واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ > ایمان



ایمان ایمان


ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 01-08-09, 07:12 PM  
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ª!ª حقیقت بدعت ª!ª

تصور بدعت از روئے قرآن و سنت و تصریحات ائمہ
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے اور یہ گمراہی ہے جو کہ تصور اسلام اور حکمت دین کے عین منافی اور اسلام کے اصول حلال و حرام سے انحراف برتنے اور حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہےایک بار جب اسی قسم کا سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا ۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی مذمت بیان کی ہے جو اپنی طرف سے چیزوں پر حلت و حرمت کے فتوےصادر کرتے رہتے ہیں لہذا ارشاد باری تعالی ہے۔۔
اور وہ جھوٹ مت کہا جو تمہاری زبانیں بیان کرتیں ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام اس طرح کے تم اللہ پر بہتان باندھو بے شک وہ لوگ جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ النحل 116۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ دین دینے والا لااکراہ فی الدین اور یریداللہ بکم الیسر فرما کر دین میں آسانی اور وسعت فرمائے اور دین لینے والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وما سکت عنہ فھو مما عنہ فرما کر ہمارے دائرہ عمل کو کشادگی دے مگر دین پر عمل کرنے والے اپنی کوتاہ فہمی اور کج فہمی کے باعث چھوٹے چھوٹے نزاعی معاملات پر بدعت و شرک کے فتوے صادر کرتے رہیں۔ ہماری آج کی اس گفتگو میں ہم اسلام کے تصور بدعت اور اسکی شرعی حیثیت کا خود قرآن و سنت اور ائمہ کرام کے اقوال سے جائز پیش کریں گے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تصور بدعت لوگوں کو سمجھ میں آجائے تو بہت سے باہمی نزاعات کا حل خود بخود واضح ہوجاتا ہے لہذا میں نے اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا لیکن مجھے اپنی کم علمی اور بے بضاعتی کا انتہائی حد تک احساس ہے لہذا میں ائمہ دین کی کتب سے ہی اس تصور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا تو آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کے لفظ بدعت عربی لغت میں کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔


بدعت کا لغوی مفہوم
بدعت عربی زبان کا لفظ ہے جو بدع سے مشتق ہے اس کا معنی ہے .اختر عہ وصنعہ لا علی مثال ۔ المنجد
یعنی نئی چیز ایجاد کرنا ، نیا بنانا ، یا جس چیز کا پہلے وجود نہ ہو اسے معرض وجود میں لانا۔
جس طرح یہ کائنات نیست اور عدم تھی اور اس کو اللہ پاک نے غیر مثال سابق عدم سے وجود بخشا تو لغوی اعتبار سے یہ کائنات بھی بدعت کہلائی اور اللہ پاک بدیع جو کہ اللہ پاک کا صفاتی نام بھی ہے ۔اللہ پاک خود اپنی شان بدیع کی وضاحت یوں بیان کرتا ہے کہ۔
بدیع السموات والارض۔ الانعام 101 یعنی وہ اللہ ہی زمین و آسمان کا موجد ہے ۔
اس آیت سے واضح ہو ا کہ وہ ہستی جو کسی ایسی چیز کو وجود عطا کرے جو کہ پہلے سے موجود نہ ہو بدیع کہلاتی ہے بدعت کے اس لغوی مفہوم کی وضاحت قرآن پاک کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ۔۔
قل ماکنت بدعا من الرسل۔ الاحقاف 46 یعنی آپ فرمادیجیے کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ۔
مندرجہ بالا قرآنی شہادتوں کی بنا پر یہ بات عیاں ہوگئی کہ کائنات کی تخلیق کا ہر نیا مرحلہ اللہ پاک کے ارشاد کے مطابق بدعت کہلاتا ہے جیسا کہ فتح المبین شرح اربعین نووی میں علامہ ابن حجر مکی بدعت کے لغوی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت لغت میں اس نئے کام کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلے موجود نا ہو جس طرح قرآن میں شان خداوندی کے بارے میں کہا گیا کہ آسمان اور زمین کا بغیر کسی مثال کے پہلی بار پید اکرنے والا اللہ ہے۔
بیان المولود والقیام 20۔


بدعت کا اصطلاحی مفہوم
اصطلاح شرع میں بدعت کا مفہوم واضح کرنے کے لیے ائمہ فقہ و حدیث نے اس کی تعریف یوں کی ہے کہ۔
ہر وہ نیا کام جس کی کوئی اصل بالواسطہ یا بلاواسطہ نہ قرآن میں ہو نہ حدیث میں ہو اور اسے ضروریات دین سمجھ کر شامل دین کرلیا جائے یاد رہے کہ ضروریات دین سے مراد وہ امور ہیں کہ جس میں سے کسی ایک چیز کا بھی انکار کرنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے۔
ایسی بدعت کو بدعت سئیہ کہتے ہیں اور بدعت ضلالہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پاک کل بدعة ضلالة سے بھی یہی مراد ہے ۔
کیا ہر نیا کام ناجائز ہے ؟
ایسے نئے کام کہ جن کی اصل قرآن و سنت میں نہ ہو وہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو بدعت ہی کہلائیں گےمگر یہاں سوال یہ پیداہوتا کہ آیا از روئے شریعت ہر نئے کام کو محض اس لیے ناجائز و حرام قرار دیا جائے کہ وہ نیا ہے ؟
اگر شرعی اصولوں کا معیار یہی قرار دیا جائے تو پھر دین اسلام کی تعلیمات اور ہدایات میں سے کم و بیش ستر فیصد حصہ ناجائز و حرام ٹھرتا ہےکیونکہ اجتہاد کی ساری صورتیں اور قیاس ، استحسان،استنباط اور استدلال وغیرہ کی جملہ شکلیں سب ناجائز و حرام کہلائیں گی کیونکہ بعینہ ان سب کا وجود زمانہ نبوت تو درکنار زمانہ صحابہ میں بھی نہیں تھا اسی طرح دینی علوم و فنون مثلا اصول، تفسیر ، حدیث ،فقہ و اصول فقہ اور انکی تدوین و تدریس اور پھر ان سب کوسمجھنے کے لیے صرف و نحو ، معانی ، منطق وفلسفہ اور دیگر معاشرتی و معاشی علوم جو تفہیم دین کے لیے ضروری اور عصر ی تقاضوں کے عین مطابق ابدی حیثیت رکھتے ہیں ان کا سیکھنا حرام قرار پائے گا کیونکہ اپنی ہیت کے اعتبار سے ان سب علوم و فنون کی اصل نہ تو زمانہ نبوی میں ملتی ہے اور نہ ہی زمانہ صحابہ میں انھیں تو بعد میں ضروریات کے پیش نظر علماء مجتہدین اسلام نے وضع کرلیا تھا ۔اور اگر آپ کو اسی ضابطے پر اصرار ہوتو پھر درس نظامی کی موجودہ شکل بھی حرام ٹھرتی ہے جو کہ بحرحال دین کو سمجھنے کی ایک اہم شکل ہے اوراسے اختیار بھی دین ہی سمجھ کر کیا جاتا ہے کیونکہ موجودہ شکل میں درس نظامی کی تدریس ، تدوین اور تفہیم نہ تو زمانہ نبوی میں ہوئی اور نہ ہی صحابہ نے اپنے زمانے میں کبھی اس طرح سے دین کو سیکھا اور سکھایا لہذا جب ہر نیا کام بدعت ٹھرا اور ہر بدعت ہی گمراہی ٹھری تو پھر لازما درس نظامی اور دیگر تمام امور جو ہم نے اوپربیان کیئے وہ سب ضلالت و گمراہی کہلائیں گے اسی طرح قرآن پاک کا موجودہ شکل میں جمع کیا جانا اس پر اعراب اور نقاط پھر پاروں میں اس کی تقسیم اور منازل میں تقسیم اور رکوعات اور آیات کی نمبرنگ اسی طرح مساجد مین لاوڈ اسپیکر کا استعمال مساجد کو پختہ کرنا اور انکی تزیئن و آرائش مختلف زبانوں میں خطبات اور اسی قسم کے جملہ انتظامات سب اسی زمرے میں آئیں گے۔


غلط فہمی کے نتائج
بدعت کا مندرجہ بالا تصور یعنی اس کے مفہوم سے ہر نئی چیز کو گمراہی پر محمول کرنا نہ صرف ایک شدید غلط فہمی بلکہ مغالطہ ہے اور علمی اور فکری اعتبار سے باعث ندامت ہے ا ور خود دین اسلام کی کشادہ راہوں کو مسدود کردینے کے مترادف ہے بلکہ اپنی اصل میں یہ نقطہ نظر قابل صد افسوس ہے کیونکہ اگر اسی تصور کو حق سمجھ لیا جائے تویہ عصر حاضر اور اسکے بعد ہونے والی تمام تر علمی سائنسی ترقی سے آنکھیں بند کر کے ملت اسلامیہ کو دوسری تمام اقوام کے مقابلے میں عاجز محض کردینے کی گھناونی سازش قرارپائے گی اور اس طریق پر عمل کرتے ہوئے بھلا ہم کیسے دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسلامی تہذیب وثقافت اور تمدن اور مذہبی اقدار اور نظام حیات میں بالا تری کی تمام کوششوں کو بار آور کرسکیں گے اس لیے ضروری ہے کہ اس مغالطے کو زہنوں سے دور کیا جائے اور بدعت کا حقیقی اور صحیح اسلامی تصور امت مسلمہ کی نئی نسل پر واضح کیا جائے ۔


بدعت کا حقیقی تصوراحادیث کی روشنی میں

حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد ۔ البخاری والمسلم
یعنی جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جو اس میں﴿یعنی دین میں سے ﴾ نہ ہو تو وہ رد ہے ۔
اس حدیث میں لفظ احدث اور ما لیس منہ قابل غور ہیں عرف عام میں احدث کا معنی دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرنا ہے اور لفظ ما لیس منہ احدث کے مفہوم کی وضاحت کر رہا ہے کہ احدث سے مراد ایسی نئی چیز ہوگی جو اس دین میں سے نہ ہو حدیث کے اس مفہوم سے زہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ
اگر احدث سے مراد دین میں کوئی نئی چیز
پیدا کرنا ہے تو پھر جب ایک چیز نئی ہی پیدا ہورہی ہے تو پھر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پہش آئی کہ ما لیس منہ کیونکہ اگر وہ اس میں سے ہی تھی﴿یعنی پہلے سے ہی دین میں شامل تھی یا دین کاحصہ تھی ﴾تو اسے نیا کہنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور جس کو نئی چیز کہہ دیا تو لفظ احدث زکر کرنے کے بعد ما لیس منہ کے اضافے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بھی چیز ما لیس منہ میں﴿یعنی دین ہی میں سے ﴾ ہے تو وہ نئی یعنی محدثہ نہ رہی ۔ کیونکہ دین تو وہ ہے جو کمپلیٹ ہوچکا جیسا کے اکثر احباب اس موقع پر
الیوم اکملت لکم دینکم کی آیت کا حوالہ دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز فی الحقیقت نئی ہے تو پھر ما لیس منہ کی قید لگانے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ نئی چیز تو کہتے ہی اسے ہیں کہ جس کا وجود پہلے سے نہ ہو اور جو پہلے سے دین میں ہو تو پھر لفظ احدث چہ معنی دارد؟


