|
|
#31 |
|
Senior Member
![]() |
اب خدا کیلیئےکوئی محترمstudentپربیرونی عناصرکاالزام نہ عائد کردے کیونکہ کوئی خلاف مزاج بات آتی ہےتوبیرونی عناصرکافتوٰی صادر کردیا جاتاہےمگرآخر کب تک میں بھی دیکھتاہوں
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#32 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
آپ کے تفصیلی جواب سے واضح ہوا کہ آپ کے خیال میں جس طرح جدید ایجادات کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح دین میں بھی اپنی مرضی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جامع ترمذی کی جو روایت آپ نے پیش کی ہے اس کا ٹکڑا پیش کرنے کی بجائے پوری حدیث بیان کر دیں تو بہتر ہو گا۔
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (29-05-10) |
|
|
#33 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ناظمین سے گذارش ہے آبی ٹو کول بھائی کی اس تجویز پر توجہ دیں
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#34 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کوسب سے بہتر سمجھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن کی تعداد یقینٓا ہزاروں میں تھی۔ دین کا شوق جیسا ان کو تھا امت میں کسی کو نہیں ہو سکتا۔ "اچھے عمل ایجاد کرنے کی فضیلت" بھی ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا لہٰذا ان کی متعارف کردہ بدعات کی تعداد بلاشبہ ہزاروں میں ہونی چاہیے۔ ہزاروں میں نہیں تو سینکڑوں میں سہی۔ آپ ان بدعات کی ایک لسٹ فراہم کر سکیں تو ممنون ہوں گا جو خلفائے راشدین کے سوا دوسرے صحابہ نے متعارف کروایں۔ اس لیے کہ "علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین" کی رو سے خلفائے راشدین کا عمل بدعت میں شمار نہیں ہوتا۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (31-03-10), آصف وسیم (17-09-10) |
|
|
#36 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
فَاِنَّ مَن یَعِیشُ مِنکُم فَسیَری اِختلافاًً کثیراً ، فَعَلِیکُم بِسُنّتِی وَ سُنَّۃ الخُلفاء الراشدینَ المھدیَّینَ ، عضُّوا علیھا بالنَواجذِ ، وَ اِیَّاکُم وَ مُحدَثاتِ الأمور، فَاِنَّ کلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ ::: پس تُم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا ، تو تُم پر میری اور ہدایت یافتہ ، ہدایت دینے والے خلفاء کی سُنّت فرض ہے اُسے دانتوں سے پکڑے رکھو ، اور نئے کاموں سے بچنا ، بے شک ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی جہنم میں ہے )))))[/COLOR] صحیح ابن حبان /کتاب الرقاق، صحیح ابن خُزیمہ /حدیث ١٧٨٥/کتاب الجمعہ /باب٥١،سُنن ابن ماجہ /حدیث ٤٢/باب ٦، مُستدرک الحاکم حدیث ٣٢٩ ، ٣٣١،اسنادہ صحیح/ احکام الجنائز /مایحرم عندالقبور/١٢، پس ایسا ہر کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رخصت ہونے تک ، اور پھر خلافت راشدہ کے اختتام تک کیا گیا اس کے فرض ہونے کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان سے میسر ہے۔ اور خلفائےراشدین کے عمل پر نبوی مہر تصدیق ثبت ہے۔ اس لیے ان کے کاموں کو بدعت نہیں کہا جائے گا۔ میں نے خلفائے راشدین کے سوا دوسرے صحابہ کے عمل کے بارے میں اس لیے دریافت کیا تھا کہ خلفائے راشدین کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی تعداد ہزاروں میں ہے اس لیے ان کی ایجاد کردہ بدعات زیادہ ہوں گی اور انہیں آسانی سے تلاش بھی کیا جا سکے گا۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 04-08-09 at 01:36 AM. |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#37 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,170
کمائي: 167,152
شکریہ: 9,674
7,365 مراسلہ میں 22,055 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یعنی اپکا جواب " ہاں "ہے۔ دین میں آضافے کیے گئے۔
شکریہ |
|
|
|
|
|
#38 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ہم سٹپ بائی سٹپ چل رہے ہیں۔ فی الحال ہمیں دوسرے ہزاروں صحابہ کی بدعات سے مستفید ہونے دیجیے۔ خلفائے راشدین کے عمل کے حجت ہونے کی دلیل اوپر نقل کر چکا ہوں۔ اس سے تسلی نہیں ہوئی تو انتظار کیجیے جب ہم اس ٹاپک کر طرف آئیں گے۔
|
|
|
|
|
|
#39 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اسلام علیکم حیدر بھائی ! ہم نے آپ سے جو سوال کیا تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے اور وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنا پر آپ لوگ بالخصوص لفظ بدعت کے معاملے میں لغوی اور شرعی تقسیم کے تو قائل ہیں مگر بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو ناجائز سمجھتے ہیں ـ میں وہ دلائل جاننا چاہتا ہوں نہ کے میرا مدعا یہ ہے کہ آپ مجھ کو یہ بتائیں کہ ایک لفظ لغت میں کیوں وضع کیا جاتا ہے اور اس کا مادہ کیا ہوتا ہے اور اسکی وجہ تسمیہ کیا ہوتی ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے کہ آپ نے خود لفظ حج کی مثال پیش فرمائی کہ ۔ ۔ ۔ "حج" کا لفظی مطلب "ارادہ کرنا"ہے۔ لسان العرب میں ہے: الحَجُّ القصدُ (لسان العرب جلد 2 ص 226) "حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا" بالکل ٹھیک حج کا لغوی مطلب ارادہ کرنا یا قصد کے ہیں مگر کیا آپ نے یہ غور فرمایا کہ شرعی اصطلاح میں مخصوص ایام ذوالحجۃ میں ہی مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی زیارت و طوائف، وقوفِ عرفات اور دیگر مناسک کے ادا کرنے کو ہی حج کیوں کہا جاتا ہے ؟؟؟؟ وہ اس لیے کہ ہر مسلمان کو مناسک حج ادا کرنے کے لیے بیت اللہ کا قصد ہی کرنا پڑتا ہے سو اسی وجہ تسمیہ کی نسبت سے اس قصد پر لفظ حج بول دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جس طرح آپ نے لغت میں لفظ حج کے لغوی معنٰی دکھائے اسی طرح میں آپکو سامنے خود لفظ دین کی بھی لغوی معنٰی پیش کرسکتا ہوں ۔ ۔ کہ دین عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اور معنٰی اس کے مذہب، عقیدہ، نظام حیات، نظام عبادات و عقاید اور دوسرا جہان، آخرت، عقبٰی، عاقبت وغیرہ کو بھی دین کہتے ہیں جیسے مالک یوم الدین کا ترجمہ روز جزا کا مالک ہی کیا جاتا ہے اور اسی طرح خود لفظ اسلام کے لغوی معنی بھی سلامتی کے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ آپ جب جب یہ دونوں لفظ بولتے ہیں تو اس وقت لغوی معنٰی کا قصد نہیں کرتے ؟؟؟؟' جب بھی کوئی آپ سے دین کے بارے میں سوال کرئے تو آپ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ دین سے تمہاری کیا مراد ہے لغوی دین یا اصطلاحی دین؟ اور اسی طرح جب کوئی آپ سے یہ کہتا ہے کہ وہ اسلام پر ہے تو آپ نے کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا آیا تم لغوی اسلام پر ہو یا شرعی اسلام پر ؟؟؟؟' کہنے کا مقصد یہ تھا کہ جتنے بھی الفاظ ہم کسی بھی زبان میں بولتے ہیں ان سب کا لغت میں استعمال وجہ تسمیہ مادہ اور جس مقصد کے لیے وہ لفظ وضع کیا گیا یہ سب لکھا ہوتا ہے مگر کیا وجہ ہے کہ آپ صرف بدعت کے معاملے میں ہی لغوی اور شرعی معنٰی کی تقسیم روا رکھتے ہیں دیگر الفاظ کے معاملہ میں نہیں ؟؟؟؟' یاد رہے کہ ہم بدعت کے معاملے میں ہر طرح کی تقسیم یعنی لغوی اور شرعی اور حسنہ اور سیئہ دونوں کے ہی قائل ہیں کہ ہماری نظر میں جو لغوی بدعت ہوتی ہے اسے ہی بدعت حسنہ کہہ دیا جاتا ہے اور جو شرعی بدعت ہوتی ہے اسی پر بدعت سیئہ کا اطلاق ہوتا ہے اور ہمارے نزدیک یہ فقط لفظی نزاع ہے ۔ لہذا ہم نے جو سوالات آپ پر کیئے ہیں انکی حیثیت الزامی سوالات کی سی ہے ۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (12-08-09), Student (04-08-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09) |
|
|
#40 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں ابھی تک آپ پر اپنا مدعا واضح نہیں کرسکا ۔ ۔ اس بات میں بھلا کس کو شک ہوسکتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بڑھ کر کسی کو دین کا شغف اور فھم ہوسکتا ہے اسی لیے تو ہم بار ہا عرض کرچکے کہ آپ بھی ہماری نہ سہی صحابہ کرام کی ہی مان لیجیئے اور صحابہ میں سے بھی خلیفہ ثانی محدث اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبان کی ہی لاج رکھ لیجیئے کہ جن کو زبان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے محدث کا لقب بھی ملا اور انکے عمل کو لفظ سنت کا حسیں تحفہ بھی ملا لیکن ان سب کے باوجود بھی وہ اپنے زمانہ میں ایک نو پید شدہ شئے پر اپنی سنت کا اطلاق نہیں بلکہ بدعت ہی کا اطلاق فرماتے ہیں اور اسے لغوی بدعت سمجھتے ہوئے اس کی افادیت اور شریعت کے کسی بھی مسلمہ اصول سے نہ ٹکرانے کی وجہ سے اس پر نعمۃ البدعۃ ھذہ کا اطلاق فرما کر اسے بدعت حسنہ قرار دیتے ہیں ۔ ۔ مگر آپ ہیں کہ پھر بھی بضد ہیں کہ بدعت کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی بدعت فقط بدعت سیئہ ہی ہوتی ہے این چہ معنٰی دارد؟؟؟؟؟؟؟؟ رہ گئی یہ بات کہ صحابہ کرام نے دین میں کونسے کونسے اضافے فرمائے (معاذاللہ) تو عرض ہے کہ ہم کتنی بار عرض کرچکے ہیں صحابہ کرام سے لیکر آج تک کے دور میں دین میں جتنی بھی بدعت حسنہ ایجاد کی گئیں وہ ہرگز ہرگز دین میں اضافہ نہیں ہیں بلکہ وہ سب کی سب دین کے ہی اصولوں کے زیر تسلط رہتے ہوئے اخذ کردہ ہیں اس لیے وہ دین ہی کا حصہ ہیں نہ کہ دین میں کوئی اضافہ ۔لہذا خلفائے راشدین سے لیکر آج تک امت مسلمہ میں جتنی بھی بدعات حسنہ ایجاد ہوئیں وہ فقط اپنی ایجاد کے اعتبار سے یعنی لغوی اعتبار سے تو بدعات (یعنی دین میں اضافہ) کہلائیں گی مگر اپنی افادیت اور دین کے کسی بھی اصول سے نہ ٹکرانے کی باعث حقیقت میں بدعات حسنہ اور دین میں اپنی ویلیڈٹی کے اعتبار سے دینی اصولوں پر پرکھ شدہ ہونے کے اعتبار سے اور انھی دینی اصولوں کی سخت کسوٹی پر پورا اتر کر اخذ ہونے کے اعتبار سے حقیقت میں دین ہی کا حصہ سمجھی جائیں گی نہ کہ کوئی اضافہ ۔ ۔ ۔ Last edited by آبی ٹوکول; 29-06-10 at 08:28 PM. |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09) |
|
|
#41 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔ لغوی تحیقیق آپ نے اپنے مراسلے میںبیان کی تھی اس لیے اس پر بات چل نکلی لیکن یہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیںہے۔ مراسلہ نمبر 64 پر غور کیجیے۔
|
|
|
|
|
|
#42 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
خلفائے راشدین کے علاوہ دوسرے ہزاروں صحابہ نے جو "بدعات حسنہ" متعارف کرائیں ان کی لسٹ مہیا کر دیں تو ممنون ہوں گا۔ |
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (29-05-10) |
|
|
#43 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔ اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟ مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد مسلم شریف۔ یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔ اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو Last edited by آبی ٹوکول; 29-06-10 at 08:30 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (12-08-09), Student (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09) |
|
|
#44 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سوال اول :- پہلے آپ یہ واضح کریں کہ آپ بدعت کی تقسیم کے حسنہ یا سیئہ ہونے کے تو قائل نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ بدعت کی لغوی اور شرعی تقسیم کے قائل ہیں ؟؟؟؟؟؟اور اسکا جواب نہ ملنے کی سورت مین پھر وہی سوال زرا مزید وضاحت کے ساتھ بطور سوال نمبر دو:- ہم نے آپ سے جو سوال کیا تھا وہ یہ تھا کہ آخر کیا وجہ ہے اور وہ کونسے دلائل ہیں کہ جن کی بنا پر آپ لوگ بالخصوص لفظ بدعت کے معاملے میں لغوی اور شرعی تقسیم کے تو قائل ہیں مگر بدعت حسنہ اور سیئہ کی تقسیم کو ناجائز سمجھتے ہیں جو ٹوٹا پھوٹا جواب اپنے دیا اس پر پھر ہم نے جو سوال کیا وہ درج زیل ہے ۔ ۔ کہ جب کوئی اپ سے دین کی بابت دریافت فرماتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ آپ اس سے یہ نہیں پوچھتے کہ دین سے تمہاری کیا مراد ہے لغوی دین یا اصطلاحی دین؟ اور اسی طرح جب کوئی آپ سے یہ کہتا ہے کہ وہ اسلام پر ہے تو آپ نے کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا آیا تم لغوی اسلام پر ہو یا شرعی اسلام پر ؟؟؟؟' یہ سوال لغوی والی تقسیم کو آپ فقط بدعت ہی کے باب تک کیون محدود کرتے ہیں ؟؟؟؟؟؟'' اب آپ نے فرمایا کہ ۔ ۔کسی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا ایک شئے ہے اور شریعت میں اس کا اصطلاحی مطلب ایک شئے ہے۔ تو ہمارا سوال یہ ہے کسی بھی لفظ کی لغوی تحقیق بیان کرنا دینی کام ہے یا دنیاوی دوسرے لفظوں میں ایسی تحقیق بیان کرنا بدعت لغویہ ہے یا بدعت سیئہ یا پھر اور آسان کیئے دیتا ہوں کہ یہ تحقیق آپ نے دین سمجھ کر بیان کی یا بے دینی ؟؟؟؟؟؟ اگر دین سمجھ کر بیان کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرمان کو پیش کیجیئے گے جب بھی کوئی تم سے دین سیکھنے آئے تو تم اس پر دین کی لغوی اور اصطلاحی دونوں تحقیقیں بیان کرنا اور اگر آپ زمانہ نبوی سے ایسی کوئی مثال نہیں دے سکتے تو پھر آپ کا یہ عمل خود بخود بدعت کہلائے گا لہذا اگر آپ نے اس کام کو دین سمجھ کر کیا ہے تو پھر آپ اس پر کس بدعت کا اطلاق کریں گے لغوی یا پھر شرعی ؟؟؟؟؟ اگر لغوی تو کس اعتبار سے کے کام تو آپ نے دین سمجھ کر کیا ہے ؟؟؟؟؟؟' ہونا تو اسے بقول آپ کے شرعی بدعت چاہیے تھا ؟؟؟؟؟'' |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (04-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (04-08-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (13-08-09), احمد بلال (04-09-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09) |
|
|
#45 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
مسلمہ قاعدہ ہے کہ ثبوت مدعی کے ذمے ہوتا ہے۔ آپ صاحب مضمون ہیں اس لیے آپ کی تحریر کی شرح کے لیے آپ ہی سے رجوع کرنا پڑے گا۔ آپ کے سوالوں کے جواب ان شاء اللہ حسب توفیق دیے جاتے رہیں گے لیکن پہلے میری الجھنوںکو دور کرنے کا سامان تو کیجیے۔ ایک بڑی الجھن کا ذکر مراسلہ نمبر 64 میں کر چکا ہوں۔ اس کی طرف توجہ دیجیے گا۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 06:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 10:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 09:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:28 AM |