن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قد جعل له في ذلک ثوابا فقال من سنّ سُنة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها وقال في ضِدّه ومن سنّ سنة سيّئة کان عليه وزرُها ووِزرُ من عمل بها(1) وذلک إذا کان في خلاف ما أمر اﷲ به ورسوله صلي الله عليه وآله وسلم ومن هذا النوع قول عمر رضی الله عنه : نِعمت البدعة هذه(2). لمَّا کانت من أفعال الخير وداخلة في حيز المدح سماها بدعة ومدحها؛ لأن النبي صلي الله عليه وآله وسلم لم يسُنَّها لهم، و إنما صلّاها ليالي ثم ترکها ولم يحافظ عليها، ولا جمع الناس لها، ولا کانت في زمن أبي بکر، وإنما عمر رضی الله عنه جمع الناس عليها و ندبهم إليها، فبهذا سمّاها بدعة، وهي علي الحقيقة سُنَّة، لقوله صلي الله عليه وآله وسلم (عليکم بِسُنَّتي و سنَّة الخلفاء الراشدين من بعدي(3) وقوله (اقتدوا باللذين من بعدي أبي بکر و عمر)(4) و علي هذا التأويل يحمل الحديث الآخر (کل مُحْدَثة بدعة) إنما يريد ما خالف أصول الشريعة ولم يوافق السُّنَّة(5). ’
بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. جو کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو وہ مذموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعاليٰ نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعاليٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم پر برانگیختہ کیا ہو اس کام کا کرنا محمود ہے اور جن کاموں کی مثال پہلے موجود نہ ہو جیسے سخاوت کی اقسام اور دوسرے نیک کام، وہ اچھے کام ہیں بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے اچھے کام کی ابتداء کی اس کو اپنا اجر بھی ملے گا اور جو لوگ اس کام کو کریں گے ان کے عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے برعکس جو برے کام کی ابتداء کرے گا اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے برے کام کی ابتداء کی اس پر اپنی برائی کا وبال بھی ہو گا اور جو اس برائی کو کریں گے ان کا وبال بھی اس پر ہو گا اور یہ اس صورت میں ہے جب وہ کام اللہ تعاليٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو اور اِسی قسم یعنی بدعتِ حسنہ کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ’’نعمت البدعۃ ھذہ‘‘ ہے پس جب کوئی کام افعالِ خیر میں سے ہو اور مقام مدح میں داخل ہو تو اسے لغوی اعتبار سے بدعت کہا جائے گا مگر اس کی تحسین کی جائے گی کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باجماعت نماز تراویح کو ان کے لئے مسنون قرار نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند راتیں اس کو پڑھا پھر باجماعت پڑھنا ترک کر دیا اور اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ محافظت فرمائی اور نہ ہی لوگوں کو اس کے لئے جمع کیا، بعد میں نہ ہی یہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں باجماعت پڑھی گئی پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس پر جمع کیا اور ان کو اس کی طرف متوجہ کیا پس اس وجہ سے اس کو بدعت کہا گیا درآں حالیکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول ’’علیکم بسنّتی و سنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی‘‘ اور اس قول’’اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر‘‘ کی وجہ سے حقیقت میں سنت ہے پس اس تاویل کی وجہ سے حدیث ’’کل محدثۃ بدعۃ‘‘ کو اصول شریعت کی مخالفت اور سنت کی عدم موافقت پر محمول کیا جائے گا۔

1. مسلم، الصحيح، 2 : 705، کتاب الزکوٰة، باب الحث علي الصدقه، رقم : 1017
2. نسائي، السنن، 5 : 55، 56، کتاب الزکاة، باب التحريض علي الصدقه، رقم : 2554
3. ابن ماجه، السنن، 1 : 74، مقدمة، باب سن سنة حسنة أو سيئة، رقم : 203
4. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 357. 359
5. دارمي، السنن، 1 : 141، رقم : 514


1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
2. بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250


1. ابوداؤد، السنن، 4 : 200، کتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم : 4607
2. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 44، کتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنة، رقم : 2676
3. ابن ماجه، السنن، مقدمه، باب اتباع السنة الخلفاء الراشدين، 1 : 15، رقم : 42
4. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 126


1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب عن الرسول صلي الله عليه وآله وسلم ، باب مناقب ابي بکر و عمر، 5 / 609، رقم : 3662
2. ابن ماجه، السنن، باب في فضل اصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 / 37، رقم : 97
3. حاکم، المستدرک، 3 / 79، رقم : 4451


ابن أثير جزري، النهاية في غريب الحديث والأثر1 : 106

آپ نے دیکھا قارئین کرام کے امام ابن اثیر کی مکمل عبارت کا ایک ایک لفظ کس طرح ہمارے مؤقف کو واضح کرکے بیان کررہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔


علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور الافریقی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی 711ھ
علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی اپنی معروف کتاب ’’لسان العرب‘‘ میں علامہ ابن اثیر جزری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ حدیث پاک ’’کل محدثۃ بدعۃ‘‘ سے مراد صرف وہ کام ہے جو شریعت مطہرہ کے خلاف ہو اور وہ بدعت جو شریعت سے متعارض نہ ہو وہ جائز ہے۔ لکھتے ہیں :
. البدعة : الحدث وما ابتدع من الدين بعد الإکمال. ابن السّکيت : البدعة کل محدثة و في حديث عمر رضي الله عنه في قيام رمضان ’’نعمتِ البدعة هذه‘‘(1) ابن الأثير : البدعة بدعتان : بدعة هدًي، و بدعة ضلال، فما کان في خلاف ما أمر اﷲ به و رسوله صلي الله عليه وآله وسلم فهو في حيز الذّم والإنکار، وما کان واقعا تحت عموم ما ندب اﷲ إليه و حضَّ عليه اﷲ أو رسوله فهو في حيّز المدح، وما لم يکن له مثال موجود کنوع من الجود والسّخاء و فعل المعروف فهو من الأفعال المحمودة، ولا يجوز أن يکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع به؛ لأن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قد جعل له في ذلک ثوابا فقال : (من سنّ سُنة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها) وقال في ضِدّه : (من سنّ سنة سيّئة کان عليه وزرُها ووِزرُ من عمل بها)(2) وذلک إذا کان في خلاف ما أمر اﷲ به ورسوله صلي الله عليه وآله وسلم ، قَالَ : ومن هذا النوع قول عمر رضی الله عنه : نِعمت البدعة هذه، لمَّا کانت من أفعال الخير وداخلة في حيز المدح سماها بدعة ومدحها لأن النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، لم يسُنَّها لهم، و إنما صلَّاها ليالي ثم ترکها ولم يحافظ عليها ولا جمع الناس لها ولا کانت في زمن أبي بکر رضی الله عنه، وإنما عمر رضی الله عنه جمع الناس عليها و ندبهم إليها، فبهذا سمّاها بدعة، وهي علي الحقيقة سنَّة، لقوله صلي الله عليه وآله وسلم (عليکم بسنَّتي و سنَّة الخلفاء الراشدين من بعدي)(3) وقوله صلي الله عليه وآله وسلم : (اقتدوا باللذين من بعدي أبي بکر و عمر)(4) و علي هذا التأويل يحمل الحديث الآخر (کل محدثة بدعة) إنما يريد ما خالف أصول الشريعة ولم يوافق السُّنَّة. (5) ’’

بدعت سے مراد احداث ہے یا ہر وہ کام جو اکمالِ دین کے بعد کسی دینی مصلحت کے پیش نظر شروع کیا گیا ہو۔ ابن سکیت کہتے ہیں کہ ہر نئی چیز بدعت ہے جیسا کہ قیام رمضان کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے نعمت البدعۃ ہذہ. ابن اثیر کہتے ہیں بدعت کی دو قسمیں ہیں، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. جو کام اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو وہ مذموم اور ممنوع ہے، اور جو کام کسی ایسے عام حکم کا فرد ہو جس کو اللہ تعاليٰ نے مستحب قرار دیا ہو یا اللہ تعاليٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حکم پر برانگیختہ کیا ہو تو یہ اَمرِمحمود ہے اور جن کاموں کی مثال پہلے موجود نہ ہو جیسے سخاوت کی اقسام اور دوسرے نیک کام، وہ اچھے کام ہیں بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کاموں پر ثواب کی بشارت دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے اچھے کام کی ابتداء کی اس کو اپنا اجر بھی ملے گا اور جو لوگ اس کام کو کریں گے ان کے عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے برعکس یہ بھی فرمایا : جس شخص نے برے کام کی ابتداء کی اس پر اپنی برائی کا وبال بھی ہو گا اور جو اس برائی کو کریں گے ان کا وبال بھی اس پر ہو گا اور یہ اس وقت ہے جب وہ کام اللہ تعاليٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کے خلاف ہو۔ اور اِسی قسم یعنی بدعتِ حسنہ میں سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول ’’نعمت البدعۃ ھذہ‘‘ ہے پس جب کوئی کام افعالِ خیر میں سے ہو اور مقام مدح میں داخل ہو تو اسے لغوی اعتبار سے تو بدعت کہاجائے گا مگر اس کی تحسین کی جائے گی کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (باجماعت نماز تراویح کے) عمل کو ان کے لئے مسنون قرار نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند راتیں اس کو پڑھا پھر (باجماعت پڑھنا) ترک کردیا اور (بعد میں) اس پر محافظت نہ فرمائی اور نہ ہی لوگوں کو اس کے لئے جمع کیا بعد ازاں نہ ہی یہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں (باجماعت) پڑھی گئی پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس پر جمع کیا اور ان کو اس کی طرف متوجہ کیا پس اس وجہ سے اس کو بدعت کہا گیا درآں حالیکہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول ’’علیکم بسنّتی و سنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی‘‘ اور اس قول’’اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر‘‘ کی وجہ سے حقیقت میں سنت ہے پس اس تاویل کی وجہ سے حدیث ’’کل محدثۃ بدعۃ‘‘ کو اصول شریعت کی مخالفت اور سنت کی عدم موافقت پر محمول کیا جائے گا۔‘‘

1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
2. بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250


1. مسلم، الصحيح، 2 : 705، کتاب الزکوٰة، باب الحث علي الصدقه، رقم : 1017
2. نسائي، السنن، 5 : 55، 56، کتاب الزکاة، باب التحريض علي الصدقه، رقم : 2554
3. ابن ماجه، السنن، 1 : 74، مقدمة، باب سن سنة حسنة أو سيئة، رقم : 203
4. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 357. 359


1. ابوداؤد، السنن، 4 : 200، کتاب السنة، باب في لزوم السنة، رقم : 4607
2. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 44، کتاب العلم، باب ما جاء في الأخذ بالسنة، رقم : 2676
3. ابن ماجه، السنن، مقدمه، باب اتباع السنة الخلفاء الراشدين، 1 : 15، رقم : 42
4. احمد بن حنبل، المسند، 4 : 126


1. ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب عن الرسول صلي الله عليه وآله وسلم ، باب مناقب ابي بکر و عمر، 5 / 609، رقم : 3662
2. ابن ماجه، السنن، باب في فضل اصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 / 37، رقم : 97
3. حاکم، المستدرک، 3 / 79، رقم : 4451
4. بيهقي، السنن الکبريٰ، 5 / 212، رقم : 9836


ابن منظور افريقي، لسان العرب، 8 : 6

آپ نے دیکھا قارئین کرام ان تمام محدثین اور فقہاء نے ہمارے بیان کردہ بدعت کے مفھوم کی بعینہ تصریح کردی جو کہ ہم نے حقیقت بدعت کے عنوان کے تحت ترتیب دیا تھا تمام فقہاء اور محدثین کی مکمل عبارات پڑھنے کے بعد آپ اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ بالکل ہمارے مقالے کی طرح ان تمام عبارات میں بھی اسی طرح اسدلال و استشھاد کیا گیا ہے اور انھی احادیث سے کیا گیا ہیے کہ جن سے ہم نے بیان کیا تھا یہ ائمہ کرام کا اہل سنت والجماعت پر بالخصوص اور عالم اسلام پر بالعموم احسان ہے کہ انھوں نے اتنی وضاحت اور عمدگی کے ساتھ بدعت کے مفھوم کو اس باریک بینی سے واضح فرمادیا ہے کہ اب اس میں رتی بھر بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اب
*آخر میں ہم امام شافعی کا بدعت کے حوالے مؤقف لکھ کر اصل کتاب کا ربط بھی مہیا کردیتے ہیں تاکہ نیٹ پر اس کتاب سے آپ سب لوگ بھی مستفید ہوسکیں ۔ ۔ ۔ ۔

امام محمد بن اِدریس بن عباس الشافعی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی 204ھ


امام بیہقی (المتوفی 458 ھ) نے اپنی سند کے ساتھ ’’مناقبِ شافعی‘‘ میں روایت کیا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بدعت کی تقسیم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

. المحدثات من الأمور ضربان : أحدهما ما أحدث مما يخالف کتاباً أوسنة أو اثرًا أو إجماعاً فهذه البدعة ضلالة، و الثانية ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا فهذه محدثة غير مذمومة، قد قال عمر رضي الله عنه في قيام رمضان نعمت البدعة هذه(1) يعني إِنَّها محدثة لم تکن و إِذا کانت ليس فيها ردُّ لما مضي. (2)
’’محدثات میں دو قسم کے امور شامل ہیں : پہلی قسم میں تو وہ نئے امور ہیں جو قرآن و سنت یا اثر صحابہ یا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے، اور دوسری قسم میں وہ نئے امور ہیں جن کو بھلائی کے لیے انجام دیا جائے اور کوئی ان میں سے کسی (امرِ شریعت) کی مخالفت نہ کرتا ہو پس یہ امور یعنی نئے کام محدثہ غیر مذمومۃ ہیں۔ اسی لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میں تراویح کے قیام کے موقع پر فرمایا تھا کہ ’’یہ کتنی اچھی بدعت ہے یعنی یہ ایک ایسا محدثہ ہے جو پہلے نہ تھا اور اگر یہ پہلے ہوتا تو پھر مردود نہ ہوتا۔‘‘

1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
2. بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250
4. ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم، 1 / 266
5. زرقاني، شرح الزرقاني علي موطا الامام مالک، 1 / 340


1. بيهقي، المدخل الي السنن الکبريٰ، 1 : 206
2. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 8 : 408
3. نووي، تهذيب الاسماء واللغات، 3 : 21

علامہ ابن رجب حنبلی (795ھ) اپنی کتاب ’’جامع العلوم والحکم‘‘ میں تقسیمِ بدعت کے تناظر میں اِمام شافعی کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں :

. وقد روي الحافظ أبو نعيم بإسناد عن إبراهيم ابن الجنيد قال : سمعت الشافعي يقول : البدعة بدعتان : بدعة محمودة و بدعة مذمومة، فما وافق السنة فهو محمود، وما خالف السنة فهو مذموم. واحتجّ بقول عمر رضي الله عنه : نعمت البدعة هي. (1) و مراد الشافعي رضي الله عنه ما ذکرناه من قبل أن أصل البدعة المذمومة ما ليس لها أصل في الشريعة ترجع إليه و هي البدعة في إطلاق الشرع. وأما البدعة المحمودة فما وافق السنة : يعني ما کان لها أصل من السنة ترجع إليه، و إنما هي بدعة لغة لا شرعا لموافقتها السنة. وقد روي عن الشافعي کلام آخر يفسر هذا و أنه قال : المحدثات ضربان : ما أحدث مما يخالف کتابا أو سنة أو أثرا أو إجماعا فهذه البدعة الضلالة، وما أحدث فيه من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا و هذه محدثة غير مذمومة، و کثير من الأمور التي أحدثت ولم يکن قد اختلف العلماء في أنها بدعة حسنة حتي ترجع إلي السنة أم لا. فمنها کتابة الحديث نهي عنه عمر وطائفة من الصحابة و رخص فيها الأکثرون واستدلوا له بأحاديث من السنة. ومنها کتابة تفسير الحديث والقرآن کرهه قوم من العلماء و رخص فيه کثير منهم. وکذلک اختلافهم في کتابة الرأي في الحلال والحرام و نحوه. و في توسعة الکلام في المعاملات و أعمال القلوب التي لم تنقل عن الصحابة والتابعين. (2)

1. مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250
2. بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269
3. سيوطي، تنوير الحوالک شرح موطا مالک، 1 / 105، رقم : 250
4. ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم، 1 / 266
5. زرقاني، شرح الزرقاني علي موطا الامام مالک، 1 / 340


ابن رجب حنبلي، جامع العلوم والحکم : 4 - 253

’’حافظ ابو نعیم نے ابراہیم بن جنید کی سند سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں۔

بدعت محمودہ
بدعت مذمومۃ

جو بدعت سنت کے مطابق و موافق ہو وہ محمودہ ہے اور جو سنت کے مخالف و متناقض ہو وہ مذموم ہے اور انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قول (نعمت البدعۃ ھذہ) کو دلیل بنایا ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی مراد بھی یہی ہے جو ہم نے اس سے پہلے بیان کی ہے بے شک بدعت مذمومہ وہ ہے جس کی کوئی اصل اور دلیل شریعت میں نہ ہو جس کی طرف یہ لوٹتی ہے اور اسی پر بدعت شرعی کا اطلاق ہوتا ہے اور بدعت محمودہ وہ بدعت ہے جو سنت کے موافق ہے یعنی اس کی شریعت میں اصل ہو جس کی طرف یہ لوٹتی ہو اور یہی بدعت لغوی ہے شرعی نہیں ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے دوسری دلیل اس کی وضاحت پر یہ ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ محدثات کی دو اقسام ہیں پہلی وہ بدعت جو کتاب و سنت، اثر صحابہ اور اجماع اُمت کے خلاف ہو یہ بدعت ضلالہ ہے اور ایسی ایجاد جس میں خیر ہو اور وہ ان چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اثر اور اجماع) میں سے کسی کے خلاف نہ ہو تو یہ بدعتِ غیر مذمومہ ہے اور بہت سارے امور ایسے ہیں جو ایجاد ہوئے جو کہ پہلے نہ تھے جن میں علماء نے اختلاف کیا کہ کیا یہ بدعت حسنہ ہے۔ یہاں تک کہ وہ سنت کی طرف لوٹے یا نہ لوٹے اور ان میں سے کتابت حدیث ہے جس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے ایک گروہ نے منع کیا ہے اور اکثر نے اس کی اجازت دی اور استدلال کے لیے انہوں نے کچھ احادیث سنت سے پیش کی ہیں اور اسی میں سے قرآن اور حدیث کی تفسیر کرنا جس کو قوم کے کچھ علماء نے ناپسند کیا ہے اور ان میں سے کثیر علماء نے اس کی اجازت دی ہے۔ اور اسی طرح حلال و حرام اور اس جیسے معاملات میں اپنی رائے سے لکھنے میں علماء کا اختلاف ہے اور اسی طرح معاملات اور دل کی باتیں جو کہ صحابہ اور تابعین سے صادر نہ ہوئی ہوں ان کے بارے میں گفتگو کرنے میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بحمدہ تعالٰی آج سے ہم اپنے دلائل کی تکمیل کو پہنچے ہمارے پیش کردہ دلائل کا ماخذ یعنی اصل کتاب کا ربط درج زیل ہے جس میں بیسیوں دیگر ائمہ محدثین اور فقہاء کے حوالہ سے بدعت کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسلامی لائبریری - اعتقادیات > البدعۃ عند الائمۃ و المحدثین >
نوٹ :۔ ہم اپنے دلائل مکمل کرچکے جس بھی بھائی نے اعتراض یا جواب دینا ہے وہ دے سکتا ہے والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 21-08-09 at 07:42 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Farrukh (11-07-10), muhammad asif virani (21-08-09), shafresha (21-08-09), Student (21-08-09), S_S_G_Commando (01-10-09), عبداللہ حیدر (21-08-09)
پرانا 23-09-09, 07:47 PM   #111
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ماشاء اللہ بھائی عابد عنایت نے کافی محنت سے یہ معلومات اکٹھی کی ہیں ، جن کا ایک خلاصہ بھتیجے عبداللہ حیدر نے پیش کیا تا کہ کچھ افہام و تفہیم کی بات ہو سکے ،لیکن حسب معمول معاملہ کچھ کُھلا نہیں ، اور مجھ جیسا طالب علم کئی باتوں کے جواب کے حصول کی تشنگی لیے منتظر ہے ، پس کچھ مداخلت کر رہا ہوں ،
عابد بھائی کی جمع کی ہوئی معلومات میں سے جو کچھ دُرست نہیں لگا ، اُس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کچھ سمجھنا چاہتا ہوں اُمید ہے کہ عابد بھائی نے جس محنت کے ساتھ یہ معلومات جمع کی ہیں اُسی محنت کے ساتھ میری گذارشات کو سمجھ کر جواب دیں گے ، باذن اللہ ،
لیکن اپنی بات شروع کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری بات دِین میں نئے کاموں کے بارے میں ہے ، جنہیں کسی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کے بغیر گمراہی قرار دیا گیا ہے ، ایسے کام جو کام دین سے متعلق تو ہیں لیکن دین میں نہیں ہیں ، اور نہ ہی ان کے ذریعے ، کسی نئےعقیدے یا عبادت کا راستہ کُھلتا ہو، اور نہ ہی بذات خود کوئی عقیدہ یا عبادت ہوں ، اور نہ ہی کسی جائز مشروع عقیدے یا عبادت میں کوئی نئی کیفیت یا صفت ہوں یا کسی نئی کیفیت یا صفت کا سبب ہوں ، کیونکہ معاملات میں نیا پن واقع ہونا ایک فطری عمل ہے اور اس نئے پن کو حدود شریعت میں رہتے ہوئے نمٹانا ، اپنانا یا رد کرنا ہم پر فرض ہے ، اورچونکہ عقائد اور عبادات اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں لہذا ان میں کسی نئے پن کی سرے سے گنجائش ہی نہیں خواہ وہ کسی بھی طور ہو ،
::::::: مذکورہ بالا اقتباس میں عابد بھائی نے دین میں کسی نئے کام ، کسی بھی نئے کام کے جائز یا ناجائز ہونے کی ایک کسوٹی یہ بیان کی کہ اگر قران و سنت میں اس کا ذکر نہ ہو اور وہ قران و سنت کے خلاف نہ ہو تو ایسا نیاکام جائز ہے ،
اگر غور کیا جائے تو یہ بات خود اُن کی اپنی ہی کہی ہوئی دیگر باتوں کے خلاف ہے ، کیونکہ وہ کہتے ہیں """" کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں """"""
اور میں یہ کہتا ہوں کہ ہر وہ عقیدہ اور عبادت ، یا کسی عقیدہ و عبادت کی کیفیت ، یا کسی عقیدہ و عبادت کو اختیار کرنے کا کوئی سبب جس کا ذِکر قران اور صحیح ثابت شدہ سُنتِ میں نہیں ملتا ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے آثار میں نہیں ملتا ، اس کا نہ ملنا اس کے نئے ہونے کی دلیل ہے ، اور اس کے ساتھ ساتھ ہی اس کے متعارض شریعت ہونے کی بھی ،
جی ہاں ، متعارض ہونے کی بھی اور اس طرح کہ چونکہ اس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ کوئی عقیدہ یا عبادت ، یا کسی عقیدے اور عبادت سے متعلق کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بتائے بغیر ہی دنیا سے تشریف لے گئے ، لہذا ایسی کوئی بھی چیز قولی ہو یا فعلی ، اور پھر ظاہری افعال میں سے ہویا باطنی افعال میں سے جس کی خبر قران اور صحیح سُنّت میں نہیں اور اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی """ جماعت """ کے اقوال و افعال میں نہیں وہ قران و صحیح سُنّت سے تعارض رکھتی ہے ،

ایک دفعہ پھر یاد دہانی کرواتا چلوں کہ یہاں ہماری گفتگوانسانی زندگی کے کسی بھی معاملے کے بارے میں نہیں ، اسلام سے متعلق کسی بھی معاملے کی نہیں ، صرف دِین اسلام میں کسی نئے عقیدے یا عبادت ، کسی عقیدے یا عبادت میں کسی نئی کیفیت یا صفت کے بارے میں ہے، کیونکہ معاملات میں نیا پن واقع ہونا ایک فطری عمل ہے اور اس نئے پن کو حدود شریعت میں رہتے ہوئے نمٹانا ، اپنانا یا رد کرنا ہم پر فرض ہے ، اور چونکہ عقائد اور عبادات اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں لہذا ان میں کسی نئے پن کی سرے سے گنجائش ہی نہیں خواہ وہ کسی بھی طور ہو ،
اور اس تحدید کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے بلا استثناء ہر ایک """ بدعت """ کو حرام قرار دینے کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا قولی اور عملی فہم ہے ، اس کی مزید وضاحت ان شاء اللہ آگے ہوتی جائے گی ،

طلباء علم کو بھی یہ بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ہر حلال و حرام کا ذکر فرما دیا ہے ان میں سے کچھ چھوڑا نہیں ،اور عموماً قواعد و قوانین وضع فرما دیے ہیں جن کے مطابق حلال و حرام کو سمجھا جاتا ہے ، اس کا ذِکر بھائی عابد بھی کر چکے ہیں ، گو کہ انہوں نے ایک ایسی حدیث کا ذکر کر کے جو کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے قواعد ءِالہی کے بارے میں ہے اس کوعبادت اورعقیدے کی بدعات کے جواز میں استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ، اس کی بات ان شاء اللہ اس کی جگہ پر کی جائے گی ، لیکن یہ بات متفق علیہ اور کسی اختلاف کی گنجائش نہیں رکھتی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حلال و حرام میں عموماً اصول و قوانین وضع فرما دیے ہیں ، نام بنام عقائد ، عبادات ،چیزوں اور کاموں کا ذکر بہت کم فرمایا ہے ،
جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں قیامت تک کے لیے حلال و حرام کے قواعد وضع فرما دیے ہیں اسی طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنت مبارکہ میں بھی کوئی ایسا سُقم نہیں چھوڑا جو عقیدے اور عبادات اور ان سے متعلق اعمال و افعال کے لیے مبہم ہو ،
اور ان دونوں مصادر یعنی قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی حفاظت اور اُن کو حرف بحرف بعد میں آنے والوں تک پہنچانے کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کو چنا اور ان کو اپنی ، اپنے دین اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایسی محبت عطا فرمائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اور اپنے درمیان ہونے والی ہر ایک بات اور حرکت کو مکمل امانت داری کے ساتھ نشر کیا ،