مغالطے کا ازالہ اور فھو رد کا صحیح مفھوم
صحیح مسلم کی روایت ہے من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد
مسلم شریف۔
یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی امر موجود نہیں تو وہ مردود ہے ۔
اس حدیث میں لیس علیہ امرنا سے عام طور پر یہ مراد لیا جاتا ہےکہ کو ئی بھی کام خواہ نیک یا احسن ہی کیوں نہ ہو مثلا میلاد النبی ،ایصال ثواب،وغیرہ اگر ان پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ و تو تو یہ بدعت او مردود ہیں ۔ یہ مفہوم سرا سر باطل ہے کیونکہ اگر یہ معنی لے لیا جائے کہ جس کام کہ کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر مباحات کا کیا تصور اسلام میں باقی رہ گیا ؟ کیونکہ مباح تو کہتے ہی ا سے ہیں کہ جس کہ کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو ام المومنین کی پہلی روایت یعنی من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد میں فھو رد کا اطلاق نہ صرف مالیس منہ پر ہوتا ہے اور نہ فقط احدث پر بلکہ اس کا صحیح اطلاق اس صورت میں ہوگا جب یہ دونوں چیزیں جمع ہوں گی یعنی احدث اور مالیس منہ یعنی مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور اسکی کوئی سابق مثال بھی شریعت میں نہ ملتی ہو یا پھر اس کی دین میں کسی جہت سے بھی کوئی دلیل نہ بنتی ہو اور کسی جہت سے دین کا اس سے کوئی تعلق نظر نہ آتا ہو پس ثابت ہوا کہ کسی بھی محدثہ کے بدعت ضلالة ہونے کا ضابطہ دو شرائط کے ساتھ خاص ہے ایک یہ کہ دین میں اس کی کوئی اصل ، مثال یا دلیل موجود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ وہ محدثہ نہ صرف دین کے مخالف ہو اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرنے والی ہو
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (01-08-09), saraah (26-12-10), shafresha (02-08-09), Student (02-08-09), کنعان (06-08-09), ننھا بچہ (12-09-11), ملک اظہر (21-09-11), محمدعدنان (13-08-09), مرزا عامر (20-09-11), مسافر (12-08-09), صرف علی (12-08-09)
پرانا 02-08-09, 07:57 PM   #16
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، بھائی آبی ٹوکول، آپ کی ساری باتوں سے اتفاق کرنا تو میرے لیے مشکل ہے اور ان شاء اللہ ان باتوں پر ہماری گفتگو بھی چلتی رہے گی۔
اسلام علیکم عبداللہ حیدر بھائی آپ نے فرمایا کہ میری ساری باتوں سے آپکا اتفاق کرنا مشکل ہے تو کیا اس سے میں یہ مراد لے لوں کہ میری چند باتوں سے آپ کو بھی اتفاق ہے اور اگر ایسا ہے تو میرے بھائی عرض یہ ہے کہ جس طرح نکات کی صورت میں آپ نے ہمارے مقالہ کو اپنے فہم کی صورت میں پیش فرمایا تو کیا ہی خوب ہو کہ یہاں پر آپ وہ متفقہ باتیں بھی بصورت نکات پیش کردیں کہ جن پر ہم اور آپ کا اتفاق ہے تاکہ قارئین کی لیے بھی سہولت رہے ۔ ۔ ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟؟؟
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (02-08-09), فیصل ناصر (02-08-09), مسافر (12-08-09)
پرانا 02-08-09, 07:58 PM   #17
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت شکریہ جناب آبی ٹول صاحب میرا مسلہ حل ہو گیا ہے۔ مجھے ساری بات سمجھ آ گئ ہے۔ میں نےاس فورم پر موجود بدعت کے بارے میں‌تمام مکالمہ جات پڑھ لیئے ہیں۔ اب تو میرا خیال ہے کہ محترم عالم عادل سہیل صاحب اور عبداللہ اور کمپنی آپ کو اپنے موقف پر ہٹ دھرمی سے قائم رہنے کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی بحث کو ختم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ جب مجھ جیسے عام آدمی کو اس کی سمجھ آگئ ہے تو آپ تو پھر عالم لوگ ہیں۔ اگر آپ کی کپمنی کی سمجھ میں نہیں آتا تو میں‌اس کو آپ لوگوں کو کی قسمت کا حصہ ہی کہ سکتا ہوں۔
وہ دلائل دینا جو کہ بذات خود بہت سی جگہوں پہ اسلامی باتوں کے خلاف نظر آتے ہیں اسلام کو دو رخ مذہب ثابت کرنے کا باعث ہے۔
پہلے سے موجود تراویح کہ عمل کو با قائدہ کرنے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اچھی بدعت قرار دینا آپ کے دلائل کے خلاف جاتا ہے آپ کےمطابق یہا ں سن یا سنت کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔اب میں آپ کی مانوں‌یا صحابی کی ؟؟؟؟ اسطرح کی اور بہت سی باتیں میرے ذہن میں‌ہیں جو کہ آپ کے دلائل کی وجہ سے اسلام کو ایک دو رخہ مذہب کے طور پر ثابت کرتی ہیں۔
Student آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-08-09, 08:03 PM   #18
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,966
کمائي: 276,735
شکریہ: 33,203
12,657 مراسلہ میں 36,994 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اہل علم افراد کے درمیان بولنا مناسب تو نہیں ہوتا لیکن کچھ سوال ذہن میں ضرور آجاتے ہیں


اقتباس:
اقتباس:
حدیث الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ سے استدلال کہ جن چیزوں کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سکوت ہے وہ جائز ہیں۔

جی ہاں حقیقت میں ایسے تمام کام کہ جن کی حلت و حرمت پر قرآن و سنت خاموش ہیں جبتک ان پر شریعت کی نہی وارد نہیں ہوتی تب تک وہ اپنی حیثیت میں مباح جائز اور مشروع ہی ٹھریں گے
۔۔
اب اس لحاظ سے
چرس گانجا افیم ہیروئین اور اس قبیل کی دوسری نشہ آور اشیاء کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-08-09), مسافر (12-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:04 PM   #19
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم عبداللہ حیدر بھائی آپ نے فرمایا کہ میری ساری باتوں سے آپکا اتفاق کرنا مشکل ہے تو کیا اس سے میں یہ مراد لے لوں کہ میری چند باتوں سے آپ کو بھی اتفاق ہے اور اگر ایسا ہے تو میرے بھائی عرض یہ ہے کہ جس طرح نکات کی صورت میں آپ نے ہمارے مقالہ کو اپنے فہم کی صورت میں پیش فرمایا تو کیا ہی خوب ہو کہ یہاں پر آپ وہ متفقہ باتیں بھی بصورت نکات پیش کردیں کہ جن پر ہم اور آپ کا اتفاق ہے تاکہ قارئین کی لیے بھی سہولت رہے ۔ ۔ ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟؟؟؟؟؟؟
و علیکم السلام، بدعت کی لغوی تحقیق جو آپ نے بیان کی ہے اس سے متفق ہوں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (02-08-09), shafresha (02-08-09), مسافر (12-08-09), آبی ٹوکول (02-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:11 PM   #20
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہم یہاں بدعت کے لغوی نہیں شرعی مفہوم پر گفتگو کریں گے ان شاء اللہ۔ میں اپنی گفتگو جدید ایجادات کے بارے میں‌بیان کیے گئے نکتے سے شروع کرنا چاہوں گا۔آپ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بدعت کے اجازت نہ دی جائے تو امت ترقی میں پیچھے رہ جائے گی۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل وغیرہ کسی طرح بھی بدعت کے شرعی مفہوم میں آتے ہیں؟
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-08-09), مسافر (12-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:14 PM   #21
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
اہل علم افراد کے درمیان بولنا مناسب تو نہیں ہوتا لیکن کچھ سوال ذہن میں ضرور آجاتے ہیں




اب اس لحاظ سے
چرس گانجا افیم ہیروئین اور اس قبیل کی دوسری نشہ آور اشیاء کے بارے میں کیا ارشاد ہے ؟
جن چیزوں کی بابت آپ نے دریافت فرمایا ہے انکی نہی شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق اجتھاد و قیاس کی صورت میں وارد ہوچکی ہے اور کچھ ؟؟؟؟؟؟'
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (02-08-09), Student (08-08-09), مسافر (12-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:27 PM   #22
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹو کول مراسلہ دیکھیں
جن چیزوں کی بابت آپ نے دریافت فرمایا ہے انکی نہی شریعت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق اجتھاد و قیاس کی صورت میں وارد ہوچکی ہے اور کچھ ؟؟؟؟؟؟'
زیادہ تفصیل میں جانے سے موضوع بکھر جانے کا اندیشہ ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ہیروئن، افیم وغیرہ کی حرمت قیاس اور اجتہاد سے نہیں نص صریح سے ثابت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی‌آلہ وسلم کا فرمان ہے:
كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صلی اللہ علیہ و علی‌آلہ وسلم یسروا و لا تعسروا
"ہر نشہ آور چیز حرام ہے"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (02-08-09), shafresha (03-08-09), فیصل ناصر (02-08-09), منتظمین (02-08-09), مسافر (12-08-09), آبی ٹوکول (02-08-09), آصف وسیم (17-09-10), عادل سہیل (03-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:34 PM   #23
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
و علیکم السلام، بدعت کی لغوی تحقیق جو آپ نے بیان کی ہے اس سے متفق ہوں۔
گویا فقط ۔ ۔ ۔ ۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ہم یہاں بدعت کے لغوی نہیں شرعی مفہوم پر گفتگو کریں گے ان شاء اللہ۔ میں اپنی گفتگو جدید ایجادات کے بارے میں‌بیان کیے گئے نکتے سے شروع کرنا چاہوں گا۔آپ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بدعت کے اجازت نہ دی جائے تو امت ترقی میں پیچھے رہ جائے گی۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل وغیرہ کسی طرح بھی بدعت کے شرعی مفہوم میں آتے ہیں؟
پہلے آپ یہ واضح کریں کہ آپ بدعت کی تقسیم کے حسنہ یا سیئہ ہونے کے تو قائل نہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ بدعت کی لغوی اور شرعی تقسیم کے قائل ہیں ؟؟؟؟؟؟ یہاں کل بدعۃ ضلاۃ کی آپ کیا توجیح ، تعبیر یا تفسیر کرتے ہیں اور اس ضمن میں کس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دلیل پکڑتے ہیں ۔ ۔ باقی میرے نزدیک دین اسلام ایک عالمگیر دین ہے اور یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ہر مسئلے کا حل دیتا ہے اور وہ حل ہمیں قرآن و سنت اور اس کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر کہیں تفصیلا اور کہیں اجمالا ملتا ہے اس (حل) کے لیے فقط یہی ضروری نہیں کہ مذکورہ مسئلہ زمانہ نبوی میں پیش آیا ہو اور اس کا بعینہ ذکر سنت آثار میں مذکور ہو بلکہ ہم یہ دیکھیں گے کونسا نیا مسئلہ در پیش ہے اگر وہ مسئلہ یا اس کی کوئی نظیر زمانہ نبوی میں ملتی ہے تو اسکا حل وہاں سے اخذ کریں گے اور اگر وہ مسئلہ اپنی ہیئت و کیفیت و ترکیب کے اعتبار سے زمانہ نبوی میں مزکور نہیں ملتا تو پھر ہم اسے دین اسلام کے پیش کردہ مسلمہ اصولوں یعنی قرآن و سنت اور پھر اسکی اتباع میں اجتھاد سے کام لیتے ہوئے اجماع و قیاس پر اس مسئلہ کو پیش کریں گے اور پھر اس کا جو بھی حل نکلا وہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے تو نیا ہوگا مگر اصول شرع سے متصادم نہ ہونے اعتبار سے بلکہ شرعی اصولوں کی پاسداری اور ان کا حق روا رکھتے ہوئے اپنے دریافتی حل کے اعتبار سے وہ دین میں اضافہ نہیں بلکہ دین میں سے ہی ہوگا کیونکہ اس پر عمل کی صورت دین کی ہے اصولوں پر چل کر نکلی اور میں اس معاملے میں دین و دنیا کے فرق کو روا نہیں رکھتا کہ میرا دین ایک عالمگیر دین ہے جو کہ ہر مسئلے کا حل دیتا ہے چاہے آپ اس مسئلہ کو عرفی و لغوی اعتبار سے دنیاوی مسئلہ ہی کیوں نہ کہہ لیں ۔ ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (02-08-09), shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), مسافر (12-08-09), خرم شہزاد خرم (02-08-09)
پرانا 02-08-09, 08:42 PM   #24
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب تک کی گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیاہیکہ کچھ عناصرہربدعت کو بری بدعت ہی سمجھتے ہیں چاہےوہ اچھی ہی کیوں نہ ہو مثلاً وہ عناصر بیٹی کے سر پررخصتی کےوقت قرآن جیسی کتاب کاسر پررکھنااسی لیئےناجائز و مردود سمجھتے ہیں کہ قرآن احادیث اور اقوال وافعالِ صحابہ سے اسکاکوئی تبوت نہیں ہےاور دوسرا طبقہ کہتاہیکہ بدعات اچھی ہوتیں ہیں اور بری بھی اسلیئےانکےمراتب کالحاظ ضروری ہےکیونکہ خدا کی رحمت وسیع ہےاور اور حدیثِ قدسی میں ہیکہ اللہ فرماتاہےمیں لوگوں کےگمان کیمطابق فیصلےکرتاہوں"یعنی جیساگمان ہوگاویسا اللہ کافیصلہ کیونکہ کوئی اچھا فعل مگرقرآن واحادیث کیخلاف نہ ہوبلکہ انکےمعاون وموید ہوتواس پر ثواب کی امید رکھنااچھا عمل ہےمثلاً تیجہ لےلیں کچھ لوگ کہتے ہیں تیجہ بدعت ہےاسی لیئےممنوع ہےاب آپ تیجے کوبنظرِ غائر دیکھیں تواسمیں خاندان کےچند لوگ اور چند پڑوسی لوگ اور چند احباب حاظر ہوتےہیں اورقرآن خوانی ہوتی ہےفاتحہ ہوتی ہےمیت کیلیئےکھانا تقسیم کیاجاتاہےاب دیکھیں ان سب مذکورہ افعال میں گناہ کہاں ثابت ہوتاہےکیااس فعل کوصرف اسی لیئےناجائز کہہ سکتے ہیں کہ یہ قرآن و احادیث اور صحابہ سے ثابت نہیں حالانکہ اس محفل میں کوئی جام نہیں لنڈھائےجاتے ڈانس پارٹی نہیں ہوتی قرآن کی تلاوت ہوتی ہےذکرواذکار ہوتاہےمردے کوایصال ِ ثواب کیاجاتاہے توکیا تیجہ کی محفل میں جو قرآن پڑھاجاتاہےاسکاثواب نہیں ملیگا اس محفل میں جوذکر واذکار کیئےجاتے ہیں وہ باطل؟اور میت کوایصالِ ثواب کاکیاحکم ہوگا؟ کہنے کامقصد یہ ہیکہ جن جن حضرات کو ہر بدعت بری لگتی ہےاور وہ خدا کی رحمت کو محدود سمجھتے ہیں تو نہ کریں اور جو اللہ کی رحمت کووسیع سمجھتے ہوئےاچھی بدعتیں کرتے ہیں وہ ضرور کریں
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات!
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 02-08-09, 09:09 PM   #25
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
زیادہ تفصیل میں جانے سے موضوع بکھر جانے کا اندیشہ ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ ہیروئن، افیم وغیرہ کی حرمت قیاس اور اجتہاد سے نہیں نص صریح سے ثابت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی‌آلہ وسلم کا فرمان ہے:
كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
صحیح البخاری کتاب الادب باب قول النبی صلی اللہ علیہ و علی‌آلہ وسلم یسروا و لا تعسروا
"ہر نشہ آور چیز حرام ہے"
بالکل عبداللہ بھائی
ایک حکم کی علت کی بنیاد پر دوسرے حکم کو اخذ کرنے کی صورت کو قیاس کہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ "نشے" کے باعث شراب کو حرام کیا گیا ہے۔ "نشہ" شراب کے حرام ہونے کی علت یعنی وجہ ہے۔ اگر یہ نشہ کسی اور چیز میں بھی پایا جائے گا تو وہ بھی حرام قرار پائے گی۔ اسی بنیاد پر اہل علم چرس، ہیروئن، افیون اور دیگر نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیتے ہیں۔
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
Ferozi (12-09-11), muhammad asif virani (02-08-09), shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), فیصل ناصر (02-08-09), منتظمین (02-08-09), محمدعدنان (13-08-09), مسافر (12-08-09), خرم شہزاد خرم (02-08-09), طاھر (02-08-09)
پرانا 02-08-09, 09:36 PM   #26
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,162
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,785
2,966 مراسلہ میں 10,821 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تمام اسلامی شعائر اور عبادات کا ایک لغوی مطلب ہے اور دوسرا شرعی یا اصطلاحی مطلب۔ اصطلاحی مطلب کو لغت سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل درکار ہوتے ہیں۔ "بدعت" کا لغوی مطلب "نئی چیز ایجاد کرنا" ہے لیکن شرعی مطلب "دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالنا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی جماعت کا عمل نہیں رہا ہے"۔
مثال کے طور پر"حج" کا لفظی مطلب "ارادہ کرنا"‌ہے۔ لسان العرب میں‌ ہے:
الحَجُّ القصدُ (لسان العرب جلد 2 ص 226)
"حج کا مطلب ہے قصد یا ارادہ کرنا"
جس طرح لغت کی مدد سے حج کا شرعی/اصطلاحی مطلب نہیں سمجھا جا سکتا اسی طرح بدعت کے شرعی مفہوم کےلیے بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ چچا عادل سہیل کے الفاظ میں ان دونوں کا فرق سمجھتے ہیں:
لفظ ''' بدعت ''' یعنی ''' بدعۃ ''' کا ثلاثی مجرد یعنی اصل مادہ ''' بَدَعَ ''' ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ''''' اختراع الشیءٌ من غیر مثال سبق ::: کسی چیز کو کسی سابقہ مثال کے بغیر ایجاد کرنا '''''
لغت کے مطابق اس کے استعمال کی مثال اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بارے میں یہ فرمان ہے ((((( بدیعُ السَّماواتِ و الأرضِ ::: (اللہ ہی ) آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے تخلیق کرنے والا ہے ))))) سورت البقرہ ، آیت ١١٧ ،
اور یہ فرمان ((((( و رَھبانِیّۃً أبتدَعُوھا ::: اور انہوں نے رھبانیت کو ایجاد کیا ))))) سورت الحدید / آیت ٢٧ ،
اور یہ فرمان ((((( و ماکُنتَ بَدعاً مِن الرُّسلِ ::: اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) آپ رسولوں میں سے کوئی نئے اور پہلے نہیں ))))) سورت الأحقاف / آیت ٩ ،
اس لغوی مفہوم کا جاننے اور قران سے اس کی مثال دیکھنے کے بعد جب ہم اس ''' بدعت ''' کو قران اور حدیث کے مطابق سمجھتے ہیں تو اس کا مفہوم اس لغوی مفہوم کے مطابق نہیں رہتا ، بلکہ اس کا مفہوم ''''' دین میں ایجاد کردہ کوئی نیا کام ''''' ہوتا ہے ، یعنی ، ''''' بدعت ''''' کا مفہوم کوئی بھی نئی ایجاد نہیں رہتا بلکہ صرف دین میں کوئی نئی ایجاد ہو جاتا ہے ، خواہ وہ ایجاد دین کے کسی بھی معاملے اور شعبے سے متعلق ہو ، یعنی ، خواہ اعمال میں ہو ، عقائد میں ہو ، اور پھر قلبی اعمال میں ہو یا ظاہری جسمانی اعضاء کے اعمال میں ہو ،
اس کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کئی معروف و مشہور فرامین مبارکہ ہیں ، جن کو کئی بار ذِکر کیا جا چکا ہو، یہاں ایک دو کا ذکر کرتا ہوں ، ملاحظہ فرمایے :::::
؛::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا :::
((((( مَن عَمِلَ عملاً لَیس علیہِ أمرُنا فھو ردّ ::: جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے معاملے کے مُطابق نہیں ہے وہ رد ہے ))))) صحیح البُخاری /کتاب بد ء الوحی / باب ٢٠ ، صحیح مُسلم /حدیث ١٧١٨ ،
اس حدیث مبارک میں ہر ایسے کام کو مردود قرار دیا گیا ہے جو دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور جماعتء صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے عمل کے مطابق نہ ہو ،اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ اس حدیث میں صِرف دِین کی بات کہاں ہے تو''''' أمرُنا ::: ہمارا معاملہ ''''' کا معنی دِین ہے ،
اس کی وضاحت اس حدیث مبارک میں ملتی ہے :::
((((( مَن أحدث َ فِی أمرِنا ھَذا ما لیسَ فِیہِ فھُوَ ردٌّ ::: جس نے ہمارے اس کام (یعنی دِین) میں کوئی نیا کام بنایا تو وہ کام مردود ہے )))))) مسند ابو یعلیٰ الموصلی / حدیث ٤٥٧٨ ،
آپ بدعت ایجاد کرنے کے مسئلے میں دین و دنیا کا فرق روا نہیں رکھتے تو اس کے دلائل بتا دیجیے۔ میرے ایک سابقہ سوال کا جواب بھی باقی ہے کہ قرآن و حدیث کے کن دلائل کی رو سے جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بدعت کے شرعی مفہوم میں داخل کیا جاتا ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-08-09), آبی ٹوکول (03-08-09), آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (29-05-10), عادل سہیل (03-08-09)
پرانا 02-08-09, 09:39 PM   #27
Senior Member
 
muhammad asif virani's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: srilanka
عمر: 38
مراسلات: 654
کمائي: 8,508
شکریہ: 1,314
415 مراسلہ میں 954 بارشکریہ ادا کیا گیا
muhammad asif virani کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں muhammad asif virani کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک گروہ رجعت پسند ہےاور ایک ترقی پسند جوخلافِ اسلام نئی ایجادات کوبدعتِ سیئہ کہتاہےحدیث کےمطابق اوراسلام کےمعاون و موید نئی ایجادات کوبدعت حسنہ دوسرارجعت پسندگروہ جو اچھایا برا کوئی بھی فعل ہو چاھے وہ اسلام کےموافق ہی کیوں نہ ہوہر بدعت کو بری قرار دیتاہےاب فیصلہ ناظرین کےھاتوں میں ہے کہ وہ کیاقبول کرتے ہیں رجعت پسندی یاترقی پسندی (جوکہ اسلام کے اصولوں کے خلاف نہ ہو)؟؟؟
muhammad asif virani آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 03-08-09, 11:54 AM   #28
Senior Member
 
Student's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بھائی Student
اتنی اچھی آئی ڈی رکھنے کے بعد آپکا انداز تحریر کیا آپ کے خیال کے مطابق مناسب ہے
میرے مطابق تو مناسب ہے۔اگر یہ غیر مناسب ہے تو آپ خود ہی مناسب انداذ میں عادل سہیل اینڈ کپمنی کو میری بات سمجھالیں۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
عادل بھائی اور عبداللہ بھائی ماشااللہ صاحب علم ہیں اور ان پر اپکا اس طرح کا طنز اچھا نہیں لگا
جناب اول تو میں نےطنز نہیں‌کیا ۔ اور آپ نے کہا کہ"" اسطرح کا طنز "" یعنی کسی اور انداز سے کروں؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ابھی یہ گفتگو جاری ہے
اللہ نا کرے اس میں کوئی رخنہ پڑے ۔
رخنہ گفتگو میں نہیں‌دین اسلام میں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
کیا ہی بہتر ہو دونوں طرف کی بات مکمل ہونے دی جائے
ہاں اگر اپ کے ذہن میں کوئی خیال یا سوال ائے تو اس کو لکھ دیں امید ہے دونوں جانب سے آپ کو مناسب تسلی آمیز جواب دیا جائے گا
مجھے 100% امید ہے کہ بات مکمل نہیں ہو گی کیونکہ صحیح کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی توجیحات اور تشریح پیش کی جارہی ہے جو کہ بذات خود صحابہ کے اقوال سے ٹکرا رہی ہیں۔ ایسی صورت میں بات مکمل ہونہں ہو سکتی۔پہلے سے موجود تراویح کہ عمل کو با قائدہ کرنے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اچھی بدعت قرار دینا آپ کے دلائل کے خلاف جاتا ہے آپ کےمطابق یہا ں سن یا سنت کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔اب میں آپ کی مانوں‌یا صحابی کی ؟؟؟؟
Student آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (03-08-09), آبی ٹوکول (29-06-10)
پرانا 03-08-09, 08:14 PM   #29
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
آپ بدعت ایجاد کرنے کے مسئلے میں دین و دنیا کا فرق روا نہیں رکھتے تو اس کے دلائل بتا دیجیے۔ میرے ایک سابقہ سوال کا جواب بھی باقی ہے کہ قرآن و حدیث کے کن دلائل کی رو سے جدید ایجادات اور ٹیکنالوجی کو بدعت کے شرعی مفہوم میں داخل کیا جاتا ہے۔
اسلام علیکم حیدر بھائی !
بہتر تو تھا کہ آپ پہلے ہمارے ترتیب دیئے گئے تمام کے تمام مقالے کو بغور پڑھتے تو اور پھر اس پر اپنے اعتراضات وارد کرتے اس طرح سے گفتگو میں ہمارے اور آپکے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی سہولت رہتی ۔ میں جب کل آیا تو آپکے طویل ترین دو مراسلے دیکھے مگر آج وہ حذف کیئے جا چکے ہیں خیر ۔ ۔ ۔ آپ دھیرج رکھیئے میں یہاں پر آپ کی ایک ایک بات کا جواب دوں گا ان شاءاللہ العزیز ۔ ۔ ۔
ایک گزارش کرنا چاہوں گا انتظامیہ سے کہ بہتر ہوگا کہ یہاں میں اور عبداللہ بھائی ہی گفتگو کریں تاکہ ایک تو گفتگو میں خلط مبحث نہ ہونے پائے اور دوسرے یہ کہ گفتگو نتیجہ خیز ہوسکے ۔ ۔ دیگر جو بھی بھائی ہماری ہونے والی گفتگو پر اپنی اپنی رائے دینا چاہیں یا کوئی سوال کرنا چاہیں تو اس کے لیے الگ سے دھاگہ بعنوان حقیقت بدعت پر تبصرہ جات کی صورت میں کھول لیا جائے اور یہاں ے بھی ایسے تمام مواد کو وہاں شفت کردیا جائے جو کہ اصل موضوع سے یا تو ہٹ کر ہے یا پھر ہٹانے والی ہے ۔ ۔یہ میری رائے ہے اگر انتظامیہ کو مناسب لگے تو فبھا وگرنہ کوئی مسئلہ نہیں والسلام
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
muhammad asif virani (03-08-09), shafresha (03-08-09), محمدعدنان (13-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09)
پرانا 03-08-09, 10:14 PM   #30
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,860
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,482 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
ہم یہاں بدعت کے لغوی نہیں شرعی مفہوم پر گفتگو کریں گے ان شاء اللہ۔ میں اپنی گفتگو جدید ایجادات کے بارے میں‌بیان کیے گئے نکتے سے شروع کرنا چاہوں گا۔آپ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بدعت کے اجازت نہ دی جائے تو امت ترقی میں پیچھے رہ جائے گی۔ کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل وغیرہ کسی طرح بھی بدعت کے شرعی مفہوم میں آتے ہیں؟
اسلام علیکم حیدر بھائی !
اگر آپ نے ہمارا زیر نظر مقالہ باغور پڑھا ہوتا تو آپکو یہ سوال کرنے کی نوبت نہ آتی خیر ہم آپکی اور قارئین کی سہولت کے لیے اپنا مدعا پھر سے عرض کیے دیتے ہیں ۔ ۔ہم نے عرض کی تھی کہ ۔ ۔
اسلام ایک آسان، واضح اور قابل عمل نظام حیات ہے۔ یہ چونکہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اسکے دامن میں کسی قسم کی کوئی تنگی ، جبر یا محدودیت نہیں ہے۔ یہ قیامت تک پیش آنے والے علمی و عملی،مذہبی و روحانی اور معاشی و معاشرتی تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہےاگر کسی مسئلے کا حل براہ راست قرآن و سنت میں نا ہو تو اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ بدعت گمراہی اور حرام و ناجائز ہے کیونکہ کہ کسی مسئلہ کا ترک زکر اسکی حرمت کی دلیل نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ حلت و اباحت کی دلیل ہے۔
کسی بھی نئے کام کی حلت و حرمت جاننے کا صائب طریقہ یہ ہے کہ اسے قرآن و سنت پر پیش کیا جائے اگر اس کا شریعت کے ساتھ تعارض یعنی ٹکراؤ ہوجائے تو بلا شبہ بدعت سئیہ اور حرام و ناجائز کہلائے گا لیکن اگر اسکا قرآن و سنت کے کسی بھی حکم سے کسی قسم کا کوئی تعارض یا تصادم لازم نہ آئے تو محض عدم زکر یا ترک زکر کی وجہ سے اسے بدعت سئیہ اور ناجائز اور حرام قرار دینا قرار دینا ہرگز مناسب نہیں بلکہ یہ بذات خود دین میں ایک احداث اور بدعت سئیہ کی ایک شکل ہے
گویا ہم نے اپنے دعوٰی کی بنیاد دین کے مشھور ترین اصول اباحت پر رکھی تھی اور اس پر بطور استدلال جامع ترمذی کی یہ روایت پیش کی تھی ۔ ۔
حلال وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حلال ٹھرایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام ٹھرایا رہیں وہ اشیا ء کہ جن کے بارے میں کوئی حکم نہیں ملتا تو وہ تمہارے لیے معاف ہیں۔
جامع ترمزی جلد 1 ص 206

اور پھر اس روایت کی وضاحت درج زیل الفاظ میں بیان کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
مذکورہ بالا حدیث میں وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ شارع نے جن کا زکر نہیں کیا وہ مباح اور جائز ہیں لہذا محض ترک زکر سے کسی چیز پر حرمت کا فتوٰی نہیں لگایا جاسکتا
پھر اس کے بعد ہم نے دیگر دلائل دیتے ہوئے اباحت اصلیہ (یعنی تمام اشیاء اصل میں مباح ہیں) کے مسلمہ اصول کو دیگر قرآنی آیات سے مزین کرکے قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔ ۔ ہمارے اس دعوٰی اور اسکے نتیجے میں جنم لینے والے تمام تر دلائل کا مدار اس بات پر تھا کہ دین اسلام ایک عالمگیر اور فطرت سلیمہ پر مبنی دین ہے کہ جس کہ اندر قیامت (بلکہ اس کے بھی بعد آخرت تک) کے تمام پیش آمدہ مسائل کا حل رکھ دیا گیا ہے ۔ ویسے بھی عمیق نگاہ سے اگر دین کے اصولوں کا جائزہ لیں تو ہر عامی یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ زندگی جو کہ مسلسل ارتقاء پذیر ہے اور اسکے نتیجے میں موثرات زندگی (forces of life ) بھی روز بروز تیزی سے تبدیل ہوریے ہیں لہذا کسی بھی قانون کو وضع کرنے کی اصل غایت یہ ہونی چاہیے کہ تغیرات زمانہ کی وجہ سے زندگی جمود کا شکار نہ ہونے پائے بلکہ خوس اسلوبی سے چلتی رہے لہذا اسلام جو کہ دین فطرت سلیمہ پر مبنی دین بر حق ہے فقط اسی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ کہ دنیا کے تمام تر باطل ادیان کو چیلنج کرتے ہوئے تغیرات زمانہ کے باعث تمام تر پیش آمدہ مسائل کا حل قیامت تک لیے دے سکے ۔ سو اسی لیے اسلام نے اپنے بہت سے اصولوں میں ایسی لچک رکھی ہے کہ جس کی وجہ سے تغیرات زمانہ کے باعث پیش آمدہ مسائل کا حل با آسانی میسر آسکے ۔ ۔
ایک بار پھر گفتگو کو موڑتے ہیں آپکے سوال کی طرف ۔ ۔ ۔ آپ نے فرمایا کہ ۔ ۔
اقتباس:
کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل وغیرہ کسی طرح بھی بدعت کے شرعی مفہوم میں آتے ہیں؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے دین اسلام کے معاملے میں کلیسا اور پاپائیت کے قائم کردہ اصولوں کے قائل نہیں ہیں ۔ کہ جس طرح نصرانیت نے دین کے معاملے کو الگ اور دنیا داری اور سیاست کو الگ قرار دے کر نصرانی معاشرہ میں ایک عفریت کی بنیاد ڈالی ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم دین و دنیا کو جدا سمجھیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو ہم بار بار عرض کرچکے کہ دین اسلام ایک ایسا عالمگیر دین ہے کہ جو کائنات کے کل مسائل کو محیط ہے چاہے ان مسائل کا تعلق عبادات ،معاملات یا روحانیات سے ہو یا پھر صنعت و حرفت و تجارت یا پھر سیاسیات سے ہو دین اسلام ان سب کو محیط ہے اور ان سب کا حل دیتا ہے لہذا ہم دین میں دینی اور دنیاوی فرق مسائل کے فرق کو روا نہیں رکھتے بجز اس کے کہ بعض مسائل کو عرف میں یا لغوی اعتبار سے دنیاوی مسائل کہہ دیا جاتا ہے حالانہ وہ بھی شریعت کے ہی دائرہ کار میں آتے ہیں نہ کے شریعت سے باہر اور ہماری اس بات کی دلیل قرآن و سنت اور شریعت کے عموم سے ظاہر ہے کیونکہ کائنات میں جتنی چیزیں ہیں انکے استعمال یا عدم استعمال اور جتنے عقیدے ہیں انکے ماننے یا نہ ماننے اور جتنے امور ہیں انکے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ہمیں کوئی نہ کوئی حکم شرعی ضرور ملتا ہے چاہے وہ دلائل اربعہ کے خصوص سے ثابت ہو یا پھر عموم سے مسلم شریف کی یہ حدیث ہمارے مدعا پر واضح دلیل ہے کہ جس کا مفھوم یہ ہے کہ ۔ ۔
حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ کفار نے آپ سے کہا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ہر چیز بتاتے ہیں یہاں تک کے رفع حاجت کا طریقہ بھی بتاتے ہیں آپ نے جواب دیا ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس حدیث میں کل شئی کہ لفظ سے پتا چلا کہ دین کل کو محیط ہے کوئی بھی شئے دین سے باہر نہیں ۔ خیر بات بہت دور نکل گئی کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ دین اسلام نے ہمیں جو اصول بدعت کے ضمرے میں دیا ہے اسکا اطلاق جدید ایجادات اور دنیاوی امور و وسائل کے بشمول ہماری کل زندگی پر ہوگا یعنی ہر نئی پیدا ہونے والی شئے بدعت کہلائے گی کیونکہ وہ نئی پیدا ہوئی اور اسی اعتبار سے اس پر بدعت لغوی کا اطلاق ہوگا لیکن جب اسکو اصول دین پر پیش کیا جائے گا تو پھر اس کی شرعی حیثیت کا تعین بھی ہوجائے گا یعنی اسے قرآن و سنت ،اجماع و قیاس اور آثار صحابہ پر پیش کیا جائے گا لہذا اگر تو وہ دین کے کسی بھی اصول سے ٹکرا گئی تو بلا شبہ بدعت شرعی (یعنی بدعت سیئہ) کہلائے گی اور اگر ان میں سے کسی بھی اصول سے اس کا ٹکراؤ نہ ہو بلکہ وہ کسی ایک کے بھی موافق آجائے تو پھر اس پر بدعت لغوی کا تو اطلاق پہلے سے ہی تھا اب اسے بدعت حسنہ بھی کہا جائے گا اور وہ اس لیے کے اس کا یہ حُسن دین کے زریں اصولوں پر پیش کرنے کے بعد ہم پر کھلا یا منکشف ہوا ۔ لہذا ثابت یہ ہوا کہ لفظ بدعت (یا بدعت لغوی )عام کہ ہر نئی پیدا ہونے والی شئے کو بدعت کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ حقیقت میں نئی پیدا شدہ ہوتی ہے اس لیے اسے بدعت لغوی کہہ دیا جاتا ہے اور اگر اس سے (یعنی عام بدعت یعنی بدعت لغوی کے پیدا ہونے سے) دین میں کسی قسم کا بگاڑ پیدا ہو (اسکے دین کے کسی اصول سے ٹکرانے کی وجہ سے ) تو پھر وہ عام سے خاص کی طرف لوٹ جائے گی اور اب اسے بدعت شرعی یا پھر بدعت سیئہ کہا جائے گا اور اب وہ عام سے خاص ہوجائے گی کہ لغوی طور پر تو وہ بدعت پہلے سے ہی تھی اب دین کے اصول سے ٹکرانے کی وجہ سے (جو کہ اس پر مالیس منہ کی صورت میں لگا تھا ) فقط لغوی سے نکل بدعت شرعی ہوجائے گی۔ یعنی ثابت یہ ہوا کہ ہر نو پید شدہ شئے بدعت (بدعت لغوی) ہوتی ہے اور اس اعتبار سے وہ عام ہوتی ہے لیکن جب وہ دین کے قائم کردہ کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو اب اس کو دین کے اندر بگاڑ پیدا کرنے کی وجہ سے بدعت شرعی (بدعت سیئہ ) کہہ دیا جاتا ہے لہذا اب وہ عام سے خاص ہوجاتی ہے کہ بدعت لغوی تو وہ پہلے سے ہی تھی اپنے نو پید ہونے کی وجہ سے اور اب دین میں بگاڑ کی وجہ سے وہ عام سے خاص ہوکر بدعت سیئہ یا بدعت شرعی کہلائے گی ۔ عرف میں آپ یہ کہ سکتے ہے کہ ہر بدعت لغوی اعتبار سے تو بدعت ہوتی ہے مگر ضروی نہیں کہ وہ شرعی اعتبار سے بھی بدعت ہی ہو جبکہ اس کے مقابلے میں ہر شرعی بدعت ، بدعت شرعیہ بھی ہوتی ہے اور لغویہ بھی جیسے ہر ایم اے پاس ایم اے بھی ہوتا ہے اور لازم ہے کہ اس نے بی اے بھی کر رکھا ہو جبکہ ہر بی اے فقط بی اے ہی ہوگا اس کے لیے ایم اے ہونا شرط نہیں اور اسکی ایک اور آسان مثال کہ نبی عام رسول سے اور رسول خاص ہے نبی سے کہ ہر نبی فقط نبی ہوتا ہے جبکہ ہر رسول نبی ضرور ہوتا ہے امید کرتا ہوں کہ میں اپنا مؤقف قارئین سمیت آپ پر واضح کرچکا ۔ ۔ والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 03-08-09 at 10:29 PM.
آبی ٹوکول آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-08-09), Student (04-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), طاھر (03-08-09), عبداللہ حیدر (04-08-09)
جواب

Tags
color, فورمز, فن, کتابوں, لوگ, نفرت, نظر, مکمل, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تحریر, تحریری, جواب, حل, حدیث, خرم, زندگی, سٹاف, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 06:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 10:52 AM
::: نعت ::: ابو کاشان شعر و شاعری 1 24-12-07 09:41 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 09:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger