واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 07:12 PM  
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 05-08-09, 03:57 AM   #61
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ( سورۃ النساء آیت115)
"اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد رسول کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے"
اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کلام میں کوئی غیرضروری بات ہو۔ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے “سبیل المومنین” یعنی “مومنوں کی راہ” کا ذکر کیا ہے۔ جس طرح انگریزی میں "The"کا استعمال ہے کہ Book کا مطلب کتاب اور The book کا مطلب کوئی خاص کتاب۔ اسی طرح عربی میں جب اسم نکرہ سے پہلے "ال" آ جائے تو وہ خاص ہو جاتا ہے جس طرح اس آیت میں "مومنین" نہیں "المومنین" فرمایا گیا۔ یعنی اس سے مراد ہر ایمان والا نہیں بلکہ کچھ خاص مومنین مراد ہیں اور وہ صحابہ کی جماعت ہے۔ اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ہم پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اتباع امت کے پہلے مسلمان گروہ یعنی صحابہ کرام کے فہم کے مطابق فرض ہے۔ ایک آیت کے سو مطلب نکل سکتے ہیں، ایک حدیث سے دس مختلف الخیال لوگ اپنے حق میں استدلال پکڑ سکتے ہیں۔ لیکن صرف وہی بات قبول کی جائے گی جو صحابہ کرام کی جماعت کے فہم کے مطابق ہو گی، کیونکہ ان کی تربیت براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان کا تزکیہ کیا تھا۔ قرآن و حدیث کی وہی تشریح معتبر ہے جس پر اس مبارک جماعت کا عمل رہا ہو۔ یہ نہایت سادہ سی بات ہے جسے نہ ماننے کی وجہ سے امت فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ ہر فرقہ حامل قرآن و سنت ہونے کا دعوٰی کرتا ہے لیکن “سبیل المومنین” کی پیروی نہ کرنے کی وجہ ہر ایک نے اپنی تشریحات بنا لی ہیں اور اس پر اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ صحابہ کے فہم کے مقابلے میں اپنے فہم کو برتر سمجھتا ہے۔ صحابہ کرام نے کتاب و سنت کو بغیر کسی واسطے کے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے لیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ایک ایک حکم کو سمجھا تھا۔ اسی لیے صحابہ کا ایمان بعد میں آنے والوں کے ایمان سے قوی تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کے لیے اس امر کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کتاب و سنت کے مطلب اپنی مرضی سے بیان کریں بلکہ ضروری ہے کہ اصحابَِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فہم کی طرف رجوع کیا جائے جنہوں نے دین کے تمام احکام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر سے سمجھا تھا۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ علماء صدیوں سے اس عقیدے کو بیان کرتے آ رہے ہیں۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فقہ حنفی کے بڑے عالم ہیں، اپنی مشہور کتاب “عقیدہ طحاویہ” میں اس عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“ ونتبع السنة والجماعة”
"ہم سنت اور (صحابہ کی) جماعت کی اتباع کرتے ہیں”۔
اس بنیادی عقیدے کو ذہن نشین کر لینے کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو دلائل بھائیوں نے یہاں بیان کیے ہیں کیا وہ صحابہ کرام کے فہم کے مطابق ہیں؟ اس کے لیے آپ کو چودہ سو سال پہلے کے مدنی معاشرے میں جانا ہو گا۔ بھائیوں نے جو دلائل بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں منظر کچھ یوں بنتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہیں، اور فرماتے ہیں “جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اس کا اجر اسے ملے گا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا اجر بھی ملے گا”۔ اور فرماتے ہیں “حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا اور جس بارے میں خاموشی ہے تو وہ معاف ہے”۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے اجر کی ترغیب سن کر کوئی صحابی دین میں اضافہ نہیں کرتا، کوئی “بدعت حسنہ” ایجاد نہیں کرتا۔ ایک دو دن کی بات نہیں پورے ستر، تہتر سال گزر جاتے ہیں، ہزاروں صحابہ اپنی پاکیزہ زندگیاں گزار کر چلے جاتے ہیں لیکن ان کا دامن “بدعت حسنہ” جیسی نیکی سے خالی ہی رہتا ہے۔ انتہا دیکھیے کہ خلفائے راشدین جن کے عمل کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سنت قرار دے چکے تھے، قرآن جمع کرنے کا موقع آیا تو ایکدوسرے سے کہتے ہیں “تم وہ کام کیوں کرتے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نہیں کیا”۔
چند واقعات پیش خدمت ہیں جن سے معلوم ہو گا کہ “بدعت حسنہ” کے بارے میں صحابہ کرام کا عقیدہ کیا تھا:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دفعہ وہ مسجد سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں اور (سب مل کر) تکبیر کہتے ہیں، اللہ کی تسبیح اور تہلیل بیان کرتے ہیں۔ تو سوچیے ان سے کیا فرمایا ہو گا۔ یہی نا کہ “تم نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے، مجھے بھی اس میں شامل کر لو تا کہ قیامت تک ملنے والے ثواب میں میرا حصہ بھی شامل ہو جائے”۔ نہیں، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تھے، ان سے مخاطب ہو کر کہا:
وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحِى بَابِ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ : وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ (سنن دارمی مقدمہ باب فی کراھیۃ اخذ الرای)
اے امت محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) تمہاری ہلاکت کس قدر قریب آ گئی ہے” اور فرمایا “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ (ذکر کا یہ نیا انداز نکال کر) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے کے مدعی ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو”
وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا:
“اے ابو عبدالرحمٰن(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت)! ہمارا ارادہ خیر کے سوا کچھ نہ تھا”
اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:
“کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں جو اسے پا تے نہیں ہیں”


عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل اس عقیدے کو اور واضح کر دیتا ہے:
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَضْرَمِيٌّ مَوْلَى الْجَارُودِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ
رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا أَنْ نَقُولَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ
(سنن ترمذی کتاب الادب باب ما یقول العاطس اذا عطس)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بیٹے) کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا۔ اسے چھینک آئی تو اس نے کہا “الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ”۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا”میں بھی کہتا ہوں “الحمدللہ و السلام علی رسول اللہ” لیکن اس موقع پر (یعنی چھینک کے بعد) ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی تھی، بلکہ یہ تعلیم دی تھی کہ ہم کہیں “الحمدللہ علی کل حال”۔”

صحابہ کرام اپنے عقل و فہم سے دین کو سمجھنے والے ہوتے تو فرماتے “اے فلاں، حلال و حرام واضح ہیں اور تیری بات کے بارے میں سکوت ہے، تو نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے۔” لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دین کو سیکھا تھا، فورًا اسے ٹوک دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی تعلیم نہیں دی، تو یہ عمل ایجاد نہ کر۔
یہ دو مثالیں اس لیے دی ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ صحابہ کے اقوال “دین سے ٹکرانے والے” امور کے بارے میں ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک جگہ صحابی رسول نے اللہ کے ذکر سے روکا اور دوسرے صحابی نے صلاۃ و سلام سے روکا جس سے صحابہ کے عقیدے پر واضح طور پر روشنی پڑتی ہے۔
مزید حوالہ جات ملاحظہ کیجیے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"اتَّبِعُوا، وَلا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ"
(المعجم الکبیر للطبرانی جلد 8 ص 64)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
(لوگو،قرآن و سنت کی) اتباع کرو اور نئے طریقے مت نکالو کیونکہ (قرآن و سنت کے ذریعے) تمہیں کفایت کی گئی ہے ہر بدعت ضلالت ہے۔”

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَاضِرٍ الأَزْدِىِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : أَوْصِنِى. فَقَالَ : نَعَمْ ، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالاِسْتِقَامَةِ ، اتَّبِعْ وَلاَ تَبْتَدِعْ (سنن دارمی مقدمۃ الکتاب باب من کرھا الفتیا و کرہ التنطع و التبدع)
عثمان بن حاضر کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا “مجھے نصیحت کیجیے”۔ تو انہوں نے کہا “اچھا، تو اللہ کا تقویٰ اور استقامت اختیار کر۔ اتباع کر اور نئے طریقے مت نکال”۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو لوگوں سے خطاب کرتے تھے اور اس میں کہتے:
أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ ، فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، إِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ " (الاعتصام للشاطبی جلد 1 ص 93)
"خبردار نئے نئے کاموں سے بچنا، سب سے برے کام وہ ہیں جو نئے نکالے گئے ہیں اور ہر نیا کام بدعت ہے”

أَنَّهُ أَخَذَ حَجَرَيْنِ ، فَوَضَعَ أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ تَرَوْنَ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنَ النُّورِ " ؟ قَالُوا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا نَرَى بَيْنَهُمَا مِنَ النُّورِ إِلَّا قَلِيلًا .قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ; لَتَظْهَرَنَّ الْبِدَعُ حَتَّى لَا يُرَى مِنَ الْحَقِّ إِلَّا قَدْرُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنَ النُّورِ ، وَاللَّهِ لَتَفْشُوَنَّ الْبِدَعُ حَتَّى إِذَا تُرِكَ مِنْهَا شَيْءٌ; قَالُوا : تُرِكَتِ السُّنَّةُ " (الاعتصام للامام الشاطبی جلد 1 ص 106)
"عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک دن دو پتھر اپنے ہاتھ میں لے کر ایک کو دوسرے پر مارا پھر اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے “ ان پتھروں سے نکلنے والی روشنی (آگ) دیکھتے ہو”؟ انہوں نے کہا “اے ابوعبداللہ! ان میں سے تو بہت تھوڑی روشنی نکلی ہے”۔ فرمایا “ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایسا ضرور ہو گا کہ بدعات ظاہر ہوں گی یہاں تک کہ حق اتنا ہی دکھائی دے گا جتنا تم ان پتھروں میں سے روشنی نکلتے دیکھتے ہو۔ اللہ کی قسم بدعتیں پھیلیں گی یہاں تک کہ یہ حال ہو جائے گا کہ کوئی بدعت ترک کی جائے تو لوگ کہیں گے کہ اس نے سنت ترک کر دی”۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بدعت سے ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں:

مَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِنْ عَامٍ; إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً ، وَأَمَاتُوا سُنَّةً ، حَتَّى تَحْيَا الْبِدَعُ ، وَتَمُوتَ السُّنَنُ (الاعتصام للشاطبی ص 110)
"لوگوں پر کوئی سال ایسا نہیں گزرے گاجس میں وہ کوئی بدعت ایجاد نہ کریں اور کسی سنت کو مردہ نہ کر دیں۔ یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جائیں گی”۔

آپ نے کبھی سوچا کہ بدعتیں کیوں ایجاد کی جاتی ہیں اور بڑے بڑے صاحبان جبہ و دستار ان کی پشت پناہی کیوں کرتے ہیں؟ آئیے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول سنیے:
إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ فِتَنًا ، يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ ، حَتَّى يَأْخُذَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ ، وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ ، وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ ، وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ ، فَيُوشِكُ قَائِلٌ أَنْ يَقُولَ : مَا لِلنَّاسِ لَا يَتَّبِعُونِي وَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ ؟ مَا هُمْ بِمُتَّبِعِيَّ حَتَّى أَبْتَدِعَ لَهُمْ غَيْرَهُ ، وَإِيَّاكُمْ وَمَا ابْتُدِعَ ، فَإِنَّ مَا ابْتُدِعَ ضَلَالَةٌ (الاعتصام ص 111)
"تمہارے سامنے بڑے بڑے فتنے آئیں گے۔ مال کی کثرت ہو جائے گی ، اور قرآن کھول دیا جائے گا یہاں تک ہر مومن اور منافق، مرد و عورت، چھوٹا اور بڑا، آزاد اور غلام اسے لے سکے گا۔ قریب ہے کہ کوئی کہنے والا کہے “لوگ میرے پیچھے کیوں نہیں چلتے حالانکہ میں نے قرآن پڑھ رکھا ہے، وہ میرے پیچھے چلنے والے نہیں جب تک میں ان کے لیے کوئی نئی چیز نہ نکالوں”۔ تو اس وقت تم لوگ نئی نکالی گئی چیزوں سے بچنا، اس لیے کہ نیا نکالا گیا کام ضلالت و گمراہی ہے”۔

شاید اب بھائیوں کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ بار بار کی جانے والی درخواست کے باوجود کسی ایسی "بدعت حسنہ" کا وجود کیوں نہیں ملتا جسے کسی صحابی نے ایجاد کیا ہو۔ یہ فلسفے اسلام میں بہت بعد میں داخل کیے گئے۔ مان لینا چاہیے کہ یہاں بدعت کے حق میں پیش کی گئی حدیثوں کا مطلب سمجھنے میں لوگوں کو غلطی لگی ہے ۔ درست مفہوم کی تشریح ان شاء اللہ آئندہ۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 05-08-09 at 05:23 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-08-09), فیصل ناصر (05-08-09), آصف وسیم (17-09-10), احمد بلال (04-09-09), ضِرار Derar (29-05-10), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 05-08-09, 07:05 AM   #62
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post

[QUOTE=عبداللہ حیدر;192392]اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ( سورۃ النساء آیت115)
"اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد رسول کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے"اس آیہ میں مؤمنین کےرستےکاذکرہےاورچونکہ اورچونکہ مؤمنین قیامت تک کیلیئےہیں ناکہ صرف جماعت صحابہ اسلیئےقیامت تک کیلیئےمؤمنین
  • کی پیروی انکےراستےپرچلناجائزٹھرا
اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کلام میں کوئی غیرضروری بات ہو۔ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے “سبیل المومنین” یعنی “مومنوں کی راہ” کا ذکر کیا ہے۔ جس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ہم پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اتباع امت کے پہلے مسلمان گروہ یعنی صحابہ کرام کے فہم کے مطابق فرض ہے۔ یہاں صرف صحابہ کاذکرنہیں ہےبلکہ مؤمنین کاذکرہے اور مؤمنین قیامت تک کیلیئےہیں اسی لیئے مؤمنین کی پیروی قیامت تک کیلیئےجائز ٹھری" دیکھیے کہ خلفائے راشدین جن کے عمل کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سنت قرار دے چکے تھے، قرآن جمع کرنے کا موقع آیا تو ایکدوسرے سے کہتے ہیں “تم وہ کام کیوں کرتے ہو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نہیں کیا”۔ پھر بھی قرآن جمع کیاگیایعنی بدعت کاصدور توہوا نا؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دفعہ وہ مسجد سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہیں اور (سب مل کر) تکبیر کہتے ہیں، اللہ کی تسبیح اور تہلیل بیان کرتے ہیں۔ تو سوچیے ان سے کیا فرمایا ہو گا۔ یہی نا کہ “تم نے بڑی اچھی بدعت ایجاد کی ہے، مجھے بھی اس میں شامل کر لو تا کہ قیامت تک ملنے والے ثواب میں میرا حصہ بھی شامل ہو جائے”۔ نہیں، وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تھے، ان سے مخاطب ہو کر کہا:
وَيْحَكُمْ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ مَا أَسْرَعَ هَلَكَتَكُمْ ، هَؤُلاَءِ صَحَابَةُ نَبِيِّكُمْ -صلى الله عليه وسلم- مُتَوَافِرُونَ وَهَذِهِ ثِيَابُهُ لَمْ تَبْلَ وَآنِيَتُهُ لَمْ تُكْسَرْ ، وَالَّذِى نَفْسِى فِى يَدِهِ إِنَّكُمْ لَعَلَى مِلَّةٍ هِىَ أَهْدَى مِنْ مِلَّةِ مُحَمَّدٍ ، أَوْ مُفْتَتِحِى بَابِ ضَلاَلَةٍ. قَالُوا : وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَرَدْنَا إِلاَّ الْخَيْرَ. قَالَ : وَكَمْ مِنْ مُرِيدٍ لِلْخَيْرِ لَنْ يُصِيبَهُ (سنن دارمی مقدمہ باب فی کراھیۃ اخذ الرای)
اے امت محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) تمہاری ہلاکت کس قدر قریب آ گئی ہے” اور فرمایا “اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ (ذکر کا یہ نیا انداز نکال کر) محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے بہتر طریقے کے مدعی ہو یا پھر گمراہی کا دروازہ کھولنے والے ہو”
وہاں بیٹھے لوگوں نے کہا:
“اے ابو عبدالرحمٰن(عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی کنیت)! ہمارا ارادہ خیر کے سوا کچھ نہ تھا”
اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:
“کتنے ہی خیر کا ارادہ کرنے والے ہیں جو اسے پا تے نہیں ہیں”
پھر اس حدیث کاکیاہوگاکہ آپ صلٰی اللہ علیہ وسلم کاگزر ایک دفعہ کسی مسجد میں ہوا حضور صلٰی اللہ علیہ وسلم نےملاحظہ فرمایا ایک گروہ تسبیح وتحلیل میں مشغول ہےایک نوافل میں ایک علم دین میں فرمایاسب خیرپرہیں

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کو لوگوں سے خطاب کرتے تھےکیا ہرجمعرات کوخطاب کرناسنت ہےیاان صحابی کی بدعت تھی؟اچھاپھرجب مسجد میں حلقےبناکرذکرممنوع(معاذالل )توانٹرنیٹپرتبلیغ دین سنت کیوں؟؟؟مسجدافضل یاانٹرنیٹکی بیٹھک جہاں ایک بٹن دباتےہی کیاسےکیانظرآجاتاہےجب مسجد جیسی مقدس ترین جگہ پراجتماعی ذکرممنوّع تو انٹر نیٹ پرتبلیغ کوصرف ذرائع کیو کہاجاتاہے؟؟؟40روزہ چلے قرآن کی کتابت درس نظامی فقہ کی تدوین چاروں امام بھی توبعد میں آئےدینی کتابیں کیایہ سب دین سےنہیں ہیں یااپنےمطلب کیلیئےانہیں ذرائع سےتعبیرکرکےچلتےبنیں کیونکہ ان کےبغیرفی زمانہ گزارا ناممکن پھر جمعہ سے پھلےاردو خطبہ اسکاحکم کیاہوگا کہ آپ اوپر اسکوبھی بدعت کہ چکےہیں جب ہربدعت بری تواسکےکیااحکام ہونگے کیونکہ ھرفرقےمیں اردو خطبہ ہوتاہے اور ھر بدعت بری توکیامسجدوں میں بدعتیتں کی جاتی ہیں خیال رہےصحابی نےحلقہ کرکےذکر کوبدعت کہاتھا(بقول مسٹر عبداللہ)تواردو میں خطبہ بدرجہ اتم شدید بدعت کہنےدیجیئےکہاں کہاں بدعتوں سےبچوگےمان جاؤ بدعت حسنہ ہوتی ہےورنہ دامن داغدار مسجدوں میں بھی (العیاذباللہ)اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ دے(آمین)
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-08-09, 04:34 PM   #63
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ‏

ابوحبیبہ (رحمتہ اللہ) نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :
میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔
کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :
تم (اس) امین (امیر) اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا ۔

مسند احمد
المجلد الثانی
تابع مسند ابی ھریرہ رضي الله تعالى عنه
حدیث : 8185



شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں
میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-08-09), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 05-08-09, 05:13 PM   #64
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
آپ نے خلفاء راشدین کو ایک "سہولت exception " دی ہے تو اس حدیث کا مفہوم بھی مد نظر رکھیں کہ "میرے اصحابہ ستاروں کی مانند ہے جس کی پیروی کرو گے فللاح پاو گے"
میرا خیال ہے کہ میں نے بات واضح کر دی ہے۔

والسلام
یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو اس میں‌ہمارے حق میں دلیل تھی لیکن یہ روایت جھوٹی ہے۔ اسے ابن عبدالبر نے جامع العلوم اور امام ابن حزم نے "الاحکام" میں‌نقل کیا ہے۔ ابن عبدالبر خود کہتے ہیں‌کہ " هذا إسناد لا تقوم به حجة لأن الحارث بن غصين مجهول
"یہ ایسی سند سے مروی ہے جس سے حجت قائم نہیں ہوتی کیوں اس میں حارث بن غصین مجہول ہے( یعنی کچھ معلوم نہیں کہ کون تھا کہاں کا تھا اور کیسا آدمی تھا)"۔
اور امام ابن حزم کہتے ہیں: هذه رواية ساقطة
یہ روایت ساقط ہے۔
اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
لا يصح هذا الحديث
"یہ حدیث صحیح نہیں ہے"۔
اہل السنۃ و الجماعۃ کے نزدیک "صحابہ کی جماعت" کا فعل متعبر اور حجت ہوتا ہے نہ کہ کسی ایک صحابی کا۔
(دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ حدیث نمبر 58 )

Last edited by عبداللہ حیدر; 05-08-09 at 05:28 PM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (06-08-09), shafresha (05-08-09), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 05-08-09, 06:11 PM   #65
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

shafresha صاحب میرا پیغام ہذف کرنے کی وجہ ارشاد فرما دیں نیز میری منتظمین سے گذارش ہے کہ فرد واحد کو پیغام ہذف کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ پیغام خالصتا مسلکی بنیاد پر ہذف کیا گیا ہے۔ اگر اس میں ایسی کوئی نا زیبا بات یا الفاظ ہیں تو سامنے لائے جائیں۔ میرے صرف دو سوال تھے جو کہ میں نے عبداللہ کی بات پر ہی ان سے کئے تھے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
Student آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-08-09, 06:26 PM   #66
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Student مراسلہ دیکھیں
shafresha صاحب میرا پیغام ہذف کرنے کی وجہ ارشاد فرما دیں نیز میری منتظمین سے گذارش ہے کہ فرد واحد کو پیغام ہذف کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا یہ پیغام خالصتا مسلکی بنیاد پر ہذف کیا گیا ہے۔ اگر اس میں ایسی کوئی نا زیبا بات یا الفاظ ہیں تو سامنے لائے جائیں۔ میرے صرف دو سوال تھے جو کہ میں نے عبداللہ کی بات پر ہی ان سے کئے تھے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
بھائی اسٹوڈنٹ سلام،
اس تھریڈ میں‌تقریبا 5 ممبران بشمول جناب منتظمین صاحب نے مجھ سے "غیر ضروری مُراسلات ختم کرنے کے لیئے کہا تھا۔
اگر آپ غور سے دیکھیں تو ناصرف آپ و دیگر ممبران بلکے خود منتظمین صاحب اور میرے بھی کچھ مُراسلات پر بھی قینچی جل چکی ہے، لہذا آپ اسے پرسنل نا لیں۔ ایک آدھ دن بعد آپ کا یہ اعتراض اور میرا جواب بھی ڈیلیٹ کردیئے جائیں‌گے۔
شکریہ!

Last edited by shafresha; 05-08-09 at 06:29 PM.
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
Student (05-08-09), منتظمین (05-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 06:27 PM   #67
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

صحابہ کے فہم کی حجیت پر کچھ گفتگو یہاں کی گئی تھی، موضوع کی مناسبت سے یہاں نقل کر رہا ہوں:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، بھائیو ، مندرجہ ذیل آیات کو غور سے پڑہیے ، حدیث قول ، فعلی اور تقریری ، کی حجت اور حیثیت اور حفاظت ، اور ، صحابہ کے فہم کی حجت و حیثیت اور صحیح حدیث میں کسی بات کی وضاحت نہ ملنے کی صورت میں ان کی اجتماعی بلا خلاف بات کی حجت کی دلیل ہیں ، اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے جو حکمت قران کے ساتھ نازل فرمائی ، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان کو سکھائی ، ان کے نفوس کی صفائی فرمائی ، اور یہ چیز کسی بھی غیر صحابی کو میسر نہیں ، اور اللہ کے رسول رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اللہ کی نازل کردہ حکمت سیکھے ہوئے ، اللہ کے رسول رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سے بڑھ کر سوائے انبیا و رسل کے ، کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات کی مراد نہیں جان سکتا خواہ وہ پوی مخلوق میں سب سے زیادہ صاحب عقل ہو ، اور خواہ کسی بھی فہم کا دعوی دار ،
اب آپ صاحبان مندرجہ بالا باتوں کی گواہی اللہ کے کلام میں پڑہیے ،
وَلَوْلاَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّآئِفَةٌ مُّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلاُّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللّهِ عَلَيْكَ عَظِيماً
::: اور (اے رسول ، صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ایک گروہ یہ ارادہ کر رہا تھا کہ آپ کو راہ (حق ) سے ہٹا دے اور وہ لوگ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ، اور وہ آپ کو کسی چیز میں سے نقصان نہ پہنچائیں گے (کیونکہ اللہ آپ کی حفاظت کرنے والا ہے ) اور اللہ نے آپ پر کتاب (قران ) نازل کی اور (اس کے ساتھ ) حکمت (نازل کی ) و آپ کو وہ کچھ سیکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے اور اللہ کا فضل آپ پر بہت زیادہ ہے ))) سورت النساء ، آیت ۱۱۳
اللہ تعالی نے خبر دی کہ اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قران کے ساتھ ساتھ حکمت بھی نازل فرمائی ،
سوال ::: اللہ نے یہ حکمت کیوں نازل فرمائی ، اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کس کو براہ راست یہ حکمت سیکھائی ؟؟؟
جواب ::: اللہ تعالی کا فرمان :::
((( لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ::: یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے کہ ان میں ان کی جانوں میں سے ہی رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان ( کے دل و دماغ و نفوس ) کی صفائی کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب (قران ) اور حکمت سکھاتا ہے اور بے شک اِس سے پہلے وہ لوگ واضح گمراہی میں تھے )))
سورت آل عمران 164
اور بتایا سبحانہ و تعالی نے ::: ((( هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلاَلٍ مُّبِينٍ :::
(اللہ ) وہ ہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ان میں سے ہی رسول بھیجا (جو ) ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان ( کے دل و دماغ و نفوس ) کی صفائی کرتا ہے اور انہیں کتاب (قران ) اور حکمت سکھاتا ہے اور اس سے پہلے وہ لوگ واضح گمراہی میں تھے )))
سورت الجمعۃ ، آیت ۲ ،
اللہ تعالی کے مندرجہ بالا فرامین سے یہ بہت واضح ہو گیا کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر جو حکمت نازل فرمائی وہ انہوں نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھائی ، اور یہ وہ چیز ہے جو کسی غیر صحابی کو میسر نہ تھی پس کوئی بھی دوسرا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بڑھ کر درست اور ٹھیک طور پر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات کو نہیں سمجھ سکتا، لہذا صرف ترجموں ، لغت کے قوانین اور کسی ذہانت کی بنیاد پر قران و حدیث کا مفہوم سمجھ کر صحیح غلط ، موافق و مخالف کا فیصلہ کرنا درست نہیں ،
و السلام علیکم۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (29-05-10)
پرانا 05-08-09, 06:55 PM   #68
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم قارئین کرام !
جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ہم نے یہاں پر بصورت مقالہ بدعت کی حقیقت کو واضح کیا اور بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو خود قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے بیان کیا اس مقالے کو ترتیب دیتے ہوئے ہم نے اپنے بنیادی استدلال کی مرکزیت کو دین کی عالمگیریت کے ساتھ جوڑا لہذا اس ضمن میں دین جو ہمیں اباحت اصلیہ کا اصول دیتا ہے اسے ہم نے بنیادی نقطہ استدلال بنایا اور اس ضمن میں قرآن و سنت سے دلائل رقم کیے اور پھر اسے کے بعد بدعت کی تقسیم کو بھی خود قرآن و سنت سے ہی واضح کیا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر آپ نے دیکھا کہ مخالفین ابھی تک ہماری پیش کردہ کسی ایک بھی دلیل کا رد نہیں کرپائے بلکہ مقالہ پر ترتیب وار چلنے کا کہہ کر خود ہی اس کی ترتیب الٹ دی اور بدعت کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم پر ہم نے جتنے بھی دلائل قائم کیئے تھے ان سب کو یکسر نظر انداز کرتے بدعت کی تقسیم کے مفھوم کو فہم صحابہ کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دینے لگے کہ ہم انھے صحابہ کرام کی ایجاد کردہ بدعات حسنہ کی لسٹ فراہم کریں ۔ ۔ ۔ ۔
چاہیے تو یہ تھا اور یہ گفتگو کا طریقہ کار اور بنیاد اصول بھی یہی ہے کہ جب دو اشخاص کسی ایک موضوع پر باہمی اختلاف کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک پہلے اپنے مؤقف کو ترتیب وار واضح کرتا ہے اور ہر دوسرا اسی ترتیب سے اس کے دلائل کا رد یا پھر اس اتفاق کرتا چلا جاتا ہے اور یوں گفتگو بغیر کسی خلط مبحث کے وقوع کے انتہائی خوش اصلوبی سے اختتام کو پہنچتی ہے ۔ ۔۔ مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ساتھی عبداللہ بھائی نے اس روش کو ترک کیا اور خود اپنی بات کی بار بار نفی بھی کی ۔ ۔ ۔ مجھے اپنے اس مکتب فکر کے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کا بارہا تجربہ رہا ہے اور ہمیشہ میرے احباب گفتگو میں یہی طریق روا رکھتے ہیں کہ اعتراضات در اعتراضات کیئے چلے جاتے ہیں اور جب انکو انکے اعتراضات کا شافی جواب دیا جاتا تو اس جواب سے ایگری یا ڈس ایگری کرنے کی بجائے نت نئے اور اعتراضات سامنے لاتے چلے جاتے ہیں اور یوں گفتگو خلط مبحث کا شکار ہوکر بے نتیجہ ہوجاتی ہے ۔ ۔ ۔۔ دیکھئے موضوع تو ہمارا تھا بدعت کی تقسیم حسنہ اور سیئہ میں جائز ہے یا ناجائز ؟ جس پر ہمارا دعوٰی تھا کہ جائز ہے اور مخالف دوستوں کا کہ ناجائز ہے ۔ ۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ اس مسئلہ کو پہلے حل کرتے اور اس پر کسی نتیجہ پر پہنچنے کے بعد اس ضمن میں گفتگو کرتے کہ جب بدعت کی تقیسم جائز ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کرام سے اتنی زیادہ تعداد میں بدعات حسنہ کا صدور نہیں ہوا ؟؟؟؟ اور یوں یہ ایک الگ موضوع ٹھرتا اور پھر ہم ان نکات کی طرف متوجہ ہوتے کہ جو صحابہ کرام سے بدعات (حسنہ) کے ظہور کی ایک بڑی تعداد میں حائل ہوئے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا ۔ ۔ ۔ چاہیے تو تھا کہ عبداللہ بھائی کو پہلے ہمارے ساتھ بدعت حسنہ کی تقسیم پر اتفاق کرلیتے تو پھر ہم انکو انکے اس سوال کا جواب بھی دے دیتے مگر انھوں نے ایسا نہ کیا ۔ ۔ ۔ اور بات لاکر ختم کی فھم صحابہ کرام پر ۔۔ ۔ کوئی بات نہیں میرے بھائی اگر یونہی تو پھر یونہی سہی آج سے ہم اس طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ بدعات کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم میں فھم صحابہ کیا ہے اور بدعات حسنہ کی ایجاد میں صحابہ کرام کے حالات زندگی میں ایسے وہ کیا مراحل تھے کہ جن کی وجہ سے وہ اس طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوسکے ۔ ۔ ۔ ۔ اس ضمن میں ہم آج سے عبداللہ بھائی کے اٹھائے گئے تمام نکات کا تفصیلی و تحقیقی جائزہ بھی لیں گے اور ان کے سوالات کا جواب بھی دیں گے ان شاء اللہ ۔ ۔ ۔ اور ایک گزارش کرنا چاہیں گے عبداللہ بھائی سے کہ پلیز جب تک آپ کے حالیہ اٹھائے گئے نکات کا ہم جواب نہیں دے لیتے آپ کا قلم خاموش رہے گا جس طرح کہ ہمارا قلم بدعات کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کے حوالے سے اقوال ائمہ ومحدثین پیش کرنے سے رکا ہوا ہے ۔ ۔۔ وقت کی تنگی کا عارضہ شدت سے لاحق ہے سو برائے مہربانی اس حوالے سے معذرت خواہ ہوں کہ کسی سوال کے جواب میں دیر ہوجائے والسلام آپ سب کا خیر اندیش عابد عنائت ۔ ۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (06-08-09), Student (05-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09)
پرانا 05-08-09, 07:56 PM   #69
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسکا مطلب صاف اور واضح ہیکہ جو حدیث اپنے عقائدپرفٹ نہیں اترتی یااپنےنام نہادعقائدکےاوپرپوری نہیں اترتی وہ ضعیف ہےہیں اوراسکےراوی مجہول صرف اتنا کہونگا
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا
Student (06-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09)
پرانا 06-08-09, 01:16 AM   #70
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
اسکا مطلب صاف اور واضح ہیکہ جو حدیث اپنے عقائدپرفٹ نہیں اترتی یااپنےنام نہادعقائدکےاوپرپوری نہیں اترتی وہ ضعیف ہےہیں اوراسکےراوی مجہول صرف اتنا کہونگا
بھائی، اگر مذکورہ حدیث ثابت ہوتی تو تمام اہل سنت و الجماعت کے لیے ایک زبردست حجت ہوتی اور اس کے صحیح ہونے پر میں بھی آپ کے ساتھ خوش ہوتا۔ لیکن جن دو محدثین نے اسے روایت کیا ہے وہ خود ہی اسے باطل اور ساقط کہہ رہے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ آپ کے پاس اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے تو پیش فرمائیے۔ اللہ کی توفیق سے ہمارا طریقہ یہ نہیں ہےکہ پہلے کچھ عقیدے اور فلسفے بنا لیے جائیں، پھر ان کے مطابق قرآن و سنت اور صحابہ کی جماعت کے افعال کی تاویلیں کی جائیں۔ یہ طریقہ جنہوں نے اپنا رکھا ہے وہ آپ پر بھی مخفی نہیں ہوں گے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (07-08-09), shafresha (06-08-09), آصف وسیم (17-09-10), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 06-08-09, 01:32 AM   #71
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اور ایک گزارش کرنا چاہیں گے عبداللہ بھائی سے کہ پلیز جب تک آپ کے حالیہ اٹھائے گئے نکات کا ہم جواب نہیں دے لیتے آپ کا قلم خاموش رہے گا جس طرح کہ ہمارا قلم بدعات کی حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کے حوالے سے اقوال ائمہ ومحدثین پیش کرنے سے رکا ہوا ہے ۔ ۔۔ وقت کی تنگی کا عارضہ شدت سے لاحق ہے سو برائے مہربانی اس حوالے سے معذرت خواہ ہوں کہ کسی سوال کے جواب میں دیر ہوجائے والسلام
بہتر ہے جب آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں تو بتا دیجیے گا۔ میں اگلے چند دن رمضان کے لیے مراسلات کی تیاری میں مصروف رہوں گا، اور عین ممکن ہے کہ رمضان میں بھی زیادہ وقت نہ دے سکوں۔ اس لیے میری طرف سے جواب میں دیر ہو تو اس کے لیے پیشگی معذرت۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (06-08-09), shafresha (06-08-09), آبی ٹوکول (06-08-09), احمد بلال (04-09-09)
پرانا 06-08-09, 02:56 AM   #72
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم قارئین کرام جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہاں اس دھاگے میں ہمارا موضوع سخن بدعت کی حقیقت کو واضح کرنا تھا اور قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے بدعت کی حسنہ اور سیئہ میں تقسیم کو بیان کرنا تھا سو وہ ہم کرچکے الحمدللہ ۔ ۔ اب مخالفین کو چاہیے تھا کہ پہلے ہمارے پیش کردہ دلائل کا رد کرتے اور اس طرح سے اپنا مؤقف یعنی کے بدعت کل کی کل مبنی بر ضلالت ہوتی ہے اس کا دفاع کرتے مگر آپ سب نے دیکھا وہ ایسا نہ کرسکے سو اس لیے انھوں نے بدعت کی تقسیم کے حسنہ اور سیئہ ہونے کو چھوڑ کر براہ راست اس سلسلے میں فھم صحابہ کو موضوع بنانے کی کوشش شروع کردی حالانکہ ہم نے اپنے پیش کردہ دلائل میں فھم صحابہ پر ہی مدار رکھا ہے جسے کہ ہم آگے چل کر بیان کریں سردست اتنا عرض کردیں کے اب ہمارے اور عبداللہ بھائی کے درمیان بدعت کی تقسیم کی تعین میں فھم صحابہ پر گفتگو ہوگی یعنی صحابہ کرام نے بدعت کی اس تقسیم کو کس طریقے سے لیا اب ہمارا براہ راست موضوع سخن یہ ہوگا پھر اس کے بعد ہم یہ عرض کریں گے کہ آیا وہ کیا وجوہات تھیں کہ جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور میں بدعات حسنہ کا بہت بڑی تعداد میں اجراء نہ ہوسکا ۔ ۔ لیکن اس سب سے پہلے محترم حیدر بھائی نے جو مراسلات فھم صحابہ کی بابت پوسٹ کیے ہیں سب سے پہلے ان کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں تاکہ گفتگو کسی طریق اور کسی نہج پر چل سکے سو پیش خدمت ہے محترم عبداللہ بھائی کے فھم صحابہ کے ضمن پیش کردہ دلائل کا انتہائی مختصر ترین جائزہ ۔ ۔ ۔ درج زیل میں آپ نے سب سے پہلے قرآن کی درج زیل آیت کو مشق سخن بنایا ہے اور پھر اس کی تفسیر بھی ارقام فرمائی ہے دیکھئے ۔ ۔

اقتباس:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ( سورۃ النساء آیت115)
"اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد رسول کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے"
اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کے کلام میں کوئی غیرضروری بات ہو۔ اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے “سبیل المومنین” یعنی “مومنوں کی راہ” کا ذکر کیا ہے۔ جس طرح انگریزی میں "The"کا استعمال ہے کہ Book کا مطلب کتاب اور The book کا مطلب کوئی خاص کتاب۔ اسی طرح عربی میں جب اسم نکرہ سے پہلے "ال" آ جائے تو وہ خاص ہو جاتا ہے جس طرح اس آیت میں "مومنین" نہیں "المومنین" فرمایا گیا۔ یعنی اس سے مراد ہر ایمان والا نہیں بلکہ کچھ خاص مومنین مراد ہیں اور وہ صحابہ کی جماعت ہے۔ اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ہم پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اتباع امت کے پہلے مسلمان گروہ یعنی صحابہ کرام کے فہم کے مطابق فرض ہے۔
ہمارے ممدوح اس آیت پاک کی( بغیر کسی معتبر حوالہ تفسیر کے ) خود ساختہ تفسیر فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ۔۔ ۔اس آیت میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے “سبیل المومنین” یعنی “مومنوں کی راہ” کا ذکر کیا ہے۔ جس طرح انگریزی میں "The"کا استعمال ہے کہ Book کا مطلب کتاب اور The book کا مطلب کوئی خاص کتاب۔ اسی طرح عربی میں جب اسم نکرہ سے پہلے "ال" آ جائے تو وہ خاص ہو جاتا ہے جس طرح اس آیت میں "مومنین" نہیں "المومنین" فرمایا گیا۔ یعنی اس سے مراد ہر ایمان والا نہیں بلکہ کچھ خاص مومنین مراد ہیں اور وہ صحابہ کی جماعت ہے۔
یعنی ہمارے ممدوح کے نزدیک جب لفظ مومن پر الف لام آجائے تو وہ لفظ مومن ظرف زمان کے ساتھ خاص ہوجاتا ہے یعنی پھر اس آیت کا حکم ایک خاص زمانہ کے مومنین تک محدود رہتا ہے (معاذاللہ ثم معاذ اللہ ) یہ ایک ایسی سنگین غلطی ہے جو کہ ہمارے محدود مطالعہ سے پہلے نہیں گزری اور نہ ہی ہم نے اس آیت کی اس سے پہلے یہ تفسیر کہیں اور پڑھی اور نہ ہی کسی نے اس آیت سے مومنین کی راہ سے فقط صحابہ کرام کا طبقہ مراد لیا ہے اور نہ ہی ہماری نظر سے کبھی یہ گزرا کہ کسی بھی صاحب علم نے نے اس آیت میں مومنین کی تخصیص فقط صحابہ کرام میں فرمائی ہو ، اگر فرمائی ہو تو وہ تفسیر محتاج حوالہ ہے اور امید کرتا ہوں کہ ہمارے ممدوح ضرور اس کا حوالہ پیش کریں گے ۔ ۔قارئین کرام اس آیت کی درست تفسیر تو ہم بعد میں پیش کریں گے پہلے اس الف لام کا جائزہ قرآن پاک کی دیگر آیات کے حوالہ سے فقط دو آیات کی صورت میں پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالٰی ہے ۔ ۔
لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ۔ ۔ ۔ آل عمران 28
کیا یہاں بھی فقط صحابہ کرام مراد ہیں اور آج کے دور مومنین کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ جس سے چاہیں جیسے چاہیں کفار کے ساتھ دوستیاں کرتے پھریں ؟؟؟؟
إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
یہاں بھی نماز کی وقت مقررہ پر فرضیت کو مومنین کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اللہ پاک نے لفظ مومنین الف لام وارد فرمایا ہے تو کیا اس کا مطلب ہے کہ وقت مقررہ پر نماز کی پابندی فقط صحابہ کرام تک محدود تھی اب جس کا جی چاہے جو وقت جو مرضی آئے نماز پڑھ لیا کرئے ؟؟؟؟؟
ان دونوں آیات میں الف لام آیا ہے تو میری عرض ہے حیدر بھائی سے کہ ان دونوں آیات کے حکم کاحصر آیا فقط صحابہ کرام تک ہے یا نہیں اگر نہیں تو کیوں نہیں ؟؟؟ کہ ان آیات میں بھی تو الف لام آیا ہے ؟؟'' اور اگر ہے تو اب ہماری نمازوں کے لیے کیا فتوٰی ہے کہ کب کب پڑھا کریں ۔ ۔ ۔

آپ نے دیکھا قارئین کرام کے خود ساختہ تفسیر کا کیا انجام ہوتا ہے ۔ ۔ اب آیئے ہم آپ کو ایک ایسی تفسیر کے حوالہ سے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں جو کہ مخالفین کے ہاں بڑی مسلم ہے یعنی تفسیر ابن کثیر ۔ ۔
حافظ عماد الدین ابن کثیر علیہ رحمہ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ ۔ جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے یعنی شرع ایک طرف ہو اس کی راہ ایک طرف ہو فرمان رسول کچھ اور ہو اور اس کا منتہائے نظر کچھ اور ہو حالانکہ حق اس پر کھل چکا ہو دلیل دیکھ لی ہو پھر بھی مخالفت رسول کرکے مسلمانوں کی صاف روش سے ہٹ جائے تو ہم بھی اسی ٹیڑھی اور بری راہ پر اسے لگا دیتے ہیں اسے وہی راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے لگتی ہے یہاں تک کے بیچ و بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے ۔ مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول ہی کی مخالفت کرنا ہے ۔ لیکن کبھی تو شارع کی صاف بات کا انکار ہوتا ہے اور کبھی اس چیز کا نکار ہوتا ہے کہ جس پر ساری امت محمدیہ متفق ہوتی ہے جس میں اللہ نے نھے بوجہ انکی شرافت و کرامت کے محفوظ رکھا ہے اس بارہ میں بہت سی احادیث بھی ہیں اور ہم نے بھی احادیث اصول میں ان کا ایک بڑا حصہ بیان کردیا ہے بعض علماء تو اسکے تواتر معنٰی کے قائل ہیں حضرت امام شافعی علیہ رحمہ نے غور فکر کے بعد اس آیت سے اتفاق امت (یعنی اجماع امت) کے دلیل ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ ۔ اور پھر امام اپنی زاتی رائے دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حقیقتا یہی اس بارے میں بہترین اور قوی تر ہے ۔ ۔
نوٹ :- قارئین کرام ہم نے اس آیت کی تفسیر کو بہت پہلے سے پڑھ رکھا تھا قریبا ہر مفسر نے اس آیت سے اجماع امت کی خلاف ورزی کو مراد لیا ہے چاہے وہ اجماع امت کسی بھی دور کے مومنین کا کیوں نہ اس میں کوئی تخصیص نہیں اور نہ ہی کسی مفسر نے اسکی تحصیص بیان فرمائی ہے یعنی امت کی ایک کثیر تعداد جس بات پر جس وقت بھی متفق ہوجائے وہ راہ کبھی بھی مبنی بر خطا نہیں ہوتی جیسا کہ امام ابن کثیر نے بھی اشارہ فرمایا سو ہم حیران تھے کہ اس آیت کو جناب عبداللہ صاحب ہمارے خلاف کس طرح لے آئے حالانکہ ہمارا مؤقف بدعت کی تقسیم میں امت کی اکثریت کے ساتھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 06-08-09 at 03:09 AM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (06-08-09), shafresha (06-08-09), Student (08-08-09), فیصل ناصر (06-08-09), خرم شہزاد خرم (06-08-09), عبداللہ حیدر (06-08-09)
پرانا 10-08-09, 08:46 AM   #73
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Student آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (10-08-09), shafresha (10-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (10-08-09)
کمائي نے Student کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
10-08-09 خرم شہزاد خرم دستیاب نہیں 150
پرانا 10-08-09, 11:24 PM   #74
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب کیاکیاثبوت پیش کیئےجایئں خود منکرین اقسام بدعت کااپنافتوٰی محترم studentنھائی نےپیش کردیاامید ہےاب توتشنگی مکمل طور پرختم ہوگئی ہوگی ورنہ کیاکیاجاسکتاہےجواپنےگھرکی بھی نہ مانے
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 11-08-09, 12:02 AM   #75
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کا اشارہ اگر میری جانب ہے تو میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ میرا تعلق دیوبند مکتب فکر سے نہیں‌ہے۔ عابد بھائی کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد آپ کو بھی اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا ان شاء اللہ۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (11-08-09), خرم شہزاد خرم (11-08-09)
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 06:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 10:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 09:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger