| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
بھارتی اداکار عامر خان اپنی فلموں میںفلم بینوں کو کوئی نا کوئی پیغام ضرور دیتے ہیں (اُن کی فلم گجنی کے پیغام کے لیئے لوگ اپنے موبائل فون کے اِن بکس کو چیک ہی کرتے رہے مگر وہ نا آیا) ۔
میںعموما اُردو فلمیںدیکھنے سے دانستاً گریز ہی کرتا ہوں مگر اپنے ایک آفس گولیگ کشور آسمل کے اصرار پر پچھلے دنوں ریلیز ہونے والی فلم 3 Idiots کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اُس فلم کو دیکھ کر مجھے ایک شخص کی یاد آ گئی سوچا آپ سے بھی شئیر کیا جائے۔ چناچہ اس بات پر بحث کی جاسکتی ہے کہ کیا ڈگری ہولڈر ہونا کسی کے پڑھے لکھے یا قابل ہونے کی دلیل ہے؟ یا علم محض درسگاہوں اور مدارس کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے؟ یا کسی ارادے سے سند یافتہ ہونا آپ کے متعلقہ فن میںماہر کا ثبوت ہے وغیرہ وغیرہ اُس نے ایک غریب گھرانے میںآنکھ کھولی تھی۔ اگرچہ گھر میں پیسے کی ریل پیل نا تھی مگر گزارہ باآسانی ہوتا تھا۔ محلے کے دیگر بچوں کی بنسبت اُسے کتابیں اچھی لگتی تھیں۔ نانا کے گھر میں پڑی موٹی موٹی کتابوںکی دیکھ کر وہ دلچسپی سے اُنھیںاٹھاتا اور جھوٹموٹ پڑھنے لگتا۔ کاغذ اُس کی کمزوری تھا خواہ وہ کسی اخبار کا تراشہ ہو یا کسی رسالے کا ٹائٹل وہ اُسے ایک مرتبہ دیکھتا ضرور تھا۔ اسکول میں داخلے کے بعد اُس کا یہ جنون بڑھتا گیا۔ وہ سب کچھ بہت جلدی پڑھ لینا چاہتا تھا۔ گھر میںبھی وہ اپنی کاپیوں پر لکھتا رہتا، کاپیوں کے جلد سیاہ ہونے جانے پر ڈانٹ پڑنے لگی تو اُس نے اپنے بستے میںاسکول سے ملنے والے ردی کاغذ بھرنے شروع کردیئے۔ وہ سب سے بے خبر گھر میںلگے بیری کے درخت پر بیٹھا کچھ نا کچھ لکھتا یا پڑھتا رہتا۔ دوسری جماعت ہی سے اخبار پڑھنے کے قابل ہوگیا۔ امی سودے کب منگوائیں گی؟ وہ ناشتہ کرکے سوال کرتا۔ محلے کے دُکاندار کے یہاں جنگ اخبار آتا ہے وہ یہ جانتا تھا۔ سودا لینے کے بہانے وہ چھپ چھپ کر اخبار پڑھا کرتا تھا۔طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ دُکان سے دور کھڑا ہوکر دُکان پر بھیڑ لگ جانے کا انتظار کرتا اور پھر چپکے سے دُکان کے اندر داخل ہو کر اخبار اُچک لیتا جو عموماً چاول کی کھلی بوری پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ جلد ہی اُس کی یہ چالاکی پکڑی گئی جب دُکاندار نے اُسے تازہ اخبار پڑھتے ہوئے "رنگے ہاتھوں" پکڑ لیا۔ یہ کیا ہے بے؟ دُکاندار اُس پر برسا! مم مم مہ وہ ممیایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُس دن کے بعد کچھ دنوں تک وہ خوف کے مارے دُکان پر نہیںگیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد جب دُبارہ جانا ہوا تو تازہ اخبار کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں"تازی ڈبل روٹی"گھوم گئی۔ دُکاندار بھی یہ بات بھانپ گیا اور پھر اُس روز اُس کے اور دُکاندار کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا کہ جب رش ہوگا تو وہ سامان کے دینے میںدُکاندار کی مدد کرے گا اور اُس کے صلے میںاُسے اخبار پڑھنے کی اجازت ہوگی، مگر سُرخیوں والا صفحہ پہلے دُکاندار پڑھے گا۔ اُس نے فوراً حامی بھر لی۔ یوں وہ سُرخیوںسے پہلے کالم والا صفحہ پڑھتا۔ کالم والے صفحے پر رئیس امرہوی کے اشعار (قطعہ) اُس کی معصوم سمجھ میںنہیں آتے تھے، ایک دن اُس نے دُکاندار سے اُن کا مطلب پوچھا، ہا ہا ہا ابے میںکیا جانو! اُسے جواب ملا۔ پھر اُس نے یہ اشعار ایک کاغذ پر نوٹکرنا شروع کردیئے۔ وہ یہ اشعار لے کر اپنے اُستاد کی خدمت میں حاضر ہوا تیسری کلاس کے بچے کے ہاتھ میں "ہزار عالم و آدم ہزار خالق و خلق ابھی ہیں عرصہِ تخلیق میں" جیسا مصرعہ کہنے والے شاعر و فلسفی کے اشعار دیکھ کر حیراں ہوئے اور پھر اُس دن سے وہ بچہ اُن کی نگاہوںکا مرکز بن گیا۔ وہ ایک گورنمنٹ اسکول تھا، لائیبریری کا کوئی تصور نا تھا۔ پانچویںکلاس میںاُسے کسی نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے کی مُسافت پر ایک لائیبریری ہے جہاں بے شمار کتابیںہیں اور اُنھیں پڑھنے پر کوئی پابندی نہیںہے، اچھا! اُس کی نگاہوں کے سامنے سینکڑوںڈبل روٹیاں ناچنے لگیں۔ لائبریری میںداخل ہوکر اُس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں چاروں طرف قد آدم الماریوںکی شیشے سے جھانکتی رنگ برنگی جلدوں میںکتابیں اُسے دادی کی کہانیوں کی پریوںکی مانند لگیں۔ مجھے ایک کتاب چاھیئے اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا ، کون سی؟ لائبریریئن نے چشمے کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے کہا۔ کوئی سی بھی اُس نے کاندھے اُچکا کر کہا! میاں پہلے معلوم کرکے کے آؤ کون سی چاھیئے ورنہ وہاں انڈیکس پڑی ہے اُس میںدیکھ لو! بوڑھا لائبریریئن منہ ہی منہ میںکچھ بڑبڑایا۔ انڈیکس میںلگے کارڈز دیکھ کر اُس کا دماغ چکرانے لگا پھر اچاننک اُس کی نظر الف لیلۃ پر پڑھی۔ یہ والی! اُس نے بھاری انڈیکس اُٹھا کر لائبریریئن کے سامنے رکھتے ہوئے اشارے سے کہا۔ الف لیلۃ جانتے ہو اس کا کیا مطلب ہے؟ بوڑھا لائبریریئن چیخا! ایک ہزار کہانیاں ہیں اس میںتم کیسے پڑھو گے؟ اچھا یہ لو اُس نے "عمرو عیار کے کسی کارنامے" کی کوئی کتاب اُس کے سامنے رکھ دی، وہاں سامنے بیٹھ کر پڑھ لو اور دیکھو یہ پھٹے نہیںورنہ پورے پیسے بھرنے پڑیںگے، لائبریریئن نے کہا۔ جی وہ حسب معمول ممیایا! یہ اُس کا لائیبریری سے پہلا رشتہ تھا! جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ |
|
|
|
| 21 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (02-03-10), فیضان صديقی ,سندھ (07-02-10), پاکستانی (08-02-10), یاسر عمران مرزا (14-02-10), یحیٰی (07-02-10), منتظمین (07-02-10), محمدمبشرعلی (04-03-10), محمدخلیل (07-03-10), محمدعدنان (08-02-10), مرزا عامر (01-09-10), اچھا بچہ (07-02-10), ابو عمار (07-02-10), احمد نذیر (12-08-11), احمد بلال (01-09-10), بزم خیال (08-02-10), حیدر (14-02-10), خرم شہزاد خرم (17-03-10), راجہ اکرام (07-02-10), شاہ جی 90 (07-02-10), عدنان دانی (07-02-10), عروج (14-11-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
نہ معلوم یہ واقعہ حقیقی ہے یاتمثیلی بہر حال اکثرعبقری ( Genius ) لوگوں کوعلم اورمطالعہ کی لت اسی طریقے سے پڑی ہے۔
کبھی موقع ملاتواپنے ایک دوست کاواقعہ تفصیلا شئیر کروں گاجوکبھی سکول کے پیچھے اورمدرسے کے سامنے سے نہیں گزرا۔سوائے ناظرہ کے کسی استاد کامنہ نہیں دیکھالیکن اردواورعربی زبانیں روانی سے لکھ، پڑھ اوربول سکتاہے اورانگریزی زبان اچھی طرح سمجھتاہے لیکن بولنے میں اٹکتاہے۔اس کی استعداد تقریبا یونیرسٹی لیول کا ہے ۔( ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء ) ایک اچھی شئیرنگ ہے۔اورلائق تحسین ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,236
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت بہترین شاہد بھائی
واقعی قابل تعریف ہے یہ کردار ویسے وہ کردار خود تو تحریر نہیں کر رہا؟ |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,290
شکریہ: 1,023
781 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت خوب شاہ فریشہ بھائی، آپ کی تحریریں جکڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ بندہ کسی کام کا نہیں رہتا جب تک تحریر پوری پڑھ نہ لے۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمیں تو بے تابی سے بقیہ حصے کا انتظار ہے
اور آپ مانیں یا نہ مانیں ہمیں تو یہ آپ بیتی لگتی ہے شاہد بھائی تعریف کے لیئے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
دوسرا حصہ پھرلائیبریری اور اُس کا رشتہ مظبوط ہوتا چلا گیا۔ تقریباً روزانہ ڈیڑھ گھنٹے (یکطرفہ) کی مسافت طے کرکے پہنچتا، جلد ہی لائیبریری میں آنے جانے والے اُسے پہچانے لگے۔ اُس نے جلد ہی دیمک کی سی تیزی سے بچوں کے سیکشن کی ہر قابل ذکر کتاب کو چاٹ ڈالا، حاتم کے قصے، سند باد کے سفر، عمرو کے کارنامے، افراسیاب کے دجل، امیر حمزہ کی شجاعت، اور ملا و پیازہ کی حماقتوں سے اُس کی واقفیت پُرانی ہوچکی تھی، مگر وہ "الف لیلۃ" اپنے نام کی طرح اب بھی پُراسراریت کا لبادہ اُوڑھے اُس کی دسترست سے دور تھی۔ اُس کتاب کو گھر لے جانے کے لیئے اسکول کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے، بوڑھے لائبریریئن نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا! سر مجھے اپنا شناختی کارڈ بنوانا ہے! اُس نے ہیڈ ماسٹر کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، ٹھیک ہے اپنی دو تصویریں اور بازار سے کارڈ لے آؤ، جواب ملا! 2 تصویریں کتنے کی بنے گی؟ محلے کے فوٹو گرافر کی دُکان پر کھڑے شخص سے اُس نے پوچھا! 8 روپے کی ! جواب ملا۔ ٓآٹھ روپے، وہ سوچ میں پڑگیا! چار آنے روزانہ کے حساب سے 32 دن تک جمع کروں تب جا کر جمع ہوسکیں گے، اُس نے دل میں سوچا! اُس نے والد صاحب اور دادی کے پیروں سے یہ رقم جمع کرنے کا منصوبہ بنایا۔ وہ صبح شام اُن کے پاﺅں دابنے لگا اور 32 دن کا یہ سفر 15 دن میں پورا ہوگیا۔ اپنی کارٹون نما تصویر لے کر جب وہ ہیڈ ماسٹر صاحب کے کمرے میں پہنچا تو وہ تصویر دیکھ کر ہنس پڑے۔ یہ کس کی تصویر ہے؟ اُنہوں نے تمسخرانہ لہجے میں پوچھا! یہ میں ہوں سر! وہ پھر سے ممیایا! اگلی صبح وہ کارڈ کے ہمرا لائبریری پہنچا، خوشی سے اُس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ لائبریریئن کے کاؤنٹر پر کارڈ رکھ کر اُسے کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ بڑی جلد کی قریباً 1500 صفحات پر مشتمل یہ کتاب لے کر چلنا اُس کے لیئے مشکل ہوگیا تھا، وہ کبھی اُسے سر پر رکھتا تو کبھی دائیں اور کبھی بائیں بغل میں دبتا ہوا گھر پہنچ ہی گیا۔ کسی انڈیئن اشاعتی ادارے کی چھاپی ہوئی اس کتاب میں کہیں کہیں رنگین تصاویر بھی تھیں۔ گھر کے دیگر بچے حیرت سے اس ضخیم کتاب کو دیکھ رہے تھے۔ اُس رات اُس نے جلتی ہوئی انگیٹھی کے پاس بیٹھ کر اُس کہانی کو پڑھنا شروع کیا اور آج تک شہرذاد کی زبانی زندگی کی الف لیلۃ سُن رہا ہے۔ اسکول کا وقت دوپہر بارہ بجے سے شام ساڑھے چار بجے تک تھا! یوں صبح میں لائیبریری جا نے کا وقت مل جاتا تھا۔ لائیبریری میں صبح کے وقت بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں کی آمدو رفت ذیادہ ہوتی تھی۔ وہ اپنے درمیان ایک کم سن لونڈے کو دیکھ کر حیران ہوتے تھی پھر یہ حیرانگی رفاقت میں تبدیل ہوچلی گئی ۔ کسی کو پان منگوانا ہو یا کسی کو قریبی بینک میں بل جمع کروانا ہو یاکسی کو اپنی وھیل چئیر پر دھکا لگوانا ہو تو اُسے ہی آوز دیتے۔ بوڑھے لائبریریئن کی چائے کا ایک مختصر حصہ بھی اُسے کبھی کبھی مل جاتا۔ کیا میں ان کی مٹی صاف کردیا کروں ؟ اُس نے لائیبریری کے پچھلے حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ یوں وہ جب پڑھتے ہوئے سستانا چاہتا تو کپڑا لے کر کتابوں کی گرد صاف کرنے لگتا۔اُس گرد کی خوشبو اُسے کسی مصری مقبرے کی ہزاروں سال قدیم خوشبو کی سی لگتی۔ جلد ہی زندگی میں ایک تبدیلی رونما ہوئی وہ یہ کے پانچویں کلاس پاس کرلینے کے بعد چھٹی کلاس کے نئے کورس میں انگریزی کی کتاب بھی شامل نصاب تھی۔ |
|
|
|
| 16 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی (08-02-10), ھارون اعظم (13-02-10), یحیٰی (07-02-10), نورالدین (04-03-10), منتظمین (07-02-10), محمدمبشرعلی (04-03-10), محمدعدنان (08-02-10), مرزا عامر (01-09-10), اچھا بچہ (07-02-10), ابو عمار (07-02-10), احمد نذیر (12-08-11), احمد بلال (01-09-10), بزم خیال (08-02-10), راجہ اکرام (07-02-10), شاہ جی 90 (08-02-10), عروج (14-11-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
لو جی ہُن فر انتظار کریے۔ یار ایک ہی مرتبہ لکھ دیں قسم سے پوری پڑھے بغیر نہیں اُٹھیں گے۔
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
![]() چلیئے اس پر اپنی رائے دیجیئے: وہ کاغذ کی کشتی! "چھٹا حصہ" |
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ چکن پاکس میں بندہ کس طرح آرام کرسکتا ہے
|
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 10,544
کمائي: 188,944
شکریہ: 9,539
7,566 مراسلہ میں 15,520 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھا لکھا ہے شاھد بھائی
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
واہ شاہد بھائی
ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے آپ نے اللہ آپ کے قلم کو مزید طاقت دے لکھتے رہا کریں اس کالم کے بقیہ حصے کا انتظار رہے گا
__________________
![]() |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, idiots, فن, کلاس, کارنامے, پڑی, ڈانٹ, لوگ, نظر, موبائل, معلوم, اشعار, بچوں, ثبوت, جواب, خان, خبر, دیکھو, سودا, شخص, عمرو, عالم, عامر, غریب, صفحہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| Idiots on the computer | ابو عمار | گپ شپ | 4 | 17-10-10 11:33 AM |