| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم بھائی نعیم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی عمر مبارک 63 سال ھے اور کیا وجہ ھے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان 63 سالوں میں "جشن" "عید" "میلاد" مناتے ھوئے نہیں پاتے؟ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت بھی میلاد و جشن سے خالی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت بھی جشن اور میلاد سے خالی؟ حضرت عثمان و علی رضوان اللہ علیھم کا دور بھی جشن و میلاد سے خالی؟ کیا آپ بتائیں گے کہ اس کی کیا وجہ ھے؟ کیوں اتنے عالی مرتبت اعمال نہیں کئے گئے؟ شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (05-02-10) |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() |
ڈپلیکیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last edited by sahj; 05-02-10 at 11:33 AM. |
|
|
|
|
|
#18 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، کنعان بھائی کی نصیحت قبول کرنے کا شکریہ۔ اچھے طریقے سے گفتگو جاری رہے تو میں بقدر استطاعت حاضری دیتا رہوں گا ان شاء اللہ۔
اقتباس:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ (سورۃ المائدۃ آیت 4) "آج میں نے تمہارے لیے تمہاے دین کو مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا" تو پھر کیا وہ عبادات ، وہ عیدیں، وہ اذکار اور ہدایت کی وہ باقی تمام چیزیں کافی نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعے سکھائیں؟ بھائی، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہر وہ چیز امت تک پہنچا دی تھی جو اللہ تعالیٰ کے قرب، جنت کے حصول اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے، پھر ادھر ادھر جانے اور بعد والوں کی اختراعات اپنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ کوئی عقلی فلسفہ نہیں کہ اگر یوں ہے تو پھر یوں کیوں نہیں بلکہ اس ہستی کا فرمان ہے جس کی زبان مبارک سے حق کے سوا کبھی کوئی بات نہیں نکلتی تھی، فرمایا: (إنه ليس شيء يقربكم إلى الجنة إلا قد أمرتكم به و ليس شيء يقربكم إلى النارإلا قد نهيتكم عنه رواه أبو بكر الحداد في " المنتخب من فوائد ابن علويه القطان " ( 168 / 1 ) و ابن مردويه في " ثلاثة مجالس " ( 188 / 1 - 2 )سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 2866) "جنت کے قریب کرنے والی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا میں نے تمہیں حکم نہ دے دیا ہو، اور آگ (یعنی جہنم) کے قریب لے جانے والی کوئی ایسی چیز نہیں جس سے میں نے تمہیں منع نہ کر دیا ہو" اور اسی زبان مبارک سے یہ تنبیہہ بھی ملتی ہے: سَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (سنن ابن ماجہ مقدمۃ باب اتباع الخلفاء الراشدین المھدیین، صحیح سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 114) "تم میرے بعد شدید اختلافات دیکھو گے، تو تم پر لازم ہے کہ میرے سنت کو تھامے رہو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو تھامے رہو، اسے اپنی داڑھوں سے مضبوط پکڑو اور نئے نکالے گئے کاموں سے بچنا کیوں کہ ہر بدعت گمراہی ہے" میں یہاں صحابہ کرام کے کچھ اقوال درج کرنا چاہتا تھا لیکن عدیم الفرصتی کی وجہ سے اسے پھر کسی وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں ۔ البتہ امام مدینہ مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول سنتے چلیے تا کہ یہ غلط فہمی دور ہو سکے کہ دین میں اضافے کی مخالفت دور جدید کی پیداوار ہے فرماتے ہیں: من ابتدع في الإسلام بدعة يراها حسنة فقد زعم أن محمداً صلى الله عليه وآله وسلم خان الرسالة، اقرءوا قول الله تبارك وتعالى: { الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْأِسْلامَ دِيناً } [المائدة:3] قال: فما لم يكن يومئذٍ ديناً لا يكون اليوم ديناً. "جس نے کسی بدعت کو اچھا جان کر اسلام میں رائج کیا تو اس نے گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے (نعوذ باللہ) رسالت میں خیانت کی تھی (یعنی کوئی کمی چھوڑ دی تھی جسے یہ مبتدع پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آج میں نے تمہاے لیے تمہارد ین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کر لیا" تو جو چیز اس وقت (یعنی دور رسالت و صحابہ) میں دین نہ تھی وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 06-02-10 at 02:45 AM. |
|
|
|
|
|
|
#19 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
1۔ عقائد اور عبادات 2۔ عادات (معروف معنوں کے مطابق دنیاوی معاملات( جہاں تک عبادات کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سوا کسی کو اختیار نہیں کہ اپنی مرضی سے حلال و حرام کا حکم جاری کرے، یا کسی عبادت کو مشروع کرے یا عبادت کی مقدار، کیفیت اور اوقات میں کوئی تبدیلی کرے، یا معاملات کے عمومی قواعد کو بدلے، یا اپنے عقل و فہم سے کسی چیز کو اچھا سمجھتے ہوئے اسے عبادت ، برکت یا تقرب الی اللہ کے ذریعے کے طور پر اپنائے اور اس کی ترویج کرے۔ اللہ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنے کے جو چیزیں ضروری ہیں ان میں سے ایک ایک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں برت کر دکھا دیا ہے اور اس کی تعلیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دے دی تھی۔ اب جو بھی نیا کام عقیدہ و عبادت میں نکالا جائے گا یا اسے اللہ کی خوشنودی کے ذریعے کے طور پر اپنایا جائے گا یا اسے برکت کے حصول کا ذریعہ مانا جائے گا وہ مردود ہے، ناقابل قبول ہے، اللہ کے ہاں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے کہ: من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد “جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نیا کام نکالا جو اس میں نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے”۔ اور اسی سے ملتا جلتا فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یہ ہے: من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد جس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ رد ہے البتہ معاملات کا حکم عبادات سے جدا ہے۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ عادات و معاملات اور دنیاوی کاموں میں نئی چیزوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انہیں اختیار کرنے سے دین کے کسی دوسرے اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔چنانچہ ہر مسلمان کو اجازت ہے کہ شریعت کے عمومی قواعد مثلا عدل و انصاف، دیانت و امانت وغیرہ کا خیال رکھتے ہوئے صنعت و حرفت، ٹیکنالوجی، جدید ذرائع آمدورفت، جدید ذرائع مواصلات وغیرہ سے پورا فائدہ اٹھائے۔ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ “ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہو” ۔اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں یوں بیان کیا ہے: “انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں پیوند لگا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا “اگر تم یہ نہ کرو تو اچھا ہو گا”۔ (انہوں نے ایسا ہی کیا تو) اس کے بعد ردی کھجوریں پیدا ہوئیں۔پھر (دوبارہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا گزر ان پر سے ہوا تو پوچھا “تمہاری کھجوروں کا کیا ہوا”؟ (انہوں نے (ساری بات بتائی ) اور کہا “آپ نے اس اس طرح فرمایا تھا” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ “تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہو” صحیح مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا دون ما ذکرہ من معایش الدنیا علی سبیل الرای امید ہے کہ اس وضاحت سے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں مدد ملے گی باذن اللہ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ Last edited by عبداللہ حیدر; 06-02-10 at 02:51 AM. |
|
|
|
|
|
|
#20 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر سب کی سوچ آپ کی طرح ہوجائے تو انشاءاللہ مسلمانوں میں ان تفرقوں کا خاتمہ ہوجائے ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (06-02-10), کنعان (06-02-10), راجہ اکرام (06-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (06-02-10) |
|
|
#21 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
[QUOTE=sahj;263828]السلام علیکم بھائی نعیم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی عمر مبارک 63 سال ھے اور کیا وجہ ھے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان 63 سالوں میں "جشن" "عید" "میلاد" مناتے ھوئے نہیں پاتے؟ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت بھی میلاد و جشن سے خالی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور خلافت بھی جشن اور میلاد سے خالی؟ حضرت عثمان و علی رضوان اللہ علیھم کا دور بھی جشن و میلاد سے خالی؟ السلام علیکم سہج بھائی ۔ ایک بات ہم سب دوستوں کو ذہن نشین رہنی چاہیے کہ دین کی اصل اور اساس قرآن و سنت ہے۔ جس چیز کا جواز قرآن و سنت مہیا کردے۔ بعد از نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، کسی کا کرنا یا نہ کرنا اسکی منع ، حرام یا ناجائز ہونا ثابت نہیںکرتا۔اس لیے یہ اعتراض "کہ فلاں نے کیوں نہ کیا ۔ کیا انہیں دین کی (معاذ اللہ) سمجھ نہ تھی۔ ایسے جملے بولنے سے پہلے صد بار سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم ان عظیم ہستیوں کی شان میںگستاخی نہ کر بیٹھیں۔ کیونکہ ہر دور کے تقاضے ہوتے ہیں ۔ اسکی مثال بڑی واضح ہے نماز تراویح باجماعت ۔۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور کی بجائے انکے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میںشروع ہوئی ۔ اب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کوئی بدبخت ایسی ہرزہ سرائی کرسکتا ہے کہ انہوں نے یہ کام کیوںنہ کیا اور معاذ اللہ ثم معاذ اللہ انکے بعد والوںکو سمجھ زیادہ آگئی ۔ ایسا اعتراض کوئی بھی دین کی سمجھ بوجھ اور دل میں محبت و تعظیم رکھنے والا نہیں کرسکتا۔ جمع القرآن۔ قرآن مجید کو باقاعدہ مصحف کی صورت دینے کا اعزاز خلیفہ راشد سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا۔ کیا فرمائیں گے معترضین سیدنا ابوبکر و سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنھما سے متعلق کہ انہوں نے کیوں نہ کیا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کر دیا ؟ اگر ہروہ کام جو عہدِ رسالت مآب اور عہدِ صحابہ میں متداول اور معمول بہ نہ تھا محض اس وجہ سے ناجائز قرار پائے تو تعلیماتِ دین اور فقہ اسلامی کا بیشتر حصہ ناجائز کے زمرے میں آجائے گا اور اجتہاد کی ساری صورتیں، قیاس، استحسان، مصالح مرسلہ، استحصاب، استدلال اور استنباط کی جملہ شکلیں ناجائز کہلائیں گی۔ اسی طرح دینی علوم و فنون مثلاً اُصولِ تفسیر، اصول حدیث، فقہ و اُصولِ فقہ، ان کی تدوین، اور ان کو سمجھنے کے لئے صرف و نحو، بلاغت و معانی، منطق و فلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی جملہ علوم خادمہ جو فہمِِ دین کے لئے ضروری اور عصری تقاضوں کے مطابق لابدی ہیں ان کا سیکھنا، سکھانا بھی حرام قرار پائے گا کیونکہ یہ سب علوم و فنون اپنی موجودہ شکل میں نہ عہدِ رسالت میں موجود تھے نہ ہی عہدِصحابہ کرام میں، انہیں تو بعد میں ضرورت کے پیش نظر وضع اور مرتب کیا گیا۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کے بوجودہ نہ کرنے سے کوئی عمل بعد ازاں ناجائز قرار پائے تودینی مدارس کی مروجہ تعلیم و تدریس اور نصابات کا بیشتر حصّہ بھی گمراہی قرار پائے گا کیونکہ موجودہ درس نظامی کے نصابات کے مطابق درس و تدریس نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تھی اور نہ ہی اس طرح کسی صحابی نے تعلیم حاصل کی تھی ان کا طریقہ نہایت سادہ تھا فقط قرآن و حدیث کا سماع و روایت، بلکہ قرآن حکیم کی موجودہ شکل میں طباعت و زیبائش سے لیکر حرم کعبہ اور مساجد کی پختہ تعمیر اور تزئین و آرائش، مساجد میںلاوڈ سپیکر کے اہتمام تک بہت سے معاملات کا جواز بھی مجروح اور ساقط ہو جائے گا۔ اس لیے تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی بھی عمل کے جواز کی شرط اور معیار قرآن و سنت ہے ۔ قرآن حکیم تذکرہء ولادت انبیاء گوکہ اس دھاگے کی اولیں پوسٹ میں اس حوالے سے قدرے گفتگو ہوچکی ہے۔ اور اہل ایمان (ماننے والوں ) کے لیے ایک قرآن و سنت کی ایک دلیل بھی کافی ہوتی ہے جبکہ اہل انکار و معترضین کے لیے ہزاروں دلیلیں بھی ناکافی۔ تاہم وضاحت کے لیے چند مزید تفصیلات پیش خدمت ہیں۔ قرآن مجید نے انبیاء کرام علیہم السلام کے ایام ولادت کا تذکرہ فرما کر اس دن کی اہمیت و فضیلت اور برکت کو واضح کیا ہے : 1۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَسَلاَمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاO مريم، 19 : 15 ’’اور یحییٰ پر سلام ہو، ان کے میلاد کے دن اور ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گےo‘‘ 2۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کلام کی نسبت کرکے قرآن مجید فرماتا ہے : وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّاO مريم، 19 : 33 ’’اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گاo‘‘ 3۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر مبارک قسم کے ساتھ بیان فرمایا۔ ارشاد فرمایا : لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِO وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِO وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَO البلد، 90 : 1 - 3 ’’میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرّم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo (اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئیo‘‘ اہل ایمان کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ اگر ولادت کا دن قرآن و سنت اور شریعت کے نقطہ نظر سے خاص اہمیت کا حامل نہ ہوتا تو اس دن پر بطور خاص سلام بھیجنا اور قسم کھانے کا بیان کیا معنی رکھتا ہے؟ لہٰذا اسی اہمیت کے پیشِ نظر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کے میلاد کا ذکر فرمایا ہے۔ بطور حوالہ ذیل میں چند جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے میلاد کا تذکرہ کیا جاتا ہے : 1۔ میلاد نامۂ آدم علیہ السلام گوکہ حضرت آدم علیہ السلام کی ولادت عام ولادت سے مختلف تھی کیونکہ وہ بن ماں باپ کے تخلیق ہوئے ۔ تاہم اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے محبوب اور برگزیدہ بندوں میں سے سب سے پہلے ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق و پیدائش کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً. ’’اور (وہ وقت یاد کریں) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔‘‘ اﷲ رب العزت نے سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق و پیدائش کا ذکر ان کی تخلیق سے بھی پہلے فرما دیا، جس کا ذکر مذکورہ بالا آیتِ کریمہ میں ہوا ہے۔ پھر جب خالقِ کائنات نے آدم علیہ السلام کے پیکرِ بشری کی تخلیق فرمائی اور تمام فرشتوں کو اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا تو ابلیس نے نافرمانی کی اور راندۂ درگاہ ہوا۔ تخلیقِ آدم علیہ السلام کی اس پُرکیف داستان کا ذکر قرآن مجید نے تفصیلاً کر دیا ہے : وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلاَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍO فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُواْ لَهُ سَاجِدِينَO فَسَجَدَ الْمَلآئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَO إِلاَّ إِبْلِيسَ أَبَى أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ Oالحجر، 15 : 28 - 31 ’’اور (وہ واقعہ یاد کیجئے) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایاکہ میں سن رسیدہ (اور) سیاہ بودار، بجنے والے گارے سے ایک بشری پیکر پیدا کرنے والا ہوںo پھر جب میں اس کی (ظاہری) تشکیل کو کامل طور پر درست حالت میں لاچکوں اور اس پیکر (بشری کے باطن) میں اپنی (نورانی) روح پھونک دوں تو تم اس کے لیے سجدہ میں گر پڑناo پس (اس پیکرِ بشری کے اندر نورِ ربانی کا چراغ جلتے ہی) سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیاo سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیاo‘‘ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے، صرف پیدائش کا ہی نہیں بلکہ ان کی حیاتِ طیبہ کے کئی پہلوؤں کا ذکر موجود ہے، جیسے جنت میں ان کے رہن سہن، تخلیقِ آدم پر فرشتوں کے خیالات، شیطان مردود کا اعتراض اور پیکرِ آدم کو سجدہ نہ کرنے کا ذکر بھی تفصیل سے کیا گیا ہے۔ انسانی تخلیق سے متعلق جتنی آیات ہیں ان کا اوّلین مصداق سیدنا آدم علیہ السلام ہیں جن کے احوال کو تفصیل سے قرآنِ مجید کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہی ان کا ’’میلاد نامہ‘‘ ہے۔ 2۔ میلاد نامۂ موسیٰ علیہ السلام سیدنا موسیٰ علیہ السلام وہ جلیل القدر نبی ہیں جنہوں نے فرعون جیسے ظالم، جابر اور سرکش شخص کو للکارا جو زمین پر خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا تھا۔ اللہ رب العزت نے ان کی بعثت کے ذریعہ بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی اور فرعون کو غرق کرکے ہمیشہ کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے قبل فرعون نے بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے۔ جب اسے شاہی نجومیوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں کسی ایسے بچے کی پیدائش ہونے والی ہے جس کے ذریعہ بنی اسرائیل تمہاری محکومی سے نجات پا لیں گے تو اس نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے شروع کر دیے۔ لڑکوں کو ذبح کروا دیتا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا۔ ان حالات میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی جسے اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سورۃ القصص کا آغاز ہی قصۂ موسیٰ و فرعون سے ہوا ہے جو کہ 50 آیات مبارکہ پر مشتمل ہے۔ پہلے 5 رکوعات مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے وقف ہیں ۔ طوالت کے پیش نظر میلاد نامۂ موسیٰ علیہ السلام کے ضمن میں سورۃ القصص کی ابتدائی 14 آیات بمع ترجمہ دینے کی بجائے صرف حوالہ عرض کررہا ہوں۔ جسے پڑھنا ہو سورہ القصص کی ابتدائی 14 آیات پڑھ لینے سے واضح ہوجائے گا کہ باری تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر جوانی تک کا ذکر بڑے بلیغ انداز سے کرتے ہوئے اُمت مسلمہ کو یہ پیغام دیا ہے کہ اپنے محبوب بندوں کا میلاد پڑھنا میری سنت ہے۔ میلاد نامۂ یحییٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا میلاد نامہ بھی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ جب ان کے والد گرامی حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت مریم علیھا السلام کی پرورش کے دوران توسلِ مکانی کرتے ہوئے حجرۂ مریم علیھا السلام میں کھڑے ہوکر دعا کی تو یہ منظر بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِO فَنَادَتْهُ الْمَلآئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَO قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلاَمٌ وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ قَالَ كَذَلِكَ اللّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُO قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِO آل عمران، 3 : 38 - 41 ’’اسی جگہ زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، عرض کیا : میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کا سننے والا ہےo ابھی وہ حجرے میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے (یا دعا ہی کر رہے تھے) کہ انہیں فرشتوں نے آواز دی : بے شک اللہ آپ کو (فرزند) یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو کلمۃ اﷲ (یعنی عیسیٰ) کی تصدیق کرنے والا ہوگا اور سردار ہوگا اور عورتوں (کی رغبت) سے بہت محفوظ ہو گا اور (ہمارے) خاص نیکوکار بندوں میں سے نبی ہوگاo (زکریا نے) عرض کیا : اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا درآنحالیکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے؟ فرمایا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہےo عرض کیا : اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما؟ فرمایا : تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہوo‘‘ واضح رہے کہ ابھی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ولادت نہیں ہوئی، صرف دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے قبل اَز ولادت ان کے بعض فضائل کا ذکر کر دیا۔ آگے سورۃ مریم میں ان کی ولادت کا مکمل بیان ہے جب کہ پہلے رکوع میں سارا بیان ہی میلادِ یحییٰ علیہ السلام کے لیے مختص ہے۔ اس بیان کو قرآن حکیم یوں شروع کرتا ہے : كهيعصO ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّاO مريم، 19 : 1 - 2 ’’کاف، ہا، یا، عین، صاد (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)o یہ آپ کے رب کی رحمت کا ذکر ہے (جو اس نے) اپنے (برگزیدہ) بندے زکریا پر (فرمائی تھی)o‘‘ ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی ولادت کا ذکر (میلاد نامہ) قرآن مجید کے الفاظ میں اللہ کی رحمت ہوتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے میلاد کا ذکر رحمتِ ایزدی ہے تو میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بدرجہ اُولیٰ رحمت کیوں نہ ہوگا۔ ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑی رحمت اور کیا ہو سکتی ہے، لہٰذا عقلی و منطقی رُو سے بھی میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر، ذکرِ رحمت ہے۔ میلاد نامۂ عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم علیھا السلام کے میلاد نامہ کے بعد ان کے فرزند حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا میلاد نامہ بھی قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ مریم کا ایک مکمل رکوع میلاد نامۂ عیسیٰ علیہ السلام پر مشتمل ہے جس میں ان کی ولادت سے قبل ان کی والدہ ماجدہ کو بیٹے کی خوش خبری دی گئی۔ اس کی تفصیل قرآن مجید یوں بیان کرتا ہے : إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَO وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَO قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO آل عمران، 3 : 45 - 47 ’’جب فرشتوں نے کہا : اے مریم! بے شک اللہ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا، وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہوگا اور اللہ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگاo اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اللہ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہوگاo (مریم نے) عرض کیا : اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا! ارشاد ہوا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہوجاتا ہےo‘‘ اس کے بعد تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے حسبِ سابق چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی بیان ہوئیں کہ کس طرح جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے روح پھونکی اور حضرت مریم علیھا السلام اُمید سے ہوئیں۔ وضعِ حمل کے وقت حضرت مریم علیھا السلام کو تکلیف ہوئی، قرآن کریم نے ان کی اس تکلیف کا بھی ذکر کیا اور بہ تقاضائے نسوانیت ان کا شرمانا بھی بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب وہ خلوت گزیں ہوگئیں تو اس کا بھی ذکر کیا۔ پھر یہ بیان کیا کہ کس طرح تکلیف کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے چشمے کا شیریں پانی مہیا کیا، تازہ کھجوریں دیں جن کے کھانے سے تکلیف دور ہو گئی۔ عین لمحۂ ولادت کا ذکر کیا۔ ولادت کے بعد جب وہ نومولود کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لے گئیں اور انہوں نے طعنے دیئے، ان طعنوں کا ذکر کیا اور طعن و تشنیع کے جواب میں پنگھوڑے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کرنے کا ذکر کیا۔ یہ سارے اَحوال اﷲ رب العزت نے یوں بیان فرمائے ہیں : وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّاO فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّاO قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّاO قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاَمًا زَكِيًّاO قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلاَمٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّاO قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّاO فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّاO فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّاO فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلاَّ تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّاO وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّاO فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّاO فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُواْ يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّاO يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّاO فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّاO قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّاO وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّاO وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّاO وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّاO ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَO مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO مريم، 19 : 16 - 35 ’’اور (اے حبیبِ مکرم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیںo پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسنِ مطلق اپنا حجاب اٹھا دے) تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرئیل) کو بھیجا، سو جبرئیل ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہواo (مریم نے) کہا : بے شک میں تجھ سے (خدائے) رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ) سے ڈرنے والا ہےo (جبرئیل نے) کہا : میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں (اس لیے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo (مریم نے) کہا : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوںo (جبرئیل نے) کہا : (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے : یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لیے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنا دیں اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہےo پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہو کر دور ایک مقام پر جا بیٹھیںo پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں : اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری ہو چکی ہوتیo پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرئیل نے یا خود عیسیٰ نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بے شک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے)o اور کھجور کے تنا کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گاo سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگرتم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے، سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گیo پھر وہ اس (بچے) کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آگئیں، وہ کہنے لگے : اے مریم! یقیناً تو بہت ہی عجیب چیز لائی ہےo اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھیo تو مریم نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا، وہ کہنے لگے : ہم اس سے کس طرح بات کریں جو (ابھی) گہوارہ میں بچہ ہےo (بچہ خود) بول پڑا : بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہےo اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک بھی زندہ ہوں اس نے مجھے زکوٰۃ اور نماز کا حکم فرمایا ہےo اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایاo اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گاo یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیںo یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے ’’ہو جا‘‘ پس وہ ہوجاتا ہےo‘‘ میلاد نامہ مریم علیہا السلام انبیاء علیھم السلام کے میلاد کا تذکرہ تو ہوا۔ لیکن اللہ تعالی نے تو قرآن حکیم میںاپنی برگذیدہ بندی سیدہ مریم علیہا السلام کی ولادت کا تذکرہ فرما کر اللہ کے نیک بندوں کے میلاد کا ذکر بھی اپنی سنت بنا کر قرآن حکیم کا حصہ بنا دیا۔ حوالہ کے لیے سورہ آل عمرآن کی آیات 33 تا 37 پڑھ لینے سے بات واضح ہوجائے گی۔ میلاد نامۂ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مطالعۂ قرآن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنے برگزیدہ انبیاء کرام علیھم السلام کی ولادت کا ذکر فرما کر ان کی شان کو اجاگر کیا ہے۔ یہی میلادنامۂ انبیاء ہے۔ اگر قرآنی آیات کے مفہوم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ربِ کریم نے امام الانبیاء حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء علیھم السلام کا ذکر کیا وہ فقط ذکرِ ولادت تک محدود تھا، مگر جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا تو اس شانِ امتیاز کے ساتھ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی نسبت سے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہرِ ولادت بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آباو واجداد اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا : لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِO وَأَنتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِO وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَOالبلد، 90 : 1 - 3 ’’میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوںo (اے حبیبِ مکرم!) اس لیے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیںo (اے حبیبِ مکرم! آپ کے) والد (آدم علیہ السلام یا ابراہیم علیہ السلام ) کی قسم اور (ان کی) قسم جن کی ولادت ہوئیo‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے شہر مکہ کو اس وجہ سے لائقِ قسم نہیں ٹھہرایا کہ وہاں بیت اللہ، حجرِ اسود، مطاف، حطیم، ملتزم، مقامِ ابراہیم، چشمۂ زَم زَم، صفا و مروہ، میدانِ عرفات، منیٰ اور مزدلفہ ہیں، بلکہ قسم کھانے کی وجہ قرآن کی رُو سے یہ ہے کہ اس شہر کو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے سکونت ہونے کا شرف حاصل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کی قسم صرف اس لیے کھائی کہ وہ اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسکن ہے، پھر اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جملہ آباء و اَجداد کی قسم کھائی۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کے پیدا ہونے کی قسم نہیں کھائی بلکہ صرف ایک ہستی کی ولادت کی قسم کھائی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر یوں کیا ہے : 1. كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولاً مِّنكُمْ.البقره، 2 : 151 ’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہی میں سے (اپنا) رسول بھیجا۔‘‘ 2. لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ.آل عمران، 3 : 164 ’’بے شک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے عظمت والا رسول بھیجا۔‘‘ 3. يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُواْ خَيْرًا لَّكُمْ.النساء، 4 : 170 ’’اے لوگو! بے شک تمہارے پاس یہ رسول تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ تشریف لایا ہے سو تم (ان پر) اپنی بہتری کے لیے ایمان لے آؤ۔‘‘ 4. يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُواْ عَن كَثِيرٍ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌO المائدة، 5 : 15 ’’اے اہلِ کتاب! بے شک تمہارے پاس ہمارے (یہ) رسول تشریف لائے ہیں جو تمہارے لیے بہت سی ایسی باتیں (واضح طور پر) ظاہر فرماتے ہیں جو تم کتاب میں سے چھپائے رکھتے تھے اور (تمہاری) بہت سی باتوں سے درگزر (بھی) فرماتے ہیں، بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) آگیا ہے اور ایک روشن کتاب (یعنی قرآن مجید)o‘‘ 5. يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُواْ مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلاَ نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌO المائده، 5 : 19 ’’اے اہلِ کتاب! بے شک تمہارے پاس ہمارے (یہ آخر الزمان) رسول پیغمبروں کی آمد (کے سلسلے) کے منقطع ہونے (کے موقع) پر تشریف لائے ہیں جو تمہارے لیے (ہمارے احکام) خوب واضح کرتے ہیں، (اس لیے) کہ تم (عذر کرتے ہوئے یہ) کہہ دو گے کہ ہمارے پاس نہ (تو) کوئی خوش خبری سنانے والا آیا ہے اور نہ ڈرانے والا، (اب تمہارا یہ عذر بھی ختم ہو چکا ہے کیونکہ) بلاشبہ تمہارے پاس (آخری) خوش خبری سنانے اور ڈرانے والا (بھی) آگیا ہے، اور اللہ ہر چیز پر بڑا قادر ہےo‘‘ 6. لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌOالتوبه، 9 : 128 ’’بے شک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول تشریف لائے، تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیںo‘‘ 7. وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَO الأنبياء، 21 : 107 ’’اور (اے رسولِ محتشم!) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کرo‘‘ 8. هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍO الجمعة، 62 : 2 ’’وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک (باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بھیجا وہ ان پر اس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بے شک وہ لوگ ان (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھےo‘‘ 9. إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا.المزمل، 73 : 15 ’’بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھیجا ہے۔‘‘ مذکورہ بالا آیات میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس جہانِ رنگ و بو میں تشریف آوری کا ذکر در حقیقت ذکرِ ولادت ہی ہے۔ ان آیات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر بلا اِستثنا تمام نسلِ انسانی کے لیے کیا ہے۔ اس میں تمام اہلِ ایمان کے علاوہ جمیع اہلِ کتاب اور کفار و مشرکین شامل ہیں۔ ہر ایک کو مطلع کیا گیا کہ حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کو تمام کائنات کے لیے نعمت اور رحمت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کا ذکر اِس قدر اِہتمام اور تواتر سے کیا ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ معمول کی بات ہے۔ ان آیاتِ مقدسہ کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو یہ سمجھا دیا کہ میرے محبوب کی ولادت کا ذکر قیامت تک آنے والی نسلوں پر میں اپنی سنت بنا رہا ہوں ۔ لہٰذا یہ سوچ۔ کہ ولادت کا ذکر کرنے کا کیا فائدہ؟۔ قرآن مجید کی ایک دو نہیں بلکہ درجنوں ، بیسیوں آیات سے انکار کے مترادف ہے کیوں کہ انبیاء علیھم السلام کی ولادت کا ذکر کرنا اور ان کا میلاد نامہ قرآن حکیم میں بیان کر کے اس کی تلاوت کا حکم دینا منشائے خداوندی ہے۔ جب ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بہ عنوان میلاد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجاآوری اور سنت کی ادئیگی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگران آیات کے مفہوم پر۔ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور برگزیدہ بندوں کی ولادت کا بیان کیا ہے۔ غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ان آیات میں بیان کردہ واقعات کا اُمتِ مسلمہ کی تعلیم و تربیت سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں سوائے اس کے کہ ان سب کا مقصود میلاد نامہ انبیاء علیھم السلام کا بیان ہے۔ |
|
|
|
|
|
#22 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
قرآن حکیم سے میلاد انبیاء علیھم السلام اور میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنا سنت الہیہ ثابت ہوجانے کے بعد اب دیکھتے ہیں کہ کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے میلاد مبارک کی اہمیت اپنی سنت مطہرہ سے اجاگر کی یا نہیں ؟ احادیث مبارکہ پڑھنے سے جواب ملتا ہے "ہاں" بالکل اہمیت اجاگر فرما کر میلاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام دنوں سے ممتاز انداز میں منانے کی سنت قائم فرمائی۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یومِ میلاد پر روزہ رکھ کر خود خوشی کا اِظہار فرمایا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم کو اپنے یومِ میلاد پر اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کی تلقین فرمائی اور ترغیب دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے میلاد کے دن روزہ رکھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِظہارِ تشکر و اِمتنان فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل مبارک درج ذیل روایات سے ثابت ہے : اِمام مسلم (206. 261ھ) اپنی الصحیح میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم سُئل عن صوم يوم الإثنين؟ قال : ذاک يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل عليّ فيه. ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔‘‘ 1. مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب استحبابِ صيام ثلٰثة أيام من کل شهر، 2 : 819، رقم : 1162 2. بيهقي، السنن الکبري، 4 : 286، رقم : 38182 درج ذیل کتب میں ’’انزلت عليّ فیہ النبوۃ (اسی روز مجھے نبوت سے سرفراز کیا گیا)‘‘ کے الفاظ ہیں : 3. نسائی، السنن الکبری، 2 : 146، رقم : 2777 4. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 296، 297، رقم : 22590، 22594 5. عبد الرزاق، المصنف، 4 : 296، رقم : 7865 6. أبويعلي، المسند، 1 : 134، رقم : 144 7. بيهقي، السنن الکبري، 4 : 300، رقم : 8259 پیر کے دن کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کا دن ہے۔ بنا بریں یہ دن شرعی طور پر خصوصی اَہمیت و فضیلت اور معنویت کا حامل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود روزہ رکھ کر اس دن اظہارِ تشکر فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل امت کے لیے اِظہارِ مسرت کی سنت کا درجہ رکھتا ہے۔ آج بھی حرمین شریفین میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم اہلِ محبت و تصوف پیر کے دن روزہ رکھنے کی سنت پر باقاعدگی سے عمل کرتے ہیں۔ اسلام میں ولادت کے دن کی اہمیت ۔ اِسلام میں ولادت کے دن کو خاص اَہمیت حاصل ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں یومِ ولادت کا کوئی تصور نہیں، انہیں علمِ شریعت سے صحیح آگہی نہیں۔اور اگر آگہی ہونے کے باوجود انکاری ہیں تو سوائے ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان . کہ ’’یہ میری ولادت کا دن ہے‘‘. اِسلام میں یوم ولادت کے تصور کی نشان دہی کرتا ہے۔ قرآنِ حکیم انبیاء علیھم السلام کے ایامِ میلاد بیان کرتا ہے۔ اِس کی تفصیل گزشتہ اَبواب میں بیان ہوچکی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنے پیغمبر کے یوم ولادت کی کیا قدر و منزلت ہے۔ اگر اِس تناظر میں دیکھا جائے تو یومِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ سب سے اَرفع و اَعلیٰ ہے۔ یہ دن منانے کے مختلف طریقے ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ جیسے مذکورہ بالا حدیث سے عبادات کی ایک قسم روزہ رکھنا ثابت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کے حصول کے لیے صدقہ و خیرات کرنا، کھانا کھلانا، شکر بجا لانا اور خوشی منانا میلاد منانے کی مختلف صورتیں ہیں۔ ہم گزشتہ باب میں شکر بجا لانے کی مختلف صورتوں کے ذیل میں اس پر بحث کر چکے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا میلاد بکرے ذبح کر کے منایا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنا میلاد منایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہوئے اپنی ولادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور ضیافت کا اہتمام فرمایا۔ 1۔ بیہقی (384۔ 458ھ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقّ عن نفسه بعد النبوة. ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعد اپنا عقیقہ کیا۔‘‘ 1. بيهقي، السنن الکبري، 9 : 300، رقم : 43 2. مقدسي، الأحاديث المختارة، 5 : 205، رقم : 1833 3. نووي، تهذيب الأسماء واللغات، 2 : 557، رقم : 962 4. عسقلاني، فتح الباري، 9 : 595 5. عسقلاني، تهذيب التهذيب، 5 : 340، رقم : 661 6. مزي، تهذيب الکمال في أسماء الرجال، 16 : 32، رقم : 3523 2۔ ضیاء مقدسی (569۔ 643ھ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عق عن نفسه بعد ما بُعِثَ نببًاَ ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد اَز بعثت اپنا عقیقہ کیا۔‘‘ 1. مقدسي، الأحاديث المختارة، 5 : 205، رقم : 1832 2. طبراني، المعجم الأوسط، 1 : 298، رقم : 994 3. روياني، مسند الصحابة، 2 : 386، رقم : 1371 3۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : لمّا ولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقّ عنه عبد المطلب بکبش. ’’جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی تو حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف سے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا۔‘‘ 1. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 3 : 32 2. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 128 3. سيوطي، کفاية الطالب اللبيب في خصائص الحبيب، 1 : 134 2۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما ہی سے روایت ہے : أن عبد المطلب جعل له مأدبة يوم سابعة. ’’بے شک حضرت عبد المطلب نے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے عقیقہ) کی دعوت کی۔‘‘ 1. ابن عبد البر، التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد، 21 : 61 2. ابن عبد البر، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، 1 : 51 3. ابن حبان، الثقات، 1 : 42 4. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، 2 : 100 5. ابن قيم، زاد المعاد في هدي خير العباد، 1 : 81 اِس میں تو اَئمہ کا اختلاف ہی نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے ساتویں دن کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چالیس سال تک اپنا عقیقہ کیسے مؤخر کر سکتے تھے، کیوں کہ حدیث مبارکہ کی رُو سے جب تک عقیقہ نہ کر دیا جائے بچہ گروی رہتا ہے۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا : الغلام مُرْتَهَنٌ بعقيقته يُذبَحُ عنه يوم السابع. ’’بچہ اپنے عقیقہ کے باعث گروی رہتا ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن ذبح کیا جائے۔‘‘ 1. ترمذي، الجامع الصحيح، 4 : 101، کتاب الأضاحي، باب من العقيقة، رقم : 1522 2. أبوداؤد، السنن، 3 : 106، کتاب الضحايا، باب في العقيقة، رقم : 2837 3. ابن ماجه، السنن، 2 : 1056، کتاب الذبائح، باب العقيقة، رقم : 3165 سوال پیدا ہوتا ہے کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثتِ مبارکہ کے بعد کون سا عقیقہ کیا تھا؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے بعد اپنی ولادت اور میلاد کی خوشی و مسرت اور شکرانے میں بکرے ذبح کیے اور اِہتمامِ ضیافت کیا تھا کیونکہ عقیقہ دو (2) بار نہیں ہوتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف عقیقہ ہی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اعلانِ نبوت کے بعد کیا۔ اگر بالفرض عقیقہ ہی تسلیم کرلیاجائے تو بھی یہ خوشی میلاد ہی کی ہے۔ اگر ہم اسے عقیقہ ہی تصور کریں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ’’عقیقہ‘‘ کیا ہے؟ عقیقہ فی نفسہ ولادت پر اِظہار تشکر و اِمتنان ہے۔ اسے ولادت کی خوشی کی تقریب کہہ لیں یا تقریبِ میلاد، مفہوم ایک ہی ہے کہ ولادت کے موقع پر خوشی منائی جاتی ہے۔ اِمام جلال الدین سیوطی (849۔ 911ھ) نے اپنی کتاب ’’حسن المقصد فی عمل المولد (ص : 64، 65)‘‘ میں حافظ ابن حجر عسقلانی (773. 852ھ) کے دلائل کی تائید میں ایک اور استدلال پیش کیا ہے جو جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : وظهر لي تخريجه علي أصلٍ آخر، وهو ما أخرجه البيهقي، عن أنس رضي الله عنه أن النبي عق عن نفسه بعد النبوة. مع أنه قد ورد أن جده عبد المطلب عق عنه في سابع ولادته، والعقيقة لا تعاد مرة ثانية، فيحمل ذلک علي أن الذي فعله النبي صلي الله عليه وآله وسلم إظهارًا للشکر علي إيجاد اﷲ تعالي إياه، رحمة للعالمين وتشريفًا لأمته، کما کان يصلي علي نفسه، لذلک فيستحب لنا أيضًا إظهار الشکر بمولده باجتماع الإخوان، وإطعام الطعام، ونحو ذلک من وجوه القربات، وإظهار المسرات. ’’یوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالہ سے ایک اور دلیل مجھ پر ظاہر ہوئی ہے۔ وہ ہے جو امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے۔ اورعقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آپ کو اﷲ کی طرف سے رحمۃً للعالمین اور اپنی اُمت کے مشرف ہونے کی وجہ سے اپنی ولادت کی خوشی کے اظہار کے لیے خود عقیقہ کیا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشی کا اظہار کریں۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 64، 65 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206 3. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 367 4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 263، 264 5. نبهاني، حجة اﷲ علي العٰلمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237 اِمام سیوطی خود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا وہ حقیقتاً ایک عقیقہ ہی تھا، اور پھر خود ہی جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل وہ عقیقہ نہیں تھا۔ اگرچہ ’’عق عن نفسہ‘‘ کے الفاظ جو ولادت کی خوشی میں شکرانے کے طور پر جانور کی قربانی دینے سے عبارت ہیں۔ تکنیکی اِعتبار سے عقیقہ کے آئینہ دار ہیں تاہم وہ معروف معنوں میں روایتی طور پر عقیقہ نہیں تھا کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ کے دادا حضرت عبد المطلب رضی اللہ عنہ آپ کی ولادت کے ایک ہفتہ بعد ہی کر چکے تھے۔ پھر امام سیوطی اپنا شرعی موقف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عقیقہ زندگی میں صرف ایک بار ہوتا ہے اور اسے دہرایا نہیں جاتا۔ اگر کوئی کہے کہ ٹھیک ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ آپ کے دادا حضرت عبد المطلب کر چکے تھے لیکن عقیقہ کی وہ رسم دورِ جاہلیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثتِ مبارکہ سے پہلے ادا کی گئی تھی اس لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عقیقہ کا اِعادہ مناسب خیال کیا ہوگا۔ یہ سوچ جاہلانہ ہے۔ اگر دورِ جاہلیت سے متعلق اس نقطہ نظر کو درست مان لیا جائے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعثت کے بعد اُم المومنین حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا سے اپنے نکاح کی بھی تجدید کرنی چاہیے تھی۔ عقیقہ تو محض ایک صدقہ ہے جب کہ نکاح عقدِ ازدواج ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح پر مہر کی ادائیگی بھی حضرت ابو طالب نے اپنی جیب سے کی تھی۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو نکاح اور مہر کا اعادہ بھی ہونا چاہئے تھا۔ اِس لیے یہ نقطہ نظر درست نہیں کیوں کہ شریعتِ مطہرہ نے دورِ جاہلیت میں کیے گئے جائز کاموں کو سندِ قبولیت عطا کی ہے اور شرعی اَحکام نزولِ وحی کے بعد نافذ کیے گئے۔ جیسے ’’اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ (سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا)‘‘(القرآن، النساء، 4 : 22) کے تحت تو قبولِ اسلام کے بعد دورِ جاہلیت کے تمام گناہ بھی معاف ہوتے ہیں، ہر ہر گناہ کی الگ الگ توبہ درکار نہیں ہوتی، چہ جائے کہ اُمورِ صالحہ اور اُمورِ مستحسنہ، نکاح، عقیقہ، معاہدے اور ایسے تمام اُمورِ خیر برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے امام سیوطی فرماتے ہیں کہ دوبارہ عقیقہ کرنے کی کوئی ضرورت تھی نہ کوئی شرعی تقاضا تھا۔ پس اس پوری تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے بعد خود اپنا میلاد مناتے ہوئے بکرے ذبح کیے۔ |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | مفتی (24-09-11) |
|
|
#23 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، نعیم بھائی، جب آپ کے دلائل مکمل ہو جائیں تو اطلاع کر دیں پھر ان پر بات کر لیں گے ان شاء اللہ
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#24 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَئمہ و محدثین کی نظر میں قرآن و سنت سے جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تفصیلی دلائل پیش کرنے کے بعد اُن اَئمہ کرام کے حوالہ جات دیں گے جنہوں نے اِنعقادِ جشنِ میلاد کے اَحوال بیان کیے ہیں۔ پھر عرض کرتا چلوں کہ آئمہ ومحدثین کے عقائد و نظریات ، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد کے طور پر نہیں بلکہ آئمہ و محدثین کے عمل کو بطور تائید پیش کیا جارہا ہے۔ کیونکہ بنیاد تو براہ راست قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ تاریخی تناظر میں ان کے یہ تذکرے متعدد اسلامی اَدوار اور بلادِ اِسلامیہ سے متعلق ہیں۔ یہ کہنا مطلقاً غلط اور خلافِ حقیقت ہے کہ میلاد پر منعقد کی جانے والی تقریبات بدعت ہیں اور ان کی ابتداء برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے کی۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تقاریبِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد ہندوستان کے مسلمانوں کی اختراع ہے نہ یہ کوئی بدعت ہے۔ جشن میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آغاز حالیہ دور کے مسلمانوں نے نہیں کیا بلکہ یہ ایک ایسی تقریب سعید ہے جو حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت پورے عالم عرب میں صدیوں سے اِنعقاد پذیر ہوتی رہی ہے۔ بعد ازاں وہاں سے دیگر عجمی ملکوں میں بھی اِس تقریب کا آغاز ہوا۔ ذیل میں ہم اَکابر اَئمہ و محدثین کے حوالہ سے جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آغاز و اِرتقاء کا تذکرہ کرتے ہیں : 1۔ حجۃ الدین اِمام محمد بن ظفر المکی (497۔ 565ھ) حجۃ الدین اِمام ابو عبد اﷲ محمد بن عبد اﷲ بن ظفر المکی (1104۔ 1170ء) کہتے ہیں کہ الدر المنتظم میں ہے : وقد عمل المحبون للنبي صلي الله عليه وآله وسلم فرحاً بمولده الولائم، فمن ذلک ما عمله بالقاهرة المعزّية من الولائم الکبار الشيخ أبو الحسن المعروف بابن قُفل قدّس اﷲ تعالي سره، شيخ شيخنا أبي عبد اﷲ محمد بن النعمان، وعمل ذلک قبلُ جمال الدين العجمي الهمذاني. وممن عمل ذلک علي قدر وسعه يوسف الحجّار بمصر، وقد رأي النبي صلي الله عليه وآله وسلم وهو يحرّض يوسف المذکور علي عمل ذلک. ’’اہلِ محبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی میں دعوتِ طعام منعقد کرتے آئے ہیں۔ قاہرہ کے جن اَصحابِ محبت نے بڑی بڑی ضیافتوں کا انعقاد کیا ان میں شیخ ابو الحسن بھی ہیں جو کہ ابن قفل قدس اﷲ تعالیٰ سرہ کے نام سے مشہور ہیں اور ہمارے شیخ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان کے شیخ ہیں۔ یہ عمل مبارک جمال الدین عجمی ہمذانی نے بھی کیا اور مصر میں سے یوسف حجار نے اسے بہ قدرِ وسعت منعقد کیا اور پھر انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (خواب میں) دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوسف حجار کو عملِ مذکور کی ترغیب دے رہے تھے۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 363 2۔ شیخ معین الدین عمر بن محمد المَلّا (م 570ھ) شیخ معین الدین ابو حفص عمر بن محمد بن خضر اِربلی موصلی المَ. . لّا کے لقب سے معروف تھے۔ آپ موصل کی نہایت صالح، زاہد و عالم شخصیت تھے۔ وکان أول من فعل ذلک بالموصل الشيخ عمر بن محمد المَ. لّا أحد الصالحين المشهورين، وبه اقتدي في ذلک صاحب إربل وغيره رحمهم اﷲ تعالي. ’’اور شہر موصل میں سب سے پہلے میلاد شریف کا اِجتماع منعقد کرنے والے شیخ عمر بن محمد مَلّا تھے جن کا شمار مشہور صالحین میں ہوتا تھا۔ اور شاہِ اِربل و دیگر لوگوں نے اُنہی کی اِقتداء کی ہے۔ اﷲ اُن پر رحم فرمائے۔‘‘ 1. أبوشامة، الباعث علي إنکار البدع والحوادث : 24 2. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 365 3۔ علامہ اِبن جوزی (510۔ 579ھ) علامہ جمال الدین ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی بن جوزی (1116۔ 1201ء) کثیر کتب کے مصنف تھے۔ اُنہوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دو کتب تالیف کیں: 1. بيان الميلاد النبوي صلي الله عليه وآله وسلم 2. مولد العروس علامہ ابن جوزی بیان المیلاد النبوي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فرماتے ہیں : لا زال أهل الحرمين الشريفين والمصر واليمن والشام وسائر بلاد العرب من المشرق والمغرب يحتفلون بمجلس مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، ويفرحون بقدوم هلال شهر ربيع الأول ويهتمون اهتمامًا بليغًا علي السماع والقراة لمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وينالون بذالک أجرًا جزيلاً وفوزًا عظيمًا. ’’مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، مصر، شام، یمن الغرض شرق تا غرب تمام بلادِ عرب کے باشندے ہمیشہ سے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ چنانچہ ذکرِ میلاد پڑھنے اور سننے کا خصوصی اہتمام کرتے اور اس کے باعث بے پناہ اَجر و کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔‘‘ ابن جوزي، بيان الميلاد النبوي صلي الله عليه وآله وسلم : 58 علامہ ابن جوزی مولد العروس میں فرماتے ہیں : وجعل لمن فرح بمولده حجابًا من النار وسترًا، ومن أنفق في مولده درهمًا کان المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم له شافعًا ومشفعًا، وأخلف اﷲ عليه بکل درهم عشرًا. فيا بشري لکم أمة محمد لقد نلتم خيرًا کثيرًا في الدنيا وفي الأخري. فيا سعد من يعمل لأحمد مولدًا فيلقي الهناء والعز والخير والفخر، ويدخل جنات عدن بتيجان درّ تحتها خلع خضرًا. ’’اور ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے باعث خوش ہوا، اﷲ تعالیٰ نے (یہ خوشی) اس کے لیے آگ سے محفوظ رہنے کے لیے حجاب اور ڈھال بنادی۔ اور جس نے مولدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک درہم خرچ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے لیے شافع و مشفع ہوں گے۔ اور اﷲ تعالیٰ ہر درہم کے بدلہ میں اُسے دس درہم عطا فرمائے گا۔ ’’اے اُمتِ محمدیہ! تجھے بشارت کہ تونے دنیا و آخرت میں خیر کثیر حاصل کی۔ پس جو کوئی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو وہ خوش بخت ہے اور وہ خوشی، عزت، بھلائی اور فخر کو پالے گا۔ اور وہ جنت کے باغوں میں موتیوں سے مرصع تاج اور سبز لباس پہنے داخل ہوگا۔‘‘ ابن جوزي، مولد العروس : 11 علامہ ابن جوزی شاہِ اِربل مظفر ابو سعید کو کبری کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر میلاد شریف منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں : لولم يکن في ذلک إلا إرغام الشيطان وإدعام أهل الإيمان. ’’اِس نیک عمل میں سوائے شیطان کو ذلیل و رُسوا کرنے اور اہل ایمان کو تقویت پہنچانے کے کچھ نہیں۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 363 مراد یہ کہ محافلِ میلاد کا اِنعقاد شیطان کو رُسوا اور ذلیل و خوار کرتا ہے جب کہ اس سے مومنین کو تقویت ملتی ہے۔ 4۔ حافظ ابو الخطاب بن دحیہ کلبی (544۔ 633ھ) قاضی القضاۃ ابو العباس شمس الدین احمد بن محمد بن ابی بکر بن خلکان اپنی کتاب ’’وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان (3 : 448۔ 450)‘‘ میں حافظ ابو الخطاب بن دحیہ کلبی (544۔ 633ھ) کے سوانحی خاکہ میں لکھتے ہیں : کان من أعيان العلماء، ومشاهير الفضلاء، قدم من المغرب، فدخل الشام والعراق، واجتاز بإربل سنة أربع وستمائة، فوجد ملکها المعظم مظفر الدين بن زين الدين يعتني بالمولد النبوي، فعمل له کتاب ’’التنوير في مولد البشير النذير‘‘ وقرأه عليه بنفسه، فأجازه بألف دينار. قال : وقد سمعناه علي السلطان في ستة مجالس، في سنة خمس وعشرين وستمائة. ’’ان کا شمار بلند پایہ علماء اور مشہور محققین میں ہوتا تھا۔ وہ مراکش سے شام اور عراق کی سیاحت کے لیے روانہ ہوئے۔ 604ھ میں ان کا گزر اِربل کے علاقے سے ہوا جہاں ان کی ملاقات عظیم المرتبت سلطان مظفر الدین بن زین الدین سے ہوئی جو یوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتظامات میں مصروف تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ’’التنویر فی مولد البشیر النذیر‘‘ کتاب لکھی۔ انہوں نے یہ کتاب خود سلطان کو پڑھ کر سنائی۔ پس بادشاہ نے ان کی خدمت میں ایک ہزار دینار بطور انعام پیش کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے 625ھ میں سلطان کے ساتھ اسے چھ نشستوں میں سنا تھا۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 44، 45 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 200 3. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 236، 237 5۔ حافظ شمس الدین الجزری (م 660ھ) شیخ القراء حافظ شمس الدین محمد بن عبد اﷲ الجزری الشافعی (م 1262ء) اپنی تصنیف ’’عرف التعریف بالمولد الشریف‘‘ میں لکھتے ہیں : وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه يخفّف عني کل ليلة اثنين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء بقدر هذا. وأشار برأس إصبعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم و بإرضاعها له. فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القرآن بذمه جوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحد من أمة النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسر بمولده، وبذل ما تصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري إنما يکون جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم. ’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب ميں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ اُنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ (ہر پیر کو) میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے جسے میں پی لیتا ہوں اور یہ تخفیفِ عذاب میرے لیے اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمت محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔‘‘ 1. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206 2. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 65، 66 3. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 147 4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 260، 261 5. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 366، 367 6. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237، 238 آپ مزید لکھتے ہیں : من خواصه أنه أمان في ذلک العام، وبشري عاجلة بنيل البغية والمرام. ’’(محافلِ میلاد شریف کے) خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس سال میلاد منایا جائے اُس سال امن قائم رہتا ہے، نیز (یہ عمل) نیک مقاصد اور دلی خواہشات کی فوری تکمیل میں بشارت ہے۔‘‘ صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 365، 366 6۔ اِمام ابو شامہ (599۔ 665ھ) شارحِ صحیح مسلم اِمام نووی (631۔ 677ھ / 1233۔ 1278ء) کے شیخ امام ابو شامہ عبد الرحمان بن اسماعیل (1202۔ 1267ء) اپنی کتاب الباعث علی انکار البدع والحوادث میں لکھتے ہیں : ومن أحسن ما ابتدع في زماننا من هذا القبيل ما کان يفعل بمدينة إربل، جبرها اﷲ تعالي، کل عام في اليوم الموافق ليوم مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم من الصدقات والمعروف وإظهار الزينة والسرور، فإن ذالک مع ما فيه من الإحسان إلي الفقراء مُشعِر بمحبة النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وتعظيمه وجلالته في قلب فاعله وشکر اﷲ تعالي علي ما مَنّ به من إيجاد رسوله الذي أرسله رحمةً للعالمين صلي الله عليه وآله وسلم وعلي جميع الأنبياء والمرسلين. ’’اور اِسی (بدعتِ حسنہ) کے قبیل پر ہمارے زمانے میں اچھی بدعت کا آغاز شہر ’’اِربل‘‘ خدا تعالیٰ اُسے حفظ و امان عطا کرے۔ میں کیا گیا۔ اس بابرکت شہر میں ہر سال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر اِظہارِ فرحت و مسرت کے لیے صدقات و خیرات کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس سے جہاں ایک طرف غرباء و مساکین کا بھلا ہوتا ہے وہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ محبت کا پہلو بھی نکلتا ہے اور پتہ چلتا ہے کہ اِظہارِ شادمانی کرنے والے کے دل میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے حد تعظیم پائی جاتی ہے اور ان کی جلالت و عظمت کا تصور موجود ہے۔ گویا وہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہے کہ اس نے بے پایاں لطف و احسان فرمایا کہ اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (ان کی طرف) بھیجا جو تمام جہانوں کے لیے رحمتِ مجسم ہیں اور جمیع انبیاء و رُسل پر فضیلت رکھتے ہیں۔‘‘ 1. ابوشامه، الباعث علي إنکار البدع والحوادث : 23، 24 2. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 365 3. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 84 4. احمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 53 5. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 233 شیخ ابو شامہ شاہِ اِربل مظفر ابو سعید کو کبری کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر میلاد شریف منائے جانے اور اس پر خطیر رقم خرچ کیے جانے کے بارے میں اُس کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مثل هذا الحسن يُندب إليه ويُشکر فاعله ويُثني عليه. ’’اِس نیک عمل کو مستحب گردانا جائے گا اور اِس کے کرنے والے کا شکریہ ادا کیا جائے اور اِس پر اُس کی تعریف کی جائے۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 363 7۔ امام صدر الدین موہوب بن عمر الجزری (م 665ھ) قاضیء مصر صدر الدین موہوب بن عمر بن موہوب الجزری الشافعی فرماتے ہیں : هذه بدعة لا بأس بها، ولا تُکره البِدع إلا إذا راغمت السُّنة، وأما إذا لم تراغمها فلا تُکره، ويُثاب الإنسان بحسب قصده في إظهار السرور والفرح بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم . وقال في موضع آخر : هذا بدعة، ولکنها بدعة لا بأس بها، ولکن لا يجوز له أن يسأل الناس بل إن کان يَعلمْ أو يغلب علي ظنه أن نفس المسؤول تَطِيب بما يعطيه فالسؤال لذلک مباح أرجو أن لا ينتهي إلي الکراهة. ’’یہ بدعت ہے لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور بدعتِ مکروہ وہ ہے جس میں سنت کی بے حرمتی ہو۔ اگر یہ پہلو نہ پایا جائے تو (بدعت) مکروہ نہیں اور انسان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی حسبِ توفیق اور حسبِ اِرادہ مسرت و خوشی کے اظہار کے مطابق اجر و ثواب پاتا ہے۔ ’’اور ایک دوسرے مقام پر کہتے ہیں : یہ بدعت ہے لیکن اس بدعت میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اِس کے لیے لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں، اور اگر وہ یہ جانتا ہے یا اُسے غالب گمان ہے کہ اس کا سوال مسؤل کی طبیعت پر گراں نہیں گزرے گا اور وہ خوشی سے سوال کو پورا کرے گا تو ایسی صورت میں یہ سوال مباح ہوگا، اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ عمل مبنی بر کراہت نہیں ہوگا۔‘‘ صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 365، 366 8۔ اِمام ظہیر الدین جعفر التزمنتی (م 682ھ) اِمام ظہیر الدین جعفر بن یحیٰ بن جعفر التزمنتی الشافعی (م 1283ء) کہتے ہیں : هذا الفعل لم يقع في الصدر الأول من السلف الصالح مع تعظيمهم وحبهم له إعظاماً ومحبة لا يبلغ جَمعُنا الواحدَ منهم ولا ذرّة منه، وهي بدعة حسنة إذا قصد فاعلها جمع الصالحين والصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم وإطعام الطعام للفقراء والمساکين وهذا القدر يثاب عليه بهذا الشرط في کل وقت. ’’محافلِ میلاد کے انعقاد کا سلسلہ پہلی صدی ہجری میں شروع نہیں ہوا اگرچہ ہمارے اَسلاف صالحین عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر سرشار تھے کہ ہم سب کا عشق و محبت ان بزرگانِ دین میں سے کسی ایک شخص کے عشقِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں پہنچ سکتا۔ میلاد کا انعقاد بدعتِ حسنہ ہے، اگر اس کا اہتمام کرنے والا صالحین کو جمع کرنے، محفلِ درود و سلام اور فقراء و مساکین کے طعام کا بندوبست کرنے کا قصد کرتا ہے۔ اس شرط کے ساتھ جب بھی یہ عمل کیا جائے گا موجبِ ثواب ہوگا۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 364 9۔ علامہ ابن تیمیہ (661. 728ھ) علامہ تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ (1263۔ 1328ء) اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم میں لکھتے ہیں : وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. واﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا. ’’اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کرلیتے ہیں، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کے لیے۔ اور اﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 404 اِسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده، وتعظيمه لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد. ’’میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کے لیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 406 10۔ اِمام ابو عبد اﷲ بن الحاج المالکی (م 737ھ) امام ابو عبد اللہ ابن الحاج محمد بن محمد بن محمد المالکی (م 1336ء) اپنی کتاب ’’المدخل الی تنمیۃ الاعمال بتحسین النیات والتنبیہ علی کثیر من البدع المحدثۃ والعوائد المنتحلۃ‘‘ میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کے ذیل میں تحریر کرتے ہیں : أشار عليه الصلاة والسلام إلي فضيلة هذا الشهر العظيم بقوله للسائل الذي سأله عن صوم يوم الاثنين، فقال له عليه الصلاة والسلام : ذلک يوم ولدت فيه. فتشريف هذا اليوم متضمن لتشريف هذا الشهر الذي ولد فيه، فينبغي أن نحترمه حق الاحترام ونفضله بما فضل اﷲ به الأشهر الفاضلة، وهذا منها لقوله عليه الصلاة والسلام : أنا سيد ولد آدم ولا فخر. ولقوله عليه الصلاة والسلام : آدم ومن دونه تحت لوائي. وفضيلة الأزمنة والأمکنة بما خصَّها اﷲ تعالي من العبادات التي تفعل فيها، لما قد علم أن الأمکنة والأزمنة لا تتشرف لذاتها، وإنما يحصل لها التشريف بما خصّت به من المعاني. فانظر رحمنا اﷲ وإيّاک إلي ما خصَّ اﷲ تعالي به هذا الشهر الشريف ويوم الاثنين. ألا تري أن صوم هذا اليوم فيه فضل عظيم لأنه صلي الله عليه وآله وسلم ولد فيه؟ فعلي هذا فينبغي إذا دخل هذا الشهر الکريم أن يکرَّم ويعظَّم ويحترم الاحترام اللائق به وذلک بالاتّباع له صلي الله عليه وآله وسلم في کونه کان يخصّ الأوقات الفاضلة بزيادة فعل البر فيها وکثرة الخيرات. ألا تري إلي قول البخاري : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أجود الناس بالخير، وکان أجود ما يکون في رمضان. فنمتثل تعظيم الأوقات الفاضلة بما امتثله علي قدر استطاعتنا. فإن قال قائل : قد التزم عليه الصلاة والسلام في الأوقات الفاضلة ما التزمه مما قد علم، ولم يلتزم في هذا الشهر ما التزمه في غيره. فالجواب : أن المعني الذي لأجله لم يلتزم عليه الصلاة والسلام إنما هو ما قد عُلم من عادته الکريمة في کونه عليه الصلاة والسلام يريد التخفيف عن أمته، والرحمة لهم سيّما فيما کان يخصّه عليه الصلاة والسلام. ألا تري إلي قوله عليه الصلاة والسلام في حق حرم المدينة : اللّهم! إن إبراهيم حرّم مکة، وإني أحرّم المدينة بما حرّم به إبراهيم مکة ومثله معه؟ ثم إنه عليه الصلاة والسلام لم يشرّع في قتل صيده ولا في قطع شجره الجزاء، تخفيفاً علي أمته ورحمة لهم، فکان عليه الصلاة والسلام ينظر إلي ما هو من جهته. . . وإن کان فاضلاً في نفسه يترکه للتخفيف عنهم. ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنی ولادت کے) عظیم مہینے کی عظمت کا اِظہار ایک سائل کے جواب میں فرمایا جس نے پیر کے دن کا روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا : ’’یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔‘‘ ’’پس اس دن کی عظمت سے اُس ماہِ (ربیع الاول) کی عظمت معلوم ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کا کما حقہ احترام کریں اور اِس ماہِ مقدس کو اس چیز کے ساتھ فضیلت دیں جس چیز کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے فضیلت والے مہینوں کو فضیلت بخشی ہے۔ اِسی حوالے سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’میں اولادِ آدم کا سردار ہوں اور اس میں کوئی فخر نہیں۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک اور فرمان ہے : ’’روزِ محشر آدم علیہ السلام سمیت سب میرے پرچم تلے ہوں گے۔‘‘ ’’زمانوں اور مکانوں کی عظمتیں اور فضیلتیں ان عبادتوں کی وجہ سے ہیں جو ان (مہینوں) میں سرانجام دی جاتی ہیں۔ جیسا کہ یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ زمان و مکاں کی خود اپنی کوئی عظمت و رفعت نہیں بلکہ ان کی عظمت کا سبب وہ خصوصیات و امتیازات ہیں جن سے انہیں سرفراز فرمایا گیا۔ پس اس پر غور کریں، اﷲ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں اپنی رحمت سے سرفراز فرمائے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے اور پیر کے دن کو عظمت عطا کی۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اس دن روزہ رکھنا فضلِ عظیم ہے کیوں کہ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اس روز ہوئی۔ ’’لہٰذا لازم ہے کہ جب یہ مبارک مہینہ تشریف لائے تو اس کی بڑھ چڑھ کر تکریم و تعظیم اور ایسی توقیر و اِحترام کیا جائے جس کا یہ حق دار ہے۔ اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُس اُسوۂ مبارکہ کی تقلید ہوگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خصوصی (عظمت کے حامل) دنوں میں کثرت سے نیکی اور خیرات کے کام کرتے تھے۔ کیا تو (حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے) اِمام بخاری (194۔ 256ھ) کا روایت کردہ یہ قول نہیں دیکھتا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھلائی میں سب لوگوں سے زیادہ فیاض تھے اور ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت فیاضی اور دریا دلی کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ اس بناء پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فضیلت والے اوقات کی عزت افزائی فرماتے تھے ہمیں بھی فضیلت کے حامل اوقات (جیسے ماہِ ربیع الاول) کی بہ قدرِ اِستطاعت تعظیم کرنی چاہیے۔ ’’اگر کوئی کہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فضیلت والے اوقات کی عزت افزائی فرمائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی جیسا کہ اوپر جانا جا چکا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس ماہ کی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی اس طرح عزت افزائی نہیں کی جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے مہینوں کی کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُمت کے لیے تخفیف اور آسانی و راحت کا بہت خیال رہتا تھا بالخصوص ان چیزوں کے بارے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات مقدسہ سے متعلق تھیں۔ ’’کیا تو نے حرمتِ مدینہ کی بابت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول نہیں دیکھا : ’’اے اﷲ! بے شک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کو اُنہی چیزوں کی مثل حرم قرار دیتا ہوں جن سے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔‘‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اُمت کے لیے تخفیف اور رحمت کے سبب مدینہ منورہ کی حدود میں شکار کرنے اور درخت کاٹنے کی کوئی سزا مقرر نہیں فرمائی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ذاتِ مقدسہ سے متعلقہ کسی اَمر کو اس کی ذاتی فضیلت کے باوجود امت کی آسانی کے لیے ترک فرما دیتے۔‘‘ 1. ابن الحاج، المدخل إلي تنمية الأعمال بتحسين النيات والتنبيه علي کثير من البدع المحدثة والعوائد المنتحلة، 2 : 2 - 4 2. سيوطي، حسن المقصدفي عمل المولد : 57 - 59 3. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 203، 204 4. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 371، 372 ابن الحاج مالکی ایک جگہ لکھتے ہیں : فإن قال قائل : ما الحکمة في کونه عليه الصلاة والسلام خصّ مولده الکريم بشهر ربيع الأول وبيوم الاثنين منه علي الصحيح والمشهور عند أکثر العلماء، ولم يکن في شهر رمضان الذي أنزل فيه القرآن، وفيه ليلة القدر، واختص بفضائل عديدة، ولا في الأشهر الحرم التي جعل اﷲ لها الحرمة يوم خلق السموات والأرض ولا في ليلة النصف من شعبان، ولا في يوم الجمعة ولا في ليلتها؟ فالجواب من أربعة أوجه : الوجه الأول : ما ورد في الحديث من أن اﷲ خلق الشجر يوم الاثنين. وفي ذلک تنبيه عظيم وهو أن خلق الأقوات والأرزاق والفواکه والخيرات التي يتغذي بها بنو آدم ويحيون، ويتداوون وتنشرح صدورهم لرؤيتها وتطيب بها نفوسهم وتسکن بها خواطرهم عند رؤيتها لاطمئنان نفوسهم بتحصيل ما يبقي حياتهم علي ما جرت به العادة من حکمة الحکيم سبحانه وتعالي فوجوده صلي الله عليه وآله وسلم في هذا الشهر في هذا اليوم قرّة عين بسبب ما وجد من الخير العظيم والبرکة الشاملة لأمته صلوات اﷲ عليه وسلامه. الوجه الثاني : أن ظهوره عليه الصلاة والسلام في شهر ربيع فيه إشارة ظاهرة لمن تفطن إليها بالنسبة إلي اشتقاق لفظة ربيع إذ أن فيه تفاؤلاً حسنًا ببشارته لأمته عليه الصلاة والسلام والتفاؤل له أصل إشار إليه عليه الصلاة والسلام. وقد قال الشيخ الإمام أبو عبد الرحمن الصقلي : لکل إنسان من اسمه نصيب. الوجه الثالث : أن فصل الربيع أعدل الفصول وأحسنها. الوجه الرابع : أنه قد شاء الحکيم سبحانه وتعالي أنه عليه الصلاة والسلام تتشرف به الأزمنة والأماکن لا هو يتشرف بها بل يحصل للزمان والمکان الذي يباشره عليه الصلاة والسلام الفضيلة العظمي والمزية علي ما سواه من جنسه الا ما استثني من ذلک لأجل زيادة الأعمال فيها وغير ذلک. فلو ولد صلي الله عليه وآله وسلم في الأوقات المتقدم ذکرها لکان ظاهره يوهم أنه يتشرف بها. 1. ابن الحاج، المدخل إلي تنمية الأعمال بتحسين النيات والتنبيه علي کثير من البدع المحدثة والعوائد المنتحلة، 2 : 26 - 29 2. سيوطي، حسن المقصدفي عمل المولد : 67، 68 3. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 207 4. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 238 ’’اگر کوئی کہنے والا کہے : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ربیع الاول میں اور پیر کے دن ولادتِ مبارکہ کی حکمت کے بارے میں سوال کیا جائے کہ ان کی ولادت رمضان المبارک جو نزولِ قرآن کا مہینہ ہے اور جس میں لیلۃ القدر رکھی گئی ہے یا دوسرے مقدس مہینوں یا 15 شعبان المعظم اور جمعہ کے دن میں کیوں نہ ہوئی؟ ’’اس سوال کا جواب چار زاویہ ہائے نظر سے دیا جاسکتا ہے : 1۔ ذخیرۂ احادیث میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیر کے دن د رختوں کو پیدا کیا۔ اس میں ایک لطیف نکتہ مضمر ہے۔ وہ یہ کہ پیر کے دن اللہ تعالیٰ نے غذا، رزق، روزی اور پھلوں اور دیگر خیرات کی چیزوں کو پیدا فرمایا جن سے بنی نوع انسان غذا حاصل کرتا ہے اور زندہ رہتا ہے۔ اور ان کو بہ طور علاج بھی استعمال کرتا ہے اور انہیں دیکھ کر انہیں شرحِ صدر نصیب ہوتا ہے (دلی خوشی ہوتی ہے)۔ اور ان کے ذریعے ان کے نفوس کو خوشی و فرحت نصیب ہوتی ہے اور ان کے دلوں کو سکون میسر آتا ہے کیوں کہ (ان کے ذریعے) نفوس اس چیز کو حاصل کرکے جس پر ان کی زندگی کا دار و مدار ہوتا ہے۔ مطمئن ہوتے ہیں۔ جیسا کہ رب تعالیٰ کی سنت اور طریقہ ہے (کہ اس نے جانوں کو انہی چیزوں کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجودِ اَطہر اس مبارک مہینہ میں اس مبارک دن میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ہے بسبب اس کے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے سبب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو خیر کثیر اور عظیم برکتوں سے نوازا گیا۔ 2۔ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ربیع کے مہینہ میں ظہور اس میں واضح اشارہ ہے ہر اس کے لیے جو لفظ ربیع کے اشتقاق، معنی و مفہوم پر غور کرے کیوں کہ لفظ ربیع (موسم بہار) میں اشتقاقی طور پر ایک اچھا اور نیک شگون پایا جاتا ہے۔ اس میں نیک شگون یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت دی گئی۔ اور نیک شگونی کی کوئی نہ کوئی اصل ہوتی جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا۔ ابو عبد الرحمان صقلی بیان کرتے ہیں کہ ہر شخض کے لیے اس کے نام میں اس کا ایک حصہ رکھ دیا گیا ہے یعنی اس کے نام کے اثرات اس کی شخصیت پر مرتسم ہوتے ہیں۔ 3۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ربیع (بہار) تمام موسموں میں انتہائی معتدل اور حسین ہوتا ہے۔ اور اسی طرح رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت تمام شرائع میں انتہائی پر اعتدال اور آسان ترین ہے۔ 4۔ بے شک اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے چاہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مسعود سے زمان و مکان شرف حاصل کریں نہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن سے شرف پائیں۔ بلکہ وہ زمان و مکان جس میں براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہو اس کو فضیلتِ عظمیٰ اور دیگر زمان و مکان پر نمایاں ترین مقام و مرتبہ حاصل ہو جائے۔ سوائے اس زمان و مکاں کے جن کا اس لیے استثناء کیا گیا کہ ان میں اعمال کی کثرت کی جائے اور اس کے علاوہ باقی اسباب کی وجہ سے۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اوقات میں تشریف لاتے جن کا ذکر (اوپر اعتراض میں) گزر چکا ہے تو وہ بہ ظاہر اس وہم میں ڈال دیتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے متشرف ہوئے ہیں۔‘‘ 11۔ اِمام شمس الدین الذہبی (673۔ 748ھ) اِمام شمس الدین ابو عبد اﷲ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی (1274۔ 1348ء) کا شمار عالمِ اسلام کے عظیم محدثین و مؤرّخین میں ہوتا ہے۔ اُنہوں نے اُصولِ حدیث اور اَسماء الرجال کے فن میں بھرپور خدمات سرانجام دیں اور کئی کتب تالیف کی ہیں، مثلا تجرید الاصول فی احادیث الرسول، میزان الاعتدال فی نقد الرجال، المشتبۃ فی اسماء الرجال، طبقات الحفاظ وغیرہ۔ فنِ تاریخ میں اُن کی ایک ضخیم کتاب تاریخ الاسلام ووفیات المشاہیر والاعلام موجود ہے۔ اَسماء الرجال کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب سیر اعلام النبلاء میں رُواۃ کے حالاتِ زندگی پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب علمی حلقوں میں بلند پایہ مقام رکھتی ہے۔ امام ذہبی نے اس کتاب میں سلطان صلاح الدین ایوبی (532۔ 589ھ / 1138۔ 1193ء) کے بہنوئی اور اِربل کے بادشاہ سلطان مظفر الدین ابو سعید کوکبری (م 630ھ) کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے اور ان کی بہت تعریف و تحسین کی ہے۔ بادشاہ ابو سعید کوکبری بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والے اور مہمان نواز تھے۔ اُنہوں نے دائمی بیماروں اور اندھوں کے لیے چار مسکن تعمیر کروائے اور ہر پیر و جمعرات کو ان سے ملاقات و دریافت اَحوال کے لیے جاتے۔ اِسی طرح خواتین، یتیموں اور لاوارث بچوں کے لیے الگ الگ گھر تعمیر کروائے تھے۔ وہ بیماروں کی عیادت کے لیے باقاعدگی سے ہسپتال جاتے تھے۔ اَحناف اور شوافع کے لیے الگ الگ مدارس بنوائے اور صوفیاء کے لیے خانقاہیں تعمیر کروائی تھیں۔ اِمام ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ بادشاہ سنی العقیدہ، نیک دل اور متقی تھا۔ اُنہوں نے یہ واقعہ اپنی دو کتب ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ اور ’’تاریخ الاسلام ووفیات المشاہیر والاعلام‘‘ میں بالتفصیل درج کیا ہے۔ اِمام ذہبی ملک المظفر کے جشنِ میلاد منانے کے بارے میں لکھتے ہیں : و أما احتفاله بالمَوْلِد فيقصر التعبير عنه؛ کان الخلق يقصدونه من العراق والجزيرة . . . و يُخْرِجُ من البَقَر والإبل والغَنَم شيئاً کثيراً فَتُنْحَر وتُطْبَخ الألوان، ويَعْمَل عِدّة خِلَع للصُّوفية، ويتکلم الوُعّاظ في الميدان، فينفق أموالاً جزيلة. وقد جَمَعَ له ابن دحية ’’کتاب المولد‘‘ فأعطاه ألف دينار. وکان مُتواضعًا، خيراً، سُنّ. يّاً، يحب الفقهاء والمحدثين. . . . وقال سِبط الجوزي : کانَ مُظفّر الدِّين ينفق في السنة علي المولد ثلاث مائة ألف دينار، وعلي الخانقاه مائتي ألف دينار. . . . وقال : قال من حضر المولد مرّة عددت علي سماطه مائة فرس قشلميش، وخمسة آلاف رأس شوي، و عشرة آلاف دجاجة، مائة ألف زُبدية، و ثلاثين ألف صحن حلواء. ’’اَلفاظ ملک المظفر کے محفلِ میلاد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا انداز بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ جزیرۂ عرب اور عراق سے لوگ کشاں کشاں اس محفل میں شریک ہونے کے لیے آتے۔ ۔ ۔ اور کثیر تعداد میں گائیں، اونٹ اور بکریاں ذبح کی جاتیں اور انواع و اقسام کے کھانے پکائے جاتے۔ وہ صوفیاء کے لیے کثیر تعداد میں خلعتیں تیار کرواتا اور واعظین وسیع و عریض میدان میں خطابات کرتے اور وہ بہت زیادہ مال خیرات کرتا۔ ابن دحیہ نے اس کے لیے ’’میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کے موضوع پر کتاب تالیف کی تو اس نے اسے ایک ہزار دینار دیئے۔ وہ منکسر المزاج اور راسخ العقیدہ سنی تھا، فقہاء اور محدثین سے محبت کرتا تھا۔ سبط الجوزی کہتے ہیں : شاہ مظفر الدین ہر سال محفلِ میلاد پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا جب کہ خانقاہِ صوفیاء پر دو لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔ اس محفل میں شریک ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ اُس کی دعوتِ میلاد میں ایک سو (100) قشلمیش گھوڑوں پر سوار سلامی و اِستقبال کے لیے موجود تھے۔ میں نے اُس کے دستر خوان پر پانچ ہزار بھنی ہوئی سِریاں، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ دودھ سے بھرے مٹی کے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال پائے۔‘‘ 1. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 16 : 274، 275 2. ذهبي، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام (621 - 630ه)، 45 : 402 - 405 12. امام کمال الدین الادفوی (685۔ 748ھ) اِمام کمال الدین ابو الفضل جعفر بن ثعلب بن جعفر الادفوی (1286۔ 1347ء) ’’الطالع السعید الجامع لاسماء نجباء الصعید‘‘ میں فرماتے ہیں : حکي لنا صاحبنا العدل ناصر الدين محمود بن العماد أن أبا الطيب محمد بن إبراهيم السبتي المالکي نزيل قوص، أحد العلماء العاملين، کان يجوز بالمکتب في اليوم الذي ولد فيه النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فيقول : يا فقيه! هذا يوم سرور، اصرف الصبيان، فيصرفنا. وهذا منه دليل علي تقريره وعدم إنکاره، وهذا الرجل کان فقيهاً مالکيّا متفنّناً في علوم، متورّعاً، أخذ عنه أبو حيان وغيره، مات سنة خمس وتسعين وستمائة. ’’ہمارے ایک مہربان دوست ناصر الدین محمود بن عماد حکایت کرتے ہیں کہ بے شک ابو طیب محمد بن ابراہیم سبتی مالکی۔ جو قوص کے رہنے والے تھے اور صاحبِ عمل علماء میں سے تھے۔ اپنے دارا لعلوم میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے دن محفل منعقد کرتے اور مدرسے میں چھٹی کرتے۔ وہ (اساتذہ سے) کہتے : اے فقیہ! آج خوشی و مسرت کا دن ہے، بچوں کو چھوڑ دو۔ پس ہمیں چھوڑ دیا جاتا۔ ’’ان کا یہ عمل ان کے نزدیک میلاد کے اِثبات و جواز اور اِس کے عدم کے اِنکار پر دلیل و تائید ہے۔ یہ شخص (محمد بن ابراہیم) مالکیوں کے بہت بڑے فقیہ اور ماہرِ فن ہو گزرے ہیں جو بڑے زُہد و ورع کے مالک تھے۔ علامہ ابوحیان اور دیگر علماء نے ان سے اِکتسابِ فیض کیا ہے اور انہوں نے 695ھ میں وفات پائی۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 66، 67 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206 3. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 238 13۔ اِمام تقی الدین ابو الحسن السبکی (683۔ 756ھ) اِمام تقی الدین ابو الحسن علی بن عبد الکافی السبکی (1284۔ 1355ء) کے بارے میں شیخ اِسماعیل حقی (1063۔ 1137ھ) فرماتے ہیں: وقد اجتمع عند الإمام تقي الدين السبکي جمع کثير من علماء عصره، فأنشد منشد قول الصرصري في مدحه عليه السلام : قليل لمدح المصطفي الخط بالذهب علي ورق من خط أحسن من کتب وإن تنهض الأشراف عند سماعه قياما صفوفا أو جثيا علي الرکب 1. اِسماعيل حقي، تفسير روح البيان، 9 : 56 2. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون، 1 : 84 ’’اِمام تقی الدین سبکی کے ہاں اُن کے معاصر علماء کا ایک کثیر گروہ جمع ہوتا اور وہ سب مل کر مدحِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اِمام صرصری حنبلی کے درج ذیل اشعار پڑھتے : (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح میں چاندی کے ورق پر سونے کے پانی سے اچھے خوش نویس کے ہاتھ سے نہایت خوبصورت انداز میں لکھنا بھی کم ہے، اور یہ بھی کم ہے کہ دینی شرف والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر جمیل کے وقت صفیں بنا کر کھڑے ہوجائیں یا گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں۔) 14۔ اِمام عماد الدین بن کثیر (701۔ 774ھ) اِمام حافظ عماد الدین ابو الفداء اسماعیل بن کثیر (1301۔ 1373ء) ایک نام وَر مفسر، محدث، مؤرّخ اور فقیہ تھے۔ آپ کی تحریر کردہ ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ ایک مستند تفسیر ہے۔ آپ نے ’’جامع المسانید والسنن‘‘ میں اَحادیث کا ایک وسیع ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تاریخ کے میدان میں آپ کی ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ کے نام سے ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ اِس کتاب میں اُنہوں نے شاہِ اِربل ابو سعید المظفر کے جشنِ میلاد کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس کے علاوہ اِمام ابن کثیر نے ’’ذکر مولد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورضاعہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ بھی تالیف کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں : أول ما أرضعته ثويبة مولاة عمّه أبي لهب، وکانت قد بشرت عمه بميلاده فأعتقها عند ذلک، ولهذا لما رآه أخوه العباس بن عبد المطلب بعد ما مات، ورآه في شرّ حالة، فقال له : ما لقيت؟ فقال : لم ألق بعدکم خيراً، غير أني سقيت في هذه. وأشار إلي النقرة التي في الإبهام. بعتاقتي ثويبة. وأصل الحديث في الصحيحين. فلما کانت مولاته قد سقت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، من لبنها عاد نفع ذلک علي عمه أبي لهب، فسقي بسبب ذلک، مع أنه الّذي أنزل اﷲ في ذمّه سورة في القرآن تامة. ’’سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو لہب کی کنیز ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس چچا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوش خبری دی تو اُس نے (اِس خوشی میں) اُسی وقت اُسے آزاد کر دیا۔ پس جب اُس کے مرنے کے بعد اُس کے بھائی حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے اُسے خواب میں بری حالت میں دیکھا تو پوچھا : تیرا کیا حال ہے؟ پس اُس نے کہا : تم سے بچھڑنے کے بعد مجھے کوئی سکون نہیں ملا۔ اور اپنی شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔ سوائے اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے اِس سے پانی پلایا جاتا ہے۔ ’’اصل حدیث ’’صحیحین‘‘ میں ہے۔ ’’پس جب اُس کی خادمہ نے دودھ پلایا تو اُس کے دودھ پلانے کے نفع سے اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو لہب کو محروم نہ رکھا، بلکہ اِس وجہ سے (اُس پر فضل فرماتے ہوئے) ہمیشہ کے لیے اُس کی پیاس بجھانے کا اِنتظام فرما دیا حالاں کہ اِسی چچا کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی تھی۔‘‘ ابن کثير، ذکر مولد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ورضاعه : 28، 29 سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی شاہ ابوسعید المظفر کا جشنِ میلاد شاہ ابوسعید المظفر (م 630ھ) عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی (532۔ 589ھ / 1138۔ 1193ء) کے بہنوئی تھے۔ سلطان کی حقیقی ہمشیرہ ربیعہ خاتون ملک ابو سعید المظفر کے عقد میں تھیں اور سلطان بادشاہ سے بغایت درجہ محبت رکھتے تھے۔ وہ دونوں خدمتِ اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ دل و جان سے شریک تھے۔ بادشاہ خادمِ اسلام ہونے کے باوصف بہت متقی، پرہیزگار اور فیاض واقع ہوئے تھے۔ بادشاہ کا عظیم دینی و روحانی مقام اور خدمتِ اسلام کی تڑپ دیکھ کر ہی سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی ہمشیرہ ’ربیعہ خاتون‘ کی شادی ان سے کی تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے حوالے سے ملک ابو سعید المظفرکا یہ تعارف کرانے کے بعد امام ابن کثیر نے تین چار سطور میں موصوف کے سیرت وکردار، تقویٰ و پرہیزگاری اور دریا دلی پر روشنی ڈالی ہے اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تفصیلات شرح و بسط کے ساتھ رقم کی ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر بالتفصیل لکھا ہے کہ بادشاہ کس جوش و جذبہ اور مسرت و سرور سے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقریب کا اہتمام کیا کرتا تھا۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں : الملک المظفر أبو سعيد کوکبري بن زين الدين علي بن تبکتکين أحد الأجواد والسادات الکبراء والملوک الأمجاد، له آثار حسنة وقد عمر الجامع المظفري بسفح قاسيون، وکان قد همّ بسياقة الماء إليه من ماء برزة فمنعه المعظم من ذلک، واعتل بأنه قد يمر علي مقابر المسلمين بالسفوح، وکان يعمل المولد الشريف في ربيع الأول ويحتفل به احتفالاً هائلاً، وکان مع ذلک شهماً شجاعاً فاتکاً بطلاً عاقلاً عالماً عادلاً رحمه اﷲ وأکرم مثواه. وقد صنّف الشيخ أبو الخطاب بن دحية له مجلداً في المولد النبوي سمّاه ’’التنوير في مولد البشير النذير‘‘ فأجازه علي ذلک بألف دينار، وقد طالت مدته في الملک في زمان الدولة الصلاحية، وقد کان محاصراً عکا وإلي هذه السنة محمود السيرة والسريرة. قال السبط : حکي بعض من حضر سماط المظفر في بعض الموالد کان يمد في ذلک السماط خمسة آلاف رأس مشوي. وعشرة آلاف دجاجة، ومائة ألف زبدية، وثلاثين ألف صحن حلوي. ’’شاہ مظفر ابو سعید کو کبری بن زین الدین علی بن تبکتکین ایک سخی، عظیم سردار اور بزرگ بادشاہ تھا، جس نے اپنے بعد اچھی یادگاریں چھوڑیں۔ اس نے قاسیون کے دامن میں جامع مظفری تعمیر کروائی۔ وہ برزہ کے پانی کو اس کی طرف لانا چاہتا تھا تو معظم نے اسے اس کام سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ سفوح کے مقام پر مسلمانوں کے قبرستان سے گزرے گا۔ وہ ماہ ربیع الاول میں میلاد مناتا تھا اور عظیم الشان محفلِ میلاد منعقد کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہادر، دلیر، حملہ آور، جری، دانا، عالم اور عادل بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے اور اسے بلند رتبہ عطا فرمائے۔ شیخ ابو الخطاب ابن دحیہ نے اس کے لیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ رکھا۔ شاہ نے اس تصنیف پر اُسے ایک ہزار دینار انعام دیا۔ اس کی حکومت حکومتِ صلاحیہ کے زمانے تک رہی، اس نے عکا کا محاصرہ کیا اور اس سال تک وہ قابلِ تعریف سیرت و کردار اور قابلِ تعریف دل کا آدمی تھا۔ سبط نے بیان کیا ہے کہ مظفر کے دستر خوانِ میلاد پر حاضر ہونے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ اس میں پانچ ہزار بھنے ہوئے بکرے، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ مٹی کے دودھ سے بھرے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال ہوتے تھے۔‘‘ 1. ابن کثير، البداية والنهاية، 9 : 18 2. محبي، خلاصة الأثر في أعيان القرن الحادي عشر، 3 : 233 3. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 42. 44 4. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 200 5. أحمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 53، 54 اِس کے بعد امام ابن کثیر کی عبارت ملاحظہ فرمائیں : وکان يحضر عنده في المولد أعيان العلماء والصوفية فيخلع عليهم ويطلق لهم ويعمل للصوفية سماعًا من الظهر إلي العصر، ويرقص بنفسه معهم، وکانت له دار ضيافة للوافدين من أي جهة علي أي صفة. وکانت صدقاته في جميع القرب والطاعات علي الحرمين وغيرهما، ويتفک من الفرنج في کل سنة خلقًا من الأساري، حتي قيل إن جملة من استفکه من أيديهم ستون ألف أسير، قالت زوجته ربيعة خاتون بنت أيوب. وکان قد زوجه إياها أخوها صلاح الدين، لما کان معه علي عکا. قالت : کان قميصه لا يساوي خمسة دراهم فعاتبته بذلک، فقال : لبسي ثوبًا بخمسة وأتصدق بالباقي خير من أن ألبس ثوبًا مثمنًا وأدع الفقير المسکين، وکان يصرف علي المولد في کل سنة ثلاثمائة ألف دينار، وعلي دار الضيافة في کل سنة مائة ألف دينار. وعلي الحرمين والمياه بدرب الحجاز ثلاثين ألف دينار سوي صدقات السر، رحمه اﷲ تعالي، وکانت وفاته بقلعة إربل، وأوصي أن يحمل إلي مکة فلم يتفق فدفن بمشهد علي. ’’میلاد کے موقع پر اُس کے پاس بڑے بڑے علماء اور صوفیاء حاضر ہوتے تھے، وہ انہیں خلعتیں پہناتا اور عطیات پیش کرتا تھا اور صوفیاء کے لیے ظہر سے عصر تک سماع کراتا تھا اور خود بھی ان کے ساتھ رقص کرتا تھا۔ ہر خاص و عام کے لیے ایک دارِ ضیافت تھا اور وہ حرمین شریفین و دیگر علاقوں کے لیے صدقات دیتا تھا اور ہر سال بہت سے قیدیوں کو فرنگیوں سے چھڑاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس نے ان کے ہاتھ سے ساٹھ ہزار قیدیوں کو رہا کرایا۔ اس کی بیوی ربیعہ خاتون بنت ایوب کہتی ہے کہ اس کے ساتھ میرا نکاح میرے بھائی صلاح الدین ایوبی نے کرایا تھا۔ اس خاتون کا بیان ہے کہ شاہ کی قمیص پانچ دراہم کے برابر بھی نہ ہوتی تھی۔ پس میں نے اسے اس بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے : میرا پانچ درہم کے کپڑے کو پہننا اور باقی کو صدقہ کر دینا اس بات سے بہتر ہے کہ میں قیمتی کپڑا پہنوں اور فقراء اور مساکین کو چھوڑ دوں۔ اور وہ ہر سال محفل میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تین لاکھ دینار اور مہمان نوازی پر ایک لاکھ دینار اور حرمین شریفین اور حجاز کے راستے میں پانی پر خفیہ صدقات کے علاوہ تیس ہزار دینار خرچ کرتا تھا، رحمہ اﷲ تعالی۔ اس کی وفات قلعہ اِربل میں ہوئی اور اس نے وصیت کی کہ اسے مکہ لے جایا جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اِجتماع گاہ میں دفن کیا گیا۔‘‘ 1. ابن کثير، البداية والنهاية، 9 : 18 2. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 44 3. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 200 4. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 362، 363 5. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 236 شاہِ اِربل تقریباتِ میلاد پر تین لاکھ دینار خرچ کرتا تھا۔ امام ابن کثیر نے اتنی خطیر رقم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خرچ کرنے کی تحسین کی ہے اور ایک لفظ بھی تنقید اور اِعتراض کے طور پر نہیں لکھا۔ یاد رہے کہ ایک دینار دو پاؤنڈ کے برابر تھا اور اس طرح میلاد پر خرچ کی گئی رقم چھ لاکھ پاؤنڈ تک جا پہنچی تھی۔ دینار اور پاؤنڈ کا یہ موازنہ آج کے دور کا نہیں بلکہ آج سے آٹھ سو (800) سال قبل کا ہے۔ اگر آج کے زمانہ سے تقابل کیا جائے تو اُن دنوں ایک دینار کم و بیش ایک چوتھائی تولہ سونے کے برابر ہوتا تھا جو آج پاکستانی کرنسی میں قریباً چار ہزار روپے (4,000) روپے بنتا ہے اور اگر ایک دینار کی اُسی حساب سے قدر نکالی جائے تو یہ آج تقریبًا چالیس (40) پاؤنڈ بنتی ہے۔ اور اگر حساب کرتے ہوئے چالیس (40) کو تین لاکھ (300,000) سے ضرب دی جائے تو یہ رقم ایک اَرب بیس کروڑ (1,200,000,000) پاکستانی روپے کے لگ بھگ ہوگی۔ اور یہ محض ایک تخمینہ ہے۔ 15. اِمام برہان الدین بن جماعہ (725. 790ھ) اِمام برہان الدین ابو اِسحاق اِبراہیم بن عبد الرحیم بن اِبراہیم بن جماعہ الشافعی (1325۔ 1388ء) ایک نام وَر قاضی و مفسر تھے۔ آپ نے دس جلدوں پر مشتمل قرآن حکیم کی تفسیر لکھی۔ ملا علی قاری (م 1014ھ) ’’المورد الروی فی مولد النبوی ونسبہ الطاھر‘‘ میں آپ کے معمولاتِ میلاد شریف کی بابت لکھتے ہیں : فقد اتصل بنا أن الزاهد القدوة المعمر أبا إسحاق إبراهيم بن عبد الرحيم بن إبراهيم جماعة لما کان بالمدينة النبوية. علي ساکنها أفضل الصلاة وأکمل التحية. کان يعمل طعاماً في المولد النبوي، ويطعم الناس، ويقول : لو تمکنت عملت بطول الشهر کل يوم مولدا. ’’ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ زاہد و قدوہ معمر ابو اِسحاق بن اِبراہیم بن عبد الرحیم جب مدینۃ النبی۔ اُس کے ساکن پر افضل ترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ میں تھے تو میلاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے، اور فرماتے تھے : اگر میرے بس میں ہوتا تو پورا مہینہ ہر روز محفلِ میلاد کا اہتمام کرتا۔‘‘ ملا علي قاري، المورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ونسبه الطاهر : 17 16۔ زین الدین بن رجب الحنبلی (736۔ 795ھ) علامہ زین الدین عبد الرحمان بن اَحمد بن رجب حنبلی (1336۔ 1393ء) فقہ حنبلی کے معروف عالم اور کثیر التصانیف محقق تھے۔ اپنی کتاب لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف میں اُنہوں نے مختلف اِسلامی مہینوں کے فضائل اور ان میں کیے جانے والے اَعمال و وظائف مفصل بیان کیے ہیں۔ ماہِ ربیع الاوّل کے ذیل میں تین فصول قائم کی ہیں، جن میں سے دو فصول حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت اور واقعاتِ نبوت کے بیان پر مشتمل ہیں، جب کہ تیسری فصل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے واقعات کا ذکر ہے۔ ماہِ ربیع الاوّل کے واقعات پر مشتمل باب کا آغاز ہی اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد سے متعلق مختلف روایات سے کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں : خرّج الإمام أحمد من حديث العِرْباض بن سَارِيَةَ السُّلَمِي رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم، قال : إنّي عِند اﷲ في أُمّ الکتاب لَخاتمُ النّبِيّين، وإنّ آدم لَمُنجدلٌ في طينتهِ، وَسوف أنبئکم بتأْويل ذلک : دعوة أبي إبراهيم، (1) وبشارة عيسي قومه، (2) ورؤْيا أمّي الّتي رأت أنه خرج منها نورٌ أضاءت له قصور الشام، وکذلک أمهات النببين يَرَيْنَ. (3) ’’اَحمد بن حنبل نے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کی تخریج کی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں اللہ تعالیٰ کے ہاں لوحِ محفوظ میں اس وقت بھی خاتم الانبیاء تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ اور میں تمہیں ان کی تاویل بتاتا ہوں کہ میں اپنے جدِ امجد ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی اپنی قوم کو دینے والی بشارت کا نتیجہ ہوں، اور اپنی والدہ ماجدہ کے ان خوابوں کی تعبیر ہوں جس میں انہوں نے دیکھا کہ ان کے جسم اَطہر سے ایسا نور پیدا ہوا جس سے شام کے محلات بھی روشن ہو گئے۔ اور اسی طرح کے خواب اَنبیاء کی مائیں دیکھتی تھیں۔‘‘ (1) البقرة، 2 : 129 (2) الصف، 61 : 6 (3) 1. أحمد بن حنبل، المسند، 4 : 127، 128، رقم : 17190، 17191، 17203 2. ابن حبان، الصحيح، 14 : 312، رقم : 6404 3. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، 2 : 656، رقم : 4174 4. طبراني، المعجم الکبير، 18 : 253، رقم : 631 5. طبراني، مسند الشاميين، 2 : 340، رقم : 1455 6. ابن سعد، الطبقات الکبري، 1 : 149 7. هيثمي، موارد الظمآن إلي زوائد ابن حبان : 512، الرقم : 2093 8. هيثمي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، 8 : 223 9. عسقلاني، فتح الباري، 6 : 583 10. ابن کثير، البداية والنهاية، 2 : 321 بعد ازاں اُنہوں نے اِسی موضوع سے متعلق دیگر روایات ذکر کی ہیں، (1) جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہِ ربیع الاوّل میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے واقعات بیان کرنا ایک جائز، مستحسن اور عملِ خیر ہے۔ (1) ابن رجب حنبلي، لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف : 158. 216 17۔ اِمام ولي الدين ابو زرعہ العراقي (762۔ 826ھ) امام ولی الدین ابو زرعہ احمد بن عبد الرحیم بن حسین العراقی (1361۔ 1423ء) ایک نام وَر محدث و فقیہ تھے۔ اُن سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ محفلِ میلاد منعقد کرنا مستحب ہے یا مکروہ؟ یا اِس کے بارے میں کوئی باقاعدہ حکم موجود ہے جو قابلِ ذکر ہو اور اس کی پیروی کی جاسکتی ہو؟ آپ نے جواب دیا : إطعام الطعام مستحب في کل وقت، فکيف إذا انضم لذالک السرور بظهور نور النبوة في هذا الشهر الشريف، ولا نعلم ذالک من السلف، ولا يلزم من کونه بدعة کونه مکروهاً، فکم من بدعة مستحبة بل واجبة. ’’کھانا کھلانا ہر وقت مستحب ہے۔ اگر کسی موقع پر ربیع الاول شریف کے مہینے میں ظہورِ نبوت کی یادگار کے حوالے سے خوشی اور مسرت کے اِظہار کا اِضافہ کر دیا جائے تو اس سے یہ چیز کتنی بابرکت ہوجائے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ اَسلاف نے ایسا نہیں کیا اور یہ عمل بدعت ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ مکروہ ہو کیوں کہ بہت سی بدعات مستحب ہی نہیں بلکہ واجب ہوتی ہیں۔‘‘ علي بن إبراهيم، تشنيف الآذان بأسرار الآذان : 136 مضمون جاری ہے۔ آگے دیکھیے ۔ حصہ دوم ۔ |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | مفتی (18-11-11) |
|
|
#25 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آئمہ و محدثین تاریخ اسلام کی نظر میں (حصہ دوم) 18۔ حافظ شمس الدين محمد الدمشقی (777۔ 842ھ) حافظ شمس الدین محمد بن ناصر الدین دمشقی اپنی کتاب ’’مورد الصادی فی مولد الھادی‘‘ میں لکھتے ہیں : وقد صح أن أبالهب يخفّف عنه عذاب النار في مثل يوم الاثنين، لإعتاقه ثويبة سروراً بميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم. ’’یہ بات ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے ہر سوموار کو ابولہب کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔‘‘ پھر انہوں نے درج ذیل شعر پڑھے : إذا کان هذا کافرًا جاء ذمه وتبّت يداه في الجحيم مخلّداً أتي أنه في يوم الاثنين دائماً يخفّف عنه للسرور بأحمدا فما الظن بالعبد الذي طول عمره بأحمد مسرورًا ومات موحدًا 1۔ جب ابولہب جیسا کافر جس کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے اور جس کی مذمت میں قرآن مجید کی پوری سورت تَبَّتْ يَدَا۔ نازل ہوئی۔ 2۔ باوُجود اس کے جب سوموار کا دن آتا ہے تو احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ہمیشہ سے اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ 3۔ پس کیا خیال ہے اس بندے کے بارے میں جس نے تمام عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانے میں گزاری اور توحید کی حالت میں اُسے موت آئی! 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 66 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206 3. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 367 4. أحمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 54 5. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 238 19۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (773۔ 852ھ) شارحِ صحیح البخاری حافظ شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی (1372۔ 1449ء) نے عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی حیثیت واضح طور پر متحقق کی ہے اور یوم میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کی اِباحت پر دلیل قائم کی ہے۔ حافظ اِبن حجر عسقلانی کا اِستدلال نقل کرتے ہوئے اِمام جلال الدین سیوطی (849۔ 911ھ) لکھتے ہیں : وقد سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبوالفضل ابن حجر عن عمل المولد، فأجاب بما نصه : قال : وقد ظهر لي تخريجها علي أصل ثابت، وهو ما ثبت في الصحيحين من : ’’أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قدم المدينة، فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء، فسألهم، فقالوا : هو يوم أغرق اﷲ فيه فرعون، ونجي موسي، فنحن نصومه شکرًا ﷲ تعالي. فيستفاد منه فعل الشکر ﷲ تعالي علي ما منَّ به في يوم معين من إسداء نعمة، أو دفع نقمة، ويعاد ذلک في نظير ذلک اليوم من کل سنة. والشکر ﷲ تعالي يحصل بأنواع العبادات کالسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي صلي الله عليه وآله وسلم الذي هو نبي الرحمة في ذلک اليوم. وعلي هذا فينبغي أن يتحري اليوم بعينه، حتي يطابق قصة موسي عليه السلام في يوم عاشوراء. ومن لم يلاحظ ذلک لا يبالي بعمل المولد في أيّ يوم في الشهر، بل توسَّع قوم حتي نقلوه إلي يوم من السنة. وفيه ما فيه. فهذا ما يتعلق بأصل عمل المولد. وأما ما يُعمل فيه فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما تقدم ذکره من التلاوة، والإطعام، والصدقة، وإنشاد شيء من المدائح النبوية والزهدية المحرکة للقلوب إلي فعل الخيرات والعمل للآخرة. ’’شیخ الاسلام حافظ العصر ابو الفضل ابن حجر سے میلاد شریف کے عمل کے حوالے سے پوچھا گیا تو آپ نے اس کا جواب کچھ یوں دیا : ’’مجھے میلاد شریف کے بارے میں اصل تخریج کا پتہ چلا ہے۔ ’’صحیحین‘‘ سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس پر وہ عرض کناں ہوئے کہ اس دن اﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، سو ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر بجا لانے کے لیے اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ ’’اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی اِحسان و اِنعام کے عطا ہونے یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر کسی معین دن میں اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لانا اور ہر سال اس دن کی یاد تازہ کرنا مناسب تر ہے۔ ’’اﷲ تعالیٰ کا شکر نماز و سجدہ، روزہ، صدقہ اور تلاوتِ قرآن و دیگر عبادات کے ذریعہ بجا لایا جا سکتا ہے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے بڑھ کر اﷲ کی نعمتوں میں سے کون سی نعمت ہے؟ اس لیے اس دن ضرور شکرانہ بجا لانا چاہیے۔ ’’اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسی معین دن کو منایا جائے تاکہ یومِ عاشوراء کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مطابقت ہو۔ ’’اور اگر کوئی اس چیز کو ملحوظ نہ رکھے تو میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کو ماہ کے کسی بھی دن منانے میں حرج نہیں بلکہ بعض نے تو اسے یہاں تک وسیع کیا ہے کہ سال میں سے کوئی دن بھی منا لیا جائے۔ پس یہی ہے جو کہ عملِ مولد کی اصل سے متعلق ہے۔ ’’جب کہ وہ چیزیں جن پر عمل کیا جاتا ہے ضروری ہے کہ ان پر اکتفا کیا جائے جس سے شکرِ خداوندی سمجھ آئے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ (ان میں) ذکر، تلاوت، ضیافت، صدقہ، نعتیں، صوفیانہ کلام جو کہ دلوں کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرے اور آخرت کی یاد دلائے (وغیرہ جیسے اُمور شامل ہیں)۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 63، 64 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 205، 206 3. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 366 4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 263 5. احمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 54 6. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237 20۔ امام شمس الدین السخاوی (831۔ 902ھ) امام شمس الدین محمد بن عبد الرحمان سخاوی (1428۔ 1497ء) اپنے فتاوی میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے بارے میں فرماتے ہیں : وإنما حدث بعدها بالمقاصد الحسنة، والنية التي للإخلاص شاملة، ثم لا زال أهل الإسلام في سائر الأقطار والمدن العظام يحتفلون في شهر مولده صلي الله عليه وآله وسلم وشرف وکرم بعمل الولائم البديعة، والمطاعم المشتملة علي الأمور البهية والبديعة، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون المسرات ويزيدون في المبرات، بل يعتنون بقرابة مولده الکريم، ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عظيم عميم، بحيث کان مما جرب کما قال الإمام شمس الدين بن الجزري المقري، أنه أمان تام في ذالک العام وبشري تعجل بنيل ما ينبغي ويرام. ’’(محفلِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرونِ ثلاثہ کے بعد صرف نیک مقاصد کے لیے شروع ہوئی اور جہاں تک اس کے انعقاد میں نیت کا تعلق ہے تو وہ اخلاص پر مبنی تھی۔ پھر ہمیشہ سے جملہ اہلِ اسلام تمام ممالک اور بڑے بڑے شہروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مہینے میں محافل میلاد منعقد کرتے چلے آرہے ہیں اور اس کے معیار اور عزت و شرف کو عمدہ ضیافتوں اور خوبصورت طعام گاہوں (دستر خوانوں) کے ذریعے برقرار رکھا۔ اب بھی ماہِ میلاد کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں۔ بلکہ جونہی ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب آتا ہے خصوصی اہتمام شروع کر دیتے ہیں اور نتیجتاً اس ماہِ مقدس کی برکات اﷲ تعالیٰ کے بہت بڑے فضلِ عظیم کی صورت میں ان پر ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ بات تجرباتی عمل سے ثابت ہے جیسا کہ امام شمس الدین بن جزری مقری نے بیان کیا ہے کہ ماہِ میلاد کے اس سال مکمل طور پر حفظ و امان اور سلامتی رہتی ہے اور بہت جلد تمنائیں پوری ہونے کی بشارت ملتی ہے۔‘‘ 1. ملا علي قاري، المورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ونسبه الطاهر : 12، 13 2. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 362 3. حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 84 4. إسماعيل حقي، تفسير روح البيان، 9 : 56، 57 5. أحمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 53 6. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 233 21۔ اِمام جلال الدین سیوطی (849۔ 911ھ) امام جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر سیوطی (1445۔ 1505ء) کا شمار ان جلیل القدر محققین و مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تناظر میں بیش بہا معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کتاب ’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اِمام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اور کتاب ’’الحاوی للفتاوی‘‘ کا حصہ ہے۔ اِس حصہ میں نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ تقریبِ میلاد کا شرعی جواز دینے کے علاوہ میلاد کی تاریخی، مذہبی، فقہی اور شرعی حیثیت کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں اور کئی ائمہ کرام کے اِرشادات نقل کیے گئے ہیں۔ ذیل میں اس کتاب کے چند اہم اقتباسات درج کیے جاتے ہیں : 1. إن أصل عمل المولد الذي هو اجتماع الناس، وقراء ة ما تيسر من القرآن، ورواية الأخبار الواردة في مبدأ (أمر) النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وما وقع في مولده من الآيات، ثم يُمدّ لهم سماطاً يأکلونه، وينصرفون من غير زيادة علي ذلک من البدع (الحسنة) التي يثاب عليها صاحبها؛ لما فيه من تعظيم قدر النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وإظهار الفرح والاستبشار بمولده (صلي الله عليه وآله وسلم) الشريف. ’’رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانا جو کہ اصل میں لوگوں کے جمع ہو کر بہ قدرِ سہولت قرآن خوانی کرنے اور ان روایات کا تذکرہ کرنے سے عبارت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں منقول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے معجزات اور خارق العادت واقعات کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد ان کی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے اور وہ تناول ماحضر کرتے ہیں اور وہ اس بدعتِ حسنہ میں کسی اضافہ کے بغیر لوٹ جاتے ہیں اور اس اہتمام کرنے والے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پر اِظہارِ فرحت و مسرت کی بناء پر ثواب سے نوازا جاتا ہے۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصدفي عمل المولد : 41 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 199 3. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 367 4. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 236 2. إن ولادته صلي الله عليه وآله وسلم أعظم النعم علينا، ووفاته أعظم المصائب لنا، والشريعة حثّت علي إظهار شکر النعم والصبر والسکون والکتم عند المصائب، وقد أمر الشرع بالعقيقة عند الولادة وهي إظهار شکر وفرح بالمولود، ولم يأمر عند الموت بذبح ولا بغيره. بل نهي عن النياحة وإظهار الجزع، فدلّت قواعد الشريعة علي أنه يحسن في هذا الشهر إظهار الفرح بولادته صلي الله عليه وآله وسلم دون إظهار الحزن فيه بوفاته. ’’بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہمارے لیے نعمتِ عظمیٰ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہمارے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ تاہم شریعت نے نعمت پر اِظہارِ شکر کا حکم دیا ہے اور مصیبت پر صبر و سکون کرنے اور اُسے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ اِسی لیے شریعت نے ولادت کے موقع پر عقیقہ کا حکم دیا ہے اور یہ بچے کے پیدا ہونے پر اللہ کے شکر اور ولادت پر خوشی کے اِظہار کی ایک صورت ہے، لیکن موت کے وقت جانور ذبح کرنے جیسی کسی چیز کا حکم نہیں دیا بلکہ نوحہ اور جزع وغیرہ سے بھی منع کر دیا ہے۔ لہٰذا شریعت کے قواعد کا تقاضا ہے کہ ماہِ ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار کیا جائے نہ کہ وصال کی وجہ سے غم کا۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 54، 55 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 203 3. وظهر لي تخريجه علي أصلٍ آخر، وهو ما أخرجه البيهقي، عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقّ عن نفسه بعد النبوة. مع أنه قد ورد أن جده عبد المطلب عقّ عنه في سابع ولادته، والعقيقة لا تعاد مرة ثانية، فيحمل ذلک علي أن الذي فعله النبي صلي الله عليه وآله وسلم إظهارًا للشکر علي إيجاد اﷲ تعالي إياه، رحمة للعالمين وتشريفًا لأمته، کما کان يصلي علي نفسه، لذلک فيستحب لنا أيضًا إظهار الشکر بمولده باجتماع الإخوان، وإطعام الطعام، ونحو ذلک من وجوه القربات، وإظهار المسرات. ’’يوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالے سے ایک اور دلیل جو مجھ پر ظاہر ہوئی ہے وہ ہے جو امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے۔ اور عقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی چیز پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ اپنا عقیقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکرانے کا اِظہار تھا اس بات پر کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے شرف کا باعث بنایا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشی کا اظہار کریں۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 64، 65 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 206 3. صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 367 4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 263، 264 5. نبهاني، حجة اﷲ علي العٰلمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237 22. امام شہاب الدین ابو العباس قسطلانی (851۔ 923ھ) صاحبِ ’’ارشاد الساری لشرح صحیح البخاری‘‘ امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن ابی بکر قسطلانی (1448۔ 1517ء) میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے متعلق لکھتے ہیں : وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه خُفّف عنّي کل ليلة اثنين، وأمصّ من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار برأس أصبعه. وأن ذلک بإعتاقي لثويبة عندما بشّرتني بولادة النبي (صلي الله عليه وآله وسلم ) وبإرضاعها له. قال ابن الجوزي : فإذا کان هذا أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحّد من أمته يسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبّته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما يکون جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله العميم جنات النعيم. ولا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام، ويعملون الولائم، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون السرور ويزيدون في المبرات. ويعتنون بقراء ة مولده الکريم، ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عظيم. ومما جُرّب من خواصه أنه أمان في ذالک العام، وبشري عاجلة بنيل البغية والمرام، فرحم اﷲ امرءًا اتّخذ ليالي شهر مولده المبارک أعيادًا، ليکون أشد علة علي من في قلبه مرض وأعيا داء. ’’اور ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ پس اُس نے کہا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور اُنگلی کے اشارہ سے کہنے لگا کہ میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جزری کہتے ہیں : پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل سورت) نازل ہوئی ہے، تو اُمت محمدیہ کے اُس توحید پرست مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو (اپنے حبیب مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل) اپنے بے پناہ فضل کے ساتھ اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔ ’’ہمیشہ سے اہلِ اسلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مہینے میں محافلِ میلاد منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ دعوتوں کا اِہتمام کرتے ہیں اور اِس ماہِ (ربیع الاول) کی راتوں میں صدقات و خیرات کی تمام ممکنہ صورتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ اِظہارِ مسرت اور نیکیوں میں کثرت کرتے ہیں اور میلاد شریف کے چرچے کیے جاتے ہیں۔ ہر مسلمان میلاد شریف کی برکات سے بہر طور فیض یاب ہوتا ہے۔ ’’محافلِ میلاد شریف کے مجربات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس سال میلاد منایا جائے اُس سال امن قائم رہتا ہے، نیز (یہ عمل) نیک مقاصد اور دلی خواہشات کی فوری تکمیل میں بشارت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راتوں کو (بھی) بہ طور عید منا کر اس کی شدتِ مرض میں اضافہ کیا جس کے دل میں (بغضِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب پہلے ہی خطرناک) بیماری ہے۔‘‘ 1. قسطلاني، المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 147، 148 2. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 260. 263 3. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 233، 234 اِمام قسطلانی کی مذکورہ عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہِ ربیع الاوّل میں محافلِ میلاد منعقد کرنا، واقعاتِ میلاد پڑھنا، دعوتیں کرنا اور کثرت کے ساتھ صدقہ و خیرات کرنا، اَعمالِ صالحہ میں زیادتی کرنا اور خوشی و مسرت کا اِظہار کرنا ہمیشہ سے سلف صالحین کا شیوہ رہا ہے۔ اور ان اُمور کے وسیلہ سے اﷲ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمتوں و برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ 23۔ اِمام نصیر الدین بن الطباخ شیخ نصیر الدین بن طباخ کہتے ہیں : ليس هذا من السنن، ولکن إذا أنفق في هذا اليوم وأظهر السرور فرحاً بدخول النبي صلي الله عليه وآله وسلم في الوجود واتخذ السماع الخالي عن اجتماع المردان وإنشاد ما يثير نار الشهوة من العِشقيات والمشوّقات للشهوات الدنيويّة کالقدّ والخدّ والعين والحاجب، وإنشاد ما يشوّق إلي الآخرة ويزهّد في الدنيا فهذا اجتماع حسَن يُثاب قاصد ذلک وفاعله عليه، إلا أن سؤال الناس ما في أيديهم بذلک فقط بدون ضرورة وحاجة سؤالٌ مکروه، واجتماع الصلحاء فقط ليأکلوا ذلک الطعام ويذکروا اﷲ تعالي ويصلّوا علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يضاعف لهم القربات والمثوبات. ’’یہ عمل سنن میں سے تو نہیں ہے لیکن اگر کوئی اس دن مال خرچ کرتا ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مسعود کے ظہور پذیر ہونے کی خوشی مناتا ہے اور سماع کی محفل منعقد کرتا ہے جو کہ ایسا اجتماع نہ ہو جس میں لغویات جیسے شہوت انگیز گیت، دنیاوی عشق پر مبنی شاعری جس میں محبوب کے رُخساروں، آنکھوں، ابروؤں کا ذکر ہوتا ہے بلکہ ایسے اشعار ہوں جو کہ آخرت کی یاد دلائیں اور دنیا میں زُہد و تقوی اختیار کرنے کی طرف رغبت دلائیں تو ایسا اجتماع اچھا ہے اور ایسے اجتماع کرنے والا اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ مگر اس اجتماع میں لوگوں کا بغیر حاجت اور ضرورت کے سوال کرنا مکروہ ہے اور اس اجتماع میں صالح لوگوں کا جمع ہونا۔ تاکہ وہ یہ ضیافت کھائیں اور اللہ کا ذکر کریں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجیں۔ اُن کے اجر و ثواب اور قربتِ الٰہیہ میں مزید اِضافہ کا موجب ہے۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 364 24۔ امام جمال الدین بن عبد الرحمٰن الکتانی اِمام جمال الدین بن عبد الرحمٰن بن عبد الملک کتانی لکھتے ہیں : مولد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مبجّل مکرّم، قدّس يوم ولادته وشرّف وعظم وکان وجوده صلي الله عليه وآله وسلم مَبدأ سبب النجاة لمن اتبعه وتقليل حظّ جهنم لمن أعدّ لها لفرحه بولادته صلي الله عليه وآله وسلم وتمَّت برکاتُه علي من اهتدي به، فشابَه هذا اليومُ يوم الجمعة من حيث أن يوم الجمعة لا تُسَعّر فيه جهنم، هکذا ورد عنه صلي الله عليه وآله وسلم فمن المناسب إظهار السرور وإنفاق الميسور وإجابة من دعاه ربُّ الوليمة للحضور. ’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن بڑا ہی مقدس، بابرکت اور قابل تکریم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اَقدس کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماننے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائے تو وہ نجات و سعادت حاصل کرلیتا ہے، اور اگر ایسا شخص خوشی منائے جو مسلمان نہیں اور دوزخ میں رہنے کے لیے پیدا کیا گیا ہو تو اس کا عذاب کم ہوجاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق چلنے والوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکات مکمل ہوتی ہیں۔ یہ دن یوم جمعہ کے مشابہ ہے، اس حیثیت سے کہ یوم جمعہ میں جہنم نہیں بھڑکتی جس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے۔ اس لیے اس دن خوشی اور مسرت کا اظہار اور حسبِ توفیق خرچ کرنا اور دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنا بہت ہی مناسب ہے۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 364 25۔ اِمام یوسف بن علی بن زُریق الشامی علامہ ابن ظفر بیان فرماتے ہیں کہ یوسف بن علی بن زُریق شامی۔ جو کہ اَصلاً مصری ہیں اور مصر کے شہر حَجّار میں پیدا ہوئے، جہاں وہ اپنے گھر میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل کا انعقاد کرتے تھے۔ نے کہا : رأيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم في المنام منذ عشرين سنة، وکان لي أخ في اﷲ تعاليٰ يقال له : الشيخ أبوبکر الحجّار، فرأيت کأنني وأبا بکر هذا بين يدي النبي صلي الله عليه وآله وسلم جالسين، فأمسک أبوبکر لحية نفسه وفرَقها نصفين، وذکر للنبي صلي الله عليه وآله وسلم کلاماً لم أفهمه. فقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم مجيباً له : لولا هذا لکانت هذه في النار. ودار إليّ، وقال : لأضْربنک. وکان بيده قضيب، فقلت : لأيّ شيء يا رسول اﷲ؟ فقال : حتي لا تُبطل المولد ولا السّنن. قال يوسف : فعملته منذ عشرين سنة إلي الآن. قال : وسمعت يوسف المذکور، يقول : سمعت أخي أبابکر الحجار يقول : سمعت منصورا النشار يقول : رأيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم في المنام يقول لي : قل له : لا يُبطله. يعني المولد ما عليک ممن أکل وممن لم يأکل. قال : وسمعت شيخنا أبا عبد اﷲ بن أبي محمد النعمان يقول : سمعت الشيخ أبا موسي الزرهُوني يقول : رأيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم في النوم فذکرت له ما يقوله الفقهاءُ في عمل الولائم في المولد. فقال صلي الله عليه وآله وسلم : من فَرِح بنا فرِحْنا به. ’’میں نے بیس سال قبل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت کی، شیخ ابو بکر حجار میرا دینی بھائی ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں اور ابو بکر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہیں۔ چنانچہ ابو بکر حجار نے خود اپنی داڑھی پکڑی اور اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی کلام کیا جو میں نہ سمجھ پایا۔ پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا : اگر یہ نہ ہوتا تو یہ آگ میں ہوتی اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا : میں تمہیں ضرور سزا دوں گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی، پس میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تاکہ نہ میلاد شریف کا اِہتمام ترک کیا جائے اور نہ سنتوں کا۔ ’’یوسف کہتے ہیں کہ (اس خواب کے باعث) میں گزشتہ بیس سالوں سے آج کے دن تک مسلسل میلاد مناتا آرہا ہوں۔ ’’(ابن ظفر) کہتے ہیں کہ میں نے انہی یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں نے اپنے بھائی ابوبکر حجار سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے منصور نشار کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرما رہے تھے کہ میں اسے (یعنی یوسف بن علی) کو کہوں کہ وہ یہ عمل (میلاد کی خوشی میں دعوتِ طعام) ترک نہ کرے، کوئی اس میں کچھ کھائے یا نہ کھائے تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ (اِبن ظفر) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ ابو عبد اللہ بن ابی محمد نعمان کو سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ ابو موسیٰ زرہونی کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو میں نے وہ تمام باتیں ذکر کر دیں جو کہ فقہاء میلاد کی ضیافت کے بارے میں کہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو ہم سے خوش ہوتا ہے ہم اس سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘ صالحي، سبل الهدي والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 363 26۔ اِمام محمد بن یوسف الصالحی الشامی (م 942ھ) اِمام ابو عبد اﷲ محمد بن یوسف بن علی بن یوسف صالحی شامی (م 1536ء) نے سیرتِ طیبہ کی معروف و ضخیم کتاب ’’سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العباد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کی پہلی جلد میں میلاد شریف منانے، اِجتماع منعقد کرنے اور اِس بابت علماء و ائمہ کے اَقوال و طریقہ کے بیان پر مشتمل پورا ایک باب قلم بند کیا ہے۔ ہم نے باب ھذا میں مختلف جگہوں پر ان کی کتاب کے حوالہ جات بھی دیے ہیں۔ 27۔ اِمام ابن حجر ہیتمی المکی (909۔ 973ھ) اِمام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی مکی (1503۔ 1566ء) سے پوچھا گیا کہ فی زمانہ منعقد ہونے والی محافلِ میلاد اور محافلِ اَذکار سنت ہیں یا نفل یا بدعت؟ تو اُنہوں نے جواب دیا : الموالد والأذکار التي تفعل عندنا أکثرها مشتمل علي خير، کصدقة، وذکر، وصلاة وسلام علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ومدحه. ’’ہمارے ہاں میلاد و اَذکار کی جو محفلیں منعقد ہوتی ہیں وہ زیادہ تر نیک کاموں پر مشتمل ہوتی ہیں، مثلاً ان میں صدقات دیئے جاتے ہیں (یعنی غرباء کی اِمداد کی جاتی ہے)، ذِکر کیا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھا جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح کی جاتی ہے۔‘‘ هيتمي، الفتاوي الحديثية : 202 ابن حجر ہیتمی مکی نے میلاد شریف پر ’’مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ نامی ایک رِسالہ بھی تالیف کیا ہے۔ اِس میں آپ لکھتے ہیں : أول من أرضعته ثويبة مولاة عمّه أبي لهب، أعتقها لما بشرته بولادته فخفّف اﷲ عنه من عذابه کل ليلة اثنين جزاء لفرحه فيها بمولده صلي الله عليه وآله وسلم. ’’سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو لہب کی کنیز ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ جب اُس (ثویبہ) نے اُسے (ابو لہب کو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوش خبری سنائی تو اُس نے اُسے آزاد کر دیا۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ہر سوموار کی رات ابولہب کے عذاب میں تخفیف کر دی اس لیے کہ اُس نے حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا سن کر خوشی کا اِظہار کیا تھا۔‘‘ هيتمي، مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 27 28۔ امام محمد بن جار اﷲ بن ظہیرہ الحنفی (م 986ھ) اِمام جمال الدین محمد جار اﷲ بن محمد نور الدین بن ظہیرہ قرشی حنفی (م 1587ء) ’’الجامع اللطیف فی فضل مکۃ واھلھا وبناء البیت الشریف‘‘ میں اہلِ مکہ کا جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا معمول یوں بیان کرتے ہیں : وجرت العادة بمکة ليلة الثاني عشر من ربيع الأول في کل عام أن قاضي مکة الشافعي يتهيّأ لزيارة هذا المحل الشريف بعد صلاة المغرب في جمع عظيم، منهم الثلاثة القضاة وأکثر الأعيان من الفقهاء والفضلاء، وذوي البيوت بفوانيس کثيرة وشموع عظيمة وزحام عظيم. ويدعي فيه للسلطان ولأمير مکة، وللقاضي الشافعي بعد تقدم خطبة مناسبة للمقام، ثم يعود منه إلي المسجد الحرام قبيل العشاء، ويجلس خلف مقام الخليل عليه السلام بإزاء قبة الفراشين، ويدعو الداعي لمن ذکر آنفًا بحضور القضاة وأکثر الفقهاء. ثم يصلون العشاء وينصرفون، ولم أقف علي أول من سن ذالک، سألت مؤرخي العصر فلم أجد عندهم علمًا بذالک. ’’ہر سال مکہ مکرمہ میں بارہ ربیع الاول کی رات اہل مکہ کا یہ معمول ہے کہ قاضی مکہ جو کہ شافعی ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد لوگوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ مولد شریف کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں تینوں مذاہبِ فقہ کے قاضی، اکثر فقہاء، فضلاء اور اہل شہر ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتی ہیں۔ وہاں جا کر مولد شریف کے موضوع پر خطبہ دینے کے بعد بادشاہِ وقت، امیرِ مکہ اور شافعی قاضی کے لیے (منتظم ہونے کی وجہ سے) دعا کی جاتی ہے۔ پھر وہ وہاں سے نمازِ عشاء سے تھوڑا پہلے مسجد حرام میں آجاتے ہیں اور صاحبانِ فراش کے قبہ کے مقابل مقامِ ابراہیم کے پیچھے بیٹھتے ہیں۔ بعد ازاں دعا کرنے والا کثیر فقہاء اور قضاۃ کی موجودگی میں دعا کا کہنے والوں کے لیے خصوصی دعا کرتا ہے اور پھر عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے الوداع ہو جاتے ہیں۔ (مصنف فرماتے ہیں کہ) مجھے علم نہیں کہ یہ سلسلہ کس نے شروع کیا تھا اور بہت سے ہم عصر مؤرّخین سے پوچھنے کے باوُجود اس کی تاریخ کا پتہ نہیں چل سکا۔‘‘ ابن ظهيره، الجامع اللطيف في فضل مکة وأهلها وبناء البيت الشريف : 201، 202 29۔ علامہ قطب الدین الحنفی (م 988ھ) علامہ قطب الدین حنفی نے ’’کتاب الاعلام باعلام بیت اﷲ الحرام فی تاریخ مکۃ المشرفۃ‘‘ میں اہلِ مکہ کی محافلِ میلاد کی بابت تفصیل سے لکھا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا ہے کہ اہلِ مکہ صدیوں سے جشنِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناتے رہے ہیں : يزار مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم المکاني في الليلة الثانية عشر من شهر ربيع الأول في کل عام، فيجتمع الفقهاء والأعيان علي نظام المسجد الحرام والقضاة الأربعة بمکة المشرفة بعد صلاة المغرب بالشموع الکثيرة والمفرغات والفوانيس والمشاغل وجميع المشائخ مع طوائفهم بالأعلام الکثيرة ويخرجون من المسجد إلي سوق الليل ويمشون فيه إلي محل المولد الشريف بازدحام ويخطب فيه شخص ويدعو للسلطنة الشريفة، ثم يعودون إلي المسجد الحرام ويجلسون صفوفًا في وسط المسجد من جهة الباب الشريف خلف مقام الشافعية ويقف رئيس زمزم بين يدي ناظر الحرم الشريف والقضاة ويدعو للسلطان ويلبسه الناظر خلعة ويلبس شيخ الفراشين خلعة. ثم يؤذن للعشاء ويصلي الناس علي عادتهم، ثم يمشي الفقهاء مع ناظر الحرم إلي الباب الذي يخرج منه من المسجد، ثم يتفرقون. وهذه من أعظم مواکب ناظر الحرم الشريف بمکة المشرفة ويأتي الناس من البدو والحضر وأهل جدة، وسکان الأودية في تلک الليلة ويفرحون بها. ’’ہر سال باقاعدگی سے بارہ ربیع الاول کی رات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کی جاتی ہے۔ (تمام علاقوں سے) فقہاء، گورنر اور چاروں مذاہب کے قاضی مغرب کی نماز کے بعد مسجد حرام میں اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں کثیر تعداد میں شمعیں، فانوس اور مشعلیں ہوتیں ہیں۔ یہ (مشعل بردار) جلوس کی شکل میں مسجد سے نکل کر سوق اللیل سے گزرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ پھر ایک عالم دین وہاں خطاب کرتا ہے اور اس سلطنتِ شریفہ کے لیے دعا کرتا ہے۔ پھر تمام لوگ دوبارہ مسجد حرام میں آنے کے بعد باب شریف کی طرف رُخ کرکے مقامِ شافعیہ کے پیچھے مسجد کے وسط میں بیٹھ جاتے ہیں اور رئیسِ زَم زَم حرم شریف کے نگران کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ بعدازاں قاضی بادشاہِ وقت کو بلاتے ہیں، حرم شریف کا نگران اس کی دستار بندی کرتا ہے اور صاحبانِ فراش کے شیخ کو بھی خلعت سے نوازتا ہے۔ پھر عشاء کی اذان ہوتی اور لوگ اپنے طریقہ کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر حرم پاک کے نگران کی معیت میں مسجد سے باہر جانے والے دروازے کی طرف فقہاء آتے اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا اجتماع ہوتا کہ دور دراز دیہاتوں، شہروں حتیٰ کہ جدہ کے لوگ بھی اس محفل میں شریک ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اِظہار کرتے تھے۔‘‘ قطب الدين، کتاب الإعلام بأعلام بيت اﷲ الحرام في تاريخ مکة المشرفة : 355، 356 30۔ ملا علی القاری کی تحقیق (م 1014ھ) نام وَر حنفی محدّث اور فقیہ، ’’شرح الشفا‘‘ اور ’’مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ کے مصنف ملا علی بن سلطان ہروی قاری (م 1606ء) نے بھی میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک گراں قدر کتاب ’’المورد الروي فی مولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ونسبہ الطاھر‘‘ مرتب کی ہے۔ اِس میں میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواز اور عالم عرب و عجم میں اِنعقاد محافلِ میلاد کو اسلامی و تاریخی تناظر میں انتہائی مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس کتاب میں ایک مقام پر ملا علی قاری لکھتے ہیں : وفي قوله تعالي : لَقَدْ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ(1) إشعار بذلک وإيماء إلي تعظيم وقت مجيئه إلي هنالک. قال : وعلي هذا فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما ذکر، وأما ما يتبعه من السماع واللهو وغيرهما فينبغي أن يقال ما کان من ذلک مباحًا بحيث يعين علي السرور بذلک اليوم فلا بأس بإلحاقه، وما کان حرامًا أو مکروها فيمنع. وکذا ما کان فيه خلاف، بل نحسن في أيام الشهر کلها و لياليه يعني کما جاء عن ابن جماعة تمنيه فقد اتصل بنا أن الزاهد القدوة المعمر أبا إسحاق إبراهيم بن عبد الرحيم بن إبراهيم بن جماعة لما کان بالمدينة النبوية علي ساکنها أفضل الصلاة وأکمل التحيّة کان يعمل طعامًا في المولد النبوي ويطعم الناس ويقول : لو تمکنت عملت بطول الشهر کل يوم مولدًا. قلت : وأنا لما عجزت عن الضيافة الصورية کتبت هذه الأوراق لتصير ضيافة معنوية نورية مستمرة علي صفحات الدهر غير مختصة بالسنة والشهر وسميته : بالمورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم .(2) ’’فرمانِ باری تعالی۔ بے شک تمہارے پاس (ایک باعظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ میں یہی خبر و اشارہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت کی تعظیم بجا لائی جائے اور اس لیے ضروری ہے کہ اظہارِ تشکر میں مذکورہ صورتوں پر اکتفا کیا جائے۔ جہاں تک سماع اور کھیل کود کا تعلق ہے تو کہنا چاہیے کہ اس میں سے جو مباح اور جائز ہے اور اس دن کی خوشی میں ممدو معاون ہے تو اُسے میلاد کا حصہ بنانے میں کوئی حرج نہیں اور جو حرام اور مکروہ ہے اس سے منع کیا جائے۔ یونہی جس میں اختلاف ہے بلکہ ہم تو اس مہینے میں تمام شب و روز میں یہ عمل جاری رکھتے ہیں جیسا کہ ابن جماعہ نے فرمایا۔ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ زاہد، قدوہ، معمر ابو اسحاق ابراہیم بن عبدالرحیم بن ابراہیم بن جماعہ جب مدینۃ النبی۔ اُس کے ساکن پر افضل ترین درود اور کامل ترین سلام ہو۔ میں تھے تو میلادِ نبوی کے موقع پر کھانا تیار کرکے لوگوں کو کھلاتے اور فرماتے : اگر میرے بس میں ہوتا تو پورا مہینہ ہر روز محفلِ میلاد کا اہتمام کرتا۔ ’’میں کہتا ہوں : جب میں ظاہری دعوت و ضیافت سے عاجز ہوں تو یہ اَوراق میں نے لکھ دیے تاکہ میری طرف سے یہ معنوی و نوری ضیافت ہو جائے جو زمانہ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہے، محض کسی سال یا مہینے کے ساتھ ہی خاص نہ ہو۔ اور میں نے اس کتاب کا نام ’’المورد الروي في مولد النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ رکھا ہے۔‘‘ ملا علي قاري، المورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ونسبه الطاهر : 17 دوسرے مقام پر لکھتے ہیں : وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه خُفّف عنّي کل ليلة اثنتين، فأمصّ من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار إلي رأس أصابعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له. قال ابن الجوزي : فإذا کان هذا أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فما حال المسلم الموحد من أمته يُسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما يکون جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله العميم جنات النعيم. ’’اور ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ پس اُس نے کہا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور اُنگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جوزی (510۔ 579ھ) کہتے ہیں : پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں جب اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل سورت) نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس توحید پرست مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو (اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل) اپنے بے پناہ فضل کے ساتھ اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔‘‘ ملا علي قاري، المورد الروي في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ونسبه الطاهر : 42، 43 31۔ حضرت مجدد الف ثانی (971۔ 1034ھ) امام ربانی شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی (1564۔ 1624ء) اپنے ’’مکتوبات‘‘ میں فرماتے ہیں : نفس قرآں خواندن بصوتِ حسن و در قصائد نعت و منقبت خواندن چہ مضائقہ است؟ ممنوع تحریف و تغییر حروفِ قرآن است، والتزام رعایۃ مقامات نغمہ و تردید صوت بآں، بہ طریق الحان با تصفیق مناسب آن کہ در شعر نیز غیر مباح است. اگر بہ نہجے خوانند کہ تحریفِ کلمات قرآنی نشود. . . چہ مانع است؟ ’’اچھی آواز میں قرآن حکیم کی تلاوت کرنے، قصیدے اور منقبتیں پڑھنے میں کیا حرج ہے؟ ممنوع تو صرف یہ ہے کہ قرآن مجید کے حروف کو تبدیل و تحریف کیا جائے اور اِلحان کے طریق سے آواز پھیرنا اور اس کے مناسب تالیاں بجانا جو کہ شعر میں بھی ناجائز ہے۔ اگر ایسے طریقہ سے مولود پڑھیں کہ قرآنی کلمات میں تحریف واقع نہ ہو اور قصائد پڑھنے میں مذکورہ (ممنوعہ) اَوامر نہ پائے جائیں تو پھر کون سا اَمر مانع ہے؟‘‘ مجدد الف ثاني، مکتوبات، دفتر سوم، مکتوب نمبر : 72 32۔ اِمام علی بن اِبراہیم الحلبی (975۔ 1044ھ) اِمام نور الدین علی بن ابراہیم بن احمد بن علی بن عمر بن برہان الدین حلبی قاہری شافعی نہایت بلند رُتبہ عالم اور مقبول و مشہور مشائخ میں سے ہیں۔ اُن کے مدلل علم کی وجہ سے اُنہیں امام کبیر اور علامۂ زماں کہا گیا ہے۔ اُن کے معاصرین میں سے کوئی ان کے پائے کا نہ تھا۔ آپ بہت سی بلند پایہ و مقبول کتب کے مصنف و شارح ہیں۔ آپ کی عظیم ترین کتاب سیرتِ طیبہ پر ’’انسان العیون فی سیرۃ الامین المامون‘‘ ہے جو کہ ’’السیرۃ الحلبیۃ‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اُنہوں نے اِس کتاب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد شریف منانے پر دلائل دیتے ہوئے اِس کا جائز اور مستحب ہونا ثابت کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : والحاصل أن البدعة الحسنة متّفق علي ندبها، وعمل المولد واجتماع الناس له کذلک أي بدعة حسنة. ’’حاصلِ کلام یہ ہے کہ بدعتِ حسنہ کا جواز و اِستحباب متفقہ ہے (اس میں کوئی اِختلاف نہیں) اور اِسی طرح میلاد شریف منانے اور اس کے لیے لوگوں کے جمع ہونے کا عمل ہے، یعنی یہ بھی بدعتِ حسنہ (جائز اور مستحب) اَمر ہے۔‘‘ حلبي، إنسان العيون في سيرة الأمين المامون، 1 : 84 33۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958۔ 1052ھ) عارِف باﷲ قدوۃ المحدثین شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (1551۔ 1642ء) نے اپنی کتاب ما ثَبَت مِن السُّنّۃ فی ايّام السَّنَۃ میں ہر مہینہ اور اس میں خاص خاص شب و روز کے فضائل اور ان میں کیے جانے والے اَعمال مفصل بیان کیے ہیں۔ اُنہوں نے ماہِ ربیع الاول کے ذیل میں میلاد شریف منانے اور شبِ قدر پر شبِ ولادت کی فضیلت ثابت کی ہے۔ اور بارہ (12) ربیع الاول کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانا بہ طورِ خاص ثابت کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں : وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ قال : في النار، إلا أنه خُفّف کل ليلة اثنتين، وأمص من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار إلي رأس إصبعيه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عند ما بشرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له. قال ابن الجوزي : فإذا کان أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فما حال المسلم من أمته يسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما کان جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله جنات النعيم. ولا يزال أهل الاسلام يحتفلون بشهر مولده صلي الله عليه وآله وسلم ويعملون الولايم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور ويزيدون في المبرّات ويعتنون بقراءة مولده الکريم ويظهر عليهم من مکانه کل فضل عميم. ومما جرّب من خواصه أنه أمان في ذلک العام وبشري عاجل بنيل البغية والمرام، فرحم اﷲ امرأ اتخذ ليالي شهر مولده المبارک أعياداً ليکون أشد غلبة علي من في قلبه مرض وعناد. ’’ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ کہنے لگا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور. اُنگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ. میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جوزی (510۔ 579ھ / 1116۔ 1201ء) کہتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل) سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو (اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل) اپنے فضل کے ساتھ اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔ ’’اور ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ دستور رہا ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں، اس کی راتوں میں صدقات و خیرات اور خوشی کے اِظہار کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کریں۔ اس موقع پر وہ ولادت باسعادت کے واقعات بھی بیان کرتے ہیں۔ ’’میلاد شریف منانے کے خصوصی تجربات میں محفلِ میلاد منعقد کرنے والے سال بھر امن و عافیت میں رہتے ہیں اور یہ مبارک عمل ہر نیک مقصد میں جلد کامیابی کی بشارت کا سبب بنتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ اُس پر رحمتیں نازل فرماتا ہے جو میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب بہ طور عید مناتا ہے، اور جس (بدبخت) کے دل میں عناد اور دشمنی کی بیماری ہے وہ اپنی دشمنی میں اور زیادہ سخت ہوجاتا ہے۔‘‘ عبد الحق، ما ثَبَت مِن السُّنّة في أيّام السَّنَة : 60 شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے اَحوال اور درج بالا واقعات سیرتِ طیبہ پر فارسی زبان میں لکھی جانے والی اپنی کتاب ’’مدارج النبوۃ (2 : 18، 19)‘‘ میں بھی بیان کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک میلاد شریف منانا کس قدر مستحسن اور باعثِ اَجر و ثواب اَمر تھا۔ 34۔ اِمام محمد الزرقانی (1055۔ 1122ء) اِمام ابو عبد اللہ محمد بن عبد الباقی بن یوسف المالکی الزرقانی (1645۔ 1710ء) سیرتِ طیبہ کی معروف کتاب المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ کی شرح میں فرماتے ہیں : استمرّ أهل الإسلام بعد القرون الثلاثة التي شهد المصطفي صلي الله عليه وآله وسلم بخيريتها، فهو بدعة. وفي أنها حسنة، قال السيوطي : وهو مقتضي کلام ابن الحاج في مدخله فإنه إنما ذم ما احتوي عليه من المحرمات مع تصريحه قبل بأنه ينبغي تخصيص هذا الشهر بزيادة فعل البرّ وکثرة الصدقات والخيرات وغير ذلک من وجوه القربات. وهذا هو عمل المولد مستحسن والحافظ أبي الخطاب بن دحية ألف في ذالک ’’التنوير في مولد البشير النذير‘‘ فأجازه الملک المظفر صاحب إربل بألف دينار، واختاره أبو الطيب السبتي نزيل قوص وهؤلاء من أجلّة المالکية أو مذمومة وعليه التاج الفاکهاني وتکفل السيوطي، لردّ ما استند إليه حرفاً حرفاً والأول أظهر، لما اشتمل عليه من الخير الکثير. يحتفلون : يهتمون بشهر مولده عليه الصلوة والسلام ويعملون الولائم ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات ويظهرون السرور به، ويزيدون في المبرات ويعتنون بقراء ة قصة مولده الکريم ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عميم. ’’اہلِ اِسلام ان ابتدائی تین اَدوار (جنہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیرالقرون فرمایا ہے) کے بعد سے ہمیشہ ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محافل میلاد منعقد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ عمل (اگرچہ) بدعت ہے مگر ’’بدعتِ حسنہ‘‘ ہے (جیسا کہ) امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، اور ’’المدخل‘‘ میں ابن الحاج کے کلام سے بھی یہی مراد ہے اگرچہ انہوں نے ان محافل میں دَر آنے والی ممنوعات (محرمات) کی مذمت کی ہے، لیکن اس سے پہلے تصریح فرما دی ہے کہ اس ماہِ مبارک کو اَعمالِ صالحہ اور صدقہ و خیرات کی کثرت اور دیگر اچھے کاموں کے لیے خاص کر دینا چاہیے۔ میلاد منانے کا یہی طریقہ پسندیدہ ہے۔ حافظ ابو خطاب بن دحیہ کا بھی یہی مؤقف ہے جنہوں نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب التنویر فی المولد البشیر والنذیر تالیف فرمائی جس پر مظفر شاہِ اِربل نے انہیں ایک ہزار دینار (بطور انعام) پیش کیے۔ اور یہی رائے ابوطیب سبتی کی ہے جو قوص کے رہنے والے تھے۔ یہ تمام علماء جلیل القدر مالکی ائمہ میں سے ہیں۔ یا پھر یہ (عمل مذکور) بدعتِ مذمومہ ہے جیسا کہ تاج فاکہانی کی رائے ہے۔ لیکن امام سیوطی نے ان کی طرف منسوب عبارات کا حرف بہ حرف رَدّ فرمایا ہے۔ (بہرحال) پہلا قول ہی زیادہ راجح اور واضح تر ہے۔ بایں وجہ یہ اپنے دامن میں خیر کثیر رکھتا ہے۔ ’’لوگ (آج بھی) ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اجتماعات کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور اس کی راتوں میں طرح طرح کے صدقات و خیرات دیتے ہیں اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ کثرت کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اور مولود شریف کے واقعات پڑھنے کا اِہتمام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی خصوصی برکات اور بے پناہ فضل و کرم اُن پر ظاہر ہوتا ہے۔‘‘ زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 261، 262 35۔ شاہ عبد الرحیم دہلوی (1054۔ 1131ھ) قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ) کے والد گرامی شاہ عبد الرحیم دہلوی فرماتے ہیں : کنت أصنع في أيام المولد طعاماً صلة بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم ، فلم يفتح لي سنة من السنين شيء أصنع به طعاماً، فلم أجد إلا حمصًا مقليا فقسمته بين الناس، فرأيته صلي الله عليه وآله وسلم وبين يديه هذا الحمص متبهجاً بشاشا. ’’میں ہر سال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے موقع پر کھانے کا اہتمام کرتا تھا، لیکن ایک سال (بوجہ عسرت شاندار) کھانے کا اہتمام نہ کر سکا، تومیں نے کچھ بھنے ہوئے چنے لے کر میلاد کی خوشی میں لوگوں میں تقسیم کر دیئے۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہی چنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش و خرم تشریف فرما ہیں۔‘‘ شاه ولي اﷲ، الدر الثمين في مبشرات النبي الأمين صلي الله عليه وآله وسلم : 40 برصغیر میں ہر مسلک اور طبقہ فکر میں یکساں مقبول و مستند ہستی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا اپنے والد گرامی کا یہ عمل اور خواب بیان کرنا اِس کی صحت اور حسبِ اِستطاعت میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرتا ہے۔ 36۔ شیخ اِسماعیل حقی (1063۔ 1137ھ) شیخ اِسماعیل حقی بروسوی (1652۔ 1724ء) ’’تفسیر روح البیان‘‘ میں لکھتے ہیں : ومن تعظيمه عمل المولد إذا لم يکن فيه منکر. قال الإمام السيوطي قُدّس سره : يستحب لنا إظهار الشکر لمولده عليه السلام. ’’اور میلاد شریف منانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم میں سے ہے جب کہ وہ منکرات سے پاک ہو۔ اِمام سیوطی نے فرمایا ہے : ہمارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت پر اِظہارِ شکر کرنا مستحب ہے۔‘‘ اِسماعيل حقي، تفسير روح البيان، 9 : 56 37۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ) قطب الدین احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703۔ 1762ء) اپنے والد گرامی اور صلحاء و عاشقان کی راہ پر چلتے ہوئے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل میں شریک ہوتے تھے۔ آپ مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : وکنت قبل ذلک بمکة المعظمة في مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم ولادته، والناس يصلون علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويذکرون إرهاصاته التي ظهرت في ولادته ومشاهدة قبل بعثته، فرأيت أنواراً سطعت دفعة وحداة لا أقول إني أدرکتها ببصر الجسد، ولا أقول أدرکتها ببصر الروح فقط، واﷲ أعلم کيف کان الأمر بين هذا وذلک، فتأملت تلک الأنوار فوجدتها من قبل الملائکة المؤکلين بأمثال هذه المشاهد وبأمثال هذه المجالس، ورأيت يخالطه أنوار الملائکة أنوار الرحمة. ’’اس سے پہلے میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ درود و سلام عرض کر رہے تھے اور وہ واقعات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے موقعہ پر ظاہر ہوئے اور جن کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہوا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پر اَنوار و تجلیات کی برسات شروع ہوگئی۔ میں نہیں کہتا کہ میں نے یہ منظر صرف جسم کی آنکھ سے دیکھا تھا، نہ یہ کہتا ہوں کہ فقط روحانی نظر سے دیکھا تھا، اﷲ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان دو میں سے کون سا معاملہ تھا۔ بہرحال میں نے ان اَنوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ اَنوار اُن ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور و مقرر ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اَنوارِ ملائکہ کے ساتھ ساتھ اَنوارِ رحمت کا نزول بھی ہو رہا تھا۔‘‘ شاه ولي اﷲ، فيوض الحرمين : 80، 81 شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جیسی ہستی کا یومِ میلاد کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والی محفلِ میلاد میں شرکت کرنا محفلِ میلاد کا جائز اور مستحب ہونا ثابت کرتا ہے۔ ثانیاً اِس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حرمین شریفین میں بھی محافلِ میلاد منعقد ہوتی رہی ہیں۔ اگر آج وہاں اِعلانیہ طور پر ایسی محافل منعقد نہیں ہوتیں تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں کبھی ایسی محافل ہوئی نہیں تھیں۔ اہلِ عشق و محبت تو آج بھی وہاں محبتِ اِلٰہی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترانے الاپ رہے ہیں۔ مضمون جاری ہے۔ آگے دیکھیے۔ حصہ سوم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم آئمہ و محدثین (بالخصوص دیوبندی و غیر مقلدین علما کی نظر میں ) |
|
|
|
|
|
#26 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ ۔
میلادالنبی ص آئمہ و محدثین (بالخصوص دیوبندی، وہابی و غیر مقلدین)کی نظر میں (حصہ سوم) 38۔ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1159۔ 1239ھ) خاندان ولی اﷲ کے آفتابِ روشن شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی (1745۔ 1822ء) اپنے فتاوٰی میں لکھتے ہیں : وبرکة ربيع الأول بمولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيه ابتداء وبنشر برکاته صلي الله عليه وآله وسلم علي الأمة حسب ما يبلغ عليه من هدايا الصلٰوة والإطعامات معا. ’’اور ماہِ ربیع الاول کی برکت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میلاد شریف کی وجہ سے ہے۔ جتنا اُمت کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیۂ درود و سلام اور طعاموں کا نذرانہ پیش کیا جائے اُتنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکتوں کا اُن پر نزول ہوتا ہے۔‘‘ عبد العزيز محدث دهلوي، فتاوٰي، 1 : 163 39۔ شیخ عبد اﷲ بن محمد بن عبد الوہاب نجدی (1165۔ 1242ھ) غیر مقلدین کے بانی شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی (1115۔ 1206ھ / 1703۔ 1791ء) کی کتاب ’’مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کی شرح کرتے ہوئے اُس کا بیٹا عبد اﷲ بن محمد اپنی کتاب ’’مختصر سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ میں میلاد شریف کی بابت لکھتا ہے : وأرضعته صلي الله عليه وآله وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشّرته بولادته صلي الله عليه وآله وسلم. وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه خُفّف عنّي کل اثنين، وأمصّ من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار برأس أصبعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عندما بشّرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له. قال ابن الجوزي : فإذا کان هذا أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحد من أمته يُسر بمولده. ’’اور ابو لہب کی باندی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا اور جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خبر سنائی تو ابولہب نے اُسے آزاد کر دیا۔ اور ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ پس اُس نے کہا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر سوموار کو (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور اُنگلی کے اشارہ سے کہنے لگا کہ میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں)، اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جوزی کہتے ہیں : پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں ہر شبِ میلاد اُس ابولہب کو بھی جزا دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل) سورت نازل ہوئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے اُس توحید پرست مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے۔‘‘ عبد اﷲ، مختصر سيرة الرسول صلي الله عليه وآله وسلم : 13 40۔ شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م 1277ھ) شاہ احمد سعید مجددی دہلوی (م 1860ء) ہندوستان کی معروف علمی و روحانی شخصیت تھے۔ اُنہوں نے مدینہ منورہ میں وفات پائی اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہیں۔ آپ اپنے رسالہ ’’اثبات المولد والقیام‘‘ میں لکھتے ہیں : أيها العلماء السائلون عن دلائل مولد الشريف لنبينا وسيدنا صلي الله عليه وآله وسلم ! فاعلموا أن محفل المولد الشريف يشتمل علي ذکر الآيات والأحاديث الصحاح الدالة علي جلالة قدره وأحوال ولادته ومعراجه ومعجزاته ووفاته صلي الله عليه وآله وسلم. کلما ذکره الذاکرون وکلما غفل عن ذکره الغافلون. فإنکارکم مبني علي عدم استماعه. ’’ہمارے نبی و آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد شریف کے دلائل کے بارے میں پوچھنے والو اے علماء! جان لو کہ محفلِ میلاد شریف ایسی آیات و صحیح احادیث کے بیان پر مشتمل ہوتی ہے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمالِ شان پر دلالت ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت، معراج، معجزات اور وصال کے واقعات کا بیان ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کرنا ہمیشہ سے بزرگانِ دین کی سنت رہی ہے اور صرف غافلین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے غفلت برتی ہے۔ پس تمہارا اِنکار ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔‘‘ 41۔ مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی (1228۔ 1279ھ) ’’علم الفرائض،‘‘ ’’علم الصیغۃ‘‘ اور ’’نقشہ مواقع النجوم‘‘ جیسی کئی کتب کے مصنف مفتی محمد عنایت احمد کاکوروی (1813۔ 1863ء) ’’تواریخِ حبیب اِلٰہ یعنی سیرت سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ جو اُردو زبان میں سیرتِ طیبہ پر پہلی کتاب ہے۔ میں لکھتے ہیں : ’’ماہِ ربیع الاول روز دو شنبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب سے شرفِ عظیم حاصل ہوا۔ حرمین شریفین اور اکثر بلادِ اِسلام میں عادت ہے کہ ماہِ ربیع الاول میں محفلِ میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو مجتمع کر کے ذکر مولود شریف کرتے ہیں اور کثرت درود کی کرتے ہیں، اور بطور دعوت کے کھانا یا شیرینی تقسیم کرتے ہیں۔ سو یہ اَمر موجبِ برکاتِ عظیمہ ہے اور سبب ہے اِزدیادِ محبت کا ساتھ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے۔ بارہویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ متبرک محفل مسجد نبوی شریف میں ہوتی ہے اور مکہ معظمہ میں مکانِ ولادتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں۔‘‘ کاکوروي، تواريخِ حبيبِ اِلٰه يعني سيرتِ سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 14، 15 مفتی کاکوروی نے شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کا وہ واقعہ بھی بیان کیا ہے جو ہم نے گزشتہ صفحات میں درج کیا ہے۔ اِس کے بعد وہ لکھتے ہیں : ’’مسلمانوں کو چاہیے کہ بمقتضائے محبتِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محفل شریف کیا کریں اور اس میں شریک ہوا کریں۔ مگر شرط یہ ہے کہ بہ نیت خالص کیا کریں، ریا اور نمائش کو دخل نہ دیں۔ اور بھی اَحوالِ صحیح اور معجزات کا حسبِ روایاتِ معتبرہ بیان ہو کہ اکثر لوگ جو محفل میں فقط شعر خوانی پر اِکتفاء کرتے ہیں یا روایاتِ واہیہ نامعتبر سناتے ہیں خوب نہیں۔ اور بھی علماء نے لکھا ہے کہ اِس محفل میں ذکر وفات شریف کا نہ کرنا چاہیے، اس لیے کہ یہ محفل واسطے خوشی میلاد شریف کے منعقد ہوتی ہے۔ ذکرِ غم جانکاہ اِس محفل میں نازیبا ہے۔ حرمین شریفین میں ہرگز عادتِ ذکرِ قصۂ وفات کی نہیں ہے۔‘‘ کاکوروي، تواريخِ حبيبِ اِلٰه يعني سيرتِ سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 15 مفتی کاکوروی ابو لہب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو لہب کو بعد موت کے خواب میں دیکھا اور حال پوچھا، اُس نے کہا کہ عذابِ شدید میں مبتلا ہوں مگر ہمیشہ شب دو شنبہ کو درمیانِ انگشتِ شہادت اور وسطیٰ سے۔ کہ اشارے سے اُن کے میں نے ثویبہ کو بسبب پہنچانے بشارتِ ولادتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کیا تھا۔ کچھ پانی چوسنے کو مل جاتا ہے کہ اس سے ایک گونہ عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے۔ ’’علمائے محدثین نے بعد لکھنے اِس روایت کے لکھا ہے کہ جب ابو لہب سے کافر کو جس کی مذمت قرآن شریف میں بتصریح وارِد ہے بسببِ خوشیء ولادت شریف کے تخفیفِ عذاب ہوئی تو جو مسلمان خوشی ولادت شریف سے ظاہر کرے خیال کرنا چاہیے کہ اُس کو کیسا ثوابِ عظیم ہوگا اور کیا کیا برکات شاملِ حال اُس کے ہوں گے۔‘‘ کاکوروي، تواريخِ حبيبِ اِلٰه يعني سيرتِ سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 16 42۔ مولانا احمد علی سہارن پوری(دیوبندی ) (م 1297ھ) مولانا احمد علی محدّث سہارن پوری دیوبندی میلاد شریف کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں : إن ذکر الولادة الشريفة لسيدنا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم بروايات صحيحة في أوقات خالية عن وظائف العبادات الواجبات وبکيفيات لم تکن مخالفة عن طريقة الصحابة وأهل القرون الثلاثة المشهود لها بالخير، وبالاعتقادات التي موهمة بالشرک والبدعة وبالآداب التي لم تکن مخالفة عن سيرة الصحابة التي هي مصداق قوله عليه السلام : ما أنا عليه وأصحابي وفي مجالس خالية عن المنکرات الشرعية موجب للخير والبرکة بشرط أن يکون مقرونًا بصدق النية والإخلاص واعتقاد کونه داخلاً في جملة الأذکار الحسنة المندوبة غير مقيد بوقت من الأوقات. فإذا کان کذلک لانعلم أحد من المسلمين أن يحکم عليه يکونه غير مشروع أو بدعة. ’’سیدنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریف کا ذکر صحیح روایت سے ان اوقات میں جو عباداتِ واجبہ سے خالی ہوں، ان کیفیات سے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان اہلِ قرونِ ثلاثہ کے طریقے کے خلاف نہ ہوں جن کے خیر ہونے کی شہادت حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی ہے، ان عقیدوں سے جو شرک و بدعت کے موہم نہ ہوں، ان آداب کے ساتھ جو صحابہ کی اس سیرت کے مخالف نہ ہوں جو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اِرشاد ما انا علیہ واصحابی۔ کی مصداق ہے ان مجالس میں جو منکراتِ شرعیہ سے خالی ہوں سببِ خیر و برکت ہے۔ بشرطیکہ صدقِ نیت اور اخلاص اور اس عقیدہ سے کیا جاوے کہ یہ بھی منجملہ دیگر اَذکارِ حسنہ کے ذکرِ حسن ہے، کسی وقت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ پس جو ایسا ہوگا تو ہمارے علم میں کوئی مسلمان بھی اس کے ناجائز یا بدعت ہونے کا حکم نہ دے گا۔‘‘ سهارن پوري، المهند علي المفند : 61، 62 43۔ سید احمد بن زینی دحلان (1233۔ 1304ھ) سید اَحمد بن زینی دحلان حسنی ہاشمی قرشی مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ مکہ مکرمہ کے مفتی تھے اور اپنے معاصر علمائے حجاز میں بلند رتبہ پر فائز تھے۔ آپ نے قریباً ہر موضوع پر قلم اٹھایا اور 35 سے زائد کتب و رسائل لکھے۔ آپ نے ’’السیرۃ النبویۃ (1 : 53، 54)‘‘ میں ائمہ و علماء کے اَقوال نقل کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے پر تو ایک کافر بھی جزا سے محروم نہیں رہتا، توحید پرست مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا۔ میلاد شریف منانے والے کے نیک مقاصد اور دلی خواہشات جلد پایہ تکمیل تک پہنچتی ہیں۔ 44۔ مولانا عبد الحی لکھنوی (1264. 1304ھ) مولانا ابو الحسنات محمد عبد الحی فرنگی محلی لکھنوی (1848۔ 1886ء) میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے متعلق لکھتے ہیں : ’’پس جب ابولہب ایسے کافر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہو گئی تو جو کوئی امتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کرے اور اپنی قدرت کے موافق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں خرچ کرے کیوں کر اعلیٰ مرتبہ کو نہ پہنچے گا، جیسا کہ ابن جوزی (510۔ 579ھ) اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی (958۔ 1052ھ) نے لکھا ہے۔‘‘ عبد الحي، مجموعه فتاويٰ، 2 : 282 محفلِ میلاد کے اِنعقاد کے لیے دن اور تاریخ متعین کرنے کے بارے آپ لکھتے ہیں : ’’جس زمانے میں بہ طرزِ مندوب محفل میلاد کی جائے باعثِ ثواب ہے اور حرمین، بصرہ، شام، یمن اور دوسرے ممالک کے لوگ بھی ربیع الاول کا چاند دیکھ کر خوشی اور محفلِ میلاد اور کارِ خیر کرتے ہیں اور قرات اور سماعت میلاد میں اہتمام کرتے ہیں۔ اور ربیع الاول کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی ان ممالک میں میلاد کی محفلیں ہوتی ہیں اور یہ اعتقاد نہ کرنا چاہیے کہ ربیع الاول ہی میں میلاد شریف کیا جائے گا تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں۔‘‘ عبد الحي، مجموعه فتاويٰ، 2 : 283 45۔ نواب صدیق حسن خان بھوپالی (غیرمقلد) (م 1307ھ) غیر مقلدین کے نام وَر عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالی میلاد شریف منانے کی بابت لکھتے ہیں : ’’اِس میں کیا برائی ہے کہ اگر ہر روز ذکرِ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کر سکتے تو ہر اُسبوع (ہفتہ) یا ہر ماہ میں اِلتزام اِس کا کریں کہ کسی نہ کسی دن بیٹھ کر ذکر یا وعظِ سیرت و سمت و دل و ہدی و ولادت و وفات آنحضرت کا کریں۔ پھر ایامِ ماہِ ربیع الاول کو بھی خالی نہ چھوڑیں اور اُن روایات و اخبار و آثار کو پڑھیں پڑھائیں جو صحیح طور پر ثابت ہیں۔‘‘ بهوپالي، الشمامة العنبرية من مولد خير البرية : 5 آگے لکھتے ہیں : ’’جس کو حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کا حال سن کر فرحت حاصل نہ ہو اور شکر خدا کا حصول پر اِس نعمت کے نہ کرے وہ مسلمان نہیں۔‘‘ بهوپالي، الشمامة العنبرية من مولد خير البرية : 12 46۔ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی (1233۔ 1317ھ) علمائے ہند کے عظیم شیح بالخصوص مدرسہ دیوبند کے نام وَر عالم و فاضل بزرگ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی (1817۔ 1899ء) ہندوستان سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے اور مکہ میں درس دیتے رہے، پھر وہیں ان کی وفات ہوئی اور جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں۔ (1) حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی چاروں سلاسلِ طریقت میں بیعت کرتے تھے، اور دار العلوم دیوبند کے بانی مولانا محمد قاسم نانوتوی (1248۔ 1297ھ / 1833۔ 1880ء) اور دار العلوم دیوبند کے سرپرست مولانا رشید احمد گنگوہی (1244۔ 1323ھ / 1829۔ 1905ء) آپ کے مرید و خلفاء تھے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی (1275۔ 1356ھ / 1859۔ 1937ء)، مولانا اشرف علی تھانوی (1280۔ 1362ھ / 1863۔ 1943ء)، مولانا محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ / 1920ء) اور کئی دیگر علماء و مشائخ کا شمار حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے خلفاء میں ہوتا تھا۔ (1) مصنف کو اُن کی آخری آرام گاہ پر حاضری کی سعادت بچپن میں 1963ء میں حاصل ہوئی۔ اُس وقت ان کا مدفن ایک حجرے میں تھا۔ ’’شمائمِ اِمدادیہ‘‘ کے صفحہ نمبر 47 اور 50 پر درج ہے کہ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی نے ایک سوال میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِنعقاد کے بارے میں اُن کی کیا رائے ہے؟ کے جواب میں فرمایا : ’’مولد شریف تمام اہل حرمین کرتے ہیں، اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے۔ اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیسے مذموم ہو سکتا ہے! البتہ جو زیادتیاں لوگوں نے اِختراع کی ہیں نہ چاہئیں۔ اور قیام کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں، مجھ کو ایک کیفیت قیام میں حاصل ہوتی ہے۔‘‘ 1. اِمداد اﷲ، شمائم اِمداديه : 47 2۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہ عبارت ’’اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق (ص : 52، 53)‘‘ میں نقل کی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں : ’’ہمارے علماء مولد شریف میں بہت تنازعہ کرتے ہیں۔ تاہم علماء جواز کی طرف بھی گئے ہیں۔ جب صورت جواز کی موجود ہے پھر کیوں ایسا تشدد کرتے ہیں؟ اور ہمارے واسطے اِتباعِ حرمین کافی ہے۔ البتہ وقتِ قیام کے اِعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے۔ اگر اِہتمام تشریف آوری کا کیا جائے تو مضائقہ نہیں کیوں کہ عالم خلق مقید بہ زمان و مکان ہے لیکن عالم اَمر دونوں سے پاک ہے۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں۔‘‘ 1. اِمداد اﷲ، شمائم امداديه : 50 2۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے بھی یہ عبارت ’’اِمداد المشتاق اِلیٰ اشرف الاخلاق (ص : 5 ‘‘ میں نقل کی ہے۔حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے مذکورہ بالا بیان کے مطابق حرمین شریفین میں میلاد کی تقریبات کا ہونا اس بات کی حتمی و قطعی دلیل ہے کہ اس پر اہل مدینہ اور اہل مکہ میں دو آراء نہیں تھیں، وہ سب متفقہ طور پر میلاد کا اہتمام کرتے تھے۔ اور میلاد کے جواز پر اِس قدر حجت ہمارے لیے کافی ہے جو کہ اِنکار کرنے والوں کے لیے برہانِ قاطع ہے۔ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی نے اِعتقادی نوعیت کے سات سوالات کے جواب میں اپنی کتاب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ (1) لکھی۔ کسی نے اُن سے دریافت کیا کہ میلاد کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ اور معمول ہے؟ تو اِس پر اُنہوں نے جواب دیا : (1) دیوبندی مسلک کے بعض علماء ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ کے بارے کہتے ہیں کہ یہ حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کی تحریر نہیں، حالاں کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ’’اشرف السوانح (3 : 355، 356)‘‘ میں تصریح کی ہے کہ یہ حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کی تحریر ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے ’’فتاویٰ رشیدیہ (ص : 130، 131)‘‘ میں لکھا ہے کہ اُنہوں نے یہ رسالہ کسی سے لکھوایا اور سُن کر اس میں اِصلاحات کروائیں۔ گویا اِس میں جو کچھ لکھا ہے وہ حضرت کا مسلک و مشرب ہے۔ علاوہ ازیں دیوبند مسلک کے کتب خانوں سے شائع ہونے والے حضرت اِمداد اﷲ مہاجر مکی کے دس رسالوں کے مجموعہ. ’’کلیاتِ اِمدادیہ‘‘. میں بھی ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ شامل ہے؛ جیسا کہ کتب خانہ اشرفیہ، راشد کمپنی، دیوبند (بھارت) نے طبع کیا تھا، اور ادارہ اِسلامیات، لاہور نے بھی شائع کیا ہے۔ ’’فقیر کا مشرب یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں، بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف اور لذت پاتا ہوں۔‘‘ اِمداد اﷲ، فيصله هفت مسئله : 7 ایک جگہ لکھتے ہیں : ’’رہا یہ عقیدہ کہ مجلسِ مولود میں حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونق افروز ہوتے ہیں، تو اس عقیدہ کو کفر و شرک کہنا حد سے بڑھنا ہے۔ یہ بات عقلاً و نقلاً ممکن ہے، بلکہ بعض مقامات پر واقع ہو بھی جاتی ہے۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے علم ہوا، آپ کئی جگہ کیسے تشریف فرما ہوئے، تو یہ شبہ بہت کمزور شبہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم و روحانیت کی وسعت کے آگے۔ جو صحیح روایات سے اور اہلِ کشف کے مشاہدے سے ثابت ہے۔ یہ ادنیٰ سی بات ہے۔‘‘ اِمداد اﷲ، فيصله هفت مسئله : 6 جو لوگ محفلِ میلاد کو بدعتِ مذمومہ اور خلافِ شرع کہتے ہیں، اُنہیں کم اَز کم اپنے شیخ و مرشد کا ہی لحاظ کرتے ہوئے اِس رویہ سے گریز کرنا چاہیے۔ 47۔ علامہ وحید الزماں (غیر مقلد) (م 1338ھ) مشہور غیر مقلد عالم دین علامہ نواب وحید الزماں (م 1920ء) میلاد شریف کے بارے میں لکھتے ہیں : وکذلک من يزجر الناس بالعنف والتشدد علي سماع الغناء أو المزامير أو عقد مجلس للميلاد أو قراء ة الفاتحة المرسومة ويفسقهم أو يکفرهم علي هذا. ’’ایسے ہی لوگوں کو سماع، غناء یا مزا میر یا محفلِ میلاد منعقد کرنے یا مروّجہ فاتحہ پڑھنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے یا اُن کے فسق یا اُن کے کفر پر ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور تشدد کرنا نیکی کی بجائے گناہ حاصل کرنا ہے۔‘‘ وحيد الزمان، هدية المهدي من الفقه المحمدي : 118، 119 48۔ اِمام یوسف بن اسماعیل نبہانی (1265۔ 1350ھ) عالم عرب کے معروف محدّث و سیرت نگار اِمام یوسف بن اسماعیل بن یوسف نبہانی نے ’’حجۃ اﷲ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ میں اجتماع الناس لقراءۃ قصۃ مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عنوان سے ایک فصل قائم کی ہے۔ اِس میں اُنہوں نے میلاد شریف کے بارے میں مختلف ائمہ و علماء کے اَقوال نقل کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ محفل میلاد شریف کا اِنعقاد صحیح اور مطلوب عمل ہے۔ ایک دوسری کتاب ’’الانوار المحمدیۃ من المواھب اللدنیۃ‘‘ میں اِمام نبہانی لکھتے ہیں : وليلة مولده صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من ليلة القدر. وولد صلي الله عليه وآله وسلم في مکة في الدار التي کانت لمحمد بن يوسف. وأرضعته صلي الله عليه وآله وسلم ثويبة عتيقة أبي لهب، أعتقها حين بشّرته بولادته عليه الصلاة والسلام. وقد رؤي أبولهب بعد موته في النوم، فقيل له : ما حالک؟ فقال : في النار، إلا أنه خُفّف عنّي في کل ليلة اثنين، وأمصّ من بين أصبعي هاتين ماء. وأشار برأس إصبعه. وإن ذلک بإعتاقي لثويبة عندما بشّرتني بولادة النبي صلي الله عليه وآله وسلم وبإرضاعها له. قال ابن الجزري : فإذا کان هذا أبولهب الکافر الذي نزل القران بذمّه جُوزيَ في النار بفرحه ليلة مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم به، فما حال المسلم الموحّد من أمته يُسر بمولده، ويبذل ما تَصل إليه قدرته في محبته صلي الله عليه وآله وسلم ؟ لعمري! إنما يکون جزاؤه من اﷲ الکريم أن يدخله بفضله العميم جنات النعيم. ولا زال أهل الإسلام يحتفلون بشهر مولده عليه السلام، ويعملون الولائم، ويتصدقون في لياليه بأنواع الصدقات، ويظهرون السرور ويزيدون في المبرات. ويعتنون بقراء ة مولده الکريم، ويظهر عليهم من برکاته کل فضل عظيم. ومما جرب من خواصه أنه أمان في ذالک العام، وبشري عاجلة بنيل البغية والمرام، فرحم اﷲ امرءًا اتخذ ليالي شهر مولده المبارک أعيادًا. نبهاني، الأنوار المحمدية من المواهب اللدنية : 28، 29 ’’اور شبِ میلاد شبِ قدر سے افضل ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے اُس گھر میں پیدا ہوئے جو محمد بن یوسف کی ملکیت ہے۔ اور ابو لہب کی باندی ثویبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا اور جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خبر سنائی تو ابولہب نے اُسے آزاد کردیا۔ ’’اور ابولہب کو مرنے کے بعد خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا گیا : اب تیرا کیا حال ہے؟ پس اُس نے کہا : آگ میں جل رہا ہوں، تاہم ہر پیر کے دن (میرے عذاب میں) تخفیف کر دی جاتی ہے اور اُنگلی کے اشارہ سے کہنے لگا کہ میری ان دو انگلیوں کے درمیان سے پانی (کا چشمہ) نکلتا ہے (جسے میں پی لیتا ہوں) اور یہ (تخفیفِ عذاب میرے لیے) اس وجہ سے ہے کہ میں نے ثویبہ کو آزاد کیا تھا جب اس نے مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت کی خوش خبری دی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ بھی پلایا تھا۔ ’’ابن جزری کہتے ہیں : پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کو بھی جزا دی جاتی ہے جس کی مذمت (میں) قرآن حکیم میں (ایک مکمل) سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمت محمدیہ کے اُس توحید پرست مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک اﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو (اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل) اپنے بے پناہ فضل کے ساتھ اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔ ’’ہمیشہ سے اہلِ اسلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مہینے میں محافلِ میلاد منعقد کرتے آئے ہیں۔ وہ دعوتوں کا اِہتمام کرتے ہیں اور اِس ماہِ (ربیع الاول) کی راتوں میں صدقات و خیرات کی تمام ممکنہ صورتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ اِظہارِ مسرت اور نیکیوں میں کثرت کرتے ہیں اور میلاد شریف کے چرچے کیے جاتے ہیں۔ ہر مسلمان میلاد شریف کی برکات سے بہر طور فیض یاب ہوتا ہے۔ ’’محافلِ میلاد شریف کے مجربات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس سال میلاد منایا جائے اُس سال امن قائم رہتا ہے، نیز (یہ عمل) نیک مقاصد اور دلی خواہشات کی فوری تکمیل میں بشارت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے ماہِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راتوں کو (بھی) بہ طور عید منایا۔‘‘ 49۔ حکیم الامت علامہ محمد اِقبال (1294۔ 1357ھ) شاعرِ مشرق حکیم الامت علامہ محمد اِقبال (1877۔ 1938ء) فرماتے ہیں : ’’منجملہ ان مقدس اَیام کے جو مسلمانوں کے لیے مقدس کیے گئے ہیں ایک میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دن بھی ہے۔ میرے نزدیک انسانوں کی دماغی و قلبی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رُو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہوا وہ ہر وقت ان کے سامنے رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے اِسی وجہ سے ضروری ہے کہ وہ اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدنظر رکھیں تاکہ جذبۂ تقلید اور جذبۂ عمل قائم رہے۔ ان جذبات کو قائم رکھنے کے تین طریقے ہیں : 1۔ پہلا طریق تو درود و صلوٰۃ ہے جو مسلمانوں کی زندگی کا جزو لاینفک ہوچکا ہے۔ وہ ہر وقت درود پڑھنے کے موقع نکالتے ہیں۔ عرب کے متعلق میں نے سنا کہ اگر کہیں بازار میں دو آدمی لڑ پڑتے ہیں اور تیسرا بہ آوازِ بلند اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيّدِنَا وَبَارِکْ وَسَلِّمْ پڑھ دیتا ہے تو لڑائی فوراً رک جاتی ہے، اور متخاصمین ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانے سے فوراً باز آجاتے ہیں۔ یہ درود کا اثر ہے اور لازم ہے کہ جس پر درود پڑھا جائے اس کی یاد قلوب کے اندر اپنا اثر پیدا کرے۔ 2۔ پہلا طریق اِنفرادی دوسرا اِجتماعی ہے۔ یعنی مسلمان کثیر تعداد میں جمع ہوں اور ایک شخص جو حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوانح حیات سے پوری طرح باخبر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سوانح زندگی بیان کرے تاکہ ان کی تقلید کا ذوق شوق مسلمانوں کے قلوب میں پیدا ہو۔ اس طریق پر عمل پیرا ہونے کے لیے آج ہم سب یہاں جمع ہوئے ہیں۔ 3۔ تیسرا طریق اگرچہ مشکل ہے لیکن بہ ہر حال اس کا بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ یادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس کثرت سے اور ایسے انداز میں کی جائے کہ انسان کا قلب نبوت کے مختلف پہلؤں کا خود مظہر ہوجائے یعنی آج سے تیرہ سو سال پہلے جو کیفیت حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مقدس سے ہویدا تھی، وہ آج بھی تمہارے قلوب کے اندر پیدا ہو جائے۔ غلام دستگير رشيد، آثارِ اِقبال : 306، 307 50۔ مولانا اشرف علی تھانوی (دیوبندی عالم دین) (1280۔ 1362ھ) مولانا اشرف علی تھانوی (1863۔ 1943ء) نام وَر عالم دیوبند تھے۔ آپ حاجی اِمداد اﷲ مہاجر مکی چشتی کے ہاتھ پر بیعت تھے۔ سیرتِ طیبہ پر آپ کی کتاب نشر الطیب فی ذکرالنبی الحبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشق و محبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوبی ہوئی تحریر ہے، جس کا آغاز ہی آپ نے مشہور حدیثِ جابر بیان کرتے ہوئے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق کے باب سے کیا ہے۔ بعد ازاں اِس نوع کی دیگر روایات بیان کی ہیں۔ اِسی طرح میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ کے خطبات کا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔ مجالسِ موالید پر خطاب کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : ’’میرا کئی سال تک یہ معمول رہا کہ یہ جو مبارک زمانہ ہے جس کا نام ربیع الاول کا مہینہ ہے، جس کی فضیلت کو ایک عاشق ملا علی قاری نے اس عنوان سے ظاہر کیا ہے : لهذا الشهر في الإسلام فضل منقبته تفوق علي الشهور ربيع في ربيع في ربيع ونور فوق نور فوق نور (اِسلام میں اس ماہ کی بڑی فضیلت ہے اور تمام مہینوں پر اس کی تعریف کو فضیلت ہے۔ بہار اندر بہار اندر بہار ہے اور نور بالائے نور بالائے نور ہے۔) ’’تو جب یہ مبارک مہینہ آتا تھا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فضائل جن کا خاص تعلق ولادتِ شریفہ سے ہوتا تھا مختصر طور پر بیان کرتا تھا مگر اِلتزام کے طور پر نہیں کیوں کہ التزام میں تو علماء کو کلام ہے۔ بلکہ بدوں اِلتزام کے دو وجہ سے : ’’ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر فی نفسہ طاعت و موجبِ برکت ہے۔ ’’دوسرے اس وجہ سے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ہم لوگ جو مجالسِ موالید کی ممانعت کرتے ہیں تو وہ ممانعت نفسِ ذکر کی وجہ سے نہیں۔ نفسِ ذکر کو تو ہم لوگ طاعت سمجھتے ہیں بلکہ محض منکرات و مفاسد کے اِنضمام کی وجہ سے منع کیا جاتا ہے ورنہ نفسِ ذکر کا تو ہم خود قصد کرتے ہیں۔ ’’یہ تو ظاہری وجوہ تھیں۔ بڑی بات یہ تھی کہ اس زمانہ میں اور دنوں سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو جی چاہا کرتا ہے اور یہ ایک امر طبعی ہے کہ جس زمانہ میں کوئی امر واقع ہوا ہو اس کے آنے سے دل میں اس واقع کی طرف خود بخود خیال ہوا جاتا ہے۔ اور خیال کو یہ حرکت ہونا جب امر طبعی ہے تو زبان سے ذکر ہوجانا کیا مضائقہ ہے۔ یہ تو ایک طبعی بات ہے۔‘‘ اشرف علي تھانوي، خطباتِ ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 190 اِسی خطاب میں آگے ایک جگہ فرماتے ہیں : ’’تو میرا جو معمول تھا کہ اِس ماہِ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کیا کرتا تھا، وہ دوام کے حد میں تھا، التزام کے طور پر نہ تھا۔ چنانچہ چند سال تک تو میں نے کئی وعظوں میں فضائلِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا جن کے نام سب مقفی ہیں : النور، الظھور، السرور، الشذور، الحبور وہاں ایک ذکر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوکہ اسی سلسلہ میں ہے مقفی نہیں۔ پھر کئی سال سے اس کا اتفاق نہیں ہوا کچھ اسبابِ طبعیہ ایسے مانع ہوئے جن سے یہ معمول ناغہ ہوگیا۔ نیز ایک وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ اس معمول سے التزام کا خیال نہ کریں جوکہ خلافِ واقع ہے کیوں کہ میرے اس معمول کی بڑی وجہ صرف یہ تھی ان ایام میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل اور دنوں سے زیادہ یاد آتے تھے نہ کہ اس میں شرعی ضرورت کا اعتقاد یا عمل تھا۔‘‘ اشرف علي تهانوي، خطباتِ ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 198، 199 فضل اور رحمت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اس مقام پر ہر چند کہ آیت کے سباق پر نظر کرنے کے اعتبار سے قرآن مجید مراد ہے لیکن اگر ایسے معنی عام لیے جائیں کہ قرآن مجید بھی اس کا ایک فرد رہے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ وہ یہ کہ فضل اور رحمت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مبارک لیے جائیں۔ اس تفسیر کے موافق جتنی نعمتیں اور رحمتیں ہیں خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی اور ان میں قرآن بھی ہے سب اس میں داخل ہو جائے گی۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود باجود اصل ہے تمام نعمتوں کی اور مادہ ہے تمام رحمتوں اور فضل کا۔ پس یہ تفسیر اَجمع التفاسیر ہو جائے گی۔ پس اس تفسیر کی بنا پر اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ ہم کو حق تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود باجود پر خواہ وجودِ نوری ہو یا ولادتِ ظاہری، اس پر خوش ہونا چاہئے۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے تمام نعمتوں کے واسطہ ہیں۔ (دوسری عام نعمتوں کے علاوہ) افضل نعمت اور سب سے بڑی دولت ایمان ہے جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کو پہنچنا بالکل ظاہر ہے۔ غرض اصل الاصول تمام مواد فضل و رحمت کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات ہوئی۔ پس ایسی ذات بابرکات کے وجود پر جس قدر بھی خوشی اور فرح ہو کم ہے۔‘‘ اشرف علي تهانوي، خطباتِ ميلاد النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 64، 65 مولانا اشرف علی تھانوی کے مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوجاتا ہے کہ اُن کا عقیدہ ہرگز مجالسِ میلاد کے قیام کے خلاف نہیں تھا۔ وہ صرف اِس کے لیے وقت معین کرنے کے حامی نہیں تھے۔ بہ ہر حال میلاد شریف منانا اُن کے نزدیک جائز اور مستحب اَمر تھا۔ 51۔ مفتی رشید احمد لدھیانوی (و 1341ھ) مفتی رشید احمد لدھیانوی (و 1922ء) تحریر کرتے ہیں : ’’جب ابولہب جیسے بدبخت کافر کے لیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کی وجہ سے عذاب میں تخفیف ہو گئی تو جو کوئی اُمتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی کرے اور حسبِ وسعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں خرچ کرے تو کیوں کر اَعلیٰ مراتب حاصل نہ کرے گا۔‘‘ لدهيانوي، اَحسن الفتاويٰ، 1 : 347، 348 52۔ مفتي محمد مظھر اﷲ دھلوي مفتی محمد مظہر اﷲ دہلوی لکھتے ہیں : ’’میلاد خوانی بشرطیکہ صحیح روایات کے ساتھ ہو اور بارہویں شریف میں جلوس نکالنا بشرطیکہ اس میں کسی فعل ممنوع کا ارتکاب نہ ہو، یہ دونوں جائز ہیں۔ ان کو ناجائز کہنے کے لیے دلیل شرعی ہونی چاہیے۔ مانعین کے پاس اس کی ممانعت کی کیا دلیل ہے؟ یہ کہنا کہ صحابہ کرام نے نہ کبھی اس طور سے میلاد خوانی کی نہ جلوس نکالا ممانعت کی دلیل نہیں بن سکتی کہ کسی جائز اَمر کو کسی کا نہ کرنا اس کو ناجائز نہیں کر سکتا۔‘‘ فتاويٰ مظهري : 435، 436 53۔ شیخ محمد رضا مصری کی تحقیق عظیم سیرت نگار و مؤرخ شیخ محمد رضا مصری نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ میں تمام عالم اسلام کے تناظر میں اِنعقادِ میلاد کے بارے میں تاریخی جائزہ لیا ہے اور دنیا بھر میں وقوع پذیر ہونے والی تقریباتِ میلاد کے اَحوال تین صفحات پر رقم کیے ہیں۔ ان صفحات کا ترجمہ درج ذیل ہے : ’’امام نووی (631۔ 677ھ / 1233۔ 1278ء) کے شیخ اِمام ابو شامہ (599۔ 665ھ / 1202۔ 1267ء) فرماتے ہیں کہ ہمارے دور کا نیا مگر بہترین عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کا جشن منانے کا عمل ہے جس میں اس مبارک خوشی کی مناسبت سے صدقہ و خیرات، محفلوں کی زیبائش و آرائش اور اظہار مسرت کیا جاتا ہے۔ یہ مبارک تقریبات فقراء سے حسنِ سلوک کے علاوہ اُمتیوں کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عقیدت و محبت اور اہلِ محفل کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت و عظمت کی پختگی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجنے والے کے قلبی شکر و امتنان کا احساس دلاتی ہیں۔ ’’امام سخاوی (831۔ 902ھ / 1428۔ 1497ء) فرماتے ہیں : میلاد شریف کا رواج تین صدی بعد ہوا ہے۔ اس کے بعد سے تمام ممالک و اَمصار میں مسلمانانِ عالم عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناتے چلے آرہے ہیں، وہ ان دنوں میں خیرات و صدقات کرتے اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس منعقد کرتے ہیں جن کی برکتوں سے ان پر حق تعالیٰ کا عام فضل و کرم ہوتا ہے۔ ’’علامہ ابن جوزی (510۔ 579ھ / 1116۔ 1201ء) فرماتے ہیں کہ میلاد شریف کے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے سال بھر اَمن و عافیت رہتی ہے اور یہ مبارک عمل ہر نیک مقصد میں جلد کامیابی کی بشارت کا سبب بنتا ہے۔ ’’سلاطینِ اسلام میں اس طریقہ کو رائج کرنے والے سب سے پہلے شاہِ اِربل سلطان مظفر ابوسعید تھے جن کی فرمائش پر حافظ ابن دحیہ نے اس موضوع پر ایک کتاب ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ تالیف کی تھی۔ اس پر شاہ نے خوش ہو کر مؤلف کو ایک ہزار دینار انعام عطا فرمایا تھا۔ اسی سلطان نے سب سے پہلے جشن میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد فرمایا تھا، وہ ہر سال ماہِ ربیع الاول میں یہ جشن انتہائی اہتمام کے ساتھ بہت اعلیٰ پیمانے پر منایا کرتے تھے۔ وہ طبعاً نہایت سخی، جواں مرد، شیر دل، فیاض طبع، نہایت زیرک و دانا اور منصف مزاج تھے۔ کہا گیا ہے کہ وہ ہر سال جشنِ میلاد پر تین لاکھ (300000) دینار خرچ کیا کرتے تھے۔ ’’شاہِ تلمسان سلطان ابو حمو موسیٰ (723۔ 791ھ / 1323۔ 1389ء) بھی عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم الشان جشن منایا کرتے تھے جیسا کہ ان کے زمانہ میں اور ان سے قبل مغرب اقصیٰ و اندلس کے سلاطین بھی منایا کرتے تھے۔ سلطان ابو حمو کے جشن کی تفصیل حافظ سید ابو عبد اﷲ تونسی تلمسانی نے اپنی کتاب راح الارواح فیما قالہ مولی ابوحمو من الشعر وقیل فیہ من الامداح (سلطان ابو حمو اور دوسروں کے فرمودہ منقبتی اَشعار میں اَرواحِ انسانی کے لیے راحت و سکون ہے) میں بیان کی ہے۔ مؤلف نے بیان کیا ہے کہ سلطانِ تلمسان صاحبِ رائے معززین کے مشورہ سے شبِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عام دعوت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے جس میں بلااستثناء ہر خاص و عام کو شرکت کی اجازت ہوتی تھی۔ اس محفل میں اعلیٰ قسم کے قالینوں کا فرش اور منقش پھول دار چادریں بچھائی جاتیں۔ سنہرے کارچوبی غلافوں والے گاؤ تکیے لگائے جاتے تھے۔ ستونوں کے برابر بڑے بڑے شمع دان روشن کیے جاتے تھے۔ بڑے بڑے دسترخوان بچھائے جاتے تھے۔ بڑے بڑے گول اور خوش نما نصب شدہ بخور دانوں میں بخور سلگایا جاتا تھا، جو دیکھنے والوں کو پگھلایا ہوا سونا معلوم ہوتا تھا۔ پھر تمام حاضرین کے سامنے اَنواع و اَقسام کے کھانے چنے جاتے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ موسم بہار میں رنگا رنگ پھول کھلے ہوئے ہیں، ایسے کھانے جن کی طرف دل کو رغبت ہو اور جنہیں دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں۔ ان محفلوں میں اعلیٰ قسم کی خوشبوئیں بسائی جاتی تھیں جن کی مہک سے فضاء معطر ہو جاتی تھی۔ مہمانوں کو حسب مراتب ترتیب وار بٹھایا جاتا تھا، یہ ترتیب جشن کی مناسبت سے دی جاتی تھی۔ حاضرین پر عظمتِ نبوت کا جلال و وقار چھایا رہتا تھا۔ انعقادِ محفل کے بعد سامعین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب و فضائل اور ایسے پاکیزہ خیالات و نصائح سنتے جو انہیں گناہوں سے توبہ کی طرف راغب کرتے۔ خطباء اسلوب بیان کے مد و جزر اور خطاب کے تنوعات سے سامعین کے قلوب کو گرماتے اور سامعین کو لذت اندوز کرتے تھے۔ ’’ہمارے زمانہ میں بھی مسلمانان عالم اپنے اپنے شہروں میں میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ مصر کے علاقوں میں یہ محفلیں مسلسل منعقد کی جاتی ہیں اور ان میں برابر میلاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ فقراء و مساکین کو خیرات تقسیم کی جاتی ہے۔ خاص طور پر قاہرہ میں اس روز ظہر کے بعد ایک پیادہ جلوس کمشنر آفس کے سامنے سے گزرتا ہوا عباسیہ میدان کی طرف روانہ ہوتا ہے جو پولیس کے حفاظتی دستوں کے ساتھ سڑکوں سے گزرتا ہے۔ یہ جلوس مقاماتِ غوریہ، اشراقیہ، کوئلہ بازار اور حسینیہ سے گزرتا ہوا عباسیہ میدان پر ختم ہوتا ہے۔ ان راستوں پر ہجوم بڑھتا جاتا ہے، جلوس کے آگے پولیس کے سوار دستے ہوتے ہیں اور دونوں طرف فوج کے کچھ افسر ہوتے ہیں۔ مصر میں یہ مبارک دن حکومت کی طرف سے منایا جاتا ہے۔ چنانچہ عباسیہ میں وزراء و حکام کے لیے شامیانے نصب کیے جاتے ہیں اور خود شاہِ وقت یا ان کے نائب جلسہ گاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ شاہ کے پہنچنے پر فوج سلامی دیتی ہے، پھر وہ شامیانے میں داخل ہوتے ہیں اور پھر صوفیاء اور مشائخ طریقت اپنے اپنے جھنڈے لیے وہاں حاضر ہو کر ذکر میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سماعت فرماتے ہیں۔ ختم محفل پر حاکمِ مصر میلاد کا بیان کرنے والے کو شاہانہ خلعت عطا فرماتے ہیں، پھر حاضرین میں شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اور شربت پلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد توپوں کی گونج میں شاہانہ سواری مراجعت فرما ہوتی ہے، پھر شام کے وقت خیموں پر نصب شدہ قمقمے روشن کیے جاتے ہیں۔ بہترین آتش بازی چھوڑی جاتی ہے۔ اس دن تمام دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے۔ نیز بمقام مشہد حسینی کمشنر مصر کی موجودگی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان ہوتا ہے۔ آج کل مذہبی علماء اور بے دار مغز حکام کی توجہات و مساعی جمیلہ سے بیشتر مروجہ بدعتوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ ’’یہ جشن میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہتمام کا بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی ہم حکامِ وقت سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہر برائی جو دین کے خلاف ہے اور وہ تمام غیر ضروری باتیں جو ان مبارک مجالس کے موقعوں پر رواج پاگئی ہیں انہیں سختی سے روک دیا جائے کیوں کہ یہ باتیں اسلام کی خوبیوں کو داغ دار بنا دیتی ہیں اور مجالسِ میلاد کے انعقاد کے پاکیزہ مقاصد کو مفاسد سے آلودہ کر دیتی ہیں۔‘‘ محمد رضا، محمد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : 26. 28 54۔ علمائے دیوبند کا متفقہ فیصلہ (1325ھ) حرمین شریفین کے علمائے کرام نے علمائے دیوبند سے اِختلافی و اِعتقادی نوعیت کے چھبیس (26) مختلف سوالات پوچھے تو 1325ھ میں مولانا خلیل احمد سہارن پوری (1269۔ 1346ھ) نے اِن سوالات کا تحریری جواب دیا، جو ’’المھند علی المفند‘‘ نامی کتاب کی شکل میں شائع ہوا۔ اِن جوابات کی تصدیق چوبیس (24) نام وَر علمائے دیوبند نے اپنے قلم سے کی، جن میں مولانا محمود الحسن دیوبندی (م 1339ھ)، مولانا احمد حسن امروہوی (م 1330ھ)، مفتی اعظم دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن (م 1347ھ)، مولانا اشرف علی تھانوی (م 1362ھ) اور مولانا عاشق اِلٰہی میرٹھی بھی شامل ہیں۔ اِن چوبیس (24) علماء نے صراحت کی ہے کہ جو کچھ ’’المھند علی المفند‘‘ میں تحریر کیا گیا ہے وہی ان کا اور ان کے مشائخ کا عقیدہ ہے۔ کتاب مذکورہ میں اِکیسواں سوال میلاد شریف منانے کے متعلق ہے۔ اس کی عبارت ہے : أتقولون أن ذکر ولادته صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح شرعًا من البدعات السيئة المحرمة أم غير ذلک؟ ’’کیا تم اس کے قائل ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر شرعاً قبیح سیئہ، حرام (معاذ اﷲ) ہے یا اور کچھ؟‘‘ علمائے دیوبند نے اِس کا متفقہ جواب یوں دیا : حاشا أن يقول أحد من المسلمين فضلاً أن نقول نحن أن ذکر ولادته الشريفة علية الصلاة والسلام، بل وذکر غبار نعاله وبول حماره صلي الله عليه وآله وسلم مستقبح من البدعات السئية المحرمة. فالأحوال التي لها أدني تعلق برسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ذکرها من أحب المندوبات وأعلي المستحبات عندنا سواء، کان ذکر ولادته الشريفة أو ذکر بوله وبزاره وقيامه وقعوده ونومه ونبهته، کما هو مصرح في رسالتنا المسماة بالبراهين القاطعة في مواضع شتي منها. ’’حاشا کہ ہم تو کیا کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت شریفہ کا ذکر بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے گدھے کے پیشاب کے تذکرہ کو بھی قبیح و بدعتِ سئیہ یا حرام کہے۔ وہ جملہ حالات جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذرا سی بھی نسبت ہے ان کا ذکر ہمارے نزدیک نہایت پسندیدہ اور اعلی درجہ کا مستحب ہے، خواہ ذکر ولادت شریف کا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بول و براز، نشست و برخاست اور بے داری و خواب کا تذکرہ ہو۔ جیسا کہ ہمارے رسالہ ’’براہین قاطعہ‘‘ میں متعدد جگہ بالصراحت مذکور ہے۔‘‘ سهارن پوري، المهند علي المفند : 60، 61 اِس سارے لٹریچر کی موجودگی میں اِسلامی تاریخ سے لاعلمی اور جہالت ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اِنگلستان، امریکہ، یورپ اور عرب دنیا میں نام نہاد دانش وَر اور مقررین اپنی تقریروں کے ذریعے نئی نسل کو یہ کہہ کر گمراہ کر رہے ہیں کہ اِنعقادِ میلاد کی کوئی حیثیت نہیں، یہ ایک بدعت ہے جس کا وجود صرف پاکستان اور ہندوستان میں ہے، اس کے علاوہ اور کہیں نہیں۔ اگر ان کی یہ بات مان لی جائے تو اسلامی تاریخ کی تمام نام وَر علمی شخصیات جن کا حوالہ ہم اوپر دے چکے ہیں بدعتی قرار پاتی ہیں۔ اس میں ان کے متبعین کو بھی بدعتی کا لقب ملے گا۔ پھر پوری اِسلامی تاریخ میں بدعت کے فتویٰ سے کوئی نہیں بچے گا اور پورے اسلام پر بدعت کی اِس اِلزام تراشی کی زَد سے کوئی محفوظ نہیں ہوگا۔ اور عالم اسلام کی جملہ تاریخ کےو آئمہ و احادیث کے اقوال کی روشنی میں یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانا امت مسلمہ کا ہمیشہ سے متفقہ عقیدہ رہا ہے۔ حتی کہ اہلحدیث مسلک کے قدیم علما علامہ ابن تیمیہ اور برصغیر کے دیگر غیر مقلد علما بھی اسے ناجائز نہ جانتے تھے۔ لیکن گذشتہ کچھ دہائیوں یا کم و بیش پون صدی سے جب سے سعودی عرب کی طرف سے ایک مخصوص فکر کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور ملت اسلامیہ کے اندر عدم برداشت، انتہا پسندی حتی کہ دہشت گردی جیسے رویوں نے جنم لیا۔ تب سے بدقسمتی سے ہم نے دین کے متفقات کے اندر بھی ہٹ دھرمی کا رویہ اپنا کر اپنے عقیدہ و نظریہ کے علاوہ ہر عمل ، ہر فکر، ہر سوچ کو باطل قرار دینا شروع کر دیا۔ یہ بھی عرض کردوں کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی منانے کے جواز پر ابھی کئی مزید جہات سے گفتگو کی جاسکتی ہے۔ لیکن قرآن و سنت اور آئمہ و محدثین کے معمولات پڑھ لینے کے بعد بحمداللہ تعالی اعتراضات کا جواب خوبی مل جاتا ہے اور ایک صاحب ایمان کا دل اطمینان پا کر اپنے پیارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مقدسہ پر بارگاہ الہی میں بےاختیار شکر بجا لاتا ہے۔ بات پھر وہی آجاتی ہے کہ قرآن و سنت اور اقوال و اعمال آئمہ و محدثین سے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ واضح طور پر جائز و مستحب ثابت ہوجانے کے بعد سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے دل کے لیے ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوش ہونا ایک فطری امر بن جاتا ہے۔ حوالہ جات کے لیے شکریہ ۔ "میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم " |
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | مفتی (18-11-11) |
|
|
#27 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
میں سمجھا تھا آپ خود لکھ رہے ہیں۔ لیکن آخری مراسلے سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ سے کاپی کیا ہے اور یہ تحریر آپ کی نہیں۔ اسلامی سیکشن میں کاپی پیسٹ کی اجازت نہیں۔ جواب لکھنے سے قبل انتظامیہ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (06-02-10), عادل سہیل (08-02-10) |
|
|
#28 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فروغ علم دین اور اشاعت اسلام کے لیے وقت بچاتے ہوئے اگر میرے موقف کی تائید میں کوئی تحریر دستیاب ہے۔ اور اس پر حقوق اشاعت کی پابندی بھی نہیں ۔ یعنی کاپی رائیٹ بھی نہیں۔ تو میرے خیال میں وقت کے بچانے کے لیے دستیاب مواد کو نیک مقصد کے لیے یہاں منتقل کرنا کوئی حرج کی بات نہیں۔ کاپی پیسٹ ، جرم ہوتا ہے اگر مصنف کی طرف سے پابندی ہو۔ اگر مصنف نے دین اسلام کی اشاعت کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی تو وقت کے بچانے کے لیے علم کو منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر غور کیا جائے تو ۔۔ اپنی تحریر تو کسی کی بھی نہیںہوتی ۔ قرآنی آیات ، قرآن سے کاپی ۔ احادیث کے حوالہ جات ۔ احادیث سے کاپی۔ آئمہ کے اقوال ۔ آئمہ سے کاپی۔ البتہ بیچ میں جہاں ضروری تھا ۔ میں نے اپنی رائے ضرور دی ہے۔ زیادہ تر حوالہ جات کے لیے وقت بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ورنہ یہی تحریر طویل وقت صرف کرتے ہوئے انسان اپنے لفظوں میں خود بھی لکھ سکتا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ہمیں حلال روزگار کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مارنے ہوتے ہیں اور محض انٹرنیٹ پر بحث مباحثے ہمارا پیشہ نہیں ۔ البتہ اگر کاپی پیسٹ کا الزام لگانے کی بجائے علمی انداز میں ان تحریروں کا جواب دے سکیں تو مجھے بھی خوشی ہوگی اور قارئین کو بھی غیر جانبدارانہ انداز میں پڑھ کر حق کو پہچاننے میں آسانی ہوسکے گی۔ اس لیے آپ علمی انداز میں قرآنی آیات و سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ایک جائز کام کو ناجائز ثابت کرنے کی علمی سعی کیجئے۔ انتظار رہے گا۔ والسلام ۔ |
|
|
|
|
|
|
#29 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
انتظامیہ نے کافی غوروخوض کے بعد صرف اسلامی سیکشن میں کاپی پیسٹ پر پابندی لگائی تھی۔ اس کے نقصانات بھی ہیں لیکن تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ فوائد زیادہ ہیں۔ بہرحال یہ آپ کا اور انتظامیہ کا معاملہ ہے، مجھے بھی فیصلے کا انتظار ہے۔ آپ کی طرح میں بھی غم روزگار کا شکار ہوں۔ آپ کے انداز بیان میں پنہاں لطیف طنز سے عیاں ہوتا ہے کہ آپ مجھے پیشہ ور لکھاری سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میرا تعلق الیکٹرونکس انجینرنگ سے ہے اور غم روزگار میں پسے ہوئے اکثر قارئین کی نسبت زیادہ طویل ڈیوٹی ختم کر کے محض اللہ کے سامنے جوابدہی کے ڈر سے لکھتا ہوں۔ اسی لیے انتظامیہ کے فیصلے کا انتظار ہے کیوں کہ اس بارے میں میرے تلخ تجربات کا ایک سلسلہ ہے کہ سخت محنت کے بعد مضمون تیار کیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ خلاف قانون ہونے کی وجہ سے سارا تھریڈ ہی ردی کی ٹوکری میں جا پڑا۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#30 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
نعیم بھائی السلام علیکم،
میںنے آپ کے تھریڈ کو بغور پڑھا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اس تھریڈ میںآپ کی جانب سے اسلامی سیکشن میں"کاپی، پیسٹ" کی پابندی کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اگرچہ آپ کے دلائل میںبھی وزن ہے مگر ہم اس سے پہلے بھی اسی وجہ کی بنا پر کئی تحاریر کو ردی کی ٹوکری کی نظر کرچکے ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی جانب سے "کاپی پیسٹنگ" کے اقرار کے بعد اس تھریڈ کو جلد ہی "ردی کی ٹوکری" میں بھیج دیا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ انتظامیہ کی مجبوری کو سمجھیں گے۔ شکریہ! |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | sahj (17-02-10), محمدعدنان (16-02-10), راجہ اکرام (09-02-10), عادل سہیل (08-02-10), عبداللہ حیدر (06-02-10) |