| ایمان ایمان |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم!
سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے حدیث اور سنت دونوں ہی دو مشھور اصطلاحات ہیں ۔ لہذا قرآن پاک میں لفظ سنت بھی استعمال ہوا ہے اور حدیث بھی اور اسی طرح خود حدیث پاک میں ان دونوں الفاظ کا مستعمل ہونا ملتا ہے حدیث اور سنت کے بارے میں علماء کے ایک گروہ کی رائے تو یہ ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف ہیں سو اس لحاظ سے ایک ہی معنٰی اور مفھوم میں لیئے جاتے ہیں اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ حدیث ایک عام چیز ہے جبکہ سنت اس سے خاص یعنی حدیث تو ہر وہ چیز ہے کہ جسکی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جائے کہ جس میں صحیح ،حسن ،ضعیف ،منکر اور موضوع روایات بھی شامل ہیں اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے کہ جو فقط احادیث صحیحہ کی بنیاد پر ثابت ہوتا ہو اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طے کیا ہوا طریقہ ہو جسکو کہ آپ نے اپنی امت کو سکھایا اور جو قرآن پاک کے منشاء و معنٰی کی تفسیر و تشریح کرتا ہے اور جو اپنی عملی صورت میں اسی قرآنی منشاء کی تکمیل کرتے ہوئے عملی تشکیل بھی کرتا ہے اسی خاص طریقہ کا نام سنت ہے ۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ دونوں اصطلاحات یعنی حدیث اور سنت الگ الگ معنٰی و مفھوم رکھتی ہیں علم حدیث کا ایک الگ موضوع ہے اور علم سنت کا بالکل ایک الگ مفھوم اس لحاظ سے وہ سنت کی حدیث سے الگ تعریف بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ سنت فقط طریقہ متبعہ کو کہا جائے گا یعنی وہ طریقہ کہ جسے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہو فقط وہی سنت کہلائے گا ۔ درج زیل میں ہم لفظ حدیث اور سنت دونوں کے لغوی معٰنی قارئین کی سہولت کے لیے واضح کردیتے ہیں ۔۔ لفظ حدیث لغوی معنٰی :- لفظ حدیث کہ جسکو ایک خاص فن کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے عربی زبان میں اس کے متعدد معنٰی ہیں مثلا عربی زبان میں حدیث کے معنی گفتگو کے بھی ہیں اور نئی چیز، نئی بات کو بھی عربی میں حدیث کہتے ہیـں اس کے علاوہ کوئی قابل زکر واقعہ کوئی گفتگو یا کوئی کلام اسکو بھی عربی میں حدیث کہتے ہیں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشھور فرمان ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ "خیر الحدیث کتاب اللہ یا ایک جگہ فرمایا کہ احسن الحدیث کتاب اللہ " یعنی سب سے بہتر بات یا سب سے اچھا کلام اللہ کا کلام ہے ۔ ۔ ۔ لفظ سنت کے لغوی معنٰی :- لفظ سنت کے لغوی معنٰی روش، دستور، رواج، طریقہ، عادت، راہ، یا قانون کے ہیں جیسا کہ خود حدیث پاک میں یہی لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فعمل بھا بعدہ کتب لہ مثل اجر من عمل بھا ولا ینقص من اجورھم شئی ۔ ۔ ۔ یہاں سنۃ حسنۃ سے مراد طریقہ یا رواج کہ ہیں اور یہاں لفظ سنت اپنے فقہی یا اصولی یا اصطلاحی معنوں میں نہیں بلکہ لغوی معنوں میں ہے ۔ ۔ ۔ اسلامی شریعت کی رو سے سنت کے معروف معنٰی تو وہ طرز عمل ہے کہ جس کی دعوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور جسکو قائم کرنے کے لیے رسول دنیا میں بھیجے گئے اور جو صحابہ کرام نے آپ سے سیکھ کر اختیار کیا اور پھر نسلا بعد نسلا آگے منتقل کیا اس طریقہ کو عربی زبان میں سنت کہا جاتا ہے اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن و سنت دونوں شریعت کے بنیادی ماخذ ہیں تو اس وقت ہماری مراد اسی مفھوم میں سنت ہوتی ہے ۔ سو اس لحاظ سے لفظ سنت اصطلاحا متعدد معنٰی میں استعمال ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے لغوی معنی میں کہ جیسے ہم اوپر بیان کرچکے ۔ ۔ لفظ سنت علماء اصول کی اصطلاح میں :- علماء اصول کی اصطلاح میں سنت سے مراد وہ معروف طریقہ رسول ہے کہ جسکو نافذ کرنے کے لیے پیغمبر دنیا میں آئے اور جس پر مسلمان عمل کرتے ہیں اور جو شریعت کے احکام کا ماخذ و مصدر ہے اور جو ہم تک تین طریقوں سے پہنچا ہے کہ جن کی وضاحت ہم آگے چل کر کریں گے ۔ محدثین کی اصطلاح میں لفظ سنت کا مفھوم :- محدثین کے ہاں لفظ سنت کی اصطلاح سنت کے معروف معنٰی یعنی اس طرز عمل پر بولی جاتی ہے کہ جس کی دعوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی اور جسکو قائم کرنے کے لیے رسول دنیا میں آئے اور جو صحابہ کرام نے آپ سے سیکھ کر اختیار کیا اور پھر نسلا بعد نسلا آگے منتقل کیا اسی طریقہ کو عربی زبان اسلامی شریعت کی رو سے سنت کہا جاتا ہے اور یہ ہم تک تین واسطوں یا طریقوں سے پہنچتا ہے اور انھی تین طریقوں کو بنیاد بناتے ہوئے محدثین کرام سنت کو تین اقسام میں تقسیم فرماتے ہیں یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول فعل یا تقریر کو محدثین کے ہاں سنت (حدیث) کہا جاتا ہے محدثین کے ہاں سنت تک رسائی کے اعتبار سے فقط تین طریقے معروف ملتے ہیـں کہ جن کو بنیاد بناتے ہوئے محدثین نے سنت کی تین اقسام بیان کی ہیں ۔ نمبر ایک سنت قولی یا حدیث قولی نمبر دو سنت فعلی یا حدیث فعلی نمبر تین سنت تقریری یا حدیث تقریری اس کے علاوہ تمام اصولیین ، محدثین اور فقہاء کی کتابوں کو کھنگال لیا جائے آپ کو کہیں بھی ان تین طریقوں کے سوا سنت تک رسائی کا کوئی چوتھا طریقہ نہیں ملے گا اور اگر کہیں ملے گا بھی وہ شاذ کہلائے گا ۔ نوٹ :- جیسا کہ یہاں سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ کی ایک غیر معروف، شاذ تقسیم کو بیان کیا گیا حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل کے ترک کو سنت سے تعبیر کرنا دین میں کئی مفاسد کا ملتزم ہے کہ جسکو ہم آخر میں بیان کریں گے ۔ ۔ ۔ خیر ہم درج زیل میں محدثین کے ہاں جو سنت کی تین معروف اقسام بطور سنت تک رسائی کا طریقہ ہیں انکو ترتیب وار وضاحت سے بیان کریں گے ۔ ۔ سنت قولی :- سنت کی تین قسموں میں سے سب سے پہلی ہے سنت قولی، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسیے ارشادات مبارکہ کہ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک قول سے کسی امر کی وضاحت کی ہو یا کسی امر کا حکم دیا ہو اور صحابہ کرام نے اسے بعینہ سن کر ہم تک پہنچا دیا ہو جیسے مشھور حدیث " انما الاعمال بالنیات " یہ سنت قولی کی ایک مثال ہے ۔ ۔ سنت فعلی :- سنت کی ایک قسم سنت فعلی ہے اور اس سے مراد صحابہ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مبارک عمل کو روایت کرنا یا نقل کرنا ہے ۔ یعنی سنت قولی یہ ہے کہ کسی صحابی نے نبی کریم کا کوئی مبارک فرمان سن کر اسے بعینہ ہم تک پہنچا دیا اور سنت فعلی یہ ہے کہ کوئی صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مبارک عمل دیکھے اور اسے اپنی زبان یا اپنے الفاظ میں اپنے بعد والوں کے لیے بیان کردے تو وہ سنت فعلی کہلائے گا ۔ سنت تقریری :- سنت کی تیسری قسم سنت تقریری ہے کہ جس میں نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل نقل کیا جائے اور نہ ہی عمل نقل کیا جائے بلکہ کسی اور کا کوئی عمل اور فعل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا ہو اور آپ نے اس پر خاموشی فرمائی ہو یعنی آپ نے اسکی ممانعت نہ فرمائی اور نہ ہی اسے ناجائز کہا ہو اسے سنت تقریری کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو عربوں میں بہت سے طور و طریقے مختلف امور میں رواج پاچکے تھے لہذا ان طور طریقوں میں سے جس چیز کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلاف شریعت پایا اسکی ممانعت فرمادی اور جس طریقے کو خلاف نہیں پایا ہاں البتہ اسکے کسی جز میں کسی اصلاح کی گنجائش ہوئی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جز کی اصلاح فرمادی اور باقی طریقے کو جوں کا توں روا رکھا اور جن امور میں کسی اصلاح کی گنجائش نہ تھی ان امور کو ویسے ہی چلتے رہنے دیا اور صحابہ کرام ان امور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و اطلاع کے اندر اندر رہتے ہوئے کرتے رہے ان سب امور کو بھی سنت تقریری کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ فقہاء کی نظر میں سنت کی اصطلاح کا مفھوم :- فقہاء کے نزدیک لفظ سنت کا مفھوم وہی ہے جو کہ آپ نے عام بول چال میں بھی سنا ہوگا کہ دو رکعت سنت ہیں یا چار رکعت سنت ہیں اور تین رکعت واجب ہیں اور دو رکعت فرض ہیں یہاں پر فرض اور واجب کے مقابل جو لفظ سنت بولا جاتا ہے اسے فقہی اعتبار سے سنت کہا جاتا ہے اور اس کا مفھوم مندرجہ بالا تمام مفھومات سے جدا ہے اور اسکی ضرورت کسی بھی شرعی امر کی حیثیت کا تعین ہے ۔ اور آگے پھر اسکی متعدد اقسام اور جہات ہیں یعنی سنت موکدہ اور سنت غیر موکدہ وغیرہ ۔۔۔ اب آخر میں ہم تھوڑی روشنی اس امر پر ڈالیں گے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو ترک کرنا بھی شریعت کی کوئی دلیل بن سکتا ہے اور اگر بن سکتا ہے تو اس سے کیا کیا مفاسد آسکتے ہیں ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے یہ جان لیں کہ اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ لہزا اول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے جو احکام آپ دیں انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے اور دوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔ کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۔ ۔ ۔ ۔ Oالحشرہ 7ترجمہ :-اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو، ۔ ۔ پس ثابت ہوا کہ شریعت کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی امر کا حکم کرنا اور کسی امر سے منع فرمانا ہے نہ کہ آپ کا کسی امر کو ترک فرمانا کبھی بھی شریعت کی دلیل بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اوپر آیت میں صاف صاف وضاحت ہے کہ نبی جس چیز کا حکم دیں وہ کرو اور جس سے منع کریں اس سے بعض رہو یہ نہیں کہا گیا کہ نبی جو کام خود بھی نہ کرئے وہ تم بھی نہ کرو یعنی ترک فعل ۔ ۔ اور اگر اس طرح ہو تو پھر کئی قرآنی آیات اور احادیث کا آپس میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے اور اسلام کے سب سے بڑے اصول اباحت کا قلع قمع ہوجائے کہ مباح تو کہتے ہی اس امر کو ہیں کہ جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ خود کیا ہو اور نہ کرنے کا حکم دیا ہو بلکہ جس پر سکوت فرمایا جیسا کہ " وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ " کی حدیث سے بھی ظاہر ہے اور یہ حدیث دلیل ہے کہ اشیاء میں اصل اباحت ہے ۔۔ علامہ ابن حجر اسی اصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فتح الباری میں رقم طراز ہیں کہ ۔ ۔ عدم النقل لا یدل علی عدم الوقوع ثم لو سلم لایلزم منہ عدم الجواز ۔ ۔ یعنی عدم نقل عدم وقع پر دلالت نہیں کرتا اور اگر یہ مان بھی لیا جائے تو تب بھی اس سے عدم جواز کو ثابت نہیں کیا جاسکتا اسی طرح مواہب لدنیہ میں آیا ہے کہ الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لا یدل علی المنع ۔ ۔ یعنی کسی کام کا کرنا اسکے جواز کی دلیل ہے اور کسی کام کا نہ کرنا ہرگز اس کے منع کی دلیل نہیں اور اسی طرح فتح القدیر جلد اول میں ہے کہ کسی شئے سے سکوت اس کے ترک کا تقاضا نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل کو ترک کرنے سے اس کا سنت نہ ہونے پر عقلی دلائل :- سب سے پہلا قرینہ تو یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترک سے کوئی عمل ترک کی سنت قرار پاتا ہے تو پھر قرآن پاک جو کہ ادلہ اربعہ کا اول ماخذ ہے اس کے ترک سے بدرجہ اولٰی کسی فعل کا ترک کرنا ضروری ہوگا دوم اوپر سنت کی جتنی بھی اقسام بیان کی گئی ان سب پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات کھل کر واضح ہوجاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو کرنا یا کسی فعل کا حکم دینا یا پھر اصحاب کرام کا کسی فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انجام دینا اور آپ کا اس پر خاموش رہنا کے علاوہ بھی سنت کی تفہیم کا کوئی اور زریعہ ہوتا تو تمام محدثین اسے بھی اصول دین میں ضرور بیان کرتے اور جس طرح نبی کریم کا قول و فعل یا تقریر سنت کہلاتی اسی طرح آپکا ترک فعل بھی سنت کہلاتا ۔ ۔ ۔ اور پھر سنت یا حدیث کی چار قسمیں بیان کی جاتیں ۔ ۔ ۔ سوم اگر ترک فعل ممانعت کی دلیل ہے تو پھر مباحات کا جو دائرہ ہے شریعت میں وہ کہاں جائے گا پھر چاہیے تھا کہ جن جن کامون کو رسول اللہ نے ترک کیا صحابہ بھی ترک کرتے مثلا قرآن کا ایک مصحف میں جمع کرنا ۔ تراویح کی باقاعدہ جمعات کا اجراء اور جمعہ کی اذان ثانی وغیرہ کہ ان سب کاموں کو نبی کریم نے ترک فرمایا ۔ ۔ ۔ اس کے علاوہ بھی شریعت نے آسانی اور یسر کا جو راستہ مہیا کیا ہے یہ اس کے دائرہ کار کو مقید کرنے والی بات ہے کہ ایک کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ کریں تو اسے بھی نبی کریم کی سنت قرار دے کر اس سے منع کردیا جائے ۔ ۔ ۔ والسلام Last edited by آبی ٹوکول; 17-03-10 at 03:45 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (23-08-09), فیصل ناصر (23-08-09), کنعان (12-09-09), طاھر (23-08-09), عبداللہ حیدر (23-08-09) |
| کمائي نے آبی ٹوکول کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 23-08-09 | muhammad asif virani | حق آیاباطل بھاگا | 50 |
|
|
#16 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#17 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
أَنَّ الْفِعْل يَدُلّ عَلَى الْجَوَاز ، وَعَدَم الْفِعْل لَا يَدُلّ عَلَى الْمَنْع بَلْ يَدُلّ عَلَى أَنَّ تَرْكه أَرْجَح مِنْ فِعْله (فتح الباری کتاب الطب باب من اکتویٰ او کوی و فضل من لم یکتو) "کسی کام کا کرنا اسکے جواز کی دلیل ہے اور کسی کام کا نہ کرنا اس کے منع کی نہیں بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسے بجا لانے کی نسبت ترک کر دینا زیادہ افضل اور بہتر ہے" فتح الباری میں اس جملے کے سیاق و سباق کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ نے یہ بات کسی نئی عبادت یا عقیدے کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ آگ سے زخموں کو دغوانے کے ایک مسئلے کی شرعی حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئےکہی ہے اور اس پر بھی ان کا موقف ترک کے افضل ہونے کا ہے۔ آپ ہی بتائیے کہ ائمہ کی ادھوری بات نقل کر کے دلائل تراشنا کہاں کی علمی دیانت ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ Last edited by عبداللہ حیدر; 19-03-10 at 01:06 AM. |
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | عادل سہیل (20-03-10) |
|
|
#18 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
تو اب آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپکا "سنت فعلیہ اور سنت ترکیہ " والا مراسلہ مطلقا سنت کی تفہیم کے باب میں نہیں تھا بلکہ آپ سنت کا تعین عقیدہ و عبادت کے باب میں سنت کی تخصیص سے فرما رہے تھے ۔ تو میرے بھائی آپ سے کس نے کہا تھا کہ اول سنت کی مطلقا دو قسمیں بیان کریں ؟؟؟؟؟ جب ہم نے آپکی تقسیم پر اعتراض کیا کہ اس طرح سے شریعت کے مباحات کا دائرہ ختم ہوجائے گا اور اصول اباحت کا قلع قمع ہوجائے گا تو اب آپ کہہ رہے کہ سنت کی یہ تقسیم فقط عقیدہ و عبادات کے باب میں ہے حالانکہ آپکا یہ قول بھی محتاج دلیل ہے ۔ ۔خیررررر دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے؟ اقتباس:
یہ ٹھیک ہے یہ حدیث ایک مخصوص کونٹیسٹ میں آئی ہے لیکن اس سے جو اصول اخذ ہورہا ہے وہ عمومی ہے اور حدیث کے الفاظ اس پر شاہد ہیں یعنی "ما سکت عنہ فھو عفا عنہ" اس میں جو لفظ " ما " آیا ہے اس میں تمام اشیاء آگئی ہیں یہاں ما اپنے عموم پر ہے یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ جو اللہ نے حلال کیا وہ حلال جو حرام کیا وہ حرام اور جس پر سکوت کیا وہ جائز ۔ ۔ ۔ ۔ اقتباس:
اقتباس:
آپ نے اصول اباحت کو جو فقط کھانے پینے یا دیگر معاملات تک محدود مانا ہے وہ اول تو محتاج دلیل ہے اور دوم اصول اباحت کی غلط تشریح ہے حق یہ ہے کہ شریعت نے جہاں جہاں بھی وسعت رکھی ہے چاہے عبادات ہوں یا معاملات وہاں وہاں پر اپنی طرف سے حدود قیود لگانا منع ہے اور بالکل اسی طرح جہاں جہاں جو جو اشیاء شریعت نے معین و مقرر فرمادی ہیں ان سے تجاوز کرنا بھی شریعت کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے ۔ ۔ ۔عقائد کا اصول اباحت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ عقائد چاہے ظنی ہوں یا قطعی دونوں ہی ورود نصوص کے محتاج ہوتے ہیں چاہے وہ نصوص قطعی ہوں یا ظنی ۔ ۔ ۔ جبکہ اصول اباحت فقہی احکام کی تبیعین کی ایک شرعی اصطلاح ہے اور اس کے ورود کا تحقق ہی وہاں ہوتا ہے جہاں نصوص ناپید ہوں ۔ ۔رہ گئی عبادات ۔ ۔ تو عبادات سے اگر آپکی مراد شریعت کے وہ چند افعال مخصوصہ ہیں کہ جن کی ہیئت و کیفیت تعداد مقدار شریعت نے مقرر کردی ہے تو اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہاں پر شریعت کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز جائز نہیں اور یہاں بھی اصول اباحت لاگو نہیں ہوتا کیونکہ اصول اباحت لاگو ہی وہاں ہوتا ہے کہ جہاں شریعت خاموش ہو ۔ ۔ مثلا نماز ہی کو لے لیں ۔ ۔ شریعت نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کیں ۔ ۔اور اس پر واضح نصوص ہیں اب اگر کوئی چھٹی نماز کو فرض کے درجہ میں لازم جانے تو اس نے شریعت کی حد کو توڑا کیونکہ کہ فرض خود سے نہیں کیا جاسکتا اس کے لیے نص قطعی چاہیے اور اگر کوئی جاہل اصول اباحت سے استدلال کرتے ہوئے کسی نئی نماز کا فرض کے درجے میںتحقق کرے تو اس پر سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا کہ ایسا شخص جاہل مطلق ہے جو کہ شرعی اصولوں سے ناواقف ہے ۔ ۔ بالکل اسی طرح نماز کے اندر جو بعض مخصوص افعال مقرر کردہ ہیں کہ جنکی ہیت و کیفیت و مقدار و تعداد شریعت نے معین فرمادی ہے ان میں بھی کمی بیشی جائز نہیں جیسے دو کی جگہ ایک یا تین سجدے یا دو رکوع وغیرہ وغیرہ لیکن دوسری طرف اسی نماز جو کہ عبادت ہے اس میں جو غیر مخصوص افعال ہیں یعنی جن میں شریعت نے وسعت رکھی ہے وہاں اگر کوئی کمی یا بیشی کرتا تو وہ جائز ہے مثلا تسبیحات رکوع و سجود قیام و جلوس کی معین تعداد شریعت نے مقرر نہیں کی کوئی بھی شخص ان تسبیحات کو اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ پڑھ سکتا ہے اور اس پر ہماری دلیل بخاری و مسلم کی وہ متفق علیہ روایت کہ جس میں ایک صحابی کا قومہ کی حالت میں " ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ "کے الفاظ مبارکہ کہنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسکی تحسین فرمانا ہے اور اسکے اس عمل کو مشروع فرمانا ہے ۔ نوٹ :- گو کہ یہ سنت کی تقریری قسم ہوئی مگر آپ اپنے دعوٰی کے اعتبار سے اس حدیث کا اگر بغور جائزہ لیں تو حدیث میں آپکے دعوٰی کی تغلیظ ہے کیونکہ اگر آپ کا اصول مانا جائے تو صحابی نماز میں جو کہ عبادت ہے اس میں وہ عمل کیا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترک فرمایا ہوا تھا لہزا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر ناراض ہونا چاہیے تھا کہ ایک عبادت مخصوصہ میں تم نے مجھ سے تجاوز کیوں کیا ؟؟؟ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی لہزا یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر رحمہ اللہ کو بھی لکھنا پڑا کہ ۔ ۔ ۔ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں ذکر ماثورہ کے علاوہ کوئی بھی نیا ذکر کیا جا سکتا ہے مگر یہ کہ وہ شرع کے اصولوں کے خلاف نہ ہو ۔ یہ تو تھی نماز کے اندر کی ایک مثال اسی طرح سے بے شمار مثالیں ہیں کہ دن رات کی معین کردہ پانچ فرض نمازوں کے شریعت نے دوسری کوئی نماز فرض کے درجہ میں نہیں رکھی لیکن یہی نماز جب فرض سے نفل میں کنورٹ ہوتی ہے تو شرع نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی تعداد کے لحاظ سے جو چاہے دن اور رات میں جتنی چاہے نفلی نماز پڑھے ۔ ۔ اب اخر میں ہم چند امور کی مزید وضاحت کرتے چلیں کہ ۔ ۔ ۔ عبداللہ بھائی نے مراسلہ لگایا سنت کی تقسیم کو فعلیہ اور ترکیہ میں تقسیم کے اعتبار سے جس پر ہم نے انکا رد کیا اور سنت کی تعریف و تقسیم و جہات کو متفقہ شرعی اصولوں کے مطابق بیان فرمایا اور ہم نے عبداللہ بھائی کی تقسیم کا یہ کہہ کر رد کیا کہ سنت ترکیہ کا فلسفہ اگر درست مان لیا جائے تو اس سے شریعت کا اصول اباحت ختم ہوجاتا ہے جس پر عبداللہ بھائی نے پینترا بدلا اور فرمایا کہ ہمارا بیان کردہ سنت ترکیہ کا فلسفہ فقط عبادات اور اعتقادات کے باب تک محدود تھا جس پر ہم نے عرض کی کہ اعتقادات کا تو اصول اباحت سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ معاملہ ہی جدا ہے وہاں پر اصول اباحت کا کوئی دخل نہیں رہ گئی عبادات تو مطلقا وہاں بھی اصول اباحت سے گریز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ اوپر ہم نے مثالوں سے واضح کیا ۔ ۔ ۔ آپ کے سنت ترکیہ والے فسلفہ پر بے شمار اعتراضات وارد ہوتے ہیں جن میں سے کچھ ہم نے پہلے بھی نقل کیے تھے کہ انکا کوئی جواب آپ نے نہیں دیا مثلا سنت کی جتنی بھی متفقہ تعریفات ہیں معتبر کتب اصول میں آئی ہیں ان میں کہیں بھی ترک کو سنت قرار نہیں دیا گیا ہرجگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر ہی کو سنت کہا گیا ہے ترک کو کہیں بھی سنت نہیں کہا گیا اگر کسی نے کہا ہے تو ایسا قول شاذ ہوگا اس کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہوگی شریعت کے متفقہ اصول کے سامنے ۔ ۔ ۔ والسلام جاری ہے |
|||||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کہ کسی شئے کا منقول نہ ہونا یا مزکور نہ ہونا اسکے وقوع کے خلاف نہیں اور اگر یہ مان لیا جائے یعنی یہ تسلیم کرلیا جائے جو کہ شئے مذکور نہیں وہ وقوع بھی نہیں تو عدم وقوع یعنی کسی شئے کا نہ ہونا دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں عدم وقوع سے مراد ترک ہی ہے یعنی جو شئے متروک ہے وہی وقوع میں عدم ہے لہزا کسی بھی شئے کا عدم وقوع اسکے عدم جواز پر دلالت نہیں کرتا جیسا کہ اکثر اہل بدعت یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ فلاں کام صحابہ کرام کے دور میں عدم وقوع تھا یعنی ناپید تھا یا متروک تھا وغیرہ امید کرتا ہوں اب بات سمجھ میں آگئی ہوگی ۔ ۔ دوسرا آپ نے جو عیدین کی مثال نقل کی اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ آپکو حقیقت میں ترک کی حقیقت کا بھی نہیں پتا ؟؟؟؟؟؟ کہا جاتا ہے کہ ۔ ۔ الترك ليس مجرد عدم الفعل , بل الترك هو تعمد عدم الفعل , لا أقول ( تركت الغداء ) إلا إن كان أمامي ثم لم أتناوله , أما إن لم يوضع أصلا أمامي فلا أكون تاركا له یعنی :- مطلق ترک عدم فعل نہیں لیکن جان بوجھ کر ترک عدم فعل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے غذا کو ترک کیا یہاں تک کہ وہ میرے سامنے ہو اور میں اسے نہ کھاؤں لیکن اگر وہ میرے سامنے ہی نہ ہوتی تو پھر میں اسکا تارک کیسے ہوا ؟؟؟؟؟ دیکھیئے ایک ہے مطلق ترک اور ایک ہے جان بوجھ کر یعنی عمدا ترک عیدین کے موقع پر آپ سے اذان کا جو ترک ثابت ہے وہ جان بوجھ کر ترک ہے یعنی عمدا ترک ہے اور وہ اصل میں نہی ہے عدم فعل کی صورت میں ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی عیدین کا موقع بار بار آپکی حیات میں آیا اور آپ نے باوجود ہر نماز کے ساتھ اذان کہ مشروع ہونے کہ عیدین کے موقع پر اذان کو ترک فرمایا تو یہ آپکا عمدا ترک تھا ایک مخصوص موقع و مقام پر مخصوص فعل سے ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
عابد بھائی ، عدم النقل لا یدل علی عدم الوقوع ثم لو سلم لایلزم منہ عدم الجواز ۔ ۔ یعنی عدم نقل عدم وقع پر دلالت نہیں کرتا اور اگر یہ مان بھی لیا جائے تو تب بھی اس سے عدم جواز کو ثابت نہیں کیا جاسکتا اسی طرح مواہب لدنیہ میں آیا ہے کہ الفعل یدل علی الجواز وعدم الفعل لا یدل علی المنع ۔ ۔ """ عدم الفعل """" اور """ ترک الفعل """ میں بہت فرق ہے ،اُمید کرتا ہوں کہ یہ فرق آپ کی سمجھ سے خارج نہ ہوگا بس اس بحث میں داخل ہوتے ہوئے شاید کہیں ادھر ادھر ہو گیا ہو گا میرے بھائی عبادات اور عقإئد میں اصل اساس """ اباحت """ نہیں ، ورنہ تو ہر عقیدہ درست ، اور ہر عبادت صحیح ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، آپ کے عقلی دلائل تو عقلی دلائل ہی ہیں ، اور دین کے احکام کسی کی عقل سے اخذ نہیں کیے جاتے میرے بھائی ، میرا خیال تھا کہ آپ میرے پہلے مراسلے سے کچھ سمجھ کر اپنے اس پیغام پر نظر ثانی کریں گے لیکن ،،،،،،،،،،،،،،، لیجیے جلدی میں فی الحال آپ کو فقہ حنفی کے ایک بہت بڑے عالم بلکہ امام علی بن سلطان محمد القاری رحمہُ اللہ جو کہ ملا علی القاری الحنفی کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں ، کا ایک قول پیش کرتا ہوں ، اس پر غور فرمایے ، """"" والمتابعة كما تكون في الفعل تكون في الترك أيضا. فمن واظب على فعل لم يفعله الشارع فهو مبتدع ::: اور پیروی جس طرح کام کرنے میں کی جانی ہے اُسی طرح کام چھوڑ دینے میں کی جانی ہے ، لہذا جس نے کوئی ایسا کام کرنے پر اصرار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نہیں کیا تو ایسا کرنے والا بدعتی ہے """"" عابد بھائی سنتء ترکیہ کی یہ بات اور یہ حکم آپ کے مذھب کے ایک امام رحمہ اللہ کی طرف سے ہے ، اس پر غور فرمایے ، یقینا آپ کا علم ان سے زیادہ نہیں ، قلتء وقت کے عذر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں ، ان شاء اللہ جلد ہی اس موضوع پر کافی معلومات مہیا کروں گا ، چلتے چلتے آپ کے اس فرمان کے بارے میں بھی ایک دو گذارشات پیش کرتا چلوں ::: اقتباس:
بھائی میرے ذرا اس اصول کو بھی ذین نشین کر لیجیے کہ """ عدم العلم بشیءٍٍ لا یستلزم الشیءَ بعدمہِ ::: کسی چیز کے بارے میں علم نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیز ہی نہیں ہے """ اگر آپ کو سنت مبارکہ کی اس قسم کا پتہ نہیں تو فلسفوں کی بنا پر اس کا انکار کرنے سے بہتر تھا کہ آپ یہ پوچھتے کہ یہ قسم کون سے عُلماء یا ائمہ نے بیان کی ہے اور کہاں بیان کی ہے ؟؟؟ تو ہم آپ کو بتاتے ، اور اس طرح بحث والے ماحول کی بجائے ایک بہتر ماحول میں بات ہوتی ، بہرحال قدر اللہ ما شاء و فعل ، و لہ الحمد علی کل حال ، ::: جو اللہ نے چاہا مقرر فرمایا اور کیا ، اور اللہ کا ہر حال میں شکر ہے ، ان شاء اللہ پوری کوشش کروں گا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس موضوع پر زیادہ سے زیادہ معلومات مہیا کر سکوں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
اپنی اسی بات کو آپ انصاف کے ساتھ لاگو کر دیں تو بہت اصلاح ہو سکتی ہے ان شاءاللہ۔مثال کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہر سال بارہ ربیع الاول کا دن آتا رہا لیکن انہوں نے دو عیدوں کےسوا کوئی عید نہیں منائی، سب تعصبات کو ایک جانب رکھ دیجیے اور سوچیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس لیے انبیاء کا میلاد منانا اسلام نہیں صلیبیت کی یادگار ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ایسا کرتے یا کرنے کا حکم ارشاد فرماتے تو کس کی مجال تھی کہ اس پر اعتراض کرسکتا۔ پھر بظاہر اس کی ضرورت بھی تھی کہ اس کے پیچھے محبت رسول کا جذبہ ہے جو ایمان کی لازمی شرط ہے لیکن محبت کے تقاضائے ایمان ہونے کا بیان تو فرمایا مگر اس قسم کی کوئی عید نہیں منائی۔ پس معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اسے عمدًا ترک فرمایا تھا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدنی زندگی کے دس سالوں میں بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ اذان دی گئی جو تھی جو "اللہ اکبر" سے شروع ہوتی تھی، کبھی نہیں فرمایا کہ تم اس سے پہلے کچھ اضافہ کر لیا کرو یا پہلے مجھ پر صلاۃ و سلام پڑھو پھر اذان شروع کرو۔ معلوم ہوا کہ اس مقام پر صلاۃ و سلام یا کسی بھی دوسرے ذکر کو ترک کرنا سنت ہے وغیرہ۔ اس طرح کے بہت سے رواج ہیں جو دین میں داخل کر دیے گئے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں ترک فرمایا تھا۔ والسلام علیکم |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | ziamurtaza (01-08-10), آبی ٹوکول (22-03-10), طلحہ (01-08-10), عادل سہیل (21-03-10), عبداللہ آدم (21-03-10) |
|
|
#22 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#23 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
(((((((((((چاہے عبادات ہوں ))))))))))))
سب کچھ کریں عابد بھائی ہاں اتنا جان لیں کہ آپ کے اس تمام فلسفے کی شوخ الاسلام قادری صاحب سے پہلے کوئی علمی بنیاد نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال جاری رکھین آپ کی توڑ مروڑ کافی دلچسپ ہوتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#24 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#25 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام عادل بھائی آپ اپنی بات مکمل کیجیئے مجھے انتظار رہے گا اور برائے مہربانی ملا علی قاری علیہ رحمہ کی جس عبارت کو آپ نے کوٹ کیا ہے اس کا مکمل حوالہ بھی عنایت کردیجیئے مکمل متن کے ساتھ اور اگر اسکا کوئی آنلائن ربط ہے تو وہ بھی برائے مہربانی فراہم کردیجیئے مہربانی ہوگی باقی مجھے آپ کے مراسلے کا انتظار رہے گا آپ اپنی بات مکمل فرمالیں گے تو میں آپکو جواب دوں ان شاء اللہ العزیز والسلام آپکا چھوٹا بھائی
|
|
|
|
|
|
#26 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,515
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
صبر کرنے پر جزاک اللہ خیرا ، امید ہے آپ اپنے اس بھائی کی عدیم الفرصتی کا عُذر قبول کریں گے، متوقع تھا کہ امام ملا علی القاری رحمہ اللہ کا یہ فرمان آپ کے علم ہو گا ، بہرحال میرے بھائی یہ """ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح """ میں ہے اور پہلی ہی حدیث کی شرح میں زبان سے نیت کرنے کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہی گئی ہے ، اس کا عربی متن میں نے پہلے لکھ دیا ہے ، اگر آپ کو سیاق و سباق کے ساتھ متن درکار ہے تو کچھ ٹائپ کیے دیتا ہوں کیونکہ میرے پاس کوئی آن لإن لنک نہیں ، جہاں سے کاپی پیسٹ کر سکوں ، """""" قال صاحب الهداية ( ويحسن لاجتماع عزيمته ) قال المحقق الإمام ابن الهمام قال بعض الحفاظ ( لم يثبت عن رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بطريق صحيح ولا ضعيف أنه كان عليه الصلاة والسلام يقول عند الافتتاح أصلي كذا ولا عن أحد من الصحابة والتابعين بل المنقول أنه كان عليه الصلاة والسلام إذا قام إلى الصلاة كبر وهذه بدعة ) قال ( وقد يفهم من قول المصنف لاجتماع عزيمته إذا قام إلى الصلاة كبر وهذه بدعة ) قال ( وقد يفهم من قول المصنف لاجتماع عزيمته أنه لا يحسن لغير هذا القصد وهذا لأن الإنسان قد يغلب عليه تفرق خاطره فإذا ذكر بلسانه كان عوناً على جمعه ثم رأيته في التجنس قال والنية بالقلب لأنه عمله والتكلم لا معتبر به ومن أختاره أختاره لتجتمع عزيمته ) كلامه وقيل لا يجوز التلفظ بالنية فإنه بدعة والمتابعة كما تكون في الفعل تكون في الترك أيضاً فمن واظب على فعل لم يفعله الشارع فهو مبتدع و قد يقال نسلم إنها بدعة لكنها مستحسنة استحبها المشايخ للاستعانة على استحضار النية لمن احتاج إليها وهو عليه الصلاة والسلام وأصحابه لما كانوا في مقام الجمع والحضور لم يكونوا محتاجين إلى الاستحضار المذكور وقيل التلفظ شرط لصحة الصلاة ونسبوه إلى الغلط والخطأ ومخالفة الإجماع لكن له محمل عندنا مختص بمن ابتلي بالوسوسة في تحصيل النية وعجز من أدائها فإنه قيل في حقه إذا تلفظ بالنية سقط عنه الشرط دفعاً للحرج وأغرب ابن حجر وقال إنه عليه الصلاة والسلام نطق بالنية في الحج فقسنا عليه سائر العبادات قلنا له ثبت العرش ثم انقش من جملة الواردات فإنه ما ورد نويت الحج وإنما ورد اللهم إني ( ( أريد الحج ) ) الخ وهو دعاء وإخبار لا يقوم مقام النية إلا بجعله إنشاء وهو يتوقف على العقد والقصد الإنشائي غير معلوم فمع يقوم مقام النية إلا بجعله إنشاء وهو يتوقف على العقد والقصد الإنشائي غير معلوم فمع الاحتمال لا يصح الاستدلال ومع عدم صحته جعله مقيساً محال ثم قال وعدم وروده لا يدل على عدو وقوعه قلنا هذا مردود بأن الأصل عدم وقوعه حتى يوجد دليل وروده وقد ثبت أنه عليه الصلاة والسلام قام إلى الصلاة فكبر فلو نطق بشيء آخر لنقلوه عنه ،،،،،،،،،،،،، """"" لیجیے عابد بھائی ان عبارات پر غور فرمایے ، اور اس طرح غور فرمایے میرے پیارے چھوٹے بھائی کہ یہ کسی ایسے کی بات نہیں جسے آپ کچھ اور سمجھتے ہیں ، بلکہ یہ فقہ الحنفی کے ایک بڑے امام رحمہ اللہ کی باتیں ہیں ، اور ان عبارات میں سرخ کی گئی دوسری عبارت کو بھی بغور پڑھیے اس میں امام ابن حجر رحمہ اللہ کی اُس بات کو جسے آپ نے اپنے لیے دلیل بنایا ہے ، امام علی القاری رحمہُ اللہ نے """ مردود """ قرار دیا ہے ، عابد بھائی میں تہہ دل سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنی کسی بھی غلط فہمی کی اصلاح کرنے میں دیر نہ کریں ، اللہ کے علاوہ کسی کا علم کامل نہیں ، پس اگر مجھے کوئی بات صحیح دلیل کے مطابق ملے تو مجھے قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہُ سے منقول ایک قول میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ """ اسمعوا ما قیل و لا نتظروا من قال ::: سنو کہ کیا کہا جا رہا ہے اور یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے """ عابد بھائی ، میں کہیں کسی موضوع پر بحث اپنی بات درست ثابت کرنے کے لیے نہیں کرتا ، اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی گفتگو اس لیے نہیں کرتے کہ عابد عنایت کو درست ثابت کرنا ہے ، پس میرے بھائی اگر """ السنۃ الترکیۃ """ کی بابت آپ کو مناسب معلومات میسر نہ ہو سکی تھیں تو اب اُن کو حاصل کر لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان شاء اللہ خیر ہو گی ، اس موضوع پر باقی معلومات بھی ان شاء اللہ جتنی جلد ممکن ہو سکا مہیا کردوں گا ، ایک دفعہ پھر آپ کے صبر کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ پر راضی ہو، السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,119
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل صاحب! ملا علی قاری کا اقتباس کافی ہے، مزید حوالے کب فراہم کر رہے ہیں۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فن, فرض, کتابوں, پیارے, پاک, پسند, قرآن, نظر, مکمل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, بچپن, تعلیم, جواب, حدیث, دوست, رمضان, راستہ, زندگی, غم, صحابہ, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ::::: حدیث کی تعریف اور اقسام کا تعارف ::::: آپ کے سوال اور ان کے جواب | ابن یعقوب | اقسام حدیث | 16 | 24-05-10 10:03 PM |
| حمد باری تعالی | wajee | شعر و شاعری | 0 | 28-10-09 10:28 PM |
| حمد باری تعالی | wajee | شعر و شاعری | 3 | 12-10-09 02:53 AM |
| سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 20-02-08 03:34 AM |