| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#31 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,730
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,993 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا درج ذیل تعارف آپ کے بارے میں ہے ؟؟ محمد نعیم رضا کا تعلق بنیادی طور پر لاہور سے ہے ۔ منہاج القرآن مرکزی سیکریٹریٹ کے کمپیوٹر سیکشن میں 1991 - 1997 خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ ازاں بعد یورپ کے وسطی ملک آسٹریا منتقل ہوگئے اور یہاں مقامی تنظیم منہاج القرآن انٹرنیشنل آسٹریا میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔ 2007 سے تاحال ملکی تنظیم میں جنرل سیکریٹری کی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-02-10), کنعان (07-02-10), ام طلحہ (11-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (07-02-10) |
|
|
#32 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
وإنماالعيد شريعة ، فما شرعه الله اتبع. وإلا لم يحدث في الدين ما ليس منه. وكذلك ما يحدثه بعض الناس ، إما مضاهاة للنصارى في ميلاد عيسى عليه السلام ،وإما محبة للنبي صلى الله عليه وسلم ، وتعظيمًا. والله قد يثيبهم على هذه المحبة والاجتهاد ، لا على البدع- من اتخاذ مولد النبي صلى الله عليه وسلم عيدًا. مع اختلاف الناس في مولده. فإن هذا لم يفعله السلف ، مع قيام المقتضي له وعدم المانع منه لو كان خيرًا. ولو كان هذا خيرًا محضا ، أوراجحًا لكان السلف رضي الله عنهم أحق به منا ، فإنهم كانوا أشد محبة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وتعظيمًا له منا ، وهم على الخير أحرص. عیدشریعت کا حصہ ہے۔ تو جس(عید کو)اللہ نے مشروع کیا ہےاس پر چلو اور جسے مشروع نہیں کیا تو پھر دین میں وہ چیزیں ایجاد نہ کی جائیں جو اس میں سے نہیں ہیں۔ یہی معاملہ ان امور کا ہے جنہیں بعض لوگ ایجاد کر لیتے ہیں چاہے وہ نصاریٰ کی مشابہت کرتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام کا میلاد منانا ہو یا پھرنبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت اورتعظیم کا تقاضا سمجھ کران کے یوم ولادت کو عید بنا لینا، جبکہ یہ حقیقت ہےکہ ولادت کے دن کا تعین بجائے خود لوگوں کے درمیان مختلف فیہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والوں کو اِس محبت اور محنت پر ثواب دے ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش والے دِن کو منانے کی بدعت اپنانے پر ثواب نہیں دے گا ، میلاد النبی منانا ایسا کام ہے جس کا سلف) صحابہ و تابعین( سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔اگر یہ کوئی اچھا یا خیر کا کام ہوتا تو صحابہ و تابعین اور تبع تابعین اس کو ضرور بجا لاتے جبکہ اس کی ضرورت بھی تھی(1)اور اسےکرنے میں کوئی رکاوٹ ان کی راہ میں حائل نہ تھی2)اور وہ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور تعظیم میں ہم سے بڑھ کر تھے اور خیر کے کام کرنےکے لیے (بھی ہم سے بڑھ کر ) کر خواہش مند اور پھرتیلے تھے پھر بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ (اقتضاء الصراط المستقیم فصل فی الاعیاد الزمانیۃ المبتدعۃ) وضاحت: (1 )یعنی یہ کہ وہ اپنی محبت ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مزید اظہار کے لیے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پیدائش کے دن پر خوشیاں مناتے ، اور مخلتف قوموں اور بالخصوص عیسائیوں کی رغبت حاصل کرنے کے لیے اُن کی رسموں جیسی کوئی رسم بنا تے ، لیکن اُن کی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تھی ، من مانی تاویلات کر کے دین میں نئے کام ایجاد کرنااور ان کو نشر کرنا نہیں ۔ (2 )کہ کہیں معاشرتی طور پر انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی شرعی طور پر ان پر کوئی قدغن لگائی جا سکتی تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجتماعی عمل دین کے احکام جاننے اور سیکھنے میں سے ایک ہے لہذا خودصحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہی کوئی انہیں منع کرتا تو کرتا کوئی غیر صحابی ایسا نہ کر سکتا تھا کیونکہ صحابہ تو اس کے لیے دین سمجھنے کا ذریعہ اور حجت تھے ، لیکن اس کے باوجود انہوں نےیہ کام نہیں کیا کیونکہ اس بات کی خوب سمجھ تھی اور بالکل درست سمجھ تھی کہ یہ کام بدعت ہے والسلام علیکم Last edited by عبداللہ حیدر; 07-02-10 at 09:22 PM. |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#33 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
مضمون نگار نے اسی قسم کی علمی بددیانتی کا مظاہرہ امام ذہبی کی کتاب سے اقتباس لیتے وقت کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
سبط الجوزی کہتے ہیں : شاہ مظفر الدین ہر سال محفلِ میلاد پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا جب کہ خانقاہِ صوفیاء پر دو لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔ اس محفل میں شریک ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اُس کی دعوتِ میلاد میں ایک سو (100) قشلمیش گھوڑوں پر سوار سلامی و اِستقبال کے لیے موجود تھے۔ میں نے اُس کے دستر خوان پر پانچ ہزار بھنی ہوئی سِریاں، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ دودھ سے بھرے مٹی کے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال پائے۔‘‘ یہاں تک کی بات ان کے مطلب کی تھی اس لیے امام ذہبی کا نام لے کر ذکر کر دی لیکن امام صاحب نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے وہ چھوڑ دیا۔ امام ذہبی اس پیرے کے آخر میں لکھتے ہیں: قُلْتُ: مَا أَعْتَقِد وُقُوع هَذَا، "میں کہتا ہوں میرا نہیں خیال کہ واقعی ایسا ہوتا ہو گا۔" (سیر اعلام النبلا جلد 22 ص 336 ناشر موسسۃ الرسالۃ بتحقیق شعیب الارناؤوط) |
|
|
|
|
|
#34 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اور آخری بات یہ عرض کرتا ہوں کہ میلاد کے بدعت ہونے کے بارے میں علماء کے اقوال کی بھی لمبی چوڑی تفصیل پیش کی جا سکتی ہے لیکن قضیے کا حل اسی وقت نکلے گا جب بادشاہوں کے فعل کو بطور حجت پیش کرنے کی بجائے اللہ کے قرآن، سنت رسول اور صحابہ کی جماعت کی طرف رجوع کیا جائے گا ورنہ ہر زمانے میں لوگ اپنے فہم سے عبادات اور عیدیں نکالتے رہیں گے اور امت تفریق در تفریق ہوتی رہے گی۔
|
|
|
|
|
|
#35 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ ،
بھائی شاھد صدیقی صاحب کی طرف سے جاری کردہ اور بالکل مناسب وارننگ کے بعد چونکہ یہ تھریڈ کسی وقت بھی بند کیا جا سکتا ہے لہذا اس سے پہلے کہ ایسا ہو جائے میں سب سے پہلے بھائی کنعان کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں ، اور تہہ دل سے ان کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اُن پر راضی ہو اور انہیں اپنی حفاظت میں رکھے ، انہوں نے بہت ہی بھلے انداز میں بھائی نعیم رضا صاحب کو بہت ہی اچھی نصیحتیں کیں ، کنعان بھائی اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ آپ کو اس کی شانء رحیمی کے مطابق بہترین اجر عطا فرمائے ، اور بھائی نعیم رضا کو توفیق عطا فرمائے کہ آپ کی نصیحتوں کو سمجھ سکیں ، اور دین کے احکام اور معاملات کو سمجھنے کا حکم سمجھ سکیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (09-02-10), shafresha (09-02-10), فیصل ناصر (08-02-10), کنعان (08-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), سحر (09-02-10), عبداللہ حیدر (08-02-10) |
|
|
#36 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے عبداللہ حیدر ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے اور مزید حق گوئی کی مزید ہمت عطاء فرمائے ، علمی دلائل کے ساتھ لوگوں کی علمی بد دیانتی کو آشکار کرتے چلیے ، اور دعا بھی کرتے رہیے کہ جو لوگ نیک نیتی سے ان بد دیانتیوں کے چنگل میں ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں حق جاننے ، ماننے اور اپنانے اور اس پر ہی عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | sahj (09-02-10), shafresha (09-02-10), فیصل ناصر (08-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عبداللہ حیدر (08-02-10) |
|
|
#37 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی نعیم رضا صاحب ، بھائی کنعان کے نیک مشوروں پر توجہ دینے پر شکریہ قبول فرمایے ، بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کے پیسٹ کیے ہوئے مواد میں سے دو حوالہ جات میں علمی خیانت کے بارے میں معلومات دی ہیں ، اسی مناسبت سے میری اور آپ کی گفتگو جو """ یہاں """ سے شروع ہوئی تھی ، اس میں کی گئی گذارشات کی طرف بھی توجہ عنایت فرمانے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواتا ہوں ، اور اس تھریڈ کے موضوع کے بارے میں فی الحال صرف اتنا کہوں گا کہ بھتیجے عبداللہ حیدر نے آپ کو مراسلہ رقم 2 میں میری ایک کتاب کو اتارنے کا ربط مہیا کیا ہے اسے اتار ہی لیجیے اور اس کا مطالعہ کیجیے ، میرے بھائی آپ نے ایک طرف کی معلومات کو ایک خاص سوچ و فکر کے مطابق جانا اور سمجھا ہے ، اور دوسری طرف کی بات کو کچھ غلط بیانیوں علمی بد دیانتیوں پر مشتمل باتوں کی بنا پر یکسر فراموش کرنے کا سبق حاصل کیا ہے ، جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ ایسی باتوں کو سمجھنے کے لیے ، اللہ تعالیٰ سے حصول حق کی دعا کرتے ہوئے اور خود کو بالکل غیرجانبدار بناتے ہوئے ، آپ دونوں طرف کی بات کو ایک ہی جیسی توجہ اور تحمل سے پڑہیے اور تنقیدی نگاہ سے پڑہیے ، بھتیجے عبداللہ نے یہاں مراسلہ رقم 5 میںجن تھریڈز کے حوالے دیے ہیں ان کا بھی مطالعہ فرمایے ، اور ان کے ساتھ ساتھ ان کا بھی مطالعہ فرمایے جن کا حوالہ میں نے """ یہاں """ دیا ہے ، اور """ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے فہم کی حجیت """ ، """ قران کو سمجھنے کے لیے لازم ہے سنت کا ذریعہ """ کا بھی مطالعہ فرما لیجیے ، اگر انتظامیہ نے اس موضوع پر گفتگو کی اجازت دیے رکھی ، تو آپ سے گذارش یہ ہو گی نعیم بھائی کہ اپنے پیسٹ کیے ہوئے مواد کے حوالہ جات کو علمی اعتبار سے مکمل کر دیجیے گا ، اور جب آپ سب کچھ پیسٹ کر چکیں تو بھتیجے عبداللہ حیدر کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اطلاع کر دیجیے ، ان شاء اللہ تعالیٰ اچھے طلاب علم بھائیوں کی طرح گفتگو ہو سکے گی ، اور اس سے پہلے ہمارے دیے ہوٕئے حوالہ جات پر میسر مواد کا مطالعہ ان شاء اللہ گفتگو کی راہ سمجھانے میں مددگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر قائم فرما دے جو اسے پسند ہے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#38 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم ساتھیوں!
نعیم بھائی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا میرا غالب گمان ہے کہ وہ میرا مُراسلہ پڑھ چکے ہوں گے۔ اسٹاف میںبھی بات چل رہی ہے۔ میںجلد اس تھریڈکو منتقل کرنے والا ہوں۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#39 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
میں نے جو سوال کیا اس سے متعلق صرف یہ بات آپ نے لکھی اور اس میں میرا جواب نہیں ھے اس لئے کہ میں نے خلفہ راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ادوار سے متعلق پوچھا تھا کہ "جشن عید میلاد" اگر اتنی بڑی عبادت ھے اور اس کو نہ منانے والا گناہ گار تصور کیا جاتا ھے اور بدبخت اور ابلیس پتانہیں کیا کیا القابات دئے جاتے ہیں، تو بھائی میرے اتنی بڑی عبادت اور "عید" کے بارے میں واضع احکامات کیوں نہیں ہیں؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ھے کہ - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ لأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ قَالَ " كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى " ترجمہ:- حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دونوں تہواروں کے بدلے میں دو اور عیدیں عطا کر دی ہیں جو ان سے بہتر ہیں اور وہ ہیں : عید الفطر اور عید الاضحیٰ ۔ النسائی كتاب صلاة العيدين باب : 1 حدیث : 1567 تو جناب نعیم صاحب اگر دین میں کوئی اور بھی عید ھوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتاتے اور صحابہ خصوصًا خلفہ راشدین ضرور عمل جاری کرواتے، جیسے تراوی عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں باقائدہ اک جماعت سے جاری ھوئی، اور قرآن پاک کو بھی بعد میں باقائدہ کتابی شکل میں منظوم کیا گیا، اور اس میں آپ کو بھی شک نہیں کہ تراوی اور قرآن کی کتابت خلفہ راشدین کے ہی دور میں ھوئی، اک اور حدیث ملاحضہ فرمائیے 3693 ـ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ، سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ". قَالَ عِمْرَانُ فَلاَ أَدْرِي أَذَكَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا " ثُمَّ إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذُرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ ". ترجمہ:- حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے۔ پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے (یعنی صحابہ کادور)، پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔ (یعنی تابعین کا دور) حضرت عمران کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی اور ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی کہ ان پر کسی قسم کا بھروسا باقی نہیں رہے گا، اور نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے، (حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔ صحيح بخاري كتاب فضائل الصحابة باب : فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حدیث : 3693 تو جناب میں صرف دو عیدیں ہی مانتا ھوں اور آپ بھی ایسا ہی مانتے ھوں گے ، تیسری اور چوتھی کسی عید کا وجود دین میں نہیں ھے ، اور جشن نام کا بھی کوئی عمل دین میں نہیں ، معذرت کے ساتھ والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#40 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
Last edited by حیدر Rehan; 09-02-10 at 02:40 PM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10) |
|
|
#41 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ بھائی، ساہج بھا ئی
ایک سوال ہے میرے ذہن میں ۔ کہ اگر میلاد کا نام درس رکھ دیا جائے اس میں قرآن کی تفسیر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کی جائیں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات بیان کیے جائیں نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی جائیں اور ان تمام باتوں میں غلو نا کیا جائے ، اور تمام حدوں کا خیال رکھا جائے ۔ تو پھر تو اس کو بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ اس کا مطلب ہے کہ میلاد کا مقصد غلط نہیں صرف اس کے طریقہ کار پر اختلاف ہے کیا میں صحیح ہوں اور اگر میلاد یا درس کو خاص 12 ربیع الاول کو نا کیا جاے بلکہ کسی بھی وقت ہو ۔ اور 12 ربیع الاول کو بھی ہو ۔ درس میں بھی لوگ محفل کی شکل میں ہی بیٹھتے ہیں ۔ میلاد بھی صرف 12 ربیع الاول کو نہیں ہوتا ہے ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (10-02-10), فیصل ناصر (10-02-10), حیدر Rehan (09-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10) |
|
|
#42 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نعیم بھائی
میں نے بہت میلاد ایٹنڈ کیے ہیں ۔ مردوں کا تو علم نہیں لیکن خواتین جب میلاد پڑھتی ہیں ۔ تو نماز کا وقت نکل رہا ہوتا ہے اور خواتین نعت پڑھنے میں مشغول ہوتیں ہیں ۔ خواتین کی آواز لاؤڈ اسپیکر پر نا صرف اس محفل میں موجود مرد سن رہے ہوتے ہیں بلکہ پورا محلہ سن رہا ہوتا ہے ۔ آجکل آپ ڈیفنس ، کلفٹن کے میلاد میں جائیں تو وہ میلاد کم فیشن شو ذیادہ لگ رہا ہوتا ہے ۔ بے پردہ خواتین نعت پڑھ رہی ہوتی ہیں ۔ بلکہ اب تو مخلوط میلاد بھی ہونے لگے ہیں ۔ اس میں اسٹیج پر خواتین اور حضرات مل کر میلاد پڑھتے ہیں ، اور سننے والے بھی مرد اور خواتین ساتھ ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں ۔ نعت ، درود پڑھنے پر کسی کو اختلاف نہیں ہے لیکن یہ کام ہم کس طرح کرتے ہیں یہ بات بہت اہم ہے ۔ نماز پڑھے بغیر اور حرام کام کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کرنا کیسا ہے ۔ سب یہی کہہ گے کہ یہ سب غلط ہے ، لیکن ہم نے لوگوں کی تربیت کے لیے کیا کیا ۔ شکریہ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (10-02-10), فیصل ناصر (10-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (12-02-10) |
|
|
#43 |
|
Senior Member
![]() |
میں عبداللہ حیدر بھائی کو ان کی اس جرات مندانہ تحقیق پر تحسین پیش کرنا چاہوں گا۔۔
کیوں کہ یہ دور ہے فرقوں کی بہتات کا ہر فرقہ نئے نئے عقائد لا کر ہمیں دین کے بوجھ سے جھکا رہا ہے۔ یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ قرآن و حدیث صحیح معنوں میں ہمیں کیا پیغام دے رہے ہیں۔ دین اسلام تو انسان کو روحانی سکون اور اطمینان بخش معاشرہ بنانے کے لیے آیا تھا۔۔ آج ہم غور سے دیکھیں تو ہمارے آس پاس خاص کر ہمارے مسلم معاشرے میں جو مسائل پھیلے ہیں۔ ان میں غربت ، بھوک ، افلاس ، خوف ، بد امنی ، عدم تحفظات ، یتیم بچےسر پر دست شفقت کے منتظر ہیں۔ بیوائیں سہارے کے آسرے پر ہیں۔ بھوکے روٹی کو ترس رہے ہیں۔ محتاج مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔ سفید پوش اپنی عزت کے خوف سے لرز رہے ہیں۔ کیاعید میلاد ، نذر نیاز، مزار و عرس ، پیری مریدی یا فقہ کے باریک مسائل اوپر ذکر کیے مسائل کا حل ہیں۔ یقینا آپ سب کا جواب ہو گا نہیں تو پھر یہ فرقہ وارانہ بدعتیں اپنی ذات تک رکھیں ۔ اگر آخرت میں فلاح پانے کی تڑپ ہے تو پہلے حقوق العباد پر توجہ دیں ۔۔کیوں کہ جن چیزوں کو آپ حقوق اللہ سمجھ رہےہیں اول تو وہ حقوق اللہ ہیں ہی نہیں بلکہ وہ تو بدعتیں ہیں۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حقوق اللہ ہیں۔ تو اللہ اپنے حقوق معاف کر سکتا ہے۔ مگر بندوں کے حقوق رہ گے تو وہ اللہ معاف نہیں کرے گا بل کہ وہ بندوں کے معاف کرنے تک موخر رکھے گا۔ اپنے گھر ،، اپنے رشتےدار ، اپنے دوست ، محلے دار اور پھر معاشرے میں توجہ دیں اور ان کے حقوق ادا کرنے میں اپنی توانائی صرف کریں ۔۔ کیوں ان فرقہ وارانہ مسائل میں اپنا وقت اور اپنی توانائی ضائع کرتے ہیں۔ جن پر کبھی اللہ ، رسول ، اور صحابہ جیسے عظیم رہ نماؤں نے توجہ نہیں دی۔ جب یہ چیزیں دین کا حصہ ہی نہیں ہیں تو ان کے لیے کیوں اپنا دین خراب کریں ۔۔ آج ہم پر جو احکامات فرض ہیں وہ تو پورے کیے نہیں جاتے جیسے نماز ، روزے ، زکاۃ، حج ، اور حال یہ ہے کہ اپنی طرف سے احکامات بنا بنا کر خود ہی دین کا حلیہ بگاڑ لیتے ہیں۔ اور پھر اندر سے نفس کی آواز آتی ہے۔ کہ دینی احکامات پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں جتنا عمل کرنا ہوتا ہے۔ اس سے بھی جان چھڑا لیتے ہیں۔ چپکے سے ۔۔ اور آہستہ آہستہ گناہوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ اور انہی بدعات کو ادا کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے دین کے فرائض و حقوق ادا کردیے ہیں۔ افسوس صد افسوس Last edited by نورالدین; 25-09-11 at 06:28 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-02-10), مزمل فاروق (12-02-10), راجہ اکرام (11-02-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (09-02-10) |
|
|
#44 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,079
کمائي: 110,115
شکریہ: 12,550
4,513 مراسلہ میں 15,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سب سے پہلے نورالدین بھائی آپ کو فارم کی شمولیت کے لئے خوش آمدید کہتا ہوں۔ بھائی آپ اس فارم میں آتے رہیں ساری گفتگو یہیں ہوتی ھے جس سے دوسرے بھی مستفید ہوتے ہیں اگر ایمیل پر گفتگو کریں گے تو معلومات ایک بندے تک ہی محدود رہے گی، عبداللہ حیدر بھائی کا ایک اور مراسلہ پر بھی توجہ اور تعاون کی ضرورت ھے اس پر آپ کا کیا خیال ھے۔ متفق علیہ ترجمہ قرآن ٹائپ کرنے میں مدد درکار ہے۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (10-02-10), نورالدین (25-09-11), راجہ اکرام (11-02-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (09-02-10) |
|
|
#45 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صدیقی بھائی ، میرا مشورہ تو یہ ہے کہ جب تک بات اسلامی اخلاقیات کی حدود میں رہتی ہے اور شخصیات کی طرف نہیں پلٹتی تو اس گفتگو کو چلنے دیجیے ، اور اگر ایسا مناسب خیال نہ کیا جائے تو اتنا ضرور کیجیے کہ یہاں سحر بہن نے بھتیجے عبداللہ اور بھائی ساھج سے جو سوالات کیے ہیں جو کہ بہت مناسب ہیں ، ان کے جوابات تک کی مہلت دی جائے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| unicode, پیارے, پاک, پسند, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نظر, مکہ, موسیٰ علیہ السلام, مجید, ایمان, اللہ, بہترین, تعارف, جواب, حکم, حال, حدیث, خوش, درود شریف, زندگی, عیسیٰ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|