|
|
#61 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ( سورۃ النساء آیت115) "اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد رسول کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے" اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کلام میں کوئی غیرضروری بات ہو۔ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے “سبیل المومنین” یعنی “مومنوں کی راہ” کا ذکر کیا ہے۔ جس طرح انگریزی میں "The"کا استعمال ہے کہ Book کا مطلب کتاب اور The book کا مطلب کوئی خاص کتاب۔ اسی طرح عربی میں جب اسم نکرہ سے پہلے "ال" آ جائے تو وہ خاص ہو جاتا ہے جس طرح اس آیت میں "مومنین" نہیں "المومنین" فرمایا گیا۔ یعنی اس سے مراد ہر ایمان والا نہیں بلکہ کچھ خاص مومنین مراد ہیں اور وہ صحابہ کی جماعت ہے۔ اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ہم پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اتباع امت کے پہلے مسلمان گروہ یعنی صحابہ کرام کے فہم کے مطابق فرض ہے۔ ایک آیت کے سو مطلب نکل سکتے ہیں، ایک حدیث سے دس مختلف الخیال لوگ اپنے حق میں استدلال پکڑ سکتے ہیں۔ لیکن صرف وہی بات قبول کی جائے گی جو صحابہ کرام کی جماعت کے فہم کے مطابق ہو گی، کیونکہ ان کی تربیت براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کا تزکیہ کیا تھا۔ قرآن و حدیث کی وہی تشریح معتبر ہے جس پر اس مبارک جماعت کا عمل رہا ہو۔ یہ نہایت سادہ سی بات ہے جسے نہ ماننے کی وجہ سے امت فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ ہر فرقہ حامل قرآن و سنت ہونے کا دعوٰی کرتا ہے لیکن “سبیل المومنین” کی پیروی نہ کرنے کی وجہ ہر ایک نے اپنی تشریحات بنا لی ہیں اور اس پر اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ صحابہ کے فہم کے مقابلے میں اپنے فہم کو برتر سمجھتا ہے۔ صحابہ کرام نے کتاب و سنت کو بغیر کسی واسطے کے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ایک ایک حکم کو سمجھا تھا۔ اسی لیے صحابہ کا ایمان بعد میں آنے والوں کے ایمان سے قوی تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کتاب و سنت کے مطلب اپنی مرضی سے بیان کریں بلکہ ضروری ہے کہ اصحابَِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فہم کی طرف رجوع کیا جائے جنہوں نے دین کے تمام احکام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر سے سمجھا تھا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ علماء صدیوں سے اس عقیدے کو بیان کرتے آ رہے ہیں۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کے بڑے عالم ہیں، اپنی مشہور کتاب “عقیدہ طحاویہ” میں اس عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: “ ونتبع السنة والجماعة” "ہم سنت اور (صحابہ کی) جماعت کی اتباع کرتے ہیں”۔ اس بنیادی عقیدے کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو دلائل بھائیوں نے یہاں بیان کیے ہیں کیا وہ صحابہ کرام کے فہم کے مطابق ہیں؟ اس کے لیے آپ کو چودہ سو سال پہلے کے مدنی معاشرے میں جانا ہو گا۔ بھائیوں نے جو دلائل بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں منظر کچھ یوں بنتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہیں، اور فرماتے ہیں “جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اس کا اجر اسے ملے گا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ملے گا”۔ اور فرماتے ہیں “حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا اور جس بارے میں خاموشی ہے تو وہ معاف ہے”۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے اجر کی ترغیب سن کر کوئی صحابی دین میں اضافہ نہیں کرتا، کوئی “بدعت حسنہ” ایجاد نہیں کرتا۔ ایک دو دن کی بات نہیں پورے ستر، تہتر سال گزر جاتے ہیں، ہزاروں صحابہ اپنی پاکیزہ زندگیاں گزار کر چلے جاتے ہیں لیکن ان کا دامن “بدعت حسنہ” جیسی نیکی سے خالی ہی رہتا ہے۔ انتہا دیکھیے کہ خلفائے راشدین جن کے عمل کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سنت قرار دے چکے تھے، قرآن جمع کرنے کا موقع آیا تو ایکدوسرے سے کہتے ہیں “تم وہ کام کیوں کرتے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نہیں کیا”۔ چند واقعات پیش خدمت ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ “بدعت حسنہ” کے بارے میں صحابہ کرام کا عقیدہ کیا تھا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دفعہ وہ مسجد سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں اور (سب مل کر) تکبیر کہتے ہیں، اللہ کی تسبیح اور تہلیل بیان کرتے ہیں۔ تو سوچیے ان سے کیا فرمایا ہو گا۔ یہی نا کہ “تم نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے، مجھے بھی اس میں شامل کر لو تا کہ قیامت تک ملنے والے ثواب میں میرا حصہ بھی شامل ہو جائے”۔ نہیں، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تھے، ان سے مخاطب ہو کر کہا: وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحِى بَابِ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ : وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ (سنن دارمی مقدمہ باب فی کراھیۃ اخذ الرای) “اے امت محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) تمہاری ہلاکت کس قدر قریب آ گئی ہے” اور فرمایا “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ (ذکر کا یہ نیا انداز نکال کر) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے کے مدعی ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو” وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا: “اے ابو عبدالرحمٰن(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت)! ہمارا ارادہ خیر کے سوا کچھ نہ تھا” اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: “کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں جو اسے پا تے نہیں ہیں” عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل اس عقیدے کو اور واضح کر دیتا ہے: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَضْرَمِيٌّ مَوْلَى الْجَارُودِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ (سنن ترمذی کتاب الادب باب ما یقول العاطس اذا عطس) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا۔ اسے چھینک آئی تو اس نے کہا “الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ”۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا”میں بھی کہتا ہوں “الحمدللہ و السلام علی رسول اللہ” لیکن اس موقع پر (یعنی چھینک کے بعد) ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی تھی، بلکہ یہ تعلیم دی تھی کہ ہم کہیں “الحمدللہ علی کل حال”۔” صحابہ کرام اپنے عقل و فہم سے دین کو سمجھنے والے ہوتے تو فرماتے “اے فلاں، حلال و حرام واضح ہیں اور تیری بات کے بارے میں سکوت ہے، تو نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے۔” لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دین کو سیکھا تھا، فورًا اسے ٹوک دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی، تو یہ عمل ایجاد نہ کر۔ یہ دو مثالیں اس لیے دی ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ صحابہ کے اقوال “دین سے ٹکرانے والے” امور کے بارے میں ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک جگہ صحابی رسول نے اللہ کے ذکر سے روکا اور دوسرے صحابی نے صلاۃ و سلام سے روکا جس سے صحابہ کے عقیدے پر واضح طور پر روشنی پڑتی ہے۔ مزید حوالہ جات ملاحظہ کیجیے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"اتَّبِعُوا، وَلا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ" (المعجم الکبیر للطبرانی جلد 8 ص 64) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (لوگو،قرآن و سنت کی) اتباع کرو اور نئے طریقے مت نکالو کیونکہ (قرآن و سنت کے ذریعے) تمہیں کفایت کی گئی ہے ہر بدعت ضلالت ہے۔” عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الأَزْدِىِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : أَوْصِنِى. فَقَالَ : نَعَمْ ، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالاِسْتِقَامَةِ ، اتَّبِعْ وَلاَ تَبْتَدِعْ (سنن دارمی مقدمۃ الکتاب باب من کرھا الفتیا و کرہ التنطع و التبدع) عثمان بن حاضر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا “مجھے نصیحت کیجیے”۔ تو انہوں نے کہا “اچھا، تو اللہ کا تقویٰ اور استقامت اختیار کر۔ اتباع کر اور نئے طریقے مت نکال”۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو لوگوں سے خطاب کرتے تھے اور اس میں کہتے: أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، إِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ " (الاعتصام للشاطبی جلد 1 ص 93) "خبردار نئے نئے کاموں سے بچنا، سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے نکالے گئے ہیں اور ہر نیا کام بدعت ہے” أَنَّهُ أَخَذَ حَجَرَيْنِ ، فَوَضَعَ أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنَ النُّورِ " ؟ قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا نَرَى بَيْنَهُمَا مِنَ النُّورِ إِلَّا قَلِيلًا .قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ; لَتَظْهَرَنَّ الْبِدَعُ حَتَّى لَا يُرَى مِنَ الْحَقِّ إِلَّا قَدْرُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنَ النُّورِ ، وَاللَّهِ لَتَفْشُوَنَّ الْبِدَعُ حَتَّى إِذَا تُرِكَ مِنْهَا شَيْءٌ; قَالُوا : تُرِكَتِ السُّنَّةُ " (الاعتصام للامام الشاطبی جلد 1 ص 106) "عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دن دو پتھر اپنے ہاتھ میں لے کر ایک کو دوسرے پر مارا پھر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے “ ان پتھروں سے نکلنے والی روشنی (آگ) دیکھتے ہو”؟ انہوں نے کہا “اے ابوعبداللہ! ان میں سے تو بہت تھوڑی روشنی نکلی ہے”۔ فرمایا “ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایسا ضرور ہو گا کہ بدعات ظاہر ہوں گی یہاں تک کہ حق اتنا ہی دکھائی دے گا جتنا تم ان پتھروں میں سے روشنی نکلتے دیکھتے ہو۔ اللہ کی قسم بدعتیں پھیلیں گی یہاں تک کہ یہ حال ہو جائے گا کہ کوئی بدعت ترک کی جائے تو لوگ کہیں گے کہ اس نے سنت ترک کر دی”۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بدعت سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں: مَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِنْ عَامٍ; إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً ، وَأَمَاتُوا سُنَّةً ، حَتَّى تَحْيَا الْبِدَعُ ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ (الاعتصام للشاطبی ص 110) "لوگوں پر کوئی سال ایسا نہیں گزرے گاجس میں وہ کوئی بدعت ایجاد نہ کریں اور کسی سنت کو مردہ نہ کر دیں۔ یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جائیں گی”۔ آپ نے کبھی سوچا کہ بدعتیں کیوں ایجاد کی جاتی ہیں اور بڑے بڑے صاحبان جبہ و دستار ان کی پشت پناہی کیوں کرتے ہیں؟ آئیے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول سنیے: إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا ، يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ ، حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ ، وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ ، وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ ، وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ : مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ ؟ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ ، وَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ (الاعتصام ص 111) "تمہارے سامنے بڑے بڑے فتنے آئیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی ، اور قرآن کھول دیا جائے گا یہاں تک ہر مومن اور منافق، مرد و عورت، چھوٹا اور بڑا، آزاد اور غلام اسے لے سکے گا۔ قریب ہے کہ کوئی کہنے والا کہے “لوگ میرے پیچھے کیوں نہیں چلتے حالانکہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے، وہ میرے پیچھے چلنے والے نہیں جب تک میں ان کے لیے کوئی نئی چیز نہ نکالوں”۔ تو اس وقت تم لوگ نئی نکالی گئی چیزوں سے بچنا، اس لیے کہ نیا نکالا گیا کام ضلالت و گمراہی ہے”۔ شاید اب بھائیوں کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ بار بار کی جانے والی درخواست کے باوجود کسی ایسی "بدعت حسنہ" کا وجود کیوں نہیں ملتا جسے کسی صحابی نے ایجاد کیا ہو۔ یہ فلسفے اسلام میں بہت بعد میں داخل کیے گئے۔ مان لینا چاہیے کہ یہاں بدعت کے حق میں پیش کی گئی حدیثوں کا مطلب سمجھنے میں لوگوں کو غلطی لگی ہے ۔ درست مفہوم کی تشریح ان شاء اللہ آئندہ۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 05-08-09 at 05:23 PM. |
|
|
|
|
|
#62 |
|
Senior Member
![]() |
[QUOTE=عبداللہ حیدر;192392]اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ( سورۃ النساء آیت115) "اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد رسول کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے"اس آیہ میں مؤمنین کےرستےکاذکرہےاورچونکہ اورچونکہ مؤمنین قیامت تک کیلیئےہیں ناکہ صرف جماعت صحابہ اسلیئےقیامت تک کیلیئےمؤمنین
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دفعہ وہ مسجد سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں اور (سب مل کر) تکبیر کہتے ہیں، اللہ کی تسبیح اور تہلیل بیان کرتے ہیں۔ تو سوچیے ان سے کیا فرمایا ہو گا۔ یہی نا کہ “تم نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے، مجھے بھی اس میں شامل کر لو تا کہ قیامت تک ملنے والے ثواب میں میرا حصہ بھی شامل ہو جائے”۔ نہیں، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تھے، ان سے مخاطب ہو کر کہا: وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحِى بَابِ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ : وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ (سنن دارمی مقدمہ باب فی کراھیۃ اخذ الرای) “اے امت محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) تمہاری ہلاکت کس قدر قریب آ گئی ہے” اور فرمایا “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ (ذکر کا یہ نیا انداز نکال کر) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے کے مدعی ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو” وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا: “اے ابو عبدالرحمٰن(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت)! ہمارا ارادہ خیر کے سوا کچھ نہ تھا” اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: “کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں جو اسے پا تے نہیں ہیں” پھر اس حدیث کاکیاہوگاکہ آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم کاگزر ایک دفعہ کسی مسجد میں ہوا حضور صلٰی اللہ علیہ وسلم نےملاحظہ فرمایا ایک گروہ تسبیح وتحلیل میں مشغول ہےایک نوافل میں ایک علم دین میں فرمایاسب خیرپرہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو لوگوں سے خطاب کرتے تھےکیا ہرجمعرات کوخطاب کرناسنت ہےیاان صحابی کی بدعت تھی؟اچھاپھرجب مسجد میں حلقےبناکرذکرممنوع(معاذالل )توانٹرنیٹپرتبلیغ دین سنت کیوں؟؟؟مسجدافضل یاانٹرنیٹکی بیٹھک جہاں ایک بٹن دباتےہی کیاسےکیانظرآجاتاہےجب مسجد جیسی مقدس ترین جگہ پراجتماعی ذکرممنوّع تو انٹر نیٹ پرتبلیغ کوصرف ذرائع کیو کہاجاتاہے؟؟؟40روزہ چلے قرآن کی کتابت درس نظامی فقہ کی تدوین چاروں امام بھی توبعد میں آئےدینی کتابیں کیایہ سب دین سےنہیں ہیں یااپنےمطلب کیلیئےانہیں ذرائع سےتعبیرکرکےچلتےبنیں کیونکہ ان کےبغیرفی زمانہ گزارا ناممکن پھر جمعہ سے پھلےاردو خطبہ اسکاحکم کیاہوگا کہ آپ اوپر اسکوبھی بدعت کہ چکےہیں جب ہربدعت بری تواسکےکیااحکام ہونگے کیونکہ ھرفرقےمیں اردو خطبہ ہوتاہے اور ھر بدعت بری توکیامسجدوں میں بدعتیتں کی جاتی ہیں خیال رہےصحابی نےحلقہ کرکےذکر کوبدعت کہاتھا(بقول مسٹر عبداللہ)تواردو میں خطبہ بدرجہ اتم شدید بدعت کہنےدیجیئےکہاں کہاں بدعتوں سےبچوگےمان جاؤ بدعت حسنہ ہوتی ہےورنہ دامن داغدار مسجدوں میں بھی (العیاذباللہ)اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ دے(آمین)
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#63 |
|
Senior Member
![]() |
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ
ابوحبیبہ (رحمتہ اللہ) نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔ کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تم (اس) امین (امیر) اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا ۔ مسند احمد المجلد الثانی تابع مسند ابی ھریرہ رضي الله تعالى عنه حدیث : 8185 شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
#64 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
"یہ ایسی سند سے مروی ہے جس سے حجت قائم نہیں ہوتی کیوں اس میں حارث بن غصین مجہول ہے( یعنی کچھ معلوم نہیں کہ کون تھا کہاں کا تھا اور کیسا آدمی تھا)"۔ اور امام ابن حزم کہتے ہیں: هذه رواية ساقطة یہ روایت ساقط ہے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لا يصح هذا الحديث "یہ حدیث صحیح نہیں ہے"۔اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک "صحابہ کی جماعت" کا فعل متعبر اور حجت ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک صحابی کا۔ (دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ حدیث نمبر 58 ) Last edited by عبداللہ حیدر; 05-08-09 at 05:28 PM. |
|
|
|
|
|
|
#65 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
shafresha صاحب میرا پیغام ہذف کرنے کی وجہ ارشاد فرما دیں نیز میری منتظمین سے گذارش ہے کہ فرد واحد کو پیغام ہذف کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ پیغام خالصتا مسلکی بنیاد پر ہذف کیا گیا ہے۔ اگر اس میں ایسی کوئی نا زیبا بات یا الفاظ ہیں تو سامنے لائے جائیں۔ میرے صرف دو سوال تھے جو کہ میں نے عبداللہ کی بات پر ہی ان سے کئے تھے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#66 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
اس تھریڈ میںتقریبا 5 ممبران بشمول جناب منتظمین صاحب نے مجھ سے "غیر ضروری مُراسلات ختم کرنے کے لیئے کہا تھا۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو ناصرف آپ و دیگر ممبران بلکے خود منتظمین صاحب اور میرے بھی کچھ مُراسلات پر بھی قینچی جل چکی ہے، لہذا آپ اسے پرسنل نا لیں۔ ایک آدھ دن بعد آپ کا یہ اعتراض اور میرا جواب بھی ڈیلیٹ کردیئے جائیںگے۔ شکریہ! Last edited by shafresha; 05-08-09 at 06:29 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#67 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
صحابہ کے فہم کی حجیت پر کچھ گفتگو یہاں کی گئی تھی، موضوع کی مناسبت سے یہاں نقل کر رہا ہوں:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، بھائیو ، مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑہیے ، حدیث قول ، فعلی اور تقریری ، کی حجت اور حیثیت اور حفاظت ، اور ، صحابہ کے فہم کی حجت و حیثیت اور صحیح حدیث میں کسی بات کی وضاحت نہ ملنے کی صورت میں ان کی اجتماعی بلا خلاف بات کی حجت کی دلیل ہیں ، اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے جو حکمت قران کے ساتھ نازل فرمائی ، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان کو سکھائی ، ان کے نفوس کی صفائی فرمائی ، اور یہ چیز کسی بھی غیر صحابی کو میسر نہیں ، اور اللہ کے رسول رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اللہ کی نازل کردہ حکمت سیکھے ہوئے ، اللہ کے رسول رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سے بڑھ کر سوائے انبیا و رسل کے ، کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کی مراد نہیں جان سکتا خواہ وہ پوی مخلوق میں سب سے زیادہ صاحب عقل ہو ، اور خواہ کسی بھی فہم کا دعوی دار ، اب آپ صاحبان مندرجہ بالا باتوں کی گواہی اللہ کے کلام میں پڑہیے ، وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌ مُّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلاُّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيماً ::: اور (اے رسول ، صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ یہ ارادہ کر رہا تھا کہ آپ کو راہ (حق ) سے ہٹا دے اور وہ لوگ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ، اور وہ آپ کو کسی چیز میں سے نقصان نہ پہنچائیں گے (کیونکہ اللہ آپ کی حفاظت کرنے والا ہے ) اور اللہ نے آپ پر کتاب (قران ) نازل کی اور (اس کے ساتھ ) حکمت (نازل کی ) و آپ کو وہ کچھ سیکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ کا فضل آپ پر بہت زیادہ ہے ))) سورت النساء ، آیت ۱۱۳ اللہ تعالی نے خبر دی کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قران کے ساتھ ساتھ حکمت بھی نازل فرمائی ، سوال ::: اللہ نے یہ حکمت کیوں نازل فرمائی ، اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کس کو براہ راست یہ حکمت سیکھائی ؟؟؟ جواب ::: اللہ تعالی کا فرمان ::: ((( لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ::: یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے کہ ان میں ان کی جانوں میں سے ہی رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان ( کے دل و دماغ و نفوس ) کی صفائی کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب (قران ) اور حکمت سکھاتا ہے اور بے شک اِس سے پہلے وہ لوگ واضح گمراہی میں تھے ))) سورت آل عمران 164 اور بتایا سبحانہ و تعالی نے ::: ((( هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ ::: (اللہ ) وہ ہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ان میں سے ہی رسول بھیجا (جو ) ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان ( کے دل و دماغ و نفوس ) کی صفائی کرتا ہے اور انہیں کتاب (قران ) اور حکمت سکھاتا ہے اور اس سے پہلے وہ لوگ واضح گمراہی میں تھے ))) سورت الجمعۃ ، آیت ۲ ، اللہ تعالی کے مندرجہ بالا فرامین سے یہ بہت واضح ہو گیا کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر جو حکمت نازل فرمائی وہ انہوں نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھائی ، اور یہ وہ چیز ہے جو کسی غیر صحابی کو میسر نہ تھی پس کوئی بھی دوسرا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بڑھ کر درست اور ٹھیک طور پر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات کو نہیں سمجھ سکتا، لہذا صرف ترجموں ، لغت کے قوانین اور کسی ذہانت کی بنیاد پر قران و حدیث کا مفہوم سمجھ کر صحیح غلط ، موافق و مخالف کا فیصلہ کرنا درست نہیں ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (29-05-10) |
|
|
#68 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم قارئین کرام !
جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے یہاں پر بصورت مقالہ بدعت کی حقیقت کو واضح کیا اور بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو خود قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے بیان کیا اس مقالے کو ترتیب دیتے ہوئے ہم نے اپنے بنیادی استدلال کی مرکزیت کو دین کی عالمگیریت کے ساتھ جوڑا لہذا اس ضمن میں دین جو ہمیں اباحت اصلیہ کا اصول دیتا ہے اسے ہم نے بنیادی نقطہ استدلال بنایا اور اس ضمن میں قرآن و سنت سے دلائل رقم کیے اور پھر اسے کے بعد بدعت کی تقسیم کو بھی خود قرآن و سنت سے ہی واضح کیا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر آپ نے دیکھا کہ مخالفین ابھی تک ہماری پیش کردہ کسی ایک بھی دلیل کا رد نہیں کرپائے بلکہ مقالہ پر ترتیب وار چلنے کا کہہ کر خود ہی اس کی ترتیب الٹ دی اور بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم پر ہم نے جتنے بھی دلائل قائم کیئے تھے ان سب کو یکسر نظر انداز کرتے بدعت کی تقسیم کے مفھوم کو فہم صحابہ کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دینے لگے کہ ہم انھے صحابہ کرام کی ایجاد کردہ بدعات حسنہ کی لسٹ فراہم کریں ۔ ۔ ۔ ۔ چاہیے تو یہ تھا اور یہ گفتگو کا طریقہ کار اور بنیاد اصول بھی یہی ہے کہ جب دو اشخاص کسی ایک موضوع پر باہمی اختلاف کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک پہلے اپنے مؤقف کو ترتیب وار واضح کرتا ہے اور ہر دوسرا اسی ترتیب سے اس کے دلائل کا رد یا پھر اس اتفاق کرتا چلا جاتا ہے اور یوں گفتگو بغیر کسی خلط مبحث کے وقوع کے انتہائی خوش اصلوبی سے اختتام کو پہنچتی ہے ۔ ۔۔ مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ساتھی عبداللہ بھائی نے اس روش کو ترک کیا اور خود اپنی بات کی بار بار نفی بھی کی ۔ ۔ ۔ مجھے اپنے اس مکتب فکر کے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کا بارہا تجربہ رہا ہے اور ہمیشہ میرے احباب گفتگو میں یہی طریق روا رکھتے ہیں کہ اعتراضات در اعتراضات کیئے چلے جاتے ہیں اور جب انکو انکے اعتراضات کا شافی جواب دیا جاتا تو اس جواب سے ایگری یا ڈس ایگری کرنے کی بجائے نت نئے اور اعتراضات سامنے لاتے چلے جاتے ہیں اور یوں گفتگو خلط مبحث کا شکار ہوکر بے نتیجہ ہوجاتی ہے ۔ ۔ ۔۔ دیکھئے موضوع تو ہمارا تھا بدعت کی تقسیم حسنہ اور سیئہ میں جائز ہے یا ناجائز ؟ جس پر ہمارا دعوٰی تھا کہ جائز ہے اور مخالف دوستوں کا کہ ناجائز ہے ۔ ۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ اس مسئلہ کو پہلے حل کرتے اور اس پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کے بعد اس ضمن میں گفتگو کرتے کہ جب بدعت کی تقیسم جائز ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کرام سے اتنی زیادہ تعداد میں بدعات حسنہ کا صدور نہیں ہوا ؟؟؟؟ اور یوں یہ ایک الگ موضوع ٹھرتا اور پھر ہم ان نکات کی طرف متوجہ ہوتے کہ جو صحابہ کرام سے بدعات (حسنہ) کے ظہور کی ایک بڑی تعداد میں حائل ہوئے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا ۔ ۔ ۔ چاہیے تو تھا کہ عبداللہ بھائی کو پہلے ہمارے ساتھ بدعت حسنہ کی تقسیم پر اتفاق کرلیتے تو پھر ہم انکو انکے اس سوال کا جواب بھی دے دیتے مگر انھوں نے ایسا نہ کیا ۔ ۔ ۔ اور بات لاکر ختم کی فھم صحابہ کرام پر ۔۔ ۔ کوئی بات نہیں میرے بھائی اگر یونہی تو پھر یونہی سہی آج سے ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ بدعات کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم میں فھم صحابہ کیا ہے اور بدعات حسنہ کی ایجاد میں صحابہ کرام کے حالات زندگی میں ایسے وہ کیا مراحل تھے کہ جن کی وجہ سے وہ اس طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوسکے ۔ ۔ ۔ ۔ اس ضمن میں ہم آج سے عبداللہ بھائی کے اٹھائے گئے تمام نکات کا تفصیلی و تحقیقی جائزہ بھی لیں گے اور ان کے سوالات کا جواب بھی دیں گے ان شاء اللہ ۔ ۔ ۔ اور ایک گزارش کرنا چاہیں گے عبداللہ بھائی سے کہ پلیز جب تک آپ کے حالیہ اٹھائے گئے نکات کا ہم جواب نہیں دے لیتے آپ کا قلم خاموش رہے گا جس طرح کہ ہمارا قلم بدعات کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کے حوالے سے اقوال ائمہ ومحدثین پیش کرنے سے رکا ہوا ہے ۔ ۔۔ وقت کی تنگی کا عارضہ شدت سے لاحق ہے سو برائے مہربانی اس حوالے سے معذرت خواہ ہوں کہ کسی سوال کے جواب میں دیر ہوجائے والسلام آپ سب کا خیر اندیش عابد عنائت ۔ ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (06-08-09), Student (05-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09) |
|
|
#69 |
|
Senior Member
![]() |
اسکا مطلب صاف اور واضح ہیکہ جو حدیث اپنے عقائدپرفٹ نہیں اترتی یااپنےنام نہادعقائدکےاوپرپوری نہیں اترتی وہ ضعیف ہےہیں اوراسکےراوی مجہول صرف اتنا کہونگا
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا | Student (06-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09) |
|
|
#70 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
بھائی، اگر مذکورہ حدیث ثابت ہوتی تو تمام اہل سنت و الجماعت کے لیے ایک زبردست حجت ہوتی اور اس کے صحیح ہونے پر میں بھی آپ کے ساتھ خوش ہوتا۔ لیکن جن دو محدثین نے اسے روایت کیا ہے وہ خود ہی اسے باطل اور ساقط کہہ رہے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ آپ کے پاس اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے تو پیش فرمائیے۔ اللہ کی توفیق سے ہمارا طریقہ یہ نہیں ہےکہ پہلے کچھ عقیدے اور فلسفے بنا لیے جائیں، پھر ان کے مطابق قرآن و سنت اور صحابہ کی جماعت کے افعال کی تاویلیں کی جائیں۔ یہ طریقہ جنہوں نے اپنا رکھا ہے وہ آپ پر بھی مخفی نہیں ہوں گے۔
|
|
|
|
|
|
#71 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#72 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم قارئین کرام جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہاں اس دھاگے میں ہمارا موضوع سخن بدعت کی حقیقت کو واضح کرنا تھا اور قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے بدعت کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کو بیان کرنا تھا سو وہ ہم کرچکے الحمدللہ ۔ ۔ اب مخالفین کو چاہیے تھا کہ پہلے ہمارے پیش کردہ دلائل کا رد کرتے اور اس طرح سے اپنا مؤقف یعنی کے بدعت کل کی کل مبنی بر ضلالت ہوتی ہے اس کا دفاع کرتے مگر آپ سب نے دیکھا وہ ایسا نہ کرسکے سو اس لیے انھوں نے بدعت کی تقسیم کے حسنہ اور سیئہ ہونے کو چھوڑ کر براہ راست اس سلسلے میں فھم صحابہ کو موضوع بنانے کی کوشش شروع کردی حالانکہ ہم نے اپنے پیش کردہ دلائل میں فھم صحابہ پر ہی مدار رکھا ہے جسے کہ ہم آگے چل کر بیان کریں سردست اتنا عرض کردیں کے اب ہمارے اور عبداللہ بھائی کے درمیان بدعت کی تقسیم کی تعین میں فھم صحابہ پر گفتگو ہوگی یعنی صحابہ کرام نے بدعت کی اس تقسیم کو کس طریقے سے لیا اب ہمارا براہ راست موضوع سخن یہ ہوگا پھر اس کے بعد ہم یہ عرض کریں گے کہ آیا وہ کیا وجوہات تھیں کہ جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور میں بدعات حسنہ کا بہت بڑی تعداد میں اجراء نہ ہوسکا ۔ ۔ لیکن اس سب سے پہلے محترم حیدر بھائی نے جو مراسلات فھم صحابہ کی بابت پوسٹ کیے ہیں سب سے پہلے ان کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں تاکہ گفتگو کسی طریق اور کسی نہج پر چل سکے سو پیش خدمت ہے محترم عبداللہ بھائی کے فھم صحابہ کے ضمن پیش کردہ دلائل کا انتہائی مختصر ترین جائزہ ۔ ۔ ۔ درج زیل میں آپ نے سب سے پہلے قرآن کی درج زیل آیت کو مشق سخن بنایا ہے اور پھر اس کی تفسیر بھی ارقام فرمائی ہے دیکھئے ۔ ۔
اقتباس:
یعنی ہمارے ممدوح کے نزدیک جب لفظ مومن پر الف لام آجائے تو وہ لفظ مومن ظرف زمان کے ساتھ خاص ہوجاتا ہے یعنی پھر اس آیت کا حکم ایک خاص زمانہ کے مومنین تک محدود رہتا ہے (معاذاللہ ثم معاذ اللہ ) یہ ایک ایسی سنگین غلطی ہے جو کہ ہمارے محدود مطالعہ سے پہلے نہیں گزری اور نہ ہی ہم نے اس آیت کی اس سے پہلے یہ تفسیر کہیں اور پڑھی اور نہ ہی کسی نے اس آیت سے مومنین کی راہ سے فقط صحابہ کرام کا طبقہ مراد لیا ہے اور نہ ہی ہماری نظر سے کبھی یہ گزرا کہ کسی بھی صاحب علم نے نے اس آیت میں مومنین کی تخصیص فقط صحابہ کرام میں فرمائی ہو ، اگر فرمائی ہو تو وہ تفسیر محتاج حوالہ ہے اور امید کرتا ہوں کہ ہمارے ممدوح ضرور اس کا حوالہ پیش کریں گے ۔ ۔قارئین کرام اس آیت کی درست تفسیر تو ہم بعد میں پیش کریں گے پہلے اس الف لام کا جائزہ قرآن پاک کی دیگر آیات کے حوالہ سے فقط دو آیات کی صورت میں پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالٰی ہے ۔ ۔ لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ۔ ۔ ۔ آل عمران 28 کیا یہاں بھی فقط صحابہ کرام مراد ہیں اور آج کے دور مومنین کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ جس سے چاہیں جیسے چاہیں کفار کے ساتھ دوستیاں کرتے پھریں ؟؟؟؟ إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا یہاں بھی نماز کی وقت مقررہ پر فرضیت کو مومنین کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اللہ پاک نے لفظ مومنین الف لام وارد فرمایا ہے تو کیا اس کا مطلب ہے کہ وقت مقررہ پر نماز کی پابندی فقط صحابہ کرام تک محدود تھی اب جس کا جی چاہے جو وقت جو مرضی آئے نماز پڑھ لیا کرئے ؟؟؟؟؟ ان دونوں آیات میں الف لام آیا ہے تو میری عرض ہے حیدر بھائی سے کہ ان دونوں آیات کے حکم کاحصر آیا فقط صحابہ کرام تک ہے یا نہیں اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟؟؟ کہ ان آیات میں بھی تو الف لام آیا ہے ؟؟'' اور اگر ہے تو اب ہماری نمازوں کے لیے کیا فتوٰی ہے کہ کب کب پڑھا کریں ۔ ۔ ۔ آپ نے دیکھا قارئین کرام کے خود ساختہ تفسیر کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ ۔ اب آیئے ہم آپ کو ایک ایسی تفسیر کے حوالہ سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں جو کہ مخالفین کے ہاں بڑی مسلم ہے یعنی تفسیر ابن کثیر ۔ ۔ حافظ عماد الدین ابن کثیر علیہ رحمہ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے یعنی شرع ایک طرف ہو اس کی راہ ایک طرف ہو فرمان رسول کچھ اور ہو اور اس کا منتہائے نظر کچھ اور ہو حالانکہ حق اس پر کھل چکا ہو دلیل دیکھ لی ہو پھر بھی مخالفت رسول کرکے مسلمانوں کی صاف روش سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسی ٹیڑھی اور بری راہ پر اسے لگا دیتے ہیں اسے وہی راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بیچ و بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے ۔ مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول ہی کی مخالفت کرنا ہے ۔ لیکن کبھی تو شارع کی صاف بات کا انکار ہوتا ہے اور کبھی اس چیز کا نکار ہوتا ہے کہ جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہوتی ہے جس میں اللہ نے نھے بوجہ انکی شرافت و کرامت کے محفوظ رکھا ہے اس بارہ میں بہت سی احادیث بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا ایک بڑا حصہ بیان کردیا ہے بعض علماء تو اسکے تواتر معنٰی کے قائل ہیں حضرت امام شافعی علیہ رحمہ نے غور فکر کے بعد اس آیت سے اتفاق امت (یعنی اجماع امت) کے دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ ۔ اور پھر امام اپنی زاتی رائے دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حقیقتا یہی اس بارے میں بہترین اور قوی تر ہے ۔ ۔ نوٹ :- قارئین کرام ہم نے اس آیت کی تفسیر کو بہت پہلے سے پڑھ رکھا تھا قریبا ہر مفسر نے اس آیت سے اجماع امت کی خلاف ورزی کو مراد لیا ہے چاہے وہ اجماع امت کسی بھی دور کے مومنین کا کیوں نہ اس میں کوئی تخصیص نہیں اور نہ ہی کسی مفسر نے اسکی تحصیص بیان فرمائی ہے یعنی امت کی ایک کثیر تعداد جس بات پر جس وقت بھی متفق ہوجائے وہ راہ کبھی بھی مبنی بر خطا نہیں ہوتی جیسا کہ امام ابن کثیر نے بھی اشارہ فرمایا سو ہم حیران تھے کہ اس آیت کو جناب عبداللہ صاحب ہمارے خلاف کس طرح لے آئے حالانکہ ہمارا مؤقف بدعت کی تقسیم میں امت کی اکثریت کے ساتھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 06-08-09 at 03:09 AM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (06-08-09), shafresha (06-08-09), Student (08-08-09), فیصل ناصر (06-08-09), خرم شہزاد خرم (06-08-09), عبداللہ حیدر (06-08-09) |
|
|
#73 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (10-08-09), shafresha (10-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (10-08-09) |
| کمائي نے Student کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 10-08-09 | خرم شہزاد خرم | دستیاب نہیں | 150 |
|
|
#74 |
|
Senior Member
![]() |
اب کیاکیاثبوت پیش کیئےجایئں خود منکرین اقسام بدعت کااپنافتوٰی محترم studentنھائی نےپیش کردیاامید ہےاب توتشنگی مکمل طور پرختم ہوگئی ہوگی ورنہ کیاکیاجاسکتاہےجواپنےگھرکی بھی نہ مانے
|
|
|
|
| muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (11-08-09) |
|
|
#75 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آپ کا اشارہ اگر میری جانب ہے تو میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ میرا تعلق دیوبند مکتب فکر سے نہیںہے۔ عابد بھائی کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد آپ کو بھی اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا ان شاء اللہ۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (11-08-09), خرم شہزاد خرم (11-08-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 06:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 10:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 09:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:28 AM |