واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 07:12 PM  
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 04-08-09, 05:36 PM   #46
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,123
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,711 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : muhammad asif virani مراسلہ دیکھیں
اب خدا کیلیئےکوئی محترمstudentپربیرونی عناصرکاالزام نہ عائد کردے کیونکہ کوئی خلاف مزاج بات آتی ہےتوبیرونی عناصرکافتوٰی صادر کردیا جاتاہے
ویرانی بھائی السلام علیکم،
میرے خیال میں‌آپ لفظ "بیرونی عنصر/یا عناصر" کے استعمال کو محض مذاق سمجھ رہے ہیں۔ خرم بھائی اس فورم کے پُرانے ممبر ہیں وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کے اس قسم کے عناصر نا صرف وجود رکھتے ہیں بلکہ موقع ملتے ہی "کاروائی" بھی کرتے ہیں۔ (میرا اشارہ آپ سمیت موجودہ کسی ممبر کی طرف نہیں ہے)

جہاں تک بات بھائی "اسٹوڈنٹ" کی ہے تو اُن کا "طرزَ تخاطب اور اندازِ گفتگو" آج کل کے کالج و یونیورسٹی کے "فرسٹیٹڈ" نوجوان کا سا ہے۔ میں اُنہیں قصور وار نہیں‌سمجھتا، میرے خیال میں‌قصور اُن کی ذھنی تربیت کرنے والوں کا ہے اور اُن کو عمر و تجربے کے ساتھ "گفتگو کرنے کا تجربہ" بھی آ ہی جائے گا۔

QUOTE=muhammad asif virani;191913]مگرآخر کب تک میں بھی دیکھتاہوں[/SIZE][/COLOR][/SIZE][/B][/COLOR][/QUOTE]

کیا میں آپ کی اس بات کو محض "مقطع میں‌آ پڑی ہے ایک سخن گُسترانہ بات" سمجھوں یا کچھ اور؟

Last edited by shafresha; 04-08-09 at 09:05 PM. وجہ: چند الفاظ کی تصیح
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (04-09-09), ضِرار Derar (29-05-10), عادل سہیل (20-08-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 07:36 PM   #47
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
مسلمہ قاعدہ ہے کہ ثبوت مدعی کے ذمے ہوتا ہے۔ آپ صاحب مضمون ہیں اس لیے آپ کی تحریر کی شرح کے لیے آپ ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ آپ کے سوالوں کے جواب ان شاء اللہ حسب توفیق دیے جاتے رہیں گے لیکن پہلے میری الجھنوں‌کو دور کرنے کا سامان تو کیجیے۔ ایک بڑی الجھن کا ذکر مراسلہ نمبر 64 میں کر چکا ہوں۔ اس کی طرف توجہ دیجیے گا۔
اسلام علیکم حیدر بھائی !
گو کے ہم آپکے تمام اعتراضات کا جواب دے چکے مگر آپ بضد ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مراسلہ نمبر 64 کا جواب ابھی تک نہیں آیا تو اس ضمن پھر سے عرض کیئے دیتے ہیں کہ دیکھیئے آپ کی اور ہماری بحث کا موضوع سخن یہ نہیں ہے کہ کس کس صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کون کونسی بدعات کو کس کس تعداد میں ایجاد کیا بلکہ ابھی تو بات اپنے ابتدائی مراحل میں بدعت کی تقسیم کے جائز و ناجائز ہونے پر ہی رکی ہوئی ہے آپ لوگوں کا دعوٰی ہے کہ بدعت کی ہر طرح کی تقسیم ناروا و ناجائز ہے جب کہ ہم بدعت کی حسنہ و سیئہ میں تقسیم کے ساتھ ساتھ لغوی و شرعی تقسیم کو بھی جائز سمجھتے ہیں کے ہمارے نزدیک یہ دونوں تقسیمات حقیقت میں ایک ہی ہیں فقط لفظی نزاع ہے جبکہ آپ لوگ کل بدعۃ ضلاۃ سے استدلال کرتے ہوئے پہلے تو ہر قسم کی تقسیم کا انکار کرتے ہوئے اسے ناجائز و حرام ٹھراتے ہیں اور جب آپ پر نعم البدعۃ ھذہ کا فرمان فاروقی پیش کیا جاتا ہے تو پھر آپ جھٹ سے بدعت کی لغوی اور شرعی تقسیم کے قائل ہوجاتے ہیں ۔ ۔ ایں چہ معنٰی دارد ؟؟؟؟؟؟ لہذا آپ سے ابھی تو ہماری گفتگو بدعت کی تقسیم کے جائز و ناجائز ہونے کے باب میں دلائل کے تعین میں ہورہی ہے کہ آخر وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنا پر آپ پہلے تو بدعت کی ہر قسم کی تقسیم نا روا سمجھتے ہیں اور پھر وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنیاد پر آپ جھٹ سے بدعت کو لغوی اور شرعی تعریفات میں تقسیم کرنا شروع کردیتے ہیں جب یہ معاملہ حل ہوجائے گا تو پھر اس ضمن بھی بحث کر لیں گے کس کس صحابی نے کس کس مقام پر کتنی کتنی تعداد میں بدعات ایجاد کیں سر دست موضوع سخن بدعات کی ایجاد میں تعداد کے تعین کا نہیں بلکہ بدعت کی تعریف میں جائز و ناجائز تقسیم کے تعین کا ہے ۔ ۔ ۔باقی آپ کا یہ کہنا بالکل بجاہے کہ دعوٰی کا ثبوت مدعی کے زمہ ہوتا ہے اور ہم ہر طرح سے تیار ہیں بلکہ ہم تو کب سے چاہ رہے ہیں کہ آپ لایعنی بحث چھوڑ کر ہمارے پیش کردہ مقالہ میں جن مسلمہ اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر اپنے اعتراضات وارد فرمائیں تاکہ ہم آپکو ان کے جوابات دے کر قارئین کو مزید مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں مگر آپ ہیں کہ آپکو فقط مراسلہ نمبر 64 کی مسلسل فکر کھائے جارہی ہے حالانکہ آپ کے اس مراسلے کا جس حصے کا جواب براہ راست موضوع سے متعلق تھا اس کا جواب ہم کب سے دے چکے اور جو حصہ براہ راست موضوع سے متعلق نہیں تھا ا سکا جواب ہم نے خلط مبحث سے بچنے کے لیے پہلے عرض نہیں کیا تھا اب آپکے بار بار اصرار کے باعث عرض کردیا ہے ۔ ۔
لہذا اب آپ سے گذارش ہے کہ ہمارے پیش کردہ مقالہ میں جن جن مسلمہ اصولوں کو ہم نے عرض کیا ہے آپ ان پر اپنے اعتراضات وارد فرمائیں تو ہم ان شاءاللہ العزیز آپ کو جواب دینے کی حت المقدور کوشش کریں گے ۔ ۔

مثال کے طور پر ہم نے اپنے اولین مراسلہ حقیقت بدعت میں تقسیم بدعت پر قرآن و سنت کے مسلمہ اصول اباحت سے استدلال کرتے ہوئے بطور دلیل قرآنی آیات کو بھی پیش کیا اور احادیث کو بھی پیش کیا ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کو اگر اس اصول کے قرآن و سنت کے خلاف ہونے کا زعم ہے تو آپ ا سپر اپنے اعتراضات پیش کیجئے ۔ ۔ ۔ جواب ہم دیں گے ان شاء اللہ

پھر ہم نے بدعت کی تقسیم کو خود احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح کیا آپکو اگر اس پر اعتراض ہے تو آپ فرمائیے ۔ ۔
جواب ہم دیں گے ان شاء اللہ
پھر ہم نے بدعت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس کی تقسیم حسنہ و سیئہ کو آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سے پیش کیا آپ کو اگر اس پر اعتراض ہے تو آپ بیان فرمایئے ۔۔۔۔
جواب ہم دیں گے ان شاء اللہ
اور ابھی تو ہم نے بدعت کی اس تقسیم کو کبار ائمہ و محدثین کے اقوال کی روشنی میں بھی عرض کرنا ہے اگر آپ کو اس پر بھی اعتراضات ہوئے تو ۔ ۔ ۔
جواب ہم دیں گے ان شاء اللہ العزیز

Last edited by آبی ٹوکول; 04-08-09 at 07:41 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (04-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
04-08-09 خرم شہزاد خرم جواب ہم دیں گے ان شاء اللہ العزیز 150
پرانا 04-08-09, 07:56 PM   #48
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کو سب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ تھے۔ اور صحابہ کرام نیکیاں کرنے اور ثواب کمانے کی حرص میں‌ ساری امت سے آگے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ وہ جانتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی اچھا عمل ایجاد کر کے امت کو دے دیا تو قیامت تک کا ثواب ان کے کھاتے میں لکھا جاتا رہے گا لہٰذا وہ خوب خوب بدعات حسنہ ایجاد کرتے ہوں گے اور جگہ جگہ بدعات حسنہ ایجاد کرنے اور پھیلانے کی فضیلت بھی بیان کرتے ہوں گے۔ ایسے افعال و اقوال کی ایک لسٹ درکار ہے۔ اس لیے کہ فرمان رسول کو عمل صحابہ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-08-09), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 04-08-09, 08:03 PM   #49
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,562
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
بھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کو سب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ تھے۔ اور صحابہ کرام نیکیاں کرنے اور ثواب کمانے کی حرص میں‌ ساری امت سے آگے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ وہ جانتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی اچھا عمل ایجاد کر کے امت کو دے دیا تو قیامت تک کا ثواب ان کے کھاتے میں لکھا جاتا رہے گا لہٰذا وہ خوب خوب بدعات حسنہ ایجاد کرتے ہوں گے اور جگہ جگہ بدعات حسنہ ایجاد کرنے اور پھیلانے کی فضیلت بھی بیان کرتے ہوں گے۔ ایسے افعال و اقوال کی ایک لسٹ درکار ہے۔ اس لیے کہ فرمان رسول کو عمل صحابہ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔
معافی چاہتا ہوں بولنے کی عادت سی ہو گی ہے
آپ کو بات گول کرنے کا فن حاصل ہے اس لیے آپ بات گول کر جاتے ہیں

پہلے اس بات پر فیصلہ کر لیں کہ بدعت حسنہ یا بدعت جائز ہے یا نا جائز اس کے بعد آپ کو وہ جواب بھی مل جائے گا
منتظمین صاحب کے سوال پر تو آپ نے کہا ہے کہ ہم ایک ترتیب سے بات کر رہے ہیں اور یہاں آپ نے اپنی ضد شروع کر دی ہے ایک ترتیب سے بحث کریں تاکہ پڑھنے والوں کو پتہ چلتا جائے کہ کیا فیصلہ ہو رہا ہے کون مان رہا ہے اور کون نہیں مان رہا
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), Student (08-08-09), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09)
پرانا 04-08-09, 08:15 PM   #50
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ کے تفصیلی جواب سے واضح ہوا کہ آپ کے خیال میں جس طرح جدید ایجادات کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح دین میں بھی اپنی مرضی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جامع ترمذی کی جو روایت آپ نے پیش کی ہے اس کا ٹکڑا پیش کرنے کی بجائے پوری حدیث بیان کر دیں تو بہتر ہو گا۔
میرے بھائی جامع ترمذی کی جس روایت کا جو ٹکڑا ہمارے مدعا کی دلیل بن رہا تھا وہ ہم نے عرض کردیا پوری حدیث نقل کرنے کی صورت میں بھی ہمارے مدعا پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا سو جتنی حدیث نقل کرنا ضروری تھا اتنی نقل کردی ۔ ۔ ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مکمل حدیث پیش کرنا ہمارے مدعا کے خلاف ہوگا تو آپ ہی پیش کردیجئے تاکہ ہمیں بھی تو پتا چلے کہ مکمل حدیث پیش کرنے سے ہمارے مؤقف پر کیا ضرب آتی ہے ؟؟؟؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔ لغوی تحیقیق آپ نے اپنے مراسلے میں‌بیان کی تھی اس لیے اس پر بات چل نکلی لیکن یہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں‌ہے۔ مراسلہ نمبر 64 پر غور کیجیے۔
میرے بھائی میں بار بار عرض کرچکا اور ہمیں یہ تسلیم ہے کہ کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک الگ امر ہے جب کے اس لغوی تحقیق کے برعکس کوئی لفظ شریعت میں کن معنٰی میں مستعمل ہے اس کی تحقیق بیان کرنا الگ امر ہے ۔ ۔حالانکہ کسی بھی لفظ کی لغوی تحقیق ایک طرح سے شریعت میں اس کے معنٰی کا تعین کرنے میں وجہ تسمیہ ہونے کی وجہ سے مددگار ثابت ہوتی ہے مگر یہ الگ بحث ہے ۔ ۔ ۔
دیکھیئے ایک ہوتا کسی لفظ کی لغوی تحقیق کا فلاں فلاں ہونا اور ایک ہوتا ہے کسی مخصوص مقام میں اسی لغوی تحقیق کا مراد لیا جانا لہذا یہ دونوں الگ الگ باتیں لہذا دونوں کے دلائل بھی الگ الگ ہونگے ۔
جیسے دیکھیئے ایک ہے لفظ بدعت کی لغوی تحقیق جس پر آپ ہمارے ساتھ متفق ہیں کہ لفظ بدعت بدع سے مشتق ہے اور فلاں فلاں اس کا مادہ ہے لفظ بدعت کی اس تحقیق میں ہم اور آپ مشترک ہیں نہ آپکو ہم پر کوئی اعتراض نہ ہمیں آپ پر کوئی اعتراض ۔ ۔ اعتراض تو ہمیں یہ ہے کہ نعمۃ البدعۃ ھذہ کے مخصوص مقام پر لفظ بدعت کو لغوی معنٰی میں آپ کن دلائل کی بنا پر مراد لیتے ہیں آخر وہ کونسے دلائل ہیں کے جن کی بنیاد پر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہاں اس مقام مخصوصہ میں لفظ بدعت اپنے شرعی نہیں بلکہ لغوی معنٰی کے بطور وارد ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔؟؟؟؟؟؟؟؟ لہذا برائے مہربانی اب لفظ بدعت کی لغوی تعریف و تحقیق پیش کرنے کی بجائے ان دلائل کا حوالہ دیجیئے کے جن کی بنا پر آپ نعمۃ البدعۃ ھذہ کے مقام مخصوصہ پر لفظ بدعت کا اطلاق شریعت کے معنٰی میں نہیں بلکہ لغت کے معنٰی میں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ امید کرتا ہوں اب بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 08:28 PM   #51
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
بھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کو سب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ تھے۔ اور صحابہ کرام نیکیاں کرنے اور ثواب کمانے کی حرص میں‌ ساری امت سے آگے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ وہ جانتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کوئی اچھا عمل ایجاد کر کے امت کو دے دیا تو قیامت تک کا ثواب ان کے کھاتے میں لکھا جاتا رہے گا لہٰذا وہ خوب خوب بدعات حسنہ ایجاد کرتے ہوں گے اور جگہ جگہ بدعات حسنہ ایجاد کرنے اور پھیلانے کی فضیلت بھی بیان کرتے ہوں گے۔ ایسے افعال و اقوال کی ایک لسٹ درکار ہے۔ اس لیے کہ فرمان رسول کو عمل صحابہ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔
معافی چاہتا ہوں عبداللہ بھائی میں آپ کو صاحب علم سمجھتا ہوں پر مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی جلدی ہار مان جائیں گے یعنی بات تو آپ ترتیب وار دلائل کا جواب دینے کی کرتے ہیں مگر اصرار آپ کو ایک ایسی بات پر ہے کہ جو براہ راست موضوع بحث ہی نہیں لہذا آپ بار بار اسی کا تکرار کیئے چلے جارہے اور یوں خلط مبحث کا باعث بن رہے ہیں میرے بھائی پہلے بدعت کی تعریف اور اس کی تقسیم کے مراحل تو حل کرلیں جب یہ معاملہ سلجھ جائے گا تو آپ یقین جانیئے آپ کو آپکے ان تمام سوالوں کا جواب آٹو میٹکلی مل جائے گا ۔ ۔ ۔ اور ویسے بھی صحابہ تو کل کے کل مدار ایمان ہیں کسی ایک صحابی کا کسی ایک بدعت حسنہ کو جاری کرنا ہمارے لیے بطور دلیل کافی ہے کہ اس باب میں تعدد اصل مسئلہ ہی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔بلکہ فقط کسی ایک بھی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی عمل بھی بطور دلیل کافی ہوگا ۔ ۔ ۔لہذا لسٹ لسٹ لسٹ کی تکرار ہی بےکار ہے ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (04-08-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 08:40 PM   #52
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں میرا سوال قطعا غیر متعلق نہیں ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
آصف وسیم (17-09-10)
پرانا 04-08-09, 08:41 PM   #53
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کوئی جلدی نہیں‌ہے۔ صحابہ کرام کی بدعات حسنہ کی فہرست فراہم کرنے کے لیے آپ کو جتنا وقت چاہیے لے لیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-08-09), آبی ٹوکول (04-08-09), آصف وسیم (17-09-10), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 04-08-09, 08:45 PM   #54
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,167
کمائي: 167,129
شکریہ: 9,674
7,363 مراسلہ میں 22,051 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عبداللہ میرا خیال ہے کہ ایک لسٹ‌ والی بات کو بعد کے لیے اٹھا رکھیں جو اصل موضوع ہے اس پر کچھ تفصیلی روشنی ڈالیں اور یہ بات شرعا واضح‌ہے کہ اگر کوئی کام کسی ایک بھی صحابی سے وارد ہے تو شرعا وہ جائز ہو جاتا ہے۔ اس لیے اگر ایک مثال بھی پیش کر دی جائے تو وہ بھی کافی ہونی چاہیے۔ لسٹ‌کی فراہمی ایک اہم مسلہ نہیں‌ ہے۔ اہم مسلہ امر کے جائز ہونے یا پھر ناجائز ہونے کا ہے۔
شاہ فریشہ بھائی اس موضوع میں‌سے فالتو مراسلے نکال دیں
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (04-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (04-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), آبی ٹوکول (21-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 09:04 PM   #55
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی جی، میرا مطالبہ موضوع سے ہٹ کر نہیں ہے۔ اور خلفائے راشدین کے عمل کے بارے میں‌اوپر لکھ چکا ہوں کہ وہ سنت میں داخل ہے۔ صحابہ کا دور کم از کم ساٹھ ہجری تک کا ہے۔ فوت ہونے والے آخری صحابی انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے جو ساٹھ کی دہائی میں فوت ہوئے(الاصابہ۔)۔ ہجرت سے قبل کے تیرہ سال شامل کر لین تو یہ عرصہ تہتر سال تک جا پہنچتا ہے ۔ بھائی عابد نے جو دلائل بیان کیے ہیں اگر وہ درست ہیں تو صحابہ کرام کے ایجاد کیے ہوئے اعمال و عقائد کی بھرمار ہونی چاہیے۔ اس لیے میرے سوال میں کوئی مشکل نہیں ہے، ایسی چند عبادات کے نام بتا دیں جو صحابہ کرام نے بدعت حسنہ سمجھتے ہوئے ایجاد کی تھیں۔ یا پھر صاف صاف کہہ دیں کہ آپ دین کو صحابہ سے زیادہ سمجھتے ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-08-09), shafresha (04-08-09), فیصل ناصر (04-08-09), آبی ٹوکول (21-08-09), آصف وسیم (17-09-10), احمد بلال (04-09-09), عادل سہیل (20-08-09)
پرانا 04-08-09, 09:26 PM   #56
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,123
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,711 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی عابد اور عبداللہ سلام،
آپ یقین کریں کے میری طبیعت آپ دونوں کی پُر مغر اور علمی (مگر لا حاصل) بحث کو پڑھ کر اتنی مکدر ہو رہی ہے کے میرا اب اس مُراسلے کو پڑھنے کا جی بھی نہیں چاہ رہا (اس جملے کی تلخی پر آپ دونوں سے معذرت خواہ ہوں)۔
اتنے ذھین اور خوب صورت و سیرت لوگ، اتنا اعلی ذھن، اتنی علمی گفتگو مگر بلاخر اس کا نتیجہ کیا نکلنا ہے وہ ہر صاحب عقل پر واضح ہے۔
میں اپنی ذندگی میں‌علمائے دیوبند اور بریلی کے ایسے ایسے جیّد اور جلیل القدر علماء کی ذیارت کرچکا ہوں کے اُن کے علم و تقدس کی قسم یقینا فرشتے بھی کھا سکتے ہیں، جن کا ذُہد و تقویٰ بلاشبہ باعث افتخار ٹہرتا ہے، مگر وہ لوگ بھی یہ اور اس جیسی کئی بحثوں کے بعد کسی نتیجے پر نہیں‌ پہنچ سکے۔
میں قسماً کہہ سکتا ہوں کے ہر دو فریقین اپنے موقف پر پوری دیانتداری اور خلوص سے قائم تھے (جب میں کہیں لفظ "مخلصین" استعمال کرتا ہوں تو میری مُراد ایسے ہی قابل قدر انسان ہوتے ہیں جو محض اللہ عزوجل کی خوشنودی و رضا کے لیئے کسی خاص عقیدے کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں)۔ ہر قسم کی بحث و مباحثے کے بعد بھی دونوں فریقین ایک دوسرے کے نفرت یا پُرخاش نہیں رکھتے تھے۔ میں نے اُنہیں "رحماء بینھم" کی عملی تفسیر پایا۔
اگرچہ عقلاً یہ بات درست ہے کے اِن دونوں فریقین میں سے کوئی ایک ہی صحیح بات پر قائم ہے مگر اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار محض اللہ رب العزت کو ہے اور وہ بروز قیامت اس کا فیصلہ بھی فرما دے گا، مگر مجھے ناجانے کیوں یہ خوش فہمی ہے کے وہ لوگوں کے اخلاص پر ہی فیصلہ فرمائے گا۔
shafresha آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), آبی ٹوکول (04-08-09), احمد بلال (04-09-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 09:53 PM   #57
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاہد بھائی، آپ کے حسن ظن کا شکریہ لیکن میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر ایسی واضح چیزوں پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا تو پھر ہمارا دین نہ ہوا موم کی ناک ہو گئی جس کا جی چاہے ادھر موڑ لے۔ یقین مانیے صحابہ کرام کے فہم کے خلاف بنائی گئی باتیں پڑھ کر میری طبیعت بھی بہت مکدر ہوتی ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-08-09), آبی ٹوکول (04-08-09), احمد بلال (04-09-09)
پرانا 04-08-09, 11:52 PM   #58
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم یہاں کسی ہار جیت کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے۔ بہت سادہ سی بات ہے اپنی کہو اور دوسرے کی سنو، پھر اللہ کی مرضی کہ وہ کسے کس راہ پر چلاتا ہے۔ علمی غرور سے آپ کا اشارہ اگر میری جانب ہے تو غلط ہے۔ میں نے اس فورم پر اتنا کچھ سیکھا ہے کہ شاید ویسے کئی سال میں بھی نہ سیکھ سکتا تھا۔ اس لیے گزارش ہے کہ ہماری گفتگو کو چلنے دیں۔
اقتباس:
وہاں پھر یہ جائز اور ناجائز کو چھوڑ دیتے ہیں
میں نے ابھی تک ایک ہی سوال کیا ہے کہ صحابہ کرام نے ان احادیث کو کیسے سمجھا تھا جن کا ذکر بھائی عابد نے اپنے مراسلے میں کیا ہے۔ اسے آپ "جائز و ناجائز" کہتے ہیں تو انا للہ و انا الیہ راجعون کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (05-08-09), احمد بلال (04-09-09)
پرانا 04-08-09, 11:58 PM   #59
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,562
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ہم یہاں کسی ہار جیت کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے۔ بہت سادہ سی بات ہے اپنی کہو اور دوسرے کی سنو، پھر اللہ کی مرضی کہ وہ کسے کس راہ پر چلاتا ہے۔ علمی غرور سے آپ کا اشارہ اگر میری جانب ہے تو غلط ہے۔ میں نے اس فورم پر اتنا کچھ سیکھا ہے کہ شاید ویسے کئی سال میں بھی نہ سیکھ سکتا تھا۔ اس لیے گزارش ہے کہ ہماری گفتگو کو چلنے دیں۔

میں نے ابھی تک ایک ہی سوال کیا ہے کہ صحابہ کرام نے ان احادیث کو کیسے سمجھا تھا جن کا ذکر بھائی عابد نے اپنے مراسلے میں کیا ہے۔ اسے آپ "جائز و ناجائز" کہتے ہیں تو انا للہ و انا الیہ راجعون کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔
سوال عنوان کے مطابق کریں بات کو گول کرنے کے لیے آگے پیچھے کے سوال نا کریں صرف ایک آپ ہی ہیں جو اس سوال کو موضوع پر سمجھتے ہیں کیونکہ آپ کا کاں چٹا ہی ہے ۔ جب منتظمین صاحب نے آپ سے سوال کیا اس وقت آپ نے کہا ہم ایک ترتیب سے بات کر رہے ہیں ۔ اور جب آپ نے خود سوال کیا تو پھر وہ ترتیب کہاں گی ۔ پہلے ان باتوں پر اتفاق کر لیں جو آبی بھائی نے آپ کے سامنے رکھیں ہیں پھر اس کے بعد آپ کی بات کا جواب میں بھی دے دوں گا انشاءاللہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-08-09, 01:22 AM   #60
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,167
کمائي: 167,129
شکریہ: 9,674
7,363 مراسلہ میں 22,051 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے خلفاء راشدین کو ایک "سہولت exception " دی ہے تو اس حدیث کا مفہوم بھی مد نظر رکھیں کہ "میرے اصحابہ ستاروں کی مانند ہے جس کی پیروی کرو گے فللاح پاو گے"
میرا خیال ہے کہ میں نے بات واضح کر دی ہے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), sahj (05-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), آبی ٹوکول (05-08-09), بتول باجی (05-08-09), عبداللہ حیدر (05-08-09)
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 06:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 10:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 09:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger