| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#61 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَخَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِتَقْوَاكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَنْزِلَتِي الَّتِي أَنْزَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.ترجمہ:-
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : تم ایسا کہہ سکتے ہو لیکن خبردار رہنا ، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں مبالغہ آرائی میں لے ڈوبے ۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کی قسم مجھے یہ بات قطعاََ پسند نہیں ہے کہ تم ( میری تعریف میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے ) مجھے اس مرتبہ سے بھی بلند کر دو جو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے ۔ مسند احمد المجلد الثالث مسند انس بن مالک رضي الله تعالى عنه
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | نورالدین (16-02-10) |
|
|
#62 |
|
Senior Member
![]() |
[QUOTE=حیدر Rehan;266260][B]
محمد و آل محمد (ص) کے خوشی اور غم کے دنوں کو منایا نہ جاسکے ۔[/QUOTE/] ارے بھائی یہ میلاد وغیرہ جیسی غیر ضروری کام تو بعد میں کرنا پہلے یہ تو دیکھ کہ تمہیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ دین نے جو احکامات فرض کیے ہیں۔ جیسے توحید ، نماز ، روزہ اور خاص کر حقوق العباد جیسے کے پڑوسیوں کےحقوق ، اپنے محلے اور معاشرے میں موجود غرباء محتاج مساکین کی امداد یہ سارے کام تو ان لوگوں سے کیے نہیں جاتے چل پڑے ہیں۔ بزرگوں کی یاد منانے یہ یاد منانا تو ایک بہانہ ہے دراصل یہ دین کوپیشہ بنانے والوں کے مفت کھانے کا طریقہ ہے ۔ بزرگوں کو یاد کرنا تو ذہن سے ہوتا ہے۔ غیر ضروری رسومات اور بدعات پر وقت اور پیشہ ضائع کرنے سے نہیں۔ کبھی آپ نے حساب کیا کہ جتنا پیسہ اور وسائل لوگ ان بدعات اور محنت مزدوری سے نالاں ملاّ اور مولویوں پر خرچ کرتے ہیں ۔ یہی پیسہ اگر آپ اپنے معاشرے یا ملک میں موجود غریب یتیم بیوہ محتاج بیمار وں کے فلاح و بہبود پر بھی خرچ کرسکتے ہیں۔ یاد رکھیے اس معاشرے میں کتنے ہی لوگ غربت افلاس بھوک بیماری سے تباہ ہوجاتے ہیں۔ یا مر جاتے ہیں۔ ہمارا ایک ایک پیسہ خواہ ہم براہ راست دیں یا کسی فلاحی ادارے کے توسط سے دیں ان میں سے کتنوں کی زندگی بچانے کے کام آسکتا ہے۔ اور اگر ہم اپنا وقت ، پیسہ اور صلاحیتیں بدعتوں اور غیر ضروری رسموں کے نام پر کھانے والوں پر لٹانے کےبجائے فلاحی کاموں پر لگائیں تو پوری دنیا کہے گی کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔۔ جیسے کہ حضرت عمر فاروق کا یہ قول : " اگر دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے دن عمر (رض) سے سوال ہو گا[QUOTE] آج جب کچھ لوگ ان مقدس ہستوں کے نام پر کچھ کرنا چاہیتے ہیں تو باقی ماندہ مسلمان یہ ثابت کروانا چاہتے ہیں کہ پچھلے لوگوں نے ایسا نہی کیا ویسا نہی کیا تو بھائی وہ بھی یہی سوچتے ہو نگے کہ ایسا نہ ہو ۔ [/QUOTE/] [COLOR="rgb(139, 0, 0)"] اگر آپ کا معذور باپ آپ سے پینے کے لیے پانی مانگے اور آپ پہلے اسے ایک بالٹی پانی دیں وہ کہے کہ اتنا زیادہ نہیں پھر آپ اسے ایک چلو دیں پھر آپ اسے ایک چلو پانی دیں تو بتائیں یہ آپ کا احسان ہوگا تابعداری یا بے وقوفی تو میرے بھائی دین میں جتنا حکم دیا گیا ہے پہلے اتنے پر تو عمل کرلو پر بدعتیں ایجاد کرتے رہنا[/COLOR] [QUOTE] اسی وجہ سے انھو ں نے حضرت محمد (ص) کی دنیا میں آمد اور اس دنیا سے پردہ فرمانے کے دن کو ایک کردیا یعنی 12 تاریخ میں سمو دیا تا کہ نہ آنے کی خوشی مناسکیں اور نہ جانے کا جدا ہونے کا غم منا سکیں (باقی لوگوں کا اتنا قصور تا ہے کہ انھوں نے آواز نہی آٹھائی اور اسی دن کو تسلیم کرلیا ۔ [/QUOTE/] یہ موضوع باقاعدہ تحقیق سے ثابت ہے انشا اللہ اس کتاب کی اسکین کاپی اپ لوڈ کروں گا۔[QUOTE] آج اگر کچھ لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ اپنے رسول اور آخری نبی (ص) کا دن منائیں تو خود ہی بری طرح پھنس گئے اور نکلنا بھی چاہیں تو نکلا مشکل سا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ تاریخ میں ان کتابوں سے واقعی کچھ نہی ملے گا کیونکہ ہے ہی نہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نہ ایسا کرنے دیا گیا ۔ اور جہاں جہاں ہوا وہ باتیں اس وقت بھی شرک کہہ کر رد کردی گئں ۔ [/QUOTE/] [COLOR="rgb(139, 0, 0)"] بزرگوں کی یاد منانے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ان کے نام پر شور و غوغا کیا جائے ان کی تعلیمات پر عمل کتنا کرتے ہیں۔ لوگ ذرا معاشرے میں جائزہ لیں ۔۔ یہ بد مزاجی ، بد نیتی ، ہوس لالچ ، بے حسی بے مروتی ، احساس برتری و کمتری پہلے اس قسم کے جذبات دل میں رکھ ان بزرگوں کی یاد منانا ان بزرگوں کے نام کے ساتھ مذاق ہے۔[/COLOR] [QUOTE] جو میلاد کررہے ہیں انھیں زیا دہ کرنا چاہیے کیونکہ ان پر اپنے ان اجداد کی بھی زمہ داری باقی ہے جو میلاد منا نہی سکے یا یہ کہیں کہ وہ مجبور تھے لیکن اب کیسی مجبوری جمہورت کا دور ہے ۔ ہر شخص اپنی رائے رکھتا ہے اور اس کو کہہ سکتا ہے وہ وقت ختم ہوگیا جب زبانیں کاٹ دی جاتیں تھی حق بات کرنے پر۔ کتابوں سے نہی بلکے عقل و روح سے یقین کریں کہ یہ سہی ہے یا غلط ۔ ۔ [/QUOTE/] [COLOR="rgb(139, 0, 0)"]آپ کون سے کتابوں کو رد کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے لیے تو سب سے پہلی اور بہترین ہدایت کی کتاب "قرآن مجید " ہے کیا کوئی عقل کی بات اس کتاب سے افضل بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ روحانیت اس کتاب سے بڑھ کر ہے کیا۔۔؟[/COLOR][QUOTE] تاج محل کی تعریف کیئے جائیے ۔ تاج محل کی تعریف ہی دراصل اس کے بنانے والے " شاہ جہاں" کی ہی تعریف ہے ۔ اور شاہ جہاں کبھی برا نہی مانے گا ۔ بس اسی طرح محمد و آل محمد (ص) کی تعریف کیے جائے اللہ ہر گز برا نہی مانے گا ۔ کیونکہ محمد و آل محمد (ص) کی تعریف ہی اللہ کی تعریف اور زکر ہے ۔[/QUOTE/] [COLOR="rgb(139, 0, 0)"] انتہائی بودی اور احمقانہ مثال ہے حقائق بچکانہ مثالوں سے نہیں بل کہ قرآن و صحیح جیسے عظیم کتابوں سے ثابت کیے جاتے ہیں۔۔ دعائے خیر کا طالب نورالدین[/COLOR] [QUOTE] |
|
|
|
|
|
#63 | ||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
السلام علیکم محترم نورالدین میں اس موضوع کا حصہ نہیں بننا چاہتا، لکھنے پر کوئی پابندی نہیں ھے دل کھول کر لکھیں مگر کسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں، مثال تو آپ نے بھی ایک پیش کی ھے محترم آپ اپنے کمنٹس جو مثال پر دئے ہیں اسے ایک مرتبہ پھر پڑھیں اور اس کے مطابق جو آپ نے مثال پیش کی ھے کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ وہ قرآن سے لی گئی ھے، ہاں یا نہ ، فیصلہ خود ہی کر لیں۔ والسلام
__________________
|
||
|
|
|
|
|
#64 |
|
Senior Member
![]() |
میں نے مثالیں دینے پر تنقید نہیں کی بلکہ غیر متعلقہ اور حقائق پر فٹ نہ آنے والے مثالوں کی مخالفت کی ہے ۔۔
تاج محل و شاہ جہاں کی مثال اللہ و محمد پر صادق نہیں آتی ۔۔ کیوں کہ اللہ کی تعریف اللہ کی بندگی (ایمان) کے زمرے میں آتی ہے۔ اور محمد کی تعریف درود (عمل) کے زمرے میں ۔۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا : تم ایسا کہہ سکتے ہو لیکن خبردار رہنا ، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں مبالغہ آرائی میں لے ڈوبے ۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں اور اللہ کی قسم مجھے یہ بات قطعاََ پسند نہیں ہے کہ تم ( میری تعریف میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے ) مجھے اس مرتبہ سے بھی بلند کر دو جو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے ۔ مسند احمد المجلد الثالث مسند انس بن مالک رضي الله تعالى عنه میرے مثال دینے کی وجہ یہ تھی کہ ہر حکم کو اس کے درجے کےمطابق مانا جاتا ہے ۔ دین کے جتنے احکامات اللہ اور رسول نے لازم کیے ہیں انہی کو لازم سمجھیں اپنے اوپر ۔ نہ ان احکامات سے زیادہ احکامات بنائیں اور نہ ان احکامات میں کوئی کمی کریں ۔۔ میں نے اتنی ساری باتیں لکھی تھیں ۔۔ کس خلوص نیت سے لکھی تھیں ۔۔ وہ آپ نے نہیں دیکھیں اور نہ ان پر کوئی تبصرہ کیا ۔ ایک بات جو آپ کی سمجھ میں نہ آ سکی اس پر تبصرہ کیا ۔۔ خیر میں تنقید میں بھی اصلاح کا پہلو ہوتا ہے۔ آپ کی تنقید کا شکریہ مزید کا منتظر رہوں گا۔ |
|
|
|
| نورالدین کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (18-02-10) |
|
|
#65 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی نورالدین ۔۔۔۔۔ آپ نے ایسا کیوں سوچا کہ یہ میں نے اپ کے لیے لکھا ہے میں تو اپ کو زیادہ جانتا بھی نہی میں نے موضوع کا جواب دیا تھا ۔ جس طرح اپ نے کسی ایک شخص کا جواب نہی بلکہ پورا مراسلہ پڑھ کے جواب دیا تھا ۔ نہ کہ کسی ایک شخص کو
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (16-02-10) |
|
|
#66 | |||||
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
آپ تو اپنی کہی ہوئی بات کو ہی ماننے سے انکار کر رہے ہیں خیر محترم نورالدین اب آپکی پیش کی ہوئی مثال پر تھوڑی سی تشریح میں جاتے ہیں ، جو آپ نے مثال دی ھے وہ کہاں سے لی ھے اور کیا آپ اپنی مثال کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کا پیش کیا جانا اثر انداز تھا، بھائی آپکی مثال سے عقل کا اندازہ خوب لگایا جا سکتا ھے کہ باپ نے گلاس پانی کا مانگا اور بیٹا انہیں پانی کی بالٹی پیش کر رہا ھے جناب آٓپکی محبت کا تو یہ تقاضا ھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھا اور پکارا جاتا ھے مگر آپ نے تو درود لکھنا گورا ہی نہیں کیا ایسا لکھنا کیا یہ شرم کا مقام نہیں۔ جناب لکھنے پر کوئی پابندی نہیں ھے آپ کے جو ویوز ھیں میلاد پر وہ پہنچائیں دوسرں کا بھی خیال رکھیں۔ میرا کام یہاں تک ہی تھا محبت کا رزلٹ سامنے ہی ھے۔ شکریہ والسلام Last edited by کنعان; 16-02-10 at 07:33 PM. وجہ: Amendment |
|||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#67 |
|
Senior Member
![]() |
پہلے یہ تو دیکھ کہ تمہیں کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ دین نے جو احکامات فرض کیے ہیں۔ جیسے توحید ، نماز ، روزہ اور خاص کر حقوق العباد جیسے کے پڑوسیوں کےحقوق ، اپنے محلے اور معاشرے میں موجود غرباء محتاج مساکین کی امداد یہ سارے کام تو ان لوگوں سے کیے نہیں جاتے چل پڑے ہیں۔ بزرگوں کی یاد منانے یہ یاد منانا تو ایک بہانہ ہے دراصل یہ دین کوپیشہ بنانے والوں کے مفت کھانے کا طریقہ ہے ۔ بزرگوں کو یاد کرنا تو ذہن سے ہوتا ہے۔ غیر ضروری رسومات اور بدعات پر وقت اور پیشہ ضائع کرنے سے نہیں۔ کبھی آپ نے حساب کیا کہ جتنا پیسہ اور وسائل لوگ ان بدعات اور محنت مزدوری سے نالاں ملاّ اور مولویوں پر خرچ کرتے ہیں ۔ یہی پیسہ اگر آپ اپنے معاشرے یا ملک میں موجود غریب یتیم بیوہ محتاج بیمار وں کے فلاح و بہبود پر بھی خرچ کرسکتے ہیں۔ یاد رکھیے اس معاشرے میں کتنے ہی لوگ غربت افلاس بھوک بیماری سے تباہ ہوجاتے ہیں۔ یا مر جاتے ہیں۔ ہمارا ایک ایک پیسہ خواہ ہم براہ راست دیں یا کسی فلاحی ادارے کے توسط سے دیں ان میں سے کتنوں کی زندگی بچانے کے کام آسکتا ہے۔ اور اگر ہم اپنا وقت ، پیسہ اور صلاحیتیں بدعتوں اور غیر ضروری رسموں کے نام پر کھانے والوں پر لٹانے کےبجائے فلاحی کاموں پر لگائیں تو پوری دنیا کہے گی کہ یہ لوگ ہیں جو اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔۔
جیسے کہ حضرت عمر فاروق کا یہ قول : " اگر دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو قیامت کے دن عمر (رض) سے سوال ہو گا [[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ایک بار پھر افسوس کہنا پڑتا ہے۔ کہ آپ نے گزشتہ گفتگو میں میری باتوں میں موجود انسانیت سے متعلق گھمبیر اور اہم مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ایسی ایسی باریکیوں پر دھیان دینا شروع کر دیا ہے جن پر ہمارا دین اسلام اتنا زورنہیں دیتا ہے۔۔ جس کی ایک مثال ایک حدیث ہے کہ " مسند احمد کی ایک روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ ایک پڑوسی کو پیٹ بھر کر کھانا جائز نہیں جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔"کیا آپ نے اس قسم کے مسائل کو کبھی اتنی اہمیت دی ہے نہیں نا ں کیوں کہ آپ مفلس محتاج اور غریب نہیں ان لوگوں سے پوچھیں جو مسلمان بھی ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے منتظر رہتے ہیں مگر ہمارے مسلمان بھائی انسانیت کی بھلائی اور فلاح جیسے کام پر اپنا وقت اور صلاحیت خرچ کرنے کے بجائے فروعی اور فقہی مسائل پر اپنی توانائیاں ضائع کرتے ہیں۔ ایک بار پھر بتا دوں کہ اللہ تو اپنے حقوق معاف کر سکتا ہے۔ مگر بندوں کے حقوق بندوں کے ہی معاف کرنے تک موخر ہو نگے۔۔ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات[COLOR] Last edited by نورالدین; 16-02-10 at 08:49 PM. |
|
|
|
|
|
#68 | ||
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,879
شکریہ: 111
25 مراسلہ میں 74 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ الحمد للہ وحدہُ والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہُ و بعد ۔۔ اس طرح کی جتنی بھی پوسٹس نیٹ پر پھیلی ہیں۔ ان کا مرکز و محور یہ ویب سائٹ اور بالخصوص یہ لنک ہے۔ گذشتہ سال ایک بھائی سے ایک اور فورم پر اس موضوع پر گفتگو ہوئی تھی جو بوجوہ آگے نہ بڑھ سکی تھی۔ صرف ایک آیت پر بات ہوئی تھی، وہی یہاں بھی پیش کررہا ہوں: محترم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحب (نام حذف کررہا ہوں) نے چند آیاتِ قرآنی "عید میلاد" کی دلیل کے طور پر پیش کی تھیں، یہاں ہم ان کا جائزہ معتبر تفاسیر کی رُو سے لیں گے۔ (فی الوقت صرف ایک آیت کا، جو انہوں نے سب سے پہلے ذکر کی) تاکہ معلوم ہو کہ اِن آیات سے "عید میلاد" کا کوئی ثبوت حقیقتاً دُرست بھی ہے یا نہیں؟ ۔۔۔۔۔ صاحب لکھتے ہیں: اقتباس:
(1) تفسیر "تفسير القرآن العظيم" جو "تفسیر ابنِ کثیر" کے نام سے معروف ہے۔ مؤلف: إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي الدمشقي (متوفى: 774هـ): {وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا} ترجمہ: اور ان (یحییٰ علیہ السلام) پر سلام ہے جس دن پیدا ہوا اور جس دن وفات ہو اور جس دن اٹھ کھڑا ہو زندہ ہوکر۔ أي: له الأمان في هذه الثلاثة الأحوال." یعنی اُن (یحییٰ علیہ السلام) کیلئے امان ہے ان تین مواقع پر" (پیدائش، وفات، بعث بعد الموت)" وقال سفيان بن عيينة: أوحش ما يكون الخلق في ثلاثة مواطن: يوم يولد، فيرى نفسه خارجًا مما كان فيه، ويوم يموت فيرى قومًا لم يكن عاينهم، ويوم يبعث، فيرى نفسه في محشر عظيم. قال: فأكرم الله فيها يحيى بن زكريا فخصه بالسلام عليه، {وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا}" اور سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے کہا: "تین مواقع مخلوق (انسان) کیلئے وحشت ناک ترین ہیں، (1) جس دن وہ پیدا ہوا، تو اپنے حال کو اُس سے مختلف دیکھتا ہے جس میں وہ پہلے تھا، (2) موت والے دن، سو اُس دن وہ ایسی مخلوق کو دیکھتا ہے جس سے پہلے اُس کا واسطہ نہیں پڑا۔ (3) اور جس دن اُسے اٹھایا جائے گا (محشر) سو اپنے آپ کو ایک (اولین و آخرین انسانوں کے) عظیم مجمع میں دیکھے گا۔ پس اللہ سبحانہ و تعالی نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کا اکرام کیا اور انہیں (ان تین مواقع پر) سلامتی سے خاص کیا۔ (آیت کا ترجمہ اوپر ہوچکا)۔" (2) تفسیر "الجامع لأحكام القرآن"، جو "تفسیر القرطبی" کے نام سے معروف ہے۔ مؤلف: محمد بن أحمد بن أبي بكر الخزرجي شمس الدين القرطبي (متوفى:671 هـ) قوله تعالى: {وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ} قال الطبري وغيره: معناه أمان. " اللہ تعالی کے اس قول (اور ان پر سلامتی ہو جس دن وہ پیدا ہوئے) کے بارے میں طبری (ابو جعفر الطبری) وغیرہ نے کہا کہ اس کے معنی ہیں "امان" (سلامتی)۔ ابن عطية: والأظهر عندي أنها التحية المتعارفة فهي أشرف وأنبه من الأمان؛ لأن الأمان متحصل له بنفي العصيان عنه وهي أقل درجاته، وإنما الشرف في أن سلم الله عليه، وحياه في المواطن التي الإنسان فيها في غاية الضعف والحاجة وقلة الحيلة والفقر إلى الله تعالى عظيم الحول." (جبکہ) ابن عطیہ نے کہا: یہ (سلام) وہی تحیۂ معروف ہے اور یہ زیادہ افضل ہے بہ نسبت امان کے، کیونکہ امان تو انہیں (یحییٰ علیہ السلام کو) ویسے ہی حاصل ہے کہ وہ گناہوں سے محفوظ ہیں اور اِس کا درجہ کمتر ہے۔ اور شرف تو اس بات میں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اُن پر سلامتی بھیجی، اور (یہ سلامتی) ایسے مواقع کیلئے تھی جن میں انسان غایت درجہ کے ضعف، حاجت مندی، قلتِ تدبیر میں مبتلا اور اللہ ( کی رحمت) کا محتاج ہوتا ہے۔" "قلت: وهذا قول حسن" "میں (امام قرطبی) کہتا ہوں کہ یہ قول حسن ہے" (3) تفسیر "جامع البيان في تأويل القرآن" جو "تفسیر الطبری" کے نام سے معروف ہے مؤلف: محمد بن جرير أبو جعفر الطبري (متوفى:310هـ) يقول: وأمان من الله يوم ولد، من أن يناله الشيطان من السوء، بما ينال به بني آدم، وذلك أنه رُوي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "كُلُّ بَنِي آدَمَ يَأْتي يَوْمَ القِيامَةِ وَلَهُ ذَنْبٌ إلا ما كانَ مِنْ يَحْيَى بنِ زَكَريَّا". "(کہتے ہیں) اور امان ہے اللہ کی جانب سے جس دن وہ پیدا ہوئے، (امان اِس بات سے کہ) شیطان کی جانب سے کوئی شر انہیں پہنچے۔ جیسا کہ شیطان کا شر بنی آدم کو پہنچتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمام بنی آدم قیامت کے دن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن پر (کوئی) گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے۔" وقوله (وَيَوْمَ يَمُوتُ) يقول: وأمان من الله تعالى ذكره له من فَتَّاني القبر، ومن هول المطلع (وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا) يقول: وأمان له من عذاب الله يوم القيامة، يوم الفزع الأكبر، من أن يروعه شيء، أو أن يفزعه ما يفزع الخلق. "(اور جس دن اُن کی وفات ہوئی) یہ امان ہے اللہ سبحانہ و تعالی کی جانب سے اُن کیلئے قبر کے فتنوں سے۔ (اور جس دن وہ اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہوکر) اور یہ امان ہے اللہ کے عذاب سے، بڑی گھبراہٹ کے دن کہ وہ کسی بات سے ڈریں، یا انہیں وہ بات گھبراہٹ میں ڈال دے جس نے مخلوق کو گھبراہٹ میں ڈال رکھا ہوگا" قال: أخبرني صدقة بن الفضل قال: سمعت ابن عطية يقول: أوحش ما يكون الخلق في ثلاثة مواطن: يوم يولد فيرى نفسه خارجا مما كان فيه، ويوم يموت فيرى قوما لم يكن عاينهم، ويوم يُبعث فيرى نفسه في محشر عظيم، قال: فأكرم الله فيها يحيى بن زكريا، فخصه بالسلام عليه، فقال( وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا ). اِس روایت کا ترجمہ اوپر ہوچکا ہے تفسیر ابنِ کثیر کے ذیل میں۔ (تین وحشت ناک مواقع) حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، قال: ثنا سعيد، عن قتادة، أن الحسن قال: إن عيسى ويحيى التقيا فقال له عيسى: استغفر لي، أنت خير مني، فقال له الآخر: استغفر لي، أنت خير مني، فقال له عيسى: أنت خير مني ، سَلَّمت على نفسي، وسلَّم الله عليك، حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: "حضرت عیسی و یحییٰ علیہما السلام کی ملاقات ہوئی تو حضرت عیسی نے حضرت یحییٰ سے فرمایا: "میرے لیے استغفار کریں، آپ مجھ سے بہتر ہیں" حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: "آپ میرے لیے استغفار کریں، آپ مجھ سے بہتر ہیں" تو عیسی علیہ السلام نے اُن سے فرمایا: "آپ مجھ سے بہتر ہیں، میں نے اپنے اوپر سلام بھیجا، اور آپ کے اوپر اللہ نے سلام بھیجا ہے" (4) تفسير الجلالين مؤلفين: جلال الدين محمد بن أحمد المحلي (متوفى : 864هـ) اور جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر السيوطي (متوفى : 911هـ) "وَسَلَام" مِنَّا "عَلَيْهِ يَوْم وُلِدَ وَيَوْم يَمُوت وَيَوْم يُبْعَث حَيًّا" أَيْ : فِي هَذِهِ الْأَيَّام الْمَخُوفَة الَّتِي يَرَى مَا لَمْ يَرَهُ قَبْلَهَا فَهُوَ آمِن فِيهَا "اور سلام ہماری (اللہ کی) جانب سے اُن پر ۔۔۔۔ یعنی: اِن خوف میں مبتلا ردینے والے دنوں میں جس دن وہ دیکھیں گے (یا انہوں نے دیکھا ہے) وہ جو اِس سے قبل نہیں دیکھا۔ پس وہ ان دنوں میں امن سے ہوں گے۔" (5) تفسیر "الدر المنثور في التأويل بالمأثور" مؤلف: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (متوفى:911هـ) { وسلام عليه } يعني حين سلم الله عليه { يوم ولد ويوم يموت ويوم يبعث حياً } "(اور سلام ہو ان پر) یعنی (وہ مواقع) جب اللہ نے اُن پر سلام کیا۔ (اور ان پر سلام ہے جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مرے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں زندہ ہوکر) (6) تفسیر "فتح القدير الجامع بين فني الرواية و الدراية من علم التفسير" مؤلف: محمد بن علي بن محمد الشوكاني (متوفى : 1250هـ) {وسلام عَلَيْهِ} قال ابن جرير وغيره : معناه : أمان عليه من الله . (اور سلام ہو ان پر) ابنِ جریر وغیرہ نے کہا: امان (سلامتی) اُن (یحییٰ علیہ السلام) پر اللہ کی جانب سے"۔ قال ابن عطية : والأظهر عندي أنها التحية المتعارفة ، فهي أشرف وأنبه من الأمان لأن الأمان متحصل له بنفي العصيان عنه ، وهو أقلّ درجاته ، وإنما الشرف في أن يسلم الله عليه ، ومعنى { يَوْمَ وُلِدَ } أنه أمن من الشيطان وغيره في ذلك اليوم ، أو أن الله حياه في ذلك اليوم ، وهكذا معنى { يَوْمَ يَمُوتُ } وهكذا معنى { يَوْمَ يُبعثُ حَياً } قيل : أوحش ما يكون الإنسان في ثلاثة مواطن: يوم ولد لأنه خرج مما كان فيه ، ويوم يموت لأنه يرى قوماً لم يكن قد عرفهم وأحكاماً ليس له بها عهد ، ويوم يبعث لأنه يرى هول يوم القيامة . فخصّ الله سبحانه يحيى بالكرامة والسلامة في المواطن الثلاثة . (اِن دونوں روایات کے معنی اوپر ذکر ہوچکے ہیں، تفسیر ابنِ کثیر اور تفسیر ابنِ جریر کے ذیل میں) (7) تفسیر "معالم التنزيل" جو "تفسیر البغوی" کے نام سے معروف ہے۔ مؤلف : محيي السنة ، أبو محمد الحسين بن مسعود البغوي (متوفى:510هـ) {وَسَلامٌ عَلَيْهِ} أي: سلامة له، {يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا} قال سفيان بن عيينة: أوحش 6/ب (2) ما يكون الإنسان في هذه الأحوال: يوم ولد فيخرج مما كان فيه، ويوم يموت فيرى قوما لم يكن عاينهم، ويوم يبعث فيرى نفسه في محشر لم ير مثله. فخص يحيى بالسلامة في هذه المواطن (اور سلام ہو اُن پر) یعنی سلامتی ہے اُن کیلئے۔ (آگے حضرت سفیان بن عینیہ سے اِس آیت کی تفسیر میں منقول وہی روایت ہے جِس کا ترجمہ بیان کیا جاچکا ہے۔ (وحشت کے تین مواقع)۔ (8) تفسیر "أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن" مؤلف : محمد الأمين بن محمد المختار الشنقيطي (متوفى:1393هـ) وقوله تعالى في هذه الآية الكريمة: {وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَياً} [19/15]، قال ابن جرير: وسلام عليه أي أمان له. وقال ابن عطية: والأظهر عندي أنها التحية المتعارفة، فهي أشرف من الأمان، لأن الأمان متحصل له بنفي العصيان عنه وهو أقل درجاته، وإنما الشرف في أن سلم الله عليه وحياه في المواطن التي الإنسان فيها في غاية الضعف والحاجة،وقلة الحيلة والفقر إلى الله تعالى عظيم الحول. انتهى كلام ابن عطية بواسطة نقل القرطبي في تفسير هذه الآية، ومرجع القولين إلى شيء واحد، لأن معنى سلام، التحية، الأمان، والسلامة مما يكره. وقول من قال: هو الأمان. يعني أن ذلك الأمان من الله. والتحية من الله معناها الأمان والسلامة مما يكره. والظاهر المتبادر أن قوله: {وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ} تحية من الله ليحيى ومعناها الأمان والسلامة. وقوله: {وَسَلَامٌ عَلَيْهِ} مبتدأ، وسوغ الابتداء به وهو نكرة أنه في معنى الدعاء، وإنما خص هذه الأوقات الثلاثة بالسلام التي هي وقت ولادته، ووقت موته، ووقت بعثه، في قوله: {يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ...} الآية؛ لأنها أوحش من غيرها. قال سفيان بن عيينة: أوحش ما يكون المرء في ثلاثة مواطن: يوم يولد فيرى نفسه خارجاً مما كان فيه ويوم يموت فيرى قوماً لم يكن عاينهم. ويوم يبعث فيرى نفسه في محشر عظيم. قال: فأكرم الله فيها يحيى بن زكريا فخصه بالسلام عليه فيها. رواه عنه ابن جرير وغيره. وذكر ابن جرير الطبري في تفسير هذه الآية بإسناده عن الحسن رحمه الله قال: إن عيسى ويحيى التقيا فقال له عيسى: استغفر لي، أنت خير مني. فقال الآخر: استغفر لي، أنت خير مني. فقال عيسى: أنت خير مني، سلمت على نفسي وسلم الله عليك. وقد نقل القرطبي هذا الكلام الذي رواه ابن جرير عن الحسن البصري رحمه الله تعالى. صاحبِ تفسیر نے امام ابنِ جریر و امام قرطبی رحمہما اللہ کی تفاسیر سے وہی اقوال اور روایات نقل کی ہیں جو اوپر ترجمہ سمیت بیان ہوچکیں۔ (9) تفسیر "البیضاوی" مؤلف: امام بیضاوی (متوفی: 685 ھـ) وسلام عليه (من الله) يوم ولد (من أن يناله الشيطان بما ينال به بني آدم) ويوم يموت (من عذاب القبر) ويوم يبعث حيا (من عذاب النار القيامة) اور اُن پر سلام ہو (اللہ کی جانب سے) جس دن وہ پیدا ہوئے (کہ انہیں شیطان کا شر پہنچے جیسا کہ دوسری اولادِ بنی آدم کو پہنچتا ہے) اور جس دن ان کی وفات ہو (عذاب قبر سے سلامتی ہو) اور جس دن وہ اٹھ کھڑے ہوں زندہ ہوکر (تو آگ کے عذاب سے قیامت کے دن (سلامتی میں ہوں گے) (10) "تفسير الفخر الرازي" جو "مفاتيح الغيب" کے نام سے معروف ہے مؤلف: إمام فخر الدين رازى قوله: {وسلام عليه يوم ولد ويوم يموت ويوم يبعث حيا} وفيه أقوال: أحدها: قال محمد بن جرير الطبري: {وسلام عليه} أي أمان من الله يوم ولد من أن يناله الشيطان كما ينال سائر بني آدم: {ويوم يموت} أي وأمان عليه من عذاب القبر: {ويوم يبعث حيا} أي ومن عذاب القيامة. وثانيها: قال سفيان بن عيينة أوحش ما يكون الخلق في ثلاثة مواطن يوم يولد فيرى نفسه خارجا مما كان فيه، ويوم يموت فيرى قوما ما شاهدهم قط، ويوم يبعث فيرى نفسه في محشر عظيم فأكرم الله يحيى عليه الصلاة والسلام فخصه بالسلام عليه في هذه المواطن الثلاثة. وثالثها: قال عبد الله بن نفطوية: {وسلام عليه يوم ولد} أي أول ما يرى الدنيا {ويوم يموت} أي أول يوم يرى فيه أول أمر الآخرة {ويوم يبعث حيا} أي أول يوم يرى فيه الجنة والنار وهو يوم القيامة. امام رازی علیہ رحمۃ اللہ نے اِس کی تفسیر میں تین اقوال ذکر کیے ہیں۔ پہلا امامِ تفسیر ابن جریر الطبری رحمہ اللہ کا، جو اوپر ذکر ہوچکا ہے، دوسرا سفیان ابنِ عینیہ کا، یہ بھی بیان ہوچکا ہے۔ جبکہ تیسرا قول "عبد اللہ بن نفطویۃ" کا ہے (جو تھوڑا سا پہلے دو اقوال سے مختلف ہے) کہ "یعنی جب وہ پہلی مرتبہ دنیا دیکھیں گے، اور پہلی مرتبہ آخرت کا کوئی امر دیکھیں گے، اور وہ پہلا دن جب وہ جنت اور آگ (دوزخ) کو دیکھیں گے اور وہ یومِ قیامت ہے۔ (تو اِن تینوں مواقع میں اُن پر سلامتی کی خبر ہے) ۔ (11) تفسیر: تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان مؤلف: عبد الرحمن بن ناصر بن عبد الله السعدي (المتوفى :1376هـ) وذلك يقتضي سلامته من الشيطان، والشر، والعقاب في هذه الأحوال الثلاثة وما بينها، وأنه سالم من النار والأهوال، ومن أهل دار السلام، فصلوات الله وسلامه عليه وعلى والده وعلى سائر المرسلين، وجعلنا من أتباعهم، إنه جواد كريم. "یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالی کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دار السلام میں سے ہیں۔۔۔ اللہ تعالی کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالی ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سختی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔" خلاصۂ کلام: اوپر ہم نے ائمۂ تفسیر اور مشہور متقدمین و متاخرین مفسرینِ ۔ ابن جریر الطبری، ابنِ کثیر، قرطبی، جلال الدین سیوطی، بیضاوی، فخر الدین رازی، ابو محمد البغوی، محمد الشنقیطی، شوکانی، و عبد الرحمن السعدی رحمہم اللہ اجمعین کی تفاسیر کی روشنی میں سورۂ مریم کی آیت 15 کا جائزہ لیا اور ہمیں اِس کی تفسیر میں روایات اور اقوالِ مفسرین سے یہ باتیں معلوم ہوئیں: 1: حضرت یحییٰ علیہ السلام کیلئے امان ہے اِن تین مواقع پر۔ (حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ) 2: سخت وحشت کے مواقع یہ تین ہوتے ہیں لہذا ان تین مواقع میں حضرت یحییٰ علیہ السلام پر سلامتی کا بیان خصوصی طور پر کیا گیا جس سے ان کا شرف و فضیلت ظاہر ہوئی۔ (سفیان ابنِ عینیہ) 3: یہ (سلام) وہی تحیۂ معروف ہے اور یہ زیادہ افضل ہے بہ نسبت امان کے، کیونکہ امان تو انہیں (یحییٰ علیہ السلام کو) ویسے ہی حاصل ہے کہ وہ گناہوں سے محفوظ ہیں اور اِس کا درجہ کمتر ہے۔ اور شرف تو اس بات میں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اُن پر سلامتی بھیجی، اور (یہ سلامتی) ایسے مواقع کیلئے تھی جن میں انسان غایت درجہ کے ضعف، حاجت مندی، قلتِ تدبیر میں مبتلا اور اللہ ( کی رحمت) کا محتاج ہوتا ہے۔" (ابنِ عطیہ کا قول، امام قرطبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی تفسیر میں ذکر کیا اور اسے حسن کہا) 4: امان ہے اللہ کی جانب سے جس دن وہ پیدا ہوئے، (امان اِس بات سے کہ) شیطان کی جانب سے کوئی شر انہیں پہنچے۔ جیسا کہ شیطان کا شر بنی آدم کو پہنچتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمام بنی آدم قیامت کے دن اِس حال میں آئیں گے کہ اُن پر (کوئی) گناہ ہوگا سوائے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے۔" (ابن جریر الطبری رحمہ اللہ) 5: یہ امان ہے قبر کے فتنوں سے، بڑی گھبراہٹ والے دن کے عذاب سے (ابن جریر الطبری رحمہ اللہ) 6: ابنِ جریر رحمہ اللہ ہی نے یہ روایت نقل کی کہ: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: "حضرت عیسی و یحییٰ علیہما السلام کی ملاقات ہوئی تو حضرت عیسی نے حضرت یحییٰ سے فرمایا: "میرے لیے استغفار کریں، آپ مجھ سے بہتر ہیں" حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: "آپ میرے لیے استغفار کریں، آپ مجھ سے بہتر ہیں" تو عیسی علیہ السلام نے اُن سے فرمایا: "آپ مجھ سے بہتر ہیں، میں نے اپنے اوپر سلام بھیجا، اور آپ کے اوپر اللہ نے سلام بھیجا ہے" ۔۔۔۔۔ 7: تفسیر الجلالین اور "الدر المنثور" ہر دو میں بھی اِس کی یہی تفسیر بیان کی گئی کہ آیت میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کیلئے اِن تین مواقع پر سلامتی کا بیان ہوا۔ 8: "عبد اللہ بن نفطویۃ" کا قول کہ "یعنی جب وہ پہلی مرتبہ دنیا دیکھیں گے، اور پہلی مرتبہ آخرت کا کوئی امر دیکھیں گے، اور وہ پہلا دن جب وہ جنت اور آگ (دوزخ) کو دیکھیں گے اور وہ یومِ قیامت ہے۔ (تو اِن تینوں مواقع میں اُن پر سلامتی کی خبر ہے) ۔ جی ۔۔۔۔ تو یہ تھیں اِس آیت کی صحیح تفسیر روایتاً و درایتاً۔ اگرچہ اِس کی بھی کوئی خاص حاجت نہیں تھی، ہر ذی فہم یہ سمجھ سکتا ہے کہ آیا اِن آیات سے بارہ ربیع الاول کو مروجہ "عیدِ میلاد" کی کوئی دلیل ملتی ہے یا نہیں۔ لیکن اتمامِ حجت کیلئے میں اتنی تفصیل میں گیا۔ سو میری درخواست ہے کہ مزید اب قرآن مجید کی آیات کی من مانی تشریحات کرنے سے ہاتھ روک لیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان کو پیشِ نظر رکھا جائے کہ: : "جس نے قرآن میں بغیر علم کے (اپنی رائے سے) کوئی بات کی، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے" (ترمذی نے اسے اسنادِ حسن کے ساتھ روایت کیا ہے) قرآن مجید کی کون سی تفسیر معتبیر ہے؟: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ تفسیر چار پہلوؤں پر کی جاسکتی ہے: (1) وہ کلام عرب میں معروف ہو۔ (2) تفسیر ایسی ہو کہ کوئی شخص اس کی لاعلمی کا عذر نہ کرسکے۔ (بالکل نئی بات نہ بیان کی جائے، جیسا کہ ہمیں یہاں دیکھنے کو مل رہا ہے) (3) علمائے کرام اسے جانتے ہوں۔ (4) جن آیات کی تفسیر اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کوئی اسے جاننے کا دعویٰ رکھتا ہو، سو ایسا شخص جھوٹا ہے۔ (مقدمۂ تفسیر ابنِ کثیر) مزے کی بات یہ بھی دریافت کی جانی چاہیے قائلین میلاد سے ۔۔۔ کہ آیتِ مذکور میں وارد "یوم ولد" (جس دن وہ پیدا ہوئے) سے اگر "عیدِ میلاد" ثابت ہوتی ہے۔ "یوم یموت" (جس دن اُن کی وفات ہوئی) سے "عید وفات" یا "عیدِ ممات" بھی تو منانا ضروری قرار پایا۔۔۔ جس طرح سلام یومِ ولادت کیلئے ہے اُسی طرح یومِ وفات کیلئے بھی ہے۔ مگر اُس کا کوئی تذکرہ نہیں۔ گویا خود اپنے استدلال کی رو سے بھی آیت کے ایک جزء کو تو مانتے ہیں مگر دوسرے جزء سے (ان ہی کے استدلال سے جو ثابت ہوتا ہے، اس کا) انکار کرتے ہیں۔ (ترجمہ) "کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟" (البقرۃ:85) والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ Last edited by احمد غزنوی; 17-02-10 at 11:05 AM. |
||
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-02-10), فیصل ناصر (17-02-10), نورالدین (17-02-10), محمد عاصم (26-09-11), آصف وسیم (17-09-10), عادل سہیل (18-02-10), عبداللہ آدم (19-02-10), عبداللہ حیدر (17-02-10) |
|
|
#69 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#70 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2008
مراسلات: 33
کمائي: 1,879
شکریہ: 111
25 مراسلہ میں 74 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ آپ کے شکریے کا شکریہ عبد اللہ بھائی۔ یہ نکتہ جو آپ نے اقتباس میں نقل کیا ہے، تفسیر احسن البیان میں دیکھا تھا اور جہاں پہلے یہ تحریر بھیجی تھی وہاں حوالہ ہمراہ تھا۔ یہاں بھی قارئین نوٹ فرمالیں۔ والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے احمد غزنوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#71 |
|
Senior Member
![]() |
قرآن مجید کی کون سی تفسیر معتبیر ہے؟:
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ تفسیر چار پہلوؤں پر کی جاسکتی ہے: (1) وہ کلام عرب میں معروف ہو۔ (2) تفسیر ایسی ہو کہ کوئی شخص اس کی لاعلمی کا عذر نہ کرسکے۔ (بالکل نئی بات نہ بیان کی جائے، جیسا کہ ہمیں یہاں دیکھنے کو مل رہا ہے) (3) علمائے کرام اسے جانتے ہوں۔ (4) جن آیات کی تفسیر اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کوئی اسے جاننے کا دعویٰ رکھتا ہو، سو ایسا شخص جھوٹا ہے۔ (مقدمۂ تفسیر ابنِ کثیر) ماشاء اللہ و جزاک اللہ غزنوی بھائی ماشاء اللہ بہت محنت سے آپ نے دلائل اکٹھے کیے ہیں اس قسم کے موضوعات پر اسی انداز سے کام ہونا چاہیے تا کہ زندگی کا مقصد جاننے کے کوشش کرنے والے قرآن و حدیث کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں۔۔ ایک بار پھر بہت بہت جزاک اللہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#72 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
حق ادا کیا بھائی،اللہ کرے زور ایمان اور زیادہ،آمین
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | sahj (19-02-10), عبداللہ حیدر (19-02-10) |
|
|
#73 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 183
کمائي: 4,287
شکریہ: 418
101 مراسلہ میں 438 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ارشاد باری تعالی ہوا ، ( اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ ) ۔ ( ابراہیم ، 5 ) امام المفسرین سیدنا عبد اللہ بن عباس ( رضی اللہ عنہما ) کے نزدیک ایام اللہ سے مراد وہ دن ہیں۔جن میں رب تعالی کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو ۔ ( ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت و معراج کے دن ہیں ، ان کی یا د قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے)۔ (تفسیر خزائن العرفان) بلاشبہ اللہ تعالی کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہوا ، ( بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا)۔ (آل عمران ،164) آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالی نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ ارشاد ہوا ، ( اے حبیب ! ) تم فرماؤ ( یہ ) اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت ( سے ہے ) اور اسی چاہیے کہ خوشی کریں ، وہ ( خو شی منانا ) ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے ) ۔ ( یونس ، 58 ) ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرما یا، (اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو)۔ (الضحی 11، کنز الایمان) خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللہ تعالی کے دن یا د دلانا بھی ہے، اس کی نعمت عظمی کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔ اگر ایمان کی نظر سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکر میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سنت بھی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی۔ سورہ آل عمران کی آیت ( 81 ) ملاحظہ کیجیے ۔ رب ذوالجلا ل نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا ۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللہ تعالی نے منعقد فرمایا ۔ اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ کی چند محافل کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔ (جامع ترمذی ج 2 ص 201) آپ نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 65) حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے (اسد الغابہ ج 2 ص 129) اسی طرح حضرات کعب بن زبیر ، سواد بن قارب ، عبد اللہ بن رواحہ ، کعب بن مالک و دیگر صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کی نعتیں کتب احادیث و سیرت میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عید یں ہیں لہذا تیسری عید حرام ہے ۔ ( معاذ ا للہ ) اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجئے ۔ ارشاد باری تعالی ہے ، ( عیسیٰ بن مریم نے عرض کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! ہم پر آسمان سے ایک ( کھانے کا ) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی)۔ (المائدہ ، 114، کنزالایمان) صدر الافاضل فرماتے ہیں ، ( یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنائیں ، اسکی تعظیم کریں ، خوشیاں منائیں ، تیری عبادت کریں ، شکر بجا لا ئیں ۔ اس سے معلوم ہو ا کہ جس روز اللہ تعالی کی خاص رحمت نازل ہو ۔ اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں بنانا ، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے ۔ اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلاد شریف پڑھ کر شکر الہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سرور کرنا مستحسن و محمود اور اللہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے ) ۔ ( تفسیر خزائن العرفان )۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت (الیوم اکملت لکم دینکم ) تلاوت فرمائی تو ایک یہود ی نے کہا، اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں، عید جمعہ اور عید عرفہ۔ (ترمذی) پس قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللہ تعالی کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحی حضور ﷺ ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولی عید قرار پایا۔ عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں کہ اسی عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر محدثین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ شب میلاد مصفطے صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے افضل ہے، کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہو اس لیے وہ ہزار مہنوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکہ شب قدر سے افضل نہ ہو گی؟ (ماثبت بالستہ) جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ ابو لہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسے خ-واب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا ، مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا، تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔ امام ابن جزری فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابو لہب جیسے کافر کا یہ حا ل ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے ۔ حالانکہ ا س کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا ۔ جو میلاد کی خوشی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے ۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے افضل و کرم سے جنت نعیم میں داخ-ل فرمادے ۔ ( مواہب الدنیہ ج 1 ص 27 ، مطبوعہ مصر ) اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالق کائنات نے اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن عید میلاد کیسے منایا؟ سیرت حلبیہ ج 1 ص 78 اور خصائص کبری ج 1 ص 47 پر یہ روایت موجود ہے کہ (جس سال نور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت ، تر و تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہل قریش اس سے قبل معاشی بد حالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہل قریش خوشحال ہوگئے ) ۔ اہلسنت اسی مناسبت سے میلاد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی خوسی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں ۔ اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں۔ آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ، (میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے(۔ (مشکوہ) حضرت آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہوگئی ) ۔ (طبقاب ابن سعد ج 1 ص 102، سیرت جلسہ ج 1 ص 91) ہم تو عید میلاد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے گھروں ا ور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں ، خالق کائنات نے نہ صرف سا ر ی کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کردیا ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص ( رضی اللہ عنہ ) کی والدہ فرماتی ہیں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی ، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا ۔ اور ستارے زمین کے اتنے قریب آگئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 94 ، خصائص کبری ج 1 ص 40 ، زرقانی علی المواہب 1 ص 114) سیدتنا آمنہ ( رضی اللہ عنہا ) فرماتی ہیں ، ( میں نے تین جھندے بھی دیکھے ، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا ۔ دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خا نہ کعبہ کی چھت پر لہرارہا تھا ) ۔ ( سیرت حلبیہ ج 1 ص 109 ) یہ حدیث ( الو فابا حوال مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ) مےں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے ۔ اس سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرئہ رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ جب آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیان مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا۔ حدیث شریف میں ہے کہ مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چرھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے، یہ سب با آواز بلند کہہ رہے تھے، یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔(صحیح مسلم جلد دوم باب الھجرہ) جشن عید میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیش خدمت ہیں ۔ جن سے ثا بت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے ۔ محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی 597 ھ) فرماتے ہیں، (مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ ، یمن ، مصر، شام اور تمام عالم اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافل میلاد کا انعقاد کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں)۔ (المیلاد النبوی ص 5 ![]() امام ابن حجر شافعی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 852 ھ ) فرماتے ہیں ، ( محافل میلاد و اذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات ذکر الہی اور بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے)۔ (فتاوی حدیثیہ ص 129) امام جلال الدین سیوطی ( رحمہ اللہ ) ۔ ( م 911 ھ ) فرماتے ہیں ، ( میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع تلاوت قرآن ، حیات طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے ۔ جن پر ثواب ملتا ہے ۔ کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا ا ظہا ر ہوتا ہے ) ۔ ( حسن المقصد فی عمل المولدنی الہاوی للفتاوی ج 1 ص 189) امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م 923ھ) فرماتے ہیں، (ربیع الاول میں تمام اہل اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلادکی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے ۔ اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض و عناد ہے)۔ (مواہب الدنیہ ج 1 ص 27) شاہ عبد الرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ ( والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ ، م 1176 ھ ) فرماتے ہیں کہ میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا ۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہو ا ، میں نے وہی چنے تقسیم کرد یے ۔ رات کو خواب میں آقا و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو اتو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئے چنے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بیحد خوش اور مسرور ہیں۔ (الدار الثمین ص ![]() ان دلائل و براہین سے ثابت ہوگیا کہ میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امت مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے ۔ از: سید شاہ تراب الحق قادری رضوی |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#74 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور بدعت کی تقسیم کے بارے میں درج ذیل کتاب کا مطالعہ کرنے کا مشورہ پیش کرتا ہوں ، """ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """ """ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور ہم """ اس کتاب میںعید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کےحق میں دیے جانے والے تقریبا سب سے زیادہ مضبوط دلإئل کا ان شاء اللہ شافی و کافی جواب موجود ہے ، جو قاری بھی تحمل اور بردباری کے ساتھ ، اور ہر قسم کی مسلکی مذہبی اور شخصی ضد سے آزاد ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کرے گا اِن شاء اللہ اس کے لیے بڑی خیر ہو گی ، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#75 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,630
کمائي: 31,699
شکریہ: 3,018
1,404 مراسلہ میں 4,163 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا صحابہ اسی طرح خوشی مناتے تھے جسطرح ھم صحابہ کے دور میں کہاں کہاں محفل میلاد منعقد ھوئی صحابہ نے میلاد کے جلوس کتنے نکالے اورکہاں کہاں تک گے میرے بھائی 604ھ کی ایجاد ھے سرکار دوعالم صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے ذکر کا کون منکر ھے مگر ھمارے لے ایک ضابطہ ھے قرآن وسنت اسکی روشنی میں ھم نے چلنا ھے باقی تو آپ نے فضائل بیان کے ھیں اور آپکی ذات بابرکت لایمکن اثنا ھے |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| unicode, پیارے, پاک, پسند, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, ایمان, اللہ, بہترین, تعارف, جواب, حکم, حال, حدیث, خوش, درود شریف, زندگی, عیسیٰ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|