|
|
#16 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم عبداللہ حیدر بھائی آپ نے فرمایا کہ میری ساری باتوں سے آپکا اتفاق کرنا مشکل ہے تو کیا اس سے میں یہ مراد لے لوں کہ میری چند باتوں سے آپ کو بھی اتفاق ہے اور اگر ایسا ہے تو میرے بھائی عرض یہ ہے کہ جس طرح نکات کی صورت میں آپ نے ہمارے مقالہ کو اپنے فہم کی صورت میں پیش فرمایا تو کیا ہی خوب ہو کہ یہاں پر آپ وہ متفقہ باتیں بھی بصورت نکات پیش کردیں کہ جن پر ہم اور آپ کا اتفاق ہے تاکہ قارئین کی لیے بھی سہولت رہے ۔ ۔ ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہت شکریہ جناب آبی ٹول صاحب میرا مسلہ حل ہو گیا ہے۔ مجھے ساری بات سمجھ آ گئ ہے۔ میں نےاس فورم پر موجود بدعت کے بارے میںتمام مکالمہ جات پڑھ لیئے ہیں۔ اب تو میرا خیال ہے کہ محترم عالم عادل سہیل صاحب اور عبداللہ اور کمپنی آپ کو اپنے موقف پر ہٹ دھرمی سے قائم رہنے کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی بحث کو ختم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ جب مجھ جیسے عام آدمی کو اس کی سمجھ آگئ ہے تو آپ تو پھر عالم لوگ ہیں۔ اگر آپ کی کپمنی کی سمجھ میں نہیں آتا تو میںاس کو آپ لوگوں کو کی قسمت کا حصہ ہی کہ سکتا ہوں۔
وہ دلائل دینا جو کہ بذات خود بہت سی جگہوں پہ اسلامی باتوں کے خلاف نظر آتے ہیں اسلام کو دو رخ مذہب ثابت کرنے کا باعث ہے۔ پہلے سے موجود تراویح کہ عمل کو با قائدہ کرنے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اچھی بدعت قرار دینا آپ کے دلائل کے خلاف جاتا ہے آپ کےمطابق یہا ں سن یا سنت کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔اب میں آپ کی مانوںیا صحابی کی ؟؟؟؟ اسطرح کی اور بہت سی باتیں میرے ذہن میںہیں جو کہ آپ کے دلائل کی وجہ سے اسلام کو ایک دو رخہ مذہب کے طور پر ثابت کرتی ہیں۔ |
|
|
|
|
|
#18 | ||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اہل علم افراد کے درمیان بولنا مناسب تو نہیں ہوتا لیکن کچھ سوال ذہن میں ضرور آجاتے ہیں
اقتباس:
چرس گانجا افیم ہیروئین اور اس قبیل کی دوسری نشہ آور اشیاء کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
||
|
|
|
|
|
#19 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#20 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
ہم یہاں بدعت کے لغوی نہیں شرعی مفہوم پر گفتگو کریں گے ان شاء اللہ۔ میں اپنی گفتگو جدید ایجادات کے بارے میںبیان کیے گئے نکتے سے شروع کرنا چاہوں گا۔آپ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بدعت کے اجازت نہ دی جائے تو امت ترقی میں پیچھے رہ جائے گی۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل وغیرہ کسی طرح بھی بدعت کے شرعی مفہوم میں آتے ہیں؟
|
|
|
|
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جن چیزوں کی بابت آپ نے دریافت فرمایا ہے انکی نہی شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق اجتھاد و قیاس کی صورت میں وارد ہوچکی ہے اور کچھ ؟؟؟؟؟؟'
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#22 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صلی اللہ علیہ و علیآلہ وسلم یسروا و لا تعسروا "ہر نشہ آور چیز حرام ہے" |
|
|
|
|
|
|
#23 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
|
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (02-08-09), shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), مسافر (12-08-09), خرم شہزاد خرم (02-08-09) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() |
اب تک کی گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیاہیکہ کچھ عناصرہربدعت کو بری بدعت ہی سمجھتے ہیں چاہےوہ اچھی ہی کیوں نہ ہو مثلاً وہ عناصر بیٹی کے سر پررخصتی کےوقت قرآن جیسی کتاب کاسر پررکھنااسی لیئےناجائز و مردود سمجھتے ہیں کہ قرآن احادیث اور اقوال وافعالِ صحابہ سے اسکاکوئی تبوت نہیں ہےاور دوسرا طبقہ کہتاہیکہ بدعات اچھی ہوتیں ہیں اور بری بھی اسلیئےانکےمراتب کالحاظ ضروری ہےکیونکہ خدا کی رحمت وسیع ہےاور اور حدیثِ قدسی میں ہیکہ اللہ فرماتاہےمیں لوگوں کےگمان کیمطابق فیصلےکرتاہوں"یعنی جیساگمان ہوگاویسا اللہ کافیصلہ کیونکہ کوئی اچھا فعل مگرقرآن واحادیث کیخلاف نہ ہوبلکہ انکےمعاون وموید ہوتواس پر ثواب کی امید رکھنااچھا عمل ہےمثلاً تیجہ لےلیں کچھ لوگ کہتے ہیں تیجہ بدعت ہےاسی لیئےممنوع ہےاب آپ تیجے کوبنظرِ غائر دیکھیں تواسمیں خاندان کےچند لوگ اور چند پڑوسی لوگ اور چند احباب حاظر ہوتےہیں اورقرآن خوانی ہوتی ہےفاتحہ ہوتی ہےمیت کیلیئےکھانا تقسیم کیاجاتاہےاب دیکھیں ان سب مذکورہ افعال میں گناہ کہاں ثابت ہوتاہےکیااس فعل کوصرف اسی لیئےناجائز کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن و احادیث اور صحابہ سے ثابت نہیں حالانکہ اس محفل میں کوئی جام نہیں لنڈھائےجاتے ڈانس پارٹی نہیں ہوتی قرآن کی تلاوت ہوتی ہےذکرواذکار ہوتاہےمردے کوایصال ِ ثواب کیاجاتاہے توکیا تیجہ کی محفل میں جو قرآن پڑھاجاتاہےاسکاثواب نہیں ملیگا اس محفل میں جوذکر واذکار کیئےجاتے ہیں وہ باطل؟اور میت کوایصالِ ثواب کاکیاحکم ہوگا؟ کہنے کامقصد یہ ہیکہ جن جن حضرات کو ہر بدعت بری لگتی ہےاور وہ خدا کی رحمت کو محدود سمجھتے ہیں تو نہ کریں اور جو اللہ کی رحمت کووسیع سمجھتے ہوئےاچھی بدعتیں کرتے ہیں وہ ضرور کریں
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
|
|
#25 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ایک حکم کی علت کی بنیاد پر دوسرے حکم کو اخذ کرنے کی صورت کو قیاس کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ "نشے" کے باعث شراب کو حرام کیا گیا ہے۔ "نشہ" شراب کے حرام ہونے کی علت یعنی وجہ ہے۔ اگر یہ نشہ کسی اور چیز میں بھی پایا جائے گا تو وہ بھی حرام قرار پائے گی۔ اسی بنیاد پر اہل علم چرس، ہیروئن، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔ |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (02-08-09), shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (02-08-09), منتظمین (02-08-09), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), خرم شہزاد خرم (02-08-09), طاھر (02-08-09) |
|
|
#26 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
تمام اسلامی شعائر اور عبادات کا ایک لغوی مطلب ہے اور دوسرا شرعی یا اصطلاحی مطلب۔ اصطلاحی مطلب کو لغت سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل درکار ہوتے ہیں۔ "بدعت" کا لغوی مطلب "نئی چیز ایجاد کرنا" ہے لیکن شرعی مطلب "دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالنا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی جماعت کا عمل نہیں رہا ہے"۔
مثال کے طور پر"حج" کا لفظی مطلب "ارادہ کرنا"ہے۔ لسان العرب میں ہے: الحَجُّ القصدُ (لسان العرب جلد 2 ص 226) "حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا" جس طرح لغت کی مدد سے حج کا شرعی/اصطلاحی مطلب نہیں سمجھا جا سکتا اسی طرح بدعت کے شرعی مفہوم کےلیے بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ چچا عادل سہیل کے الفاظ میں ان دونوں کا فرق سمجھتے ہیں: لفظ ''' بدعت ''' یعنی ''' بدعۃ ''' کا ثلاثی مجرد یعنی اصل مادہ ''' بَدَعَ ''' ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ''''' اختراع الشیءٌ من غیر مثال سبق ::: کسی چیز کو کسی سابقہ مثال کے بغیر ایجاد کرنا ''''' لغت کے مطابق اس کے استعمال کی مثال اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بارے میں یہ فرمان ہے ((((( بدیعُ السَّماواتِ و الأرضِ ::: (اللہ ہی ) آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے تخلیق کرنے والا ہے ))))) سورت البقرہ ، آیت ١١٧ ، اور یہ فرمان ((((( و رَھبانِیّۃً أبتدَعُوھا ::: اور انہوں نے رھبانیت کو ایجاد کیا ))))) سورت الحدید / آیت ٢٧ ، اور یہ فرمان ((((( و ماکُنتَ بَدعاً مِن الرُّسلِ ::: اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) آپ رسولوں میں سے کوئی نئے اور پہلے نہیں ))))) سورت الأحقاف / آیت ٩ ، اس لغوی مفہوم کا جاننے اور قران سے اس کی مثال دیکھنے کے بعد جب ہم اس ''' بدعت ''' کو قران اور حدیث کے مطابق سمجھتے ہیں تو اس کا مفہوم اس لغوی مفہوم کے مطابق نہیں رہتا ، بلکہ اس کا مفہوم ''''' دین میں ایجاد کردہ کوئی نیا کام ''''' ہوتا ہے ، یعنی ، ''''' بدعت ''''' کا مفہوم کوئی بھی نئی ایجاد نہیں رہتا بلکہ صرف دین میں کوئی نئی ایجاد ہو جاتا ہے ، خواہ وہ ایجاد دین کے کسی بھی معاملے اور شعبے سے متعلق ہو ، یعنی ، خواہ اعمال میں ہو ، عقائد میں ہو ، اور پھر قلبی اعمال میں ہو یا ظاہری جسمانی اعضاء کے اعمال میں ہو ، اس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کئی معروف و مشہور فرامین مبارکہ ہیں ، جن کو کئی بار ذِکر کیا جا چکا ہو، یہاں ایک دو کا ذکر کرتا ہوں ، ملاحظہ فرمایے ::::: ؛::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ::: ((((( مَن عَمِلَ عملاً لَیس علیہِ أمرُنا فھو ردّ ::: جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے معاملے کے مُطابق نہیں ہے وہ رد ہے ))))) صحیح البُخاری /کتاب بد ء الوحی / باب ٢٠ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٧١٨ ، اس حدیث مبارک میں ہر ایسے کام کو مردود قرار دیا گیا ہے جو دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور جماعتء صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے مطابق نہ ہو ،اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ اس حدیث میں صِرف دِین کی بات کہاں ہے تو''''' أمرُنا ::: ہمارا معاملہ ''''' کا معنی دِین ہے ، اس کی وضاحت اس حدیث مبارک میں ملتی ہے ::: ((((( مَن أحدث َ فِی أمرِنا ھَذا ما لیسَ فِیہِ فھُوَ ردٌّ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دِین) میں کوئی نیا کام بنایا تو وہ کام مردود ہے )))))) مسند ابو یعلیٰ الموصلی / حدیث ٤٥٧٨ ، آپ بدعت ایجاد کرنے کے مسئلے میں دین و دنیا کا فرق روا نہیں رکھتے تو اس کے دلائل بتا دیجیے۔ میرے ایک سابقہ سوال کا جواب بھی باقی ہے کہ قرآن و حدیث کے کن دلائل کی رو سے جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بدعت کے شرعی مفہوم میں داخل کیا جاتا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-08-09), آبی ٹوکول (03-08-09), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عادل سہیل (03-08-09) |
|
|
#27 |
|
Senior Member
![]() |
ایک گروہ رجعت پسند ہےاور ایک ترقی پسند جوخلافِ اسلام نئی ایجادات کوبدعتِ سیئہ کہتاہےحدیث کےمطابق اوراسلام کےمعاون و موید نئی ایجادات کوبدعت حسنہ دوسرارجعت پسندگروہ جو اچھایا برا کوئی بھی فعل ہو چاھے وہ اسلام کےموافق ہی کیوں نہ ہوہر بدعت کو بری قرار دیتاہےاب فیصلہ ناظرین کےھاتوں میں ہے کہ وہ کیاقبول کرتے ہیں رجعت پسندی یاترقی پسندی (جوکہ اسلام کے اصولوں کے خلاف نہ ہو)؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#28 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
رخنہ گفتگو میں نہیںدین اسلام میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجھے 100% امید ہے کہ بات مکمل نہیں ہو گی کیونکہ صحیح کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی توجیحات اور تشریح پیش کی جارہی ہے جو کہ بذات خود صحابہ کے اقوال سے ٹکرا رہی ہیں۔ ایسی صورت میں بات مکمل ہونہں ہو سکتی۔پہلے سے موجود تراویح کہ عمل کو با قائدہ کرنے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اچھی بدعت قرار دینا آپ کے دلائل کے خلاف جاتا ہے آپ کےمطابق یہا ں سن یا سنت کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔اب میں آپ کی مانوںیا صحابی کی ؟؟؟؟ |
||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (03-08-09), آبی ٹوکول (29-06-10) |
|
|
#29 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہتر تو تھا کہ آپ پہلے ہمارے ترتیب دیئے گئے تمام کے تمام مقالے کو بغور پڑھتے تو اور پھر اس پر اپنے اعتراضات وارد کرتے اس طرح سے گفتگو میں ہمارے اور آپکے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی سہولت رہتی ۔ میں جب کل آیا تو آپکے طویل ترین دو مراسلے دیکھے مگر آج وہ حذف کیئے جا چکے ہیں خیر ۔ ۔ ۔ آپ دھیرج رکھیئے میں یہاں پر آپ کی ایک ایک بات کا جواب دوں گا ان شاءاللہ العزیز ۔ ۔ ۔ ایک گزارش کرنا چاہوں گا انتظامیہ سے کہ بہتر ہوگا کہ یہاں میں اور عبداللہ بھائی ہی گفتگو کریں تاکہ ایک تو گفتگو میں خلط مبحث نہ ہونے پائے اور دوسرے یہ کہ گفتگو نتیجہ خیز ہوسکے ۔ ۔ دیگر جو بھی بھائی ہماری ہونے والی گفتگو پر اپنی اپنی رائے دینا چاہیں یا کوئی سوال کرنا چاہیں تو اس کے لیے الگ سے دھاگہ بعنوان حقیقت بدعت پر تبصرہ جات کی صورت میں کھول لیا جائے اور یہاں ے بھی ایسے تمام مواد کو وہاں شفت کردیا جائے جو کہ اصل موضوع سے یا تو ہٹ کر ہے یا پھر ہٹانے والی ہے ۔ ۔یہ میری رائے ہے اگر انتظامیہ کو مناسب لگے تو فبھا وگرنہ کوئی مسئلہ نہیں والسلام |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (03-08-09), shafresha (03-08-09), محمدعدنان (13-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09) |
|
|
#30 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر آپ نے ہمارا زیر نظر مقالہ باغور پڑھا ہوتا تو آپکو یہ سوال کرنے کی نوبت نہ آتی خیر ہم آپکی اور قارئین کی سہولت کے لیے اپنا مدعا پھر سے عرض کیے دیتے ہیں ۔ ۔ہم نے عرض کی تھی کہ ۔ ۔ اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔ کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے گویا ہم نے اپنے دعوٰی کی بنیاد دین کے مشھور ترین اصول اباحت پر رکھی تھی اور اس پر بطور استدلال جامع ترمذی کی یہ روایت پیش کی تھی ۔ ۔ حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔ جامع ترمزی جلد 1 ص 206 اور پھر اس روایت کی وضاحت درج زیل الفاظ میں بیان کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا پھر اس کے بعد ہم نے دیگر دلائل دیتے ہوئے اباحت اصلیہ (یعنی تمام اشیاء اصل میں مباح ہیں) کے مسلمہ اصول کو دیگر قرآنی آیات سے مزین کرکے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔ ۔ ہمارے اس دعوٰی اور اسکے نتیجے میں جنم لینے والے تمام تر دلائل کا مدار اس بات پر تھا کہ دین اسلام ایک عالمگیر اور فطرت سلیمہ پر مبنی دین ہے کہ جس کہ اندر قیامت (بلکہ اس کے بھی بعد آخرت تک) کے تمام پیش آمدہ مسائل کا حل رکھ دیا گیا ہے ۔ ویسے بھی عمیق نگاہ سے اگر دین کے اصولوں کا جائزہ لیں تو ہر عامی یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ زندگی جو کہ مسلسل ارتقاء پذیر ہے اور اسکے نتیجے میں موثرات زندگی (forces of life ) بھی روز بروز تیزی سے تبدیل ہوریے ہیں لہذا کسی بھی قانون کو وضع کرنے کی اصل غایت یہ ہونی چاہیے کہ تغیرات زمانہ کی وجہ سے زندگی جمود کا شکار نہ ہونے پائے بلکہ خوس اسلوبی سے چلتی رہے لہذا اسلام جو کہ دین فطرت سلیمہ پر مبنی دین بر حق ہے فقط اسی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ کہ دنیا کے تمام تر باطل ادیان کو چیلنج کرتے ہوئے تغیرات زمانہ کے باعث تمام تر پیش آمدہ مسائل کا حل قیامت تک لیے دے سکے ۔ سو اسی لیے اسلام نے اپنے بہت سے اصولوں میں ایسی لچک رکھی ہے کہ جس کی وجہ سے تغیرات زمانہ کے باعث پیش آمدہ مسائل کا حل با آسانی میسر آسکے ۔ ۔ ایک بار پھر گفتگو کو موڑتے ہیں آپکے سوال کی طرف ۔ ۔ ۔ آپ نے فرمایا کہ ۔ ۔ اقتباس:
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے دین اسلام کے معاملے میں کلیسا اور پاپائیت کے قائم کردہ اصولوں کے قائل نہیں ہیں ۔ کہ جس طرح نصرانیت نے دین کے معاملے کو الگ اور دنیا داری اور سیاست کو الگ قرار دے کر نصرانی معاشرہ میں ایک عفریت کی بنیاد ڈالی ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم دین و دنیا کو جدا سمجھیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو ہم بار بار عرض کرچکے کہ دین اسلام ایک ایسا عالمگیر دین ہے کہ جو کائنات کے کل مسائل کو محیط ہے چاہے ان مسائل کا تعلق عبادات ،معاملات یا روحانیات سے ہو یا پھر صنعت و حرفت و تجارت یا پھر سیاسیات سے ہو دین اسلام ان سب کو محیط ہے اور ان سب کا حل دیتا ہے لہذا ہم دین میں دینی اور دنیاوی فرق مسائل کے فرق کو روا نہیں رکھتے بجز اس کے کہ بعض مسائل کو عرف میں یا لغوی اعتبار سے دنیاوی مسائل کہہ دیا جاتا ہے حالانہ وہ بھی شریعت کے ہی دائرہ کار میں آتے ہیں نہ کے شریعت سے باہر اور ہماری اس بات کی دلیل قرآن و سنت اور شریعت کے عموم سے ظاہر ہے کیونکہ کائنات میں جتنی چیزیں ہیں انکے استعمال یا عدم استعمال اور جتنے عقیدے ہیں انکے ماننے یا نہ ماننے اور جتنے امور ہیں انکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ہمیں کوئی نہ کوئی حکم شرعی ضرور ملتا ہے چاہے وہ دلائل اربعہ کے خصوص سے ثابت ہو یا پھر عموم سے مسلم شریف کی یہ حدیث ہمارے مدعا پر واضح دلیل ہے کہ جس کا مفھوم یہ ہے کہ ۔ ۔ حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ کفار نے آپ سے کہا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہر چیز بتاتے ہیں یہاں تک کے رفع حاجت کا طریقہ بھی بتاتے ہیں آپ نے جواب دیا ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس حدیث میں کل شئی کہ لفظ سے پتا چلا کہ دین کل کو محیط ہے کوئی بھی شئے دین سے باہر نہیں ۔ خیر بات بہت دور نکل گئی کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ دین اسلام نے ہمیں جو اصول بدعت کے ضمرے میں دیا ہے اسکا اطلاق جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل کے بشمول ہماری کل زندگی پر ہوگا یعنی ہر نئی پیدا ہونے والی شئے بدعت کہلائے گی کیونکہ وہ نئی پیدا ہوئی اور اسی اعتبار سے اس پر بدعت لغوی کا اطلاق ہوگا لیکن جب اسکو اصول دین پر پیش کیا جائے گا تو پھر اس کی شرعی حیثیت کا تعین بھی ہوجائے گا یعنی اسے قرآن و سنت ،اجماع و قیاس اور آثار صحابہ پر پیش کیا جائے گا لہذا اگر تو وہ دین کے کسی بھی اصول سے ٹکرا گئی تو بلا شبہ بدعت شرعی (یعنی بدعت سیئہ) کہلائے گی اور اگر ان میں سے کسی بھی اصول سے اس کا ٹکراؤ نہ ہو بلکہ وہ کسی ایک کے بھی موافق آجائے تو پھر اس پر بدعت لغوی کا تو اطلاق پہلے سے ہی تھا اب اسے بدعت حسنہ بھی کہا جائے گا اور وہ اس لیے کے اس کا یہ حُسن دین کے زریں اصولوں پر پیش کرنے کے بعد ہم پر کھلا یا منکشف ہوا ۔ لہذا ثابت یہ ہوا کہ لفظ بدعت (یا بدعت لغوی )عام کہ ہر نئی پیدا ہونے والی شئے کو بدعت کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ حقیقت میں نئی پیدا شدہ ہوتی ہے اس لیے اسے بدعت لغوی کہہ دیا جاتا ہے اور اگر اس سے (یعنی عام بدعت یعنی بدعت لغوی کے پیدا ہونے سے) دین میں کسی قسم کا بگاڑ پیدا ہو (اسکے دین کے کسی اصول سے ٹکرانے کی وجہ سے ) تو پھر وہ عام سے خاص کی طرف لوٹ جائے گی اور اب اسے بدعت شرعی یا پھر بدعت سیئہ کہا جائے گا اور اب وہ عام سے خاص ہوجائے گی کہ لغوی طور پر تو وہ بدعت پہلے سے ہی تھی اب دین کے اصول سے ٹکرانے کی وجہ سے (جو کہ اس پر مالیس منہ کی صورت میں لگا تھا ) فقط لغوی سے نکل بدعت شرعی ہوجائے گی۔ یعنی ثابت یہ ہوا کہ ہر نو پید شدہ شئے بدعت (بدعت لغوی) ہوتی ہے اور اس اعتبار سے وہ عام ہوتی ہے لیکن جب وہ دین کے قائم کردہ کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو اب اس کو دین کے اندر بگاڑ پیدا کرنے کی وجہ سے بدعت شرعی (بدعت سیئہ ) کہہ دیا جاتا ہے لہذا اب وہ عام سے خاص ہوجاتی ہے کہ بدعت لغوی تو وہ پہلے سے ہی تھی اپنے نو پید ہونے کی وجہ سے اور اب دین میں بگاڑ کی وجہ سے وہ عام سے خاص ہوکر بدعت سیئہ یا بدعت شرعی کہلائے گی ۔ عرف میں آپ یہ کہ سکتے ہے کہ ہر بدعت لغوی اعتبار سے تو بدعت ہوتی ہے مگر ضروی نہیں کہ وہ شرعی اعتبار سے بھی بدعت ہی ہو جبکہ اس کے مقابلے میں ہر شرعی بدعت ، بدعت شرعیہ بھی ہوتی ہے اور لغویہ بھی جیسے ہر ایم اے پاس ایم اے بھی ہوتا ہے اور لازم ہے کہ اس نے بی اے بھی کر رکھا ہو جبکہ ہر بی اے فقط بی اے ہی ہوگا اس کے لیے ایم اے ہونا شرط نہیں اور اسکی ایک اور آسان مثال کہ نبی عام رسول سے اور رسول خاص ہے نبی سے کہ ہر نبی فقط نبی ہوتا ہے جبکہ ہر رسول نبی ضرور ہوتا ہے امید کرتا ہوں کہ میں اپنا مؤقف قارئین سمیت آپ پر واضح کرچکا ۔ ۔ والسلام Last edited by آبی ٹوکول; 03-08-09 at 10:29 PM. |
||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), طاھر (03-08-09), عبداللہ حیدر (04-08-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ | عبداللہ حیدر | ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں | 15 | 31-08-10 12:28 AM |
| ::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: | عادل سہیل | ایمان | 95 | 03-08-09 06:51 PM |
| گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت | sahj | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 40 | 26-07-09 10:52 AM |
| ::: نعت ::: | ابو کاشان | شعر و شاعری | 1 | 24-12-07 09:41 AM |
| جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-12-07 09:28 AM |