اگر میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع سُنّت اور سُنّت کو نشر کرنے کے بارے میں ان کی امانت داری کی مثالیں بیان کرنے لگوں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی اور ہم اپنے زیر گفتگو موضوع سے ہٹ جائیں گے ،
ہم یہاں یہ سمجھ رہے اِن شا ء اللہ کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجعمین نے جس عقیدے ، جس عبادت ، اور عقیدے اور عبادات سے متعلقہ جن کیفیات و صفات کا ذِکر نہیں کیا اُس کے ذِکر نہ ہونے کا مطلب اُس کا جائز ہونا نہیں ، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کام اور عقیدہ اُس وقت ان لوگوں کے پاس معروف نہ تھا ، ورنہ وہ اس کا ذکر ضرور کرتے ،
پس قران اور سنت صحیحہ ، اور آثارء صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں محض کسی بھی چیز کاعدم ذکراس کے جواز کی دلیل نہیں بلکہ اس کے متعارض قران و سُنّت ہونے کی دلیل ہے ، پس ایسی کسی بھی (قولی یا فعلی ،ظاہری یا باطنی ، یا مادی )چیز کو قران و سنت صحیحہ میں مقرر کردہ اصولوں پر پرکھ کر جائز و ناجائز کا فیصلہ کیا جاتا ہے ،
ایک دفعہ پھر کہتا ہوں ، احکام شریعت کے پہلے تین مصادر ، قران ، صحیح سُنّت اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں کسی عقیدے یا عبادت یا کسی عقیدے یا عبادت کی کسی کیفیت و صفت یا کسی عقیدے یا کسی عبادت کے اخذ کے سبب کا ذِکر نہ ہونا اس کے جائز ہونے کا سبب نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقیدہ اور عبادت اور ، کسی عقیدے یا عبادت کی وہ کیفیت و صفت صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاں نہیں تھا ،
ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اللہ کی طرف سے آئے ہوئے احکامات کو مکمل طور پر بیان فرما گئے کچھ خفیہ نہیں رکھا ، اور نہ ہی اللہ کی طرف سے کوئی باطنی شریعت نازل ہوئی تھی جس کے احکامات کچھ خاص لوگوں کو تک ہی محدود رکھے گئے ہوں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ہر ایک چیز بیان فرما دی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مکمل امانت داری سے اللہ کا ہر ایک پیغام قولاً و عملاً اپنی اُمت تک پہنچا دیا ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا ہر قول مبارک اور ہر عمل مبارک ہر طرف نشر فرما دیا ،
پس ہر وہ عقیدہ اور عبادت جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کوئی تعلیم نہ فرمائی ، نہ اپنے اقوال مبارکہ سے اور نہ ہی اپنے افعال مبارکہ سے ، وہ عقیدہ ، عبادت یا ان دونوں کی کوئی صفت یا کیفیت اللہ کی طرف سے جائز قرار نہیں دی گئی ، اگر ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم اس کا ذکر ضرور فرماتے اس پرعمل کر کے ضرور دکھاتے ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اس کو ضرور بیان فرماتے ،

پس جوعقیدہ جو عبادت کسی ان کی کوئی صفت کوئی کیفیت اگر صحیح ثابت شدہ سُنّت اور آثار صحابہ میں مذکور نہیں تو وہ مخالفِ سُنّت ہے اور اللہ کے ہاں مردود ہے،
میں بار بار ان باتوں کو دہرا رہا ہوں ، تا کہ قارئین کے اذہان میں یہ بات بالکل واضح ہو جائے کہ اسلام کے پہلے تین اساسی مصادر قران ، صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے آثار میں کسی عقیدے یا عبادت یا کسی عقیدے یا عبادت کی کسی کیفیت یا کسی عقیدے یا کسی عبادت کے اخذ کے سبب کا ذِکر نہ ہونا اُس کے حلال ہونے کا سبب نہیں بن سکتا ، ہر گز نہیں بن سکتا ، بلکہ اس کا ذکر نہ ہونا متعارض شریعت ہے ،
آیے اب میری ان باتوں کے دلائل کے طور پر قران اور صحیح سُنّت اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے چند نصوص کا مطالعہ کرتے ہیں ،
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرضِ وَلاَ طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيهِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمثَالُكُم مَّا فَرَّطنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيءٍ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِم يُحشَرُونَ ::: اورکوئی چوپایہ زمین میں ایسا نہیں اور کوئی پرندہ ایسا نہیں جو اپنے دونوں پروں کے ذریعے پرواز کرتا ہو سوائے اس کے وہ تُم لوگوں کی طرح گروہ ہیں ، ہم نے کتاب میں کسی چیز کا ذِکر نہیں چھوڑا ، اور پھر تُم سب لوگ اپنے رب کی طرف جمع کیے جاؤ گے))))) سورت الأنعام/آیت 38 ،
اس آیت مبارکہ میں ’’’ کتاب‘‘‘ سے مراد لوح محفوط بھی لیا گیا ہے اور قران الکریم بھی اور زیادہ درست یہ دوسری بات ہی ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوسری جگہ یہ فرمایا ہے کہ ((((( وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيداً عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيداً عَلَى هَـؤُلاء وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ :::اور ہم قیامت کے دن ہر گروہ میں سے (اس پر ) اُن میں سے ہی گواہ مقرر کریں گے اور اُن سب گواہان پر( اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور ہم نے آپ پرکتاب نازل فرمائی ہر چیز کے بارے میں وضاحت کرنے والی اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوشخبری والی ))))) سورت النحل/آیت 89،
ں کی والدہ محترمہ ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسروق رحمہُ اللہ سے کہا ::: ((((( وَ مَن حَدَثَکَ اَن مُحَمَداً کَتَمَ شِیااً مَمِا اُنزِلَ عَلِیہِ فَقَد کَذِبَ واللَّہُ یقُول ’’’ یااَیُّھا الرسُول بلِّغ مَا اُنزِلَ اِلیکَ ‘‘‘ ::: جو تجھے یہ کہے کہ اللہ نے جو کچھ نازل کیا ہے اُس میں سے محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کچھ چھپایا ہے تو ایسا کہنے والا یقینا جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ ’’’ اے رسول جو کچھ آپ کے رب نے آپ کی طرف نازل کیا اُس کی تبلیغ کیجیے ‘‘‘))))) صحیح البُخاری / کتاب التفسیر /باب 114 ،
امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی یہ خیال کرے یا کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کے پیغامات یا احکامات میں سے کچھ چھپایا ہے تو وہ اللہ کے اِس فرمان ’’’’’ اے رسول جو کچھ آپ کے رب نے آپ کی طرف نازل کیا اُس کی تبلیغ کیجیے ‘‘‘‘‘ کی تکذیب کرتا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر یہ اِلزام لگاتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، اور اپنے منصب نبوت کو پورا نہ کیا ، عقیدہ اور عبادات میں وہ کچھ کرنا باقی تھا جو بعد میں لوگ کرنے لگے لیکن معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے وہ کچھ نہ بتا یا ،
::::::: ابو ذر الغِفاری رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے ’’’’’ ترَکَنَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم وَ مَا طَائِرٌ یُقلِّبُ جَناحِیہِ فِی الھَواءِ إِلَّا و ھُوَ یَذکُرُ لَنَا مِنہ ُ عِلماً ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اِس حال میں چھوڑا کہ ہوا میں پر ہلاتے ہوئے کِسی پرندے کے پر ہلانے میں بھی جو عِلم ہے وہ بھی ہمیں بتایا ، اور پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( مَا بَقِيَ شِيءٌ یُقَرِبُ مِن الجَنَّۃِ وَ یُبَاعِدُ مِن النَّارِ ، اِلَّا و قَد بُیَّنَ لَکُم ::: کوئی ایسی چیز نہیں بچ رہی ، جو تم لوگوں کو جنّت کے قریب کرنے والی ہو اور دوزخ سے دور کرنے والی ہو، اور وہ تم لوگوں پرواضح نہ کر دی گئی ہو ))))) ‘‘‘‘‘ اِمام الطبرانی نے اپنی '' معجم الکبیر '' میں روایت کیا اور شیخ علی بن حسن نے ''' عِلم اصول البدع '' میں کہا کہ اِس کی سند صحیح ہے ۔
اگر نئی نئی خود ساختہ عبادات ، عقائد اور عبادات و عقائد میں نئی نئی بنائی جانے والی کیفات اور صفات میں کوئی خیر ہوتی تو اللہ کے رسول وہ سب بیان فرما جاتے ، اور اگر معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے کس چیز کا بیان رہ رہا ہوتا تو ((((( و مَا ربُکَ نَسیا ::: اور آپ کا رب بھول جانے والا نہیں ))))) یعنی ، اللہ تعالیٰ ان کو یاد کروا دیتا کہ فلاں فلاں عقیدہ ، یا عبادات یا ان کی فلاں فلاں صفات و کیفیات بتا دیجیے ،
لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک پر ہر ایک بدعت کا بلا استثناء گمراہی ہونا اور ہر گمراہی کا بلا استثناء جہنم کا مکین ہونے کا اعلان کروایا ،
یہ سب کچھ میری ان باتوں کے واضح دلائل ہیں جو میں نے آغاز میں پیش کی ہیں ، اور کئی بار دہرائی ہیں ، اور ایک دفعہ پھر دہراتا ہوں کہ ’’’’’’’ کہ اسلام کے پہلے تین اساسی مصادر قران ، صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے آثار میں کسی عقیدے یا عبادت یا کسی عقیدے یا عبادت کی کسی کیفیت یا کسی عقیدے یا کسی عبادت کے اخذ کے سبب کا ذِکر نہ ہونا اُس کے حلال ہونے کا سبب نہیں بن سکتا ، ہر گز نہیں بن سکتا ‘‘‘‘‘‘‘
بد بھائی آپ کے مراسلے کےمنقولہ بالا اقتباس کے آخر میں پیش کردہ حدیث ((((( و ما سکت عنہ ))))) کا جواب ان شاء اللہ آگے پیش کرتا ہوں ،
اور آپ کے پیش کردہ الفاظ میں کچھ تبدیلی کے ساتھ آپ کے اس مراسلے کا جواب ختم کرتا ہوں کہ""" دین میں ہر ایک بدعت گمراہی ہے اور اس بدعت کو کسی طور حسنہ یا سیئہ میں تقسیم کرنا بذات خود ایک بدعت ہے ، اور تصور اسلام اور حکمت دین کے بالکل خلاف ہے کیونکہ اگر لوگوں نے اپنی اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق دین میں بدعات ہی ایجاد کرنا ہیں تو پھر دین کیسا ؟ اور ایسی کوئی بھی تقسیم دین کے معاملات اور حرام اور حلال میں اپنی آراء کے مطابق احکام شریعت میں تبدیلی کے مترادف ہے جسے کسی شک و شبہے کے بغیر گمراہی کہا جائے گا ، اور سورت النحل کی آیت رقم 116 جو آپ نے ذکر فرمائی اس کے حکم میں آئے گا """"
ٓپ کی دیگر باتوں کا جواب ان شاء اللہ اگلے مراسلات میں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Farrukh (11-07-10), محمد عاصم (26-05-10), آبی ٹوکول (02-10-09), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ حیدر (27-09-09)
پرانا 02-10-09, 10:36 PM   #112
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،، کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی بالکل درست فرمایا عابد بھائی ، یقیناً بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ ((((( لاَ إِكرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشدُ مِنَ الغَيِّ ::: دین (اختیار کرنے ) میں کوئی زبردستی نہیں (کوئی یہودی بنے ، نصرانی بنے یا مسلمان) ہدایت کو گمراہی میں سے (الگ) واضح کیا جا چکا ہے ))))) کے بعد بھی اور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے عطا کردہ ’’’ رُشد ‘‘‘ کو ترک کر کے خود ساختہ ’’’ غی ‘‘‘ کی اتباع کی جائے اور مَن گھڑت عقائداور عبادات اپنائی جائیں ، اور ان کی درستگی ثابت کرنے اور ان کو نشر کرنے کےلیے اللہ کی عطا کردہ نعمتیں استعمال کی جائیں ، تو واقعتا بہت ہی افسوس کی بات ہے ،
اور اس سے کہیں زیادہ افسوس ناک وہ انجام ہے جس کی خبر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی آیت مبارکہ کے اگلے حصے میں دی کہ ((((( فَمَن يَكفُر بِالطَّاغُوتِ وَيُؤمِن بِاللّهِ فَقَدِ استَمسَكَ بِالعُروَةِ الوُثقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ :::لہذا جس نے طاغوت کا کفر کیا اور اللہ پر ایمان لایا تو یقیناً اس نے ایمان کو مضبوطی سے تھام لیا جس سے وہ الگ نہ کیا جائے گا (یہاں تک وہ خود مرتد ہوجائے ) اور اللہ سنتا اور دیکھتا ہے ))))) سورت البقرة ، آیت 256 ،
طاغوت ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے خواہ وہ کوئی سوچ وفکر ہو جس کی بنا پر اللہ کے دین میں نئے عقائد اور نئی عبادات داخل کی جائیں ، اور ایسا کرنے والا ’’’عروۃ الوثقیٰ ‘‘‘ کو تھامنے والا نہیں رہے گا پس اس کا انجام صاف ظاہر ہے ،
جی یہ بھی بہت ہی افسوس والی بات ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو اپنے بارے میں ، مسلمانوں پر اپنی رحمت کا اور شفقت کا اعلان فرماتے ہوئے ارشاد فرمائے کہ (((( یُرید اللہ بِکُم الیُسرَ و لا یُرید بِکُم العُسر ::: اللہ تُم لوگوں کے لیے آسانی چاہتا ہے اور تُم لوگوں کے لیے تنگی نہیں چاہتا ))))) اور لوگ دین میں آسانی کو اپنی مرضی سے بنائے اور اختیار کیے گئے عقائد یا عبادات کے لیے استعمال کرنے لگیں ،
جی عابد بھائی واقعتا بہت افسوس کی بات ہے کہ ((((( لاَ إِكرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشدُ مِنَ الغَيِّ ::: دین (اختیار کرنے ) میں کوئی زبردستی نہیں (کوئی یہودی بنے ، نصرانی بنے یا مسلمان)ہدایت کو گمراہی میں سے (الگ) واضح کیا جا چکا ہے ))))) اور (((( یُرید اللہ بِکُم الیُسرَ و لا یُرید بِکُم العُسر ::: اللہ تُم لوگوں کے لیے آسانی چاہتا ہے اور تُم لوگوں کے لیے تنگی نہیں چاہتا ))))) اور ((((( بشِّرُوا وَ لا تُنفِّرُوا ، وَ یَسِّرُوا وَ لا تُعَسِّرُوا:::خوش خبری سناؤ اور نفرت نہ پھیلاو ، اور نرمی کرو سختی نہ کرو ))))) صحیح مُسلم /حدیث 1733 ،
اور ((((( یَسِّرُوا وَ لا تُعَسِّرُوا وَ سَکِّنُوا وَ لا تُنفِّرُوا :::آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور سکون پہنچاؤ نفرت نہ پھیلاؤ )))))) صحیح مُسلم/حدیث 1734،
اور ((((( الدِّینُ یُسر وَ لَن يُغالِبُ الدِّينَ أحدٌ إلَّا غَلبَهُ ::: دِین آسانی ہے اور اگو کوئی دِین پر غالب آنے کو کوشش کرتا ہے تو دِین اس پر غالب آکر ہی رہتا ہے ))))) صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ / حدیث3421،
اِن تمام مُقدس نصوص کا حکم اللہ پاک اس فرمان میں ہے ((((( لا یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفساً اَلَّا وُسعَھَا :::اللہ تعالیٰ کِسی جان کو اُس کی طاقت سے زیادہ کا پابند نہیں کرتا ))))) سورت البقرہ /آیت 233 ،
جی ان تمام پاک نصوص میں حکم یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات پر عمل اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کیا جانا ہے ، نہ کہ دین میں آسانی کے نام ہر جس کا جو جی چاہے جو اس کی کج عقلی میں سمائے وہ عقیدہ اپنا لے ، اور طرح طرح کی عبادات بنا لے یا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے اجازت شدہ پہلے سے موجود عبادات میں نئی کیفیات کا اضافہ کرتا پھرے ، واقعتاً عابد بھائی قران اور حدیث کی نصوص کو اپنی مرضی کے مفاہیم دینا انتہائی افسوس والی بات ہے اور ان خود ساختہ مفاہیم کو بنیاد بنا کر دِین میں نئے عقائد اور عبادات یا ان کی نئی صفات اور کفیات ایجدا کرنا یقینی گمراہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کسی تقسیم کے بغیر جہنم میں جانے والی قرار دیا ہے ،
جی اور یہ بھی بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان مبارک ((((( ما أَحَلَّ اللَّهُ في كِتَابِهِ فَهُوَ حَلالٌ وما حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وما سَكَتَ عنه فَهُوَ عَفوٌ فَاقبَلُوا مِن اللَّهِ عَافِيَتَهُ فإن اللَّهَ لم يَكُن لِيَنسَى شيئا ))))) وتَلا ((((( وما كان رَبُّكَ نَسِيًّا ))))) ::: جو کچھ اللہ نے اس کی کتاب میں حلال کیا وہ حلال ہے اور جو کچھ اللہ نے (اس کی کتاب میں ) حرام کیا وہ حرام ہے اور جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ درگذر ہے لہذا تُم لوگ اللہ کی طرف سے (عطاء کی گئی )اس کی یہ عافیت قبول کرو ))))) اور پھر تلاوت فرمائی ((((( بے شک اللہ کوئی چیز بھولنے والا نہیں ))))) کے ایک جز کو اپنے خاص مقصد کے لیے استعمال کیا جائے ، اس بات کا کوئی خیال نہ کیا جائے کہ یہ فرمان کب اور کیوں تھا ؟ کیا اس کا حکم عام ہے یاخاص ہے ؟
عابد بھائی ، یہ روایت مختلف الفاظ میں اور مختلف کتابوں میں عبداللہ ابن عباس اور ابو الدرداء اور سلمان الفارسی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ، کچھ روایات کی اسناد ضعیف ہیں اور کچھ کی صحیح ، اور سب کی سب روایات اس بات کو بڑی وضاحت سے ظاہر کرتی ہیں کہ یہ فرمان صرف کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں ہے نہ کہ عقائد اور عبادات کے بارے میں کہ جس عقیدے یا عبادت کے بارے میں اللہ کی طرف سے خاموشی ہے اس کو اللہ کی طرف سے درگزر خیال کرتے ہوئے اپنا لیا جائے ، لا حول ولا قوۃ الا باللہ ، اگر یہ منطق اس حدیث کی روایات کو جاننے کے بعد بنائی گئی ہے تو دھوکہ دہی ہے ، اور اگر بغیر جانے بنائی گئی ہے تو جہالت ہے ، اللہ اس کو معاف فرمائے جس نے ایک حدیث کے ایک جز کو اپنے مقاصد کے لیے غلط طور پر استعمال کیا ،
طوالت سے بچنے کے لیے میں یہاں اس حدیث کی روایات کے صرف کچھ حوالہ جات میں مہیا کر دیتا ہوں ، اصل کتابوں میں اور پھر شرح کی کتابوں میں اور فقہ کی کتابوں میں اسے ملاحظہ فرمایے اور اس منطق کی کج فہمی پر غور فرمایے جسے حدیث پاک کی جزوی عبارت کے غلط استعمال کے ذریعے درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،
ملاحظہ فرمایے ::: محدیثن ، شارحین ، اور فقہاء علیھم رحمۃ اللہ نے اس حدیث پاک کو کہاں اور کن ابواب میں ذکر کیا ہے اور اس سے کیا مفہوم اور حکم اخذ کیا ہے ::: بغور ملاحظہ فرمایے محترم بھائی ، اور پھر افسوس کیجیے کج فہمی پر مبنی کج روی ہر
المستدرک الحاکم /کتاب التفسیر /باب7 تفسیر سورت الانعام ، اور باب20 تفسیر سورت مریم ، اور کتاب الأطعمۃ کی حدیث 41 ، اور حدیث 43 ،
سنن ابو داؤد/کتاب الأطعمۃ /باب31 ما لم یُذکَرتحریمہ،
سنن البیہقی الکبریٰ /کتاب الضحایا /باب ما جاء فی الضبع و الثعلب ،
المعجم الکبیر / سلمان الفارسی رضی اللہ عنہُ / سیلمان التمیمی عن ابی عثمان النھدی ،
سنن الترمذی /کتاب اللباس /باب6 ، (صرف امام الترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو کتاب اللباس میں ذکر کیا ہے اس کا سبب ان کی روایت کے الفاظ سے پتہ چلتا ہے ، کہ انہوں نے اس حدیث سے کیا حُکم اخذ کیا ہے جس کی بنا پر اس کو کتاب اللباس میں ذکر کیا ہے ، وہاں دیکھ لیجیے گا )
کتب الشروح ::: فتح الباری شرح صحیح البُخاری للامام ابن حجر العسقلانی /کتاب الصید و الذبائح /باب ذبیحۃ الاعراب و نحوھم ، اور ، کتاب الاعتصام بالکتاب و السُنّۃ / باب 3 ،
عون المعبود شرح سنن ابی داؤد لشمس الحق عظیم آبادی/کتاب الأطعمۃ /باب 31 ،
اور دیکھیے نیل الأوطار للامام الشوکانی /کتاب الأطعمۃ و الصید و الذبائح /باب اول ،
جی تو عابد بھائی ، میں بھی آپ کے ساتھ اس افسوس میں شریک ہوں جو قران اور حدیث کی مبارک نصوص کو اپنی آراء اور مَن گھڑت عبادات اور عقائد کو درست ثابت کرنے کی کج فہمی کے مطابق استعمال کرتے ہوئے دیکھ کر ہوتا ہے ، اور """ بدعات ""' کو جائز اور حلال قرار دے کر اللہ اور رسول اللہ کی مقرر کردہ حدود کو اپنی کج روی کی مطابق وسیع کرنے کی کوشش دیکھ کر ہوتا ہے ،
اب اگر یہاں میں سورت النحل کی آیت رقم 116 ذکر کروں تو ان شاء اللہ بے جا نہ ہوگا ((((( وَلاَ تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلسِنَتُكُمُ الكَذِبَ هَـذَا حَلاَلٌ وَهَـذَا حَرَامٌ لِّتَفتَرُوا عَلَى اللّهِ الكَذِبَ إِنَّ الَّذِينَ يَفتَرُونَ عَلَى اللّهِ الكَذِبَ لاَ يُفلِحُونَ:::اور تُم لوگ وہ کچھ مت کہو جو تُمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں (کہ)یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے ( ایسا اس لیے کرتے ہو ) تا کہ تُم لوگ اللہ پر جھوٹ تراشو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ تراشتے ہیں کامیابی نہ پائیں گے))))) سورت النحل/ آیت 116 ،
اور ابھی ابھی ذِکر کی گئی حدیث مبارک ((((( الدِّینُ یُسر وَ لَن يُغالِبُ الدِّينَ أحدٌ إلَّا غَلبَهُ ::: دِین آسانی ہےاور اگر کوئی دِین پر غالب آنے کو کوشش کرتا ہے تو دِین اس پر غالب آکر ہی رہتا ہے))))) کے آخری حصے پر بھی غور فرمایے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ سمجھا رہے ہیں کہ دِین کی آسانی کو سبب بنا کر اگر دِین میں اپنی مرضی چلا کر دِین پر غالب آنے کو کوشش کی جائے گی تو ایسا کرنے والے پر اللہ تعالیٰ اپنے دِین کو غالب کر کے ہی رہے گا ، یعنی ایسا کرنے والے کے خود ساختہ اقوال و افعال مغلوب ہو کر ہی رہیں گے اِن شاء اللہ ،
ان شاء اللہ یہ چند گذراشات دِین میں آسانی کا مفہوم سمجھانے میں مدد گار ہوں گِیں‌ ، باذن اللہ ،
----------------------------------------------------
باقی جوابات اگلے مراسلات میں ان شا اللہ تعالیٰ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-10-09), فیصل ناصر (18-03-10), محمد عاصم (26-05-10), آبی ٹوکول (03-10-09), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ حیدر (05-01-10)
پرانا 18-03-10, 01:24 AM   #113
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی جزاک اللہ خیرا ،
میں تو اس دھاگے کو بھول ہی چکا تھا ، اچھا کیا آپ نے کسی اور جگہ اس کا حولہ دے کر یاد کروا دیا کہ ابھی یہاں گفتگو باقی ہے ، اب ان شاء‌اللہ کچھ کچھ بات یہاں‌کرتا ہوں مکمل طور پر تو وقت نہیں دے سکتا لیکن جیسے جیسے اور جتنی جتنی اللہ پاک توفیق عطاء فرمائے گا حاضری دیتا رہوں گا اور کوشش کروں گا کہ جلد ہی اپنی بات ختم کر کے آپ کے جوابات کا منتظر ہو جاوں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہی اچھا ہوتا ہے عابد بھائی کہ آپ ان أئمہ رحمہم اللہ کا نام اور ان کی اس تعریف کا حوالہ بھی ذکر فرما دیتے ، بہر حال میرے بھائی ، یہ تعریف یا شرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے عمومی فرمان ((((( کُلُّ بِدعۃٍضلالۃٌ ::: ہر بدعت گمراہی ہے ))))) میں کوئی تخصیص نہیں بنا سکتی ، اور نہ ہی اس مبارک فیصلہ کے اطلاق میں سے کچھ مُقید کر سکتی ہے ، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے ، یعنی اس مُبارک فیصلہ میں سے کسی ایک بدعت یا چند ایک بدعات کو خارج کرنے کے لیے ، یا بدعات کو اچھی اور بری اقسام میں تقسیم کرنے کے لیے کوئی دوسرا حکم چاہیے جو کہیں میسر نہیں ، ان شاء اللہ اس کے بارے میں اس کی جگہ پر بات ہو گی ، یاد رکھیے میرے بھائی کہ احکامء دِین منطق و فلسفہ کے ذریعے نہیں اپنائے جا سکتے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (18-03-10), محمد عاصم (26-05-10), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ آدم (18-03-10), عبداللہ حیدر (18-03-10)
پرانا 18-03-10, 01:30 AM   #114
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی ان سب باتوں کا جواب بھتیجے عبداللہ حیدر کے مضمون میں """ دین میں اضافہ اور جدید ایجادات و وسائل """" میں موجود ہے ، یہ سب کام دین سے متعلق تو ضرور ہیں لیکن کسی نئےعقیدے یا عبادت کا سبب نہیں ہیں اور نہ ہی بذات خود کوئی عقیدہ یا عبادت محضہ ہیں ، سوائے اس کے کہ اگر کوئی یہ کام اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرے تو وہ صِرف اُس کرنے والے کے لیے وہ عبادت کے درجے میں ہوں گے اور یہ ہر ایسے کام میں مشروع ہے جو کسی طور ممانعت کے زمرے میں نہ آتا ہو، لہذا آپ نے جن کاموں کی مثال دے کر عبادات اور عقائد میں اضافے یا نئے کاموں کو درست کرنے کی کوشش کی ہے اس کی کوئی سبیل نہیں میرے بھائی ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (18-03-10), محمد عاصم (26-05-10), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ آدم (18-03-10), عبداللہ حیدر (18-03-10)
پرانا 18-03-10, 01:45 AM   #115
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی عابد بھائی درست کہا ،""" ہر نئی چیز """کو دینی حکم کے مطابق بدعت قرار دینا گمراہی ہے ، بالکل اسی طرح جس طرح ہر اُس نئی عبادت یا عقیدے کو یا کسی عقیدے کے لیے کسی نئی صفت یا تشریح یا کسی عبادت کے لیے کسی نئی کیفیت جو دین میں سے نہیں ، اور نہ ہی دین میں ہے ، کو بدعت قرار نہ دینا گمراہی ہے ، بلکہ یہ دوسری گمراہی پہلی والی سے زیادہ بڑی اور خوفناک ہے ، دینی طور پر بھی اور دنیاوی طور پر بھی کہ دنیاوی معاملات پر قیاس کرتے ہوٕئے دینی معاملات اور خاص طور پر عقیدے اور عبادات کو اور ان سے متعلقہ معاملات کو """ ہر نئی چیز کو بدعت قرار نہ دینے کے فلسفے""" کی آڑ میں """ اپنی مرضی کے عقإئد اور عبادات """ کو بھی شامل کر لیا جائے اور پھر ایسے مسلمان بنیں گے جو صرف نام کے مسلمان ہوں گے ، اپنی خود ساختہ عبادات کے بدلے میں دُنیا میں مقہور ہوں گے اور آخرت میں بھی
اللہ کے بندے ، میرے محترم بھائی ، کیا آپ واقعتا دِین میں ایجاد کیے گئے نئے کاموں ، نئے عقائد ، نئی عبادات ، یا پہلے سے موجود عقائد اور عبادات میں اضافے یا کمی میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے ؟؟؟؟؟
یا دُنیاوی معاملات میں نئے کاموں کی مثال دے کر دینی شرعی بدعات کی راہ کو جان بوجھ کر صراطء مُستقیم کے ساتھ جوڑ کر اپنے """ تصورات """ کے مطابق اسلام میں """ کشادہ راہیں """ بنانا چاہ رہے ہیں ؟؟؟؟؟
ان شاء اللہ اب کچھ گذارشات کل پیش کرنے کی کوشش کروں گا ، و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-03-10), نورالدین (18-03-10), محمد عاصم (26-05-10), آبی ٹوکول (22-03-10), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ آدم (18-03-10), عبداللہ حیدر (18-03-10)
پرانا 22-03-10, 12:39 AM   #116
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عابد بھائی سب سے پہلے تو میں معذرت خواہ ہوں کہ چار پانچ دنوں بعد یہاں حاضر ہو سکا ہوں ، و الحمد للہ علی کل حال ، آیے اب آپ کے مضمون کے جواب کی طرف چلتے ہیں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟
محترم بھائی ، یہ نکتہ آپ نے خوب نکالا اور شاید آپ اس کو کافی مضبوط دلیل خیال کیے ہوئے کہ اس کا تکرار کیا ہے ،
ایک بات تو یہ بھائی کہ """احدث """ کا عرف عام میں معنیٰ کسی بھی طور """دِین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا """ نہیں ، """ احدث """ فعل ہے اور """ کوئی نئی چیز ایجاد کرنا """ مصدر ، اور دونوں میں بہت فرق ہے ، اور جب اس کو خاص کرتے ہوئے """دِین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا """ کہا جائے تو اس خاص مُقید مفہوم کا سبب حدیث پاک کے ابتدائی الفاظ یعنی """فی امرنا ھذا """ ہیں ،
دوسری بات میرے عابد بھائی ، یہ جو حدیث مبارک آپ نے بیان کی ہے اور اسے صحیح البخاری ، اور صحیح مسلم کی روایت لکھا ہے ، غالباً آپ سے سھو ہوا ہے یا آپ نے اصل کتابوں میں خود سے یہ روایت دیکھی ہی نہیں ، میرے بھائی یہ الفاظ صرف صحیح مسلم کے ہیں ، جبکہ صحیح البخاری کی روایت آپ کے بیان کردہ فلسفے کو مکمل رد کرنے والی ہے ، اگر آپ نے اس روایت کو صحیح البخاری سے منسوب کرنے سے پہلے اسے صحیح البُخاری میں دیکھ لیا ہوتا تو شاید یہ سب کچھ نہ لکھتے ،
جی عابد بھائی، آپ کا کہنا درست ہے کہ حدیث کے الفاظ یہ سمجھا رہے ہیں کہ """ ما لیس منہ ، احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو """ اور اس ایک روایت کے اس مفہوم کو لے کر آپ نے جو لکھا سو لکھا ،
میرے بھائی ، اس حدیث کے الفاظ تو وہی سمجھا رہے ہیں جو آپ نے سمجھا کہ جو کام دین میں سے ہو گا وہ نیا کیسے ہو گا ، اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک عبادت اور عقیدہ جس کی اصل تو دِین میں ہے لیکن اگر اس کی کیفیت یا صفت میں کوئی اضافہ یا تبدیلی کی گئی تو وہ یقینا ً دِین میں ایک نئی چیز ایک نیا کام ہوگا ، لہذا وہ مردود ہو گا ،
آپ نے اپنی اگلی بات(جس کا ابھی جواب پیش کروں گا ان شاء اللہ ) میں مثال کے طور عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ذکر کیا ہے ، اور ایصالء ثواب کا ذکر کیا ، یہ دونوں مثالیں تو ایسی ہیں جن کی کوئی اصل دِین میں ہے ہی نہیں لہذاآپ کی مذکورہ بالا باتوں کا جواب دینے کے لیے میں ایک دو ایسے کاموں کی مثالیں پیش کرتا ہوں جن کاموں کی اصل تو دِین میں ہے لیکن ان کی کیفیات دِین میں نہیں ہیں ،
مثلاً ، ہر اذان سے پہلے اور بعد میں دُرود پڑھنا ، جی ، دیکھیے درود پڑھنا یقیناً ایک بہت نیک اور عظیم اجر والا کام ہے لیکن جب اس کو اپنی طرف سے ایک نئی کیفیت اور ہیئیت دے دی گئی تو اُس نئی کیفیت اور ہیئیت کےساتھ کیے جانے کی صورت میں یہ کام مردود ہوا ،
کسی مرنے والے کی تعزیت کے وقت سورت الفاتحہ پڑھنا ، دیکھیے ، سورت الفاتحہ ایک عظیم سورت ہے جس کے بہت سے فضائل ہیں ، لیکن جب اسے ایک ایسی نئی صفت دے دی گئی جو دِین میں سے نہیں تو اس نئی صفت کے مطابق اس کے بارے میں نیاعقیدہ بنا لیا گیا اور پھر اس نئے عقیدے کے مطابق اسے پڑھنے کا ایک خاص نیا موقع مقرر کر لیا گیا تو ان سب """ احداث """ کی بنا پر اُس عظیم الشان سورت کو پڑھنا مردود ہوا ،
امید ہے اب آپ کو ((((( مَن احدثَ فی اَمرنا ھَذا مَا لَیسَ مِنہُ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دین) میں کوئی ایسا نیا کام بنایا جو اس میں سے نہیں تو وہ کام مردُود ہے ))))) کے بارے میں آپ کی طرف سے بیان کیے گئے مفہوم کی """ کج فہمی """ کا اندازہ ہو جائے گا ، ان شاء اللہ ،
یہاں تک کی بات تو ہوئی کچھ منطقی انداز میں امید ہے کہ اس میں قارئین کو یہ سمجھ آ جائے گا کہ ((((( مَن احدثَ فی اَمرنا ھَذا مَا لَیسَ مِنہُ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دین) میں کوئی ایسا نیا کام بنایا جو اس میں سے نہیں تو وہ کام مردُود ہے ))))) میں سے ’’’ احدث ‘‘‘ سے کیا مراد ہے ،اور اب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اس فرمان پاک پر غور فرمایے جو آپ کے بیان کردہ مفہوم کو یکسر رد کرتا ہے :::
یہ بھی ہماری والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( مَن أَحدَثَ في أَمرِنَا هَذا مَا لَيس فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دین) میں کوئی ایسا نیا کام بنایا جو اس میں نہیں ہے تو وہ کام مردُود ہے ))))) صحیح البُخاری /کتاب الصُلح /باب 5، سنن ابن ماجہ /باب 2 ، مُسند ابی یعلیٰ الموصلی /حدیث 4585 /تابع مُسند عائشہ رضی اللہ عنہا ، (عابد بھائی صحیح البخاری میں یہ الفاظ ہیں وہ نہیں جنہیں آپ نے صحیح البخاری سے منسوب کیا ہے )
لیجیے عابد بھائی ، یہ روایت آپ کی اُس غلط فہمی کو مکمل دور کرتی ہے کہ جو کام دین میں سے ہو اس کو """ احداث """ کے زُمرے میں نہیں لیا جاسکتا ہے ، اس حدیث مبارک کے الفاظ ہمیں صاف بتا رہے ہیں کہ کوئی بھی کام جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے وقت مبارک میں دین میں نہیں تھا وہ مردُود ہے ، یعنی یہ حدیث مبارک ، دوسری حدیث مبارک ((((( کُلُّ بِدعۃٍضلالۃٌ ::: ہر بدعت گمراہی ہے )))) کا مکمل واضح مفہوم دے بتا رہی ہے کہ دِین میں کہیں کسی بدعت کے لیے اچھا ہونے کی گنجائش نہیں ،
اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان بھی ملاحظہ فرمایے ((((( کُلُّ بِدعۃٍ ضلالۃٌ و اِن رآھا النَّاسُ حِسنۃٌ:::ہر بدعت گمراہی ہے خواہ لوگ اسے اچھا ہی سمجھتے ہوں )))))و للہ الحمد ، ان شاء اللہ آپ کی اگلی باتوں یا دلائل کا جواب اگلی فرصت میں حاضر کروں گا ، اور اللہ سے امید کرتا ہوں کہ زیادہ تاخیر نہ ہونے دے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (26-05-10), آبی ٹوکول (22-03-10), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عبداللہ آدم (22-03-10), عبداللہ حیدر (22-03-10)
پرانا 22-03-10, 03:43 PM   #117
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,586
شکریہ: 22,614
4,757 مراسلہ میں 13,832 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اصل مراسلہ:آبی ٹوکول
((لہزا برائے مہربانی اپنی پیش کردہ روایت کی وجہ استدلال کا تحقق فرمائیے محل نزاع میں اس روایت سے استدلال کو بیان فرمایئے نیز یہ وضاحت کیجیئے کہ کس مسئلہ کہ معارض میں آپ نے اس روایت سے دلیل پکڑی اور کس مسئلہ کا مذکورہ روایت سے استنباط فرمایا ہے
بندہ انتظار کرے گا)))

ماشاءاللہ کافی اصطلاحات آتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محل نزاع ((سرکار صلی اللہ علیہ و سلم سے غیر ثابت شدہ اعمال کے ثابت ہونے یا نہ ہونے))میں
(
یہ حدیث مبارکہ جامع و مانع حیثیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس میں اعمال کو دو ہی اقسام میں تقسیم کر دیا گیا ہے؛
وہ جو موجب ثواب ہیں
وہ جو باعث عذاب و عقاب ہیں

اور فرمایا یہ گیا ہے کہ ہر دونوں قسم کے جملہ امور میں بتلا کر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔
اب نیکی وہ ہو گی جو آقا علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بتلائی ہوئی ہو اور برائی بھی وہی ہے جس سے روکا گیا ہو۔۔۔۔
اپنی مرضی،چاہت ،اور خواہش سے جو مرضی ایجاد کیا جائے اب وہ ((ما ترکت)) کے زمرے میں نہیں آسکتا کہ سرکار اس کو چھوڑ کر نہیں گئے اور بعینہ کوئی گناہ بھی نیا قرار نہیں دیا جا سکتا کہ آقا علی الصلٰوۃ والسلام نے اس سے نہیں روکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک وضاحت یہ کر دوں کہ (((عمل)) بمعنٰی وہ عمل ہیں جن پر ثواب کی امید ہو یا عذاب کی وعید ہو۔ایک مثال پیش خدمت ہے کہ کیسے ایک (عمل)جس کی اصل اگرچہ دین میں موجود بھی کیوں نہ ہو بدعت بن جاتا ہے:

باب فی کراہیہ اخذ الرائی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا (میں نے مسجد نبوی میں کچھ لوگوں کو دیکھا کے حلقہ بنائے بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کنکریاں ہیں۔ان میں سے ایک کہتا ہے کہ 100 دفعہ الحمد للہ پڑھو تو وہ پڑھتے ہیں پھر وہ کہتا ہے کہ 100 دفعہ اللہ اکبر کہو تو وہ سب یہ ذکر کرتے ہیں))۔
عبداللہ بن مسعود نے پوچھا کہ آپ نے ان سے کیا کھا؟ کہا کہ آپ کے حکم کا انتظار تھا،
فرمایا ان سے کھو کہ وہ اپنے گناہ شمار کریں،انکی نیکیاں ضائع نہ ہونگی۔پھر آپ رضی اللہ عنہ چل پڑے اور ایک حلقہ کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا میں تمہیں یہ کیا کرتے دیکھ رہا ہوں؟انہوں نے کہا کہ یہ کنکریاں ہیں جن پر ہم تسبیح و تحلیل شمار کرتے ہیں۔
فرمایا: اس کے بدلے میں تم اپنے گناہ شمار کرو تمھاری نیکیاں نہ ضائع ہوں گی۔تم برباد ہو اے امت محمد کیا ہلاکت نے تمہیں اتنی جلدی پا لیا؟یہ تمہارے نبی کے صحابہ ابھی موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ کے کپڑے ابھی پرانے نہیں ہوے،برتن نہیں ٹوٹے،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یا تو تم ملت محمد سے زیادہ ھدایت پر ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو۔

ان لوگوں نے کہا اے ابو عبد الرحمٰن واللہ ہم نے خیر کا ہی ارادہ کیا تھا۔
فرمایا:کتنے ہی خیر کے طالب وہاں تک نہیں پہنچ پاتے ۔بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ((ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑہیں گے لیکن ان کے حلق سے نہیں اترے گا))۔اللہ کی قسم میں نہیں جانتا شاید اسکے مصداق تم میں سے اکثر لوگ ہوں گے۔

حضرت عمر بن سلمہ کا بیان ہے کہ ہم نے دیکھا ان میں سے اکثر لوگ جنگ نھروان میں ہم پر تیر برسا رہے تھے۔(مسند دارمی:المقدمہ،باب فی کراہیہ اخذ الرائی(210))

اب یہ عمل فی نفسہ غلط نہ تھا صرف اذکار کرنے کے نئے یا (محدث) طریقے نے اسے نیکی برباد گناہ لازم بنا دیا۔
جلی عبارات پر ذرا زیادہ غور فرما لیجئے گا عابد بھائی۔امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی کہ بدعت کیا ہوتی ہے۔

اب اس میں سے وجہ استدلال،مسئلہ معارض وغیرہ وغیرہ سب تلاش کر لیں،امید ہے مل جائے گا۔۔۔۔

والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 22-03-10 at 03:47 PM.
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-05-10), محمد عاصم (26-05-10), آصف وسیم (17-09-10), عادل سہیل (23-03-10)
پرانا 26-05-10, 09:32 AM   #118
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,735
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

السلام علیکم
واہ جی واہ
میرے کو اس کا پہلے پتہ کیوں نہیں چلا
عابد صاحب
تھوڑا اور زور لگاو
یہ لوگ آگے نکل رہے ہین

Last edited by shafresha; 26-05-10 at 12:51 PM. وجہ: نامُناسب لفظ‌کا اخراج
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-05-10)
پرانا 26-05-10, 12:53 PM   #119
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی ضِرار السلام علیکم،
الفاظ‌کے استعمال میں‌احتیاط سے کام لیں۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
اُمید ہے کے آپ سمجھ گئے ہوں گے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (26-05-10), اویسی (26-05-10)
پرانا 29-05-10, 09:01 AM   #120
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,735
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 972 بارشکریہ ادا کیا گیا
Cool

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
بھائی ضِرار السلام علیکم،
الفاظ‌کے استعمال میں‌احتیاط سے کام لیں۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
اُمید ہے کے آپ سمجھ گئے ہوں گے!
السلام علیکم
بہت شکریہ شافریشہ صاحب
آپ اگر وہ الفاظ بھی بتا دو جناب
جو آپ کو غلط لگے
تو زیادہ شکریہ کروں گا
ضِرار Derar آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 06:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 10:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 09:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger