واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


میلاد النبی ص کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواز اور فوائد و برکات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-02-10, 04:29 PM  
Member
اجنبی
 
نعیم۔'s Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میلاد النبی ص کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواز اور فوائد و برکات

میلاد النبی ص کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواز اور فوائد و برکات


میلاد کا معنی و مراد ۔

میلاد کے لغوی معنی ہیں : ''ولادت ، وقت ولادت یا پیدا ئش ۔''۔ مولد کا معنی بھی ولادت کا وقت ہی ہے۔ جبکہ اہل ا سلام کےہاں اصطلاحی معنی میں میلاد یا مولد سے مراد سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہے اور محفل میلاد یا جلسہ میلاد یا میلاد کانفرنس سے مراد ایسا روح پرور اجتماع ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی عظیم نعمت الہی پر اللہ تعالی کے حضور ہدیہ شکر بجا لاتے ہوئے آقا ئے دوجہاںصلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت طیبہ ، آپ کی سیرت مطہرہ ، آپکےذکرو نعت کا تذکرہ کر کے برکات حاصل کی جائیں۔

یوم میلاد پر سلام پڑھنا ۔ اللہ اور انبیاء کی سنت ۔

انبیاء علیھم السلام کی ولادت کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔سورہ بلد میں اللہ تعالی نے نہ صرف ولادت مصطفی کاذکر کیا بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کی قسم بھی کھائی ۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں حضرت یحیی علیہ السلام کی ولادت پر اللہ تعالی نے انکے یوم میلاد پر "سلام علیہ یوم ولد" فرما کر سلام بھیجا ۔
سورہ مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں خود اپنے یوم میلاد پر "السلام علیی یوم ولدت " فرما کر خود اپنے اوپر سلام بھیجا اور قرآن مجید نے اسے جوں کا توں بیان فرما دیا۔
گویا انبیا کے یوم میلاد پر سلام پڑھنا خود اللہ تعالی کی سنت اور انبیائے کرام کی سنت ہے۔

سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کاذکر فرمایا۔ ولادت کے وقت ان انبیاء عظام کی ظاہر ہونے والی عظمتوں اور شانوں کا ذکر کیا ہے۔

ذکر انبیاء قرآن کی روشنی میں ۔

ذکر انبیاء سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور قلب میں ثبات پیداہوتا ہے۔ قرآن مجید پارہ: 12، سورہ ہود، آیت: 120 میں ہے:
ترجمہ: ''اور یہ سب کچھ انبیا ء کی خبریں ہم آپ پر بیان کرتے ہیں جن کے سبب ہم آپ کے د ل کو مضبوط کرتے ہیں۔''

توحید اور تمام عقائد اسلامیہ دعوے ہیں اور حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر دلیل ہیں۔ دلیل ثابت ہونے سے دعویٰ ثابت ہوتا ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل وکمالات کی بڑی اہمیت ہے، اور میلاد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات کا تذکرہ کر کے ایمان کو مضبوط کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید پارہ: 11، سورہ یونس، آیت: 58 میں ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: ''آپ فرمادیں اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے ساتھ وہ ایمان والے خوش ہوں۔ یہ خوشی اس (دولت) سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
اس آیت میں اللہ کے فضل ورحمت پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت و فضل عظیم ہیں آپ کی آمد کی خوشی میں جشن منانا اس آیت مبارکہ کی تعمیل ہے اور امر خیر ہے۔

فوائد و برکات میلاد ۔ حدیث کی روشنی میں۔

نیز صحیح بخاری کی کتاب النکاح، حدیث: 4711 میں ہے:

''(حضرت ثویبیہ کو ابولہب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں آزاد کردیا تھا) جب ابو لہب فوت ہوا تو اُسے گھر کے ایک فرد (حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے خواب میں دیکھا تو پوچھا: ابولہب ۔ کس حال میں ہو ؟ ۔ ابولہب نے جواب دیا: میں نے تمہاری جدائی کے بعد (قبر میں) کوئی بھلائی نہیں دیکھی، سوائے اس کے کہ مجھے ثویبیہ کو آزادکرنے کی وجہ سے مشروب پلایا جاتا ہے۔ ''

اس حدیث کے تحت شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مدارج النبوہ میں فرماتے ہیں:
''اس واقعہ میں میلاد منانے والوں کیلئے اور جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی شب مسرور ہوتے ہیں اور اپنی دولت خرچ کرتے ہیں، ان کیلئے سند ہے۔ ابو لہب کافر تھا، اسکی مذمت میں قرآن ناز ل ہوا، جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت بطور رسول نہیں*بلکہ اپنے بھتیجے محمد کی ولادت پر پر خوشی کا اظہار کیا(باندی آزاد کی) تو اسے بھی جزاء دی گئی، تو ایک مسلمان جس کا دل محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز ہو ۔ وہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خوشی منائے اور خرچ کرے تو اُس کے اجر و ثواب کا عالم کیا ہو گا۔''

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اظہار تشکر الہی

قرآن مجید، پارہ: 26، سورہ فتح، آیت: 8، 9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ''بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجاہے، تاکہ (انکی یہ شانیں دیکھ کر) تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس رسول کی عزت کے ساتھ مدد کرو اور انکی تعظیم بجا لاؤ اور (پھر) اس اللہ کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔''

اس آیت مبارکہ میں بعثت نبوی کا ایک مقصد یہ بھی بیا ن کیا ہے کہ اہل ایمان پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بجا لائیں اور محدث کبیر علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ ''میلاد منانا بھی آپکی تعظیم کا حصہ ہے۔'' اور قرآن مجید، پارہ نمبر 17، سورہ حج، آیت نمبر 32 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: ''اور وہ جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تویہ اُسکے دل کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔''
اور یقینا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نشانی ہیں، اس لئے آپ کی تعظیم و توقیر ضروری ہے۔

محافل میلاد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوقات کو اپنی نعمت عظمیٰ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر نے پر اس کے شکر کا اظہار ہے۔ گویا ایسی محافل میلاد اللہ کے ارشاد ''و اشکرولی'' ترجمہ: ''میرا شکر ادا کرو''۔ کی تعمیل ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ذریعہ فروغ علم

اہتمام محافل میلاد شریف اشاعت علم کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس میں فضائل نبوی اور سیر ت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو کہ علوم میں بڑی فضیلت والا علم ہے۔

میلاد شریف سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ اور ''من احب شیاً اکثر ذکرہ '' یعنی جو کسی چیز سے محبت رکھتا ہو تو اس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔ لہذا ذکر فضائل ومیلاد شریف محبت نبوی کی علامت ہے۔

صدقہ وخیرات اور مہمانوں کی ضیافت، امورِ خیر ہیں۔ جن پر اجر و ثواب ملتا ہے اور برکات حاصل ہوتی ہیں۔

صلوۃ وسلام سے دینی دنیاوی اور اخروی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ اور خصوصی طور پر بارگاہِ نبوی میں قرب ملتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: (ترجمہ): ''تم میں سے قیامت کے روز میرے زیادہ قریب وہ ہو گا جو زندگی میں*کثرت سے مجھ پر درود پڑھنے والا ہو گا۔'' اور میلاد شریف میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھا جاتا ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت، سعادات دارین کے حصول کا ذریعہ ہے۔ محفل میلاد میں قرآن مجید کی تلاوت بھی ہوتی ہے۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت و نعت خود سنت الہیہ ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے جابجا اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و ثنا اور شان و کمالات کا ذکر فرمایا ہے۔
قرآن مجید، پارہ: 26، سورہ فتح، آیت: 8، 9 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ''بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجاہے، تاکہ (انکی یہ شانیں دیکھ کر) تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ اور اُس رسول کی عزت کے ساتھ مدد کرو اور انکی تعظیم بجا لاؤ اور (پھر) اس اللہ کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔''
سورہ بلد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے سکونت کی قسم کھائی ۔ کہیں ورفعنالک ذکرک فرماکر بلندی ذکر کا اعلان فرمایا۔ کبھی سورہ الضحا میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راضی ہونے تک عطائیں کرتے جانے کا وعدہ فرمایا۔ اسی سورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غنی ہونے اور جلوہ الہی کی منزل کمال تک پہنچ جانے کا ذکر فرمایا۔ کہیں "انک لعلی خلق عظیم " کے تحت آپکے اخلاق حسنہ کاذکر مبارک ۔
الغرض درجنوں اور بیسیوں*مقامات پر قرآن حکیم شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتا نظر آتا ہے۔
پھر نعت خوانی کو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا ہے، نعت خوانوں کو اپنی دعائوں سے نوازا ہے، عظیم صحابی حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی نعت خوانی تعارف محتاج نہیں۔ بلکہ ایک نعت گو صحابی حضرت کعب بن زھیر سلمی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر مبارک بھی عطا فرمائی۔ جس سے مسلمان سات صدیوں سے زائد عرصہ تک برکت حاصل کرتے رہے اور بغداد شریف پر ہلاکو خاں کے حملے کے وقت یہ عظیم نشانی ضائع ہو گئی۔ میلا د شریف میں کثر ت کے ساتھ نعت خوانی ہوتی ہے اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ سے انعامات کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

محفل میلاد میں فضائل وکمالات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے سے آپ کی اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو کہ ثمر ایمان ہے۔

مکہ مکرمہ میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کامنایا جانا

سند المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ فیوض الحرمین صفحہ نمبر 27پر فرماتے ہیں: ''میں مکہ مکرمہ میں ولادت نبی کے روز مولد مبارک (جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی)، میں حاضر ہوا تو لوگ درود شریف پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر کر رہے تھے اور وہ معجزات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت ظاہر ہوئے۔ تو میں نے اس مجلس میں انوار و برکات کا مشاہد ہ کیا، میں نے غور کیا تو معلو م ہواکہ یہ انوار ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ اور انوار رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔''

الغرض میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ عمل خیر ہے جس میں ایمان کی پختگی، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم شکر الہی، علم دین نصیب ہوتے ہیں۔ اسکے علاوہ اللہ تعالی کی بارگاہ سے اجر وثواب اور خیر و برکت نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور انکی اتباع عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


واحسن منک لم ترقط عینی
واجمل منک لم تلد النساء
خلقت مبراء من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء

مولای صل وسلم دائما ابدا
علی حبیب خیر الخلق کلھم
نعیم۔ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-02-10), کنعان (04-02-10), مفتی (24-09-11), مہتاب (24-09-11), مباح (15-02-10), محمدعدنان (04-02-10), آبی ٹوکول (05-02-10), ام طلحہ (11-02-10), اعجازلاثانی (07-02-12), بزم خیال (07-02-10), حیدر Rehan (07-02-10), سیلانی (04-02-10)
پرانا 10-02-10, 01:13 AM   #46
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
صدیقی بھائی ، میرا مشورہ تو یہ ہے کہ جب تک بات اسلامی اخلاقیات کی حدود میں رہتی ہے اور شخصیات کی طرف نہیں پلٹتی تو اس گفتگو کو چلنے دیجیے ،
و السلام علیکم۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جزاک اللہ خیر عادل بھائی

میری بھی کچھ یہی رائے ہے کہ جب تک اسلامی گفتگو اخلاقیات کی حدود سے کی جا رہی ہو تو اسے چلنے دینا چاہئے، اور مزید میں اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب گفتگو غیر اخلاقی،یا ایک دوسرے پر الزام تراشی، یا اسطرح کی حد اختیار کرنے لگے تو اس میں سے بغیر کسی کی رائے جانے وہ غیر اخلاقی گفتگو ڈلیٹ کر کے مراسلہ بند کر دینا چاہئے کیونکہ اس وقت جو غیر اخلاقی گفتگو شروع کرتا ھے اس کے پاس اسلامی معلومات ختم ہو چکی ہوتی ہیں،
اور اس کے لئے میں نہیں سمجھتا کہ مراسلہ بند کرنے کے لئے کسی کی رائے جاننے کی ضرورت ہو۔
باقی آخری فیصلہ منتظمین کا ہی ھے آپکی طرح میرے دل میں بھی جو بات تھی وہ میں نے بھی کہہ دی۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-02-10), shafresha (10-02-10), فیصل ناصر (10-02-10), سحر (11-02-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 03:25 PM   #47
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم وررحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، کنعان بھائی ، آپ کی بات بھی بہت مناسب ہے ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ آپ پر راضی ہو ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-02-10), shafresha (10-02-10), کنعان (10-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 03:30 PM   #48
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عبداللہ بھائی، ساہج بھا ئی
ایک سوال ہے میرے ذہن میں ۔
کہ اگر میلاد کا نام درس رکھ دیا جائے
اس میں قرآن کی تفسیر
احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کی جائیں
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات بیان کیے جائیں
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی جائیں
اور ان تمام باتوں میں غلو نا کیا جائے ، اور تمام حدوں کا خیال رکھا جائے ۔
تو پھر تو اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم سحر بہن ،
آپ کے سوالات گو کہ بھتیجے عبداللہ حیدر اور بھائی ساھج سے ہیں ، لیکن جواب میں دے رہا ہوں ، امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ صاحبان درگذر فرمائیں گے ،
سحر بہن ، سب سے پہلے """ علم اصول الفقہ """ میں مقرر اس قانون کی یاد دہانی کرواتا ہوں جس کا پہلے بھی کئی دفعہ ذِکر کر چکا ہوں کہ """ کسی چیز کا نام بدل دینے سے اُس چیز کا شرعی حُکم تبدیل نہیں ہوتا """" اور یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس فرمان مبارک سے لیا گیا ہے کہ ((((( لَيَشرَبَنَّ نَاسٌ من أُمَّتِي الخَمرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيرِ اسمِهَا ::: ضرور میری اُمت میں سے کچھ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیئیں گے ))))) المُستدرک الحاکم ،صحیح ابن حبا ن ، سنن ابی داؤد ،
پس کسی عمل کا نام بدل دینے سے اس عمل کا شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا ،
جی دوسری بات ہے کیفیات کی تبدیلی کی ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ولادت مبارک کی نسبت سے ایسے دروس کا اہتمام کیا جائے جن میں وہ کام ہوں اور بغیر کسی غلو کے ہوں جن کا آپ نے ذکر کیا تو بھی چونکہ وہ سب کام ایسے سبب کی بنا پر کیے جائیں گے جس کی بنا پر کچھ کرنے کی کوئی دلیل میسر نہیں ، پس اس طرح وہ سب کام بدعت کے زُمرے میں شُمار ہوں گے ،
اس معاملے کو آپ ایک اور مثال سے سمجھیے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرنا ایک مطلوب اور بہت ہی فوائد او رفضیلت والا کام ہے ، لیکن اگر کوئی اپنے طور پر کسی ذکر کو کسی وقت ، کسی جگہ ، کسی عدد ، کسی کیفیت سے مخصوص کر لے تو اس کا ایسا کرنا بدعت کہلائے گا ، جیسا کہ کوئی کسی ایسے ذکر کو جو سونے کے اذکار میں سکھایا گیا ، جاگنے کے اذکار میں شامل کر لے یا اس کے معنی اور مفہوم کے مطابق اس کو کسی اور معاملے سے منسلک کر لے تو اس کا یہ عمل بدعت کہلائے گا نہ کہ وہ ذِکر بذاتہ ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اس کا مطلب ہے کہ میلاد کا مقصد غلط نہیں صرف اس کے طریقہ کار پر اختلاف ہے
کیا میں صحیح ہوں
اور اگر میلاد یا درس کو
خاص 12 ربیع الاول کو نا کیا جاے بلکہ کسی بھی وقت ہو ۔ اور 12 ربیع الاول کو بھی ہو ۔
درس میں بھی لوگ محفل کی شکل میں ہی بیٹھتے ہیں ۔
میلاد بھی صرف 12 ربیع الاول کو نہیں ہوتا ہے ۔
شکریہ
سحر بہن ، میلاد کی درستگی کی تو ہمیں دین میں کوئی قابل حجت دلیل نہیں ملتی ، سوائے لوگوں کی خود ساختہ تفسیروں اور فلسفوں کی بنا پر تیار کردہ باتوں کے ، اب اُس عمل کو کوئی بھی نام دیا جائے ، اور اس عمل کو کسی بھی وقت کیا جائے اس کی حقیقت وہی رہے گی ،
میلاد منانے کے لیے کچھ لوگ جن کاموں کو مقاصد حسنہ کے طور پر بتا کر میلاد منانے کی دلیل بناتے ہیں ، ان کاموں کو کرنے کی ضرورت تو ہمیشہ ہی رہتی ہے صرف میلاد کے نام پر محفلیں سجا کر وہ کام کرنا اگر درکار اور درست ہوتا تو میری بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اس کی تعلیم و تربیت ضرور دیتے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ایسا ضرور کرتے ، تابعین تبع تابعین ایسا ضرور کرتے ، لیکن کسی نے بھی ان نیک مقاصد کو پورا کرنے کے لیے میلاد کی محفلیں نہیں سجائیں ،
کسی جائز اور کسی ناجائز کام کی ظاہری کیفیت کے مشابہہ ہونے سے جائز نا جائز نہ ہوگا اور نا جائز جائز نہیں ہو گا ،
آپ نے درس اور میلاد میں لوگوں کے محفل کی صورت میں بیٹھے ہونے کی مشابہت کی بات کی ، اور بھی بہت سی مجالس ایسی ہوتی ہیں جہاں لوگ محفل کی طرح ہی بیٹھے ہوتے ہیں ، یقینا آپ خود بھی صرف اندازءِ نشست کی بنا پر ہر ایک مجلس کو ایک جیسا ، اور درست نہیں مانیں گی ،
اگر کوئی شخص دروس کی محافل کا مستقل سلسلہ وار اہتمام کرتا ہو اور اسی سلسلے میں خود کار طور پر اس کا کوئی درس اس دن آجائے جس دِن کو عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش مبارک والا دِن سمجھا جاتا ہے ، اور وہ شخص اپنے اس درس میں اس دِن اور اس واقعہ کی نسبت سے کچھ تبدیلی نہ کرے تو معاملہ الگ ہو گا ،
سحر بہن اگر کچھ وقت مل سکے تو وہ کتاب ڈاون لوڈ کر کے اس کا مطالعہ کیجیے جس کا لنک بھتیجے نے اس تھریڈ کے مراسلہ رقم دو میں دیا ہے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (10-02-10), سحر (10-02-10), شھزادباجوہ (23-09-11), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 03:52 PM   #49
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم سحر بہن ،
آپ کے سوالات گو کہ بھتیجے عبداللہ حیدر اور بھائی ساھج سے ہیں ، لیکن جواب میں دے رہا ہوں ، امید ہے کہ ان شاء اللہ آپ صاحبان درگذر فرمائیں گے ، ۔
السلام علیکم عادل سہیل صاحب

اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ، میری خواہش ہی یہ تھی کہ آپ یا بھائی عبداللہ حیدر ہی جواب دے دیں ، کیونکہ میں کم علم آدمی ھوں اور میرا جواب ویسے بھی لٹھ مار قسم کا ھوتا ھے جس کا مجھے احساس بھی ھے اسی لئے میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ حضرات میں سے کوئی جوب دے تو بہت اچھا ھو،

آپ کا بہت بہت شکریہ ، اتنے اچھے انداز میں بات سمجھانے پر،
اللہ تعالٰی قبول و منظور فرمائے

آمین

والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 10-02-10, 10:07 PM   #50
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اگر کوئی شخص دروس کی محافل کا مستقل سلسلہ وار اہتمام کرتا ہو اور اسی سلسلے میں خود کار طور پر اس کا کوئی درس اس دن آجائے جس دِن کو عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش مبارک والا دِن سمجھا جاتا ہے ، اور وہ شخص اپنے اس درس میں اس دِن اور اس واقعہ کی نسبت سے کچھ تبدیلی نہ کرے تو معاملہ الگ ہو گا ،
۔
عادل بھائی میری بات کا مطلب یہی تھا ۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں ۔ لیکن میلاد ہمارے معاشرے میں ذیادہ تر لوگ یہ سوچ کر نہیں مناتے کہ وہ بدعت کریں ۔ بلکہ ذیادہ تر لوگوں کو ان باتوں کا علم ہی نہیں ، بلکہ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کیونکہ ہمارے ماں باپ یہ مناتے ہیں اس لیے ہم بھی مناتے ہیں ۔
میرا پوائنٹ آف ویو یہ ہے کہ ان کو یہ کہنے کہ بجائے کہ آپ لوگ غلط کام کررہے ہو ۔ ان میلاد کی محفلوں کو درس میں تبدیل کردیا جائے ۔ صرف کسی کو یہ کہہ دینا کہ تم غلط کر رہے ہو کافی نہیں ہوتا بلکہ سب کو alternative بھی مہیا کرنا چاہیے ۔
درس و تدریس کی محفلوں کو عام کیا جائے ۔ جہاں لوگوں کے علم میں اضافہ ہو اور وہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرسکیں ۔
امید ہے کہ میرا مدعا واضع ہوگیا ہوگا ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 11-02-10, 02:30 AM   #51
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 817
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

لیکن حدیث میں تو باقاعدہ شراب کا نام لیا گیا ہے؟؟؟۔۔۔ اور پس سے جو مراد آپ نے لی ہے کیا اس کو ہم من وعن تسلیم کرنے کے مجاز ہیں؟؟؟۔۔۔ عمل تو حرام اور حلال کے ماتحت ہے تو آپ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کے عمل کا نام بدل دینے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ ہاں اگر حدیث کے الفاظ اس طرح ہوتے کے حرام کا نام بدل کر حلال کہیں گے تو جو پس سے آپ نے تاویل پیش کی ہے وہ تسلیم کی جاسکتی تھی ۔ باقی واللہ اعلم

والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
حرب بن شداد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حرب بن شداد کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 11-02-10, 08:32 PM   #52
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم عادل سہیل صاحب

اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ، میری خواہش ہی یہ تھی کہ آپ یا بھائی عبداللہ حیدر ہی جواب دے دیں ، کیونکہ میں کم علم آدمی ھوں اور میرا جواب ویسے بھی لٹھ مار قسم کا ھوتا ھے جس کا مجھے احساس بھی ھے اسی لئے میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ حضرات میں سے کوئی جوب دے تو بہت اچھا ھو،

آپ کا بہت بہت شکریہ ، اتنے اچھے انداز میں بات سمجھانے پر،
اللہ تعالٰی قبول و منظور فرمائے

آمین

والسلام
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے ساھج بھائی ،
اللہ کا شکر ہے اور تمام خالص تعریف ہے اسی کی جس نے مجھے آپ کی ایک نیک خواہش کی تکمیل کا سبب بنایا ،
ساھج بھائی ہم جیسے یعنی میرے اور آپ جیسے لوگ تو ساری زندگی سیکھنے میں گذارتے ہیں ، ایک دوسرے سے اصلاح کی طلب رکھتے ہوئے کم علمی والی بات بھی کرنے میں ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں بلکہ ان شاء اللہ فائدے کا سبب ہو تا ہے ،
آپ کوشش کیا کیجیے کہ اپنی لٹھ کو مار پیٹ میں استعمال کرنے کی """ خطیب کا عصاء """ بنا لیجیے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کے نیک اعمال قبول فرمائے اور کوتاہیوں اور غلطیوں سے درگذر فرمائے ، اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), shafresha (12-02-10), فیصل ناصر (11-02-10), کنعان (12-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10)
پرانا 12-02-10, 02:52 AM   #53
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی میری بات کا مطلب یہی تھا ۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں ۔ لیکن میلاد ہمارے معاشرے میں ذیادہ تر لوگ یہ سوچ کر نہیں مناتے کہ وہ بدعت کریں ۔ بلکہ ذیادہ تر لوگوں کو ان باتوں کا علم ہی نہیں ، بلکہ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کیونکہ ہمارے ماں باپ یہ مناتے ہیں اس لیے ہم بھی مناتے ہیں ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترمہ سحر بہن ، میں بھی آپ کی باتوں سے کافی حد تک اتفاق کرتا ہوں بس ان میں کچھ شرائط اور حدود کی پابندی کا قائل ہوں ،
آپ کا کہنا ٹھیک ہے، اکثر لوگ کسی بدعت یا شرک والے کام کو بدعت اور شرک کے طور پر نہیں کرتے ، جو کسی ایسے کام کی حقیقت جان کر بھی وہ کام کرے،اُسی پرتو بدعتی، یا ، مشرک ہونے کا حکم لاگو ہوتا ہے،
اور ہمارے جو بھائی بہن ایسے کاموں کی حقیقت جانے بغیر اُن کا شکار ہیں ، ہمیں ان کو دلائل کے ساتھ ، حکمت اور اسلامی اخوت کی حلاوت کے ساتھ ان کاموں کی حقیقت بتانا ہے تا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کو ایسے کاموں سے بچا لے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب ہیں ،
کسی بدعت پر عمل کرنے والے یا کسی شرکیہ عمل کے عامل اس کو بدعت یا شرک جانے بغیر بھی کرتے ہوں تو بھی اللہ کے ہاں وہ کام ان کی لاعلمی کی وجہ سے جائز تو نہیں ہو گا ، جان بوجھ کر تو ایسا کوئی کام نہیں کیا جانا چاہیے ، کیونکہ نیک نیتی کی بنا پر لاعلمی اور دھوکہ دہی کا شکار ہو کر ایسا کام کرنے والے کے لیے یہ اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے ، مگر جانتے بوجھتے ہوئے کسی بدعت یا شرکیہ عمل کو اپنانے والے کے لیے بظاہر تو معافی کا کوئی امکان نہیں ،
ماں باپ اور بزرگوں کا کسی عقیدے کا حامل اور کسی عمل کا عامل ہونا نہ ہی اس عقیدے کی درستگی کی دلیل ہے اور نہ ہی اس عمل کی ،
جی سحر بہن ، لوگ اِس شیطانی وسوسے کا تو انسانی معاشرت کے ابتدائی وقت سے ہی شکار ہیں ، خاص طور پر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات ماننے میں آڑے والے اسباب میں سے یہ شیطانی وسوسہ ایک بڑی آڑ ہے اس کی خبر ہمیں اللہ نے بھی کی ہے ((((( وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ::: اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو نازل فرمایا اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپوں کو پایا ، اور خواہ شیطان اُن سب کو جہنم کے عذاب کی دعوت دیتا ہو ))))) سورت لقمان / آیت 21 ۔
پس میری بہن ، ہمیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیو بہنوں کو سمجھانے کی کوشش کرنا ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میرا پوائنٹ آف ویو یہ ہے کہ ان کو یہ کہنے کہ بجائے کہ آپ لوگ غلط کام کررہے ہو ۔ ان میلاد کی محفلوں کو درس میں تبدیل کردیا جائے ۔ صرف کسی کو یہ کہہ دینا کہ تم غلط کر رہے ہو کافی نہیں ہوتا بلکہ سب کو alternative بھی مہیا کرنا چاہیے ۔
درس و تدریس کی محفلوں کو عام کیا جائے ۔ جہاں لوگوں کے علم میں اضافہ ہو اور وہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرسکیں ۔
امید ہے کہ میرا مدعا واضع ہوگیا ہوگا ۔
ماشاء اللہ سحر بہن ، بڑی اچھی تجویز ہے ، میں نے ابھی ابھی جو کچھ عرض کیا اس کے ساتھ آپ کی ان منقولہ بالا باتوں کے جواب کے طور پر یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بحیثیت مُسلمان ،کسی غلطی کی اصلاح کے لیے نہ تو اُس غلطی کو جزوی یا وقتی طور پر اپنانا ہے اور نہ ہی ایسا سوچنا ہے کہ کسی کو غلطی سے ہٹانے کے لیے اس سے مشابہہ کوئی اور بدل دیا جائے ،
جی بدل مہیا کرنے والی بات بہت اچھی ہے ، بہت مناسب ہے ، لیکن سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے میری بہن کہ اگر کہیں کچھ ایسے لوگ ہوں جو میلاد کو بدعت جاننے کے بعد بھی اسی دِن اپنے سابقہ معمول کے کاموں کو تو ترک کرنا قبول کرلیں لیکن ان کے بدلے اسی دن کچھ اور نیک کام کرنا چاہیں تو میری محترمہ بہن بات وہیں کی وہیں رہے گی ، عمل تبدیل کرنے سے ، یا اعمال کی کیفیات تبدیل کرنے سے ان کا اس دن کیے جانے والا سبب تو برقرار رہے گا اور جب تک سبب برقرار رہے گا حُکم بھی برقرار رہے گا کیونکہ عملوں کا درا ومدار نیتوں پر ہے ،
اور اگر کوئی یہ کہے کہ ہم اس دن کوئی نیک کام رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیدائش مبارک کے تعلق سے نہیں کرتے تو سیدھی سی بات ہے کہ انہیں سمجھایا جائے کہ تو پھر اس دن اپنے معمول سے ہٹ کر کوئی کام مت کیجیے تا کہ کسی قسم کا شبہہ نہ رہے ((((( إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ من الناس فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ في الشُّبُهَاتِ وَقَعَ في الْحَرَامِ ::: بے شک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہے والے معاملات ہیں جنہیں لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی پس جو شبہے والے معاملات سے بچا تو اُس نے اپنے لیے اپنا دِین اور اپنی عِزت کو بری کر لیا اور جو شبہے والی معاملات میں پڑا وہ حرام میں پڑ گیا ))))) صحیح مسلم/حدیث 1599 /کتاب المساقاۃ /باب20 ،
درس و تدریس کی محفلوں کو زیادہ کرنے کی بات سے میں سو فیصد اتفاق رکھتا ہوں ، یقیناًجہالت کا علاج عِلم ہی ہے، اور حق اور باطل میں تمیز کرنے کے أہم بنیادی اسباب میں سے ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں دُنیا اور آخرت میں نفع دینے والا عِلم عطاء فرمائے اور اس پر عمل کی جرأ ت بھی ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), سحر (12-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 04:18 PM   #54
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حرب بن شداد مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ

لیکن حدیث میں تو باقاعدہ شراب کا نام لیا گیا ہے؟؟؟۔۔۔ اور پس سے جو مراد آپ نے لی ہے کیا اس کو ہم من وعن تسلیم کرنے کے مجاز ہیں؟؟؟۔۔۔ عمل تو حرام اور حلال کے ماتحت ہے تو آپ کس طرح یہ کہہ سکتے ہیں کے عمل کا نام بدل دینے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ ہاں اگر حدیث کے الفاظ اس طرح ہوتے کے حرام کا نام بدل کر حلال کہیں گے تو جو پس سے آپ نے تاویل پیش کی ہے وہ تسلیم کی جاسکتی تھی ۔ باقی واللہ اعلم
والسلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی ، حرب بن شداد ،
جی حدیث میں تو صرف شراب کا نام لیا گیا ہے ، لیکن ہم شراب کے ذکر کو مثال سمجھ کر اس قانون کو تسلیم کرتے ہیں ، کیونکہ ہمیں قران اور صحیح احادیث میں یہ اسلوب با کثرت ملتا ہے کہ کسی ایک چیز کا نام لے کر ایک عام حکم دیا جاتا ہے ،
اسے """ علوم اصول الفقہ """ میں """ الاجمال """ کہا جاتا ہے ،
مثلا ً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہم اجمعین کو یمن بھیجا تو انہیں حکم فرمایا ((((( إِنَّكَ تَأتِي قَومًا من أَهلِ الكِتَابِ فَادعُهُم إلى شَهَادَةِ أَن لَا إِلَهَ إلا الله وَأَنِّي رسول اللَّهِ فَإِن هُم أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعلِمهُم أَنَّ اللَّهَ افتَرَضَ عليهم خَمسَ صَلَوَاتٍ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ فَإِن هُم أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعلِمهُم أَنَّ اللَّهَ افتَرَضَ عليهم صَدَقَةً تُؤخَذُ من أَغنِيَائِهِم فَتُرَدُّ في فُقَرَائِهِم فَإِن هُم أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَموَالِهِم وَاتَّقِ دَعوَةَ المَظلُومِ فإنه ليس بَينَهَا وَبَينَ اللَّهِ حِجَابٌ :::تُم اہل کتاب کی ایک قو م کے پاس جاؤ گے لہذا انہیں یہ گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں ( محمد صلی اللہ علیہ ع وعلی آلہ وسلم ) اللہ کا رسول ہوں ، اگر وہ اس بات پر تمہاری اطاعت کرلیں تو انہیں سکھانا کہ اللہ نے ان پر ہر ایک دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اگر وہ اس بات پر تمہاری اطاعت کرلیں تو انہیں سکھانا کہ اللہ نے ان پر زکوۃ فرض کی ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر ان کے غریب لوگوں کو دی جائے گی اگر وہ اس بات پر تمہاری اطاعت کرلیں تو اُن کے مال کے بہترین حصے (بطور زکوۃ )لینے سے باز رہنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بد دُعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا ))))) صحیح مُسلم /حدیث19 / کتاب الایمان / باب7 ، صحیح البخاری / کتاب الزکاۃ کی پہلی حدیث ، ( یہ الفاظ مسلم کی روایت کے ہیں اس لیے میں نے حوالے میں پہلے اسی کا ذکر کیا ہے )
اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو اجمالی طور پر ہی کچھ کاموں کا حکم دیا ہے ، کیا خیال ہے ، ان احکام میں جو کچھ فرمایا گیا صرف اور صرف اتنا ہی کرنا مطلوب تھا ؟؟؟
اور کیا معاذ رضی اللہ عنہ ُ نے صرف اہل یمن سے گواہی طلب کی ہو گی ؟؟؟
صرف انہیں اتنا ہی سکھایا ہوگا کہ ایک دن اور ایک رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں ؟؟؟ کیونکہ حکم میں تو صرف اتنا ہی سکھانے کا ذکر ہے ، اور نماز کا طریقہ اور کیفیات نہ سکھائی ہوں گی ؟؟؟
صرف انہیں یہی سکھایا ہو گا کہ تمہارے مالدار لوگوں سے کچھ مال لے کر تمہارے ہی غریب لوگوں کو دیا جائے گا ، کیونکہ حکم میں تو صرف اتنا ہی سکھانے کا ذکر ہے ، اور انہیں زکوۃ کا نصاب اور اس کی ادإئیگی اور کون لوگ اس کے مستحق ہوتے ہیں ، اور دیگر احکام نہ سکھائے ہوں گے ؟؟؟
اگر آپ کو جواب """ ہاں """ ہو تو پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ُ کی سفارت کس کام کی ہوئی اس کا کیا مقصد ہوا ؟؟؟ کہ صرف کچھ احکام تو بتا دیے اور ان پر عمل کا طریقہ نہ بتایا اور نہ ہی ان کی کوئی تفصیل سمجھائی ،
اور اگر آپ کا جواب """ نہیں """ ہو تو ، معاذ اللہ آپ کے ہی بیان کردہ فلسفے کے مطابق معاذ بن جبل رضی اللہ عنہُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی کی ، ولا حول ولا قوۃ اِلا باللہ ، و نعوذ بہ من کل ضلالۃ ،
جی ، حرب بھائی ، ان شاء اللہ آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ کسی ممنوع چیز یا کام کا کوئی اور نام دے کر انسان کو دھوکہ دینا شیطان کی سنّت ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس کی خبر دی کہ ((((( فَوَسوَسَ إِلَيهِ الشَّيطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَل أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الخُلدِ وَمُلكٍ لَّا يَبلَى ::: پس شیطان نے اُن دونوں کی طرف وسوسہ ڈالا اور ان سے کہا کیا میں تُم لوگوں کو ہمیشگی والے درخت اور کبھی خراب نہ ہونے والی مملکت کی خبر نہ کروں ))))))سور ت/آیت120،
شیطان نے ہمارے والد اور والدہ آدم اور حوا علیہما السلام کو دھوکہ دیا تو انہیں وسوسہ ڈالتے ہوئے اُنہیں اس درخت کا نام بدل کر اس کا پھل کھلا دیا ،
حرب بھائی ، اگر ہم اس قسم کے احکام کو صرف اسی چیز سے متعلق سمجھیں جس کا نام لیا گیا ہو تو میرے بھائی واقعتا نام بدل دینے سے کسی چیز ، کسی معاملے ، کسی مسٕئلے کا حکم بدل جانا چاہیے ،
پھر تو سود کو فائدہ اور نفع کا نام دے کر جائز ہونا ہی چاہیے ،
سٹے بازی کو تجارت کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
زنا کو متعہ کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
مرد و زن کے خصوصی اختلاط کو """ ایک دوسرے کو سمجھنے """ کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
غیر اللہ سے تکوینی امور میں مدد طلب کرنے کو وسیلے کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
رشوت کو تحفے کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
چوری کو محنت کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
غیبت کو خبر کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
جھوٹ کو مصلحت کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
بے پردگی اور بے حیائی کو ضرورتء وقت کے نام پر جائز ہونا چاہیے ،
اور، اور، اور، اور ، اور،
حرب بھائی ، جس قانون کا میں نے ذکر کیا اور اس کے دلیل کے طور پر شراب کو نام بدل کر پینے والی حدیث ذِکر کی وہ قانون میری کسی سوچ و فکر کا نتیجہ نہیں ،امت کے اماموں نےیہ قانون مقرر کیا ہے اور مجھے علم نہیں کہ اہل سنت و الجماعت یعنی ہمارےا ور آپ کے فقہا ء میں کہیں اس کے بارے میں کوئی اختلاف پایا جاتا ہو،
میرے بھائی ، آپ کا اعتراض یا سوال اصل میں مجھ تک نہیں رکتا بلکہ ان اماموں تک جا پہنچتا ہے ، لیجیے ایک دو اقتباسات پیش کرتا ہوں ان کا مطالعہ فرمایے ،
امام ملا علی بن سلطان القاری الحنفی ، تاریخ وفات 1014نے اپنی کتاب مرقاة المفاتيح شرح المشکاۃ المصابیح / کتاب الاطعمۃ /باب النقیع و الانبذۃ /فصل الثانی (جلد 8 صفحہ 181 اور182 ، مطبوعہ دالر الکتب العلمیہ / بیروت / لبنان ، میں لکھا:::
"""""" عن أبي مالك الأشعري رضي الله تعالى عنه ) قال المؤلف في فصل الصحابة هو أبو مالك كعب بن عاصم كذا قاله البخاري في التاريخ وغيره وقال البخاري في رواية عبد الرحمن بن غنم حدثنا أبو مالك أو أبو عامر بالشك قال ابن المديني وأبو مالك هو الصواب روى عنه جماعة مات في خلافة عمر رضي الله تعالى عنه ( أنه سمع رسول الله يقول ( ليشربن ) ) أي والله ليشربن ( ( ناس من أمتي الخمر ) قال الطيبي أخبار فيه شائبة إنكار ( يسمونها بغير اسمها ) قال التوربشتي أي يتسترون في شربها بأسماء الأنبذة وقال ابن الملك أي يتوصلون إلى شربها بأسماء الأنبذة المباحة كماء العسل وماء الذرة ونحو ذلك ويزعمون أنه غير محرم لأنه ليس من العنب والتمر وهم فيه كاذبون لأن كل مسكر حرام ، فالمدار على حرمة المسكر فلا يضر شرب القهوة المأخوذة من قشر شجر معروف حيث لا سكر فيها مع الإكثار منها وإن كانت القهوة من أسماء الخمر لأن الاعتبار بالمسمى كما في نفس الحديث إشارة إلى ذلك وأما التشبه بشرب الخمر فهو منهي عنه إذا تحقق ولو في شرب الماء واللبن وغيرهما ،،،،،"""""
اور اسی شرح میں کتاب الرقاق کے آخری باب کی دوسری فصل کے تقریباً آخر میں ،جلد 9 صفحہ 564پر اسی حدیث اور اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے لکھا :::
""""" ،،،،،، و أن حقيقة الشيء لا يتغير اسم شيء عليه كما يسمى الزنجي بالكافور فلا يصح استدلال من توهم حرمة القهوة المحدثة بأنها من أسماء الخمر ولا بأنها تشرب على هيئة أهل الشرب لأنا نقول لا خصوصية حينئذ بالقهوة فإن اللبن والماء وماء الورد كذلك على أن الشرب المتعارف في الحرمين الشريفين وغيرهما ليس على منوال شرب الفسقة فإنه يتناول الزبادي المتعددة وشرب جماعة في حالة متحدة وبهذا تزول المشابهة وترتفع الشبهة ومما يدل على إباحتها ما نص الله في كلامه بقوله 16 ( هو والذي خلق لكم ما في الأرض جميعاً ) البقرة 29 وأن الأصل في الأشياء الإِباحة ما لم يصرف عنها دليل من الكتاب والسنة وإجماع الأمة أو القياس على وجه الصحة ( رواه الدارمي ) وروى أحمد والضياء عن عبادة بن الصامت مرفوعاً لتستحلن طائفة من أمتي الخمر باسم يسمونها إياه ،،،،،،،، """""
حرب بھائی یہ مذکورہ بالا دو اقتباسات امام ملا علی قاری رحمہ اللہ جو کہ حنفی مسلک کے بڑے اماموں میں سے ہیں کے ہیں ، امید ہے ان شاء اللہ یہ اقوال میری بات کی تصدیق کے لیے اور آپ کے سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گے ،
چلیے اس کے ساتھ ایک ان سے بھی پرانے امام کا قول نقل کرتا چلوں ،
امام عبداللہ بن احمد بن قدامہ المقدسی / تاریخ وفات 620 ہجری ، نے اپنی کتاب """ المغنی """ میں کتاب البیوع /باب الربا و الصرف کے مسئلہ 14 ، (جلد 4/ صفحہ 56 )مطبوعہ دار النشر / بیروت / لبنان ، میں لکھا :::
""""" ،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،، ولا تزول مفسدتها مع إبقاء معناها بإظهارها صورة غير صورتها فوجب أن لا يزول التحريم كما لو سمى الخمر بغير اسمها لم يبح ذلك شربها
وقد جاء عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنه قال لستحلن قوم من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها ، ومن الحيل في غير الربا أنهم يتوصلون إلى بيع الشيء المنهي عنه أن يستأجر بياض أرض البستان بأمثال أجرته ثم يساقيه على ثمر شجره بجزء من ألف جزء للمالك و تسعمائة وتسعة وتسعون للعامل ولا يأخذ منه المالك شيئا ولا يريد ذلك وإنما قصد بيع الثمرة قبل بدو صلاحها بما سماه أجرة والعامل ،،،،،،،،،،
""""""
دیکھیے حرب بھائی ، امام القدسی رحمہ اللہ نے ایک بالکل الگ قسم کے تجارتی معاملے کے ذکر میں اسی حدیچ سے وہی حکم اخذ کیا ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا ،
لہذا میرے محترم بھائی ، جو کچھ میں """ پس """ کے بعد لکھا ، جس پر آپ نے سوال کیا ، یا اعتراض کیا وہ میری طرف سے کوئی تاویل نہیں ، فقہ کے اماموں کا فہم ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (19-02-10), نورالدین (16-02-10), شھزادباجوہ (23-09-11), عبداللہ آدم (16-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10)
پرانا 15-02-10, 11:38 AM   #55
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 5,768
کمائي: 95,601
شکریہ: 22,614
4,757 مراسلہ میں 13,835 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک حدیث بھت مشھور ہے اور میرا دل کر رہا ہے کہ اس جگہ شیر کروں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا((جس نے ھمارے امر(دین)میں کوئی ایسا نیا کام کیا جس پر ھماری مہر نہیں تو وہ رد ہے))دین کا کوئی بھی کام کرنے سے پہلے یہ تو دیکھ لیں بھائی کہ اس پر آقائے نامدار ہر ان کے اصحاب کی مہر ہے؟؟؟؟
اور عقلی طور پر یہ مثال لے لیں کہ سپریم کورٹ نے پتنگ بازی کو نہیں بین لیا بلکی بسنت کو بین کیا ہے؟؟؟؟اسی طرح آپ مدح رسول پاک کریں،ذکر معراج کریں سب ایمان کا لازمی حصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پر جب اسے ایک باقاودہ تہوار بنانا چاہیں تو مہر تلاش کریں آقایے نامدار کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔مل جائے تو ٹھیک۔۔۔۔۔نا ملے تو نا کریں۔
ذرا سی بات تھی یاروں نے جس کو
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے
عبداللہ آدم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
sahj (15-02-10), نورالدین (16-02-10), شھزادباجوہ (23-09-11), عادل سہیل (18-02-10), عبداللہ حیدر (15-02-10)
پرانا 16-02-10, 12:31 AM   #56
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی میری بات کا مطلب یہی تھا ۔
میں آپ کی بات سے متفق ہوں ۔ لیکن میلاد ہمارے معاشرے میں ذیادہ تر لوگ یہ سوچ کر نہیں مناتے کہ وہ بدعت کریں ۔ بلکہ ذیادہ تر لوگوں کو ان باتوں کا علم ہی نہیں ، بلکہ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ کیونکہ ہمارے ماں باپ یہ مناتے ہیں اس لیے ہم بھی مناتے ہیں ۔
میرا پوائنٹ آف ویو یہ ہے کہ ان کو یہ کہنے کہ بجائے کہ آپ لوگ غلط کام کررہے ہو ۔ ان میلاد کی محفلوں کو درس میں تبدیل کردیا جائے ۔ صرف کسی کو یہ کہہ دینا کہ تم غلط کر رہے ہو کافی نہیں ہوتا بلکہ سب کو alternative بھی مہیا کرنا چاہیے ۔
درس و تدریس کی محفلوں کو عام کیا جائے ۔ جہاں لوگوں کے علم میں اضافہ ہو اور وہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرسکیں ۔
امید ہے کہ میرا مدعا واضع ہوگیا ہوگا ۔
السلام علیکم، میرے خیال میں درج ذیل دھاگوں میں پیش کیے جانے والی باتوں پر عمل پیرا ہوا جائے تو وہ خودساختہ عبادات اور عیدوں کا بہترین متبادل ہو سکتی ہیں:
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کا تقاضا :::
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کی نشانیاں :::
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 04:34 AM   #57
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: Saudi Arabia
مراسلات: 16
کمائي: 861
شکریہ: 13
14 مراسلہ میں 67 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ۔ سب بھائیوں اور بہنوں کی گفتگو دیکھی۔ عادل سہیل ، عبداللہ حیدر ،اور ساھج بھائی اور سحر باجی کی گفتگو بڑی پسند آئی۔ عید میلاد النبی کے بارے میں بحث چل رہی ہے۔ ہمیں تو نبی کی سنت سے محبت کرنی ہے اور اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت کرنی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ انشاء اللہ جنت میں ہونا ہے۔ جیسا کہ یہ اوپر حدیث میں بیان کیا جا چکا ہے۔ عید میلادالنبی تو نبی کی سنت ہی نہیں اس لیے ہمیں اس سے محبت ہی نہیں کرنی۔۔ کیونکہ صرف سنت سے محبت نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ہے۔عید میلاد النبی کہیں بھی صحابہ سے نہ تابعین و تبع تابعین سے اور نہ سلف صالحین سے۔۔ یہ ایک بدعت ہے۔ اگر کسی کو نبی سے محبت ہے تو وہ نبی کے طریقے اور سنت پر عمل کرے ۔نہ کہ کوئی میلاد وغیرہ منا کر۔۔یہاں کچھ بھائیوں نے اس کو ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل دی کہ اس میں کیے جانے والے سب امور دین میں ثابت ہیں۔ میرے بھائیو کسی بھی کام کو ثابت کرنے کے لیے یہ کافی نہیں ہوتا کہ اس میں کیے جانے والے کاموں کو صحیح ثابت کیا جائے۔بلکہ اس پورے کام کو اجمالی اور مکمل طور پر دیکھا جاتا ہے کہ آیا اس کی شریعت میں کوئی دلیل ہے یا نہیں۔۔ عید میلادالنبی میں کیے جانے والے کاموں سے حجت پکڑی نہیں جا سکتی ۔ بلکہ پورے عید میلادالنبی کو دیکھا جائے گا کہ آیا یہ کہیں ثابت ہے یا نہیں ۔۔
اگر آپ صرف عید میلادالنبی میں کیے جانے والے کاموں کو ایک ایک کرکے ثابت کریں گے تو پھر تو اس میں کچھ کام واقعی صحیح ہوں گے لیکن پورے عید میلاد النبی کو دیکھا جائے تو یہ ثابت نہیں ۔۔ اس کی مثال آپ اس حدیث سے سمجھیں۔
سنن ابی داود کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد میں ایک آدمی کو ظہر اور عصر کی نماز میں تثویب (یعنی الصلٰوت خیر من النوم( پڑھتےدیکھا تو ابن عمر وہاں سے چل دئیے اور فرمایا کہ اس شخص نے بدعت کی ہے۔
اب اس شخص کے وہ الفاظ کوئی بری بات تو نہیں تھی اور وہ بھی یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شریعت میں ثابت ہیں اور یقیناً وہ شریعت میں ثابت تھے ۔ لیکن اس کے اس کام کو اجمالی طور پر دیکھا جائے گا ۔۔ جب ہم اس کے اس عمل کو اجمالی طور پر دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس نے یہ الفاظ ظہر اور عصر کی نماز میں کہے جو کہ ان نمازوں میں ثابت نہیں۔ لہذا بدعت قرار پائی۔ اسی طرح عید میلادالنبی میں کیا جانے والا کوئی کام تو ثابت ہو سکتا ہے لیکن اجمالی طور پر پورا عید میلاد النبی ثابت نہیں اور وہ بھی صرف ایک مخصوص دن میں اس کو منانا
۔۔ لہذا یہ بھی بدعت ہوئی۔۔
شیررحمن آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شیررحمن کا شکریہ ادا کیا
sahj (16-02-10), فیصل ناصر (16-02-10), نورالدین (16-02-10), عادل سہیل (18-02-10), عبداللہ آدم (16-02-10), عبداللہ حیدر (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 01:57 PM   #58
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں

Last edited by حیدر Rehan; 16-02-10 at 02:08 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-02-10, 01:58 PM   #59
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,919
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سارا اسلام اور ساری شریعت اسی بات میں پنہاں کردی گی ہے اور سارے شریعت کے ہامی افراد کا زور اسی میں لگا ہے کہ کسی بھی طرح
محمد و آل محمد (ص) کے خوشی اور غم کے دنوں کو منایا نہ جاسکے ۔
آج جب کچھ لوگ ان مقدس ہستوں کے نام پر کچھ کرنا چاہیتے ہیں تو باقی ماندہ مسلمان یہ ثابت کروانا چاہتے ہیں کہ پچھلے لوگوں نے ایسا نہی کیا ویسا نہی کیا تو بھائی وہ بھی یہی سوچتے ہو نگے کہ ایسا نہ ہو ۔
اسی وجہ سے انھو ں نے حضرت محمد (ص) کی دنیا میں آمد اور اس دنیا سے پردہ فرمانے کے دن کو ایک کردیا یعنی 12 تاریخ میں سمو دیا تا کہ نہ آنے کی خوشی مناسکیں اور نہ جانے کا جدا ہونے کا غم منا سکیں (باقی لوگوں کا اتنا قصور تا ہے کہ انھوں نے آواز نہی آٹھائی اور اسی دن کو تسلیم کرلیا ۔
آج اگر کچھ لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ اپنے رسول اور آخری نبی (ص) کا دن منائیں تو خود ہی بری طرح پھنس گئے اور نکلنا بھی چاہیں تو نکلا مشکل سا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔ تاریخ میں ان کتابوں سے واقعی کچھ نہی ملے گا کیونکہ ہے ہی نہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور نہ ایسا کرنے دیا گیا ۔ اور جہاں جہاں ہوا وہ باتیں اس وقت بھی شرک کہہ کر رد کردی گئں ۔
جو میلاد کررہے ہیں انھیں زیا دہ کرنا چاہیے کیونکہ ان پر اپنے ان اجداد کی بھی زمہ داری باقی ہے جو میلاد منا نہی سکے یا یہ کہیں کہ وہ مجبور تھے لیکن اب کیسی مجبوری جمہورت کا دور ہے ۔ ہر شخص اپنی رائے رکھتا ہے اور اس کو کہہ سکتا ہے وہ وقت ختم ہوگیا جب زبانیں کاٹ دی جاتیں تھی حق بات کرنے پر۔
کتابوں سے نہی بلکے عقل و روح سے یقین کریں کہ یہ سہی ہے یا غلط ۔ ۔
تاج محل کی تعریف کیئے جائیے ۔ تاج محل کی تعریف ہی دراصل اس کے بنانے والے " شاہ جہاں" کی ہی تعریف ہے ۔ اور شاہ جہاں کبھی برا نہی مانے گا ۔
بس اسی طرح محمد و آل محمد (ص) کی تعریف کیے جائے اللہ ہر گز برا نہی مانے گا ۔ کیونکہ محمد و آل محمد (ص) کی تعریف ہی اللہ کی تعریف اور زکر ہے ۔
اسی لیے تو اللہ نے ان کو تعریف کا قابل بنایا تا کہ ان کی تعریف کی جائے ۔

Last edited by حیدر Rehan; 16-02-10 at 02:06 PM.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (16-02-10)
پرانا 16-02-10, 03:16 PM   #60
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم مسلمانو

فرض ھو ، واجب ھو، سنت ھو، نفل ھو، یا مستحب ، ہر ہر عمل کے کرنے اور عقائد بنانے میں ہم قرآن و سنت سے رہنمائی لیتے ہیں اور افضل ترین امتیوں یعنی صحابہ رضوان اللہ علیھم کے طریقے کو دیکھتے اور رہنمائی لیتے ہیں ، اب جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دو عیدیں دے دیں اللہ کے حکم سے، تو کسی کو بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی تیسری یا چوتھی "عید" کا اجراء کرے ، بس

میرے نبی پاک کا ارشاد ھے

- أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ ‏"‏ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ‏"

ترجمہ:-

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں تہواروں کے بدلے میں دو اور عیدیں عطا کر دی ہیں جو ان سے بہتر ہیں اور وہ ہیں :
عید الفطر اور عید الاضحیٰ ۔
النسائی
كتاب صلاة العيدين
باب : 1
حدیث : 1567
__________________


: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ تم اگلی امتوں کی راہوں ( یعنی گناہوں میں اور دین کی مخالفت میں نہ یہ کہ کفر اختیار کرو گے ) پر بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ چلو گے ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں گھسے تھے تو تم بھی گھسو گے ۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگلی امتوں سے مراد یہودی اور نصاریٰ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اگر یہ نہیں تو ) اور کون ہیں ؟


صحیح مسلم
فتنوں کا بیان
باب : البتہ تم اگلی امتوں کی راہوں پر چلو گے ۔



خود دیکھ لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف نشاندھی کردی تھی کہ دور جاہلیت کے فضول اور لا یعنی کام لوٹ کر آئیں گے اور جاہل لوگ وہ سب کچھ کریں گے جو نہیں کرنا چائیے،

والسلام مسلمانو
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
عادل سہیل (18-02-10), عبداللہ آدم (19-02-10)
جواب

Tags
unicode, پیارے, پاک, پسند, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, ایمان, اللہ, بہترین, تعارف, جواب, حکم, حال, حدیث, خوش, درود شریف, زندگی, عیسیٰ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger