واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 07:12 PM  
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 03-08-09, 11:10 PM   #31
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب خدا کیلیئےکوئی محترمstudentپربیرونی عناصرکاالزام نہ عائد کردے کیونکہ کوئی خلاف مزاج بات آتی ہےتوبیرونی عناصرکافتوٰی صادر کردیا جاتاہےمگرآخر کب تک میں بھی دیکھتاہوں
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-08-09, 12:42 AM   #32
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کے تفصیلی جواب سے واضح ہوا کہ آپ کے خیال میں جس طرح جدید ایجادات کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح دین میں بھی اپنی مرضی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جامع ترمذی کی جو روایت آپ نے پیش کی ہے اس کا ٹکڑا پیش کرنے کی بجائے پوری حدیث بیان کر دیں تو بہتر ہو گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (29-05-10)
پرانا 04-08-09, 12:54 AM   #33
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ناظمین سے گذارش ہے آبی ٹو کول بھائی کی اس تجویز پر توجہ دیں


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
السلام و علیکم
ایک گزارش کرنا چاہوں گا انتظامیہ سے کہ بہتر ہوگا کہ یہاں میں اور عبداللہ بھائی ہی گفتگو کریں تاکہ ایک تو گفتگو میں خلط مبحث نہ ہونے پائے اور دوسرے یہ کہ گفتگو نتیجہ خیز ہوسکے ۔ ۔ دیگر جو بھی بھائی ہماری ہونے والی گفتگو پر اپنی اپنی رائے دینا چاہیں یا کوئی سوال کرنا چاہیں تو اس کے لیے الگ سے دھاگہ بعنوان حقیقت بدعت پر تبصرہ جات کی صورت میں کھول لیا جائے اور یہاں ے بھی ایسے تمام مواد کو وہاں شفت کردیا جائے جو کہ اصل موضوع سے یا تو ہٹ کر ہے یا پھر ہٹانے والی ہے ۔ ۔یہ میری رائے ہے اگر انتظامیہ کو مناسب لگے تو فبھا وگرنہ کوئی مسئلہ نہیں والسلام
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 01:10 AM   #34
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کوسب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن کی تعداد یقینٓا ہزاروں میں تھی۔ دین کا شوق جیسا ان کو تھا امت میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔ "اچھے عمل ایجاد کرنے کی فضیلت" بھی ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا لہٰذا ان کی متعارف کردہ بدعات کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہونی چاہیے۔ ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں سہی۔ آپ ان بدعات کی ایک لسٹ فراہم کر سکیں تو ممنون ہوں گا جو خلفائے راشدین کے سوا دوسرے صحابہ نے متعارف کروایں۔ اس لیے کہ "علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین" کی رو سے خلفائے راشدین کا عمل بدعت میں شمار نہیں ہوتا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (31-03-10), آصف وسیم (17-09-10)
پرانا 04-08-09, 01:15 AM   #35
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا اس سے میں‌ یہ نتیجہ اخذ‌کروں کے خلفاء‌ راشدین نے بدعتیں‌ ایجاد کیں؟
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 01:28 AM   #36
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
کیا اس سے میں‌ یہ نتیجہ اخذ‌کروں کے خلفاء‌ راشدین نے بدعتیں‌ ایجاد کیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے:
فَاِنَّ مَن یَعِیشُ مِنکُم فَسیَری اِختلافاًً کثیراً ، فَعَلِیکُم بِسُنّتِی وَ سُنَّۃ الخُلفاء الراشدینَ المھدیَّینَ ، عضُّوا علیھا بالنَواجذِ ، وَ اِیَّاکُم وَ مُحدَثاتِ الأمور، فَاِنَّ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ ::: پس تُم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا ، تو تُم پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خلفاء کی سُنّت فرض ہے اُسے دانتوں سے پکڑے رکھو ، اور نئے کاموں سے بچنا ، بے شک ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی جہنم میں ہے )))))[/COLOR] صحیح ابن حبان /کتاب الرقاق، صحیح ابن خُزیمہ /حدیث ١٧٨٥/کتاب الجمعہ /باب٥١،سُنن ابن ماجہ /حدیث ٤٢/باب ٦، مُستدرک الحاکم حدیث ٣٢٩ ، ٣٣١،اسنادہ صحیح/ احکام الجنائز /مایحرم عندالقبور/١٢،

پس ایسا ہر کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے تک ، اور پھر خلافت راشدہ کے اختتام تک کیا گیا اس کے فرض ہونے کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان سے میسر ہے۔ اور خلفائےراشدین کے عمل پر نبوی مہر تصدیق ثبت ہے۔ اس لیے ان کے کاموں کو بدعت نہیں کہا جائے گا۔

میں نے خلفائے راشدین کے سوا دوسرے صحابہ کے عمل کے بارے میں اس لیے دریافت کیا تھا کہ خلفائے راشدین کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی تعداد ہزاروں میں ہے اس لیے ان کی ایجاد کردہ بدعات زیادہ ہوں گی اور انہیں آسانی سے تلاش بھی کیا جا سکے گا۔

Last edited by عبداللہ حیدر; 04-08-09 at 01:36 AM.
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-08-09), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10)
پرانا 04-08-09, 01:35 AM   #37
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی اپکا جواب "‌ ہاں "‌ہے۔ دین میں آضافے کیے گئے۔

شکریہ
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-08-09, 01:43 AM   #38
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
یعنی اپکا جواب "‌ ہاں "‌ہے۔ دین میں آضافے کیے گئے۔

شکریہ
ہم سٹپ بائی سٹپ چل رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں دوسرے ہزاروں صحابہ کی بدعات سے مستفید ہونے دیجیے۔ خلفائے راشدین کے عمل کے حجت ہونے کی دلیل اوپر نقل کر چکا ہوں۔ اس سے تسلی نہیں ہوئی تو انتظار کیجیے جب ہم اس ٹاپک کر طرف آئیں گے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-08-09, 01:50 AM   #39
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
تمام اسلامی شعائر اور عبادات کا ایک لغوی مطلب ہے اور دوسرا شرعی یا اصطلاحی مطلب۔ اصطلاحی مطلب کو لغت سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل درکار ہوتے ہیں۔ "بدعت" کا لغوی مطلب "نئی چیز ایجاد کرنا" ہے لیکن شرعی مطلب "دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالنا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی جماعت کا عمل نہیں رہا ہے"۔
مثال کے طور پر"حج" کا لفظی مطلب "ارادہ کرنا"‌ہے۔ لسان العرب میں‌ ہے:
الحَجُّ القصدُ (لسان العرب جلد 2 ص 226)
"حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا"
جس طرح لغت کی مدد سے حج کا شرعی/اصطلاحی مطلب نہیں سمجھا جا سکتا اسی طرح بدعت کے شرعی مفہوم کےلیے بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا
۔
اسلام علیکم حیدر بھائی !
ہم نے آپ سے جو سوال کیا تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے اور وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنا پر آپ لوگ بالخصوص لفظ بدعت کے معاملے میں لغوی اور شرعی تقسیم کے تو قائل ہیں مگر بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو ناجائز سمجھتے ہیں ـ میں وہ دلائل جاننا چاہتا ہوں نہ کے میرا مدعا یہ ہے کہ آپ مجھ کو یہ بتائیں کہ ایک لفظ لغت میں کیوں وضع کیا جاتا ہے اور اس کا مادہ کیا ہوتا ہے اور اسکی وجہ تسمیہ کیا ہوتی ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے کہ آپ نے خود لفظ حج کی مثال پیش فرمائی کہ ۔ ۔ ۔
"حج" کا لفظی مطلب "ارادہ کرنا"‌ہے۔ لسان العرب میں‌ ہے:
الحَجُّ القصدُ (لسان العرب جلد 2 ص 226)
"حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا"

بالکل ٹھیک حج کا لغوی مطلب ارادہ کرنا یا قصد کے ہیں مگر کیا آپ نے یہ غور فرمایا کہ شرعی اصطلاح میں مخصوص ایام ذوالحجۃ میں ہی مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی زیارت و طوائف، وقوفِ عرفات اور دیگر مناسک کے ادا کرنے کو ہی حج کیوں کہا جاتا ہے ؟؟؟؟
وہ اس لیے کہ ہر مسلمان کو مناسک حج ادا کرنے کے لیے بیت اللہ کا قصد ہی کرنا پڑتا ہے سو اسی وجہ تسمیہ کی نسبت سے اس قصد پر لفظ حج بول دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جس طرح آپ نے لغت میں لفظ حج کے لغوی معنٰی دکھائے اسی طرح میں آپکو سامنے خود لفظ دین کی بھی لغوی معنٰی پیش کرسکتا ہوں ۔ ۔
کہ دین عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اور معنٰی اس کے مذہب، عقیدہ، نظام حیات، نظام عبادات و عقاید اور دوسرا جہان، آخرت، عقبٰی، عاقبت وغیرہ کو بھی دین کہتے ہیں جیسے مالک یوم الدین کا ترجمہ روز جزا کا مالک ہی کیا جاتا ہے اور اسی طرح خود لفظ اسلام کے لغوی معنی بھی سلامتی کے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ آپ جب جب یہ دونوں لفظ بولتے ہیں تو اس وقت لغوی معنٰی کا قصد نہیں کرتے ؟؟؟؟' جب بھی کوئی آپ سے دین کے بارے میں سوال کرئے تو آپ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ دین سے تمہاری کیا مراد ہے لغوی دین یا اصطلاحی دین؟ اور اسی طرح جب کوئی آپ سے یہ کہتا ہے کہ وہ اسلام پر ہے تو آپ نے کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا آیا تم لغوی اسلام پر ہو یا شرعی اسلام پر ؟؟؟؟'
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جتنے بھی الفاظ ہم کسی بھی زبان میں بولتے ہیں ان سب کا لغت میں استعمال وجہ تسمیہ مادہ اور جس مقصد کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا یہ سب لکھا ہوتا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ آپ صرف بدعت کے معاملے میں ہی لغوی اور شرعی معنٰی کی تقسیم روا رکھتے ہیں دیگر الفاظ کے معاملہ میں نہیں ؟؟؟؟'
یاد رہے کہ ہم بدعت کے معاملے میں ہر طرح کی تقسیم یعنی لغوی اور شرعی اور حسنہ اور سیئہ دونوں کے ہی قائل ہیں کہ ہماری نظر میں جو لغوی بدعت ہوتی ہے اسے ہی بدعت حسنہ کہہ دیا جاتا ہے اور جو شرعی بدعت ہوتی ہے اسی پر بدعت سیئہ کا اطلاق ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک یہ فقط لفظی نزاع ہے ۔ لہذا ہم نے جو سوالات آپ پر کیئے ہیں انکی حیثیت الزامی سوالات کی سی ہے ۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (12-08-09), Student (04-08-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 02:24 AM   #40
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کوسب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن کی تعداد یقینٓا ہزاروں میں تھی۔ دین کا شوق جیسا ان کو تھا امت میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔ "اچھے عمل ایجاد کرنے کی فضیلت" بھی ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا لہٰذا ان کی متعارف کردہ بدعات کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہونی چاہیے۔ ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں سہی۔ آپ ان بدعات کی ایک لسٹ فراہم کر سکیں تو ممنون ہوں گا جو خلفائے راشدین کے سوا دوسرے صحابہ نے متعارف کروایں۔ اس لیے کہ "علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین" کی رو سے خلفائے راشدین کا عمل بدعت میں شمار نہیں ہوتا۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ہم سٹپ بائی سٹپ چل رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں دوسرے ہزاروں صحابہ کی بدعات سے مستفید ہونے دیجیے۔ خلفائے راشدین کے عمل کے حجت ہونے کی دلیل اوپر نقل کر چکا ہوں۔ اس سے تسلی نہیں ہوئی تو انتظار کیجیے جب ہم اس ٹاپک کر طرف آئیں گے۔
اسلام علیکم حیدر بھائی !
مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں ابھی تک آپ پر اپنا مدعا واضح نہیں کرسکا ۔ ۔
اس بات میں بھلا کس کو شک ہوسکتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بڑھ کر کسی کو دین کا شغف اور فھم ہوسکتا ہے اسی لیے تو ہم بار ہا عرض کرچکے کہ آپ بھی ہماری نہ سہی صحابہ کرام کی ہی مان لیجیئے اور صحابہ میں سے بھی خلیفہ ثانی محدث اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبان کی ہی لاج رکھ لیجیئے کہ جن کو زبان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے محدث کا لقب بھی ملا اور انکے عمل کو لفظ سنت کا حسیں تحفہ بھی ملا لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ اپنے زمانہ میں ایک نو پید شدہ شئے پر اپنی سنت کا اطلاق نہیں بلکہ بدعت ہی کا اطلاق فرماتے ہیں اور اسے لغوی بدعت سمجھتے ہوئے اس کی افادیت اور شریعت کے کسی بھی مسلمہ اصول سے نہ ٹکرانے کی وجہ سے اس پر نعمۃ البدعۃ ھذہ کا اطلاق فرما کر اسے بدعت حسنہ قرار دیتے ہیں ۔ ۔ مگر آپ ہیں کہ پھر بھی بضد ہیں کہ بدعت کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی بدعت فقط بدعت سیئہ ہی ہوتی ہے این چہ معنٰی دارد؟؟؟؟؟؟؟؟
رہ گئی یہ بات کہ صحابہ کرام نے دین میں کونسے کونسے اضافے فرمائے (معاذاللہ) تو عرض ہے کہ ہم کتنی بار عرض کرچکے ہیں صحابہ کرام سے لیکر آج تک کے دور میں دین میں جتنی بھی بدعت حسنہ ایجاد کی گئیں وہ ہرگز ہرگز دین میں اضافہ نہیں ہیں بلکہ وہ سب کی سب دین کے ہی اصولوں کے زیر تسلط رہتے ہوئے اخذ کردہ ہیں اس لیے وہ دین ہی کا حصہ ہیں نہ کہ دین میں کوئی اضافہ ۔لہذا خلفائے راشدین سے لیکر آج تک امت مسلمہ میں جتنی بھی بدعات حسنہ ایجاد ہوئیں وہ فقط اپنی ایجاد کے اعتبار سے یعنی لغوی اعتبار سے تو بدعات (یعنی دین میں اضافہ) کہلائیں گی مگر اپنی افادیت اور دین کے کسی بھی اصول سے نہ ٹکرانے کی باعث حقیقت میں بدعات حسنہ اور دین میں اپنی ویلیڈٹی کے اعتبار سے دینی اصولوں پر پرکھ شدہ ہونے کے اعتبار سے اور انھی دینی اصولوں کی سخت کسوٹی پر پورا اتر کر اخذ ہونے کے اعتبار سے حقیقت میں دین ہی کا حصہ سمجھی جائیں گی نہ کہ کوئی اضافہ ۔ ۔ ۔

Last edited by آبی ٹوکول; 29-06-10 at 08:28 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 02:27 AM   #41
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔ لغوی تحیقیق آپ نے اپنے مراسلے میں‌بیان کی تھی اس لیے اس پر بات چل نکلی لیکن یہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں‌ہے۔ مراسلہ نمبر 64 پر غور کیجیے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 04-08-09, 02:31 AM   #42
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم حیدر بھائی !
رہ گئی یہ بات کہ صحابہ کرام نے دین میں کونسے کونسے اضافے فرمائے (معاذاللہ) تو عرض ہے کہ ہم کتنی بار عرض کرچکے ہیں صحابہ کرام سے لیکر آج تک کے دور میں دین میں جتنی بھی بدعت حسنہ ایجاد کی گئیں وہ ہرگز ہرگز دین میں اضافہ نہیں ہیں بلکہ وہ سب کی سب دین کے ہی اصولوں کے زیر تسلط رہتے ہوئے اخذ کردہ ہیں اس لیے وہ دین ہی کا حصہ ہیں نہ کہ دین میں کوئی اضافہ ۔لہذا خلفائے راشدین سے لیکر آج تک امت مسلمہ میں جتنی بھی بدعات حسنہ ایجاد ہوئیں وہ فقط اپنی ایجاد کے اعتبار سے یعنی لغوی اعتبار سے تو بدعات (یعنی دین میں اضافہ) کہلائیں گی مگر اپنی افادیت اور دین کے کسی بھی اصول سے نہ ٹکرانے کی باعث حقیقت میں بدعات حسنہ اور دین میں اپنی ویلیڈٹی کے اعتبار سے دینی اصولوں پر پرکھ شدہ ہونے کے اعتبار سے اور انھی دینی اصولوں کی سخت کسوٹی پر پورا اتر کر اخذ ہونے کے اعتبار سے حقیقت میں دین ہی کا حصہ سمجھی جائیں گی نہ کہ کوئی اضافہ ۔ ۔ ۔
چلیں میں اپنے سوال میں تبدیلی کر دیتا ہوں۔
خلفائے راشدین کے علاوہ دوسرے ہزاروں صحابہ نے جو "بدعات حسنہ" متعارف کرائیں ان کی لسٹ مہیا کر دیں تو ممنون ہوں گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (29-05-10)
پرانا 04-08-09, 02:44 AM   #43
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
؛::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا :::
((((( مَن عَمِلَ عملاً لَیس علیہِ أمرُنا فھو ردّ ::: جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے معاملے کے مُطابق نہیں ہے وہ رد ہے ))))) صحیح البُخاری /کتاب بد ء الوحی / باب ٢٠ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٧١٨ ،
اس حدیث مبارک میں ہر ایسے کام کو مردود قرار دیا گیا ہے جو دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور جماعتء صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے مطابق نہ ہو ،اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ اس حدیث میں صِرف دِین کی بات کہاں ہے تو''''' أمرُنا ::: ہمارا معاملہ ''''' کا معنی دِین ہے ،
اس کی وضاحت اس حدیث مبارک میں ملتی ہے :::
((((( مَن أحدث َ فِی أمرِنا ھَذا ما لیسَ فِیہِ فھُوَ ردٌّ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دِین) میں کوئی نیا کام بنایا تو وہ کام مردود ہے )))))) مسند ابو یعلیٰ الموصلی / حدیث ٤٥٧٨ ،
آپ بدعت ایجاد کرنے کے مسئلے میں دین و دنیا کا فرق روا نہیں رکھتے تو اس کے دلائل بتا دیجیے۔ میرے ایک سابقہ سوال کا جواب بھی باقی ہے کہ قرآن و حدیث کے کن دلائل کی رو سے جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بدعت کے شرعی مفہوم میں داخل کیا جاتا ہے۔
حالانکہ اس کا جواب ہم اپنے مقالہ کے شروع میں دے چکے ہیں مگر اب چونکہ پھر وہی اعتراض دہرایا گیا ہے تو ہم ایک بار پھر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔ ۔ ۔
حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟



مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو

Last edited by آبی ٹوکول; 29-06-10 at 08:30 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (12-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 03:29 AM   #44
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔ لغوی تحیقیق آپ نے اپنے مراسلے میں‌بیان کی تھی اس لیے اس پر بات چل نکلی لیکن یہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں‌ہے۔ مراسلہ نمبر 64 پر غور کیجیے۔
گو کہ ابھی تک آپ نے ہمارے پیش کردہ ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا ثبوت کے طور پر ہم اپنے سوالات کو درج زیل میں ایک بار پھر سے دہرا ئے دیتے ہیں ۔

سوال اول :- پہلے آپ یہ واضح کریں کہ آپ بدعت کی تقسیم کے حسنہ یا سیئہ ہونے کے تو قائل نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ بدعت کی لغوی اور شرعی تقسیم کے قائل ہیں ؟؟؟؟؟؟اور اسکا جواب نہ ملنے کی سورت مین پھر وہی سوال زرا مزید وضاحت کے ساتھ بطور سوال نمبر دو:- ہم نے آپ سے جو سوال کیا تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے اور وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنا پر آپ لوگ بالخصوص لفظ بدعت کے معاملے میں لغوی اور شرعی تقسیم کے تو قائل ہیں مگر بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو ناجائز سمجھتے ہیں
جو ٹوٹا پھوٹا جواب اپنے دیا اس پر پھر ہم نے جو سوال کیا وہ درج زیل ہے ۔ ۔
کہ جب کوئی اپ سے دین کی بابت دریافت فرماتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ آپ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ دین سے تمہاری کیا مراد ہے لغوی دین یا اصطلاحی دین؟ اور اسی طرح جب کوئی آپ سے یہ کہتا ہے کہ وہ اسلام پر ہے تو آپ نے کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا آیا تم لغوی اسلام پر ہو یا شرعی اسلام پر ؟؟؟؟'
یہ سوال لغوی والی تقسیم کو آپ فقط بدعت ہی کے باب تک کیون محدود کرتے ہیں ؟؟؟؟؟؟''
اب آپ نے فرمایا کہ ۔ ۔کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔
تو ہمارا سوال یہ ہے کسی بھی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا دینی کام ہے یا دنیاوی دوسرے لفظوں میں ایسی تحقیق بیان کرنا بدعت لغویہ ہے یا بدعت سیئہ یا پھر اور آسان کیئے دیتا ہوں کہ یہ تحقیق آپ نے دین سمجھ کر بیان کی یا بے دینی ؟؟؟؟؟؟ اگر دین سمجھ کر بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرمان کو پیش کیجیئے گے جب بھی کوئی تم سے دین سیکھنے آئے تو تم اس پر دین کی لغوی اور اصطلاحی دونوں تحقیقیں بیان کرنا اور اگر آپ زمانہ نبوی سے ایسی کوئی مثال نہیں دے سکتے تو پھر آپ کا یہ عمل خود بخود بدعت کہلائے گا لہذا اگر آپ نے اس کام کو دین سمجھ کر کیا ہے تو پھر آپ اس پر کس بدعت کا اطلاق کریں گے لغوی یا پھر شرعی ؟؟؟؟؟ اگر لغوی تو کس اعتبار سے کے کام تو آپ نے دین سمجھ کر کیا ہے ؟؟؟؟؟؟' ہونا تو اسے بقول آپ کے شرعی بدعت چاہیے تھا ؟؟؟؟؟''
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (04-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (04-08-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 04-08-09, 03:39 AM   #45
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مسلمہ قاعدہ ہے کہ ثبوت مدعی کے ذمے ہوتا ہے۔ آپ صاحب مضمون ہیں اس لیے آپ کی تحریر کی شرح کے لیے آپ ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ آپ کے سوالوں کے جواب ان شاء اللہ حسب توفیق دیے جاتے رہیں گے لیکن پہلے میری الجھنوں‌کو دور کرنے کا سامان تو کیجیے۔ ایک بڑی الجھن کا ذکر مراسلہ نمبر 64 میں کر چکا ہوں۔ اس کی طرف توجہ دیجیے گا۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-08-09), آبی ٹوکول (04-08-09)
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 06:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 10:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 09:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger